In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » ظلم و ستم اور انسانی حقوق »

اللہ اور اس کے رسول مقبول حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و علٰی آلہ وسلم کی محبت میں سرشار معصوم احمدیوں پر توہین رسالت کے سراسر جھوٹے اور ناپاک الزام میں عائد بعض مقدمات کی تفصیل

رشید احمد چوہدری، پریس سیکرٹری
+ فہرست مضامین

(تیسری قسط)

شعائر اسلامی استعما ل کرنے پر توہین رسالت کا مقدمہ

مکرم چوہدری عتیق احمد باجوہ صاحب ایڈووکیٹ جماعت احمدیہ وہاڑی کے خلاف مورخہ ۱۰؍نومبر ۱۹۹۲ء کو زیر دفعہ 298/C اور 295/C تعزیرات پاکستان ایک مقدمہ تھانہ دانیوال ضلع وہاڑی درج کیا گیا۔ ان کا جرم یہ بتایا گیا کہ انہوں نے ۶؍جولائی ۱۹۹۲ء کو پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے وقت اور ۲۹؍جولائی ۱۹۹۲ء کو ڈسٹرکٹ بار وہاڑی میں خطاب کرتے وقت شعائراسلام استعمال کرکے توہین رسالت کا ارتکاب کیا ہے۔

یہ مقدمہ وہاڑی کے ایک شخص جاوید اقبال ولد نذیر احمد کی تحریری درخواست پر قائم کیا گیا ۔ اس نے اپنی تحریری درخواست میں لکھا ہے کہ ’’عتیق احمد باجوہ قادیانی ہے ، مرزا غلام احمد کا پیروکار ہے۔ اس طرح آئین اور قانون کی رو سے غیر مسلم ہے ۔ یہ خود کو نظام عدل تحریک کا کنوینر قرار دیتا ہے۔ اس نے مورخہ ۶؍جولائی ۱۹۹۲ء کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا نیز مورخہ ۲۹؍جولائی ۱۹۹۲ء کو ڈسٹرکٹ بار وہاڑی سے خطاب سے پہلے السلام علیکم،اشہدان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھدان محمداً عبدہ و رسولہ،اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ، بسم اللہ الرحمن الرحیم اور پھر سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی اس طرح میرے اور دیگر وکلاء کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ۔ درخواست ہے کہ ان کے خلاف مذکورہ بالا دفعات کے تحت قانونی کاروائی کی جائے‘‘ ۔

مکرم عتیق احمد باجوہ صاحب نے اس مقدمہ میں قبل از گرفتاری ضمانت کرائی مگر ۱۶؍جنوری ۱۹۹۳ء کو عدالت نے کنفرمیشن کے وقت ان کی ضمانت اچانک کینسل کر دی اور انہیں گرفتار کر کے ملتان جیل بھجوا دیا گیا ۔

یہ امر بھی یاد رہے کہ مکرم عتیق احمد صاحب باجوہ کو ۱۹؍جون ۱۹۹۷ء کو دشمنوں نے فائر کر کے اس وقت شہید کر دیا جب وہ اپنی زمینوں پر جارہے تھے ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

مناظرہ کا چیلنج دینے پر توہین رسالت کامقدمہ

مکرم رانا ارسال احمد صاحب مربی سلسلہ متعین جنوبی سرگودھا کے خلاف ایک اشد ترین مخالفت احمدیت محمد اکرم طوفانی آف سرگودھا کی درخواست پر تھانہ کڑانہ ضلع سرگودھامیں مو رخہ ۲۶ نو مبر ۱۹۹۲ء زیر دفعہ295/C(تو ہین رسالت) تعزیرات پاکستان ایک مقدمہ درج کیا گیا ۔ مو لوی طوفانی نے اپنی ایک تحریری درخواست میں کہا کہ

’’چک ۳۸ جنو بی کے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا جارہا ہے جس کی صور تِ حا ل یہ ہے کہ قادیانیوں کا ایک مربی ارسال احمد چک ۳۳ اور چک ۳۸ جنوبی تھانہ کڑانہ میں مسلما نو ں کو مناظرہ کا چیلنج دیتا رہا ہے ۔آخرکار چک کے مسلمان میرے پاس آئے ۔ میں نے مناظرہ سے بچنے کی کوشش کی لیکن اس قادیانی نے مسلما نو ں کو طعنہ دیا کہ تمہارے مولوی ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔آخرکا ر چک کے مسلما ن میرے پاس دوبارہ آ ئے تومیں نے انہیں لٹریچر دیا ۔ جب ان مسلمانوں نے مر زا صاحب کی کتاب کا حوالہ دے کر بتایا کہ مرزا صاحب نے کہا ہے کہ وہ محمد ؐ ہیں، رسول ہیں،ابراہیم ہیں تو کئی مسلمانوں کی مو جودگی میں راناارسال احمد نے توہین رسالت کا ار تکاب کیا جس سے چک ۳۸ میں

زبر دست اشتعال پایا جاتاہے ۔ استدعا ہے کہ قادیانی مربی کے خلاف زیر دفعہ295/Cتعزیرات پاکستان قانونی کاروائی کرکے مسلمانوں کو مطمئن کیا جائے۔‘‘ چنانچہ ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیا۔سیشن جج سے ان کی ضما نت کرا ئی گئی مگر بعد میں سیشن جج نے ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کرکے ان کو گرفتار کرلیاگیا ۔ اس کے بعد انکی ضمانت کی درخواست ہائی کورٹ لاہو ر میں دائر کی گئی جو منظو ر ہو گئی اسطرح آٹھ ہفتے جیل میں رہنے کے بعد وہ ضمانت پر باہر آئے ۔مقدمہ ابھی تک جاری ہے ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

احمدی استانی پرتوہین رسالت کاالزام

محترمہ استانی امتہ اللہ سلیم صاحبہ کے خلاف مورخہ ۴؍فروری ۱۹۹۳ء کو ایک مقدمہ زیر دفعات 295/A اور 295/Cتھانہ دنیاپور ضلع لودھراں میں تبلیغ کرنے کے الزام میں درج کیا گیا۔

یہ مقدمہ دنیا پور کے رہائشی محمد علیم ولد عبدالرشید کی تحریری درخواست پر درج ہوا جس میں اس نے لکھا کہ ’’سائل کی دختر گورنمنٹ ہائی سکول دنیا پور میں جماعت ہشتم کی طالبہ ہے ۔ مورخہ ۲۷؍جنوری ۱۹۹۳ء کو سکول کی چھٹی کے بعد میری بیٹی اور ایک اور طالبہ کلثوم اخترجماعت دہم نے مجھے بتایا کہ آ ج اسمبلی میں ٹیچر قیصرہ شہزادی نے تمام طالبات کو قادیانیت کا پرچارکیا اورعمومی طورپر تمام طالبات کو کلمہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھایا۔ ٹیچر مذکرکے ساتھ دو اور قادنی ٹیچر زامتہ اللہ سلیم اور فرزانہ غنی بھی تھیں۔ قادیانیت کاپرچار کر کے انہوں نے ہم سب مسلمانان کے جذبات مشتعل کئے اسلئے ہر سہ کے خلاف تادیبی کاروائی فرمائی جائے ‘‘۔ چنانچہ استانی امتہ اللہ سلیم کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیا ۔

مقدمہ کے اندراج کے پولیس پردباؤ ڈالنے کے لئے تاجر برادری کے صدرعنایت اللہ نے ایک جلوس نکالا اورسڑکیں بلاک کر کے ٹائرجلائے گئے جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

لٹریچر دینے پر توہین رسالت کا مقدمہ

تھا نہ چھاؤ نی ایبٹ آباد میں مورخہ ۲۷؍جولائی ۱۹۹۳ء کو ایک مقدمہ زیر دفعہ298/A، 298/Cاور295/C تعزیرات پاکستان مکرم سید بشیراحمد شاہ صاحب کے خلاف درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ وقارگل جدون صدر ختم نبوت یو تھ فورس ایبٹ آباد کی تحریری درخواست پر درج کیاگیا۔ درخواست دہندہ نے لکھا کہ ’’ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ چند یوم سے سید بشیر شاہ ولد سید رحیم شاہ گاؤں پھگلہ بذریعہ لٹریچر قادیانی مذہب کی تشہیر ایبٹ آباد میں کررہا ہے ۔ اس نے ایک کتاب ’’میری والدہ‘‘ مصنف چوہدری ظفراللہ خان ایک شخص حامد ولد حاجی محمد صادق انور اور ٹھیکیدار احمد افضل کو پڑھنے کے لئے دی ۔کتاب ’’ میری والدہ‘‘ کے ملاحظہ سے معلوم ہوا کہ اس میں مذہب اسلام کی توہین کی گئی ہے ۔ حضور ﷺ اوراہل بیت اورصحابہ کرامؓ کی شان میں واضح گستاخیاں ہیں لہٰذا بذریعہ درخواست ہذا استدعا ہے کہ مذکو رہ شخص کے خلاف قانو نی کاروائی کی جائے ‘‘۔چنانچہ دفعات 295/C اور 298/Cکے تحت سید بشیر احمد شاہ صاحب کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

تبلیغ کرنے پر توہین رسالت کامقدمہ

مورخہ ۸ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو ایک احمدی نوجوان سعد رفیق جو انجنیرنگ یونیورسٹی میں طالب علم تھے اور ان کے وا لد میاں رفیق احمد صاحب کے خلاف سرور روڑ لاہو ر چھاؤ نی ایک مقدمہ زیردفعہ 298/C اور 295/Cتعزیرات پاکستان درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ رضوان غفور ولد میا ں عبدالغفو ر نیو کیمپس لاہو ر کی تحریری درخواست پر درج کیاگیا جس میں لکھا گیا کہ ’’ میاں سعد احمد قادیانی ہے لیکن اپنے آ پ کو مسلمان ظاہر کرتاہے اوراسی بنیاد پراس نے گو رنمنٹ کالج لاہو ر اورانجیرنگ یونیورسٹی لاہور میں داخلہ لیا اور تاحال انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں سال چہارم کا طالب علم ہے ۔ یہ شخص براہ راست اور بالواسطہ اپنے دین کی تبلیغ سرعام کرتاہے اور اپنے دین کو اسلام کہتاہے اور زبانی و تحریری دونوں طریق سے اپنے دین کی دعوت دیتاہے اور اس طرح مسلمانوں کے جذبات کو شدید طور پر مجروح کرتاہے ۔

آج مورخہ ۸؍اکتوبربروز جمعہ بعد از فراغت نما ز جمعہ ہم اپنے دوست حماد رانا رہائشی کینٹ بورڈ کے گھر جا رہے تھے ۔ہم سب یعنی رضوان، غفور ، عاصم ، نعمان بھٹی، نبیل ، نعیم ، وسیم، کامران، احسن عمر ، آصف عمر، ندیم پرویز ، انعام اللہ، محمد جمیل،فیض الاسلام، عرفان علی سید حماد رانا کے گھر جا رہے تھے تو راستے میں احسن عمر کو میاں سعد احمد مل گئے جس پر میاں سعد احمد نے احسن کو تبلیغ شروع کر دی۔احسن عمر کے بارہا منع کرنے کے باوجود وہ تبلیغ کرتارہا۔ اسی اثناء میں اس کا والد میاں رفیق احمد بھی وہاں آ گیا ۔ دونوں نے سب کی موجودگی میں اعلانیہ نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت سے انکار کیا اور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوئے اور ہمیں اپنے دین پر جو ان کے مطابق اصل اسلام ہے قائل کرنے کی کوشش کی اور مرزا طاہر احمد کو خلیفۃ المومنین کہا۔ یہ باتیں سن کر ہم مشتعل ہو گئے اور دونوں باپ بیٹے کو تھانہ لے آئے ہیں ۔ میاں اسعد نے یہ باتیں تھانہ میں دہرائیں اور اس طرح وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیل رہاہے اور شدیداشتعال انگیزی کا باعث بن رہا ہے جو ایک ناقابل معافی فعل ہے اور قابل سزا جرم ہے اس لئے ان باپ بیٹا دونوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے‘‘۔

چنانچہ درخواست پردونوں باپ بیٹے کے خلاف مقدمہ نمبر ۸۷ تھانہ سرور روڈ ضلع لاہور میں درج ہو گیا۔

اصل واقعہ کی تفصیل یوں ہے کہ ان نوجوانوں نے باقاعدہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق سعد رفیق کو اس کے گھر سے باہر بلایا اوراس کے گھر کے سامنے زدوکوب کیا ۔ ان کے والد رفیق احمد صاحب اس کو بچانے کے لئے باہر نکلے توانہیں بھی مارا ۔ اس دوران کئی لوگ وہاں اکٹھے ہو گئے ۔ راہ چلتے ہوئے دو پولیس اہلکار ان کو تھانہ لے آئے۔ وہاں پہنچ کر لڑکوں نے الزام لگایا کہ احمدی باپ بیٹا انہیں تبلیغ کر رہے تھے اور نعوذباللہ اہانت رسول کریم ﷺ کے مرتکب ہو رہے تھے ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

سراسر جھوٹا توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ

مکرم چوہدری ریاض احمد ولد چوہدری رستم خان صاحب ، مکرم بشارت احمد ولد مکرم چوہدری ریاض احمد صاحب ، مکرم قمر احمد اور مکرم مشتاق احمد پسران مکرم محمود احمدصاحب ساکن چک 15/DB ضلع میانوالی کے خلاف تھانہ پپلاں ضلع میانوالی میں ایک مخالف سلسلہ عالیہ احمدیہ مولوی محمد عبداللہ ولد محمد مظفر جو اسی گاؤں کا رہنے والا ہے نے زیر دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان ایک مقدمہ مورخہ ۲۱؍نومبر ۱۹۹۳ء کو درج کروایا جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہے ۔ مخالف نے اپنی درخواست میں لکھا:

’’میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا کارکن ہوں۔ میں مورخہ ۱۱؍نومبر ۱۹۹۳ء کو ۱۱ بجے دن کے قریب اپنے ایک کزن کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑاتھا کہ مسمیان ریاض احمد ، بشارت احمد، قمر احمد اور مشتاق احمد جو کہ غیر مسلم قادیانی ہیں ہمیں دیکھ کر ہماری طرف بڑھے اور طنزاً کہا کہ یہ سرکاری مسلمان ہیں ۔ اس طرح انہوں نے ہمارے مذہبی جذبات مجروح کئے لیکن ہم خاموش رہے اس کے باوجود انہوں نے رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے اور یہ کہا کہ وہ مرزا غلام احمد کو سچا نبی مانتے ہیں جو حضور پاکﷺ سے شان میں کم نہیں اور ساتھ ہی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات کی بابت ناقابل برداشت کلمات کہتے ہوئے انہوں نے ہمیں کہا کہ ہمارے نبی کے تین لاکھ معجزات ہیں جبکہ آپ کے نبی کے تین ہزار معجزات تھے ۔

اگر مذکورہ حالات کو مدنظر رکھ کر ملزمان کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو سارے علاقے کے مذہبی جذبات مجروح ہونگے اور امن عامہ کے نقص کے علاوہ مذہبی اختلاف پورے ملک کو لپیٹ میں لے لے گا لہذا ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مشکور فرماویں۔

اس مقدمہ کے اندراج کے ساتھ ہی چاروں احمدیوں کو گرفتارکر کے میانوالی جیل بھجوا دیا گیا۔ ان کی ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے پیش ہوئی مگر اس پر تاریخیں پڑتی گئیں۔ جب کبھی عدالت میں ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے پیش ہوتی مولوی محمد اکرم طوفانی آف سرگودھا اور دیگر مولوی اپنے چیلے چانٹوں کے ساتھ عدالت میں آ موجود ہوتے اور مطالبہ کرتے کہ احمدیوں کی ضمانتیں نہیں ہونے دیں گے۔ آخر کار جنوری ۱۹۹۴ء کو عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردیں ۔ لہذا ہائی کورٹ لاہور کی طرف رجوع کرنا پڑا۔ہائی کورٹ لاہور میں یہ درخواستیں جسٹس شیخ زبیراحمد کی عدالت میں زیر سماعت آئیں مگر انہوں نے یہ معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا کر کہا کہ اس کو نپٹانے کے لئے بڑا بنچ مقرر کیا جائے چنانچہ چیف جسٹس نے جسٹس خلیل الرحمن ، جسٹس نذیر اختر اور جسٹس شیخ زبیر احمد پرمشتمل ایک بنچ ضمانت کی درخواست کی سماعت کے لئے مقرر کیا۔

جنگ لندن کے شمارہ مورخہ ۱۴؍جون ۱۹۹۴ء کی مندرجہ ذیل خبر کے مطابق یہ درخواستیں مسترد کردی گئیں۔ اخبار نے لکھا :

’’ہائی کورٹ نے تھانہ پپلاں ضلع میانوالی کے توہین رسالت کے مقدمے میں ملوث ایک ہی خاندان کے چار قادیانیوں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردی ہیں تاہم اس مقدمے کی سماعت کرنے والی ماتحت عدالت کو حکم دیا ہے کہ اس کیس کو دوسرے تمام کیسوں پر فوقیت دیتے ہوئے اس کی سماعت تیز رفتاری سے تین ماہ کے اندر اندر مکمل کرے۔ یہ حکم تھانہ پپلاں ضلع میانوالی کے ریاض احمد اس کے بیٹے بشارت احمد اور دو بھتیجوں قمر احمد اور مشتاق احمد کی طرف سے دائر کی گئی ضمانت کی درخواستوں پر لاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس میاں نذیر اختر نے جاری کیا ہے۔

فاضل جج نے اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھا ہے کہ درخواست گزاروں نے جو کہ قادیانی ہیں مبینہ طورپر نبی کریم صلعم کے بارے میں گستاخانہ زبان استعمال کر کے اورکھلے عام یہ کہہ کر کہ مرزا غلام احمد مرتبے میں رسول پاک صلعم سے کم نہیں تھا اور یہ کہہ کر کہ رسول پاک صلعم کے معجزوں کی تعداد تین ہزار اور مرزا غلام احمد کے معجزوں کی تعداد تین لاکھ ہے مرزا غلام احمد کو بلند تر روحانی مقام پر فائز کرتے ہوئے بادی النظر میں توہین رسالت کاارتکاب کیاہے‘‘۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مقدمہ کی سماعت کے دوران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نذیر احمد غازی نے کہا کہ قادیانی مذہب انگریز حکمرانوں کا لگایاہوا پودا ہے اور قادیانیوں کی مذہبی کتابوں میں توہین رسالت پر مبنی مضامین شامل ہیں نیز نذیر احمد غازی نے عدالت میں یہ بیان بھی دیا ہے کہ اگر چاروں ملزمان احمدیت سے تائب ہو جائیں اور مرزا غلام احمد کی تعلیمات سے انکار کر دیں تو وہ ان کی ضمانت کی درخواستوں کی مخالفت نہیں کریں گے۔

اس کیس کا پس منظر یہ ہے کہ مکرم ریاض احمد صاحب اپنے گاؤں کے نمبردار ہیں مگر مدعی فریق نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے اور وجہ یہ بیان کی ہے کہ احمدی گاؤں کا نمبردار نہیں ہو سکتا۔ اس مقدمہ کی سماعت ڈپٹی کمشنر میانوالی نے کی اور فیصلہ مکرم ریاض احمدصاحب کے خلاف دیا مگر کمشنر سرگودھا نے اپیل پرمکرم ریاض احمد صاحب کے حق میں فیصلہ دے دیا اور لکھا کہ ایک احمدی کا نمبر دار ہونے قانوناً منع نہیں۔ اس کے بعد مدعی محمد عبداللہ نے ریونیو بورڈ لاہور میں اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے اس کے علاوہ بھی فریقین میں مقدمہ بازی چلی آ رہی ہے ان حالات میں مخالفین نے مکرم ریاض احمد صاحب اور ان کے عزیزوں کے خلاف مذہبی تعصب کی وجہ سے عداوت کی بنا پر مورخہ ۲۱؍نومبر ۱۹۹۳ء کو توہین رسالت کا مقدمہ درج کرایا جو سراسر جھوٹا ہے۔ ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا مگروہاں بھی معاملہ التوا میں پڑ تاگیا حتی کہ چار سال جیل میں رہنے کے بعد سپریم کورٹ نے بالآخر ان چاروں کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی اور اب مقدمہ سیشن جج کی عدالت میں چل رہا ہے ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

’’حضور‘‘ کا لفظ استعمال کرنے پر توہین رسالت کا مقدمہ

روزنامہ الفضل کی انتظامیہ یعنی ایڈیٹر نسیم سیفی صاحب، پبلشر و مینجر آغاسیف اللہ صاحب اور پرنٹر قاضی منیر احمد صاحب کے خلاف ڈپٹی کمشنر جھنگ کی ہدایت پر دو مقدمات یکے بعد دیگرے مقدمہ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۵؍جنوری ۱۹۹۴ء اور مقدمہ نمبر ۲۶مورخہ ۲۱؍جنوری ۱۹۹۴ء کو تھانہ ربوہ میں زیر دفعہ 298/C درج کئے گئے۔ ان مقدما ت کی وجوہات یہ بیان کی گئیں کہ مقدمہ نمبر ۱۲ میں جولائی ۱۹۹۳ء کے ۱۹پرچوں میں اور مقدمہ نمبر ۲۶ میں ستمبر ، اکتوبر اور نومبر ۱۹۹۳ء کے چار پرچوں میں ’’احمدیوں کو مسلمان ظاہر کیا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارہ میں لفظ ’’حضور‘‘ استعمال کیا گیاہے۔ ان تینوں دوستوں کی ضمانت قبل از گرفتاری کروائی گئی مگر ۷؍فروری ۱۹۹۴ء کو جب ضمانت کی توثیق کے لئے سیشن جج چنیوٹ کی عدالت میں درخواست کی گئی جس پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اختر نقوی نے نہ صرف ضمانتیں نامنظور کردیں بلکہ فیصلہ ضمانت میں دفعات 298/C اور 295/C تعزیرات پاکستان کا اضافہ کر کے تینوں احباب کو گرفتار کر لیا ۔

فیصلہ میں اس نے لکھا کہ میں نے پولیس فائل کے ساتھ منسلک الفضل کے پرچوں کا بغور معائنہ کیا ہے جس میں بانی سلسلہ احمد یہ مرزا غلام احمد کو نام لئے بغیر لفظ ’’حضور‘‘ تحریر ہے اور یہ لفظ جب کسی شخص کے نام کے بغیر بولا یا لکھا جائے تو اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہوتے ہیں اس طرح رسول کریم ﷺ کی ہتک کی گئی ہے جس کی وجہ سے دفعہ 295/C لاگو ہوتی ہے اور ایک جگہ مرزا غلام احمد کے ساتھ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھا گیاہے جو صرف صحابہؓ اور خلفاء راشدین کے ساتھ استعمال کیا جا سکتاہے اس طرح وہ دفعہ 298/C کے تحت بھی سزا کے مستحق ہیں۔

اس طرح سیشن جج سید اخترنقوی نے ضمانت کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے پولیس کو ان احمدی احباب کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ۔

*۔۔۔*۔۔۔*

رسالہ انصاراللہ کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ بھی توہین رسالت میں تبدیل کر دیا گیا

ماہنامہ انصاراللہ کی انتظامیہ مرزا محمد دین صاحب ناز ایڈیٹر ، چوہدری محمد ابراہیم صاحب پبلشر اور قاضی منیر احمد صاحب پرنٹر کے خلاف بھی دو مقدما ت تھانہ ربوہ میں درج کرائے گئے۔

ایک مقدمہ نمبر ۲۸۵ مورخہ ۲۹؍دسمبر ۱۹۹۳ء کو ایک مخالف سلسلہ صوفی نور محمد سکنہ احمد نگر نے ایڈیٹر پبلشر اور پرنٹر ماہنامہ انصاراللہ کے خلاف درج کروایا جس میں تبلیغ کرنے کاجرم درج کیا گیا ہے ۔ اور دوسرا مقدمہ نمبر ۱۱ ڈپٹی کمشنر جھنگ کی ہدایت پر ۱۵؍جنوری ۱۹۹۴ء کو زیر دفعہ 298/C تھانہ ربوہ میں درج ہوا جس میں کہا گیا کہ ماہنامہ انصاراللہ کے جون ۱۹۹۳ء کے شمار ہ میں ایسامواد ہے جس سے احمدیوں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ہے ۔ ان مقدما ت کی ضمانت کی توثیق کی تاریخ ۷؍فروری ۱۹۹۴ء کو تھی جہاں الفضل کے مقدما ت کے ساتھ ایڈیشنل سیشن جج سید اختر نقوی نے ضمانت کی درخواستوں کو نامنظور کر کے تینوں احباب کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے۔

اگرچہ پولیس نے دونوں مقدمات میں 298/C کی دفعہ لگائی تھی مگر جج صاحب نے ضمانتیں مسترد کرتے ہوئے دفعات 298/C اور 295/C کا اضافہ کر دیا ۔

(مطبوعہ :الفضل انٹرنیشنل۳۰؍جولائی ۱۹۹۹ء تا۲۶؍اگست ۱۹۹۹ء)
اگلا صفحہ
صفحہ نمبر: 3 (کل صفحات: 3)