پاکستان میں جماعت احمدیہ پر مظالم کا دور اب فیصلہ کُن منزل کی طرف بڑھ رہا ہے
صدر ضیاء کیطرف سے نفاذِ اسلام کی آڑ میں جماعت احمدیہ کو نیست و نابود کرنے کی مساعی اور اس کا انجام۔ احمدیت کو سرطان قرار دینے والے صدر مملکت نے پورے معاشرے کو سرطان میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ خود صدر کے اپنے اقرار کی رُو سے وہ اور ان کے ہمنوامسلمان رہے ہیں نہ پاکستانی اور نہ انسان۔٢٧ مئی ١٩٨٨ء
پاکستان میں حضرت مسیح موعود کی تکذیب کے تمام بڑے بڑے علمبرداروں کو مُباھلہ کا چیلنج
حکومت پاکستان اور علماء کے علاوہ اسمبلیوں اور وفاقی شرعی عدالت کے ججوں نے بدزبانیوں اور گستاخیوں کی انتہا کردی۔ حجت کی تمام راہیں بند کردی گئی ہیں اور اب فیصلہ کیلئے مباہلہ کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ اگر تم بیان کردہ وضاحت کیساتھ مباہلہ کیلئے تیار ہو تو مَیں جماعت احمدیہ کی سربراہی میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ لَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ ۔ تم بھی اپنے بڑے اور چھوٹوں ، عورتوں اور بچوں کی سربراہی میں یہی اعلان جماعت احمدیہ کے مدّمقابل کرنے کی جراٴت کرو ۔ ٣ جون ١٩٨٨ء
پاکستان میں جماعت احمدیہ کے خلاف ظلم و افتراء اور تکذیب و استہزاء کی انتہا کے بعد اب میں مجبور ہوگیا ہوں کہ مُکفّرین و مُکذّبین کے تمام سربراہوں کو مباہلہ کا چیلنج دوں
مُعّین الفاظ میں دعائے مباہلہ کا مکمل متن جس پر دونوں فریقوں کے سربراہان دستخط کرینگے۔ فریقِ ثانی اِس تحریر پر دستخط کرنے کے بعد ہر ممکن ذریعہ سے تشہیر کرے کہ ہم نے چیلنج قبول کرلیا ہے تاکہ خداتعالٰی کی طرف سے نشانی نمائی ہو اور حق اور کذب کی راھیں الگ الگ کرکے دکھادی جائیں۔ جو ائمہ تکذیب مباھلہ کےاِس چیلنج کو قبول کرینگے خدا اُنکے اور جماعت کے حق میں عظیم الشان نشان دکھائیگا۔ یہ آخری چیلنج ہے ۔اِس کے بعد حُجّت کی راہیں بند ہوجاتی ہیں۔ اور خُدائی فیصلے کے انتظار کے دن باقی رہ جاتے ہیں۔ ١٠ جون ١٩٨٨ء