The Holy Quran 13:18 – Ar-Ra`d (الرَّعْدِ)
اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتۡ اَوۡدِیَۃٌۢ بِقَدَرِہَا فَاحۡتَمَلَ السَّیۡلُ زَبَدًا رَّابِیًا ؕ وَمِمَّا یُوۡقِدُوۡنَ عَلَیۡہِ فِی النَّارِ ابۡتِغَآءَ حِلۡیَۃٍ اَوۡ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثۡلُہٗ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡحَقَّ وَالۡبَاطِلَ ۬ؕ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذۡہَبُ جُفَآءً ۚ وَاَمَّا مَا یَنۡفَعُ النَّاسَ فَیَمۡکُثُ فِی الۡاَرۡضِ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ ﴿ؕ۱۸﴾
English translation by Maulawi Sher Ali
He sends down water from the sky, so that valleys flow according to their measure, and the flood bears on its surface swelling foam. And from that which they heat in the fire, seeking to make ornaments or utensils, comes out a foam similar to it. Thus does Allah illustrate truth and falsehood. Now, as to the foam, it goes away as rubbish, but as to that which benefits men, it stays on the earth. Thus does Allah set forth parables.
اُردو ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمدؒ
اس نے آسمان سے پانی اُتارا تو وادیاں اپنے ظرف کے مطابق بہہ پڑیں اور سیلاب نے اوپر آجانے والی جھاگ کو اٹھا لیا۔ اور وہ جس چیز کو آگ میں ڈال کر دہکاتے ہیں تا کہ زیور یا دوسرے سامان بنائیں اس سے بھی اسی طرح کی جھاگ اٹھتی ہے اسی طرح اللہ سچ اور جھوٹ کی تمثیل بیان کرتا ہے۔ پس جو جھاگ ہے وہ تو بے کار چلی جاتی ہے اور جو انسانوں کو فائدہ پہنچاتا ہے تو وہ زمین میں ٹھہر جاتاہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔