بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ

Al Islam

The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad of Qadian(as)Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as), Love for All, Hatred for None.

سچ تو یہ ہے۔ پروگرام ۳۶: طاہر اشرفی کے مباہلہ کا چیلنج

Sach to ye hai #36: Reply to Tahir Ashrafi allegations

طاہر اشرفی صاحب کے مباہلہ کے چیلنج کا جواب جس میں انہوں نے یہ بات کی ہے کہ  ’’ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ مرزا مسرور قیامت کی صبح تک کبھی مناظرہ اور مباہلہ کے لیے نہیں آئے گا جس طرح مرزا طاہر اورجس طرح مرزاقادیانی ہمیشہ راہ فرار اختیار کرتے رہے۔اسی طرح مرزا مسرور اس سے قبل بھی دو تین مرتبہ چیلنج کرکے راہ فرار اختیار کر چکا ہے‘‘۔

اشرفی صاحب کا یہ دعویٰ بھی خلاف واقعہ ہے،انہیں پہلے حضرت مرزا طاہر احمدصاحبؒ کے چیلنج کا جواب دینا چاہیے۔پھرحضرت مرزا مسرور احمد صاحب کے غلاموں اور خادموں کے دلائل کا جواب دے لیں۔تو امام جماعت احمدیہ سے کسی نئےمباہلہ کا سوال اٹھاسکتے ہیں۔

باقی جہاں تک حضرت بانیٔ جماعت کے مباہلہ سے فرار کا تعلق ہے تو انہوں نے تواپنی کتاب انجام آتھم میں 1897ء میں اشرفی صاحب کے استاذ الاساتذہ مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب سمیت 52مولویوں کو اپنی مباحثہ  و مباہلہ کا چیلنج دیاتھا۔چنانچہ آپ نے 1907ء میں اپنی کتاب حقیقة الوحی میں اس مباہلہ کا نتیجہ بھی شائع فرمادیا جس کی آج تک کوئی تردید نہ کرسکا۔آپؑ تحریرفرماتے ہیں

میں نے اپنے رسالہ انجام آتھم میں بہت سے مخالف مولویوں کا نام لے کر مباہلہ کی طرف اُن کو بُلایا تھا اور صفحہ66 رسالہ مذکور میں یہ لکھا تھا کہ اگر کوئی اِن میں سے مباہلہ کرے تو میں یہ دعا کروں گا کہ ان میں سے کوئی اندھا ہو جائے اور کوئی مفلوج اور کوئی دیوانہ اور کسی کی موت سانپ کے کاٹنے سے ہو ۔۔۔ پھر اگرچہ تمام مخالف مولوی مرد میدان بن کر مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوئے مگر پس پشت گالیاں دیتے رہے اور تکذیب کرتے رہے چنانچہ ان میں سے رشید احمد گنگوہی نے صرف لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین نہیں کہا بلکہ اپنے ایک اشتہار میں مجھے شیطان کے نام سے پکارا ہے آخر نتیجہ اِس کا یہ ہوا کہ تمام بالمقابل مولویوں میں سے جو باون52تھے آج تک صرف بیس زندہ ہیں اور وہ بھی کسی نہ کسی بلا میں گرفتار،باقی سب فوت ہوگئے مولوی رشید احمد اندھا ہوا اور پھر سانپ کے کاٹنے سے مر گیا جیسا کہ مباہلہ کی دعا میں تھا۔

                  (حقیقة الوحی ،روحانی خزائن جلد22 صفحہ313)

مزید حیرت وتعجب ہے کہ اشرفی صاحب نے حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے مباہلہ سے فرار کا بھی ذکر کیا ہے۔حالانکہ 10جون 1988ء کو مرزا طاہر احمد صاحب نےاحمدیوں کے کلمہ پر الزام لگانے والے علماء اور ان کے مددگار جنرل ضیاء الحق کو دعوت مباہلہ دی تھی کہ وہ یہ اعلان کریں کہ

۔۔۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ جماعت جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہم محمد رسول الہﷺ کا کلمہ پڑھتے ہین تو ہرگز محمد رسول اللہؐ کا کلمہ نہیں پڑھتی بلکہ اپنے دل میں مرزا غلام احمد قادیانی مراد لیتی ہے اور اسی کی رسالت اور صداقت کی شہادت دیتی ہے۔۔۔۔اے خدا تیرے نزدیک ہم میں سے جو فریق جھوٹا اور مفتری ہےاس پر اپنا غضب نازل فرما اور اس کو ذلت اور نکبت کی مار دے کر اپنے عذاب اور قہری تجلیوں کا نشانہ بنا اور اس طور سے ان کو اپنے عذاب کی چکی میں پیش ۔۔۔کہ دنیا خوب اچھی طرح دیکھ لے کہ ان آفات میں بندے کی شرارت اور دشمنی اور بغض کا دخل نہیں بلکہ محض خدا کی غیرت اور قدرت کا ہاتھ ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جون 1988ء)

جب مخاطب مولویوں میں سے کسی نے یہ چیلنج قبول نہ کیاتو حضرت مرزا طاہر احمد صاحب نے جنرل ضیاء الحق کے بارہ میں یکم جولائی 1988ء کے خطبہ جمعہ میں یہ بھی فرمایا کہ

چونکہ تمام ائمة المکفرین کے امام ہیں اور تمام اذیت دینے والوں میں سب سے زیادہ ذمہ داری اس ایک شخص پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے معصوم احمدیوں پر ظلم کیے ہیں۔۔۔ایسے شخص کا زبان سے چیلنج قبول کرنا ضروری نہیں ہوا کرتا۔اس کا اپنے ظلم و ستم میں اسی طرح جاری رہنا اس بات کا نشان ہوتا ہے کہ اس نے چیلنج کو قبول کر لیا۔

حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے 14 دسمبر 1984ء کو اس کے متعلقق پیشگوئی فرمائی تھی

جماعت احمدیہ تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک والی رکھتی ہے،ایک ولی رکھتی ہے۔جماعت احمدیہ کا ایک مولا ہے اور زمین و آسمان کا خدا ہمارا مولا ہے لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تمہارا کوئی مولا نہیں۔خدا کی قسم جب ہمارا مولا ہماری مدد کو آئے گا تو کوئی تمہاری مدد نہیں کرسکے گا۔خدا کی تقدیر تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کرے گی تو تمہارے نام و نشان مٹا دئیے جائیں گے

پھر 12 اگست 1988ء کوحضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ نے جنرل ضیاء الحق اور ان کے ساتھیوں کے بارہ میں فرمایا

‘‘خد اکی تقدیر لازماً ان کو پکڑے گی اور لازماً ان کو سزا دے گی جو ان شرارتوں سے باز نہیں آئیں گے۔’’

اس کے پانچ روز بعد17اگست 1988ء کوجنرل ضیاء الحق اس مباہلہ کے نتیجہ میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا بلکہ اس کی خاک بھی فضاؤں میں منتشر کردی۔

اشرفی صاحب اب بھی اپنے مباہلہ کے چیلنج  پر قائم ہیں تو سستی شہرت کے ڈھونگ رچانے کی بجائے جواباً یہ دعا ئے مباہلہ پڑھ کر اپنا شوق پورا کرسکتے ہیں۔وما علینا الا البلاغ المبین