In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » شخصیات » حضرت مسیح موعودو مہدی معہود ؑ » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیرت حضرت مسیح موعودء ۔ اِکرَام ضَیْف (مہمان نوازی)

از قلم: حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ
+ فہرست مضامین

اکرام ضیف یعنی مہمان نوازی ان اخلاق فاضلہ میں سے ہے جو سوسائٹی اور تمدن کے لئے بمنزلہ روح کے ہیں ۔مہمان نوازی سوسائٹی میں احترام اور امن کا جذبہ پیدا کرتی ہے ،اس سے عناد اور حسد دور ہوتاہے اور ایک دوسرے پر اعتماد بڑھتاہے۔

حضرت نبی اکرم ﷺ نے اکرام ضیف کے لئے خاص طور پر ہدایت فرمائی ہے بلکہ اس کو ایمان کے نتائج اور ثمرات میں سے قرار دیا ہے چنانچہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا گیاہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مَن کاَنَ یُومنُ بِاللّٰہِ وَالیَومِ الآخِر فَلْیُکَرِمْ ضَیْفَہ یعنی جو شخص خدا تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتاہے اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔

ایمان کامل نہیں ہوتا جب تک یہ اخلاقی قوت اس میں نشوونما نہیں پاتی۔ اکرام ضیف میں بہت سی باتیں داخل ہیں یا یہ کہو کہ اس کے مختلف اجزاء ہیں ۔ اس کے حقوق کی رعایت کرنا ، مرحبا کہنا ،نرمی کرنا، اظہار بشاشت کرنا ، حسب طاقت کھانا وغیرہ کھلانا اور اس کے آرام میں ایثار سے کام لینا اور جب وہ روانہ ہو تو اس کی مشایعت کرنا۔

اکرام ضیف انبیاء علیہم السلام کی سنت میں داخل ہے اور حقیقت میں یہ خلق کامل طور پر ان میں ہی پایا جاتاہے۔ اورپھر اس کا کامل ترین نمونہ آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ اور آپ کے بروز حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں موجود ہے ۔ خدا تعالیٰ کی ایک مخلوق ان کے پاس بغرض حصول ہدایت آتی ہے اوروہ حق پہنچانے کے لئے اپنے دل میں ایک جوش اور تڑپ رکھتے ہیں اور پھر سنت اللہ کے موافق ان کی مخالفت بھی شدید ہوتی ہے مگر ہر حالت میں وہ اپنے مہمانوں کے آرام اور خاطر مدارات میں کبھی فرق نہیں کرتے اور ان کی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کے مہمانوں کو آرام ملے ۔

حضرت مسیح موعود ؑ کی خصوصیت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو خصوصیت سے اس کی طرف توجہ تھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت آپ کو وحی الٰہی کے ذریعہ سے آنے والی مخلوق کی خبر دی تھی اور فرمایا تھا کہ تیرے پاس دوردراز سے لوگ آئیں گے اور ایساہی فرمایا لاَ تُصَعّرْ لِخَلْقِ اللّٰہِ وَلاتَسْئَمْ مِنَ النٖاسِ ۔غرض یہاں تو پہلے ہی مہمانوں کے بکثرت آنے کی خبر دی گئی تھی اور پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب کو وسعت اوردل میں حوصلہ پیدا کر رکھاتھا۔ اور مہمان نوازی کے لئے آپ گویا بنائے گئے تھے۔ اب میں آپ کی زندگی کے واقعات میں انشاء اللہ العزیز دکھاؤں گا کہ آ پ نے کس طرح پر مہمان نوازی کا حق ادا کیا اور ایک اسوہ حسنہ اکرام ضیف کا چھوڑا۔

اکرام ضیف کی روح آپ ؑ میں فطرتاً آئی تھی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے جس خاندان میں پیدا کیا وہ اپنی عزت و وقار کے لحاظ سے ہی ممتاز نہ تھا بلکہ اپنی مہمان نوازی اور جود و سخا کے لئے بھی مشار الیہ تھا۔ اس خاندان کا دستر خوان ہمیشہ وسیع تھا۔ جس عظیم خاتون کو حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام جیسا بیٹا جننے کا فخر حاصل ہے و ہ خاص طور پر مہمان نوازی کے لئے مشہور تھیں۔ قادیان میں پرانے زمانہ کے لوگ ہمیشہ ان کی اس صفت کا اظہار کیاکرتے تھے اور میں نے بلا واسطہ ان سے سنا جنہوں نے اس زمانہ ہی کو نہیں پایا بلکہ اس مائدہ سے حصہ لیا۔ چنانچہ حیات احمد جلداول کے صفحہ ۱۷۴،۱۷۵ پر حضرت مائی چراغ بی بی صاحبہ مرحومہ کا ذکر کر چکا ہوں اور ان کی اس اخلاقی خوبی کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے۔

’’مہمان نوازی کے لئے ان کے دل میں نہایت جوش اور سینہ میں وسعت تھی ۔ وہ لوگ جنہوں نے ان کی فیاضیاں اور مہمان نوازیاں دیکھی ہیں ان میں سے بعض اس وقت تک زندہ ہیں ،وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں اگر باہر سے یہ اطلاع ملتی کہ چار آدمیوں کے لئے کھانا مطلوب ہے تو اندر سے جب کھانا جاتا تو آٹھ آدمیوں سے بھی زائد کے لئے بھیجا جاتا اور مہمانوں کے آنے سے انہیں خوشی ہوتی‘‘۔(حیات احمد جلد اول صفحہ ۱۷۴،۱۷۵)

گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شیر مادر کے ساتھ مہمان نوازی کو پیاتھا ۔ جب سے آ پ نے آنکھ کھولی اس خوبی کو سیکھا ۔ اور پھر جب خد ا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے ان کو مسح کیا اور معطر فرمایا تو حالت ہی بدل گئی اور وہ قوتیں جو آپ میں بطور بیج کے تھیں ایک بہت بڑے درخت کی صورت میں نمودار ہو ئیں۔

آ پ پہلے سے خدا تعالیٰ کی وحی پا کر ان مہمانوں کے استقبال اور اکرام کے لئے تیار تھے جن کے آنے کا خدا نے وعدہ فرمایا تھا۔

قبل بعثت اور بعد بعثت کی مہمان نوازی

آپ کی مہمان نوازی پر کبھی کسی وقت نے کوئی خاص اثر نہیں پیداکیا ۔ جب آ پ خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور نہ ہوئے تھے اس وقت بھی بعض لوگ آپ کے پاس آتے تھے ۔ ان کی مہمان نوازی میں بھی آپ کا وہی طریق تھا جو ماموریت کے بعد تھا ۔ پہلے جب بہت ہی کم اور کبھی کبھار کوئی شخص آتا تھا اس وقت کوئی خاص التفات نہ تھی کہ خرچ کم ہے بعد میں جب سینکڑوں ہزاروں آنے لگے تو کوئی غیر التفاتی نہیں ہوئی کہ بہت آنے لگے ہیں۔

غرض ہر زمانہ میں آ پ کی شان مہمان نوازی یکساں پائی جاتی ہے، یعنی کیفیت وہی رہی ۔ مہمانوں کی کثرت نے اس میں ترقی کا رنگ پیدا کیا ، کو ئی کمی نہیں ہوئی۔ اب میں واقعات کی روشنی میں آپ کے اس خلق عظیم کی تصویر دکھاتاہوں۔

ایک عجیب واقعہ

حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحبؓ جب سے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں آنے لگے ہیں ان کو ایک خاص مذاق اور شوق رہا ہے کہ وہ اکثر باتیں حضرت کی نوٹ کر لیا کرتے اور دوستوں کو سنایا کرتے۔

انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اخلاق کا ذکر برادر منشی محمد عبداللہ بوتالوی سے کیا اور منشی محمد عبداللہ صاحب نے مجھے لکھ کر بھیجا جو میں نے ۲۱؍اپریل ۱۹۱۸ء کے الحکم میں سیر ت المہدی کا ایک ورق کے عنوان سے چھاپ دیا ۔ اس میں اکرا م ضیف کے عنوان کے نیچے یہ واقعہ درج ہے کہ :

’’ایک مرتبہ ایک مہمان نے آ کر کہا کہ میرے پاس بسترا نہیں ہے ۔حضرت صاحب نے حافظ حامد علی صاحب کو (جو ۱۹۱۸ء میں مختصر سی دوکان قادیان میں کرتے تھے اور حضرت کے پرانے مخلص خادم تھے اور اب فوت ہو چکے ہیں اللھم ارحمہ) کہا کہ اس کو لحاف دے دو۔ حافظ حامد علی صاحب نے عرض کیا کہ یہ شخص لحاف لے جائے گا وغیرہ وغیرہ ۔ اس پر حضرت نے فرمایا:

’’اگر لحاف لے جائے گا تو اس کا گناہ ہوگا اور اگر بغیر لحاف کے مر گیا تو ہمارا گناہ ہوگا‘‘۔

اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ وہ مہمان بظاہر کوئی ایساآدمی نہ معلوم ہوتاتھا جو کسی دینی غرض کے لئے آیاہو بلکہ شکل و صورت سے مشتبہ پایا جاتا تھا مگر آپ نے اس کی مہمان نوازی میں کوئی فرق نہیں کیا ۔ اور اس کی آسائش و آرام کو اپنے آرام پر مقدم کیا۔

مہمان نوازی کے لئے ایثار کلی کی تعلیم ایک کہانی کے رنگ میں

وہی صاحب حضرت مفتی صاحب کی روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مہمان کثر ت سے آ گئے ۔ بیوی صاحبہ (حضرت ام المومنین) گھبرائیں ۔(اس زمانہ میں مہمانوں کا کھانا سب اندر تیار ہوتاتھا اور تمام انتظام و انصرام اندرہوتا تھا اس لئے گھبرا جانا معمولی بات تھی۔عرفانی) مجھے (مفتی محمد صادق کو ) جو مکان حضرت صاحب نے دے رکھا تھا وہ بالکل نزدیک تھا۔(یہ وہ مکان ہے جہاں آج کل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رہتے ہیں ۔ اس وقت یہ مکان نہایت شکستہ حالت میں تھا۔ بعد میں خاکسا ر عرفانی نے اسے خرید لیا اور خدا نے اسے توفیق دی کہ اس کا 1/3 حصہ حضرت اقدس کے نام ہبہ کر دے۔ خدا تعالیٰ اسے قبول فرمائے ۔آمین۔ پھروہ سارا مکان حضرت کے قبضہ میں آ گیا۔ عرفانی)۔ میں سنتا رہا ۔ حضرت صاحب نے بیوی صاحبہ کو ایک کہانی سنانی شروع کی۔ فرمایا ایک شخص کو جنگل میں رات آ گئی۔ اس نے ایک درخت کے نیچے بسیرا کر دیا۔ اس درخت کے اوپر ایک کبوتر اور کبوتری کا گھونسلہ بنا ہوا تھا۔ وہ دونوں آپس میں باتیں کرنے لگے کہ ہمارے ہاں مہمان آیاہے ۔ اس کی کیاخاطر کریں۔ نر نے کہا کہ سردی ہے بسترا اس کے پاس نہیں ہم اپنا آشیانہ گرادیں اس سے آگ جلا کر یہ رات گزار لے گا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ انہوں نے سوچا اب اس کے واسطے کھانا نہیں ہے ہم دونوں اپنے آپ کو نیچے گرا دیں تاکہ وہ ہمیں بھی کھالے ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس لطیف پیرایہ میں اکرام ضیف کی تاکید فرمائی حضرت ام المومنین کو اللہ تعالیٰ نے خود ایک وسیع حوصلہ دیا ہے اور وہ مہمانوں کی خدمت و دلداری میں جو حصہ لیتی ہیں اس سے وہ لوگ خوب واقف ہیں جن کی مستورات سالانہ جلسہ پر آتی ہیں ۔شروع شروع میں قادیان میں ضروری اشیاء بھی بڑی دقّت سے ملا کرتی تھیں تو مہمانوں کی کثرت بعض اوقات انتظامی دقتیں پیدا کر دیا کرتی تھی۔ یہ گھبراہٹ بھی انہیں دقتوں کے رنگ میں تھی۔ یہ واقعہ حضرت صاحب کی مہمان نوازی کا ہی بہترین سبق نہیں بلکہ مہمانوں کے لئے وہ اعلیٰ درجہ کی محبت و ایثار جو آپ میں تھا اور جو آپ اپنے گھر والوں کے دل میں پیدا کرنا چاہتے تھے اس کی بھی نظیر ہے پھر آپ کے حسنِ معاشرت پر بھی معاً روشنی ڈالتاہے کہ کس رفق اور اخلاق کے ساتھ ایسے موقعہ پر کہ انسان گھبرا جاتا ہے اصل مقصد کو زیر نظر رکھتے ہیں۔(عرفانی)۔

ڈاکٹر عبداللہ صاحب نومسلم کا واقعہ

ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نیاز حاصل کرنے کے لئے لاہور سے دو دن کی رخصت لے کر آیا۔ (ڈاکٹر صاحب انجمن حمایت اسلام کے شفا خانہ میں کام کرتے تھے ۔ایڈیٹر) رات کی گاڑی پر بٹالہ اترا اس لئے رات وہیں رہا۔ اور صبح سویرے اٹھ کر قادیان کو روانہ ہو گیا۔ اور ابھی سورج تھوڑا ہی نکلاتھا کہ یہاں پہنچ گیا۔ میں پرانے بازار کی طرف سے آ رہا تھا ۔ جب میں مسجد اقصیٰ کے قریب جو بڑ ی حویلی (ڈپٹی شنکر داس کی حویلی) ہے وہاں پہنچا تو میں نے اس جگہ (جہاں اب حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا مکان ہے۔ اور اس وقت یہ جگہ سپید ہی تھی)۔حضرت مسیح موعود ؑ کو ایک مزدور کے پاس جو اینٹیں اٹھا رہاتھا کھڑے ہوئے دیکھا ۔ حضرت صاحب نے بھی مجھے دیکھ لیا ۔ آ پ مجھے دیکھتے ہی مزدورکے پاس سے آ کر راستہ پر کھڑے ہوگئے۔ میں نے قریب پہنچ کر السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا۔ آپ نے وعلیکم السلام فرمایا۔ اور فرمایا کہ اس وقت کہاں سے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں رات بٹالہ رہا ہوں اور اب حضور کی خدمت میں وہاں سے سویرے چل کر حاضر ہوا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ پیدل آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں حضور۔ افسوس کے لہجے میں فرمایاکہ تمہیں بڑی تکلیف ہوئی ہوگی۔ میں نے عرض کیا حضور کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ آ پ نے فرمایا اچھا بتاؤ چائے پیو گے یا لسّی؟ میں نے عرض کیا کہ حضور کچھ بھی نہیں پیوں گا۔ آ پ نے فرمایا تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ، ہمارے گھر گائے ہے جو کہ تھوڑا سا دودھ دیتی ہے ۔ گھروالے چونکہ دہلی گئے ہوئے ہیں اس لئے اس وقت لسیّ بھی موجودہے اور چائے بھی ، جو چاہو پی لو۔ میں نے کہا حضور لسّی پیوں گا ۔ آپ نے فرمایا اچھا چلو مسجد مبارک میں بیٹھو۔ میں مسجد میں آ کر بیٹھ گیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد بیت الفکر کا دروازہ کھلا ۔ میں کیا دیکھتاہوں کہ حضور ایک کوری ہانڈی معہ کوری چپنی کے جس میں لسیّ تھی خود اٹھائے ہوئے درواز ہ سے نکلے، چپنی پر نمک تھا اور اس کے اوپر ایک گلاس رکھا ہوا تھا۔ حضورنے وہ ہانڈی میرے سامنے لا کر رکھ دی اور خود اپنے دست مبارک سے گلاس میں لسّی ڈالنے لگے میں نے خود گلاس پکڑ لیا ۔ اتنے میں چند اور دوست بھی آ گئے میں نے انہیں بھی لسّی پلائی اور خود بھی پی۔ پھر حضور خود وہ ہانڈی اور گلاس لے کر اندر تشریف لے گئے ۔ حضور کی اس شفقت اور نوازش کو دیکھ کر میرے ایمان کو بہت ترقی ہوئی اور یہ حضور کے اخلاق کریمانہ کی ایک ادنیٰ مثال ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ صاحب اِس وقت تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہیں اور یہ خود ان کا اپنا بیان ہے ۔ سادگی کے ساتھ اس واقعہ پر غور کرو کہ حضرت مسیح موعود کے کیریکٹر (سیرت) کے بہت سے پہلوؤں پر اس سے روشنی پڑتی ہے۔ آپ کی سادگی اور بے تکلفی کی ایک شان اس سے نمایاں ہے۔ اکرام ضیف کا پہلو واضح ہے ۔ اپنے احباب پر کسی بھی قسم کی برتری حکومت آپ کے قلب میں پائی نہیں جاتی۔ اور سب سے بڑھ کر جو پہلو اس مختصر سے واقعہ میں پایا جاتاہے وہ یہ ہے کہ آپ کو اپنے دوستوں جو آپ کے خادم کہلانے میں اپنی عزت و فخر یقین کرتے اور آپ کی کفش برداری اپنی سعادت سمجھتے ہیں کی تکلیف کا احساس از بس ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے پیدل چل کر آنے پر فوراً آپ کے قلب مطہر کواس تکلیف کا احساس ہوا جو عام طور پر ایک ایسے شخص کو جو پیدل چلنے کا عادی نہ ہو دس گیارہ میل کا سفر کرنے سے ہو سکتی ہے۔ غرض یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتاہے۔

صفحہ نمبر: 1 (کل صفحات: 4)
پچھلا صفحہ