The Holy Quran 33:54 – Al-Ahzab (الْاَحْزَابِ)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡذَنَ لَکُمۡ اِلٰی طَعَامٍ غَیۡرَ نٰظِرِیۡنَ اِنٰٮہُ ۙ وَلٰکِنۡ اِذَا دُعِیۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانۡتَشِرُوۡا وَلَا مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ لِحَدِیۡثٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ یُؤۡذِی النَّبِیَّ فَیَسۡتَحۡیٖ مِنۡکُمۡ ۫ وَاللّٰہُ لَا یَسۡتَحۡیٖ مِنَ الۡحَقِّ ؕ وَاِذَا سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ مَتَاعًا فَسۡـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ذٰلِکُمۡ اَطۡہَرُ لِقُلُوۡبِکُمۡ وَقُلُوۡبِہِنَّ ؕ وَمَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰہِ وَلَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزۡوَاجَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ عَظِیۡمًا ﴿۵۴﴾
English translation by Maulawi Sher Ali
O ye who believe! enter not the houses of the Prophet unless leave is granted to you for a meal without waiting for its appointed time. But enter when you are invited, and when you have finished eating, disperse, without seeking to engage in talk. That causes inconvenience to the Prophet, and he feels shy of asking you to leave. But Allah is not shy of saying what is true. And when you ask them (the wives of the Prophet) for anything, ask them from behind a curtain. That is purer for your hearts and their hearts. And it behoves you not to cause inconvenience to the Messenger of Allah, nor that you should ever marry his wives after him. Indeed that would be an enormity in the sight of Allah.
اُردو ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمدؒ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے مگر اس طرح نہیں کہ اس کے پکنے کا انتظار کر رہے ہو لیکن (کھانا تیار ہونے پر) جب تمہیں بلایا جائے تو داخل ہو اور جب تم کھا چکو تو منتشر ہوجاؤ اور وہاں (بیٹھے) باتوں میں نہ لگے رہو۔ یہ (چیز) یقیناً نبی کے لئے تکلیف دہ ہے مگر وہ تم سے (اس کے اظہار پر) شرماتا ہے اور اللہ حق سے نہیں شرماتا۔ اور اگر تم اُن (ازواجِ نبی) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ (طرزِ عمل) ہے۔ اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاؤ اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ اس کے بعد کبھی اُس کی بیویوں (میں سے کسی) سے شادی کرو۔ یقیناً اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔