The Holy Quran 27:41 – An-Naml (النَّمْلِ)
قَالَ الَّذِیۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡکِتٰبِ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّرۡتَدَّ اِلَیۡکَ طَرۡفُکَ ؕ فَلَمَّا رَاٰہُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَہٗ قَالَ ہٰذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّیۡ ۟ۖ لِیَبۡلُوَنِیۡۤ ءَاَشۡکُرُ اَمۡ اَکۡفُرُ ؕ وَمَنۡ شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَمَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیۡ غَنِیٌّ کَرِیۡمٌ ﴿۴۱﴾
English translation by Maulawi Sher Ali
Said one who had knowledge of the Book, ‘I will bring it to thee before thy noble messengers return to thee.’ And when he saw it set before him, he said, ‘This is by the grace of my Lord, that He may try me whether I am grateful or ungrateful. And whosoever is grateful is grateful for the good of his own soul; but whosoever is ungrateful, truly my Lord is Self-Sufficient, Generous.’
اُردو ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمدؒ
وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا میں اسے تیرے پاس لے آؤں گا پیشتر اس سے کہ تیرا نگہبان دستہ تیری طرف لوٹ آئے۔ پس جب اس نے اسے اپنے پاس پڑا پایا تو کہا یہ محض میرے ربّ کے فضل سے ہے تا کہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔ اور جو بھی شکر کرتا ہے تو اپنے نفس کے فائدہ کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا ربّ یقیناً مستغنی اور صاحبِ اکرام ہے۔