In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » ظلم و ستم اور انسانی حقوق »

اللہ اور اس کے رسول مقبول حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و علٰی آلہ وسلم کی محبت میں سرشار معصوم احمدیوں پر توہین رسالت کے سراسر جھوٹے اور ناپاک الزام میں عائد بعض مقدمات کی تفصیل

رشید احمد چوہدری، پریس سیکرٹری
+ فہرست مضامین

آج پاکستان میں مولوی صاحبان کا ایک طبقہ اپناسارا زور اس بات پرصرف کر رہا ہے کہ ثابت کیا جائے کہ جماعت احمدیہ نعوذباللہ رسول کریم ﷺ کی توہین کی مرتکب ہو رہی ہے ۔ یہ علمائے سُوء وہ ہیں جنہوں نے یا تو سرے سے جماعت احمدیہ کالٹریچر مطالعہ ہی نہیں کیا ۔ یعنی انہوں نے گوارا ہی نہیں کیاکہ وہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م کی تحریرات کو پڑھیں کیونکہ اگر وہ سرسری طورپر بھی ان کتب کا مطالعہ کرتے تو ان پران کا اپنا جھوٹ ظاہر ہو جاتا۔ یا پھر وہ مولوی صاحبان احمدیت دشمنی میں دیدہ و دانستہ ایسے مفتریانہ بیانات دے کر اپنی طبیعتوں کا گند ظاہر کر رہے ہیں۔

جماعت احمدیہ پر یہ الزام کہ وہ رسول کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی مرتکب ہو رہی ہے ایک بہت بڑی تہمت ہے۔ یہ ایک انتہائی گھناؤنا ، ظالمانہ اور بہیمانہ الزام ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ آنحضرت ﷺ کے عشق میں اپنا سب کچھ داؤ پرلگائے ہوئے ہے۔ رات دن اگر اسے کوئی فکر ہے تووہ یہ کہ کس طرح رسول کریم ﷺ کا جھنڈا تمام دیگر جھنڈوں سے بلند ہو۔ یہی وہ جماعت ہے جو تنہاسارے عالم میں آنحضرتﷺ کی عزت و شرف کے قیام کی خاطر ایک عظیم جہاد میں مصروف ہے۔جماعت احمدیہ کی گزشتہ سو سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس کے ارکان نے اسلام کی سربلندی کے لئے اپنی جانیں ، عزتیں اور اپنے اموال سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کردینے میں ذرہ بھر بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ یہی وہ جماعت ہے جس نے دنیا بھرمیں تبلیغ اسلام کابیڑا اٹھا رکھاہے اور قرآن مجید کے مختلف زبانوں میں تراجم کر کے اسلام کی حسین تعلیم دنیا کے کونے کونے میں پھیلا رہی ہے ۔ جہاں کہیں بھی دشمنان دین نے اسلام یا رسول کریم ﷺ کے خلاف زبان کھولی اورا عتراضات کئے جماعت احمدیہ سب سے پہلے میدان میں آئی اور نہ صرف اسلام کادفاع کیا بلکہ اپنے قوی اور ناقابل تردید دلائل سے دشمن کامنہ بند کر دیا۔ چنانچہ آج جماعت احمدیہ کے دشمن تک اپنے تمام بغض و عناد کے باوجود یہ تسلیم کرنے پرمجبور ہیں کہ اسلام کی تائید میں اور رسول کریم ﷺ کی محبت میں اسلام کی خدمت کرنے والی اگرکوئی جماعت سارے عالم میں نظر آتی ہے تو وہ جماعت احمدیہ مسلمہ ہی ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺکے زمانہ کے بعد گزشتہ ۱۴۰۰سالوں میں بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام جیساکوئی عاشق رسول ؐ نظر نہیں آتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کلام پڑھ کر دیکھیں تو معلوم ہوتاہے کہ اس زمانہ میں اگر کسی نے آنحضرتﷺ کی محبت کے گر سکھائے ہیں تو وہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ ہی ہیں۔ آپ نے ہی دنیا کو وہ آداب بتائے کہ آنحضرتﷺسے محبت کیسے کی جاتی ہے ۔ آ پ نے ہی وہ طریق بتائے کہ کس طرح آنحضرت ﷺ کے نام پر جانیں نثار کی جاتی ہیں۔آپ کا ہی تو شیریں کلام ہے ؂

جان و دلم فدائے جمالِ محمدؐ است

خاکم نثار کوچۂ آلِ محمدؐ است

میری جان اور دل جما ل محمدؐ پرفدا ہیں اور میری خاک آل محمد کے کوچہ پرنثارہے۔اور

بعد از خدا بعشق محمدؐ مخمرم

گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

میں خدا کے بعدمحمدؐکے عشق میں مخمور ہوں اگر یہ کفرہے توخدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔

پھر آ پؑ رسول کریم ﷺکے بار ہ میں یوں فرماتے ہیں: ؂

سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا

وہ جس نے حق دکھایاوہ مَہ لقا یہی ہے

نیز آ پ نے فرمایا:

اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں

وہ ہے۔ میں چیزکیا ہوں۔ بس فیصلہ یہی ہے

اور آپ کی نثر ملاحظہ فرمائیں۔ آپ اپنی کتاب ’’سراج منیر‘‘میں فرماتے ہیں :

’’جب ہم انصاف کی نظرسے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کوجانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سرداراور رسولوں کا فخر ، تمام مرسلوں کاسرتاج جس کا نام محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ ہے جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی تھی‘‘۔

ایک اورکتاب ’’آئینۂ کمالات اسلام‘‘ میں آپ فرماتے ہیں:

’’وہ اعلیٰ درجہ کانور جو انسان کودیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا ، نجوم میں نہیں تھا، قمرمیں نہیں تھا، آفتاب میں بھی نہیں تھا ، وہ زمین کے سمندروں اوردریاؤں میں بھی نہیں تھا۔ وہ لعل اوریاقوت اور زمرّد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اورسماوی میں نہیں تھا ۔ صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اورارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سیدالانبیاء سیدالاحیاء محمد مصطفی ﷺ ہیں‘‘۔

غرضیکہ آپ کااردو کلام ، عربی کلام، فارسی کلام جو بھی ملاحظہ فرمائیں چاہے وہ منظوم کلام ہو یانثر عشقِ رسول کریم ﷺ سے بھرا پڑاہے ۔ ان تمام شواہد کے ہوتے ہوئے بھی بعض مولوی صاحبان ایسے ہیں کہ جو جماعت احمدیہ کے افراد پر توہین رسالت کے مقدمات قائم کرنا’’خدمت اسلام ‘‘سمجھتے ہیں ۔ چنانچہ پاکستان کے طول وعرض میں سینکڑوں احمدی مسلمانوں پرزیردفعہ 295/C تعزیرات پاکستان مقدما ت قائم کئے گئے ہیں اور ان پر یہ جھوٹاالزام عائد کیا گیاہے کہ وہ توہین رسول کریم ﷺ کے مرتکب ہوئے ہیں(نعوذباللہ من ذلک) ان مقدمات میں سے چند ایک کی قدرے تفصیل ہدیۂ قارئین ہے :

*۔۔۔*۔۔۔*

سیرت رسول کریم ﷺ پر آرٹیکل شائع کرنے پرمقدمہ

۱۵؍جون ۱۹۸۶ء کو ٹنڈوآدم سندھ کے ختم نبو ت کے مولوی احمد میاں حمادی نے رسالہ انصاراللہ کی انتظامیہ یعنی مرزا محمد دین صاحب ناز ایڈیٹر، قاضی منیر احمد صاحب پرنٹر اور چوہدری محمد ابراہیم صاحب پبلشرکے خلاف زیر دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان ایک مقدمہ درج کرایاجس میں کہا گیا کہ رسالہ مذکور نے اپنی اپریل ۱۹۸۶ء کی اشاعت میں سیرت رسول مقبول ﷺ پر ایک مضمون شائع کیاہے ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

دھمکی دینے کے الزام میں توہین رسالت کامقدمہ

موضع جلالہ ضلع سیالکوٹ کے پانچ احمدی احباب مکرم حنیف خان صاحب ولد حیات خان صاحب، صادق خان صاحب ولد دوست محمد خان صاحب، اسلام خان صاحب ولد حنیف خان صاحب، اقبال خان صاحب ولد حنیف خان صاحب اور اخترخان صاحب ولدحنیف خان صاحب پر ایک مقدمہ نمبر ۱۰مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۸۷ء تھانہ کوٹ نیناں میں زیردفعات147/149,506 درج کرایا گیا۔

یہ مقدمہ موضع جلالہ کے ایک شخص اسداللہ خان ولد شاہ نوازخان جو موضع جلالہ کی جامع مسجد کاخطیب اور پیش امام تھا کی پولیس کوتحریری درخواست پردرج کیا گیا ۔ اس میں مولوی اسداللہ خان نے الزام لگایا کہ مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۸۷ء کو وہ جمعہ پڑھانے کے لئے قرآن مجیدکی تلاوت کرکے اس کا ترجمہ کررہا تھا کہ اسے مذکورہ بالا پانچ احمدیوں کی طرف سے دھمکی کا پیغام ملا کہ اگراس نے ختم نبوت کے بارہ میں کچھ کہا تو اس کا نتیجہ بہت براہوگا ۔جمعہ کی نماز کے بعدوہ موضع اخلاص پور گیا تو ان احمدیوں نے اسے برابھلا کہا، گالیاں دیں اور جان سے مار دینے کی دھمکی دی ۔ اس موقعہ پران لوگوں نے اسے پیٹا۔ اس موقعہ کے دو گواہ نصیر خان ولد امانت خان اور حمید خان ولد صدیق خان جو موضع جلالہ کے رہائشی ہیں موجود تھے ‘‘۔

اس کی درخواست پر پولیس نے پانچوں احمدیوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ۔ بعدازاں پولیس نے مزیدتحقیق کرکے پانچو ں احمدیوں پر دفعہ 295/Cکے تحت علیحدہ چالان پیش کیااورکہاکہ احمدیوں نے رسول کریم ﷺکی ہتک کی ہے اور مسجد کے خطیب کو ختم نبوت کے موضوع پرتقریر کرنے سے روکاہے۔ احمدیوں کی طرف یہ بیانات منسوب کئے گئے کہ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺآخری نبی نہیں تھے اور یہ کہ مرزا غلام احمد سچے نبی تھے ۔ اس طرح مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا ۔پولیس کے مطابق ان کے یہ بیانات مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۸۷ء کو پولیس تحقیق کے نتیجہ میں ظاہر ہوئے جن کی بناء پر دفعہ 295/Cکا اضافہ کیا گیا ۔

یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج نارووال علاؤالدین ارشد ناگی کی عدالت میں پیش ہوا ۔ سیشن جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ پولیس نے اس معاملہ میں فرض شناسی اور غیرجانبداری سے کام نہیں لیا۔ معلوم ہوتاہے وہ فوجداری قانون سے بالکل نابلدہیں۔ اور شکایت کنندہ اسداللہ خان نے بھی سنی سنائی بات پر مقدمہ کی بنیاد رکھی جس پرقطعی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت کے نزدیک رسول کریم ؐپر تقریر سے روکنا یایہ کہنا کہ رسول کریم آخری نبی نہیں تھے اور مرزا غلام احمد سچے نبی تھے دفعہ 295/C کے زمرے میں بلاواسطہ یا بالواسطہ نہیں آتا۔اس لئے عدالت نے مورخہ ۲۷؍جولائی ۱۹۸۷ء کو تمام احمدیوں کوتوہین رسالت کے الزام سے بری کر دیا اور دفعہ 506کے تحت بھی سب ملزمان کوسوائے اسلام خان کے بری کرتے ہوئے اسلام خان کو دو سال قیدبامشقت کی سزا دی۔ اس سزاکے خلاف ہائی کورٹ لاہورمیں اپیل کی گئی جو سماعت کے لئے جسٹس شیخ محمد زبیر کی عدالت میں پیش ہوئی جس نے مورخہ ۳؍جولائی ۱۹۹۱ء کواسلام خان کو بھی بری کردیا ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

نماز جمعہ ادا کرنے پرتوہین رسالت کا مقدمہ

مورخہ ۱۳؍اپریل ۱۹۸۷ء کو زیر دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان ایک مقدمہ تھانہ خوشاب میں بوقت چار بجے شام مکرم مبارک احمد صاحب، مقصود احمد صاحب، ماسٹر حمیداللہ صاحب ٹیچر،محمد حاکم صاحب اوررانا عطا ء اللہ صاحب کے خلاف درج ہوا جو خواجہ محمد عثمان ولد عبدالرحمن سکنہ خوشاب کی تحریری درخواست پردرج کیا گیا ۔

درخواست میں لکھاگیا کہ ان احمد یوں نے مسجد پردوبارہ کلمہ طیبہ تحریر کردیا ہے ۔ بعض مکانوں میں وہ تبلیغ بھی کرتے ہیں اور انہوں نے جمعہ کے اجتماع کااہتما م کیا اور خوشی محمدمربی قادیانی کی اقتداء میں مسلمانوں کی طرح نماز جمعہ ادا کی ۔ لہذا استدعا ہے کہ مذکورہ بالا افراد کو فی الفور گرفتارکیا جائے اور دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان کے تحت کلمہ اورحضور کی گستاخی کامقدمہ چلایا جائے ۔ چنانچہ ان کو گرفتار کرلیاگیا ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

قرآن مجیدکی تلاوت کرنے اور کلمہ طیبہ مٹانے سے انکار کرنے پرتوہین رسالت کا مقدمہ

مورخہ ۱۳؍اپریل ۱۹۸۷ء کو ہی شام پونے چھ بجے تھانہ خوشاب میں ایک مخالف سلسلہ قاری سعیداحمد کی درخواست پر ایک اورمقدمہ زیردفعہ 295/Cتعزیرات پاکستان مکرم رانا عطاء اللہ صاحب پٹواری آف خوشاب کے خلاف درج کیا گیا۔

اس مقدمہ کی تفصیل یہ ہے کہ مورخہ ۱۳؍اپریل ۱۹۸۷ء کو شام پانچ بجے پانچ احمدی احباب مکرم رانا عطاء اللہ صاحب ، راناحمیداللہ صاحب، مبارک احمد صاحب ،مقصود احمد صاحب، اور محمد حاکم صاحب کو تھانیدار نے تھانہ میں بلایا ۔ وہاں پہلے سے قاری سعید احمد بیٹھے تھے ۔ انسپکٹر صاحب نے ان کو آمنے سامنے بٹھاکر مذہبی سوالات شروع کردئے کہ کلمہ میں آپ آنحضرت ﷺ کی بجائے مرزا غلام احمد مراد لیتے ہو وغیرہ ۔ ان سوالات کے جواب چونکہ رانا عطا ء اللہ پٹواری نے دئے اس لئے قاری سعید احمد نے پولیس کو اپنی درخواست میں لکھا ’’آج عصرکی نماز کے بعد آپ نے بندہ قاری سعیداحمد کو تھانہ خوشاب میں قادیانیوں کے متعلق مشورہ کے لئے بلایا ۔ اس دوران پانچ قادیانی بھی تھانہ میں موجود تھے۔ انسپکٹر صاحب کی موجودگی میں عطاء اللہ پٹواری نے نہ صرف کلمہ طیبہ اپنی مسجد سے ہٹانے سے انکار کیا بلکہ تبلیغ بھی شروع کردی اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا شروع کردی۔ عطاء اللہ پٹواری نے یہ بھی کہا کہ ہم مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں ۔ اس طرح قانون کے محافظوں کے سامنے قانون کی خلاف ورز ی کی گئی ۔ لہذا استدعا ہے کہ عطاء اللہ قادیانی کے خلاف زیر دفعہ 295/Cجس کی سزا موت ہے قرآن مجیدکی تلاوت اورحضور ﷺکی توہین کرنے پر فوری مقدمہ درج کیا جاوے۔

*۔۔۔*۔۔۔*

درود پڑھنے کی وجہ سے مقدمہ

ٹنڈو آدم کے بدبخت مولوی احمد میاں حمادی نے ۱۳؍اگست ۱۹۸۷ء کوشہداد پور سندھ میں ہی ایک مقدمہ مکرم مختار احمد صاحب، عبدالرحمن صاحب اورعلی احمد صاحب کے خلاف درج کرایا جس میں کہا کہ احمدیوں نے ایک جلسہ مورخہ ۹؍اگست ۱۹۸۷ء کومنعقد کیا اور اس میں قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کرنے کے بعد لاؤڈسپیکر پر رسول مقبول ﷺپردرود بھیجا گیا ۔ اس طرح ’’توہین رسالت‘‘کے مرتکب ہوئے ۔ چنانچہ یہ مقدمہ زیر دفعہ 295/C اور 298/C تعزیرات پاکستان تین احمدیوں کے خلاف درج ہوا۔

*۔۔۔*۔۔۔*

کلمہ طیبہ لکھنے کی وجہ سے ’’توہین رسالت‘‘ کا مقدمہ

قصور شہر کے مکرم شیخ محمد اسلم صاحب ، مکرم مشتاق احمد صاحب، مکرم محمد اسلام صاحب اور مکرم قریشی نوراحمد صاحب کے خلاف ایک مقدمہ مورخہ ۲۷؍اگست ۱۹۸۷ء کودرج کیا گیا جو قصورشہر کی مجلس ختم نبوت کے صدر فضل حسین کی درخواست پر درج ہوا۔درخواست میں لکھا گیا کہ مذکورہ احمدیوں نے اپنے گھروں، دوکانوں اورمسجد پر کلمہ طیبہ لکھ رکھاہے اور یہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/Cکے تحت جرم ہے۔ چنانچہ مقدمہ کے اندراج کے بعد فوری طورپر چاروں احمدی احباب کو گرفتارکر لیا گیا ۔

بعدازاں شکایت کنندہ نے ایک اور درخواست ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ قصورکی عدالت میں دائر کی جس میں لکھا گیاکہ احمدیوں نے گھروں ، دوکانوں اور مسجد پرکلمہ طیبہ لکھ کر توہین رسالت کا ارتکاب بھی کیا ہے۔ چنانچہ اس درخواست پران چاروں احباب کے خلاف 295/Cکا اضافہ کر دیا گیا۔

۱۰؍مئی ۱۹۸۸ء کو ایڈیشنل سیشن جج چوہدری عبدالستار نے مدعی کی درخواست پڑھ کر کہاکہ اس میں دفعہ 295/Cلاگونہیں ہوتی لہذا دفعہ 298/C کے تحت مقدمہ کی کارروائی کے لئے سٹی مجسٹریٹ کو بھجوادیا گیا۔

*۔۔۔*۔۔۔*

پوسٹرپھاڑنے کی وجہ سے توہین رسالت کامقدمہ

مورخہ ۲۸؍اگست ۱۹۸۷ء کو ننکانہ کے ایک احمدی نوجوان کلیم احمد ولد ڈاکٹرحاجی عبدالرحمن پر توہین رسالت کے الزام میں ایک مقدمہ تھانہ ننکانہ میں جماعت کے ایک مخالف عبدالمجید اختر کی درخواست پر درج کیا گیا۔ الزام یہ لگایاگیا کہ اس احمدی نوجوان نے مجلس ختم نبوت کاایک پوسٹر جودیوار پرچسپاں تھا پھاڑ ڈالا اور اس طرح رسول کریم ﷺ کی توہین کامرتکب ہوا ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

نوٹس بورڈ پر روغن پھیرنے کی وجہ سے توہین رسالت کا مقدمہ

خوشاب کے ایک مخالف عقیل عباس شاہ نے مورخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۸۷ء کو ایک احمدی مسلمان حکیم جمیل احمد کے خلاف ایک مقدمہ زیردفعات 295/C اور298/C اور ۱۶۔ایم پی او تعزیرات پاکستان تھانہ خوشاب میں درج کرا دیا۔ تحریری درخواست میں شکایت کی گئی کہ حکیم جمیل احمد نے مجلس ختم نبوت کے بورڈ پرسیاہی پھیردی ہے ۔نیز مقامی مسجد احمدیہ پردوبارہ کلمہ طیبہ لکھ کر دفعہ 298/Cکی خلاف ورزی کی ہے ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

تبلیغ کی وجہ سے توہین رسالت کامقدمہ

ٹنڈو آدم کے بدنام ترین مولوی احمد میاں حمادی نے ۲۷؍دسمبر ۱۹۸۷ء کو شہداد پور سندھ کے تھانہ میں ایک درخواست چوہدری خلیل احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ سانگھڑ کے خلاف دی جس میں لکھاگیاکہ مکرم خلیل احمد صاحب نے رسالہ انصاراللہ بابت ماہ فروری ۱۹۸۷ء بغرض تبلیغ ایک غیراحمدی وکیل محمد اسحاق نامی کو دیاہے جو اس نے مولوی حمادی تک پہنچادیا اورمولوی مذکور کے دعویٰ کے مطابق اس میں ہتک رسول ﷺ کی گئی ہے ۔ چنانچہ مکرم خلیل احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ سانگھڑکے خلاف زیردفعہ 295/Cتوہین رسالت کامقدمہ درج ہو گیا اور انہیں گرفتارکرکے شہداد پورجیل بھجوا دیا گیا۔ سیشن جج سانگھڑ نے جولائی ۱۹۸۸ء میں فیصلہ دیاکہ رسالہ مذکور میں مضامین کسی طرح بھی توہین رسالت کی دفعات کے تحت نہیں آتے ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

سیرت رسول کریم ﷺ پر جلسہ کرنے پرمقدمہ

تلونڈی موسی خان ضلع گوجرانوالہ میں جماعت احمدیہ نے سیرت رسول کریم ﷺکے موضوع پر ایک جلسہ کا انعقاد کیاجس میں مرکز احمدیت ربوہ سے مولانا دوست محمدصاحب شاہد اور دیگرمبلغین کو بھی شمولیت کی دعوت دی۔ اس جلسہ کے انعقاد کی وجہ سے علاقہ کے غیراحمدی مسلمانوں کو سخت غصہ آیا اور ان کے نمائندگان خواجہ محمد شفیق اور چوہدری غلام محمد آف گوجرانوالہ شہر نے احمدی مسلمانوں کے خلاف تھانہ صدرگوجرانوالہ میں رپورٹ کی اورمندرجہ ذیل احمدی احباب پر زیر دفعہ 295/C ،298/C اور 188تعزیرات پاکستان ایک مقدمہ مورخہ ۲۳؍مارچ ۱۹۸۸ء کو درج کروایا۔

(۱)مولانا دوست محمد صاحب شاہد۔ ربوہ(۲) نذیر احمد صاحب ۔(۳) منظور احمد صاحب۔ (۴) منوراحمد صاحب۔ (۵) محمد یوسف صاحب۔ (۶) شبیر احمد صاحب۔ (۷) ناصر احمد صاحب۔ (۸)ظفر احمد صاحب۔(۹) شبیر احمد صاحب شاہد، مبلغ جماعت احمدیہ ۔(۱۰) خالد احمد صاحب۔(۱۱) سلیم احمد صاحب۔

درخواست میں لکھا گیا کہ ان سب نے جلسہ کاانعقاد کرکے احمدیت کی تبلیغ کی ہے اوراس طرح رسول کریم ؐ کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔

سیشن کورٹ نے ۳؍اپریل ۱۹۹۰ء کو دفعہ 298/C کے تحت تمام افراد کو دو دو سال قید اور پانچ ہزار فی کس جرمانہ کی سزا دی مگرعدالت نے فیصلہ دیا کہ دفعہ 295/C کا اطلاق ا س مقدمہ پرنہیں ہوتا ۔ سزاؤں کے خلاف اپیل کی گئی۔

*۔۔۔*۔۔۔*

گھرپر قرآنی آیت لکھنے کی وجہ سے مقدمہ

سانگھڑ سندھ کے ایک احمدی مسلمان رشید احمد خان صاحب کے خلاف سانگھڑ کے ایک مولوی عبدالغفورنے ایک مقدمہ زیر دفعہ298/C تعزیرات پاکستان مورخہ ۵؍اپریل ۱۹۸۸ء کو درج کرایا ۔ اس نے پولیس کو تحریری درخواست دی جس میں لکھا کہ قصبہ سانگھڑ کے لوگوں سے اسے معلوم ہواہے کہ ایک احمدی نے اپنے مکان کی بیرونی دیوار پر قرآنی آیت الیس اللہ بکاف عبدہ سیمنٹ سے کندہ کی ہوئی ہے ۔ اس پروہ اپنے ساتھیوں سمیت رشید احمد خان کے مکان پر پہنچا اور خود دیکھا کہ مذکورہ بالا آیت گھر کی بیرونی دیوار پر تحریرہے ۔ وہ فوراً پولیس اسٹیشن پہنچے ۔ اس وقت دن کے بارہ بجے تھے انہوں نے پولیس اسٹیشن سانگھڑ میں احمدی رشیداحمد خان کے خلاف زیر دفعہ 298/Cایک مقدمہ درج کرایا۔کیونکہ اس آیت قرآنی سے ا س کے اوراس کے ساتھیوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے تھے ۔ پولیس موقع پرپہنچ گئی اورآیت قرآنی کے فوٹو لے گئی اور اسی دن چار بجے بعد دوپہر رشیداحمد خان کو گرفتارکرلیاگیا ۔ مقدمہ کی سماعت زیر دفعہ 298/C شروع ہوئی مگربعد میں ۹؍مارچ ۱۹۹۱ء کو دفعہ 295/Cیعنی توہین رسالت کی دفعہ کابھی اضافہ کر دیا گیا ۔ اس طرح دونوں دفعات یعنی 298/C اور 295/Cکے تحت مقدمہ عدالت میں ۱۹۹۴ء تک چلتارہا اور مورخہ ۱۳؍جنوری ۱۹۹۴ء کو سیشن جج سانگھڑ بشیر احمد میمن نے رشید احمد خان کو دفعہ 298/Cکے تحت دو سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔

مورخہ ۱۳؍فروری ۱۹۹۴ء کو پولیس انسپکٹر اور اسسٹنٹ کمشنرپولیس بھاری گارد لے کر رشیداحمد خان کے گھرآئے اور اپنے ساتھ ایک ہندو لوہار کو لائے جس نے ہتھوڑے کی مدد سے سیمنٹ سے کندہ آیت کریمہ کو توڑ کر ریزہ ریزہ کر ڈالا ۔انا للہ واناالیہ راجعون۔

*۔۔۔*۔۔۔*

گھروں پرکلمہ طیبہ لکھنے کی وجہ سے ایک اورمقدمہ

مورخہ ۱۴؍اپریل ۱۹۸۸ء کو ایک مقدمہ زیر دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان سمبڑیال ضلع سیالکوٹ کے احباب ملک نثار احمد صاحب، ملک نور احمد صاحب اور عاشق محمودصاحب پر ایک مخالف سلسلہ محمد سعید ذکی کی تحریری درخواست کی وجہ سے درج کیاگیا۔ درخواست میں کہاگیا کہ احمدیو ں نے اپنے گھروں پرکلمہ طیبہ لکھ رکھاہے اوراس طرح رسول مقبولﷺکی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ توہین رسالت کا فعل مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے اور یہ صریحاً دفعہ 295/Cکی خلاف ورزی ہے۔

*۔۔۔*۔۔۔*

تبلیغ کی وجہ سے مقدمہ قائم کیا گیا

جو ۶سال بعد توہین رسالت کے مقدمہ میں تبدیل کر دیا گیا

مکرم عبدالقدیرشاہد صاحب مربی سلسلہ جماعت احمدیہ اور ان کے دو نسبتی بھائیوں مکرم محمداشفاق صاحب اور مکرم محمد شہباز صاحب آف شرقپور ضلع شیخوپورہ کے خلاف تبلیغ کرنے کے الزام میں زیر دفعہ 298/Cتعزیرات پاکستان ایک مقدمہ مورخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۸۸ء کو تھانہ شرقپور ضلع شیخوپورہ میں درج ہوا ۔ یہ مقدمہ شرقپور کے رہنے والے ایک مخالف حکیم اقبال احمد کی تحریری درخواست پر درج کیا گیا ۔ درخواست دہندہ نے لکھا کہ :

’’گزارش ہے کہ عیدمیلادالنبی کے دن شرقپور شہر میں قادیانی فرقہ کے چند لڑکے جن میں اشفاق احمد ولدمحمد حسین اور شہباز ولد محمد حسین تھے اشتہار بازی کر رہے تھے جن میں اپنے عقیدے کی دعوت و تبلیغ کی گئی تھی ۔ اشتہار کامضمون اشتعال انگیزی کاموجب بن سکتا تھا ۔ چنانچہ جن لوگوں نے یہ اشتہار پڑھا ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ۔ اس کے بعد ہمارے مسلمانوں کے چند لڑکے جن میں مقصود احمد ولد شیخ محمد اسمٰعیل، احمد صابر علی ولد شیخ دل محمد،شیخ محمد مجیب ولد شیخ محمد حنیف اور شیخ اشرف علی ولد رنگ الٰہی ان کے پیچھیان کے گھر گئے اور ان سے اس سلسلہ میں بازپرس کی۔ انہوں نے کمال ڈھٹائی سے بجائے معذرت کے الٹا ڈانٹنا شروع کر دیا ۔ دونوں طرف سے کافی بات چیت ہوتی رہی آخرہم تنگ آ کر واپس آ گئے ۔

آج شام یعنی ۲۸؍اکتوبر ۱۹۸۸ء کو اندرون ضیاء گیٹ شرقپوربمقام بالمقابل دوکان جمیل برتن فروش ، مقصود احمد ولد شیخ محمد اسمٰعیل ، شیخ احمد صابر علی ، شیخ محمد حبیب وغیرہ موجود تھے کہ یہی دونوں یعنی اشفاق اوراس کے ساتھ ایک لڑکا وہاں آ گئے اور دوبارہ اپنے عقیدہ کے بارہ میں بیان شروع کر دیا اورہمیں اپنے گھرآنے کی دعوت دی اور بتایاکہ ہمارامبلغ عبدالقدیر موجود ہے جو آپ کی تسلی کرے گا۔ ہمیں باتوں میں لگاکر آہستہ آہستہ اپنے گھر لے گئے ۔ وہاں ایک مبلغ جو باہر سے آیا لگتاتھا اس نے اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کر د ی اور اس نے اپنے مذہب کو بالکل سچا اور برحق پیش کیا اور ہمارے خلاف،اسلام کے خلاف سخت بکواس کی ۔ اسی اثناء میں چند اور مسلمان جن میں حکیم اقبال احمد ولد حکیم دین ۔ محمودالحسن ولد محمد یحیٰ ، حافظ نعیم ولد یحیٰ،جمیل ولد حاجی بشیر احمد وغیرہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں حافظ نعیم الرحمن اور محمود الحسن نے اسلام کی اصلیت کے بارہ میں بتایا ۔مبلغ مذکور اسلامی تعلیمات کو مسخ کر کے اپنے مذہب کو سچا ثابت کرتارہا۔

آخر قادیانی مذہب کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی تحریر پیش کی گئی مگر یہ لوگ اپنی ضد سے باز نہ آئے اور غلط قسم کی بکواس کرتے رہے ۔ آخر کار اسلام کی توہین ، آیات قرآنی کی تحریف ہم لوگ برداشت نہ کر سکے ۔ خاص طورپر آنحضور ﷺ کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت تھی ۔ چنانچہ ہم نے ان کو توبہ کرنے کے لئے کہا اورگھر کے دروازے پرلکھا ہواکلمہ جو ان کے لئے لکھنا منع ہے کو صاف کرنے کو کہا ۔ انہوں نے انکار کیا۔ چنانچہ ہم سب اکٹھے ہو کر آپ کے سامنے تھانہ پہنچ گئے ہیں۔

میں مسمی حکیم اقبال احمد آپ کے نوٹس میں یہ سارا واقعہ لایا ہوں اورملتجی ہوں کہ ان تینوں عبدالقدیر مبلغ ، اشفاق اور شہباز کے خلا ف آنحضورﷺکے بارہ میں گستاخانہ کلمہ کہ ’’جو تم ہمارے مرزا غلام احمد کو سمجھتے ہو وہی ہم تمہارے رسول حضرت محمد مصطفیؐ کے بار ہ میں کہتے ہیں‘‘کہنے پر عبرتناک کارروائی کی جاوے نیز گھر پرکلمہ لکھنے پر کارروائی کی جائے اور مذہب حقانی اسلام کے بارے میں ناجائز اور جھوٹا پراپیگنڈا کرنے سے روکا جائے ‘‘۔

چنانچہ تینوں احمدیوں کے خلاف زیر دفعہ 298/A مقدمہ درج کر لیاگیا ا وررات ۱۱ بجے پولیس نے تینوں کو ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ اگلے روز فیروزوالا (شاہدرہ) کے مجسٹریٹ کی عدالت میں ضمانت کی درخواست پیش کی گئی جو منظور ہو گئی اور تینوں احمدی ضمانت پر رہا ہو کر گھر آگئے۔

پولیس نے بعد تفتیش ۱۹۸۹ء میں مجسٹریٹ کی عدالت میں مقدمہ برائے سماعت داخل کر دیا۔ مجسٹریٹ نے ۱۹۹۱ء میں احمدیوں پر چارج شیٹ لگائی اور ۱۹۹۳ء تک تمام گواہوں وغیرہ کی گواہیاں مکمل ہو گئیں ۔ اس طرح ۲۵؍اگست ۱۹۹۳ء تک مقدمہ کی کارروائی ختم ہو چکی تھی ، صرف فیصلہ سنانا باقی تھا مگر عدالت نے فیصلہ التوا میں رکھا ۔ اس دوران ۱۷؍اکتوبر ۱۹۹۴ء کو یعنی مقدمہ شروع ہونے کے چھ سال بعدمدعی نے عدالت میں درخواست دی کہ اس مقدمہ کی دفعہ 298/A درست نہیں بلکہ توہین رسالت کی دفعہ 295/Cلگنی چاہئے۔

چنانچہ مجسٹریٹ محمد صدیق نے ۷؍مارچ ۱۹۹۵ء کو اس درخواست کی سماعت کی اور ۱۹؍مارچ ۱۹۹۵ء کو فیصلہ دیا کہ مقدمہ زیر دفعہ 295/C آتاہے جو اس عدالت کے دائرہ کار سے باہر ہے اور مسل مقدمہ سیشن جج شیخو پورہ کو بھجوا دی ۔ اس طرح یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ محمد محمود چوہدری کی عدالت میں پیش ہواجنہوں نے فیصلہ دیا کہ اس مقدمہ پر دفعہ 295/C کا اطلاق نہیں ہوتا لہذا ٹرائل مجسٹریٹ صاحب فیصلہ دفعہ 298/A کے تحت سنا دیں۔ مگر ٹرائل مجسٹریٹ محمد صدیق صاحب نے ۲۹؍اگست ۱۹۹۵ء کو ایک بار پھر یہ فیصلہ دیا کہ اس مقدمہ پر دفعہ 295/C لگتی ہے اورمسل دوبارہ ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج شیخوپورہ کو بھجوا دی اور ملزمان کو ہدایت کی کہ وہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۹۵ء کو عدالت مذکور ہ میں حاضر ہوں ۔اس دوران پہلے ایڈیشنل سیشن جج محمد محمود چوہدری صاحب تبدیل ہو چکے تھے اور ان کی جگہ رانا زاہد محمود ایڈیشنل سیشن جج مقررہوئے تھے ۔ چنانچہ یہ مقدمہ ان کی عدالت میں پیش ہوا۔ ہمارے وکیل مکرم خواجہ سرفراز احمد ایڈووکیٹ نے مورخہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۹۵ء کو یہ درخواست دی کہ چونکہ لوئر کورٹ نے یہ فیصلہ دیاہے کہ اس مقدمہ میں دفعہ 298/A کا اطلاق نہیں ہوتا اس لئے مجسٹریٹ کو حکم دیا جائے کہ وہ پہلے دفعہ 298/A کے بارہ میں حتمی فیصلہ دیں مگر سیشن جج نے مورخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۹۷ء کو یہ درخواست مسترد کردی۔

اس کے بعد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ۔ ہائی کورٹ میں ۲۹؍جولائی اور ۳۱؍جولائی ۱۹۹۷ء کوبحث ہوئی مگر جسٹس محمد نعیم نے اپنے فیصلہ میں دفعہ 298/A کے تحت کارروائی کو خارج قرار دے کر 295/Cکو قائم رکھا اور پٹیشن کو خارج قرار دیتے ہوئے فیصلے میں لکھا کہ ایڈیشنل سیشن جج شیخوپور ہ رانا زاہد محمود اس مقدمہ کی سماعت کریں اور مورخہ ۳۰؍دسمبر ۱۹۹۷ء تک اس کو بھگتا دیں۔

ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی اور ساتھ ہی اپیل کے دوران Stay Orderکی درخواست کی گئی مگر سپریم کورٹ کے جسٹس نثار نے نہ صرف اپیل خارج کر دی بلکہ رانا زا ہد محمود کو کہا کہ کیس کا فیصلہ ۳۰؍نومبر ۱۹۹۷ء تک کر دیا جائے ۔

چنانچہ یکم دسمبر ۱۹۹۷ء کو رانا زاہد محمود ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ نے فیصلہ صادر کیا کہ ہر سہ ملزمان کو ۲۵، ۲۵ سال قید بامشقت اور ۵۰،۵۰ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے ۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں مزید دو سال قید بھگتنا ہوگی۔

یہ بھی یاد رہے کہ ۱۹۸۸ء میں جب یہ مقدمہ شروع ہواتھا اس وقت توہین رسالت کی دفعہ کے تحت سزا عمر قید یا سزائے موت تھی مگر ۱۹۹۱ء میں قانون میں تبدیلی کی گئی اور اب توہین رسالت کی دفعہ 295/Cکے تحت صرف سزائے موت مقرر ہے اس طرح اگر یہ مقدمہ ۱۹۹۱ء کے بعد دائرہوتاتو جج صاحب معصوم احمدیوں کو موت کی سزا دے دیتے ۔

مکرم عبدالقدیر صاحب اور ان کے دونوں نسبتی بھائی اس وقت جیل میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان اسیران راہ مولا کی جلد بریت کے غیب سے سامان فرمائے ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، و علیٰ عبدہ المسیح الموعود ۔ لکھنے پر مقدمہ

مولوی احمد میاں حمادی آف ٹنڈوآدم سندھ نے ایک مقدمہ مکرم مرزا مبارک احمد صاحب نصرت آف سانگھڑ پرمورخہ ۳؍جنوری ۱۹۸۹ء کو زیر دفعات 298/C اور 295/C تعزیرات پاکستان درج کرایا۔ مولوی نے شکایت کی کہ مرزا مبارک احمد نصرت نے ۸۸۔۱۱۔۹کو اسے ایک خط بھجوایا جس کے ساتھ مرزا طاہر احمد کی طرف سے جاری مباہلہ پمفلٹ بھی تھا ۔ خط جس پیڈ پرلکھا گیاتھا اس پربسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم و علیٰ عبدہ المسیح الموعود لکھ کر خود کو مسلمان ظاہر کیا ہے جو دفعہ 298/Cکے تحت جرم ہے ۔ لہذا اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ‘‘۔ چنانچہ دونوں دفعات کے تحت مقدمہ ۳؍جنوری ۱۹۸۹ء کو درج کر دیا گیا۔

مقدمہ کااندراج ہونے کے بعد مورخہ ۱۴؍ جنوری ۱۹۸۹ء کو مکرم مرزا مبارک احمدنصرت صاحب کو پولیس نے گرفتار کر لیا اور حوالات میں بند کردیا ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

جیل کے اندر نماز پڑھنے پرمقدمہ

دوسرے دن یعنی ۱۵؍جنوری کو مولویوں نے انہیں حوالات میں نماز پڑھتے دیکھا تو شور مچا دیا۔ ان کے خلاف ایک اور درخواست دی گئی جس میں لکھا گیاکہ ’’مرزا مبارک احمد نصرت حوالات میں مسلمانوں کی طرح قبلہ رو ہوکر نماز ادا کر رہا تھا‘‘۔ چنانچہ اس درخواست کی بنا پر مرزا صاحب پر ایک اورمقدمہ 298/Cتعزیرات پاکستان مورخہ ۶؍فروری ۱۹۸۹ء کو قائم کر دیا گیا اور ۹۴ دن حوالات میں رہنے کے بعد ان کی ضمانت پررہائی ہوئی۔

یاد رہے اس بدبخت مولوی نے احمدیوں پرمتعددمقدما ت درج کرا رکھے ہیں۔یہ مولوی ٹنڈوآدم کاخطیب ہے۔ جو محکمہ اوقاف کے تحت ہے ۔اس طرح یہ سندھ گورنمنٹ کاباقاعدہ تنخواہ دار ملازم ہے اورحکومت کا خاص مولوی ہے۔ علاقہ بھرمیں اسکا اثرہے نیز اس علاقہ میں راجہ ظفرالحق وزیرمذہبی امور کے بھائی کابھی بہت اثرورسوخ ہے اس وجہ سے سندھ کے اس علاقہ میں جماعت احمدیہ کے خلاف ظالمانہ حرکتیں ہوتی رہتی ہیں اوراس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما ء پرہو رہاہے۔

اس مقدمہ کی سماعت آج کل ہو رہی ہے ۔ ملاں حمادی سماعت کے دن اپنے چیلے چانٹوں اورمدرسہ کے طلباء کو ساتھ لے کر کمرہ عدالت میں پہنچ جاتاہے اورجماعت کے خلاف خوب ہلڑبازی کرتاہے۔ گزشتہ تاریخ ۲۱؍مئی ۱۹۹۹ء کو عدالت میں ہجوم نے نعرے لگا لگاکر مطالبہ کیا کہ مرزا مبارک احمد نصرت کی ضمانت منسوخ کی جائے ۔ چنانچہ جج نے دباؤ میں آ کر مرزا صاحب کی ضمانت منسوخ کردی تھی۔

صفحہ نمبر: 1 (کل صفحات: 3)
پچھلا صفحہ