The Holy Quran 2:103 – Al-Baqarah ( الْبَقَرَۃ)
وَاتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّیٰطِیۡنُ عَلٰی مُلۡکِ سُلَیۡمٰنَ ۚ وَمَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا یُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ ٭ وَمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَی الۡمَلَکَیۡنِ بِبَابِلَ ہَارُوۡتَ وَمَارُوۡتَ ؕ وَمَا یُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَۃٌ فَلَا تَکۡفُرۡ ؕ فَیَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡہُمَا مَا یُفَرِّقُوۡنَ بِہٖ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَزَوۡجِہٖ ؕ وَمَا ہُمۡ بِضَآرِّیۡنَ بِہٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَیَتَعَلَّمُوۡنَ مَا یَضُرُّہُمۡ وَلَا یَنۡفَعُہُمۡ ؕ وَلَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰٮہُ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ۟ؕ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾
English translation by Maulawi Sher Ali
And they pursue the course which the rebellious men followed during the reign of Solomon. And Solomon did not disbelieve; but it was the rebellious ones who disbelieved, teaching people falsehood and deception. And they pursue what was revealed to the two angels in Babylon, Harut and Marut. But these two taught no one until they had said: ‘We are but a trial, do not therefore disbelieve.’ So men learnt from them that by which they made a difference between a man and his wife, but they harmed no one thereby, except by the command of Allah; on the contrary, these people are learning that which would harm them and do them no good. And they have certainly known that he who trafficks therein has no share of good in the Hereafter; and surely, evil is that for which they have sold their souls; had they but known!
اُردو ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمدؒ
اور انہوں نے پیروی کی اس کی جو شیاطین سلیمان کے ملک کے خلاف پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے کفر نہیں کیا بلکہ وہ شیاطین تھے جنہوں نے کفر کیا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور (اس کے برعکس) بابل میں جو دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتارا گیا (اس کا قصہ یہ ہے) وہ دونوں کسی کو بھی کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک وہ (اُسے) یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو محض ایک آزمائش کے طور پر ہیں پس تُو کفر نہ کر۔ پس وہ لوگ ان دونوں سے ایسی بات سیکھتے تھے جس کے ذریعے وہ خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے تھے اور اللہ کے اِذن کے سوا وہ اس ذریعہ سے کسی کو نقصان پہنچانے والے نہیں تھے۔ اور (اس کے برعکس جو لوگ شیاطین سے سیکھتے تھے) وہ وہی باتیں سیکھتے تھے جو ان کو نقصان پہنچانے والی تھیں اور فائدہ نہیں پہنچاتی تھیں۔ حالانکہ وہ خوب جان چکے تھے کہ جس نے بھی یہ سودا کیا اس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں رہے گا۔ پس بہت ہی برا تھا وہ (عارضی فائدہ) جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانیں بیچ دیں، کاش کہ وہ جانتے۔