The Holy Quran 2:248 – Al-Baqarah ( الْبَقَرَۃ)

وَقَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اللّٰہَ قَدۡ بَعَثَ لَکُمۡ طَالُوۡتَ مَلِکًا ؕ قَالُوۡۤا اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہُ الۡمُلۡکُ عَلَیۡنَا وَنَحۡنُ اَحَقُّ بِالۡمُلۡکِ مِنۡہُ وَلَمۡ یُؤۡتَ سَعَۃً مِّنَ الۡمَالِ ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰٮہُ عَلَیۡکُمۡ وَزَادَہٗ بَسۡطَۃً فِی الۡعِلۡمِ وَالۡجِسۡمِ ؕ وَاللّٰہُ یُؤۡتِیۡ مُلۡکَہٗ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۸﴾

English translation by Maulawi Sher Ali

And their Prophet said to them: ‘Allah has appointed for you Talut as a king.’ They said: ‘How can he have sovereignty over us while we are better entitled to sovereignty than he, and he is not given abundance of wealth?’ He said: ‘Surely, Allah has chosen him above you and has increased him abundantly in knowledge and body.’ And Allah gives sovereignty to whom He pleases and Allah is Bountiful, All-Knowing.

اُردو ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمدؒ

اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ یقیناً اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کو ہم پرحکومت کا حق کیسے ہوا جبکہ ہم اس کی نسبت حکومت کے زیادہ حقدار ہیں اور وہ تو مالی و سعت (بھی) نہیں دیا گیا۔ اُس (نبی) نے کہا یقیناً اللہ نے اسے تم پر ترجیح دی ہے اور اُسے زیادہ کردیا ہے علمی اور جسمانی فراخی کے لحاظ سے۔ اور اللہ جسے چاہے اپنا ملک عطا کرتا ہے اور اللہ وسعت عطا کرنے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔