In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » اعتراضات، وساوس کا جواب » حضرت مسیح موعود ؑ پر اعتراضات » رسول اللہﷺ کی توہین اورگستاخی کا الزام »

نبی اللہ ، رسول ، محمد اور احمد

راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حسبِ ذیل عبارت کو بھی ہدفِ اعتراض بنایا ہے۔ اس عبارت پر اعتراض اس کی کم عقلی اور ناسمجھی کا آئینہ دار ہے۔ اگر وہ اصل عبارت کو غور سے پڑھ لیتا تو شاید اس پر اعتراض نہ کرتا ۔ وہ عبارت یہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

’’خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں۔ میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفی ﷺ ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمّد اور احمد ہوا۔ پس نبوّت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمّد کی چیز محمّد کے پاس ہی رہی۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ ‘‘(ایک غلطی کا ازالہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ۲۱۶)

اس عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بیان فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بروزی صورت میں میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا ہے ۔ جبکہ صاحبِ بروز اور اصل محمد مصطفی ﷺ ہیں۔ میرا نفس درمیان میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اگر ایک بروز ہے تو دوسرا صاحبِ بروز ۔ یعنی اصل تو محمد مصطفی ﷺ ہی ہیں۔ میری حیثیت تو محض بروزی ہے۔ پس اس میں نہ تو حضرت محمّد مصطفی ﷺ سے مقام ومرتبہ میں مقابلہ پایا جاتا ہے نہ ہی بعینہ حضرت محمّد مصطفی ﷺ ہونے کا مفہوم ۔

اسی مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مزید کھول کر بیان فرمایا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں۔

’’بروز کے لئے یہ ضرور نہیں کہ بروزی انسان صاحبِ بروز کا بیٹا یا نواسہ ہو۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ روحانیت کے تعلقات کے لحاظ سے شخص موردِ بروز صاحبِ بروز میں سے نکلا ہوا ہو۔ ‘‘ (صفحہ ۲۱۳،ایضاً)

پس اس لحاظ سے بروز کا مقام صاحبِ بروز کے سامنے شاگرد یا بیٹے کا قرار پاتا ہے نہ یہ کہ وہ دونوں ہم مرتبہ اور ہم مقام ہو جاتے ہیں ۔چنانچہ اپنے اسی مقام کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی کتاب میں فرمایا ہے

’’ہاں یہ بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہئے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ سے پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بلاواسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شاملِ حال ہے۔ یعنی محمّد مصطفی ﷺ ۔ ‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ ۲۱۱)

بروز کی حقیقت

بروز کا مسئلہ امّت میں ایک مسلّمہ حیثیت کا حامل ہے اور امّت کے آئمّہ اور صوفیاء اس مسئلہ پر متفق ہیں کہ بعض کا ملین اس طرح دوبارہ دنیا میں آجاتے ہیں کہ ان کی روحانیت کسی اور میں تجلّی کرتی ہے اور اسی وجہ سے دوسرا شخص گویا پہلا شخص ہی بن جاتا ہے۔ چنانچہ مشہور صوفی خواجہ غلام فرید آف چاچڑاں شریف نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں پیش فرمایا کہ

’’ والبروز ان یفیض روح من ارواح الکمّل علی کامل کما یفیض علیہ التجلّیات وھو یصیر مظہرہ ویقول انا ھو ‘‘(اشاراتِ فریدی صفحہ ۱۱۰حصہ دوم ۔ مولّفہ رکن الدین صاحب ۔مطبوعہ مطبع مفید عام پریس آگرہ ۱۳۲۱ھ)

ترجمہ:۔ کاملین کی ارواح میں سے کوئی روح کسی کامل انسان پر افاضہ کرے جیسا کہ اس پر تجلّیات کا افاضہ ہوتا ہے اور وہ اس کا مظہربن جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں وہی ہوں۔

اسی طرح حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا بروز قرار دیتے ہوئے اپنے وجود کو آنحضرت ﷺ کا وجود بیان کیا۔ فرمایا

’’ ھذا وجود جدّی محمّد ﷺ لا وجود عبد القادر ‘‘ (گلدستہ کرامات ۔صفحہ ۸۔از مفتی غلام سرور۔مطبوعہ مفید عام لاہور)

کہ میرا وجود میرے دادا محمّد ﷺ کا وجود ہے عبدالقادر کا وجود نہیں۔

بروز کے مسئلہ پر صوفیاء کے اتفاق کو بیان کرتے ہوئے قطب العالم شیخ المشائخ شیخ محمد اکرم صابری الحنفی القدّوسی* لکھتے ہیں۔ (*حضرت شیخ محمد اکرم صابری ابن محمد علی ’’ براسہ ‘‘ کے رہنے والے تھے اور ان کا تعلق حنفی مذہب سے تھا اور مسلک کے لحاظ سے قدوسی کہلاتے تھے آپ نے اپنی تصنیف ’’ اقتباس الانوار ‘‘ میں آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین اور اولیائے کرام کے حالات درج کئے ہیں۔اور تصوّف کے مسائل بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی روحانی تاثیرات کا ذکر فرمایا ہے۔)

’’ روحانیت کمّل گاہے بر اربابِ ریاضت چناں تصرّف می فرماید کہ فاعلِ افعال شاں مے گردد و ایں مرتبہ راصوفیاء بروز می گویند۔ ‘‘(اقتباس الانوار ۔ صفحہ ۵۲مطبع اسلامیہ لاہور)

کہ کامل لوگوں کی روحانیت اربابِ ریاضت پر ایسا تصرّف کرتی ہے کہ وہ روحانیت کے ان افعال کی فاعل ہو جاتی ہیں ۔اس مرتبہ کو صوفیاء بروز کہتے ہیں۔

پس صوفیاء کے نزدیک بعض ارواح کی مناسبت سے جسم کو اسی کا نام دیا جاتا ہے جس سے وہ روح مناسبت رکھتی ہے۔

دیوبندیوں کے بزرگ جناب قاری محمّد طیّب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند، اسی مناسبت سے مسیح موعود ؑ کے بارہ میں بیان فرماتے ہیں۔

’’ بہرحال اگر خاتمیت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضور ؐسے کامل مناسبت دی گئی تھی تو اخلاقِ خاتمیت اور مقامِ خاتمیت میں بھی مخصوص مشابہت ومناسبت دی گئی۔ جس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسوی کو بارگاہِ محمّدی سے خَلقاً وخُلقاً رتباً ومقاماً ایسی ہی مناسبت ہے جیسی کہ ایک چیز کے دو شریکوں میں یا باپ بیٹوں میں ہونی چاہئے۔ ‘‘(تعلیماتِ اسلام اور مسیحی اقوام ۔ صفحہ ۱۲۹ ۔ از قاری محمد طیّب مہتمم دارالعلوم دیوبند۔ ۱۹۸۶ء نفیس اکیڈمی کراچی)

اس مسئلہ کو پوری طرح کھولنے کے بعد اب ہم مزید ثبوت کے لئے بزرگانِ امّت کے بعض ایسے اقوال ذیل میں درج کرتے ہیں جن میں امّتِ محمّدیہ میں آنے والے مہدی معہود اور مسیح موعود ؑ کو آنحضرت ﷺ کی دوسری بعثت کا مظہر اور آپ کا ظلّ اور بروز قرار دیا گیا ہے۔

معزّز قارئین !ان تحریرات سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ راشد علی اور اس کا پیر بزرگانِ امّت کے ان عقائد اور تعلیمات سے آشنا ہی نہیں۔ پھر ان کو مذہبی امور میں ایسے دعوے کرنے کا کوئی حق نہیں یا پھر ان سب باتوں کا علم رکھنے کے باوجود محض جھوٹ سے کام لیتے ہوئے یہ عوام النّاس کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسی تحریریں امّتِ مسلمہ کے لٹریچر میں کثرت سے موجود ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ کا ذکر ہے اور آنے والے موعود کو اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمّد مصطفی ﷺ کا ظل اور بروز قرار دیا گیا ہے۔

(۱) حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدّث دہلوی ؒ جو کہ بارہویں صدی ہجری کے مجدّد تھے ، فرماتے ہیں ۔

’’ اعظم الانبیاء شاناً من لہ نوع اخر من البعث ایضاً وذلک ان یکون مراد اللہ تعالی فیہ ان یکون سبباً لخروج الناس من الظلمات الی النور وان یکون قومہ خیر امۃ اخرجت للناس فیکون بعثہ یتناول بعثاً اخر ‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ۔ جلد اول ۔باب حقیقۃ النبوۃ وخواصھا ۔صفحہ ۸۳مطبوعہ مصر ۱۲۸ھ)

یعنی شان میں سب سے بڑا نبی وہ ہے جس کی ایک دوسری قسم کی بعثت بھی ہو گی اور وہ اس طرح ہے کہ مراد اللہ تعالیٰ کی ،دوسری بعثت میں یہ ہے کہ وہ تمام لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لانے کا سبب ہو اور اس کی قوم خیرِامّت ہو جو تمام لوگوں کے لئے نکالی گئی ہو لہذا اس نبی کی پہلی بعثت دوسری بعثت کو بھی لئے ہوئے ہو گی۔ ‘‘

اسی طرح حضرت شاہ ولی ا للہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ بروزِ حقیقی کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔

امّا الحقیقی فعلٰی ضروب ۔۔۔۔۔۔ وتارۃً اخرٰی بان تشتبک بحقیقۃ رجل من آلِہ او المتوسّلین الیہ کما وقع لنبیّنا بالنسبۃ الٰی ظہور المہدی ۔ (تفہیماتِ الٰہیہ۔ جزو ثانی تفہیم نمبر ۲۲۸صفحہ ۱۹۸ ، مطبوعہ مدینہ برقی پریس۔ بجنور ۱۹۳۶ء)

یعنی حقیقی بروز کی کئی اقسام ہیں ۔۔۔۔۔۔کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک شخص کی حقیقت میں اس کی آل یا اس کے متوسلین داخل ہو جاتے ہیں جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ کی مہدی سے تعلق میں۔ اس طرح کی بروزی حقیقت وقوع پذیر ہو گی۔ یعنی مہدی آنحضرت ﷺ کا حقیقی بروز ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اپنی کتاب ’’ الخیر الکثیر ‘‘ میں فرماتے ہیں۔

’’حقٌ لہ ان ینعکس فیہ انوار سیّد المرسلین صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ویزعم العامۃ انّہ اذا نزل الی الارض کان واحداً من الامّۃ کلاّ بل ھو شرحٌ للاسم الجامع المحمّدی ونسخۃٌ منتسخۃٌ مّنہ فشتّان بینہ وبین احدٍ مّن الامّۃ ‘‘ (الخیر الکثیر صفحہ ۷۲مطبوعہ مدینہ پریس بجنور)

یعنی امتِّ محمّدیہ میں آنے والے مسیح ؑ کا حق یہ ہے کہ اس میں سیّد المرسلین آنحضرت ﷺ کے انوار کا انعکاس ہو۔ عوام کا خیال ہے کہ مسیح جب زمین کی طرف نازل ہو گا تو وہ صرف ایک امّتی ہو گا۔ ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ تو اسمِ جامعِ محمّدی کی پوری تشریح ہو گا اور اسی کا دوسرا نسخہ ہو گا ۔پس اس میں اور ایک عام امّتی کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔

اس عبارت میں حضرت شاہ صاحب نے آنے والے مسیحؑ کو آنحضرت ﷺ کے انوار کا پورا عکس اور آپ کا کامل ظلّ وبروز قرار دیا ہے۔

(۲) حضرت امام عبدالرزاق قاشانی رحمۃ اللہ علیہ کی شرح فصوص الحکم میں لکھا ہے۔

’’ المہدی الذی یجئی فی اخرالزمان، ...... باطنہ باطن محمّد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ‘‘(شرح فصوص الحکم۔ مطبوعہ مصر صفحہ۵۲)

یعنی آخری زمانے میں آنے والے مہدی ..... کا باطن محمّد رسول اللہ ﷺ کا باطن ہے۔

یہ قول انہوں نے سیّد عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا درج کیا ہے۔ اس میں بھی انہوں نے امام مہدی کے باطن کو آنحضرت ﷺ کا باطن قرار دے کر انہیں آپ کا عکس اور ظل وبروز ہی قرار دیا ہے۔

(۳) شیخ محمد اکرم صابری صاحب لکھتے ہیں :

’’ محمد بود کہ بصورت آدم در مبداء ظہور نمود یعنی بطور بروز در ابتداء آدم ، روحانیت محمّد مصطفی ﷺ در آدم متجلی شد ۔ وہم اوباشد کہ در آخر بصورت خاتم ظاہر گردد یعنی در خاتم الولایت کہ مہدی است نیز روحانیت محمّدﷺ بروز وظہور خواہد کرد و تصرّفہا خواہد نمود ‘‘۔ (اقتباس الانوار ۔ صفحہ ۵۲مولفہ شیخ محمد اکرم صابری۔مطبعہ اسلامیہ لاہور)

یعنی وہ محمد ﷺ ہی تھے جنہوں نے آدم کی صورت میں دنیا کی ابتدا میں ظہور فرمایا یعنی ابتدائے عالم میں محمد مصطفی ﷺ کی روحانیّت بروز کے طور پر حضرت آدم میں ظاہر ہوئی اور محمد مصطفی ﷺ ہی ہوں گے جو آخری زمانہ میں خاتم الولایت امام مہدی کی شکل میں ظاہر ہوں گے یعنی محمد مصطفی ﷺ کی روحانیّت مہدی میں بروز اور ظہور کرے گی۔

اس عبارت میں بھی امام مہدی کو آنحضرت ﷺ کا بروز قرار دیا گیا ہے۔

(۴) حضرت ملاّ جامی خاتم الولایت امام مہدی کے درجے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں

’’ فمشکٰوۃ خاتم الانبیاء ھی الولایۃ الخاصۃ المحمدیۃ وھی بعینھا مشکٰوۃ خاتم الاولیاء لانہ قائم بمظہر یتھا ‘‘ (شرح فصوص الحکم ہندی ۔ صفحہ ۶۹۔از عبد الرحمٰن بن احمد الجامی۔مطبع فیض بخش فیروز پور )

یعنی حضرت نبی کریم ﷺ کا مشکٰوۃِ باطن ہی محمّدی ولایت کا خاصّہ ہے اور وہی بجنسہ خاتم الاولیاء حضرت امام مہدی علیہ السلام کا مشکٰوۃِ باطن ہے۔ کیونکہ امام موصوف آنحضرت ﷺ کے ہی مظہر کامل ہیں۔

اس عبارت میں بھی امام مہدی کو آنحضرت ﷺ کی صفات کا مظہر اور بروز قرار دیا گیا ہے۔

(۵) عارفِ ربّانی محبوبِ سبحانی حضرت سید عبدالکریم جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

’’ اس (یعنی امام مہدی۔ ناقل) سے مراد وہ شخص ہے جو صاحبِ مقامِ محمّدی ہے اور ہر کمال کی بلندی میں کامل اعتدال رکھتا ہے۔ ‘‘ (انسانِ کامل ۔اردو ۔ باب نمبر ۶۱۔علامات قیامت کے بیان میں ۔صفحہ ۲۷۰۔ مطبوعہ اسلامیہ سٹیم پریس لاہور)

(۶) حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :۔

’’حضرت آدم صفی اللہ سے لے کر خاتم الولایت امام مہدی تک حضور حضرت محمد مصطفی ﷺ بارز ہیں۔ پہلی بار آپ نے حضرت آدم علیہ السلام میں بروز کیاہے اور پہلے قطب حضرت آدم علیہ السلام ہوئے ہیں۔ دوسری بار حضرت شیث علیہ السلام میں بروز کیا ہے اس طرح تمام انبیاء اور رسل صلوات اللہ علیھم میں بروز فرمایا ہے یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ اپنے جسد عنصری (جسم) سے تعقل پیدا کر کے جلوہ گر ہوئے اور دائرہ نبوّت کو ختم کیا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ میں بروز فرمایا ہے پھر حضرت عمرؓ میں بروز فرمایا پھر حضرت عثمانؓ میں بروز فرمایا۔ اس کے بعد حضرت علیؓ میں بروز فرمایا ہے ۔ اس کے بعد دوسرے مشائخ عظام میں نوبت بہ نوبت بروز کیا ہے اور کرتے رہیں گے حتیّٰ کہ امام مہدی میں بروز فرماویں گے۔ پس حضرت آدم ؑ سے امام مہدی ؑ تک جتنے انبیاء اور اولیاء قطب مدار ہوئے ہیں۔ تمام روحِ محمّد ﷺ کے مظاہر ہیں۔ اور روحِ محمّدی نے ان کے اندر بروز فرمایا ہے ۔ پس یہاں دو روح ہوئے ہیں ایک حضرت محمّد ﷺ کی روح جو بارز ہے دوسری اس نبی یا ولی کی روح میں جو مبروز فیہ اور مظہر ہے۔ (مقابیس المجالس۔ المعروف بہ اشارات فریدی ۔حصہ دوم صفحہ ۱۱۱ ، ۱۱۲ مولّفہ رکن دین ۔مطبوعہ مفید عام پریس آگرہ ۱۳۲۱ھ۔ زیر انتظام صوفی قادر علی خان)

اس عبارت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور آنحضرت ﷺ کے خلفاء اور امّت میں پیدا ہونیوالے جملہ اولیاء اور مجدّدین سب کے سب آنحضرت ﷺ کے بروز بن کر آئے تھے ۔اسی طرح امام مہدی بھی بروز محمّد ﷺ بن کر آئے گا۔

(۷) دیوبندی فرقہ کے بانی حضرت مولانا محمد ؐ قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے نواسے قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند آنے والے مسیح کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔

’’ لیکن پھر سوال یہ ہے کہ جب خاتم الدّجالین کا اصلی مقابلہ تو خاتم النبیّین سے ہے مگر اس مقابلہ کے لئے نہ حضورؐ کا دنیامیں تشریف لانا مناسب ، نہ صدیوں باقی رکھا جانا شایانِ شان ، نہ زمانہ نبوی ؐ میں مقابلہ ختم قرار دیا جانا مصلحت اور ادھر ختم دجّالیّت کے استیصال کے لئے چھوٹی موٹی روحانیت تو کیا بڑی سے بڑے ولایت بھی کافی نہ تھی ۔عام مجدّدین اور اربابِ ولایت اپنی پوری روحانی طاقتوں سے بھی اس سے عہدہ بر آ نہ ہو سکتے تھے جب تک کہ نبوّت کی روحانیت مقابل نہ آئے۔ بلکہ محض نبوّت کی قوّت بھی اس وقت تک موثّر نہ تھی جب تک کہ اس کے ساتھ ختمِ نبوّت کا پاور شامل نہ ہو تو پھر شکستِ دجّالیّت کی صورت بجز اس کے اور کیا ہو سکتی تھی کہ اس دجّالِ اعظم کو نیست ونابود کرنے کے لئے امّت میں ایک ایسا خاتم المجدّدین آئے جو خاتم النبیّین کی غیر معمولی قوّت کو اپنے اندر جذب کئے ہوئے ہو اور ساتھ ہی خاتم النبیّین سے ایسی مناسبتِ تامّہ رکھتا ہو کہ اس کا مقابلہ بعینہ خاتم النبیّین کا مقابلہ ہو۔ مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ ختم نبوّت کی روحانیت کا انجذاب اسی مجدّد کا قلب کر سکتا تھا جو خود بھی نبوّت آشنا ہو ۔محض مرتبہ ولایت میں یہ تحمّل کہاں کہ وہ درجہ نبوّت بھی برداشت کر سکے۔ چہ جائیکہ ختمِ نبوّت کا کوئی انعکاس اپنے اندر اتار سکے۔ نہیں بلکہ اس انعکاس کے لئے ایک ایسے نبوّت آشنا قلب کی ضرورت تھی جو فی الجملہ خاتمیت کی شان بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔ تا کہ خاتمِ مطلق کے کمالات کا عکس اس میں اتر سکے اور ساتھ ہی اس خاتمِ مطلق کی ختمِ نبوّت میں فرق بھی نہ آئے ۔اس کی صورت بجز اس کے اور کیا ہو سکتی تھی کہ انبیائے سابقین میں سے کسی نبی کو جو ایک حدّ تک خاتمیت کی شان رکھتا ہو اس امّت میں مجدّد کی حیثیت سے لایا جائے ۔جو طاقت تو نبوّت کی لئے ہو مگر اپنی نبوّت کا منصب تبلیغ اور مرتبہ تشریح لئے نہ ہو بلکہ ایک امتّی کی حیثیت سے اس امّت میں کام کرے اور خاتم النبییّن کے کمالات کو اپنے واسطے سے استعمال میں لائے۔ ‘‘ (تعلیماتِ اسلام اور مسیحی اقوام ۔صفحہ ۲۲۸ ، ۲۲۹ ۔ ایڈیشن اول ۔مطبوعہ مئی ۱۹۸۶ء۔ نفیس اکیڈمی کراچی)

اس مسئلہ پر تفصیلی بحث سے ہم نے راشد علی اور اس کے پیر کے اعتراض کو کلیۃً جھوٹا ثابت کر دیا ہے لیکن مذکورہ بالا سچائیوں کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمّد مصطفی ﷺ کے سامنے اپنا جو مقام سمجھتے تھے وہ کیا تھا۔ آپ فرماتے ہیں۔

انظر الیّ برحمۃٍ و تحنّنٍ

یا سیّدی انا احقر الغلمان

ترجمہ :۔اے میرے آقا ! میں آپ کا ادنیٰ غلام ہوں ، مجھ پر محبت اور شفقت کی نظر ڈالیں۔

اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمّد مصطفی ﷺ کے حضور آپ کا یہ وہ مقام غلامی ہے جس کا اظہار آپؑ مسلسل، ابتداء سے تا دمِ واپسیں فرماتے رہے ۔ چنانچہ اپنی وفات سے چند دن پہلے آپ نے فرمایا

’’ہم پر جو اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں یہ سب رسول اکرم ؐ کے فیض سے ہی ہیں ۔ آنحضرت ؐ سے الگ ہو کر ہم سچ کہتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں اور خاک بھی نہیں۔ آنحضرت ؐ کی عزّت اور مرتبہ دل میں اور ہر رگ وریشہ میں ایسا سمایا ہے کہ ان کو اس درجہ سے خبر تک بھی نہیں کوئی ہزار تپسیّا کرے ، جَپ کرے ، ریاضت شاقّہ اور مشقتوں سے مشتِ استخوان ہی کیوں نہ رہ جائے مگر ہرگز کوئی سچاّروحانی فیض بجز آنحضرت ؐ کی پیروی اور اتباع کے کبھی میسر آسکتا ہی نہیں اور ممکن ہی نہیں۔ ‘‘(الحکم ۱۸مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۴)

سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا

وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے

ہم ہوئے خیرِامم تجھ سے ہی اے خیر رسل

تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑہایا ہم نے

نوٹ: مسئلہ ضل اور بروز پر ویڈیو پروگرام دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔