In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » اختلافی مسائل اور اعتراضات کے جواب » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

اللہ وسایا کی کتاب "پارلیمنٹ میں قادیانی شکست" پر تبصرہ (مجیب الرحمن ، ایڈوکیٹ)
+ فہرست مضامین

۱۳ دن کی کارروائی کی جو نامکمل رپورٹ ممبران اسمبلی کو مہیا کی جاتی رہی اس کا حجم بھی دو اڑھائی ہزار صفحات سے کم نہیں تھا۔ جرح کے دوران حضرت مرزا ناصر احمد صاحب آیاتِ قرآنی‘ احادیث اور عربی حوالہ جات پڑھتے رہے جو کارروائی قلمبند کرنے والا عملہ قلمبند نہیں کر پاتا تھا اور کارروائی میں وہ حصے درج نہیں ہوتے تھے۔ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے طویل اقتباسات اسمبلی میں پڑھ کر سنائے تھے جن میں سے کسی کا بھی اللہ وسایا کی شائع کردہ کارروائی میں پتہ نہیں ملتا۔ بسااوقات سوالات انگریزی زبان میں ہوتے تھے اور وہ انگریزی ہی میں درج تھے ان کا کوئی ذکر اس کارروائی میں نہیں ملتا۔ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے بعض سوالات کے جواب میں تحریری بیان بھی داخل کئے تھے وہ تحریری بیان کیا تھے، وہ کہاں ہیں؟ ان کا بھی یہاں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ وہ تفصیل سے اپنی بات سمجھانے کے لئے بیان دیتے رہے اور اراکین اسمبلی ان کے جوابات سے اتنے متأثر تھے کہ جناب مفتی محمود کی نیند اڑ گئی۔ اس بارہ میں مفتی محمود صاحب کا شائع شدہ اقرار موجود ہے۔

قومی اسمبلی کے روبرو کارروائی کے دوران اپنے محضر نامہ میں بھی اور جرح کے دوران سوالات کے جواب میں بھی امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے دیوبندی مسلک کے بزرگ مولانا قاسم نانوتوی، بریلوی مسلک کے بزرگ مولانا احمد رضا خان بریلوی، اہلِ حدیث مسلک کے بزرگ نواب صدیق الحسن خان صاحب کے

حوالہ جات اور دیگر بزرگان کے طویل حوالہ جات پیش کئے اور پڑھ کر سنائے تھے، جن کا ان دنوں قومی اسمبلی کے اراکین میں بڑا چرچا تھا ۔ اﷲ وسایا کی شائع کردہ مبینہ کارروائی میں ان حوالہ جات کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ اگر واقعی ان کے پاس مکمل کارروائی موجود ہے تو ان حصوں کو شائع نہ کرنا صریح بد دیانتی ہے۔ آخر قومی اسمبلی میں بلانے کا مبیّنہ مقصد یہی تھا کہ جماعت احمدیہ کو اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقع دیا جائے۔ جو وضاحتیں دی گئیں اگر وہ غائب کر دی جائیں تو سمجھا یہی جائے گا کہ ان وضاحتوں سے احمدیوں کے خلاف گمراہ کن پراپیگینڈے کا تار پود بکھر کر رہ گیا تھا۔ ورنہ وہ وضاحتیں جو بقول انکے مکمل کارروائی میں ان کے پاس موجود ہیں انہوں نے اپنی کتاب میں شائع کیوں نہیں کیں۔ اور اگر مکمل ریکارڈ موجود نہیں ہے تو اپنی کتاب کو مکمل ریکارڈ کا نام کیوں دیا؟ ختمِ نبوت کے مقدس نام پر دین کی خدمت کے لئے نکلے ہیں تو یہ دھوکہ دہی اور فریب کیوں؟

بد قسمتی سے وطنِ عزیز ان دنوں مذہبی منافرت اور عدمِ رواداری کی گرفت میں ہے۔ رواداری ،برداشت اور صبروتحمّل عنقاء ہیں۔ منافرت کی فتنہ سامانیاں آزاد اور بے لگام ہیں ۔ معقولیت اور اعتدال پسندی تشدد کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔ احمدیوں پر پابندیاں، مقدمات کی بھرمار ، تبلیغ پر پابندی، اخبارات و جرائد پر پابندی، اﷲ وسایا صاحب سیاسی اقتدار کی ساز باز سے ان سب زنجیروں کا بندوبست کرکے احمدیوں کو للکارتے پھرتے ہیں۔ اگر واقعی خود پر بھروسہ ہے تو احمدیوں کے ساتھ مل کر یہ مطالبہ کریں کہ احمدیوں کے جرائد اور رسائل پر پابندیاں ختم کی جائیں اورتبلیغ پر پابندی ختم کی جائے توخوب کھل جائے گاکہ کس کے نصیب میں شکست اور کس کے مقدر میں آسمان نے فتح لکھ دی ہے۔اس طرح کی جعلسازی اور مفسدانہ کارروائیوں سے حق نہ کبھی چُھپا ہے اور نہ کبھی چُھپے گا۔

(۲) قانونی حیثیت

دُنیا جانتی ہے یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارروائی خفیہ تھی ۔ خفیہ کیوں رکھی گئی؟ آیا خفیہ رکھا جانا مناسب تھا یا نہیں،یہ ایک الگ سوال ہے۔ جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے وہ بارہا یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ یہ کارروائی شائع ہونی چاہیے، مگر امر واقع یہ ہے کہ اسمبلی کی کارروائی شائع نہیں کی گئی۔ایسی کارروائی جو اسمبلی کے قواعد کی رُو سے خفیہ رکھی جائے اس کارروائی کا ریکارڈ رکھنا یا اس کی رپورٹ تیار کرنا صرف قومی اسمبلی کے سپیکر کے اختیار میں ہے اور قواعد کی رُوسے کسی دیگر شخص کو یہ اختیار اور اجازت نہیں کہ وہ کوئی نوٹ رکھے یا اس کو کُلی یاجُزوی طور پر ریکارڈکرے یا اس کی رپورٹ کا کوئی حصہ اشاعت کے لئے جاری کرے یا اس کوظاہر کرے یا اس کی کارروائی کی کوئی ایسی رپورٹ جاری کرے جو مزعومہ طور پر اسمبلی کی کارروائی سمجھی جائے۔ایسی خفیہ کارروائی پر سے پابندی اٹھانے کا اختیار صرف اسمبلی کو ہے اور اس پابندی اٹھانے کاتحرّک قائد ایوان کی طرف سے ہونا ضروری ہے۔ قائد ایوان کی تحریک جب منظور ہوجائے تو بھی کارروائی کی رپورٹ سپیکر کی زیرہدایت سیکرٹری جنرل ہی تیار کرواسکتا ہے۔

قومی اسمبلی کے متعلقہ قواعد درج ذیل ہیں۔

قاعدہ نمبر ۲۰۷: خفیہ اجلاس

کسی کمیٹی کے خفیہ اجلاس منعقد کئے جا سکتے ہیں اگر کمیٹی اس طرح فیصلہ کرے۔

قاعدہ نمبر ۲۰۸: شہادت قلمبند کرنے یا کاغذات،ریکارڈیا دستاویزات طلب کرنے کا اختیار

(۴)کمیٹی کو کسی شخص کی حا ضر ی کی تعمیل کر ا نے اور دستاویزات کو جبراً پیش کرانے کیلئے وہی اختیار حاصل ہوں گے جودیوانی عدالت کو مجموعہ ضابطہ دیوانی (ایکٹ نمبر5 بابت 1908)ء) کے تحت حاصل ہیں۔

قاعدہ نمبر ۲۱۰ : گواہوں کا بیان

(۵) جب کسی گواہ کو شہادت کے لئے طلب کیا جائے تو کمیٹی کی کارروائی کا لفظ بلفظ ریکارڈ رکھا جائے گا۔

(۶) کمیٹی کے سامنے دی گئی شہادت کمیٹی کے تمام اراکین کوفراہم کی جا سکے گی۔

قاعدہ نمبر۲۷۴: کارروائی کی رپورٹ

سپیکر کسی خفیہ اجلاس کی کارروائی کی ایک رپورٹ ایسے طریقے سے مرتب کراسکتا ہے جو وہ مناسب سمجھے لیکن کوئی دوسرا شخص کسی خفیہ اجلاس کی کسی کارروائی یا فیصلوں کا کوئی نوٹ یا ریکارڈ، خواہ جزوی یا کلی طور پر نہیں رکھے گایا ایسی کارروائی کی کوئی رپورٹ جاری یا افشاء نہیں کرے گا یا کوئی ایسا بیان نہیں دے گا جس سے ایسی کارروائی مترشح ہو۔

قاعدہ نمبر ۲۷۵: دیگر امور کے بارے میں طریق کار۔ ان قواعد کے تابع‘ کسی خفیہ اجلاس کے سلسلے میں تمام دیگر امور کاطریق کار ایسی ہدایت کے مطابق ہوگا جو اسپیکر جاری کرے گا۔

قاعدہ نمبر۲۷۶: اخفائے راز کی پابندی ختم کرنا

جب یہ خیال کیا جائے کہ کسی خفیہ اجلاس کی کارروائی کے بارے میں اخفائے راز کی ضرورت باقی نہیں رہی تو اسپیکر کی رضامندی کے تابع،قائد ایوان یا اس بارے میں اس کی جانب سے مجاز کردہ کوئی رُکن تحریک کرسکتاہے کہ وہ آئندہ راز تصورنہ کی جائے۔

(۲) ذیلی قاعدہ(۱)کے تحت کسی تحریک کے منظور کئے جانے پر سیکرٹری جنرل اس خفیہ اجلاس کی کارروائی کی رپورٹ مرتب کروائے گا اور جتنی جلدی ممکن العمل ہو‘ اسے ایسی شکل میں اور ایسے طریقے سے شائع کرائے گاجس کی اسپیکر ہدایت دے۔

قاعدہ نمبر۲۷۷: کارروائی یا فیصلوں کا افشائ

ماسوائے جیسا کہ قاعدہ 276میں قرار دیا گیا ہے‘ کسی شخص کی جانب سے کسی بھی طریقے سے کسی خفیہ اجلاس کی کارروائی یا فیصلہ کا افشاء اسمبلی کے استحقاق کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

قواعد کی اس صورت حال کے پیش نظرعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے’’قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ‘‘ یا ’’پارلیمنٹ میں قادیانی شکست‘‘کے زیر عنوان کتاب کی اشاعت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔قانوناً یہ فرضی اور جعلی کارروائی متصور ہو گی اور اسے کسی حوالے کے طور پر ہر گزاستعمال نہیں کیا جاسکتا۔

ہاں البتہ جیسا کہ ہم آگے چل کرواضح کریں گے کہ یہ کتاب ہر منصف مزاج محقق کے لئے اس بات کی نشاندہی ضرور کرتی رہے گی کہ مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے ایک سیاسی تنظیم نے کس کس حربے سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ کتاب جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کی ہے ان کی عملی بددیانتی اور فریب اور جعلسازی کی ایک بدنما مثال کے طور پرتاریخ میں محفوظ رہے گی۔

صفحہ نمبر: 3 (کل صفحات: 14)