راشد علی اور اس کے پیر نے اپنی ’’بے لگام کتاب‘‘ میں فریب وافتراء کی ایک اور ادا کا اظہار آنحضرت ﷺ کی توہین کے الزام کے تحت یوں کیا ہے کہ حسبِ ذیل عبارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہے۔
’’دنیا میں کوئی نبی ہی نہیں گذرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں۔ میں نوح ہوں ، میں ابراہیم ہوں ، میں اسحق ہوں ، میں یعقوب ہوں ، میں اسماعیل ہوں ، میں عیسیٰ ہوں ، میں ابنِ مریم ہوں ، میں محمّد ﷺ ہوں ، یعنی بروزی طو ر۔(حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۷۶)‘‘
اس حوالہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل تحریر دیکھیں تو وہ کچھ یوں ہے۔
’’اس وحی الٰہی میں خدا نے میرا نام رسل رکھا کیونکہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں ، میں شیث ہوں ،میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں،میں اسحق ہوں،میں اسمعیل ہوں،میں یعقوب ہوں،میں یوسف ہوں ،میں موسیٰ ہوں ،میں داؤد ہوں ،میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہرِ اتمّ ہوں یعنی ظلّی طور پر محمّد اور احمد ہوں۔ ‘‘
(حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۷۶حاشیہ)
دیکھئے ! یہ پیر اور مرید کس طرح اصل عبارتوں کے ساتھ صرف بدیانتی ہی نہیں کرتے بلکہ کھلا کھلا دجل بھی کرتے ہیں۔ اصل عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف لکھا ہے کہ ’’خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ ‘‘ اور یہ بات ہر صاحبِ فہم اچھی طرح جانتا ہے کہ مظہر ہونے کا مطلب اصل ہونا ہرگز نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا لازمی خاصّہ یہ ہے کہ مظہر اور اصل الگ الگ وجود ہوں۔ جیسا کہ ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمّد مصطفی ﷺ خدا تعالیٰ کی صفات کے مظہرِ اتمّ ہیں تو اس کا لازمی اور قطعی نتیجہ یہ ہے کہ آپ ؐ خدا نہیں ہیں۔ بعینہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے مظہر ہیں بجنسہ وہ نہیں ہیں۔ یہ مضمون جس لفظ سے پھوٹ رہا ہے وہ راشد علی اور اس کا پیر ازراہ دجل چھپا گئے ہیں۔
علاوہ ازیں انہوں نے لکھا ہے ’’ میں محمد ﷺ ہوں یعنی بروزی طور پر ‘‘ لیکن یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہیں لکھا۔ بلکہ آپ نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ ۔
’’آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہرِ اتمّ ہوں یعنی ظلی طور پر محمدؐ اور احمدؐ ہوں۔ ‘‘
آپ ؑ کی اس عبارت کو ہدفِ اعتراض نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ یہاں دعویٰ یہ نہیں کہ میں محمد ؐ ہوں بلکہ دعویٰ یہ ہے کہ میں آپ ؐ کے نام کا مظہرِاتمّ ہوں یعنی آپ ؐ کا نام بالکل الگ ہے اور اس کا مظہر بالکل الگ ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعینہ حضرت محمّد مصطفی ﷺ نہیں ہیں بلکہ ان کے نام کے مظہر ہیں اور آپ کو جو نام محمّد ؐ اور احمد ؐ دیا گیا وہ مظہریّت کا آئینہ دار ہے اور ظل اور سایہ کے طور پر ہے اور اس کا صاف مفہوم یہی ہے کہ آپ ؑ بجنسہ محمدّﷺ نہیں ہیں۔ پس مظہریّت کا مقام اور مرتبہ قابلِ اعتراض نہیں ہے۔ ہاں عبارتیں بدلنے کی جو بدیانتی راشد علی اور اس کا پیر کرتے ہیں وہ قابلِ مذمّت ولعنت ہے۔
اسی نوع کے ایک اور اعتراض کے جواب میں کچھ بحث ہم باب اوّل میں بھی کر آئے ہیں۔یہاں اس مضمون کو مزید کھولنے کے لئے ذیل میں چند اقتباس درج کئے جاتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ کسی نے حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا۔
’’ عرش کیا ہے ؟فرمایا میں ہوں ۔پوچھا کرسی کیا ہے؟ فرمایا میں ہوں ۔پوچھا لوح وقلم کیا ہے؟ فرمایا میں ہوں ۔پوچھا کہتے ہیں ابراہیم، موسی اور محمد ﷺاللہ کے برگزیدہ بندے ہیں؟فرمایا میں ہوں۔ ‘‘(تذکرۃ الاولیاء۔ اردو ۔باب ۱۴صفحہ ۱۲۸ ۔شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنز)
حضرت مولانا شاہ نیاز احمد دہلوی نے تمام نبیوں کا بروز ہونے کا دعویٰ کیا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں :۔
صاحب ہر عصر منم من نہ منم نہ من منم
عیسی مریمی منم احمد ہاشمی منم
حیدر شیر نرمنم من نہ منم نہ من منم
یعنی آدم ، شیث ، نوح ، ہو د ، عیسیٰ مریمی ، احمد ہاشمی، حیدر شیر خدا بلکہ ہر صاحب عصر میں ہوں۔(دیوان نیاز صفحہ ۲۲مطبوعہ ۱۲۹۰ھ)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں۔
’’ کاتب الحروف نے حضرت والد ماجد ؒ کی روح کو آنحضرت ﷺ کی روح مبارک کے سائے (ضمن ) میں لینے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کیا تو فرمانے لگے یوں محسوس ہوتا تھا۔ گویا میرا وجود آنحضرت ﷺ کے وجود سے مل کر ایک ہو گیا ہے ۔ خارج میں میرے وجود کی کوئی الگ حیثیت نہیں تھی۔ ‘‘(انفاس العارفین اردو ۔صفحہ ۱۰۳ ۔از حضرت شاہ ولی اللہؒ ترجمہ سید محمد فاروق القادری ایم اے ناشر المعارف گنج بخش روڈ لاہور)
پھر فرماتے ہیں کہ میرے چچا حضرت شیخ ابو الرضا محمد رضی ؒ نے فرمایا کہ۔
’’ حضرت پیغمبر ﷺ کو میں نے خواب میں دیکھا جیسے مجھے اپنی ذات مبارک کے ساتھ اس انداز سے قرب واتصال بخشا کہ جیسے ہم متّحد الوجود ہو گئے ہیں اور اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا عین پایا۔ ‘‘ (انفاس العارفین ۔صفحہ ۱۹۲ ۔حصہ دوم در حالات شیخ ابو الرضا محمّد)
راشد علی اور اس کے پیر کو چاہئے کہ جس دریدہ دہانی سے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر گندے حملے کرتے ہیں امّت کے ان بزرگوں پر بھی کر کے دکھائیں تا کہ معلوم ہو سکے کہ وہ ان حملوں میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔
باقی رہا اعتراض دیگرا نبیاء علیہم السلام کے ناموں کے ملنے پر اور ان کے مظہر ہونے پر تو اس کا کچھ جواب تو راشد علی اور اس کے پیر کے پیش کردہ عنوان ’’ متوازی امت ‘‘ کے تحت آچکا ہے۔ اب مزید عرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس امّت کے وہی موعود مسیح اور مہدی معہود ہیں جن کے بارہ میں قرآنِ کریم فرماتا ہے۔ وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ (المرسلٰت :۱۲)کہ اس وقت تمام رسول ایک وقت مقررہ پر اکٹھے کئے جائیں گے۔ اسی وجہ سے حضرت امام باقر ؒ کو ، جو اہلِ بیت نبوی ؐ میں سے تھے اور مسلمانوں کے مسلّمہ آئمہ میں سے تھے ، خدا تعالیٰ نے امام مہدی کے حالات سے جب آگاہی بخشی تو آپ نے اس کے بارہ میں فرمایا کہ وہ جب آئے گا تو اعلان کرے گا کہ
’’اے لوگو! اگر تم میں سے کوئی ابراہیم ؑ اور اسمعیل ؑ کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ میں ہی ابراہیم ؑ اور اسمعیل ؑ ہوں اور اگر تم میں سے کوئی موسٰی ؑ اور یوشعؑ کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ میں ہی موسیٰؑ اور یوشعؑ ہوں اور اگر تم میں سے کوئی محمّد ﷺ کو اور امیر المومنینؓ کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ محمّد مصطفی ﷺ اور امیر المومنینؓ میں ہی ہوں۔ ‘‘(بحار الانوار ۔از محمد تقی محمد باقر مجلسی۔جلد ۱۳صفحہ ۲۰۲۔مطبوعہ ایران)
پھر اسی کتاب میں امام مہدی کی یہ شان بھی بیان کی گئی ہے کہ
’’یاتی بذخیرۃ الانبیاء ‘‘ (بحارالانوار ۔جلد ۱۳ ۔باب ما ورد من اخبار اللہ)
کہ وہ اپنے ساتھ انبیاء علیہم السلام کا ذخیرہ لے کر آئے گا یعنی ان کے مجموعہ کی صورت میں آئے گا۔
پس ملاحظہ فرمائیں کہ یہ پیشگوئی اور امام مہدی کی علامت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زیرِ بحث بیان ،آیتِ قرآنی وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَت کے کس قدر مطابق اور کس قدر قریب ہے مگر سچائی کے دشمنوں کے لئے قابلِ اعتراض ہے۔ یاللعجب !!