The Holy Quran 2:276 – Al-Baqarah ( الْبَقَرَۃ)
اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَیۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ فَمَنۡ جَآءَہٗ مَوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ فَانۡتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ ؕ وَاَمۡرُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ وَمَنۡ عَادَ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۷۶﴾
English translation by Maulawi Sher Ali
Those who devour interest do not rise except as rises one whom Satan has smitten with insanity. That is because they say: ‘Trade also is like interest;’ whereas Allah has made trade lawful and made interest unlawful. So he to whom an admonition comes from his Lord and he desists, then will that which he received in the past be his; and his affair is with Allah. And those who revert to it, they are the inmates of the Fire; therein shall they abide.
اُردو ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمدؒ
وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہیں ہوتے مگر ایسے جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے (اپنی) مَس سے حواس باختہ کر دیا ہو۔ یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے کہا یقیناً تجارت سود ہی کی طرح ہے۔ جبکہ اللہ نے تجارت کو جائز اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ پس جس کے پاس اُس کے ربّ کی طرف سے نصیحت آجائے اور وہ باز آ جائے تو جو پہلے ہوچکا وہ اسی کا رہے گا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اور جو کوئی دوبارہ ایسا کرے تو یہی لوگ ہیں جو آ گ والے ہیں۔ وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔