In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » شخصیات » حضرت مسیح موعودو مہدی معہود ؑ » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

ذکر حبیب

مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب، جلسہ سالانہ 1973ء
+ فہرست مضامین

مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے جلسہ سالانہ ۱۹۷۳ء کے موقعہ پر ذکر حبیبؑ کے عنوان سے بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی، مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی سیرت و اخلاق کے حسب ذیل سات پہلوؤں پر خطاب فرمایا:

(۱)۔۔۔ والدین کی خدمت اور اطاعت

(۲)۔۔۔ بچوں سے شفقت

(۳)۔۔۔ اقرباء سے حسن سلوک

(۴)۔۔۔ مخالفین اور غیر مذاہب والوں سے سلوک

(۵)۔۔۔ دوستی

(۶)۔۔۔ خدام نوازی

(۷)۔۔۔ مہمان نوازی

ذیل میں ہم بشکریہ ماہنامہ تحریک جدید ربوہ ،فروری ۱۹۷۴ء اس خطاب کو پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی سیرت طیبہ کو اپنانے اور آپ کے ارشادات پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ (ادارہ)

*۔۔۔*۔۔۔*

والدین کی خدمت اور اطاعت

۲۱؍ اپریل ۱۸۹۹ء یوم عیدالاضحی کے موقعہ پر حضور ؑ نے فرمایا کہ :

’’ پہلی حالت انسان کی نیک بختی کی یہ ہے کہ والدہ کی عزت کرے ۔ اویس قرنی کے لئے بسا اوقات رسول اللہ ﷺ یمن کی طرف منہ کر کے کہا کرتے تھے کہ مجھے یمن کی طرف سے خدا کی خوشبو آتی ہے۔ آپ ؐ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ وہ اپنی والدہ کی فرمانبرداری میں بہت مصروف رہتاہے اور اسی وجہ سے میرے پاس بھی نہیں آسکتا۔

بظاہر یہ بات ایسی ہے کہ پیغمبر خدا ﷺ موجود ہیں مگر وہ ان کی زیارت نہیں کر سکتے صرف اپنی والدہ کی خدمت گزاری اور فرمانبرداری میں پوری مصروفیت کی وجہ سے۔

مگر میں دیکھتاہوں کہ رسول خداؓ نے دو ہی آدمیوں کو السلام علیکم کی خصوصیت سے وصیت فرمائی یا اویس کو یا مسیح کو ۔ یہ عجیب بات ہے جو دوسرے لوگوں کو ایک خصوصیت کے ساتھ نہیں ملی‘‘۔

’’ہماری تعلیم کیا ہے؟ صرف اللہ اوررسول اللہ ﷺ کی پاک ہدایت کا بتلادیناہے اگر کوئی میرے ساتھ تعلق ظاہر کر کے اس کو ماننا نہیں چاہتا تو وہ ہماری جماعت میں کیوں داخل ہوتا ہے ؟۔۔۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ مادرپدر آزاد کبھی خیر و برکت کا منہ نہ دیکھیں گے ۔ پس نیک نیتی کے ساتھ اور پوری اطاعت اور وفاداری کے رنگ میں خدا اوررسول کے فرمودہ پر عمل کرنے کو تیار ہوجاؤ۔ بہتری اسی میں ہے ورنہ اختیار ہے ہمارا کا م صرف نصیحت کرنا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۲۹۵،۲۹۶)

ایک مرتبہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کی والدہ محترمہ قادیان تشریف لائی ہوئی تھیں۔ حضرت مولوی صاحبؓ نے حضورؑ کی خدمت میں اپنی والدہ کی پیری اور ضعف کا اوران کی خدمت کا جو وہ کرتے ہیں ذکرکیا ۔ حضرت ؑ نے فرمایا:

’’والدین کی خدمت ایک بڑابھاری عمل ہے ۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بدقسمت ہیں ۔ ایک وہ جس نے رمضان پایا اوررمضان گزر گیا اور اس کے گناہ نہ بخشے گئے۔ اوردوسرا وہ جس نے والدین کو پایا اوروالدین گزر گئے اوراس کے گناہ نہ بخشے گئے۔ والدین کے سایہ میں جب بچہ ہوتاہے تو اس کے تمام ہمّ و غم والدین اٹھاتے ہیں۔ جب انسان خود دنیوی امور میں پڑتا ہے تب انسان کو والدین کی قدر معلوم ہوتی ہے ۔ خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں والدہ کو مقدم رکھا ہے کیونکہ والدہ بچہ کے واسطے بہت دکھ اٹھاتی ہے۔ کیسی ہی متعدی بیماری بچہ کو ہوچیچک ہو، ہیضہ ہو، طاعون ہو، ماں اس کو چھوڑ نہیں سکتی۔ ماں سب تکالیف میں بچہ کی شریک ہوتی ہے ۔ یہ طبعی محبت ہے جس کے ساتھ کوئی دوسری محبت مقابلہ نہیں کر سکتی‘‘۔

حضور کو اپنی زندگی کے ابتدائی چند سالوں میں اپنے والد محترم کی خدمت کا موقع بھی میسرآیا۔ گو فطرتاً حضور کو دنیا اور دنیا کے کاموں میں کوئی لگاؤ نہ تھا لیکن صرف حصول ثواب کے لئے حضور نے اپنے والد محترم کی مرضی اورمنشاء کے مطابق پورے انہماک سے وہ خدمت سرانجام دی جو ان کے سپرد کی گئی تھی۔

حضورؑ نے اپنی تصنیف کتاب البریّہ میں خود اس بارہ میں تحریر فرمایاہے۔ فرماتے ہیں:

’’میرے والد صاحب اپنے آباء واجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کررہے تھے ۔ انہوں نے انہی مقدمات میں مجھے بھی لگایااور ایک زمانہ دراز تک میں ا ن کاموں میں مشغول رہا ۔

مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع ہو گیا اوراس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔ میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا مگرتاہم میں خیال کرتاہوں کہ میں نے نیک نیتی سے، نہ دنیا کے لئے بلکہ محض ثواب اطاعت حاصل کرنے کے لئے اپنے والد صاحب کی خدمت میں اپنے تئیں محو کردیا تھا اور ان کے لئے دعا میں بھی مشغول رہتاتھا اور وہ مجھے دلی یقین سے بربالوالدین جانتے تھے‘‘۔

حضور کی زندگی کے یہ ایام دست بکار و دل بایار کے مصداق تھے لیکن والد صاحب کی وفات کے بعد دنیا اور دنیا کے کاموں سے کلیۃً کنارہ کش ہو کر دست کاریار میں اور دل یاد یار میں محو ہو گئے اور یہی آپ کی زندگی کا مقصود اور مدعا تھا۔

صفحہ نمبر: 1 (کل صفحات: 4)
پچھلا صفحہ