The Holy Quran 8:43 – Al-Anfal (الْاَنْفَالِ)

اِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَۃِ الدُّنۡیَا وَہُمۡ بِالۡعُدۡوَۃِ الۡقُصۡوٰی وَالرَّکۡبُ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ ؕ وَلَوۡ تَوَاعَدۡتُّمۡ لَاخۡتَلَفۡتُمۡ فِی الۡمِیۡعٰدِ ۙ وَلٰکِنۡ لِّیَقۡضِیَ اللّٰہُ اَمۡرًا کَانَ مَفۡعُوۡلًا ۬ۙ لِّیَہۡلِکَ مَنۡ ہَلَکَ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ وَّیَحۡیٰی مَنۡ حَیَّ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ لَسَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۴۳﴾

English translation by Maulawi Sher Ali

When you were on the nearer bank of the valley, and they were on the farther bank, and the caravan was below you. And if you had to make a mutual appointment, you would have certainly differed with regard to the appointment. But the encounter was brought about that Allah might accomplish the thing that was decreed; so that he who had already perished through a clear Sign might perish, and he who had already come to life through a clear Sign might live. And certainly Allah is All-Hearing, All-Knowing.

اُردو ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمدؒ

(یاد کرو) جب تم (وادی کے) ورلے کنارے پر تھے اور وہ پرلے کنارے پر، اور قافلہ تم دونوں سے نیچے کی طرف تھا۔ اور اگر تم (کسی گروہ سے لڑائی کا) باہم پختہ عہد بھی کر لیتے تب بھی اس کا (وقت) معیّن کرنے میں تم اختلاف کرتے۔ لیکن یہ اس لئے(ہوا) کہ اللہ اس کام کا فیصلہ نپٹا دے جو بہرحال پورا ہوکر رہنے والا تھا۔ تاکہ کھلی کھلی حجت کی رُو سے جس کی ہلاکت کا جواز ہو وہی ہلاک ہو اور کھلی کھلی حجت کی رُو سے جسے زندہ رہنا چاہئے وہی زندہ رہے۔ اور یقیناً اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔