In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » شخصیات » خلفائے عظام سلسلہ عالیہ احمدیہ » حضرت مصلح موعود خلیفۃ المسیح الثانیؓ »

’’مِلّت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے!‘‘

حضرت مصلح موعود ؓسے وابستہ چند ذاتی مشاہدات اور یادیں (منیر احمد بانی، کلکتہ)

تصورات کی دنیا حدود و قیود سے آزاد اور بلند ہوتی ہے۔ میرا تخیل مجھے آج خدا تعالیٰ کے دربار میں لے گیا۔ یہاں وہ احباب حاضر ہیں جنہوں نے حضرت المصلح الموعودؓ کا زمانہ پایا۔ آپؓ کی صحبت نصیب ہوئی۔ اور آپؓ کے روح پرور خطابات اور تقاریر سے محظوظ ہوتے رہے۔ اس جماعت کی کسی حقیر خدمت پر خدا تعالیٰ خوشی کا اظہار فرماتا ہے۔ اور اپنے بندوں سے کہتا ہے کہ آج مانگو! جو مانگنا ہے تو میری چھٹی حس کہتی ہے کہ مومنین کے اس طائفہ کی مشترکہ درخواست اورمتفقہ میمورنڈم یہی ہوگا کہ مولیٰ کریم! پروردگار! ایک مرتبہ پھر دنیا میں بھیج دے ۔ قادیان کی وہی راتیں ہوں اور المصلح الموعودؓ کی وہی باتیں ہوں۔ وہی مجلس عرفان اور وہی روحانیت کاانتشار!!!

خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق حضرت المصلح الموعودؓ کو لاکھوں عشّاق عطا فرمائے لیکن یہ خاکسار جب حضورؓ پر عاشق ہوا تو میری عمر صرف پانچ سال تھی۔ اخبار الفضل اور دوسرے دینی رسائل ہماری دکان پر آتے تھے ۔ والد صاحب مرحوم ( میاں محمد صدیق صاحب بانی)شام کو گھر آتے تو ان اخبارات و رسائل سے حضورؓ کا کلام معرفت اور احباب جماعت کو نصائح آسان زبان میں بچوں کے ذہن نشین کراتے۔ والد صاحب کی حضور سے باقاعدہ خط و کتابت تھی۔ اکثر و بیشتر جواب پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کا لکھا ہوا موصول ہوتا تھا۔ لیکن کبھی کبھار حضورؓ اپنے ہاتھ سے بھی خط رقم فرماتے۔ انسان کی فطرت میں خد ا تعالیٰ نے یہ بات رکھ دی ہے کہ جب کسی اَن دیکھی شخصیت کا ذکر اس کے سامنے کیا جائے تو اس شخصیت کی خوبیو ں کی مناسبت سے ایک خیالی تصویر اس کے ذہن پر نقش ہو جاتی ہے۔ حضورؓ کی روزانہ تعریف و توصیف سن کر میں گویا غائبانہ عاشق ہو گیا اور میرے دل و دماغ پرایک انتہائی حسین و جمیل شخصیت کے نقوش ابھر آئے۔

۱۹۳۹ء کا جلسہ سالانہ سلور جوبلی کا جلسہ تھا ۔ بچے بھی اس موقعہ پر قادیان جانے کے لئے بضد ہوئے ۔ اس زمانہ میں جلسہ کی برکات اور فوائد کا تو علم نہ تھا قادیان جانے کا مقصد صرف حضورؓ کا دیدارحاصل کرنا تھا۔ جلسہ سالانہ کے پہلے روز سردی بڑی شدت کی تھی اس لئے کسی قدرتاخیر سے جلسہ گاہ میں پہنچے۔ سٹیج سے بہت دور جگہ ملی۔ حضورؓ افتتاحی تقریر کے لئے سٹیج پر رونق افروز تھے۔ اور کوئی دوست درّثمین سے ’’محمود کی آمین‘‘ کے یہ اشعار بڑی خوش الحانی سے پڑھ رہے تھے؂

لختِ جگر ہے میرا محمود بندہ تیرا

دے اس کو عمر و دولت کر دور ہر اندھیرا

دن ہوں مرُادوں والے پُرنوُر ہو سویرا

یہ روز کر مبارَک سُبحانَ مَن یّرانِی

بچپن اور سٹیج سے دُوری کے باعث میں حضور ؓ کا چہرہ نہ دیکھ سکا۔ اشتیاق اور بڑھ گیا۔ بالآخر وہ مبا رک گھڑی آن پہنچی ۔ غالباً مدرسہ احمدیہ کے چوک میں بنگال کی تمام جماعتیں ایک لمبی قطار میں ایستادہ تھیں۔ حضورؓ نے باری باری سب کو شرف مصافحہ بخشا۔ جب ہماری باری آئی تو والد صاحب نے میراہاتھ پکڑ کر جلدی سے حضورؓ کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس وقت خاکسار نے پہلی دفعہ حضورؓ کے دیدار سے آنکھیں روشن کیں۔ میں نے اپنے دماغ میں حضور کا جو تصور قائم کر رکھا تھا اس سے کہیں زیادہ حسین و جمیل! مصافحہ سے ایک بجلی کی رَو میر ے بدن سے گزر گئی۔ خاکسار شعور کے پختہ ہونے تک بجلی کی اس رَو پرحیران رہالیکن کبھی کسی سے ذکر نہ کیا۔ بعدازاں بہت سے بزرگان سے ایسے واقعات سنے اورکتابوں میں پڑھا کہ خدا تعالیٰ کے فرستادوں اور روحانیت سے معمور شخصیتوں کا لمس حاصل ہونے پر بعض دفعہ بجلی کی سی رَو بدن سے گزرتی ہے جس کی لذت صرف محسوس کی جا سکتی ہے۔ تحریر و تقریر اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے ۔ ۱۹۴۱ء میں ہمارا خاندان قادیان آ بسا ۔ حضورؓ کی خدمت میں کئی دفعہ حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ ہر ملاقات کے دل پر گہرے نقوش ثبت ہیں ۔ چند ذاتی مشاہدات اور یادیں ہدیہ قارئین ہیں:

(۱)

قادیان میں حضرت ام طاہرؓ کا وجود سراپا شفقت و محبت تھا۔ ان سے ملنے والی ہر خاتون یہی سمجھتی تھی کہ آپؓ سب سے زیادہ مجھ سے ہی محبت کرتی ہیں۔ والدہ صاحبہ کو انہوں نے اپنی بیٹی بنایا ہوا تھا۔ والدہ صاحبہ کے ہمراہ ہم بچے بھی ہفتہ میں دو تین بار حضرت مرحومہؓ کے ہاں جاتے۔ اکثر حضرت المصلح الموعودؓ بھی وہاں تشریف فرما ہوتے۔ گھریلو ماحول میں انہیں بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔ عام طورپر خدا رسیدہ بزرگان کے بارہ میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ بہت خشک اور خاموش ہوتے ہونگے۔ لیکن حضرت المصلح الموعودؓ سے زیادہ زندہ دل شخصیت میں نے نہیں دیکھی۔ آپ اکثر اپنی بات کی وضاحت کے لئے دلچسپ لطائف بیان فرماتے جو کہ میں گھر آ کر اپنی نوٹ بک پر درج کر تا۔ ایک دن ہم بہن بھائیوں نے حضرت امّ طاہر سے درخواست کی کہ حضورؓ کا کوئی تبرک عنایت فرماویں۔ انہوں نے فرمایا کہ حضور قصر خلافت میں ہیں ۔ خود جا کر مانگ لو۔ چنانچہ ہم تینوں چلے گئے۔ حضور ؓ اپنے کمرہ میں فرش پر لیٹے ہوئے تھے اور کسی کتاب کا مطالعہ فرما رہے تھے۔ السلام علیکمعرض کرنے پر اٹھ کر بیٹھ گئے اور اتنے تپاک اور شفقت سے حال دریافت فرمایا کو گویا حضورؓ ہمارا ہی انتظار فرما رہے تھے۔ پوچھا بچو! کیسے آنا ہوا؟ ہم نے مدّعا عرض کیا کہ کوئی تبرک عنایت فرمائیں۔ حضور ؓ نے ریفریجیریٹر سے تین عدد عمدہ سیب نکال کر دئے اور خود پھر کتاب پڑھنے میں منہمک ہو گئے۔ ہم بھائیوں نے وہیں بیٹھ کر سیب کھائے۔ تھوڑ ی دیر کے بعد حضورؓ کی توجہ ہماری طرف ہوئی تو فرمایا بچو! اب کیوں بیٹھے ہو۔ خاکسار نے عرض کیا کہ تبرک کے لئے درخواست کی تھی۔ حضورؓ زیر لب مسکرائے اور فرمایا جو سیب کھائے ہیں وہ کیا تھا؟ بچپن کی سادگی تھی ہم نے عرض کیا وہ تو ہم نے کھا لئے ۔ کوئی ایسی چیز دیں جو ہمارے پاس رہے۔ اس پر حضورؓ نے تین خوبصورت رُومال عنایت فرمائے۔ اورہم اجازت لے کر چلے آئے۔ ۱۹۴۶ء کے فسادات میں کلکتہ میں ہمارا مکان جل گیا تو ان تبرکات سے ہم محروم ہو گئے۔ لیکن اپنے محبوب کے مقدس ہاتھوں سے جو سیب کھائے تھے ان کی لذت اور شیرینی تادم واپسیں نہ بھولے گی!!

(۲)

ایک دن والدہ صاحبہ کے ہمراہ حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور نے والدہ صاحبہ سے تحریک جدید میں شمولیت کے تعلق سے دریافت فرمایا ۔ والدہ صاحبہ نے بتایا کہ میں اور سیٹھ صاحب ۱۹۳۴ء سے ہی اس تحریک میں بفضلہ تعالیٰ شامل ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ آپ دونوں کے متعلق مجھے علم ہے میں بچوں کے بارہ میں پوچھ رہا ہوں۔ والدہ صاحبہ نے اپنے تین لڑکوں اور دو بچیوں کی طرف سے دس روپیہ سالانہ کے حساب سے دس سال کے لئے مبلغ پانصدر روپے وہیں ادا کئے۔ حضورؓ نے بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ دفتر تحریک جدید قصر خلافت کے قریب ہی تھا ۔ رقم آپؓ نے وہاں بھجوا دی۔ اور دو تین روزبعد حضور ؓ کے دستخطوں سے مزیّن دس سالہ سرٹیفکیٹ ہم پانچ بہن بھائیوں کو خود عنایت فرمائے۔ اور حضورؓ کی اس مہربانی سے ہم پانچوں اب دفتر اوّل کے مجاہدین میں شامل ہیں۔

(۳)

۱۹۴۳ء میں والد صاحب نے ارادہ کیا کہ قادیان میں اپنا مکان خرید لیں۔ مختلف محلہ جات میں مکانات دیکھے بالآخر محلہ دارالبرکات میں ایک نیا تعمیر شدہ مکان پسندآیا۔ یہ اس وقت مکرم شیخ فضل حق صاحب ریلوے گارڈ کی ملکیت تھا۔ گارڈ صاحب نے کہا میں نے بڑے شوق سے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے یہ مکان بنوایا تھا۔ کسی خانگی ضرورت کے پیش نظر فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔ قیمت فروخت انہوں نے بارہ ہزار بتلائی لیکن یہ شرط رکھی کہ کسی سے مکان کی فروختگی کا ذکر نہ کریں۔ دو دن تک مجھے Yes یا No بتلا دیں۔ والد صاحب نے کہا مجھے قادیان میں مکان وغیرہ کی قیمتوں کا مطلقاً اندازہ نہیں ہے۔ آپ اجازت دیں۔ میں صرف حضرت صاحبؓ سے مشورہ کروں گا۔ چنانچہ والد صاحب مرحوم خاکسار کو ہمراہ لے کر حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ساری بات بیان کی۔ حضور نے فرمایا گارڈ صاحب کی بیٹی احمدی بیگم کی شادی ہوئی تھی تو میں بھی اس مکان میں گیا تھا۔ بڑے ہال کمرہ میں مہمانوں کو بٹھایا گیا تھا۔ والد صاحب نے عرض کیا کہ اس ہال کمرہ کے چاروں کونوں پر اتنے رقبہ کے چار کمرے ہیں۔ حضور نے دو منٹ انگلیوں پر حساب کیا اور فرمایا کہ گارڈ صاحب نے یہ مکان ایک سال قبل بنوایا تھا میرے اندازے کے مطابق ان کی لاگت اس مکان پر پونے گیارہ ہزار روپے ہے ۔ اس لحاظ سے بارہ ہزار بہت مناسب قیمت ہے۔ ہم لوگ واپس گارڈ صاحب کے یہاں آئے اور مکان کا سودا طے کر کے بیعانہ دے دیا۔ والد صاحب نے گارڈ صاحب سے کہا کہ سودا تو ہو گیا۔ اب آپ کے یہ بتلانے میں کچھ حرج نہیں ہے کہ یہ مکان بنوانے پر آپ کا کتنا خرچ آیا۔ گارڈ صاحب نے بتلایا قریباً پونے گیارہ ہزار۔ اس پر والد صاحب نے گارڈ صاحب کو حضورؓ کے ساتھ اپنی گفتگو تفصیل کے ساتھ سنائی۔ سارے موجود الوقت احباب بہت ہی خوش ہوئے ۔ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی میں درج ہے ’’وہ علوم ظاہر ی و باطنی سے پُر کیا جائے گا‘‘۔ والد صاحب نے بتلایا میں کلکتہ میں بڑے بڑے انجینئروں سے مکانات کی مالیت کے اندازے لگواتا ہوں۔ مہینوں کی مغزماری کے بعد بھی ان کا تخمینہ اکثر غلط ہوتا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ کی یہ پیشگوئی کتنی شان سے پوری ہوئی کہ حضور نے قصر خلافت میں ہی بیٹھ کر صرف دو منٹ میں مکان کی مالیت کا کس قدر صحیح اندازہ بتلا دیا۔

(۴)

خاکسار نے ۱۹۴۸ء میں تعلیم الاسلام کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ ان دنوں حضرت المصلح الموعودؓ کا قیام رتن باغ لاہور میں تھا۔ ۱۹۴۷ء میں ہجرت کی وجہ سے انتہائی بے سروسامانی کا عالم تھا۔ حضورؓ کے تفکرات کئی چند ہو چکے تھے۔ لیکن ان ایام میں ایسے حالات میں بھی طلبہ پر حضور ؓ غیر معمولی شفقت کا اظہار فرماتے۔ تعلیم الاسلام کالج میں جب بھی کوئی تقریب منعقد ہوتی تو حضوؓر اکثر تشریف لا کر خطاب سے نوازتے ۔ طلباء اگر حضور سے ملاقات کی غرض سے رتن باغ جاتے تو میراتاثر یہ ہے کہ غالباً پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو ہدایت تھی کہ طلبہ کا خاص خیال رکھاجائے اور اکثر و بیشتر انہیں ملاقات کاوقت دیاجائے۔ ۱۸؍ ستمبر۱۹۴۹ء کو طلبہ کا ایک وفد پروفیسر سلطان محمود شاہد صاحب کی قیادت میں حضور ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضورؓ قالین پر تشریف فرما تھے ۔ ہم بھی حضور ؓ کے قدموں میں جا کر بیٹھ گئے۔ طلبہ نے اپنی اپنی نوٹ بکیں پیش کیں۔ حضورؓ نے ان پر نصائح لکھ کر دیں ۔ خاکسار کی ڈائری پر رقم فرمایا:

’’تقویٰ، تقویٰ اور تقویٰ اور پھر محنت عزم اور ایثار‘‘ ۔مرزا محمود احمد‘‘

ا س وفد میں مکرم مبارک احمد صاحب مدراسی: (حال پروفیسر سرینگر) بھی شامل تھے۔ ان کی کاپی پر حضور ؓ نے رقم فرمایا:’’ فضولیات سے پرہیزکرو‘‘

بعد ازاں حضورؓ نے طلبہ کو نصائح سے نوازا کہ آپ کو بے حد محنت کی ضرورت ہے ۔ حالات سرعت سے بدل رہے ہیں۔ پاکستان میں احمدیت کی مخالفت بہت تیز ہو جائے گی۔ اگر کسی وقت بھی جماعت بے سر ہو جائے تو ہر شخص اپنے آپ کو ستو ن سمجھے۔ اور جماعت کو منتشر ہونے سے بچائے ۔(اپنی ڈائری سے اقتباس)

(۵)

۱۹۴۴ء میں اللہ تعالیٰ نے الہاماً حضور ؓ کو بتلایا کہ آپؓ ہی پیشگوئی مصلح موعود کے مصداق ہیں۔ یوں تو منصبِ خلافت پر متمکن ہونے کے بعد سے ہی حضورؓ کی تقاریر اور خطبات مسحور کن ہوتے تھے لیکن اس انکشاف کے بعد تو حضورؓ کے جلال و جمال پر گویا نکھار آ گیا۔ والد صاحب مرحوم ہر سال ایک دو ماہ کے لئے قادیان آیا کرتے تھے۔ اور قادیان کے روحانی ماحول اور برکات پر فدا تھے۔ آپ اکثر کہا کرتے تھے کہ مُغل شہنشاہ شاہجہان کا یہ قول لال قلعہ دہلی کے دیوان خاص میں کندہ ہے کہ ؂

اگر فردوس بر روئے زمین است

ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

روحانی اعتبار سے مذکورہ شعر کی مصداق صرف قادیان کی مقدس سرزمین ہے، روحانیت کا سمندر ہے جس میں ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق غوطہ زن ہوتا ہے اور استغفار کرتا رہے۔ کلکتہ سے دو ماہ کے لئے قادیان آتاہوں تو دل پر لگے ہزارہا زنگ چھوٹ جاتے ہیں اور قادیان کی محبت ایک مقناطیسی کشش اپنے اندر رکھتی ہے۔ بقول شاعر ؂

ہم نہ کشمیر میں جائیں نہ دل شملہ میں بہلائیں!

موافق آ گئی آب و ہوائے قادیاں اچھی

۱۹۴۴ء میں جب والدصاحب آئے تو جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے حضورؓ کے جلال و جمال کئی گناMultiply ہو چکا تھا۔ روزانہ ہم لوگ مجلس علم و عرفان میں حاضر ہوتے اور اکثر رات دس گیارہ بجے واپس گھر آتے۔ والد صاحب ایسے مسحور ہوئے کہ انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ کاروبار چھوڑ کر قادیان میں دُھونی رما کر بیٹھ جائیں گے۔ آپ کا کہنا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اتنی دولت سے نوازا ہے کہ میری تین چار پشتوں کے لئے کافی ہے۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ نہیں پایا لیکن یہ امر میرے اپنے اختیار میں نہیں تھا۔ میر ی انتہائی خوش قسمتی اور خوش بختی ہے کہ چنیوٹ کی سنگلاخ زمین میں پیدا ہونے کے باوجود مجھے مامورزمانہ پر ایمان لانے کی توفیق ملی۔ اور میں اس موعود کی روحانیت سے مستفید ہوا جو حسن و احسان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی نظیر ہے۔ یہ شعر اکثر آپ کے ورد زبان رہتا کہ ؂

اک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا

پھر خدا جانے کہ کب آویں یہ دن اور یہ بہار

والدہ صاحبہ کئی وجوہات سے اس پروگرام کی سخت مخالف تھیں۔ گھر کی فضا ہفتہ عشرہ بہت کشیدہ رہی۔ مذکورہ پروگرا م کی موافقت اور مخالفت میں روزانہ ہی دلچسپ مباحثہ ہوتا ۔ والد صاحب کئی واقعات سناتے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فلاں فلاں صحابی کو اور حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کو ارشاد فرمایا کہ قادیان آ کر سکونت اختیار کرو۔ والدہ صاحبہ کی دلیل تھی کہ ایک لحاظ سے تو قادیان میں ہی آپ کی سکونت ہے ۔ مکان خرید لیا ہے ۔ بال بچے یہاں کے روحانی ماحول میں پرورش پارہے ہیں لیکن بچوں کا مستقبل اس امرکا متقاضی ہے کہ آپ کاروبار کو خیر باد نہ کہیں۔ والدہ صاحبہ کا کہنا تھا کہ خدا تعالیٰ کے فرستادے اور خلفاء ، روحانی طبیب ہوتے ہیں۔ ہر مریض کی علیحدہ تشخیص فرما کر اس کے مناسب حال نسخہ تجویز فرماتے ہیں۔ رسول پاک ﷺ نے کسی صحابی کو نصیحت فرمائی کہ سب سے بڑی نیکی ماں باپ کی خدمت کرناہے۔ کوئی اگر عبادت میں کمزور تھا تو اس کے مناسب حال یہ نسخہ تجویز فرمایا کہ سب سے بڑی نیکی نمازوں کی بروقت ادائیگی ہے۔ کسی کو جھوٹ سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ لیکن آپس کے بحث مباحثہ سے مفاہمت نہ ہوسکی بالآخر یہ طے پایا کہ حضرت المصلح الموعودؓ سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ والد صاحب اور والدہ صاحبہ اس بات پر متفق ہو گئے کہ حضورؓ کی ہدایت کے دونوں پابند ہونگے۔ والد صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ والد ہ صاحبہ کے نمائندہ کے طورپر یہ خاکسار ہمراہ تھا۔ والد صاحب نے اپنی دلی خواہش کا اظہار بلا کم وکاست بیان کیا۔ حضور ؓ نے جو ارشاد فرمایا اس کا مفہوم اپنے الفاظ میں درج ذیل ہے:

(۱)۔۔۔کیا اس بات کی گارنٹی آپ نے حاصل کر لی ہے کہ یہ تین چار پشتوں والی دولت ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی؟ اگر آپ کی ضروریات سے وافر دولت آپ کے پاس ہے تو اسلام اور احمدیت کی پہلے سے زیادہ خدمت کریں۔

(۲)۔۔۔ رسول پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ بنے ہوئے کام اور روزگار کو بلاوجہ ترک نہ کرنا چاہئے ۔

(۳)۔۔۔اگر آپ اس وقت کاروبار چھوڑ کر بیٹھ جائیں گے تو آپ کے بچے بڑے ہوکر کبوتر اڑائیں گے!!

حضور ؓ کے مشورہ پر والد صاحب نے عمل کیا۔ کاروبار کو خیر بادکہنے کا ارادہ ترک کر دیا اور واپس کلکتہ چلے گئے۔ خدا تعالیٰ کے پیاروں کے منہ سے عمومی رنگ میں نکلی ہوئی باتیں بھی اکثر پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہیں۔ اس واقعہ کے قریباً دو سال بعد ہی ۱۹۴۶ء میں کلکتہ میں وسیع پیمانے پر ہندو مسلم فسادات رونما ہوئے۔ ہماری تجارت بکلّی تباہ ہو گئی۔ سکنی مکانات جلا کر خاک کر دئے گئے ۔ کار نذر آتش ہوئی اور تین چار پشتوں والی دولت ایک قصہ پارینہ ہو گئی۔ ۱۹۴۷ء میں قادیان میں خرید ی ہوئی وسیع جائیداد بھی ہاتھ سے نکل گئی۔والد صاحب نے ہمت نہ ہاری ۔ نئے سرے سے کاروبار کی الف، ب، ت، شروع کی گئی ۔ ۱۹۵۸ء تک مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے دوبارہ اپنے فضلوں سے نوازا تو اسلام اور احمدیت کی راہ میں اپنے آخری وقت تک بے دریغ خرچ کرتے رہے۔

خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے موافق حضورؓ اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے۔ حضورؓ کے روح پرور کلمات آپؓ کے عشاق کے دلوں کو ہمیشہ لبھاتے اور گرماتے رہیں گے۔ آپؓ کے کارنامے قیامت تک تابندہ رہیں گے۔ اور اب تو خداتعالیٰ کی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا زمانہ قریب سے قریب تر چلا آتا ہے ؂

اک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ

ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے

(بشکریہ ہفت روزہ بدر،قادیان،۱۰؍ فروری ۱۹۸۳ء)

*۔۔۔*۔۔۔*

(مطبوعہ:الفضل انٹرنیشنل ۲۰؍فروری۱۹۹۸ء تا۲۶؍فروری ۱۹۹۸ء)