بدری اصحاب نبویؐ کی سِیرِ مبارکہ

خطبہ جمعہ 4؍ ستمبر 2020ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ اَلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَصَابَہُمُ الۡقَرۡحُ ؕۛ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا مِنۡہُمۡ وَ اتَّقَوۡا اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ۔ (آل عمران: 173) کہ جن لوگوں نے اللہ اور رسول کا حکم اپنے زخمی ہونے کے بعد بھی قبول کیا ان میں سے ان کے لیے جنہوں نے اچھی طرح اپنا فرض ادا کیا ہے اور تقویٰ اختیار کیا ہے بڑا اجر ہے۔

صحابہ کا ذکر چل رہا تھا اور حضرت زبیرؓ کا ذکر کچھ باقی تھا جو مَیں نے بیان کرنا تھا آج وہی بیان کروں گا۔ اس آیت کے بارے میں جومَیں نے ابھی پڑھی ہے بیان فرماتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے بھانجے عروہ سے کہا کہ اے میرے بھانجے ! تمہارے آباء زبیرؓ اور ابوبکرؓ اسی آیت میں مذکور صحابہ میں سے تھے۔ جب جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوئے اور مشرکین پلٹ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا خطرہ محسوس ہوا کہ وہ کہیں پھر لَوٹ کر حملہ نہ کریں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا پیچھا کرنے کون کون جائے گا۔ اسی وقت ان میں سے ستر صحابہ تیار ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ابوبکرؓ اور زبیرؓ بھی ان میں شامل تھے۔ یہ صحیح بخاری کی روایت ہے اور یہ دونوں حضرت ابوبکرؓ بھی اور حضرت زبیرؓ بھی زخمیوں میں سے تھے۔ (صحیح البخاری کتاب المغازی باب الذین استجابوا للّٰہ والرسول … الخ حدیث 4077)

صحیح مسلم میں یہ روایت اس طرح بیان ہوئی ہے کہ ہشام نے اپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے مجھ سے کہا کہ تمہارے آباء ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے اپنے زخمی ہونے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسولؐ کی آواز پر لبیک کہا۔ (صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابہ باب من فضائل طلحۃ والزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنھما حدیث 2418)

حضرت علیؓ بیان فرماتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کانوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طلحہؓ اور زبیرؓ جنت میں میرے ہمسائے ہوں گے۔ (سنن الترمذی ابواب المناقب باب مناقب ابی محمد طلحہ … حدیث 3740)

حضرت سعید بن جبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیر، ؓ حضرت سعد، ؓ حضرت عبدالرحمٰنؓ اور حضرت سعید بن زیدؓ کا مقام ایسا تھا کہ میدانِ جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے لڑتے تھے اور نماز میں آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے۔ (اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد2صفحہ 478سعید بن زید دارالکتب العلمیہ بیروت)

حضرت عبدالرحمٰن بن اَخْنَسؓ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں تھے کہ ایک شخص نے حضرت علیؓ کا ذکر کیا، ان کی شان میں کچھ بے ادبی کی تو حضرت سعید بن زیدؓ کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ مَیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں کہ یہ بےشک مَیں نے آپؐ سے سنا اور آپؐ فرماتے تھے کہ دس آدمی جنت میں جائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں ہوں گے۔ ابوبکرؓ جنت میں ہوں گے۔ حضرت عمرؓ جنت میں ہوں گے۔ حضرت عثمانؓ جنت میں ہوں گے۔ حضرت علیؓ جنت میں ہوں گے۔ حضرت طلحؓہ، حضرت زبیر بن عوامؓ، حضرت سعد بن مالکؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ جنت میں ہوں گے۔ اور اگر مَیں چاہوں تو دسویں کا نام بھی لے سکتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ دسواں کون ہے؟ حضرت سعید بن زیدؓ کچھ دیر خاموش رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے پھر پوچھا کہ دسواں کون ہے؟ فرمایا کہ سعید بن زیدؓ یعنی مَیں خود۔ (سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی الخلفاء حدیث 4649)

یہ روایت حضرت طلحہؓ کے ضمن میں بھی میرا خیال ہے بیان ہو چکی ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کاتبین ِوحی کے نام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوتی تھی وہ اسی وقت لکھوا دی جاتی تھی۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کاتبوں کو قرآن کریم لکھواتے تھے ان میں سے مندرجہ ذیل پندرہ نام تاریخ سے ثابت ہیں۔ زید بن ثابتؓ، ابی بن کعبؓ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرحؓ، زبیر بن العوامؓ، خالد بن سعید بن العاصؓ، اَبَان بن سعید العاصؓ، حَنْظَلَہ بن الربیع الاسدیؓ، مُعَیْقِیْب بن ابی فاطمہؓ، عبداللہ بن اَرْقَم الزُّہْریؓ، شرحبیل بن حسنہؓ، عبداللہ بن رواحہؓ، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن شریف نازل ہوتا تو آپؐ ان لوگوں میں سے کسی کو بلا کر وحی لکھوا دیتے تھے۔‘‘ (دیباچہ تفسیر القرآن انوار العلوام جلد20صفحہ425-426)

حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر بن عوامؓ کو ایک غزوے کے موقعے پر خارش کی وجہ سے ریشم کی قمیض پہننے کی اجازت دی تھی۔ (صحیح البخاری کتاب الجہاد والسیرباب الحریر فی الحرب حدیث 2919)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینے میں مکانوں کی حد بندی کی تو حضرت زبیرؓ کے لیے زمین کا بڑا ٹکڑا مقرر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیرؓ کو کھجور کا ایک باغ بھی دیا۔ (الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 76 زبیر بن العوام دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت زبیر بن عوامؓ کو زمین ہبہ کرنے کے متعلق بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیرؓ کو سرکاری زمینوں میں سے ایک اتنا بڑا ٹکڑا عطا فرمایا جس میں کہ حضرت زبیرؓ کا گھوڑا آخری سانس تک دوڑ سکے یعنی جس حد تک وہ دوڑ سکتا تھا دوڑ جائے۔ حضرت زبیرؓ کا گھوڑا جس جگہ پر جا کر کھڑا ہوا وہاں سے انہوں نے اپنا کوڑا بڑے زور سے اوپر پھینکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ نہ صرف اس حد تک زمین ان کو دی جائے جہاں ان کا گھوڑا جا کر کھڑا ہو گیا تھا بلکہ جہاں ان کا کوڑا گرا تھا اس حد تک ان کو زمین دی جائے۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ ہمارے ملک کا گھوڑا بھی میلوں دوڑ سکتا ہے اور عرب کا گھوڑا تو بہت زیادہ تیز ہوتا ہے۔ اگر چار پانچ میل بھی گھوڑے کی دوڑ رکھی جائے تو بیس ہزار ایکڑ کے قریب زمین بنتی ہے جو ان کو دی گئی تھی۔

امام ابو یوسف کتاب الخَرَاجْ میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیرؓ کو ایک زمین کا ٹکڑا بخشا جس میں کھجور کے درخت بھی لگے ہوئے تھے اور یہ حضرت خلیفہ ثانیؓ نے بھی امام ابویوسف کے بیان کا حوالہ دیا۔ کہتے ہیں کہ جو زمین کا ٹکڑا بخشا تھا اس میں کھجور کے درخت بھی لگے ہوئے تھے اور وہ کسی وقت یہودی قبیلہ بنو نضیر کی ملکیت میں سے تھا اور ان کو جُرْفْ کہتے تھے، یہ جُرْفْ جو ہے یہ مدینے سے شام کی طرف تین میل کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے۔ یعنی وہ جُرْفْ ایک مستقل گاؤں تھا۔ جب ہم پہلی حدیثوں سے اس حدیث کو ملائیں یعنی جہاں گھوڑے کے دوڑنے کا ذکر ہے اور تقریباً پندرہ بیس ہزار ایکڑ بنتی ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیرؓ کو اس وقت اوپر والی زمین بخشی جبکہ وہ پہلے سے ایک گاؤں کے مالک تھے جس میں کھجور کے باغ بھی تھے۔ (ماخوذ از اسلام اور ملکیت زمین، انوار العلوم جلد21صفحہ429) (معجم البلدان جلد2صفحہ149دارالکتب العلمیۃ بیروت)

عُروہ بن زُبیر سے مروی ہے کہ مَرْوَان بن حَکَم نے بتایا کہ جس سال نکسیر کی بیماری پھیلی حضرت عثمان بن عفانؓ کو بھی سخت نکسیر ہوئی یہاں تک کہ اس نے ان کو حج سے روک دیا اور انہوں نے وصیت کر دی تو اس وقت قریش میں سے ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں۔ یعنی بہت خراب حالت ہے۔ انہوں نے پوچھا کیا لوگوں نے یہ بات کہی ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ حضرت عثمانؓ نے پوچھا کس کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں؟ وہ خاموش رہا۔ اتنے میں پھر ایک اَور شخص ان کے پاس آیا۔ راوی کہتے ہیں مَیں سمجھتا ہوں کہ وہ حارث تھا۔ کہنے لگا خلیفہ مقرر کر دیں۔ حضرت عثمانؓ نے کہا کیا لوگوں نے یہ کہا ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ حضرت عثمانؓ نے پوچھا یعنی کہ آپؓ کے بعد کون خلیفہ ہو؟ حضرت عثمانؓ نے پوچھا وہ کون ہے جو خلیفہ ہو گا۔ وہ خاموش رہا۔ حضرت عثمانؓ نے اس سے کہا شاید وہ زبیر کو منتخب کرنے کا کہتے ہیں۔ اس نے کہا ہاں۔ حضرت عثمانؓ نے کہا کہ اس ذات کی قَسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جہاں تک مجھے علم ہے وہ یعنی حضرت زبیرؓ ان لوگوں میں سے یقیناً بہتر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سب سے زیادہ پیارے تھے۔ (صحیح البخاری کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ باب مناقب الزبیر بن العوام حدیث 3717)

حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ ان کا ایک انصاری صحابی سے جو غزوۂ بدر کے شرکاء میں سے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں پانی کی نالی میں اختلاف رائے ہو گیا جس سے وہ دونوں اپنے کھیت کو سیراب کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بات کو ختم کرتے ہوئے فرمایا کہ زبیر تم اپنے کھیت کو سیراب کر کے اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو۔ انصاری کو یہ بات ناگوار گزری اور وہ کہنے لگا یا رسول اللہؐ ! یہ آپؐ کے پھوپھی زاد ہیں ناں۔ اس لیے آپؐ یہ فیصلہ فرما رہے ہیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اب تم اپنے کھیت کو سیراب کرو اور جب تک پانی منڈیر تک نہ پہنچ جائے اس وقت تک پانی کو روکے رکھو۔ گویا اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیرؓ کو ان کا پورا حق دلوا دیا جبکہ اس سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو ایسا مشورہ دیا تھا جس میں ان کے لیے اور انصاری کے لیے گنجائش اور وسعت کا پہلو تھا لیکن جب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح حکم کے ساتھ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا۔ حضرت زبیرؓ فرماتے ہیں کہ بخدا مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ مندرجہ ذیل آیت اسی واقعہ سے متعلق نازل ہوئی ہے۔ فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (النساء: 66) یعنی نہیں تیرے رب کی قسم! وہ کبھی ایمان نہیں لا سکتے جب تک وہ تجھے ان امور میں منصف نہ بنا لیں جن میں ان کے درمیان جھگڑا ہوا ہے۔ پھر تُو جو بھی فیصلہ کرے اس کے متعلق وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور کامل فرمانبرداری اختیار کریں۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 1صفحہ453 مسند زبیر بن العوام حدیث1419 عالم الکتب بیروت 1998ء)

حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔ ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ (الزمر: 32) یعنی یقیناً تم قیامت کے دن اپنے رب کے حضور ایک دوسرے سے بحث کرو گے۔ تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہؐ ! کیا ہماری دنیاوی لڑائیاں مراد ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ (التکاثر: 9) یعنی اس دن تم نازو نعم کے متعلق ضرور پوچھے جاؤ گے۔ تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہؐ ! ہم سے کن نعمتوں کے بارے میں سوال ہو گا جبکہ ہمارے پاس تو صرف کھجور اور پانی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبردار! یہ نعمتوں کا زمانہ بھی عنقریب آنے والا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 1صفحہ449 مسند زبیر بن العوام حدیث 1405 عالم الکتب بیروت 1998ء) آج تو یہ تنگی ہے۔ ان شاء اللہ کشائش بھی آنے والی ہے۔

حَفْص بن خالد کہتے ہیں کہ مجھے اس بزرگ نے یہ حدیث بیان کی ہے جو کہ مُوصِلْ (یہ موصل جو ہے شام کا مشہور شہر ہے جو اپنی کثیر آبادی اور وسیع رقبے کے لحاظ سے اس وقت کے اسلامی ممالک میں بہت اہم تھا۔ تمام شہروں سے وہاں لوگ آیا کرتے تھے۔ یہ نَیْنَوَا کے قریب دجلہ کے کنارے بغداد سے 222میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس شہر کا تعارف تو یہ ہے جو فرھنگ میں لکھا گیا ہے لیکن بہرحال وہ کہتے ہیں موصل) مقام سے ہمارے پاس آتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے حضرت زبیر بن عوامؓ کے ساتھ کچھ سفر کیے ہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صحرا میں ان کو غسل کی حاجت ہو گئی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میرے لیے پردہ کرو۔ مَیں نے ان کے لیے کپڑے سے پردہ کیا۔ وہ غسل کرنے لگ گئے۔ اچانک میری نگاہ ان کے جسم پر پڑ گئی۔ مَیں نے دیکھا کہ ان کا سارا جسم تلواروں کے زخموں کے نشانات سے چھلنی تھا۔ مَیں نے ان سے کہا خدا کی قسم! مَیں نے آپؓ کے جسم پر زخموں کے ایسے نشانات دیکھے ہیں جو آج سے پہلے مَیں نے کبھی کسی کے جسم پر نہیں دیکھے۔ انہوں نے جواباً کہا کیا تم نے میرے جسم کے زخموں کے نشان دیکھ لیے ہیں؟ پھر فرمایا خدا کی قسم! یہ تمام زخم مجھے اللہ کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ کرتے ہوئے آئے ہیں۔ (مستدرک علی الصحیحین للحاکم جلد 3صفحہ 406کتاب معرفۃ الصحابہ حدیث 5550 دار الکتب العلمیۃ بیروت2002ء) (فرہنگ سیرت از سید فضل الرحمٰن صفحہ288)

حضرت عثمانؓ، حضرت مِقدادؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے حضرت زبیرؓ کو وصیت کر رکھی تھی۔ چنانچہ وہ ان احباب کے مال کی حفاظت کرتے اور اپنے مال سے ان کے بچوں پر خرچ کرتے تھے۔ کشائش تھی تو ان کا مال بچوں پر خرچ نہیں کرتے تھے۔ اپنے پاس سے خرچ کرتے تھے تاکہ بعد میں یہ مال ان لوگوں کے کام آئے۔ حضرت زبیرؓ کو کوئی لالچ نہیں تھی۔

حضرت زبیرؓ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے ایک ہزار غلام تھے جو انہیں خراج یعنی زمین کی پیداوار ادا کرتے تھے۔ وہ اس میں سے گھر کچھ بھی نہ لاتے اور سارا صدقہ کر دیتے۔

مُطِیع بن اَسْوَد بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے حضرت عمرؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت زبیرؓ دین کے ستونوں میں سے ایک ستون ہیں۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 2 صفحہ 460 زبیر بن العوام دار الکتب العلمیۃ بیروت1995ء)

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت زبیرؓ جنگِ جمل کے دن کھڑے ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا۔ مَیں ان کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اے پیارے بیٹے ! آج یا تو ظالم کو قتل کیا جائے گا یا مظلوم۔ ایسا نظر آتا ہے کہ آج مَیں بحالت مظلومی قتل کیا جاؤں گا۔ مجھے سب سے بڑی فکر اپنے قرض کی ہے۔ کیا تمہاری رائے میں ہمارے قرض سے کچھ مال بچ جائے گا؟ پھر کہا کہ اے میرے بیٹے! مال بیچ کر قرض ادا کر دینا اور مَیں ثلث کی وصیت کرتا ہوں، تیسرے حصےکی وصیت کرتا ہوں اور قرض ادا کرنے کے بعد اگر کچھ بچے تو اس میں سے ایک ثلث تمہارے بچوں کے لیے ہے۔ ان کے بچوں کو باقی کے علاوہ دیا۔ ہشام نے کہا عبداللہ بن زبیرؓ کے لڑکے عمر میں حضرت زبیرؓ کے لڑکوں خبیب اور عَبّادکے برابر تھے۔ یعنی عبداللہ کے لڑکے حضرت زبیرؓ کے اپنے لڑکوں کے برابر تھے۔ بیٹے کے بچے جو تھے وہ بھی اس کے بھائیوں کے برابر تھے۔ اس زمانے میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی نو بیٹیاں تھیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت زبیرؓ مجھے اپنے قرض کی وصیت کرنے لگے کہ اے میرے بیٹے! اگر اس قرض میں سے تم کچھ ادا کرنے سے عاجز ہو جاؤ تو میرے مولیٰ سے مدد لینا۔ عبداللہ بن زبیرؓ کہتے ہیں۔ مَیں ’’مولیٰ‘‘ سے ان کی مرادنہیں سمجھا۔ مَیں نے پوچھا کہ آپ کا مولیٰ کون ہے؟ تو حضرت زبیرؓ نے کہا اللہ۔ پھر جب کبھی مَیں ان کے قرض کی مصیبت میں پڑا تو کہا اے زبیرؓ کے مولیٰ! ان کا قرض ادا کر دے اور وہ ادا کر دیتا یعنی اللہ تعالیٰ پھر کوئی انتظام کر دیتا تھا۔ اس قرض کی ادائیگی کے سامان پیدا کر دیتا تھا۔ جائیداد تو تھی اس میں سے ہی ادا ہو جاتے تھے۔

حضرت زبیرؓ اس حالت میں شہید ہوئے کہ انہوں نے نہ کوئی دینار چھوڑا نہ درہم سوائے چند زمینوں کے جن میں غابہ بھی تھا۔ مدینے میں گیارہ مکان تھے۔ دو مکان بصرہ میں تھے۔ ایک مکان کوفہ میں اور ایک مکان مصر میں تھا۔ حضرت زبیرؓ مقروض اس طرح ہوئے کہ لوگ ان کے پاس مال لاتے کہ امانتاً رکھیں مگر حضرت زبیرؓ کہتے کہ نہیں بلکہ یہ قرض ہے کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ پیسےامانتاً نہیں رکھوں گا۔ مَیں تمہارے سے اس طرح وصول کرتا ہوں جس طرح کہ یہ قرض ہوتا ہے۔ خرچ بھی کر لیتے تھے اس میں سے یا اَور کوئی خطرہ ہو تو وہ بھی محفوظ ہو جائے اس لیے آپ ان کو بتاتے تھے کہ یہ قرض کی صورت میں لے رہا ہوں جو مَیں واپس کروں گا۔ بہرحال حضرت زبیرؓ کبھی امیر نہ بنے خواہ مال وصول کرنے کے لیے یا خراج کے لیے یا کسی اَور مالی خدمت کے لیے سوائے اس کے کہ کسی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے ہمراہ جہاد میں شامل ہوئے ہوں۔ جہادمیں ضرور شامل ہوتے تھے لیکن بہت امیر جنہوں نے نقدی کی صورت میں پیسہ جوڑا ہو وہ نہیں ہوا۔

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے بیان کیا کہ مَیں نے ان کے قرض کا حساب کیا تو بائیس لاکھ پایا۔ حضرت حکیم بن حزامؓ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے ملے اور کہا کہ اے میرے بھتیجے! میرے بھائی پر کتنا قرض ہے؟ حضرت عبداللہ بن زُبیرؓ نے چھپایا اور کہا کہ ایک لاکھ۔ حضرت حکیم بن حِزامؓ نے کہا کہ اللہ کی قسم !مَیں تمہارے مال کو اتنا نہیں دیکھتا کہ وہ اس کے لیے کافی ہو۔ ظاہری مال جو نظر آ رہا تھا۔ پھر حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے ان سے کہا کہ اگر مَیں کہوں کہ وہ قرض بائیس لاکھ ہے تو آپ کیا کہیں گے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ مَیں تو تمہیں اس کا متحمل نہیں دیکھتا، مشکل ہے ادا کر سکو۔ اگر تم اس کے ادا کرنے سے عاجز ہو جاؤ تو مجھ سے مدد لے لینا۔ اگر نہ ادا کر سکو تو مَیں حاضر ہوں۔ مجھے بتانا مَیں تمہیں قرض ادا کر دوں گا۔ حضرت زبیرؓ نے غابہ ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدا تھا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے سولہ لاکھ میں فروخت کیا۔ پھر کھڑے ہو کر کہا کہ جس کا زبیرؓ کے ذمہ کچھ ہو وہ ہمارے پاس غابہ پہنچ جائے۔ وہ غابہ کی زمین بیچی۔ سولہ لاکھ اس کی قیمت ملی اور پھر اعلان کر دیا کہ جو قرض خواہ ہیں وہ آ جائیں اور اپنا قرض لے لیں۔ حضرت عبداللہ بن جعفرؓ جن کے حضرت زبیرؓ پر چار لاکھ تھے انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے کہا کہ اگر تم لوگ چاہو تو مَیں معاف کر دوں اور اگر چاہو تو اسے ان قرضوں کے ساتھ رکھو جنہیں تم مؤخر کر رہے ہو بشرطیکہ تم کچھ مؤخر کرو۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر مجھے ایک ٹکڑا زمین کا دے دو۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے کہا کہ تمہارے لیے یہاں سے یہاں تک ہے۔ انہوں نے اس میں سے بقدر ادائے قرض کے فروخت کر دیا اور انہوں نے عبداللہ بن جعفر کو دے دیا۔ اس قرض میں سے ساڑھے چار حصے باقی رہ گئے۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ حضرت معاویہؓ کے پاس آئے۔ اس زمانے کی بات ہے۔ وہاں عمرو بن عثمان، مُنْذِر بن زُبیر اور ابنِ زَمْعَہ تھے۔ حضرت معاویہؓ نے پوچھا کہ غابہ کی کتنی قیمت لگائی گئی؟ حضرت ابن زبیرؓ نے کہا ہر حصہ ایک لاکھ کا ہے۔ حضرت معاویہؓ نے پوچھا کتنے حصے باقی رہے؟ انہوں نے کہا کہ ساڑھے چار حصے۔ مُنْذِر بن زبیر نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں مَیں نے لے لیا۔ عمرو بن عثمان نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں مَیں نے لے لیا۔ ابن زَمْعَہ نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں مَیں نے لے لیا۔ حضرت معاویہؓ نے کہا اب کتنے بچے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ ڈیڑھ حصہ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ڈیڑھ لاکھ میں مَیں نے لے لیا۔ یعنی کہ غابہ کی وہ زمین جو باقی رہ گئی تھی اس کو بھی بیچنے لگے۔ عبداللہ بن جعفر نے اپنا حصہ حضرت معاویہؓ کے ہاتھ چھ لاکھ میں فروخت کر دیا۔ بہرحال جو انہوں نے کہا تھا ناں کہ قرض اللہ تعالیٰ ادا کرے گا تو اس طرح اللہ تعالیٰ سامان پیدا کرتا تھا تو وہ کچھ جائیداد بیچ کے قرض ادا کرتے رہے۔

جب حضرت عبداللہ بن زبیرؓ حضرت زبیرؓ کا قرض ادا کر چکے تو حضرت زبیرؓ کی اولادنے کہا کہ ہم میں ہماری میراث تقسیم کر دو۔ اب قرض تو سارے ادا ہو گئے ہیں اب جو وراثت ہے وہ تقسیم کر دو۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم! مَیں تم میں اس وقت تک تقسیم نہ کروں گا جب تک چار سال زمانہ حج میں منادی نہ کر لوں یعنی چار سال تک ہر حج کے دن پہلے اعلان کروں گا کہ جس کا زبیرؓ پر قرض ہو وہ ہمارے پاس آئے ہم اسے ادا کریں گے اور چار سال تک حج کے موقعےپر منادی کرتے رہے۔ جب چار سال گزر گئے تو میراث حضرت زبیرؓ کی اولاد میں تقسیم کر دی۔

حضرت زبیرؓ کی چار بیویاں تھیں۔ انہوں نے بیوی کے آٹھویں حصےکو چار پر تقسیم کر دیا اور ہر بیوی کو گیارہ لاکھ پہنچے۔ پھر بھی جو جو جائیداد باقی رہ گئی تھی اس میں سے ہر کوئی جب تقسیم ہوا تو گیارہ گیارہ لاکھ بیویوں کو بھی مل گیا۔ ان کا پورا مال تین کروڑ باون لاکھ تھا۔

ایک روایت میں یہ ہے اور سفیان بن عُیَیْنَہ سے مروی ہے کہ حضرت زبیرؓ کی میراث میں چار کروڑ تقسیم کیے گئے۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت زبیرؓ کے ترکہ کی قیمت پانچ کروڑ بیس لاکھ یا پانچ کروڑ دس لاکھ تھی۔ اسی طرح عروہ سے مروی ہے کہ حضرت زبیرؓ کی مصر میں کچھ زمینیں تھیں اور اسکندریہ میں کچھ زمینیں تھیں۔ کوفےمیں کچھ زمینیں تھیں اور بصرے میں مکانات تھے۔ ان کی مدینےکی کچھ جائیداد کی آمدنی تھی جو اُن کے پاس آتی تھی۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد 3 صفحہ 80-81 زبیر بن العوام دار الکتب العلمیۃ بیروت1990ء)

بہرحال یہ سارے قرض اتار کے تو پھر ان جائیدادوں میں سے جو باقی جائیدادیں تھیں وہ ان کے ورثاء میں تقسیم کی گئیں۔ مُطَرِّفْ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت زبیرؓ سے کہا کہ اے ابوعبداللہ! آپ لوگ کس مقصد کی خاطر آئے ہیں۔ آپ لوگوں نے ایک خلیفہ کو ضائع کر دیا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔ اب آپ ان کے قصاص کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانے میں قرآن کریم کی یہ آیت پڑھتے تھے کہ وَ اتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً (الانفال: 26) کہ اور اس فتنے سے ڈرو جو محض ان لوگوں کو ہی نہیں پہنچے گا جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا (بلکہ عمومی ہو گا) لیکن ہم یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اس کا اطلاق ہم پر ہی ہو گا یہاں تک کہ ہم پر یہ آزمائش آئے گی۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 1صفحہ 451مسند زبیر بن العوام حدیث 1414عالم الکتب بیروت 1998ء)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علیؓ کی خلافت کے انتخاب کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمانؓ کا واقعۂ شہادت ہوا اور وہ صحابہؓ جو مدینے میں موجود تھے انہوں نے یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں میں فتنہ بڑھتا جا رہا ہے حضرت علیؓ پر زور دیا کہ آپؓ لوگوں کی بیعت لیں۔ دوسری طرف کچھ مفسدین بھاگ کر حضرت علیؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ اس وقت اسلامی حکومت کے ٹوٹ جانے کا سخت اندیشہ ہے آپؓ لوگوں سے بیعت لیں تا کہ ان کا خوف دور ہو اور امن و امان قائم ہو۔ غرض جب آپؓ کو بیعت لینے پر مجبور کیا گیا تو کئی دفعہ کے انکار کے بعد آپؓ نے اس ذمہ داری کو اٹھایا اور لوگوں سے بیعت لینی شروع کر دی۔ بعض اکابر صحابہ اس وقت مدینے سے باہر تھے۔ بعض سے تو جبراً بیعت لی گئی چنانچہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے متعلق آتا ہے کہ ان کی طرف حکیم بنِ جَبْلَہ اور مالک اَشْتَر کو چند آدمیوں کے ساتھ روانہ کیا گیا اور انہوں نے تلوار وں کا نشانہ کر کے انہیں بیعت پر آمادہ کیا یعنی وہ تلواریں سونت کر ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا کہ حضرت علیؓ کی بیعت کرنی ہے تو کرو ورنہ ہم ابھی تم کو مار ڈالیں گے حتی کہ بعض روایات میں یہ ذکر بھی آتا ہے کہ وہ ان کو نہایت سختی کے ساتھ زمین پر گھسیٹتے ہوئے لائے۔ ظاہر ہے کہ ایسی بیعت کوئی بیعت نہیں کہلا سکتی۔ پھر جب انہوں نے بیعت کی تو یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اس شرط پر آپؓ کی بیعت کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے آپؓ قصاص لیں گے مگر بعد میں جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت علیؓ قاتلوں سے قصاص لینے میں جلدی نہیں کر رہے تو وہ بیعت سے الگ ہو گئے اور مدینہ سے مکہ چلے گئے۔ انہی لوگوں کی ایک جماعت نے جو حضرت عثمانؓ کے قتل میں شریک تھی حضرت عائشہؓ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ آپؓ حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے جہاد کا اعلان کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہ کو اپنی مدد کے لیے بلایا۔ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور اس کے نتیجہ میں حضرت علیؓ اور حضرت عائشہ، ؓ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کےلشکر میں جنگ ہوئی جسے جنگ ِجمل کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے شروع میں ہی حضرت زبیرؓ حضرت علیؓ کی زبان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی سن کر علیحدہ ہو گئے تھے۔ حضرت زبیرؓ تو شروع میں ہی علیحدہ ہو گئے تھے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ حضرت علیؓ سے جنگ نہیں کریں گے اور اس بات کا اقرار کیا کہ اپنے اجتہاد میں انہوں نے غلطی کی تھی، جو سمجھا تھا اس سے غلطی ہو گئی۔ دوسری طرف حضرت طلحہؓ نے بھی اپنی وفات سے پہلے حضرت علیؓ کی بیعت کا اقرار کر لیا تھا کیونکہ روایت میں آتا ہے کہ وہ زخموں کی شدت سے تڑپ رہے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس سے گزرا۔ انہوں نے پوچھا تم کس گروہ میں سے ہو؟ اس نے کہا حضرت علیؓ کے گروہ میں سے۔ اس پر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ تیرا ہاتھ علیؓ کا ہاتھ ہے اور مَیں تیرے ہاتھ پر حضرت علیؓ کی دوبارہ بیعت کرتا ہوں۔ (ماخوذ از خلافت راشدہ، صفحہ44-45 انوار العلوم جلد 15)

بہرحال حضرت زبیرؓ کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت زبیرؓ کی شہادت جنگ جمل سے واپسی پر ہوئی تھی۔ وہاں سے تو وہ علیحدہ ہو گئے تھے اور حضرت علیؓ سے جنگ کا انہوں نے جو ارادہ کیا تو انہوں نے کہا مَیں نے غلطی کی ہے اور اس سے بالکل علیحدہ ہو گئے لیکن جنگ جمل سے واپسی پر ان کی شہادت ہوئی۔ جب حضرت علیؓ نے انہیں یاد دلایا کہ مَیں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ تم علیؓ سے لڑو گے اور زیادتی تمہاری طرف سے ہو گی۔ انہوں نے کہا ہاں اور یہ بات مجھے ابھی یاد آئی ہے پھر وہاں سے چلے گئے۔ حضرت علیؓ سے جنگ سے علیحدگی کی یہ وجہ بنی تھی۔ اس کی تفصیل جو ہے وہ حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ کے ذکر میں بیان ہو چکی ہے جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ مفسدین اور منافقین کی بھڑکائی ہوئی آگ تھی جس میں اکثر صحابہ غلط فہمی کی وجہ سے شامل ہو گئے تھے۔ بہرحال جو بھی تھا وہ غلط ہوا۔

حَرْب بن ابوالاسود کہتے ہیں کہ مَیں حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ سے ملا ہوں۔ جب حضرت زبیرؓ اپنی سواری پر سوار ہو کر صفوں کو چیرتے ہوئے واپس لوٹے تو ان کے بیٹے عبداللہؓ ان کے سامنے آئے اور کہنے لگے کہ آپ کو کیا ہوا؟ حضرت زبیرؓ نے ان سے کہا حضرت علیؓ نے مجھے ایک حدیث یاد کرا دی جس کو مَیں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے سنا ہے۔ آپؐ نے فرمایا تھا تُو اس یعنی حضرت علیؓ سے جنگ کرے گا اور اس جنگ میں تُو ظلم کرنے والا ہو گا۔ اس لیے مَیں ان سے جنگ نہیں کروں گا۔ ان کے بیٹے نے کہا کہ آپؓ تو اس لیے آئے ہیں کہ لوگوں کے درمیان صلح کرائیں اور اللہ آپؓ کے ہاتھ سے اس معاملے میں صلح کروائے گا۔ حضرت زبیرؓ نے کہا مَیں تو قسم کھا چکا ہوں۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے کہا آپؓ اس قَسم کا کفارہ دے دیں اور اپنے غلام جِرْجِسْ کو آزاد کر دیں اور ادھر ہی موجود رہیں یہاں تک کہ اللہ ان لوگوں میں صلح کروا دے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت زبیرؓ نے اپنے غلام جرجس کو آزاد کیا اور وہیں ٹھہرے رہے۔ لیکن لوگوں میں اختلاف مزید بڑھ گئے تو آپؓ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر چلے گئے۔ جب حضرت زبیرؓ مدینےکی طرف واپسی کا ارادہ کر کے نکلے اور سَفْوَان نامی مقام پر پہنچے جو بصرہ کے قریب ایک مقام ہے تو بکر نامی ایک شخص جو بنو مُجَاشِعسے تھا حضرت زبیرؓ کو ملا۔ اس نے کہا کہ اے حواریِٔ رسول اللہؐ !آپؓ کہاں جا رہے ہیں؟ آپؓ میری ذمہ داری ہیں۔ آپؓ تک کوئی شخص نہیں پہنچ سکتا۔ وہ شخص حضرت زبیرؓ کے ساتھ چل پڑا اور ایک آدمی اَحْنَف بن قیس سے ملا۔ اس نے کہا کہ یہ زبیر ہیں جو مجھے سَفْوَان میں ملے تھے۔ اَحْنَفْ نے کہا کہ مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں گتھم گتھا ہیں اور تلواروں سے ایک دوسرے کی پیشانیاں کاٹ رہے ہیں اور یہ اپنے بیٹے اور گھر والوں سے ملنے جاتے ہیں۔ جب عُمیر بن جُرْمُوْز اور فَضَالَہ بن حَابِساور نُفَیْعنے یہ بات سنی تو انہوں نے سوار ہو کر حضرت زبیرؓ کا پیچھا کیا اور ان کو ایک قافلے کے ساتھ پا لیا۔ عُمیر بن جرموز گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پیچھے سے آیا اور حضرت زبیرؓ پر نیزےسے حملہ کیا اور ہلکا سا زخم دیا۔ حضرت زبیرؓ نے بھی جو اس وقت ذُوالخِمَارنامی گھوڑے پر سوار تھے اس پر حملہ کیا۔ جب ابنِ جُرمُوزنے دیکھا کہ وہ قتل ہونے والا ہے تو اس نے اپنے دونوں ساتھیوں کو آواز دی اور انہوں نے مل کر حملہ کیا یہاں تک کہ حضرت زبیرؓ کو شہید کر دیا۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت زبیر اپنے قاتل کے سامنے آئے اور اس پر غالب بھی آگئے لیکن اس دشمن نے کہا مَیں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں۔ یہ سن کر حضرت زبیرؓ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ اس شخص نے یہ عمل کئی مرتبہ کیا۔ پھر جب حضرت زبیرؓ کے خلاف اس نے بغاوت کی اور ان کو زخمی کر دیا تو حضرت زبیرؓ نے کہا اللہ تجھے غارت کرے تم مجھے اللہ کا واسطہ دیتے رہے اور خود اس کو بھول گئے۔ حضرت زبیرؓ کو شہید کرنے کے بعد ابنِ جُرمُوزحضرت علیؓ کے پاس حضرت زبیرؓ کا سر اور ان کی تلوار لایا۔ حضرت علیؓ نے تلوار لے لی اور کہا کہ یہ وہ تلوار ہے کہ اللہ کی قسم! اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے بے چینی دور ہوئی لیکن اب یہ موت اور فساد کی قتل گاہوں میں ہے۔ ابنِ جُرمُوزنے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ دربان نے عرض کی کہ یہ ابنِ جُرمُوز جو حضرت زبیرؓ کا قاتل ہے۔ دروازے پر کھڑا اجازت طلب کرتا ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ابنِ صَفِیَّہ، حضرت زبیرؓ کو شہید کرنے والا دوزخ میں داخل ہو۔ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ہر نبی کے حواری ہیں اور میرا حواری زبیرؓ ہے۔ حضرت زبیرؓ وادی سِبَاعْ میں دفن کیے گئے۔ حضرت علیؓ اور ان کے ساتھی بیٹھ کر آپؓ پر رونے لگے۔ شہادت کے وقت حضرت زبیرؓ کی عمر چونسٹھ سال تھی۔ بعض کے نزدیک آپ کی عمر چھیاسٹھ یا ستاسٹھ سال تھی۔ (مستدرک علی الصحیحین للحاکم جلد 3صفحہ413 حدیث 5575باب معرفۃ الصحابہ دار الکتب العلمیۃ بیروت) (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جلد 2 صفحہ 516 زبیر بن العوام دار الجیل بیروت 1996ء) (مستدرک علی الصحیحین للحاکم جلد 3صفحہ412 حدیث 5571 باب معرفۃ الصحابۃ دار الکتب العربیہ بیروت) (الطبقات الکبریٰ جز 3 صفحہ78 زبیر بن العوام دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء) (الطبقات الکبریٰ لابن سعد جز 3صفحہ83 دا رالکتب العلمیۃ بیروت 1990) (الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 2 صفحہ 460زبیر بن العوام دار الکتب العلمیۃ بیروت 1995ء)

حضرت عاتکہ بنت زید جو حضرت زبیر بن عوامؓ کی بیوی تھیں ان کے متعلق اہلِ مدینہ کہا کرتے تھے کہ جو شخص شہادت چاہے وہ عاتکہ بنت زید سے نکاح کر لے۔ یہ پہلے عبداللہ بن ابی بکر کے عقد میں آئیں وہ شہید ہو کر ان سے جدا ہو گئے۔ پھر حضرت عمر بن خطابؓ کے عقد میں آئیں۔ وہ بھی شہید ہو کر ان سے جدا ہو گئے۔ پھر حضرت زبیر بن عوامؓ کے عقد میں آئیں۔ وہ بھی شہید ہو کر ان سے جدا ہو گئے۔

حضرت زبیرؓ کی شہادت پر حضرت عاتکہؓ نے یہ اشعار کہے تھے کہ

غَدَرَ ابْنُ جُرْمُوزٍ بِفَارِسِ بُہْمَۃٍ

یَوْمَ اللِّقَاءِ وَ کَانَ غَیْرَ مُعَرِّدِ

یَا عَمْرُو لَوْ نَبَّہْتَہٗ لَوَجَدْتَہٗ

لَا طَائِشًا رَعِشَ الْجَنَانِ وَلَاالْیَدِ

شَلَّتْ یَمِیْنُکَ إِنْ قَتَلْتَ لَمُسْلِمًا

حَلَّتْ عَلَیْکَ عُقُوْبَۃُ الْمُتَعَمِّدِ

ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ ہَلْ ظَفِرْتَ بِمِثْلِہٖ

فِیْمَنْ مَضٰى فِیْمَا تَرُوْحُ وَ تَغْتَدِیْ

کَمْ غَمْرَۃٍ قَدْ خَاضَہَا لَمْ یَثْنِہِ

عَنْہَا طِرَادُکَ یَا ابْنَ فَقْعِ الْقَرْدَدِ

یعنی ابنِ جُرمُوزنے جنگ کے دن اس بہادر سوار کے ساتھ دغا کیا حالانکہ وہ بھاگنے والا نہ تھا۔ اے عمرو بن جرموز! اگر تُو انہیں آگاہ کر دیتا تو انہیں اس حالت میں پاتا کہ وہ نامردنہ ہوتے جس کا دل اور ہاتھ کانپتا ہو۔ تیرا ہاتھ شل ہو جائے کہ تو نے ایک مسلمان کو قتل کر دیا۔ تجھ پر قتلِ عمد کے مرتکب کا عذاب واجب ہو گیا۔ تیرا برا ہو! کیا ان لوگوں میں جو اس زمانے میں گزر گئے جس میں تُو شام اور صبح کرتا ہے تُو نے کبھی ان جیسے کسی اَور شخص پر کامیابی پائی ہے۔ اے ادنیٰ سی تکلیف کو برداشت نہ کر سکنے والے۔ زُبیر تو ایسا شخص تھا کہ کتنے ہی سخت حالات ہوں وہ جنگ میں مشغول رہتے تھے اور اے سفید چہرے والے! تمہاری نیزہ زنی اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی تھی۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد جز 3صفحہ83 دا رالکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

پھر وہاں طبقات الکبریٰ کی یہ روایت ہے کہ جب ابنِ جُرمُوزنے آ کر حضرت علیؓ سے اجازت چاہی تو حضرت علیؓ نے اس سے دوری چاہی۔ اس پر اس نے کہا کیا زبیرؓ مصیبت والوں میں سے نہ تھے۔ حضرت علیؓ نے کہا کہ تیرے منہ میں خاک مَیں تو یہ امید کرتا ہوں کہ طلحہؓ اور زبیرؓ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے حق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ (الحجر: 48) اور ہم ان کے دلوں کی کدورت دور کر دیں گے کہ وہ تختوں پر آمنے سامنے بھائی بھائی ہو کر بیٹھیں گے۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد جز 3صفحہ84دا رالکتب العلمیۃ بیروت 1990)

حضرت زبیرؓ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں اور کثرت کے ساتھ اولاد پیدا ہوئی۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

حضرت اسماء بنت ابوبکرؓ: ان کے بطن سے عبداللہ، عروہ، مُنْذِر، عاصم، خدیجۃ الکبریٰ، ام الحسن، عائشہ پیدا ہوئیں۔ حضرت ام خالدؓ: ان کے بطن سے جو بچے پیدا ہوئے وہ خالد، عمرو، حبیبہ، سودہ، ہند ہیں۔ حضرت رُبَاب بنت اُنَیفؓ: ان کے بطن سے یہ بچے پیدا ہوئے۔ مصعب، حمزہ، رَمْلَہ۔

حضرت زینب ام جعفر بنت مَرْثَدؓ: ان کے بطن سے جو بچے پیدا ہوئے وہ عُبَیدہ اور جعفر ہیں۔ حضرت ام کلثوم بنت عُقْبَہؓ: ان کے بطن سے زینب پیدا ہوئیں۔ حضرت حِلال بنت قیسؓ: ان کے بطن سے خدیجۃ الصغریٰ پیدا ہوئیں۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد 3صفحہ74زبیر بن العوام، دا رالکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

حضرت عاتکہؓ بنت زید۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد 3صفحہ83 زبیر بن العوام، دا رالکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

یہ ہیں حضرت زبیرؓ کے سارے واقعات۔ اور یہاں ختم ہوئے۔

اب اس کے بعد مَیں کچھ مرحومین کا ذکر کروں گا جن کا ابھی جمعے کے بعد جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔ ان میں سے پہلا ذکر الحاج ابراہیم مبائع صاحب نائب امیر سوم گیمبیا کا ہے جو 10؍ اگست کو وفات پاگئے تھے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔

آپ 4؍ جون 1944ء کو بانجول میں پیدا ہوئے اور سابق امیر جماعت گیمبیامکرم چوہدری محمد شریف صاحب مرحوم کے دور میں 62، 61ءمیں انہوں نے احمدیت قبول کی تھی۔ جماعت کے ابتدائی ممبران میں سے تھے۔ پنج وقت کے نمازی، تہجد کے عادی تھے۔ اللہ کے فضل سے موصی بھی تھے۔ مالی قربانی میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ آپ کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے وفات سے قبل بھی تہجد کی نماز ادا کی۔ پینے کے لیے پانی مانگا پھر اللہ کے حضور حاضر ہو گئے۔ مرحوم قرآن کریم کے عاشق تھے۔ باقاعدگی سے تلاوت قرآن پاک کیا کرتے تھے۔ موصوف ایک لمبے عرصے تک بطور نائب امیر خدمتِ دین کی توفیق پاتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بطور افسر جلسہ سالانہ، نیشنل سیکرٹری امور خارجہ اور صدر مجلس انصاراللہ گیمبیا بھی خدمت کی توفیق پائی اور مسرور سیکنڈری سکول کے بورڈ ممبر بھی تھے۔

کوالیفائیڈ ٹیچر تھے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں بطور ٹیچر خدمات بجا لاتے رہے۔ اپنی فیلڈ میں اعلیٰ تعلیم اور ماسٹرز کے لیے امریکہ گئے۔ پھر واپس آ کر ملک و قوم کی خدمت کی۔ گیمبیا کے ایک مشہور ادارے مینجمنٹ ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے بانی ممبران میں سے تھے اور یہ ادارہ گیمبیا میں سول سرونٹس (civil servants) اور دیگر افراد کو اعلیٰ تعلیم دیتا ہے۔ گیمبیا کے بہت سے اعلیٰ سرکاری افسران اس ادارے سے تعلیم یافتہ ہیں۔ موصوف طاہر احمدیہ مسلم سینئر سکول کے پرنسپل اور نصرت سینئر سیکنڈری سکول کے ہیڈماسٹر بھی رہے۔ بہت سے ملکی اور غیر ملکی افراد کو تعلیم دی۔ اکثر علمی حلقوں میں آپ کو بڑا جانا جاتا تھا اور لوگ آپ کو ’My Teacher‘ کہا کرتے تھے۔ ان کے سوگواران میں دو بیگمات اور سات بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ ان کی ایک بیگم مسزعقیبہ صاحبہ لجنہ اماء اللہ گیمبیا کی صدر ہیں اور ان کے ایک بیٹے واقفِ زندگی ہیں اور جامعۃ المبشرین سے فارغ التحصیل ہیں۔ اسی طرح ایک بیٹا ان کا خدام الاحمدیہ میں بھی صدر خدام الاحمدیہ رہ چکا ہے۔ امریکہ میں دو بیٹے ہیں اور ایک بیٹی یہاں یوکے میں رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم سے رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ہمیشہ ان کی خواہشات کے مطابق دین سے وابستہ رکھے۔

امیر صاحب گیمبیا لکھتے ہیں کہ خاکسار بھی کراب آئی لینڈ مڈل سکول (Crab Island Middle School) میں ان کا شاگرد رہا ہے۔ یہاں تمام احمدی طلباء نے دیگر مسلمان طلباء کے ساتھ مل کر جمعرات کے روز اسلامیات کی ایک کلاس جاری کی تھی اور مرحوم یہ کلاس لیا کرتے تھے۔ موصوف جماعتی عہدیداران اور نظامِ جماعت کا بہت احترام کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ میرے استاد تھے لیکن اس کے باوجود بطور امیر ہمیشہ میری اور دیگر عہدیداران کی مکمل اطاعت کی۔ بہت مخلص، محنتی اور کھلے دل کے مالک تھے۔ خلافت کے وفادار اور مطیع تھے۔ خلیفۂ وقت سے عشق اور محبت کا تعلق تھا۔ ہمیشہ جماعت اور خلافت کے دفاع میں پیش پیش رہتے۔ اچھا دینی علم بھی رکھتے تھے۔ دلائل سے بات کیا کرتے تھے، حکمت سے بات کیا کرتے تھے اور جدید ٹیکنالوجی اور مختلف ذرائع سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔ تبلیغ میں لگے رہتے تھے۔

دوسرا جنازہ جو ہے وہ مکرم نعیم احمد خان صاحب ابن عبدالجلیل خان صاحب نائب امیر کراچی کا ہے۔ ان کو وفات پائے تو دو تین مہینے ہو گئے۔ اپریل کے آخر میں ان کی وفات ہوئی تھی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔

ان کے خاندان میں سب سے پہلے محترم اختر علی صاحب کے ذریعے سے احمدیت آئی تھی جنہوں نے حضرت مولوی حسن علی صاحبؓ بھاگل پوری جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے ان کے ذریعے سے بیعت کی تھی۔ مولوی اختر علی صاحب ان کی والدہ کے ماموں اور والد کے پھوپھا تھے۔ نعیم خان صاحب نے میٹرک پٹنہ، بہار انڈیا سے کیا اور قیام پاکستان کے بعد 1948ء میں لاہور آ گئے۔ دیال سنگھ کالج سے انٹر کیا اور ٹی آئی کالج لاہور سے ایم ایس سی کیا۔ بعد میں لندن چلے گئے۔ پھر 1959ء میں کراچی واپس آ کر گیس کمپنی (Gas Company) میں ملازمت اختیار کی اور 1993ء میں یہاں سے سینئر جنرل مینیجر کے عہدے سےریٹائرڈ ہوئے۔

مجلس خدام الاحمدیہ کراچی میں بطور نائب ناظم صنعت و تجارت خدمات کا آغاز کیا۔ اس کے بعدنائب قائد مجلس خدام الاحمدیہ مقامی کراچی مقرر ہوئے۔ پھر 66ءمیں مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے قائد منتخب ہوئے۔ چار سال تک یہ خدمت انجام دی۔ پھر انصار اللہ مارٹن روڈ کراچی کے زعیم اعلیٰ رہے۔ پھر ناظم انصار اللہ ضلع کراچی بھی رہے اور 97ء تک اس خدمت پر فائز رہے۔ ناظم انصار اللہ علاقہ کراچی مقرر ہوئے۔ 1997ء میں سیکرٹری وقف جدید جماعت کراچی مقرر ہوئے اور 2019ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ لمبا عرصہ نائب امیر جماعت کراچی خدمت کی توفیق ملی۔ فضل عمر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدیہ آرکیٹیکٹس اینڈانجنیئرز کی پہلی مجلس عاملہ میں بطور آڈیٹر خدمات انجام دیں۔ کئی سال تک اس کے کراچی چیپٹر (chapter) کے صدر بھی رہے۔ 1970ء میں دارالضیافت ربوہ کے لیے بلکہ جلسہ سالانہ کے لیے روٹی پکانے کی مشینیں لگانے کا منصوبہ بنایا گیا اور مشینیں بنانا شروع کی گئیں تو آپ کو بطور انجنیئر اس کام میں حصہ لینے کا اعزاز حاصل ہوا۔

نعیم خان صاحب کی اہلیہ کی وفات کافی عرصہ پہلے ہو گئی تھی۔ آپ کی بیٹی عمارہ صاحبہ کہتی ہیں کہ ہمارے والدنے ہماری اُمی جان کی وفات کے بعدنہ صرف ایک شفیق باپ بلکہ خیال رکھنے والی ماں اور ایک ہمدرددوست کا بھی رول بہت احسن انداز میں نبھایا۔ ہروقت دین، خلافت سے وفاداری، نمازکی پابندی اور جماعت سے تعلق کا سبق دیا۔ ان کے داماد ڈاکٹر غفار صاحب کہتے ہیں کہ میری ان سے رشتہ داری تیس سال قبل ہوئی تھی۔ ان تیس سالوں میں مجھے مرحوم کو انتہائی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کی قربت اور صحبت نے میری زندگی میں انتہائی مثبت انداز میں اثر ڈالا۔ مرحوم کا معمول انتہائی پاکیزہ اور سادگی سے معمور تھا۔ عبادت سے شغف قابلِ رشک حد تک تھا۔ تہجد ان کا معمول تھا۔ آخری ایام میں جبکہ فالج کے حملےکی وجہ سے اپنے طور پر چل پھر نہیں سکتے تھے اس وقت بھی اپنے معمولات میں ذرہ برابر فرق نہیں آنے دیا اور اپنے میل نرس کو کہا کہ مجھے فلاں وقت اٹھا کے بٹھا دیا کرو اور پھر کرسی پر بیٹھ کے باقاعدہ تہجد سے آغاز کرتے تھے۔ نمازیں پڑھتے تھے اور باوجود معذوری کے لیپ ٹاپ پہ دین کے کام بھی کرتے رہتے تھے۔

مربی سلسلہ نسیم تبسم صاحب کہتے ہیں کہ ہر وقت ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رہتی تھی اور باوجود بیمار ہونے کے دفتر ضرور آتے تھے۔ واقفینِ زندگی کے ساتھ بھی بہت پیار کرتے اور بڑے ادب سے پیش آتے تھے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ درجات بلند کرے۔ ان کی اولاد کو ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان کے بارے میں یہاں ایک اَور بات بھی ہے۔ زرتشت منیر صاحب ناروے سے لکھتے ہیں کہ آپ خدمتِ دین کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ خلافت سے محبت اخلاص اور وفا کا تعلق ہمیشہ قائم رکھا۔ کہتے ہیں جب میں قائد ضلع کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پا رہا تھا تو بڑی اعلیٰ رنگ میں میری رہنمائی فرمایا کرتے تھے اور ہمیشہ ان میں مَیں نے دیکھا کہ ہر امیر کے ساتھ انہوں نے اطاعت اور تعاون کا بہترین معیار رکھا ہے۔

اگلا جنازہ مکرمہ بشریٰ بیگم صاحبہ اہلیہ ٹھیکیدار ولی محمد صاحب مرحوم جرمنی کا ہے جو 19؍جولائی کو 74سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے جرمنی میں وفات پا گئی تھیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔

ان کے دادا حضرت میاں نظام الدین صاحب آف نابھہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ تہجد کی ادائیگی میں بڑی باقاعدہ تھیں۔ نمازوں کی پابند تھیں۔ مہمان نواز تھیں۔ ضرورت مندوں کا خیال رکھنے والی تھیں۔ مالی قربانی میں پیش پیش تھیں۔ نیک، مخلص خاتون تھیں۔ خلافت سے بے پناہ محبت تھی اور عقیدت کا تعلق تھا۔ بچپن سے نظر کی کمزوری کی وجہ سے باقاعدہ قرآن کریم نہیں پڑھ سکتی تھیں لیکن شادی کے بعد اپنے بچوں کی مدد سے چند سپارے حفظ بھی کیے۔ ایم ٹی اے پر قرآن کریم کی تلاوت سننے کے علاوہ وہ میرے خطبات بھی باقاعدہ سنتی تھیں اور باقاعدہ دوسرے پروگرام بھی سنتی تھیں۔ اللہ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ ان کے پسماندگان میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ ایک بیٹے شفیق الرحمٰن صاحب مبلغ سلسلہ، نیوزی لینڈ کے مشنری انچارج ہیں اور عتیق الرحمٰن صاحب آج کل یہاں وقف کر کے ہمارے پی ایس دفتر کے شعبہ ریکارڈ میں کام کر رہے ہیں۔ شفیق الرحمٰن صاحب جو مشنری انچارج ہیں اپنی والدہ کے جنازے میں شامل بھی نہیں ہو سکے تھے۔ تدفین ان کی یہاں ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی سکون اور صبر عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ مرحومہ سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ ان کی اولاد کو ان کی دعاؤں کا وارث بنائے۔

نماز کے بعد ان شاء اللہ ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔

(الفضل انٹرنیشنل 25؍ستمبر2020 صفحہ 5تا10)


  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 4؍ ستمبر 2020ء شہ سرخیاں

    رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ طلحہ اور زبیر جنّت میں میرے ہمسائے ہوں گے۔

    حضرت زبیرؓ دین کے ستونوں میں سے ایک ستون ہیں (حضرت عمرؓ )۔

    کاتبِ وحی، آنحضرتﷺ کے حواری اور عظیم المرتبت بدری صحابی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ۔

    تین مرحومین مکرم الحاج ابراہیم مبائع صاحب (نائب امیر سوم گیمبیا)، مکرم نعیم احمد خان صاحب (نائب امیر کراچی) اور مکرمہ بشریٰ بیگم صاحبہ اہلیہ ٹھیکیدار ولی محمد صاحب مرحوم آف جرمنی کا ذکر ِخیر اور نماز ِجنازہ غائب۔

    فرمودہ 04؍ستمبر2020ء بمطابق 04؍تبوک1399 ہجری شمسی، بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور