The Holy Quran 10:25 – Yunus (یُوْنُسَ)
اِنَّمَا مَثَلُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا کَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ مِمَّا یَاۡکُلُ النَّاسُ وَالۡاَنۡعَامُ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَہَا وَازَّیَّنَتۡ وَظَنَّ اَہۡلُہَاۤ اَنَّہُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَیۡہَاۤ ۙ اَتٰہَاۤ اَمۡرُنَا لَیۡلًا اَوۡ نَہَارًا فَجَعَلۡنٰہَا حَصِیۡدًا کَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۵﴾
English translation by Maulawi Sher Ali
The likeness of the present life is only as water which We send down from the clouds, then there mingles with it the produce of the earth, of which men and cattle eat till, when the earth receives its ornature and looks beautiful and its owners think that they have power over it, there comes to it Our command by night or by day and We render it a field that is mown down, as if nothing had existed there the day before. Thus do We expound the Signs for a people who reflect.
اُردو ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمدؒ
یقیناً دنیا کی زندگی کی مثال تو اس پانی کی طرح ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس میں زمین کی روئیدگی گھل مل گئی جس میں سے انسان بھی کھاتے ہیں اور مویشی بھی۔ یہاں تک کہ جب زمین اپنے سنگھار پہن لیتی ہے اور خوب سج جاتی ہے اور اس کے رہنے والے یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ وہ اس پر پورا اختیار رکھتے ہیں تو ہمارا فیصلہ رات یا دن (کسی وقت بھی) اسے آ لیتا ہے اور ہم اُسے ایک ایسے کٹے ہوئے کھیت کی طرح کر دیتے ہیں (جو پھل لانے سے پہلے ہی کٹ گرا ہو) گویا کل تک اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ اسی طرح ہم غور وفکر کرنے والوں کے لئے نشانات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔