In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » ظلم و ستم اور انسانی حقوق »

اللہ اور اس کے رسول مقبول حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و علٰی آلہ وسلم کی محبت میں سرشار معصوم احمدیوں پر توہین رسالت کے سراسر جھوٹے اور ناپاک الزام میں عائد بعض مقدمات کی تفصیل

رشید احمد چوہدری، پریس سیکرٹری
+ فہرست مضامین

(دوسری قسط)

بسم اللہ الرحمن الرحیم،السلام علیکم اور انشاء اللہ لکھنے پر مقدمہ

قصور شہر میں ایک مقدمہ فضل حسین پریذیڈنٹ مجلس ختم نبوت قصورکی درخواست پرپولیس نے زیردفعات 298/C اور 295/C تعزیرات پاکستان مورخہ ۲۰؍ستمبر ۱۹۸۹ء کو مندرجہ ذیل احمدی مسلمانوں کے خلاف درج کیا۔

۱۔شیخ محمد یوسف صاحب۔۲۔ شیخ محمد اسلم صاحب۔ ۳۔ بیگم شیخ محمد اسلم صاحب۔۴۔ مسز فریدہ فرحت صاحبہ۔۵۔ ملک عبدالرب صاحب ۔۶۔ خواجہ خلیل احمد صاحب۔۷۔ کیپٹن محمد زکریا صاحب ۔۸۔ ساجد ندیم صاحب۔۹۔ شیخ محمد انورصاحب۔

درخواست میں لکھا گیاکہ ان احمدیوں نے ایک شادی کارڈ شائع کیاہے جس پربسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم اور انشاء اللہ کے الفاظ تحریر تھے۔

رسالہ ’’انصاراللّٰہ‘‘ کے خلاف توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ

ٹنڈوآدم تھانہ میں ایک اورمقدمہ مولوی احمدمیاں حمادی نے رسالہ ماہنامہ انصاراللہ کے ایڈیٹر مرزا محمد دین صاحب ناز، پبلشر چوہدری محمد ابراہیم صاحب ، پرنٹر قاضی منیر احمد صاحب اور مینجر رسالہ انصاراللہ کے خلاف زیر دفعات 298/C اور 295/Cتعزیرات پاکستان ۱۱؍ستمبر ۱۹۹۰ء کو دائر کیا ۔

ملاں حمادی نے اپنی تحریری درخواست میں لکھا کہ مورخہ ۹۰۔۳۔۲۱ کو مجھے ڈاک کے ذریعہ ایک لفافہ ملا جس میں ہلکے سبزرنگ کاکارڈ تھا ۔ اوپر بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم لکھا ہواتھا اور نیچے مینجر ماہنامہ انصاراللہ کے دستخط تھے۔ چونکہ احمدی ’’محمد رسول اللہ‘‘سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی لیتے ہیں اس طرح رسول اللہ کی بے حرمتی کی ہے۔ نیز بسم اللہ شریف لکھ کر خود کو مسلمان ظاہرکیا ہے اور میرے مذہبی جذبات مجروح کئے ہیں لہذا دفعہ 298/C اور 295/Cتعزیرات پاکستان کے تحت قانونی کارروائی کی جائے ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

احمدی ایڈووکیٹ پر توہین رسالت کامقدمہ

مورخہ ۴؍اکتوبر ۱۹۹۰ء کو ایک مقدمہ مکرم محمد اشرف صاحب سندھوایڈووکیٹ لاہور کے خلاف زیر دفعہ 295/Cمولوی محمد رمضان نے تھانہ باغبانپورہ لاہور میں درج کرایا۔ مولوی نے اپنے بیان میں احمدی ایڈووکیٹ پر الزام لگایاکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے ہیں۔

خدا تعالیٰ کے فضل سے عدالت نے مولوی کوجھوٹاقرار دے کرمحمد اشرف صاحب سندھو ایڈووکیٹ کو باعزت بری کردیا ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

کلمہ طیبہ لکھ کر توہین رسالت کی گئی

سمبڑیال ضلع سیالکوٹ کے ایک بدنام ترین مولوی صاحبزادہ سلمان منیر کی تحریری درخواست پر مندرجہ ذیل احمدی مسلمانوں کے خلاف ایک مقدمہ زیر دفعات 295/Cاور298/Cتعزیرات پاکستان مورخہ ۸؍جولائی ۱۹۹۱ء کو تھانہ سبمڑیال میں درج کیا گیا ۔ ان کاجرم مسجد احمدیہ پر کلمہ طیبہ تحریر کرنا بتایا گیا ۔

۱۔ مکرم خواجہ محمد امین صاحب ۲۔ مکرم ملک عنایت اللہ صاحب۳۔ مکرم حمید الحسن شاہ صاحب ۴۔مکرم محمد یوسف صاحب ۵۔مکرم ملک نثار احمد صاحب۶۔ مکرم محمود احمد صاحب سابق صدر جماعت احمدیہ سمبڑیال۔

مولوی سلمان منیر نے پولیس کو اپنی درخواست میں لکھا کہ اس سے قبل علاقہ مجسٹریٹ نے اس مسجد اورکئی قادیانیوں کے گھروں سے کلمہ طیبہ کے متبرک الفاظ کوہٹاکر محفوظ کیاتھااور دوبارہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے سلسلہ میں مقدمات درج تھے جو ابھی تک زیر سماعت ہیں ۔ اس کے باوجود قادیانیوں نے اپنی مسجد پردیدہ دانستہ طورپر کلمہ طیبہ لکھ کر قانون کی صریح خلاف ورزی کی ہے اور تمام مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے ۔چونکہ قادیانی اپنے مذہب کے مطابق محمد رسول اللہ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی لیتے ہیں اوراس طرح توہین رسالت کے مرتکب ہوتے ہیں لہذا قادیانیوں کی ایگزیکٹو باڈی کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

دوکانوں اور مسجد پرکلمہ طیبہ لکھنے کی وجہ سے ایک اورمقدمہ

دوکانوں اور مسجد پر کلمہ طیبہ لکھنے کی وجہ سے ایک اور مقدمہ شاہد امین بھٹی مسلم مجاہد فورس چونڈہ نے مورخہ ۲۱؍ستمبر ۱۹۹۱ء کو زیر دفعہ 295/Cتعزیرات پاکستان تھانہ پھلورہ سیالکوٹ میں مندرجہ ذیل احمدیوں کے خلاف درج کرایا :

۱۔ مکرم غفار احمد بٹ صاحب ۲۔ مکرم بشارت احمد بٹ صاحب۳۔ مکرم محبوب احمد بٹ صاحب۴۔ مکرم محمد یعقوب بٹ صاحب۵۔ مکرم محمد اسلم مغل صاحب۶۔ مکرم رحمت اللہ صاحب ۷۔ مکرم محمداسمٰعیل صاحب امیر جماعت چونڈہ۔

اس نے درخواست میں لکھا ’’قادیانی گروہ کی اسلام دشمن اور ملک دشمن سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے درج ذیل گزارشات کی جاتی ہیں کہ قادیانی گروہ پاکستانی آئین کی روسے غیرمسلم اقلیت قرار دیا جا چکاہے اور کوئی بھی قادیانی صدارتی آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء کے تحت شعائر اسلامی جیسے مسجد ، کلمہ طیبہ، تبلیغ اسلام ، اذان ، قرآن اور رسالت وغیرہ قصداً اشارۃً کنایۃً بالواسطہ یابلا واسطہ اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال نہیں کر سکتا۔ لہذا ہم پرزور استدعا کرتے ہیں کہ ان کے خلاف پاکستانی قانون کے مطابق فوری طورپر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295/C کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتاریاں عمل میں لائی جاویں۔

*۔۔۔*۔۔۔*

جھوٹا الزام لگاکر توہین رسالت کامقدمہ قائم کردیا

مورخہ ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۱ء کو شاہدرہ لاہور کے ایک بدبخت شخص محمد مظفر چغتائی ولد محمد اصغرچغتائی نے مکرم حبیب اللہ صاحب سوشل سیکیورٹی آفیسر شاہدرہ پرسراسرجھوٹا الزام لگاکر زیردفعہ295/C تعزیرات پاکستان تھانہ شاہدرہ میں ایک مقدمہ درج کرایا ۔ پولیس کو درخواست دیتے ہوئے اس نے کہاکہ مورخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۹۱ء کو جب وہ اپنی دوکان چغتائی ٹائم سنٹر میں موجود تھا نعمت اللہ خان نیازی ولداحمد خان نیازی اسسٹنٹ کنٹری بیوشن سیکشن لوکل آفس شاہدرہ نے میری اورمیرے دو ساتھیوں ناصرزمان پیرزادہ ولد محمد جمیل اسسٹنٹ سوشل سیکیورٹی شاہدرہ اور فرید رانا ولد محمد عاشق جونئر کلرک سوشل سیکیورٹی شاہدرہ کی موجودگی میں بتایاکہ حبیب اللہ قادیانی سوشل سیکیورٹی آفیسر شاہدرہ نے کہاکہ ’’حضرت زینب پررسول اللہﷺ عاشق ہوگئے تھے اور انہیں طلاق دلواکر خود نکاح کرلیا(نعوذباللہ)‘‘ ۔ اس طرح رسول کریم ﷺ کی توہین کی گئی ہے جس سے میرے مذہبی جذبات مجروح ہوئے لہذا اس کوزیردفعہ 295/C فوری گرفتارکرکے قانونی کارروائی کی جائے ۔

یہ مقدمہ اوصاف علی خان سیشن جج کی عدالت میں سماعت کے لئے پیش ہوا جنہوں نے مکرم حبیب اللہ صاحب کویکم اگست ۱۹۹۲ء کو ا س الزام سے باعزت بری کردیا ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

قرآن کریم کا ترجمہ کرنے پرمقدمہ

مورخہ ۵؍دسمبر ۱۹۹۱ء کو مکرم خان محمد صاحب امیر جماعت احمدیہ ضلع ڈیر غازی خان اور مکرم رفیق احمد صاحب نعیم کے خلاف سرائیکی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ کرنے کی وجہ سے زیر دفعہ295/A تعزیرات پاکستان تھانہ ڈیرہ غازیخان میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ۔

روزنامہ ڈان پاکستان کی ۲۶؍اپریل ۱۹۹۲ء کی اشاعت کے مطابق یہ مقدمہ مولوی اللہ وسایا امیر مجلس ختم نبوت ڈیرہ غازیخان کی درخواست پر درج کیا گیا ۔ اس نے اپنی درخواست میں لکھا کہ قادیانیوں کوکافر قرار دیاجا چکاہے مگرپھربھی انہوں نے قرآن مجید کا سرائیکی زبان میں ترجمہ کر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کومجروح کیا ہے۔

مقدمہ کے اندراج کے بعد مورخہ ۱۲؍ جنوری ۱۹۹۲ء کو رفیق احمد صاحب نعیم کو گرفتارکر لیاگیا اورمورخہ ۳۰؍جنوری کو عدالت نے دونوں کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ اس طرح مکرم خان محمد صاحب بھی گرفتارہو گئے۔

اسی دوران پولیس نے ان دونوں کے خلاف زیر دفعات 295/B اور 295/C تعزیرات پاکستان کااضافہ کردیا۔

یہ امربھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ دفعہ 295/A کے تحت سزا دس سال قید تک ہو سکتی ہے جبکہ 295/B کے تحت سزا عمرقید اوردفعہ 295/Cکے تحت سزائے موت مقررہے ۔

مولوی حضرات نے اس مقدمہ کے سلسلہ میں جماعت کے خلاف خوب شور مچایا ۔ چنانچہ روزنامہ جنگ لاہور کے ۱۶؍دسمبر۱۹۹۱ء کے شمارہ کی خبرکے مطابق مجلس احرار اسلام ربوہ کے رہنما مولوی اللہ یارارشد اور سپاہ صحابہ سرگودھا کے مولوی احمد علی نے قرآن مجید کا سرائیکی ترجمہ کرنے پرسزائے موت کامطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ’’قادیانی پاکستان کے آئین کے مطابق کافر مرتد اوردائرہ اسلام سے خارج ہیں اس لئے وہ نجس ہیں ۔ وہ اللہ کے کلام کوہاتھ نہیں لگاسکتے چہ جائیکہ اس کا ترجمہ کریں ‘‘۔

*۔۔۔*۔۔۔*

کوٹری سندھ کےاحمدی مسلمانوں پر توہین رسالت کامقدمہ

مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۹۲ء کوپولیس کوٹری سندھ میں واقع مسجد کے لئے پلاٹ جس کی چاردیواری مکمل ہوچکی تھی اوراس میں مربی ہاؤس ہے پر چھاپہ مار کر مندرجہ ذیل چار احمدیوں کوگرفتار کر کے لے گئی۔

۱۔۔۔ مکرم مبشراحمد صاحب۲۔۔۔مکرم غلام باری صاحب۳۔۔۔ مکرم ناصر احمد بلوچ صاحب ۴۔۔۔مکرم عبدالقدوس صاحب

ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے اپنے تبلیغی مرکز میں قادیانی فرقہ کی اچھائی بیان کی اور

نبی کریم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہے ۔اسطرح ان پر زیردفعات 298/C اور 295/Cتعزیرات پاکستان مقدما ت قائم کئے گئے ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

جمعہ کی نماز ادا کرنے کے جرم میں ایک اور مقدمہ

کوٹری میں ہی مورخہ ۳؍اپریل۱۹۹۲ء بروز جمعہ تقریباً ساڑھے بارہ بجے بعد دوپہر پولیس کی بھاری جمعیت نے مجسٹریٹ کی سرکردگی میں دوبارہ چھاپہ مارا اور نماز جمعہ کے لئے آنے والے ۲۰ احمدی مسلمانوں کوگرفتار کر لیا جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔

مکرم مظفر احمدصاحب،مکرم شہباز احمد صاحب، مکرم منیراحمد صاحب، مکرم محمد اسلم صاحب، مکرم امتیاز احمد صاحب ، مکرم عبدالقدیر صاحب، مکرم افتخار احمد خالد صاحب، مکرم مبارک احمد صاحب، مکرم سعید احمد صاحب، مکرم فاروق احمد صاحب، مکرم شاہداحمد صاحب تالپور، مکرم کاشف احمد بھٹی صاحب ، مکرم عبداللہ عابد صاحب، مکرم اسامہ منصورصاحب،مکرم رفیق احمد صاحب، مکرم فرحان احمد صاحب (عمر ۱۲ سال)، مکرم مہتاب احمد صاحب (عمر ۱۳ سال) مکرم رشید احمد صاحب ، مکرم اعجاز احمد صاحب، مکرم بخت علی صاحب۔

ان پر الزام یہ لگایا گیا کہ یہ تبلیغی اجتماع کر رہے تھے۔ ایک شخص خطبہ دے رہا تھا جس کا نام اعجاز احمد بتایا گیا اوروہ اسلام کے خلاف تقریر کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ رسول کریم ﷺ پر نبوت ختم نہیں ہوئی ۔ رسو ل کریمؐ سے کئی غلطیاں ہوتی تھیں اورمذہب اسلام کے بارہ میں توہین آمیز الفاظ بول رہا تھا ۔ اس طرح پولیس نے ان کے خلاف زیر دفعہ 298/C اور 295/C تغریرات پاکستان مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس نے گرفتار شدہ احمدیوں پر تشدد بھی کیا اور مزید گرفتاریوں کے لئے بعض گھروں میں چھاپے بھی مارے ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

شادی کارڈ پر السلام علیکم، بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اور انشاء اللہ لکھنے پر مقدمہ

ننکانہ کے ایک احمدی دوست چوہدر ی ناصر احمد صاحب جوعدالت میں ایک وکیل کے منشی کے طورپر کام کرتے ہیں انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی جو ۱۵؍مئی ۱۹۹۲ء کو ہونا قرار پائی تھی شادی کا دعوت نامہ شائع کیا جس پر مورخہ ۱۶؍مئی۱۹۹۲ء کو مہر شوکت علی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس ختم نبوت ننکانہ نے چوہدری ناصر احمد اور ۱۲ دیگر احباب کے خلاف پولیس کو تحریری درخواست دی جس میں لکھا کہ ناصر احمد تبلیغ احمدیت کا عادی مجرم ہے اور اس کے خلاف تبلیغ کرنے کے جرم میں پہلے بھی ایک مقدمہ تھانہ ننکانہ میں درج ہے ۔

اس نے اب اپنی لڑکی کی شادی کے موقع پر جو دعوتی کارڈ جاری کیاہے اس پر السلام علیکم،بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم، انشاء اللہ اور نکاح مسنونہ کے الفاظ درج ہیں ۔ یہ شعائرصرف مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں اسلئے ان تمام افراد پر جن کے نام دعوتی کارڈ پر چھپے ہوئے ہیں زیر دفعات 298/C,295/A اور 295/C تعزیرا ت پاکستان مقدمات کا اندراج کیا جائے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل تیرہ افراد پر یہ مقدمات بنائے گئے اور دعوتی کارڈ پولیس نے اپنے قبضہ میں لے لیا ۔

چوہدری ناصر احمد صاحب ننکانہ، بیگم چوہدری ناصراحمد صاحب ننکانہ، چوہدری سرفراز احمد صاحب ننکانہ، بیگم چوہدری سرفراز احمد صاحب ننکانہ ، اعجاز احمد صاحب ننکانہ ، چوہدری محمد یوسف صاحب فیصل آباد، چوہدری سکند ر پرویز کراچی ، چوہدری بشیر احمد صاحب فیصل آباد، چوہدری خالد احمد صاحب کراچی، چوہدری اعجاز احمد صاحب لاہور، چوہدری بشیر احمد صاحب ننکانہ ، چوہدری بابرصاحب ننکانہ ، چوہدری شاہ رخ سکندر صاحب ننکانہ۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان افراد میں تین غیر احمدی تھے اور شاہ رخ سکندر ۹ماہ کا بچہ تھا۔ ۹ماہ کے بچہ کے اوپر مقدمہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لندن سے شائع ہونے والے ایک ہفت روزہ ایسٹرن آئی (Eastern Eye)نے لکھا کہ معلوم نہیں کہ جج اس ۹ماہ کے بچے کوکیا سزا دے گا شاید وہ یہ حکم دے کہ اس کا پوتڑا (Nappy) ایک ماہ تک تبدیل نہ کیاجائے یا سزا کے طورپر اس کے تمام کھلونے ضبط کر لئے جائیں اور مولوی جس نے یہ مقدمہ درج کرایا ہے اس کی عقل کی داد دیتے ہوئے طنزیہ لکھتاہے کہ وہ کس قسم کا انسان ہے ۔ میرے خیال میں تواس کا دماغ سائز میں چیونٹی کی دم سے بھی نصف معلوم ہوتاہے ۔

مقدمہ کے اندراج کے فوراً بعد مورخہ ۱۸؍مئی ۱۹۹۲ء کو چوہدری ناصر احمد اور بابر کوگرفتار کر لیاگیا ۔ مورخہ ۹؍جون ۱۹۹۲ء کو بابر کو رہاکر دیاگیا کیونکہ پولیس کی تحقیقات کے مطابق وہ قصوروار نہیں تھا۔

مکرم ناصر احمد صاحب کی درخواست ضمانت ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ نے مسترد کر دی لہذا ہائی کورٹ کی طرف رجوع کرنا پڑا ۔ روزنامہ پاکستان لاہور کی ۴؍اگست ۱۹۹۲ء کی اشاعت کے مطابق ہائی کورٹ لاہور کے جسٹس میاں نذیراختر نے ناصر احمد کی ضمانت بعد از گرفتاری اور تین افراد بشیر احمد، محمد یوسف اور اعجاز احمد کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کر دیں مگر اس کیس میں ملوث پانچ دوسرے افراد ، اعجاز احمد، سرفرازاحمد، بیگم سرفرازاحمد ، بیگم بلقیس ناصر احمد اور بابر کی عبوری ضمانتوں کی توثیق کر دی۔

ہائی کورٹ نے قرار دیاکہ قادیانی جب بھی آنحضور ﷺ کا نام لیتے ہیں وہ اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی لیتے ہیں اور سارے شعائر اسلامی کو انہی کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔اس طرح ننکانہ کے قادیانی ناصر احمد کی طرف سے جاری کردہ دعوت نامہ پر السلام علیکم، بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم، انشاء اللہ اور نکاح مسنونہ کے الفاظ واضح طورپر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ دعوت نامہ کسی مسلمان کی طرف سے بھیجا گیاہے۔اس طرح دعوت نامہ بھیجنے والے قادیانی آئین اور تعزیرات پاکستان کے تحت سنگین جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ ۲؍اگست ۱۹۹۲ء کو سنایا ۔

اس فیصلہ کی نقو ل حاصل کرکے فوری طورپر سپریم کورٹ میں فیصلہ کے خلاف اپیلیں دائر کر دی گئیں ۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ نے جو جسٹس ڈاکٹر سید نسیم حسن شاہ ، جسٹس شفیع الرحمن، جسٹس عبدالشکور سلام پرمشتمل تھا ہائی کورٹ کے فیصلہ پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ السلام علیکم، بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم، انشاء اللہ اور نکاح مسنونہ کے الفاظ جو شادی کارڈ پرشائع ہوئے کسی مسلمان یا کسی اور شخص کے جذبات مجروح نہیں کر سکتے اور جس شخص پرایسا الزام عائد کیا گیا ہو اس کی مذہبی بنیاد اور حالات دیکھ کر ایسا فیصلہ کرنا چاہئے ۔ عدالت نے یہ فیصلہ بھی دیاکہ یہ الفاظ توہین رسالت کے زمرے میں نہیں آتے ۔ اس طرح سپریم کورٹ کے فل بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو نظرانداز کر کے تمام احمدی احباب کی ضمانت منظور کر لی۔

اس طرح مقدمہ کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ میں شروع ہوئی اور مورخہ ۱۴؍جون ۱۹۹۴ء کو ناصر احمد پر السلام علیکم، بسم اللہ الرحمن الرحیم، انشاء اللہ اور نکاح مسنونہ وغیرہ شعائراسلامی استعمال کرنے پر دفعہ 295/Aکے تحت نیز نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم لکھنے پر دفعہ 295/C کے تحت اور ان شعائر اسلامی کو استعمال کرنے کی وجہ سے خود کو مسلمان ظاہر کرنے پردفعہ 298/C تعزیرات پاکستان فرد جرم لگائی گئی۔

مورخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۹۵ء کو ایڈیشنل جج محمد اکرم زکی نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مکرم ناصر احمد صاحب کو چھ سال قیدبامشقت اور ایک ہزار روپے جرمانہ کی سزا زیر دفعہ 298/C اور 295/A سنائی جب کہ سپریم کورٹ کی رولنگ کے مطابق اس کیس میں ’’توہین رسالت‘‘ کا اطلاق نہیں ہوتا۔

*۔۔۔*۔۔۔*

خطوط کا سرقہ کر کے احمدیوں پر توہین رسالت کامقدمہ

ٹنڈو آدم سندھ کامولوی احمد میاں حمادی جو خود کو صوبائی کنوینر عمل مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ و کا رکن شوریٰ، مرکزی تحفظ ختم نبوت پاکستان اور امیر مجاہدین تحفظ ختم نبوت پاکستان قرار دیتاہے اس نے اپنے ذمہ یہ شیطانی کام لے رکھاہے کہ جہاں موقع ملے جماعت احمدیہ کے اراکین کے خلاف توہین رسالت کے مقدمات درج کئے جائیں ۔ چنانچہ ۵؍اکتوبر ۱۹۹۲ء کو اس نے ڈاک کے ذریعہ بھیجے جانے والے رجسٹری خطوط کا سرقہ کر کے خطوط بھیجنے والے د س احمدیوں پر زیر دفعہ 298/C,295/A اور 295/C تعزیرات پاکستان ایک مقدمہ درج کرایا ۔ پولیس کو درخواست دیتے ہوئے اس نے لکھا کہ ایک رجسٹری میں شائع شدہ فارم تھا جو مرکزی سیکرٹری مال جماعت احمدیہ کی طرف سے سیکرٹری مال حلقہ گھارو کے نام بھجوایا گیا تھا ۔ اس فارم پر بسم اللہ الرحمن الرحیم ، نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ لکھا ہوا تھا یہ عبدالمالک کراچی نے بھجوائی ہے ۔

دوسری رجسٹری میں نذیر احمد کراچی، صدرالدین سیکرٹری رشتہ ناطہ کراچی، مرزا عبدالرحیم بیگ نائب امیر جماعت احمدیہ کراچی، سید احمد علی شاہ ربوہ نائب ناظر اصلاح و ارشاد ، ایم جے اسد سیکرٹری تعلیم کراچی ، وکیل التبشیر نوابزادہ منصور احمد خان ربوہ،سید سخاوت ایڈیشنل سیکرٹری اصلاح و ارشاد اور جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ کراچی کے خطوط شامل تھے ان پر بھی السلام علیکم، بسم اللہ الرحمن الرحیم وغیرہ لکھا ہوا تھا ۔ اس طرح ان افراد نے زیر دفعہ 298/C،295/A اور 295/C تعزیرات پاکستان کے تحت جرم کا ارتکاب کیاہے۔ یہ سارے ملزم قادیانی ہیں اس لئے درخواست ہے کہ سب ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جاوے ۔

صفحہ نمبر: 2 (کل صفحات: 3)