In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » اختلافی مسائل اور اعتراضات کے جواب » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

اللہ وسایا کی کتاب "پارلیمنٹ میں قادیانی شکست" پر تبصرہ (مجیب الرحمن ، ایڈوکیٹ)
+ فہرست مضامین

اٹارنی جنرل نے آگے چل کر پھر جسٹس منیر کے ایک اخباری مضمون کے حوالہ سے غلط اور نامکمل معلومات کی بنا پر یہ سوال کیا۔

’’اٹارنی جنرل : آزادی کی جدو جہد میں باؤنڈری کمیشن کا مرحلہ آتا ہے ۔ جسٹس منیر صاحب کے حوالے سے ظفراللہ خان کی بڑی خدمات ہیں ۔ وہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے ۔ مسلم لیگ کے وکیل تھے ۔ لیکن جسٹس منیر صاحب جو باؤنڈری کمیشن کے رکن تھے ‘انہوں نے ’’پاکستان ٹائمز۔ میں ۲۴ جون ۱۹۶۴ء آرٹیکل لکھے۔ ان میںیہ بھی تھا۔ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ ۲۱ جون۱۹۶۴ ’’ میرے یادگار دن‘‘۔ معاملہ کے اس حصے کے متعلق میں ایک نہائت ہی ناخوشگوار واقعہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مجھے یہ بات کبھی سمجھ نہیں آئی کہ احمدیوں نے علیحدہ عرضداشت کیوں دی تھی ‘ اس قسم کی عرضداشت کی ضرورتبھی ہو سکتی تھی جب احمدی مسلم لیگ کے نقطۂ نظر سے متّفق نہ ہوتے ، جو کہ بذاتِ خود ایک افسوسناک صورتِ حال ہوتی ۔ہو سکتا ہے کہ اس طرح احمدی مسلم لیگ کے نقطۂ نظر کی تائید کرنا چاہتے ہوں مگر ایسا کرتے ہوئے انہوں نے گڑھ شنکر کے مختلف حصوں کے بارے میں اعدادوشمار دیئے جن سے یہ بات نمایاں ہوئی کہ بین دریا اور بسنتر دریا کے مابین کا علاقہ غیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے اور یہ بات اس تنازعہ کی دلیل بنتی تھی کہ اگر اچ دریا اور بین دریا کا درمیانی علاقہ ہندوستان کو مل جائے تو بین دریا اور بسنتر دریا کا درمیانی علاقہ خود بخودہندوستان کو چلا جاتا ہے ، جیسا کہ ہوا۔ احمدیوں نے جو رویہ اختیار کیا تھا ،وہ ہمارے لئے گورداسپور کے بارے میں خاصا پریشان کن ثابت ہوا۔

مسلمان ۵۱ فیصد تھے ‘ہندو ۴۹ فیصد ‘ احمدی ۲ فیصد ۔ جب یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے تو مسلمان ۵۱ کی بجائے ۴۹ فیصد ہو گئے ۔ اس سے گورداسپور جاتا رہا اور کشمیر کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ آپ کہتے ہیں کہ ہم نے لیگ سے تعاون کیا مگر یہ قضیہ تو عجیب سا لگتا ہے۔

مرزاناصراحمد: جسٹس منیر صاحب نے اپنی رپورٹ میں ظفراللہ خان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، اب اس کے ۱۷ سال بعد جب بوڑ ھے ہو گئے تویہ بیا ن د ے دیا ۔ وہ بوڑھے ہو چکے تھے، باؤنڈری کمیشن کے یہ جج تھے۔ پہلے خراجِ تحسین اور اب یہ شکوک ۔ ۱۷ سال کی خاموشی کے بعد جب وہ کافی بوڑھے ہو چکے تھے ، شاید ممکن ہے بڑھاپے کی وجہ سے جو بات جوانی سے سمجھ آئی ہو ،وہ بڑھاپے میں نہ سمجھ آئی ہو۔

اٹارنی جنرل: یہ اچھا جواب ہے ۔ خیر میں صرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا تھامگر علیحدہ یادداشت کیوں پیش کی‘‘۔

’’میرے یادگاردن‘‘ کے عنوان سے جسٹس محمد منیر کے جس مضمون کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بارے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جسٹس منیر کی عبارت نقل کرنے کے بعد جو نتیجہ اٹارنی جنرل کے سوال میں نکالا گیا ہے وہ اس بیان سے ہر گز نہیں نکلتا۔ یہ بات کہ’’مسلمان۵۱فیصد تھے ہندو۴۹فیصد اور احمدی ۲فیصد۔ جب یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے تومسلمان ۵۱فیصد کی بجائے ۴۹فیصد ہوگئے اس سے گورداسپور جاتا رہا اور کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔آپ کہتے ہیں کہ ہم نے لیگ سے تعاون کیامگر یہ قضیہ تو عجیب سالگتاہے‘‘۔

یہ ساری بات جسٹس منیر کے مضمون میں نہیں۔

(۱)۔۔۔یہ بات بھی موجود نہیں کہ مسلمان ۵۱فیصد اورہندو۴۹فیصد تھے۔

(۲)۔۔۔یہ بھی نہیں کہ احمدی ۲فیصد تھے۔

(۳)۔۔۔یہ بات بھی جسٹس منیر کے مضمون میں موجود نہیں کہ احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے تو مسلمان ۴۹فیصد رہ گئے۔ یہ سارا اعداد وشمار کا افسانہ جسٹس منیر کے مضمون میں موجود نہیں،از خود تراش لیا گیاہے۔

جسٹس منیر نے اپنے بیان میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ گورداسپور اس وجہ سے جاتارہا کہ ’’احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے‘‘۔یہ سارا قصہ ہی ایک شرانگیز افسانہ ہے ۔ البتہ جسٹس منیر نے اپنے مضمون میں یہ لکھا:۔

’’انہوں نے گڑھ شنکر کے مختلف حصّوں کے بارے میں اعداد وشمار دیئے‘‘۔

اعداد وشمار کیا تھے؟ ان کا ذکر نہیں ۔ اس بیان کے بارے میں جو جواب حضرت مرزاناصر احمد صاحب کی طرف منسوب اللہ وسایا کی کتاب میں شائع کیا گیا ہے اس کو اٹارنی جنرل صاحب نظر انداز کرکے آگے چل پڑے ۔ اس سوال جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ تفصیلات ضرورحذف کر دی گئی ہیں اور قارئین سے پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔مگر اس سوال کے اندرایسے شواہد موجود ہیں اور جسٹس منیر کے پورے مضمون کے مطالعہ سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ مرزا ناصر احمد صاحب کا جواب جیسا بھی درج کیا گیا ہے وہ درست تھا۔ جسٹس منیر نے جب یہ مضمون لکھا تو ضعیف العمری کی وجہ سے انکی یادداشت ماند پڑچکی تھی اور ان کے حافظہ نے ساتھ نہیں دیا ۔اس بات کی اندرونی شہادت اس مضمون کے اندر موجود ہے اور بیرونی شہادت ریکارڈ پر موجود ہے۔

اندرونی شہادت

جسٹس منیر نے اپنے مضمون کے آغاز میں ہی خودلکھا :۔

’’حافظے کی مثال ایک ایسے باکس کی ہے جس کی گنجائش محدود ہو جو بچپن سے اس ترتیب سے بھرنا شروع ہوجاتا ہے جس ترتیب سے واقعات رونماہوتے ہیں تا وقتیکہ میری عمر میں پہنچ کر اوپر تک بھر جاتا ہے۔ فزیالوجی کے اسی اصول کے تحت پہلے رونما ہونے والے تازہ واقعات کی نسبت بہتر محفوظ رہتے ہیں۔چونکہ باکس بھر چکاہوتا ہے اور واقعات رونما ہونے کے جلد بعد ہی دوسرے رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے چھلک جاتے ہیں لیکن بعض تازہ واقعات اپنی اثر پذیری کی وجہ سے اتنے ٹھوس ہوتے ہیں کہ وہ کبھی نہیں بھولتے اور یاد داشت تازہ کرنے کی معمولی کوشش سے باآسانی اپنی شکل میں سامنے آجاتے ہیں۔ جومیں کہنے والا ہوں وہ مؤخرالذکر سے تعلق رکھتے ہیں‘‘۔

(۱)۔۔۔ پہلی بات تو واضح ہے جسٹس منیر کو خود اپنے حافظہ پر اسوقت پورا بھروسہ نہیں اور یاد داشت تازہ کرنے کی جس کوشش کا ذکر کیا ہے وہ کوشش جگہ جگہ دھوکہ دے گئی ہے۔ لہذا بعض باتیں جن کی دوسرے ذرائع سے تصد یق ہو سکتی ہو، یقیناًاہم ہیں ۔

(۲)۔۔۔ مضمون کی پہلی قسط کے کالم نمبر ۳ میں انہوں نے لکھا:۔

’’مسٹر شیتل وارڈ کانگرس کی طرف سے پیش ہوئے ۔ مسٹر ہرنام سنگھ سکھوں کی طرف سے اور سرمحمدظفر اللہ خان مسلم لیگ اور احمدیو ں کی طرف سے ‘‘۔

یہاں ان کے حافظہ نے واضح طور پر ٹھوکر کھائی ہے۔ ریکارڈ سے ظاہر ہے کہ ظفر اللہ خان مسلم لیگ کی طرف سے پیش ہوئے تھے، احمدیوں کی طرف سے نہیں ۔جماعت احمدیہ کی طرف سے شیخ بشیر احمد صاحب پیش ہوئے تھے ۔ حافظے نے جو یہاں ٹھوکر کھائی ہے اسکی اہمیت صرف یہ نہیں کہ انہوں نے احمدیو ں کی طرف سے سر ظفر اللہ کے پیش ہونے کا کہا بلکہ اصل اہمیت یہ ہے کہ شیخ بشیر احمد، جسٹس منیر کے ذہن سے بالکل غائب ہیں۔ لہذا انکی طرف سے پیش کردہ دلائل بھی انکے ذہن سے محو ہو چکے ہیں اور موجو د نہیں ۔

(۳)۔۔۔ اپنے مضمون کی تیسر ی قسط میں جہاں سے اٹارنی جنرل کا متصلہ سوال لیا گیا ہے جسٹس منیر نے یہ لکھا:۔

’’ احمدیوں نے گڑھ شنکر کے ایک حصے کے بارے میں ایسے اعدادوشمار دیئے جس سے یہ بات نمایاں ہو گئی کہ دریائے بین اور دریائے بنستر کا درمیانی علاقہ غیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے‘‘۔

اول تو گڑھ شنکر کے نام کی کوئی تحصیل گورداسپور میں تھی ہی نہیں ۔ گڑھ شکر ضلع ہوشیارپور کی تحصیل تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ تحصیل شکر گڑھ کا ذکر کرنا چاہتے ہیں ۔یہا ں پر بھی ان کے حافظہ نے واضح ٹھوکر کھائی ہے ۔

(۴)۔۔۔ دریائے بین دریائے بسنترکا ذکر جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں سرے سے موجود ہی نہیں ۔ یہ بحث کانگرس کے وکیل مسٹر سیتل وارڈ نے اٹھائی تھی کہ تقسیم تحصیل اور ضلعوں کی بجائے دریاؤں کے درمیان دوآبوں کی بنیاد پر کی جائے اور دریاؤں اور نہروں کو سرحد بنایا جائے۔ تحصیل شکر گڑھ راوی کے اس پار واقع تھی اور واضح مسلم اکثریت کی تحصیل تھی لہذا کانگرس اسے دریاؤں کے درمیانی علاقوں کی بنیاد پر مشرقی پنجاب میں شامل کروانا چاہتی تھی ۔ جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں یا بحث میں کہیں بھی دریائے بین یا دریائے بسنتر کا ذکر موجود نہیں ۔ جماعت احمدیہ کا میمورنڈم پارٹیشن آف پنجاب کے صفحہ ۴۲۸تا صفحہ۴۴۹پرسرکاری طور پر شائع شدہ موجود ہے جو دیکھا جاسکتا ہے۔ جماعت احمدیہ نے دریاؤں کو سرحد بنانے کے اصول کی مخالفت کی تھی اور ایک دلیل یہ دی تھی کہ دریا اپنے رخ بدلتے رہتے ہیں ۔ بہر حال اس بارے میں جسٹس منیر کے حافظہ نے ٹھوکر کھائی ہے۔اس سے پہلے جسٹس منیر اپنے ایک عدالتی فیصلے میں واضح طور پر لکھ چکے تھے۔

’’ احمدیوں کے خلاف معاندانہ اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں کہ باؤنڈری کمیشن کے فیصلے میں ضلع گورداسپور اس نے ہندوستان میں شامل کردیا کہ احمدیوں نے ایک خاص رویہ اختیارکیا۔‘‘

جوالزامات ۱۹۶۴ء کی تحریر کی بنیاد پر لگائے جا رہے ہیں انہیں ۱۹۵۴ء میں جسٹس منیر معاندانہ اور بے بنیاد قراردے چکے ہیں ۔ یہ ایک عدالتی فیصلے کا حصّہ ہے ۔عدالتی فیصلے حقائق و واقعات سامنے رکھ کر احتیاط کے ساتھ لکھے جاتے ہیں ۔ ۱۹۶۴ء کا بیا ن یادداشتوں پر مبنی ہے اور اس میں اندرونی تضاد موجود ہیں ۔

گورداسپور ایک سازش کے ماتحت ہند وستان میں شامل کیا گیااور اس بارے میں ناقابل تردید تاریخی شہادت موجو د ہے جو اوپر پیش کی جا چکی ہے۔

رہی یہ بات کہ تقسیم کے وقت جماعت احمدیہ نے ایک علیحدہ میمورینڈم کیوں داخل کیا ؟ اٹارنی جنرل کو معلوم ہونا چاہئے تھا اور اگر نہیں معلوم تھا تو انہیں متعلقہ محکمہ یا ریکارڈ سے اس بات کی تسلی کرلینی چاہئے تھی۔ اگر وہ ایسا کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ تقسیم پنجاب کے بارے میں سرکاری طور پرشائع کردہ ریکارڈ کے مطابق ۱۸؍جولائی ۱۹۴۷ء تک ۴۹میمورینڈم مختلف تنظیموں کی طرف سے داخل کئے گئے تھے جن کی فہرست ریکارڈ میں دستاویز ۲۴۳کے طور پر مذکورہ کتاب کے صفحہ ۴۷۴پر درج ہے۔ جن میں :۔

(۱)۔۔۔پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ۔

(۲)۔۔۔ سٹی مسلم لیگ‘ منٹگمری ۔

(۳)۔۔۔ بٹالہ مسلم لیگ ،بٹالہ۔

(۴)۔۔۔ ڈسٹرکٹ مسلم لیگ، لدھیانہ ۔

(۵)۔۔۔ینگ مین مسلم ایسوسی ایشن‘سٹی اینڈ ڈسڑکٹ مسلم لیگ،جالندھر۔

(۶)۔۔۔ انجمن مغلیاں لوہاراں، ترکھاناں پنجاب۔

(۷)۔۔۔انجمن بھٹی راجپوتاں پنجاب۔

(۸)۔۔۔ انجمن راٹیاں جالندھر، تحصیل جالندھر۔

(۹)۔۔۔ مسلم راجپوت ایسوسی ایشن۔

(۱۰)۔۔۔ مسلم راجپوت کمیٹی تحصیل گڑھ شنکر اینڈ نواں شہر۔

(۱۱)۔۔۔مسلم لیدر مرچنٹ ایسوسی ایشن۔

(۱۲)۔۔۔ انجمن مدرسۃالبنات جالندھر۔

(۱۳)۔۔۔ مزنگ منڈی سرکل۔

کی طرف سے میمورینڈم داخل کئے گئے تھے اور یہ سارے میمورینڈم مسلم لیگ کی تائید میں تھے۔ اسی طرح بہت سی ہندو ‘ سکھ تنظیموں نے کانگریس کی تائید میں اپنے میمورینڈم داخل کئے ۔ عیسائیوں اور اینگلو انڈینز کی طرف سے مسلم لیگ کی تائید میں، پاکستان کے حق میں اور کچھ کانگریس کی تائید میں ، ہندوستان کی تائید میں داخل کئے گئے۔ اصل بات جو نمایاں طور پر واضح تھی وہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا میمورینڈم دوسری بہت سی مسلم تنظیموں کے ساتھ مسلم لیگ کی تائید میں داخل کیا گیا تھااور اس کی وجہ یہ تھی کہ تقسیم پنجاب کے وقت پارٹیشن پلان کے ساتھ ایک فہرست اور ایک جدول بھی شامل کئے گئے تھے جس میں ۱۹۴۱ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب میں مسلم اکثریت کے ضلعوں کی تفصیل دی گئی تھی ۔ گورداسپور کا ضلع جو کہ مسلم اکثریت کا ضلع تھا اسے عارضی اور عبوری طور پر پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔مگروائسرائے نے اپنی پریس کانفرنس میں ضلع گورداسپور کے بارہ میں یہ اظہار کیا تھا کہ اس ضلع میں مسلمانوں کی اکثریت صرف ۸ء۰ فیصد ہے اس لئے ضلع گورداسپور کے بعض حصے لازماً غیر مسلم اکثریت کے ہوں گے۔چوہدری محمد علی اپنی کتاب Emergence of Pakistan میں لکھتے ہیں :

''at his press confrence of June 4 1947 Mount Batten was asked why he had, in the broad cast of previous evening on the June 3 Partition Plan, catagorcally stated that," the ultimate boundries will be settled by a boundary commission and will almost certainly not be identical with those which have been provisionally adopted." Mount Batten immidiately replied," I put that in for the simple reason that in the district of Gurdaspur in the Punjab the population is 50.4 % Muslim, I think and 49.6 % non muslims. With a differance of 0.8 % You will see at once that it is unlikely that the boundary commission will throw the whole of the district into the Muslim

majority areas."

(Ch. Muhammad Ali, Emergence of Pakistan; Published by Research Society of Pakistan ; Page 215)

ترجمہ:۔۴ جون ۴۷ ۱۹ء کی پریس کانفرنس میں ماؤنٹ بیٹن سے یہ پوچھا گیا کہ انہوں نے ۳؍ جون کے منصوبہ کے بارہ میں گزشتہ شب اپنی نشری تقریر میں دو ٹوک انداز میں یہ کیوں کہا کہ ’’ حتمی باؤنڈری کا تصفیہ باؤنڈری کمشن کرے گا اور یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ حتمی باؤنڈری ،عبوری باؤنڈری کے ہوبہو مطابق نہیں ہو گی‘‘ ماؤنٹ بیٹن نے جواب دیا ،

’’میرے ایسا کرنے کی سیدھی سی وجہ یہ تھی کہ پنجاب کے ضلع گورداسپور میں مسلمان آبادی میرے خیال میں ۴ء۵۰ فیصدہے اور غیر مسلم آبادی ۶ء۴۹فیصد ہے ۔ آپ با آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات غیر اغلب ہے کہ صرف ۸ء۰ فیصد کے فرق کی وجہ سے باؤنڈری کمشن پورا ضلع ہی مسلم اکثریت کے حصہ میں ڈال دے۔

چونکہ گورداسپور جالندھر اور فیروزپور کے بعض علاقے اس عارضی اور عبوری سرحد (Notional Boundary) کے قریب تھے ۔ اس لئے اس عبوری سرحد کے قریب قریب واقع دونوں طرف کے علاقے گویا فریقین کے درمیان زیر بحث تھے ۔ کانگریس لاہور اور منٹگمری کے ضلعوں میں سے بھی کچھ علاقوں کا مطالبہ کررہی تھی اور مسلم لیگ امرتسراور فیروز پور کے علاقوں کا مطالبہ کررہی تھی۔ لہٰذا ان علاقوں کے لوگوں کی طرف سے اس امر کا اظہار کہ کانگریس اور مسلم لیگ کے مطالبات کے قطع نظر یہ سوال کہ ان علاقوں کے لوگ کسی طرف شامل ہونے کے خواہش مند ہیں بھی اہمیت اختیار کرگیاتھا۔چنانچہ اس علاقے کی بعض عیسائی تنظیموں نے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے بارے میں میمورنڈم داخل کئے۔

باؤنڈری کمیشن کےTerms Of Reference یہ تھے:۔

"For the Punjab:The boundary commission is instructed to demarcate the boundaries of the two parts of the Punjab on the basis of ascertaining the contiguous majorities areas of Muslims and Non-muslims. In doing so it will also

take into account other factors."

دونوں فریق Terms Of Referenceمیں Other Factorsکی شق کی وجہ سے اپنے اپنے حق میں استدلال کرناچاہتے تھے۔ جماعت احمدیہ کامیمورینڈم کوئی علیحدہ یا انوکھی چیز نہیں تھی ۔ اس دستاویز میں سارا زور اس بات پرہے کہ تقسیم پنجاب کے لئے خواہ کوئی طریقہ اپنایا جائے ‘ قادیان کو پاکستان کا حصّہ ہونا چاہئے ۔ اس کی تائید میں جماعت احمدیہ کی طرف سے شیخ

بشیر احمدایڈووکیٹ نے بحث کی جو جلد دوم کے صفحہ ۲۴۰ سے شروع ہوتی ہے اور بحث کا آغاز ہی اس فقرے سے ہوتاہے۔

’’میں اپنی معروضات کو ایک محدود سوال تک محدود رکھنا چاہتا ہوں یعنی مغربی پنجاب میں شامل کئے جانے کے لئے قادیان کا کلیم کیا ہے‘‘۔

صفحہ ۲۵۱پر ان کا یہ بیان درج ہے کہ ’’قادیان کے تقسیم کے Referenceمیں مسلمانوں کو یکجا رکھنا مقصود ہے اور آپس میں ملحقہ مسلم علاقوں کو یکجا رکھنا مقصد ہے ۔‘‘

انہوں نے کہا:۔

’’تقسیم کی بنیا د مذہب ہے ، قادیان اسلامی دنیا کا ایک بین الاقوامی زندہ مرکز بن چکا ہے‘‘۔لہذا ا س اکائی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ہندوستان میں شامل ہوں یا پاکستان میں اور ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ ہم پاکستان میں داخل ہوں گے۔

میمورنڈم میں صفحہ ۴۳۷پر جو نکات پیش کئے گئے ہیں ان میں سے نمبرایک پر یوں درج ہے:۔

’’قادیان ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کے تھانہ بٹالہ میں واقع ہے ۔ ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ گورداسپور ضلع کو مغربی پنجاب میں شامل کئے جانے کا کلیم اتنا واضح اور مستحکم بنیادوں پر قائم ہے کہ عملاً اس بارے میں کوئی بحث بھی باؤنڈری کمیشن کے دائرہ سے باہر ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وائسرائے نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ کہا تھا کہ اس ضلع میں مسلمانوں کی اکثریت صرف زیرو پوائنٹ آٹھ فی صدہے۔ اس لئے ضلع گورداسپور کے بعض حصے لازماًغیر مسلم اکثریت کے ہوں گے۔ہماری گزارش یہ ہے کہ اس بارے میں وائسرائے کی معلومات درست نہیں تھیں۔ ۱۹۴۱ء کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق ضلع گورداسپور کی مسلمان آبادی کُل آبادی کا ۱۴ء۴۹فی صد ہے۔ اس طرح سے مسلمانوں کی آبادی دوسروں کی نسبت ۸ء۲فی صدزیادہ ہے۔۸ء۰فی صد نہیں ‘‘۔

اس میمورنڈم میں مزید وضاحت یہ کی گئی کہ اگر اچھوت اقوام اور ہندوستانی عیسائی ہندوؤں اور سکھوں کا ساتھ دیں تب بھی مسلمان آبادی ۸ء۲ فیصد زائد ہے۔ مگر عیسائی راہنما ایس پی سنگھا، جو بٹالہ ضلع گورداسپور سے تعلق رکھتے ہیں، نے کہا .......کہ وہ پاکستان میں رہنا پسند کریں گے۔عیسائیوں کی آبادی ضلع گورداسپورمیں ۴۶ء۴فیصدہے ۔ اگر اس کو مسلمان آبادی کے ساتھ شامل کر لیا جائے تو پھر ضلع گورداسپور میں پاکستان میں شمولیت اختیا ر کرنے والوں کا تناسب۶۰ء۵۵فیصد ہو جاتا ہے۔ اور یہ معتدبہ تفاوت ہے ۔

میمورنڈم میں دوسری تحصیلوں کے بارے میں یہ اعداد وشمار دئیے گئے۔

(۱)۔۔۔تحصیل بٹالہ۰۷ء۵۵

(۲)۔۔۔تحصیل گورداسپور۱۵ء۵۲

(۳)۔۔۔تحصیل شکرگڑھ۱۴ء۵۳

(۴)۔۔۔تحصیل پٹھانکوٹ۸۸ء۳۸

اور اس میمورنڈم میں یہ واضح کیا گیا کہ تحصیل بٹالہ میں مسلمانوں کی آبادی ۱۴ء۱۰فی صد زیادہ ہے ۔تحصیل گورداسپور میں ۳۰ء۴شکرگڑھ میں ۲۸ء۶فی صد۔ اور اگر اُن عیسائیوں کو شامل کر لیا جائے جو پاکستان میں شمولیت کے خواہاں ہیں تو پھر تحصیل بٹالہ میں اکثریت ۵۳ء۶۰فی صد اور تحصیل شکرگڑھ میں۸۸ء۵۴فی صد ہو جاتی ہے۔

تحصیل پٹھانکوٹ کے بارے میں جماعت احمدیہ نے یہ کہا کہ اس کو بھی پاکستان میں شامل ہونا چاہئے ۔کیونکہ اس میں ’’OTHER FACTORS‘‘ کی شق کے تحت پاکستان میں شامل کئے جانے کے قوی دلائل موجود ہیں۔جو یہ ہیں کہ دریائے راوی اس تحصیل میں سے گزرتا ہے اور پھر مغربی پنجاب میں داخل ہوتا ہے اس میں سے جو نہریں نکالی گئی ہیں ان کا ھیڈورکس مادھوپور ہے۔ اور یہ نہریں مغربی پاکستان کے علاقے کو سیراب کرتی ہیں اور اس کو مشرقی پنجاب میں شامل کئے جانے کے نتائج بڑے بھیانک ہو سکتے ہیں ۔

جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ اگر تحصیل بہ تحصیل آبادی کا جائزہ لیا جائے توبھی ضلع گورداسپور اور اسکی تمام تحصیلوں کو پاکستان میں آنا چاہئے اور اگر ذیل کو اکائی قرار دیا جائے یا تھانہ کو اکائی قرار دیا جائے توبھی قادیان کو پاکستان میں آنا چاہئے ۔ کیونکہ دِ ذیل جو کہ پچاس ساٹھ دیہات پر مشتمل اکائی ہوتی ہے اگر اس کو بنیا د بنایا جائے تو قادیان جو کہ دلّہ کی ذیل میں آتا ہے اس میں مسلمان اکثریت۱۰ء۶۱فی صد ہے اور قادیان سے مشرق کی جانب دریائے بیاس تک اورمغرب کی جانب بٹالہ تک سارے کے سارے ذیل مسلم اکثریت کے ذیل ہیں اس لئے قادیان کو پاکستان میں شامل ہونا چاہئے۔یہ میمورینڈم کتاب کی جلد اوّل کے صفحہ ۴۲۸سے لے کر ۴۵۹تک لفظ لفظ ریکارڈ پر موجود ہے ۔اس میمورینڈم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک نہایت مدّلل اور قوی دستاویز ہے جس کا مطالعہ قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوگا۔

غرضیکہ حقائق اتنے واضح روشن اور واشگاف ہیں کہ اس بارہ میں اٹارنی جنرل کی طرف سے سوال اٹھایا جانانا قابلِ فہم ہے۔

تاریخ میں جن لوگوں کی وابستگیاں کانگریس کے ساتھ رہی ہوں اور جوسستی شہرت حاصل کرنے کے لئے پبلک سٹیج پر سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کے لئے من گھڑت ‘غیر مستند بے سروپا الزامات دہرانے کے عادی ہوں ان کی بات اور ہے مگر قومی اسمبلی ہر شہری کے نزدیک متانت، وقاراور ثقہ بحث کی آئینہ دارہونی چاہئے تھی۔ خصوصی کمیٹی میں یہ سوال اٹھا کر کمیٹی کی پوری کارروائی کو مسندِاعتبار سے گرا کر مشتبہ بنا دیا گیا۔

کمیٹی کے سامنے جو بات زیرِ غور تھی وہ عقیدۂ ختمِ نبوت سے تعلق رکھتی تھی۔ اگر اس سوال کا مقصد تحریکِ پاکستان سے سیاسی وابستگی یا عدم وابستگی ظاہر کرنا تھا تو ترمیم ان الفاظ میں ہونی چاہئے تھی:۔

’’جو شخص تحریکِ پاکستان میں مسلم لیگ کے مفاد کے خلاف کام کر چکا ہو وہ آئین اور قانون کی اغراض سے غیر مسلم ہو گا اور پاکستانی شہریت کا حقدار نہ ہو گا۔‘‘

اگر یہ مقصد ہوتا تو جماعت احمدیہ تو اپنے علیحدہ میمورینڈم کے باوجود اس تعریف میں نہ آتی مگر یہ ختمِ نبوت والے احراری اور کانگریسی علماء ضرور اس تعریف میں آ جاتے۔ عقل دنگ ہے کہ اٹارنی جنرل ان مولویوں کے ہاتھوں ایسے بے بس ہو گئے کہ ان کو اپنا بنیادی ریفرینس ہی بھول گیا ۔مگر کیا کیجئے اﷲوسایا کی کتاب سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے ۔

صفحہ نمبر: 12 (کل صفحات: 14)