In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

دینی معلومات

+ فہرست مضامین

عہد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نَوَّرَاللہ مَرْقَدَہٗ

سوال: خلافت ثانیہ کا آغاز کب ہوا؟

جواب: 14 مارچ 1914ء کو۔

سوال: حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کس پیشگوئی کے مصداق تھے؟

جواب: "یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہٗ" کہ آنے والا امام مہدی شادی کرے گا اور اس کے ہاں عظیم الشان اولاد ہوگی۔

سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے زندگی وقف کرنے کی پہلی تحریک کب فرمائی؟

جواب: 7دسمبر 1917ء کو۔

سوال: صدر انجمن احمدیہ میں نظارتوں کا قیام کب عمل میں آیا؟

جواب: یکم جنوری 1919ء کو۔

سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے غیر ممالک کے دورے کتنے اور کب فرمائے؟

جواب: دو دورے کئے۔ 1924ء میں پہلی بار لندن میں ویمبلے کانفرنس میں شرکت کرنے کیلئے تشریف لے گئے۔ اس کانفرنس کے لئے آپ نے "احمدیت" کے نام سے ایک مبسوط مضمون لکھا جو بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔ راستہ میں مصر، شام اور فلسطین بھی ٹھہرے۔ جب کہ دوسرا دورہ 1955ء میں کیا جب آپ علاج کے لئے یورپ تشریف لے گئے۔

سوال: حضرت مصلح موعود نے بیرون پاکستان کس (بیت الذکر) کا سنگ بنیاد اپنے دست مبارک سے رکھا؟

جواب: بیت الفضل لندن یہ بیرونی ممالک میں تعمیر ہونے والی سب سے پہلی (بیت الذکر) تھی۔ 1924ء میں سنگ بنیاد رکھا اور 1926ء میں تکمیل پذیر ہوئی۔

سوال: احمدی مستورات کے سالانہ جلسہ کا آغاز کب ہوا؟

جواب: دسمبر 1926ء میں۔

سوال: حضور کی تحریک پر ہندوستان کے طول و عرض میں پہلا عظیم الشان "یوم سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم "کب منایا گیا؟

جواب: 17 جون 1928ء کو۔

سوال: حضرت مصلح موعود نے اپنا دوسرا وطن کس جگہ کو قرار دیا ہے؟

جواب: لاہورکو۔ (الفضل 16 دسمبر 1947)

سوال: آپ کو مصلح موعود ہونے کے بارہ میں کیا الہام ہوا اور آپ نے مصلح موعود ہونے کادعویٰ کب فرمایا؟

جواب: اَنَاالْمَسِیْحُ الْمَوْعُودُ مَثِیْلُہٗ وَخَلِیْفَتُہٗ۔ اعلان 28 جنوری 1944ء کو فرمایا۔

سوال: تعلیم الاسلام کالج قادیان کا افتتاح کب اور کس نے کیا؟

جواب: 4 جون 1944ء کو سیدنا حضرت مصلح موعود نے۔

سوال: آپ کی کچھ کتابوں کے نام بتائیں۔

جواب:

٭۔۔۔ دعوت الامیر

٭۔۔۔ تعلق باللہ

٭۔۔۔ ہستیٔ باری تعالیٰ

٭۔۔۔ منہاج الطالبین

٭۔۔۔ ملائکۃ اﷲ

٭۔۔۔ نظامِ نو

٭۔۔۔ اسلام کا اقتصادی نظام

٭۔۔۔ سیرت خیرالرسلؐ

٭۔۔۔ آئینۂ صداقت

٭۔۔۔ تفسیر صغیر

٭۔۔۔ تفسیر کبیر

٭۔۔۔ تقدیرِ الٰہی

٭۔۔۔ ذکرِ الٰہی

سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا وصال کب ہوا؟

جواب: 7، 8 نومبر 1965ء کی درمیانی شب۔

سوال: بیرون برصغیر جماعت احمدیہ کا پہلا تبلیغی مرکز کب اور کس کے ذریعہ قائم ہوا؟

جواب: 28 جون 1914ء کو لندن میں حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کے ذریعہ قائم ہوا۔

سوال: جماعت احمدیہ کی باقاعدہ مجلس مشاورت کب شروع ہوئی؟

جواب: 15، 16 اپریل 1922ء کو۔

سوال: تقویم ہجری شمسی کا آغاز کس نے کیا؟ اس کے مہینوں کے نام اور وجہ تسمیہ بیان کریں؟

جواب: سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے 1940ء میں جاری کیا تا یہ اسلامی کیلنڈر عیسوی کیلنڈرکی جگہ استعمال کیا جاسکے۔ اس کے مہینوں کے نام تاریخ اسلام کے مشہور واقعات سے ماخوذ ہیں جو درج ذیل ہیں۔

1۔ صلح (جنوری): اس ماہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل مکہ سے صلح حدیبیہ ہوئی۔

2۔ تبلیغ (فروری): رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط ارسال فرمائے۔

3۔ امان (مارچ): حجۃ الوداع کے موقعہ پر رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حرمت کا اعلان فرمایا۔

4۔ شہادت (اپریل): اس ماہ دشمنان اسلام نے دھوکے اور غداری سے کام لیتے ہوئے"رجیع" اور"بئرمعونہ" کے مقامات پر 77 صحابہؓ کو شہید کر دیا۔ دونوں مقامات کے لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام سیکھنے کے لئے صحابہؓ کو بطور معلم بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ بئر معونہ میں شہید ہونے والے 69 صحابہؓ حافظ قرآن تھے۔

5۔ ہجرت (مئی): آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے۔

6۔ احسان (جون): محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوطَی کے اسیروں کو حاتم طائی کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے آزاد کردیا۔

7۔ وفا (جولائی): اس ماہ غزوہ "ذات الرقاع" ہوا جس میں لمبے سفر اور سواریاں کم ہونے کی وجہ سے صحابہؓ کے پاؤں چھلنی ہوگئے۔ بعض کے پاؤں کے ناخن تک جھڑ گئے۔ مگر صحابہؓ نے اس جنگ میں صدق و وفا کا بے نظیر نمونہ دکھایا۔

8۔ ظہور (اگست): اللہ تعالیٰ نے جنگ موتہ کے ذریعہ عرب سے باہر اسلام کے ظہور یعنی غلبہ کی بنیاد رکھی۔

9۔ تبوک (ستمبر): غزوہ تبوک ہوا۔

10۔ اخاء (اکتوبر): رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین مکہ اور انصار مدینہ کے درمیان مؤاخات یعنی بھائی بندی قائم کی۔

11۔ نبوت (نومبر): اللہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو منصب نبوت پر سرفراز فرمایا۔

12۔ فتح (دسمبر): مکہ فتح ہوا جس میں آپ نے عفو عام کا اعلان فرمایا۔

سوال: اگر سنۂ عیسوی معلوم ہو تو سنۂ ہجری شمسی کس طرح معلوم کیا جاسکتا ہے؟

جواب: سنۂ عیسوی میں سے 621ء کا عدد منہا کردیا جائے تو سنۂ ہجری شمسی نکل آتا ہے۔ مثلاً 2007ء کا سنۂ ہجری شمسی 1386 ہوگا۔

سوال: مسلمانان کشمیر کے حقوق کیلئے بننے والی آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا پہلا صدر کسے منتخب کیا گیا؟

جواب: سیدناحضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی جنہیں 15 جولائی 1931ء کو صدر منتخب کیا گیا۔ اس اجلاس میں علامہ اقبال، سیدمحسن شاہ، سید حبیب اور خواجہ حسن نظامی وغیرہ شامل تھے اور تجویزعلامہ اقبال کی تھی۔

سوال: قائد اعظم محمد علی جناح نے بیت الفضل لندن میں کب تقریر کی؟

جواب: 23 اپریل 1933ء کو۔

سوال: بیت اقصیٰ قادیان میں پہلی بار لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ حضرت مصلح موعود نے کب خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا؟

جواب: 7 جنوری 1938ء کو۔

سوال: جماعت احمدیہ کے 50 سال اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خلافت پر 25 سال پورے ہونے پر جوبلی کب منائی گئی؟

جواب: 1939ء میں۔

سوال: لوائے احمدیت پہلی مرتبہ کب فضا میں لہرایا گیا؟

جواب: حضرت مصلح موعود نے 28 دسمبر 1939ء کو خلافت جوبلی کے موقع پر لوائے احمدیت پہلی مرتبہ فضا میں بلند کیا۔ جھنڈے کے کپڑے کی کپاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک (رفیق) نے بوئی۔ فصل کو پانی دیا اور چنا۔ پھر (رفقاء) نے اسے دُھنا اور (رفیقات) نے سوت کاتا۔ اس سوت سے (رفقاء) نے کپڑابُنا۔ جھنڈے کے کپڑے کا رنگ سیاہ، لمبائی 18 فٹ اور چوڑائی 9 فٹ تھی۔ درمیان میں سفید رنگ کا مینارۃ المسیح ایک طرف بدر اور دوسری طرف ہلال بنایا گیا۔ بدر میں چھ کونی ستارہ موجود تھا۔

سوال: لوائے خدام الاحمدیہ کب لہرایا گیا؟ اس کے متعلق آپ کیا بتاسکتے ہیں؟

جواب : حضرت مصلح موعود نے 28 دسمبر 1939ء کو لوائے احمدیت لہرانے کے بعد پہلی مرتبہ لوائے خدام الاحمدیہ کو بھی اپنے دست مبارک سے بلند کیا۔ جھنڈا، 18 فٹ لمبا اور 9 فٹ چوڑا تھا۔ ایک تہائی حصہ پر لوائے احمدیت کے نقوش تھے۔ بقیہ حصہ تیرہ سیاہ و سفید دھاریوں پر مشتمل تھا۔

سوال: حضرت مصلح موعود نے قادیان سے پاکستان کی طرف کب ہجرت کی؟

جواب: 31 اگست 1947ء کو۔

سوال: پاکستان کی پہلی مجلس مشاورت کا انعقاد کب ہوا؟

جواب: 7 ستمبر 1947ء کو۔

سوال: لاہور میں صدر انجمن احمدیہ پاکستان کی بنیاد کب رکھی گئی؟

جواب: یکم ستمبر 1947ء کو۔

سوال: پاکستان میں جماعت احمدیہ کا پہلا سالانہ جلسہ کب اور کہاں ہوا؟

جواب: 27، 28 دسمبر 1947ء کو بمقام لاہور

سوال: ربوہ کی بنیاد کس نے اورکب رکھی؟

جواب: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اپنے ایک کشف کی بناء پر اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی "داغ ہجرت" کو پورا کرتے ہوئے اس کی بنیاد 20 ستمبر 1948ء کو رکھی۔

سوال: ربوہ میں پہلا جلسہ سالانہ کب منعقد ہوا؟

جواب: 15، 16، 17 اپریل 1949ء کو۔

سوال: ربوہ میں مندرجہ ذیل مرکزی دفاتر کا سنگ بنیاد کب اور کس نے رکھا۔ قصر خلافت، دفاترصدر انجمن احمدیہ، دفاتر تحریک جدید، دفتر لجنہ اماء اللہ

جواب: 31 مئی 1950ء کو حضرت مصلح موعود نے۔

سوال: مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے دفتر کے سنگِ بنیاد اور افتتاح کی تاریخیں بتائیں؟

جواب: سنگ بنیاد 6 فروری 1952ء، افتتاح 5 اپریل 1952ء

سوال: اینٹی احمدیہ تحریک کے دوران حضرت صاحبزادہ مرزاشریف احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو کب گرفتار کیا گیا؟

جواب: یکم!اپریل 1953ء کو۔

سوال: حضرت مصلح موعود پر کس شخص نے قاتلانہ حملہ کیااورکب؟

جواب: بیت المبارک ربوہ میں 10 مارچ 1954ء کو بعد نماز عصر ایک شخص عبدالحمید نے۔

سوال: حضور دوسرے دورۂ یورپ کے سلسلہ میں کب کراچی سے روانہ ہوئے؟

جواب: 29 اپریل 1955ء کو۔

سوال: حضرت مصلح موعود کی چند تحریکات بتائیں۔

جواب : تحریک جدید، وقف جدید، وقف زندگی کی تحریک، حفظ قرآن کی تحریک، مجلس انصار اللہ، مجلس خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ، لجنہ اماء اللہ اور ناصرات الاحمدیہ کا قیام۔

سوال: تحریک جدید کی ابتداء کب ہوئی نیز اس کے کتنے مطالبات ہیں؟

جواب: 1934ء میں۔ کل 27 مطالبات ہیں۔ مثلاً سادہ زندگی، وقف زندگی، وقار عمل۔

سوال: تحریک جدید کے پہلے سال حضرت مصلح موعود نے کتنی رقم کا مطالبہ کیا اور جماعت نے کس قدر ادا کی؟

جواب: مطالبہ ستائیس ہزار کا تھا۔ جماعت نے وعدے ایک لاکھ چار ہزار کے کئے اور نقد ادائیگی پینتیس ہزار روپے کردی۔

سوال: تحریک جدیدکے دفتر دوم کی بنیاد کب رکھی گئی؟

جواب: 24 نومبر 1944ء

سوال: وقف جدید کا اجراکب ہوا نیزاس کی ساری دنیا تک توسیع کا اعلان کب ہوا؟

جواب: دسمبر 1957ء میں حضرت مصلح موعود نے وقف جدید کا اجرا فرمایا۔ اس کے ذریعہ اندرون ملک معلمین تبشیر و تربیت کاکام کررہے ہیں۔ دسمبر 1985ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس تحریک کو ساری دنیا تک وسیع کرنے کا اعلان فرمایا۔

سوال: لجنہ اماء اللہ کی مختصر تاریخ بتائیں؟

جواب: سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے 15 دسمبر 1922ء کو یہ تنظیم قائم فرمائی۔ حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی خدمت میں ممبرات لجنہ اماء اللہ نے صدارت کیلئے درخواست کی۔ چنانچہ پہلا اجلاس آپ کی صدارت میں شروع ہوا۔ مگر دوران اجلاس آپ نے حضرت سیدہ ام ناصر (حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) کو صدر نامزد فرمایا جو تقریباً 40، 41 ء تک صدر رہیں۔ اس عرصہ میں حضرت سیدہ امۃ الحی بیگم صاحبہ (حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی)، حضرت صالحہ بیگم صاحبہ (اہلیہ حضرت میر محمد اسحق صاحب)، حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ (حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) اورحضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ (حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) نے جنرل سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ 40، 41ء میں جب حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ نے لمبی بیماری کے باعث چھٹی لی تو حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ صدر منتخب ہوئیں اور حضرت سیدہ ام متین صاحبہ (حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) جنرل سیکرٹری۔ مارچ 1944ء میں حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ کی وفات پر حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ دوبارہ صدر چنی گئیں اور آپ نے اپنی وفات 31 جولائی 1958ء تک اس ذمہ داری کو نبھایا۔ اگست 1958ء سے فرائض صدارت حضرت سیدہ ام متین صاحبہ کے سپرد ہوئے اور نومبر1997ء سے نومبر2005ء تک محترمہ صاحبزادی امۃ القدوس صاحبہ صدررہیں۔ اس کے بعد محترمہ صاحبزادی امۃ العلیم عصمت صاحبہ بطورصدر خدمت سرانجام دے رہی ہیں۔ 1928ء میں ناصرات الاحمدیہ کی تنظیم بھی لجنہ اماء اللہ کے ساتھ قائم ہوئی۔

سوال: خدام الاحمدیہ کی مختصر تاریخ بتائیں۔

جواب: 31 جنوری 1938ء کو باجازت حضرت مصلح موعود دینی درد رکھنے والے نوجوانوں کے ذریعہ ایک تنظیم قائم ہوئی۔ جس کا نام حضرت مصلح موعود نے 4 فروری 1938ء کو مجلس خدام الاحمدیہ رکھا۔ اس مجلس کے ممبر15 تا 40 سال کی عمر کے نوجوان ہوتے ہیں۔ اس کے پہلے داعی مکرم شیخ محبوب عالم صاحب خالد ایم۔ اے تھے۔ پہلے سال کے لئے صدر مکرم مولوی قمر الدین صاحب فاضل چنے گئے۔ 26 جولائی 1940ء سے حضرت مصلح موعود نے خدام الاحمدیہ کو اپنے ساتھ اطفال لاحمدیہ کو بھی منظّم کرنے کا ارشاد فرمایا۔ خدام الاحمدیہ کے اب تک صدران کے اسماء اور زمانۂ صدارت حسب ذیل ہے۔

1۔ مکرم مولوی قمر الدین صاحب 1938-39ء

2۔ حضرت صاحبزادہ مرزاناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ 1939-40ء تا 31 اکتوبر 1949ء

3۔ سیدنا حضرت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ 31 اکتوبر 1949ء تا 1959-60ء

(اس دوران حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ 31 اکتوبر 1949ء سے 1954ء تک اور مکرم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب 1954-55ء سے 1959-60ء تک نائب صدر اول رہے۔)

4۔ مکرم سید میرداؤداحمد صاحب 1960-61ء تا1961-62ء

5۔ مکرم صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب 1962-63ء تا 1965-66ء

6۔ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ 1966-67ء تا 1968-69ء

7۔ مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب 1969-70ء تا1972-73

8۔ مکرم عطاء المجیب راشدصاحب 1973-74ء تا فروری 1975ء عہد صدارت کے دوران ہی اعلائے کلمۂ دین حق کیلئے جاپان تشریف لے گئے۔

9۔ مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب فروری1975ء تا1978-79ء

10۔ مکرم محمود احمدشاہد صاحب 1979-80ء تا1988-89ء

11۔ مکرم حافظ مظفر احمد صاحب1989-90ء تا1992-93ء

12۔ مکرم راجہ منیر احمد خان صاحب1993-94ء تا1998-99ء

13۔ مکرم سید محمود احمد صاحب1999-2000ء تا2005-06ء

14۔ مکرم فریداحمدنویدصاحب نومبر2006ء سے تا حال

نوٹ: 1989-90ء سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے مرکزی صدارت کو ختم کرکے ہر ملک میں ذیلی تنظیموں کے صدران کا نظام جاری فرمایا ہے۔

سوال: مجلس انصار اللہ کب قائم ہوئی؟

جواب: سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے 26 جولائی 1940ء کو 40 سال سے زائد عمر کے احباب جماعت کیلئے تنظیم مجلس انصار اللہ کے نام سے قائم فرمائی۔ اس کے پہلے صدر حضرت مولانا شیر علی صاحب تھے۔

نوٹ: اب تک مجلس انصار اللہ کے صدران کے اسماء اور زمانہ حسبِذیل ہے۔

1۔ حضرت مولانا شیر علی صاحب 1940ء تا 1947ء

2۔ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال 1947ء تانومبر 1950ء

3۔ حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب نومبر 1950ء تا1954ء

4۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی 1954ء تا 1958ء

(اس دوران حضرت مرزا ناصراحمدصاحبؒ نائب صدر رہے)

5۔ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمدصاحبؒ 1959ء تا 1968ء

6۔ مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب1969ء تا1978ء

7۔ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحبؒ 1979ء تا1982ء

8۔ مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب جون1982ء تا 31دسمبر 1999ء

9۔ مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب یکم جنوری 2000ء تا 31دسمبر2003ء

10۔ مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب۔ یکم جنوری 2004ء سے تاحال۔

نوٹ۔ 90۔1989ء سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے مرکزی صدارت کو ختم کرکے ہر ملک میں ذیلی تنظیموں کے صدران کا نظام جاری فرمایا ہے۔

٭٭٭

صفحہ نمبر: 8 (کل صفحات: 12)