In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » دنیائے مذاہب » عیسائیت » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

صحف سابقہ کی تاریخ ، پیشگوئیوں اور عقائد کو توڑ مررڑ کر بیان کرنے والا کون ہے؟

قرآن مجید یا اناجیل؟ (ٹھوس علمی اور تحقیقی مقالہ ، سید میر محمود احمد ناصر)
+ فہرست مضامین

پادری وہیری صاحب کہتے ہیں کہ قرآن مجید، نبی عربی ﷺ کے (نعوذباللہ) مفتری ہونے کا ثبوت اس طرح بھی مہیا کرتا ہے کہ :

''In his putting into the mouth of God garbled statements as to scripture history, prophecy, and doctrine, to suit the purpose of his prophetic pretensions'',

پادری صاحب ان الفاظ میں ہمارے نبی ﷺ پر یہ ناپاک الزام لگاتے ہیں کہ آپ ؐ نے صحفِ سابقہ کی تاریخ کے بارہ میں ،پیشگوئی کے بارہ میں اور عقیدہ کے بارہ میں مروڑ تروڑ کر بیانات خدا کے منہ میں ڈالے ہیں جو آپ کے دعویٰ نبوت کے ساتھ موافقت رکھتے ہیں۔ پادری صاحب کو اگر قرآن کریم کے بیانات پر کوئی شبہات تھے اور وہ ادب کے ساتھ اس پر کوئی سوال یا اعتراض کرتے تو ہمیں ناراضگی کا کوئی حق نہیں تھا مگر پادری صاحب نے جس انداز میں یہ اعتراض اٹھایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سب سے جلیل القدر نبی ﷺ پر زبان طعن دراز کی ہے وہ ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم بھی انہی کے سکہ میں ان کی ادائیگی کریں اور ان کو دکھائیں کہ جو اعتراض انہوں نے اٹھایا ہے وہ قرآن مجید پر نہیں بلکہ اناجیل پر وارد ہوتا ہے۔ اناجیل پرانے عہد نامہ کی پیشگوئیوں ، تاریخ اور عقائد کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہیں

سو واضح ہو کہ اناجیل نے پرانے عہدنامے کی پیشگوئیوں اور تاریخ اور حوالجات سے مسلسل جو سلوک کیا ہے وہ قابل شرم جھوٹ کے نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔ اوراگرآپ کو خیال ہو کہ ہم تعصب سے کام لے رہے ہیں تو ہم خود آ پ کے بھائی مغربی علماء بائبل کے اقوال سند کے طور پر پیش کریں گے۔

متی ولوقا کی اناجیل اور حضرت مسیح علیہ السلام کا نسب نامہ

سب سے پہلے متی کی انجیل کے پہلے باب کوہی لیجئے ۔ متی کے انجیل نویس نے پہلے باب میں حضرت مسیح کا ایک خود ساختہ نسب نامہ پیش کیا ہے ۔ اس نسب نامے کا ایک مقصد یہ ہے کہ حضرت مسیح کو ابن داؤد ثابت کیا جائے یعنی حضرت داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے ثابت کیا جائے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہود میں یہ تصور رائج ہو چکا تھا کہ آنے والا مسیح داؤد کی نسل سے ہوگا۔( یہود کے اس تصور کی بنیاد زبور باب ۳۲ ۱آیت ۱۱، یسعیاہ باب ۱۱ آیت ۱، یرمیاہ باب۲۳ آیت ۵، وغیرہ پر تھی)۔ یسوع کی مسیحیت ثابت کرنے کے لئے متی کا انجیل نویس مجبور ہوا ہے کہ کسی طرح انہیں داؤد کی نسل سے ثابت کرے۔ ان کے والد تو تھے ہی نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نویس کو ان کی والدہ کے داؤد کی نسل سے ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ (لوقا کی انجیل سے قرینہ ملتا ہے کہ وہ لاوی قبیلہ سے تھیں اس لئے داؤد کی نسل سے نہیں ہو سکتیں)۔ لہذا انجیل نویس نے پیش گوئی پوری کرنے کا ایک نرالا ڈھنگ نکالا ہے کہ ایک نسب نامہ ( جو اپنی ذات میں بھی مشتبہ ہے) حضرت مریم کے خاوند یوسف کا دیا ہے اور اس نسب نامے میں یوسف کو حضرت داؤد کی نسل سے دکھایا ہے۔ اوراس طرح حضرت مسیح کو داؤد کی نسل سے قرار دینے کی کوشش کی ہے۔

پادری وہیری صاحب ! آپ قرآن پر، نبی عربی ﷺ پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ صحائف کی تاریخ بگاڑتا ہے تا کہ اپنی نبوت کے دعاوی ثابت کرے۔ دیکھئے آ پ کی کتاب مقدس نے حضرت مسیح کو ابن داؤد ثابت کرنے کے لئے کیسے تاریخ کا حلیہ بگاڑا ہے کہ اس کی تائید میں یوسف کا نسب نامہ پیش کیا ہے حالانکہ یوسف کو حضرت مسیح سے کوئی نسبی تعلق نہیں۔ نہ حضرت مسیح یوسف کے بیٹے ہیں کہ یوسف کے نسب نامے سے ان کے داؤد کی نسل ہونے کا ثبوت مل سکے۔ یوسف حضرت مسیح کے فرضی باپ ہیں ۔ اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ یوسف داؤد کی نسل سے ہیں تب بھی حضرت مسیح ابن داؤد ثابت نہیں ہوتے۔ انجیل نویس نے کوشش بھی کی، تاریخ کو بگاڑا بھی اور اس بگاڑ کے ذریعہ یسوع کے دعویٰ مسیحیت کو ثابت کرنا مقصود تھا۔ گویا جو اعتراض قرآ ن پر اور نبی عرب ﷺ پر آ پ نے اٹھایا تھا وہ متی کی انجیل پر وارد ہوا۔ ابھی بات ختم نہیں ہوئی ۔ متی کا انجیل نویس نسب نامہ درج کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ :

’’سب پشتیں ابرہام سے داؤد تک چودہ پشتیں ہوئیں اور داؤد سے لے کر گرفتار ہو کر بابل جانے تک چودہ پشتیں اور گرفتار ہو کر بابل جانے سے لے کر مسیح تک چودہ پشتیں ہوئیں۔ (متی باب ۱ آیت ۱۷)

یہاں متی کا انجیل نویس اپنے کسی ذوقی خیال کی بنا پر نسب نامے کو چودہ چودہ پشتوں کی تین جماعتوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ معلوم نہیں کیوں؟ (شاید اس لئے کہ داؤد کو عبرانی میں’ دودِ‘ کہتے ہیں اور اس کے ابجد کے حساب سے اعداد کی میزان چودہ بنتی ہے)۔

مگر اس ذوق و شوق میں متی کے انجیل نویس نے باب۱ آیت۸ میں یورام کے بعد تین نام اخزیاہ، یواس اور امضیاہ چھوڑ دئے ہیں جو پرانے عہد نامے کی کتاب ا ۔ تواریخ باب ۳ آیت ۱۱،۱۲ میں مذکور ہیں۔ اورآیت نمبر ۱۱ میں یوسیاہ کے بعد الیاقیم کانام چھوڑ دیا ہے جو پرانے عہدنامے کی کتاب ۲ سلاطین باب ۲۳ آیت ۳۴ میں مذکور ہے۔

دیکھئے پادری صاحب نیا عہدنامہ جو آپ کے نزدیک کتاب مقدس اور کلام الٰہی ہے کس طرح پرانے عہد نامہ کی کہ وہ بھی آپ کے نزدیک کتاب مقدس اور کلام الٰہی ہے کتربیونت کرتا ہے۔ اور صرف پرانے عہد نامے تک ہی محدود نہیں خود متی کے انجیل نویس نے جو چودہ چودہ کے تین گروپ بنائے ہیں اس کے آخری گروپ میں ۱۳ نام ہیں نہ کہ چودہ۔

یہ تو تھا متی کے انجیل نویس کا نسب نامہ مگر ایک نسب نامہ لوقا کی انجیل میں بھی درج ہے ۔ لوقا باب ۲۳ آیت ۳۸ میں یہ نسب نامہ متی کے نسب نامے سے کلیۃً مختلف ہے ۔ یہ نسب نامہ بھی یوسف کا ہی ہے حضرت مریم کا نہیں (برصغیر ہندوپاکستان میں بعض پادری یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک نسب نامہ مریم کا ہے او ر دوسرا یوسف کا ۔ یہ بات دونوں نسب ناموں کے واضح الفاظ کے خلاف ہے)۔اس نسب نامے میں حضرت داؤد سے لے کر یوسف تک ۵۴ نام ہیں ۔ متی کے نسب نامے میں خود متی کی گنتی کے مطابق ۲۸ نام ہیں۔ ناموں کی تعداد کے علاوہ دونوں نسب ناموں میں ناموں کی تعیین بالکل مختلف ہے۔ حد یہ ہے کہ متی کی رو سے حضرت مسیح حضرت داؤد کے بیٹے حضرت سلیمان کی اولاد میں سے تھے ( متی باب ۱ آیت ۷) مگر لوقا کی رو سے وہ حضرت داؤد کے بیٹے ناتن کی نسل سے ہیں۔ اور پادری صاحب ذرا غور سے اپنے پادری بھائی کی یہ تحریر پڑھیں:

"Both genealogies reflect current rabbinical ideas about the Messiah descent. It was disputed, for instance, wether He would be descended from David through Solomon, or wether, owing to the curse on this live (Jer: 22 28 30 36) through an other son, Nathan

(1Ch:3-5)

Accordingly St. Matthewis genealogy traces our Lords descent through Solomon, St Luke through Nathan.(A commentary on the Holy Bible Edited by the Rev. J.R. Dummellow

Macnillan & Co. Ltd. London .St.Matthew introduction , page 623)

یہود میں یہ بحث ہوا کرتی تھی کہ آنے والا مسیح داؤد کی نسل تو ہوگا مگر داؤد کے کس بیٹے کی نسل ہوگا؟ کچھ کہتے تھے سلیمان کی نسل سے ، کچھ کہتے تھے ناتن کی نسل سے۔ متی نے اپنے زمانے ، اپنے علاقے اور اپنے ماحول کی فضا کے مطابق ایک نسب نامہ حضرت مسیح کا تیار کر دیا جس میں ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح داؤد کے بیٹے سلیمان کی نسل سے تھے۔ لوقا نے اپنے زمانے میں اپنے علاقے میں ، اپنے ماحول کی فضا میں ایک نسب نامہ تیار کردیا اور ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح داؤد کے بیٹے ناتن کی نسل سے تھے !!

پادری صاحب! آ پ نے دیکھا کہ جو الزام آ پ نے قرآن مجید پر تاریخ اور پیشگوئیوں کو بگاڑنے کا لگایا تھا وہ کس ’’ شان‘‘ کے ساتھ خود آپ کی کتاب مقدس پر وارد ہوتا ہے۔

*۔۔۔ یہ تو تھی کوشش متی اور لوقا کی یسوع کو ابن داؤد ثابت کرنے کی ۔ تا کہ پرانے عہدنامے کی پیشگوئیوں کے مطابق آپ کو ابن داؤد ثابت کر کے آپ کا مسیح ہونا ثابت کرے۔ مگر دیکھئے خود حضرت مسیح اس بارہ میں کیا کہتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح پر یہ اعتراض بڑی شدت سے ہوتا تھا کہ وہ داؤد کی نسل سے نہیں ا س لئے مسیح کس طرح ہو سکتے ہیں۔ (یوحنا میں اشارۃً یہ اعتراض موجود ہے ۔ دیکھیں یوحنا باب ۷ آیت ۴۰ تا ۴۳)

حضرت مسیح کے پاس اپنے ابن داؤد ہونے کے لئے متی اور لوقا کے خود ساختہ نسب نامے تو تھے نہیں ۔ پس حضرت مسیح نے اس اعتراض کے بارہ میں جو کہا وہ ذرا غور سے پڑھئے :

متی باب ۲۲ میں لکھا ہے ’’ اور جب فریسی جمع ہوئے تو یسوع نے ان سے پوچھا کہ تم مسیح کے حق میں کیا سمجھتے ہو؟ وہ کس کا بیٹا ہے؟ انہوں نے اس سے کہا داؤد کا۔ اس نے ان سے کہا پس داؤد روح کی ہدایت سے کیونکر اسے خداوند کہتا ہے کہ خداوند نے میرے خدا وند سے کہا ۔ میری دہنی طرف بیٹھ۔ جب تک میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کے نیچے نہ کر دوں؟ پس جب داؤد اس کو خداوند کہتا ہے تو وہ اس کا بیٹا کیونکر ٹھہرا۔ ؟ اورکوئی اس کے جواب میں ایک حرف نہ کہہ سکا۔ اور نہ اس دن سے پھر کسی نے اس سے سوال کرنے کی جرأت کی‘‘۔(متی باب ۲۲ آیت ۴۱ تا ۴۶)

محترم پادری صاحب ! اس حوالے کو پڑھئے اور پھر پڑھئے ۔ متی اور لوقا کے انجیل نویس کھینچ تان کر پورا زور لگا کر آپس میں حد درجہ مختلف اور متضاد اور پرانے عہد نامے سے بھی مختلف نسب نامے تراش کر حضرت مسیح کی صداقت ثابت کرنے کے لئے آ پ کو ابن داؤد ثابت کر رہے ہیں اور حضرت مسیح ان کی تمام محنت پر پانی پھیرتے ہوئے پرانے عہد نامہ سے استنباط کرتے ہیں کہ آنے والا مسیح داؤد کا بیٹا نہیں ہوسکتا۔

پیش گوئیوں اور تاریخ کو مسخ کرنے کا جو الزام آ پ نے نبی عربی ﷺ پر لگایا تھا وہ کس طرح boomrang کی طرح لوٹ کر آپ کی کتب مقدسہ اور آپ کے انجیلی یسوع پر وارد ہوا۔

صفحہ نمبر: 1 (کل صفحات: 9)
پچھلا صفحہ