The Holy Quran 2:283 – Al-Baqarah ( الْبَقَرَۃ)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکۡتُبُوۡہُ ؕ وَلۡیَکۡتُبۡ بَّیۡنَکُمۡ کَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ ۪ وَلَا یَاۡبَ کَاتِبٌ اَنۡ یَّکۡتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّٰہُ فَلۡیَکۡتُبۡ ۚ وَلۡیُمۡلِلِ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ وَلۡیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ وَلَا یَبۡخَسۡ مِنۡہُ شَیۡئًا ؕ فَاِنۡ کَانَ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ سَفِیۡہًا اَوۡ ضَعِیۡفًا اَوۡ لَا یَسۡتَطِیۡعُ اَنۡ یُّمِلَّ ہُوَ فَلۡیُمۡلِلۡ وَلِیُّہٗ بِالۡعَدۡلِ ؕ وَاسۡتَشۡہِدُوۡا شَہِیۡدَیۡنِ مِنۡ رِّجَالِکُمۡ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّامۡرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ اَنۡ تَضِلَّ اِحۡدٰٮہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحۡدٰٮہُمَا الۡاُخۡرٰی ؕ وَلَا یَاۡبَ الشُّہَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا ؕ وَلَا تَسۡـَٔمُوۡۤا اَنۡ تَکۡتُبُوۡہُ صَغِیۡرًا اَوۡ کَبِیۡرًا اِلٰۤی اَجَلِہٖ ؕ ذٰلِکُمۡ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰہِ وَاَقۡوَمُ لِلشَّہَادَۃِ وَاَدۡنٰۤی اَلَّا تَرۡتَابُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیۡرُوۡنَہَا بَیۡنَکُمۡ فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَلَّا تَکۡتُبُوۡہَا ؕ وَاَشۡہِدُوۡۤا اِذَا تَبَایَعۡتُمۡ ۪ وَلَا یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّلَا شَہِیۡدٌ ۬ؕ وَاِنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاِنَّہٗ فُسُوۡقٌۢ بِکُمۡ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ؕ وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ ؕ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۲۸۳﴾
English translation by Maulawi Sher Ali
O ye who believe! when you borrow one from another for a fixed period, then write it down. And let a scribe write it in your presence faithfully; and no scribe should refuse to write, because Allah has taught him, so let him write and let him who incurs the liability dictate; and he should fear Allah, his Lord, and not diminish anything therefrom. But if the person incurring the liability be of low understanding or be weak or be unable himself to dictate, then let someone who can watch his interest dictate with justice. And call two witnesses from among your men; and if two men be not available, then a man and two women, of such as you like as witnesses, so that if either of two women should err in memory, then one may remind the other. And the witnesses should not refuse when they are called. And do not feel weary of writing it down, whether it be small or large, along with its appointed time of payment. This is more equitable in the sight of Allah and makes testimony surer and is more likely to keep you away from doubts; therefore omit not to write except that it be ready merchandise which you give or take from hand to hand, in which case it shall be no sin for you that you write it not. And have witnesses when you sell one to another; and let no harm be done to the scribe or the witness. And if you do that, then certainly it shall be disobedience on your part. And fear Allah. And Allah grants you knowledge and Allah knows all things well.
اُردو ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمدؒ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم ایک معیّن مدت تک کے لئے قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور چاہئے کہ تمہارے درمیان لکھنے والا انصاف سے لکھے۔ اور کوئی کاتب اِس سے انکار نہ کرے کہ وہ لکھے۔ پس وہ لکھے جیسا اللہ نے اُسے سکھایا ہے۔ اور وہ لکھوائے جس کے ذمّہ (دوسرے کا) حق ہے، اور اللّٰہ‘ اپنے ربّ کا تقویٰ اختیار کرے، اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرے۔ پس اگر وہ جس کے ذمہ (دوسرے کا) حق ہے بےوقوف ہو یا کمزور ہو یا استطاعت نہ رکھتا ہو کہ وہ لکھوائے تو اُس کا ولی (اس کی نمائندگی میں) انصاف سے لکھوائے۔ اور اپنے مَردوں میں سے دو کو گواہ ٹھہرا لیا کرو۔ اور اگر دو مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں (ایسے) گواہوں میں سے جن پر تم راضی ہو۔ (یہ) اس لئے (ہے) کہ ان دو عورتوں میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد کروا دے۔ اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔ اور (لین دین) خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اُسے اس کی مقررہ میعاد تک (یعنی مکمل معاہدہ) لکھنے سے اکتاؤ نہیں۔ تمہارا یہ طرزِعمل خدا کے نزدیک بہت منصفانہ ٹھہرے گا اور شہادت کو قائم کرنے کے لئے بہت مضبوط اقدام ہوگا، اور اس بات کے زیادہ قریب ہوگا کہ تم شکوک میں مبتلا نہ ہو۔ (لکھنا فرض ہے) سوائے اس کے کہ وہ دست بدست تجارت ہو جسے تم (اسی وقت) آپس میں لے دے لیتے ہو۔ اس صورت میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اسے نہ لکھو۔ اور جب تم کوئی (لمبی) خرید و فروخت کرو تو گواہ ٹھہرا لیا کرو۔ اور لکھنے والے کو اور گواہ کو (کسی قسم کی کوئی) تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ اگر تم نے ایسا کیا تو یقیناً یہ تمہارے لئے بڑے گناہ کی بات ہوگی۔ اور اللہ سے ڈرو جبکہ اللہ ہی تمہیں تعلیم دیتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے۔