امانت کو ادا کرنے اور خیانت سے بچنے کے لئے آنحضرت ﷺ کا اُسوہ اپنائیں

خطبہ جمعہ 6؍ فروری 2004ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشھد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

{یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ وَ تَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ }(الانفال :28)

اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتاہے : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور (اس کے) رسول سے خیانت نہ کرو ورنہ تم اس کے نتیجہ میں خود اپنی امانتوں سے خیانت کرنے لگو گے جبکہ تم(اس خیانت کو) جانتے ہوگے۔

خیانت ایک ایسی برائی ہے جس کا کرنے والا اللہ تعالیٰ اور بندوں دونوں کے حقوق ادا نہ کرنے والا ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف پیرایوں میں، مختلف سیاق وسباق کے ساتھ قرآ ن کریم میں مختلف جگہوں پراس کے بارہ میں فرمایاہے اور خیانت کرنے والا خائن کہلاتاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جس پر اعتماد کیا جائے اور وہ اعتماد کو ٹھیس پہنچائے۔

پھر قرآن کریم میں {خَآئِنَۃُ الْاَعْیُنِ} کا لفظ بھی استعمال ہواہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی چیز پر گہری نظر ڈالنا جس کو دیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ یاجان بوجھ کر ایسی چیزکو دیکھنا جس کو دیکھنے کی اجازت نہ ہو۔ اور یہ آنکھ کی خیانت کہلاتی ہے۔

گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں مَیں نے پردے کے بارہ میں کہا تھاتو بعض خواتین کو یہ شکوہ پیدا ہوا کہ ہمارے بارے میں بہت کچھ کہہ دیا مردوں کو کچھ نہیں کہا گیاکیونکہ پردے کے بارہ میں مردوں کو بھی کہنا چاہئے۔ میرے خیال میں تو خواتین کا شکوہ غلط ہے کیونکہ غض بصر کے بارہ میں مَیں نے کھل کر بات کی تھی۔ اور بڑی وضاحت سے بتایاتھااور مختلف حوالوں سے مردوں کو بھی اس طرف توجہ دلائی تھی اور سمجھایا تھا۔ تو آج کے لئے مَیں نے خیانت کا عنوان چنا تو سورۃ المومن کی یہ آیت نظر سے گزری جس کا تھوڑا سا حصہ مَیں نے بتایا تھا۔ تو مجھے خیال آیا کہ آنکھ کی خیانت کے حوالہ سے بھی دوبارہ مختصرا ً بتا دوں کہ مردوں اور عورتوں دونوں کو غض بصر کا حکم ہے اور چونکہ مردوں کو زیادہ دیکھنے کی عادت ہوتی ہے اس لئے ان کو بہرحال غض بصر سے زیادہ کام لینا چاہئے۔ اور اس میں واضح طور پر منع ہے کہ آزادی سے ایک دوسرے کو دیکھیں۔ کیونکہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے منع ہے کہ جو نامحرم رشتے ہیں ان کو دیکھا جائے۔ اور اگر وہ اس طرح کرتے ہیں تو یہ بات بھی آنکھ کی خیانت کے زمرے میں آتی ہے۔

اب مَیں اس آیت کی طرف آتاہوں جو مَیں نے ابھی تلاوت کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے تمہیں جو تعلیم دی ہے، جو احکامات دئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے جو حقوق معین کئے ہیں، ان کی ادائیگی میں اگر خیانت کرو گے تو پھر تم آپس میں بھی اپنی امانتوں کو ادا کرنے کے معاملہ میں خیانت سے کام لو گے۔ لوگوں کی امانتوں کو لوٹانے اور ان کے حقوق ادا کرنے کے بارہ میں بھی خیانت کرنے والے بن جاؤ گے، حقوق ادا نہیں کروگے۔ اس لئے ہر دو قسم کے حقوق یعنی خداتعالیٰ کے اور بندوں کے حقو ق ادا کرنے کے لئے تمہیں صاف ستھرا اور کھرا ہونا ہوگا۔ پھر اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی تم پر فرض ہے۔ جب تم نے یہ عہد کرلیا کہ مَیں مسلمان ہوتاہوں، ایمان لاتا ہوں، تمام حکموں پر جو اللہ تعالیٰ نے ادا کرنے کا حکم دیاہے ان کو پورا کرنے کی کوشش کرتاہوں تو وہ توکرنے ہیں اور یاد رکھیں کہ اگر یہ احکامات سچے دل سے بجا نہیں لائیں گے تو معاشرے کے جو حقوق وفرائض ہیں وہ بھی صحیح طرح ادا نہیں ہوں گے۔ اور پھر معاشرے میں ایک دوسرے کا اعتماد بھی حاصل نہیں ہوگا کیونکہ جب تم خیانت کرو گے تو دوسرے بھی خیانت کریں گے اور معاشرے کا امن، چین اور سکون کبھی قائم نہیں ہو سکے گا۔

جب انسان کے روز مرہ کے معاملات میں دنیا داری شامل ہوجائے اور جب یہ خیال پیدا ہوجائے کہ جھوٹ، فریب اور دھوکے کے بغیر مَیں اپنے کاروبارمیں یاکام میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ تو پھر انسان اپنے ارد گرد ایسا گروہ بنا لیتاہے جو غلط قماش کے لوگوں کا ہوتاہے تاکہ بوقت ضرورت ایک دوسرے کے کام آسکیں۔ چنانچہ دیکھیں آج کل دنیا داروں میں ہرجگہ یہی چیزہے۔ ایسے لوگوں میں جب کوئی شخص غلط کام کرتاہے توصرف اپنے سردار کے پاس، اپنے سربراہ کے پاس آتاہے۔ یا ہمارے ملکوں میں زمیندارہ رواج ہے وڈیروں کے پاس چلے جاتے ہیں تا کہ وہ ان کو قانون سے بچائیں۔ اور پھر یہ لوگ ان کو قانون سے بچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہوتے ہیں۔ بڑی بڑی سفارشیں کروائی جاتی ہیں۔ اور جو بے چارے شریف آدمی ہوں، جن کی غلطی نہ بھی ہو اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کو پھنسا دیا جائے اور غلط قسم کے لوگوں کو بچا لیاجائے۔ رشوتیں دی جاتی ہیں کہ ہمارا آدمی بچ جائے چاہے بے گناہ آدمی کو سزا ہوجائے۔ حالانکہ حکم تو یہ ہے کہ اگر کوئی چورہے، بے ایمان ہے تو تم نے کوئی سفارش نہیں کرنی۔ آنحضرتﷺ کی یہ بات پیش نظر نہیں رکھتے جب ایک عورت کی سفارش کی گئی چوری کے الزام میں تو آنحضرتﷺ نے فرمایاکہ تم سے پہلی امتیں اسی لئے تباہ ہوئیں کہ وہ اپنے چھوٹوں کو سزا دیا کرتی تھیں اور بڑوں کو بچا لیا کرتی تھیں۔ تو فرمایاکہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو مَیں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ تویہ ہے اسوہ امانت کو صحیح طورپر ادا کرنے کا اور خیانت سے بچنے کا۔ اور یہی تعلیم ہے جس کو لے کر جماعت احمدیہ کھڑی ہوئی ہے۔ پس ہراحمدی کا فرض ہے کہ اس معاشرہ میں بڑا پھونک پھونک کر قدم رکھے۔ ہم نے معاشرہ کی برائیوں سے اپنے آپ کو بچانا بھی ہے اور اپنے اندر امانت ادا کرنے کے حکم کو جاری اور قائم بھی رکھناہے۔ اور قرآن کریم کے اس حکم کو پیش نظر بھی رکھناہے کہ {وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَھُمْ۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًا}(النساء:۱۰۸)۔ اور لوگوں کی طرف سے بحث نہ کر جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں۔ یقینا اللہ سخت خیانت کرنے والے گنہگار کو پسند نہیں کرتا۔

تویہاں مزید کھولا کہ اللہ تعالیٰ یہ بات بالکل پسند نہیں کرتا کہ جو خائن ہے، چور ہے، غلط کام کرنے والاہے، اس کی حمایت کی جائے چاہے جتنے مرضی اونچے خاندان سے ہو، جتنے مرضی اونچے مقام کاہو۔ اور قطع نظراس کے کہ کس کی اولاد ہے اگر وہ خیانت کا مرتکب ہواہے تو اس کو سزا ملنی چاہئے۔ اور آنحضرتﷺ کا اسوہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کیونکہ اگر تم نے ایسے لوگوں سے رعایت کی تو نہ صرف تم اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والے ہوگے بلکہ اپنے بھائیوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہوگے کیونکہ ایسے شخص کو جب ایک دفعہ معاف کردیا جائے تو اس کو جرأت پیداہوتی ہے اور یہی عموما ً سامنے آتاہے کہ پھر ایسے لوگ دھوکے دیتے رہتے ہیں۔ اگر تمہارا بھائی، بیٹا یا اور عزیز رشتہ دار ہے تو اس کی خیانتوں کی وجہ سے لوگوں کے نقصان پورے کرتے رہوگے کیونکہ قریبی عزیزکو سزاسے بچانے کے لئے اور اپنی عزت کو بچانے کے لئے بعض دفعہ جن کواحساس ہو وہ نقصان پورے کرتے ہیں۔ بے چاروں کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ تو جب اس طرح جرمانے بھرتے رہیں گے توپھر اپنا بھی ساتھ نقصان کررہے ہوں گے۔ توفرمایاکہ ایسے سخت خیانت کرنے والے گنہگار کو اللہ پسند نہیں کرتا اس لئے تم بھی اس کو چھوڑ دو، اس کوسز الینے دو۔ ہوسکتاہے کہ اس دفعہ یہ سزا اس کی اصلاح کا باعث ہو جائے۔ لیکن اگر ایسے لوگوں کی حمایت کی تو ایسا شخص تمہارے ساتھ جماعت کی بدنامی کاباعث بھی بنتارہے گا۔

پھرخیانت کی مختلف شکلیں ہیں۔ اور مختلف طریقوں سے لوگ خیانت کرتے رہتے ہیں۔ اس کی وضاحت مَیں اب احادیث سے کرتاہوں لیکن اس سے پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ کا ایک حوالہ پیش کرتاہوں۔ فرمایا :

{وَلَا تَکُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًا}: شریر کی طرف سے حمایت کا بیڑا کبھی نہیں اٹھانا چاہئے۔ خائن کی طرف سے بھی جھگڑا نہیں کرنا چاہئے۔ اگر کسی عزیز رشتہ دار کی مصیبت پڑ جاوے۔ تو استغفار بہت پڑھو۔ خداتعالیٰ تمہیں بچالے گا۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍جولائی۱۹۰۹ء۔ بحوالہ حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ۶۵)

حدیث میں آتاہے۔ حضرت ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مومن میں جھوٹ اور خیانت کے سوا تمام بری عادتیں ہو سکتی ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل)

اب جھوٹ ایک بہت بڑی برائی ہے۔ اس کو چھوڑنے سے تمام قسم کی برائیاں چھٹ جاتی ہیں۔ تو یہاں یہ فرمایاکہ خیانت بھی جھوٹ کی طرح کی برائی ہے۔ کیونکہ خائن ہمیشہ جھوٹا ہوگا۔ اور جھوٹا ہمیشہ خائن ہوگا۔ فرمایاکہ اصل میں تو یہ دوبڑی برائیاں ہیں اگر یہ نہ ہوں تو دوسری چھوٹی چھوٹی برائیاں ویسے ہی ختم ہو جاتی ہیں اور انسان خود بخود ان کو دُور کر لیتاہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔

’’کسی شخص کے دل میں ایمان اور کفر نیز صدق اور کذب اکٹھے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی امانت اور خیانت اکٹھے ہوسکتے ہیں ‘‘۔ (مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۳۴۹مطبوعہ بیروت)

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا :

’’اس شخص کو(عندالطلب) امانت لوٹا دو جس نے تمہارے پاس امانت رکھی تھی اور اُس شخص سے بھی خیانت نہ کرو جو تجھ سے خیانت کرتاہے۔ (سُنن التّرمذی اَبوَابُ الْبُیُوْع)

بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں آدمی کے پیسے ہم اس لئے نہیں دے رہے کہ اس شخص نے فلاں وقت میں ہمارے ساتھ لین دین میں خیانت کی۔ توفرمایا کہ نہیں، اگر کسی نے خیانت کی بھی تھی اور پھر اس نے تمہارے پر اعتماد کرکے کوئی چیز تمہارے پاس امانت کے طورپر رکھوائی ہے تو تمہیں یہ زیب نہیں دیتاکہ اس کی امانت دبا لو۔ اگر وہ واپس مانگے تو اس کو بہرحال ادا کرو۔ تو تمہارے ساتھ پہلے کا لین دین ہے اس کے بارہ میں جو بھی قانونی چارہ جوئی کرنی ہے کرو۔ یا اگر نہیں کرنا چاہتے اور خدا پر معاملہ چھوڑنا ہے تو چھوڑو لیکن یہ حق بہرحا ل نہیں پہنچتا کہ کسی کی دی ہوئی امانت کو اس لئے دبالوکہ اس نے تمہارے ساتھ خیانت کی تھی۔ اگر تم ایسا کرو گے تو اپنے ایمان کو ضائع کرنے والے بنوگے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔ وہ نہ اس کی خیانت کرتا ہے اور نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ اُسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت، اس کا مال اور اس کا خون حرام ہے۔ (حضورؐ نے دل کی طرف اشارہ کرکے فرمایا) تقویٰ یہاں ہے۔ کسی شخص کے شر کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے‘‘۔ (سنن الترمذی۔ کتاب البرّ والصّلۃ)

پھر حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :’’اللہ اس شخص کو سرسبزوشاداب رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے اسی طرح آگے پہنچایا کیونکہ بہت سارے ایسے لوگ جنہیں بات پہنچائی جاتی ہے وہ خود سننے والے سے زیادہ اسے یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔ تین امور کے بارہ میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کرسکتا اور وہ تین یہ ہیں۔ خدا تعالیٰ کی خاطر کام میں خلوص نیت، دوسرا ہر مسلمان کے لئے خیرخواہی اور تیسرے جماعت مسلمین کے ساتھ مل کر رہنا۔

تو پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ تین باتیں جوبیان کی گئی ہیں کسی مسلمان میں ہوں تو اس کو جائزہ لینا چاہئے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایاکہ جس میں یہ تین باتیں ہوں وہ مسلمان ہی نہیں ہے۔

اب پہلی بات جواس میں بیان کی گئی ہے، اس کی مَیں وضاحت کرنا چاہتاہوں کہ جو کام تم اللہ تعالیٰ کی خاطر کر رہے ہو اس میں ہمیشہ خلوص نیت ہونا چاہئے۔ جماعتی عہدے جو تمہیں دئے جاتے ہیں انہیں نیک نیتی کے ساتھ بجا لاؤ۔ صرف عہدے رکھنے کی خواہش نہ رکھو بلکہ اس خدمت کا جوحق ہے وہ ادا کرو۔ ایک تو خود اپنی پوری استعدادوں کے ساتھ اس خدمت کو سرانجام دو۔ دوسرے اس عہدے کا صحیح استعما ل بھی کرو۔ یہ نہ ہو کہ تمہارے عزیزوں اور رشتہ داروں کے لئے اور اصول ہوں، ان سے نرمی کا سلوک ہو اور غیروں سے مختلف سلوک ہو، ان پر تمام قواعد لاگو ہو رہے ہوں۔ ایساکرنا بھی خیانت ہے۔

پھر اس عہدے کی وجہ سے تم یا تمہارے عزیز کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے والے نہ ہوں۔ مثلاً یہ بھی ہوتاہے کہ چندوں کی رقوم اکٹھی کرتے ہیں۔ تو بہتر یہی ہے کہ ساتھ کے ساتھ جماعت کے اکاؤنٹ میں بھجوائی جاتی رہیں۔ یہ نہیں کہ ایک لمبا عرصہ رقوم اپنے اکاؤنٹ میں رکھ کر فائدہ اٹھاتے رہے۔ اگر امیر نے یامرکزنے نہیں پوچھا تو اس وقت تک فائدہ اٹھاتے رہے۔ یہ بالکل غلط طریقہ ہے۔ اور اگر کبھی مرکز پوچھ لے تو کہہ دیا کہ ہم نے یہ رقم ادا کرنی تھی مگر بہانے بازی کی کہ یہ ہوگیا اس لئے ادا نہیں کرسکے۔ تو غلط بیانی اور خیانت دونوں کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ شیطان چونکہ انسان کے ساتھ لگا ہواہے اس لئے ایسے مواقع پیدا ہی نہ ہونے چاہئیں اور ان سے بچنا چاہئے۔

پھر یہ ہے کہ اپنے بھائیوں کے کام آؤ، ان کے حقوق ادا کرو۔ پھر یہ بھی یاد رکھو کہ نظام جماعت کے ساتھ ہمیشہ چمٹے رہو، نظام کی پوری پابندی کرو۔ کسی بات پر اعتراض پیدا ہوتاہے تو پھر آہستہ آہستہ وہ اعتراض انسان کو بہت دورتک لے جاتاہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ عہدے داروں سے بڑھ کر نظام تک اور پھرنظام سے بڑھ کر خلافت تک یہ اعتراض چلے جاتے ہیں۔ اس لئے اگر یہ کرو گے تویہ بھی خیانت ہے۔

پھر میاں بیوی کے تعلقات ہیں۔ حضرت ابوسعید خُدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی خیانت یہ شمار ہوگی کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے تعلقات قائم کرے پھر وہ بیوی کے پوشیدہ راز لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔ (سنن ابی داوٗد کتاب الادب باب فی نقل الحدیث)

اب میاں بیوی کے بہت سے جھگڑے ہیں، جو جماعت میں آتے ہیں، قضا میں آتے ہیں، خلع کے یا طلاق کے جھگڑے ہوتے ہیں اور طلاق ناپسندیدہ فعل ہے۔ بہرحال اگر کسی وجہ سے مرد اور عورت میں نہیں بنی تو مرد کو حق ہے کہ وہ طلاق دے دے اور عورت کو حق ہے کہ وہ خلع لے لے۔ اور بعض دفعہ بعض باتیں صلح کروانے والے کے سامنے بیان کرنی پڑتی ہیں۔ اس حد تک توموٹی موٹی باتیں بیان کرنا جائزہے لیکن بعض دفعہ ایسے ہوتا ہے کہ مرد اور عورت کے علاوہ دیگر رشتہ دار بھی شامل ہو جاتے ہیں جو ایک دوسرے پر ذاتی قسم کے الزامات لگا رہے ہوتے ہیں۔ جن کو سن کر بھی شرم آتی ہے۔ اب میاں بیوی کے تعلقات تو ایسے ہیں جن میں بعض پوشیدہ باتیں بھی ظاہر ہوجاتی ہیں۔ تو جھگڑا ہونے کے بعد ان کو باہر یا اپنے عزیزوں میں بیان کرنا صرف اس لئے کہ دوسرے فریق کو بدنام کیاجائے تا کہ اس کا دوسری جگہ رشتہ نہ ہو۔ تو فرمایا کہ اگر ایسی حرکتیں کروگے تویہ بہت بڑی بے حیائی اور خیانت شمار ہوگی اور خائن کے بارہ میں انذار آئے ہیں کہ ایک تو خائن مومن نہیں، مسلمان نہیں اور پھر جہنمی بھی ہے۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی عورت سے شادی کے لئے مہر مقرر کیا اور نیت کی کہ وہ اسے نہیں دے گا تو وہ زانی ہے اور جس کسی نے قرض اس نیت سے لیا کہ ادا نہ کرے گا تو میں اسے چور شمار کرتا ہوں۔ (مجمع الزوائد جلد۴صفحہ ۱۳۱ کتاب البیوع باب فیمن نویٰ ان لا یقضی دینہ)

اب دیکھیں حق مہر ادا کرنا مرد کے لئے کتناضرور ی ہے۔ اگر نیت میں فتو رہے تو یہ خیانت ہے، چوری ہے۔

پھر بعض لوگ قرض لے لیتے ہیں۔ اور بعض لوگ تو عادی قرض لینے والے ہوتے ہیں۔ پتہ ہوتاہے کہ ہمارے وسائل اتنے نہیں کہ ہم یہ قرض واپس کر سکیں۔ لیکن پھر بھی قرض لیتے چلے جاتے ہیں کہ جب کوئی پوچھے گا کہہ دیں گے کے ہمارے پاس تو وسائل ہی نہیں، ہم تودے ہی نہیں سکتے۔ اپنے اخراجات پر کنٹرول ہی کوئی نہیں ہوتا۔ جتنی چادر ہے اتنا پاؤں نہیں پھیلاتے اصل میں نیت یہی ہوتی ہے پہلے ہی کہ ہم نے کون سا دینا ہے۔ بے شرموں کی طرح جواب دے دیں گے۔ یہاں جو قرض دینے والے ہیں ان کو بھی بتادوں کہ بجائے اس کے کہ بعد میں جھگڑے ہوں اور امورعامہ میں اور جماعت میں اور خلیفہ ٔ وقت کے پاس کیس بھجوائیں کہ ہمارے پیسے دلوائیں تو پہلے ہی سوچ سمجھ کر، جائز ہ لے کر ایسے لوگوں کو قرض دیا کریں۔ یا تو اس نیت سے دیں کہ ٹھیک ہے اگر نہ بھی واپس ملا تو کوئی حرج نہیں۔ یاپھر اچھی طرح جائزہ لے لیا کریں کہ اس کی اتنی استعداد بھی ہے، قرض واپس کرسکتاہے کہ نہیں۔ پھر ایک دوسری روایت میں حضرت صہیب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو کوئی اس نیت سے کوئی چیز خریدتاہے کہ وہ اس کی قیمت ادا نہ کرے گاتو جس دن و ہ مرے گا وہ خائن ہوگا اور خائن جہنمی ہے۔ (مجمع الزوائد جلد ۴ صفحہ ۱۳۱)

بعض لوگ چیزیں ادھار خرید لیتے ہیں یہ بھی ایک طرح کا قرض ہے ایسے لوگوں کے بارہ میں بھی بڑا انذار ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ اس بارہ میں فرماتے ہیں :

{فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَہٗ وَلْیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّـہٗ} ـ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے متعلق مطمئن ہو اور اسے بلا رہن روپیہ دے دے تو وہ شخص جسے روپیہ دیا گیا ہے اور جسے امین جانا گیا ہے اس کا فرض ہے کہ دوسرے کے مطالبہ پر روپیہ بلا حجت واپس کر دے اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔ اس جگہ قرض کو امانت قرار دیا گیا ہے جس میں یہ حکمت ہے کہ دنیا میں عام طور پر امانت کی ادائیگی تو ضروری سمجھی جاتی ہے۔ لیکن قرض کی ادائیگی میں ناواجب تساہل اور غفلت سے کام لیا جاتا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قرض بھی ایک امانت ہی کی قسم ہے……اس آیت سے ہر قسم کی امانتوں کی حفاظت اور ان کی بروقت واپسی کا بھی ایک عام سبق ملتا ہے جس کی طرف قرآن کریم کی ایک دوسری آیت {وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ}(المومنون:9) میں بھی اشارہ کیا گیا ہے اور نصیحت فرمائی ہے کہ تمدنی معاملات کی ایک اہم شاخ دوسرے کے پاس امانت رکھوانا بھی ہے۔ پس نہ صرف قرض کے معاملات میں بلکہ امانت کے معاملہ میں بھی تمہیں تقویٰ اللہ سے کام لینا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ امانت لینے والا آئے اور تم واپسی میں پس و پیش کرنے لگ جاؤ۔ (تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ۶۴۸، ۶۴۹)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایک شخص کا ذکر ہوا کہ وہ ایک دوسرے شخص کی امانت جو اس کے پاس جمع تھی لے کر کہیں چلاگیا ہے۔ اس پر فرمایا:

’’ادائے قرضہ اور امانت کی واپسی میں بہت کم لوگ صادق نکلتے ہیں اور لوگ اس کی پروا نہیں کرتے حالانکہ یہ نہایت ضروری امر ہے- حضرت رسول کریمﷺ اس شخص کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جس پر قرضہ ہوتا تھا- دیکھا جاتا ہے کہ جس التجا اور خلوص کے ساتھ لوگ قرض لیتے ہیں اسی طرح خندہ پیشانی کے ساتھ واپس نہیں کرتے بلکہ واپسی کے وقت ضرور کچھ نہ کچھ تنگی ترشی واقع ہو جاتی ہے- ایمان کی سچائی اسی سے پہچانی جاتی ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ۲۶۵، بدر ۵ ستمبر ۱۹۰۷ء)

تو احمدی کی پہچان تو یہ ہونی چاہئے کہ ایک تو قرض اتارنے میں جلدی کریں، دوسرے قرض دینے والے کے احسان مند ہوں کہ وہ ضرورت کے وقت ان کے کام آیا۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام فرماتے ہیں :

’’مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ ان امور کی پروا نہیں کرتے اور ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں جو بہت کم توجہ کرتے ہیں، اپنے قرضوں کے ادا کرنے میں۔ یہ عدل کے خلاف ہے۔ آنحضرتﷺ تو ایسے لوگوں کی نماز(جنازہ) نہ پڑھتے تھے- پس تم میں سے ہر ایک اس بات کو خوب یاد رکھے کہ قرضوں کے ادا کرنے میں سُستی نہیں کرنی چاہئے اور ہر قسم کی خیانت اور بے ایمانی سے دُور بھاگنا چاہئے- کیونکہ یہ امرِ الٰہی کے خلاف ہے جو اس نے اس آیت میں یعنی {اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَایِٔ ذِی الْقُرْبٰی}(النحل:91) دیا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد ۴- صفحہ ۶۰۷ الحکم ۲۴ جنوری ۱۹۰۶ء)

تو یہاں یہ بات بھی یا د رکھنی چاہئے کہ ایک تو یہ کہ قرض مقررہ میعاد کے اندر ادا کیاجائے جس کا وعدہ کیا گیاہے۔ اور اگر پتہ ہے کہ واپس نہیں کر سکتے کیونکہ وسائل ہی نہیں ہیں، اور غلط بیانی کرکے میعاد مقرر کروا لی ہے تو پھر بہتر ہے کہ خائن بننے کی بجائے مدد مانگ لی جائے۔ لیکن جھوٹ اور خیانت کے مرتکب نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن مدد مانگنے والوں کو بھی عادت نہیں بنا لینی چاہئے کیونکہ سوائے انتہائی اضطراری حالت کے اس طرح مدد مانگنا بھی منع ہے اور معیوب سمجھا گیاہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے سخت خلاف تھے۔

ایک اقتباس ہے علامہ شبلی نعمانی کاخیانت کے بارہ میں۔ کہتے ہیں :۔

’’خیانت کے ایک معنی یہ ہیں کہ کسی جماعت میں شامل ہوکر خود اسی جماعت کو جڑ سے اکھاڑنے کی فکر میں لگے رہنا، چنانچہ منافقین جو دل میں کچھ رکھتے تھے اور زبان سے کچھ کہتے تھے، وہ ہمیشہ اسلام کے خلاف چھپی سازشوں میں لگے رہتے تھے مگر ان کی یہ چال کارگر نہیں ہوتی تھی اور ہمیشہ اس کا بھید کھل جاتا تھا۔ فرمایا{ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآئِنَۃِ مِّنْھُمْ}(مائدہ:۳) اور ہمیشہ تو خبر پاتا رہتا ہے اُن کی ایک خیانت کی۔ یعنی ان کی کسی نہ کسی خیانت کی خبر رسول کو ملتی ہی رہتی ہے۔

اس حوالے سے مزید وضاحت کر دیتاہوں۔ بعض عہدیداران کی شکایت کر دیتے ہیں کہ فلاں امیر ایسا ہے، فلاں امیر ایسا ہے، رویہ ٹھیک نہیں ہے یا فلاں عہدیدار ایسا ہے، کوئی کام نہیں کر رہا۔ اور کوئی معین بات بھی نہیں لکھ رہے ہوتے۔ اور پھر خط کے نیچے اپنا نام بھی نہیں لکھتے۔ تو یہ منافقت ہے۔ ایک طرف تو اس عہد کے سخت خلاف ہے کہ جان قربان کر دوں گا جماعت کے لئے اور عزت بھی قربان کردوں گا جماعت کے لئے اور دوسری طرف اپنا نام تک شکایت میں چھپاتے ہیں کہ امیر یا فلاں عہدیدار ہم سے نارا ض نہ ہوجائے۔ اس کا مطلب یہ ہے وہ اس حدیث کی رو سے بدظنی بھی کر رہے ہیں اور تقویٰ سے بالکل عاری ہیں۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ ایسا ہی ہے تو پھر وہ شکایت کرنے والا کونسا تقویٰ سے خالی نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے دل میں امیر کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے زیادہ ہے۔ اور جس کے دل میں اللہ کاخوف نہیں ہے وہ مومن بہرحال نہیں ہو سکتا۔ اور اس طرح یہ اس کے علاوہ اندر ہی اندر لوگوں میں بھی شکوک پیدا کرتاہے۔ خود بھی منافقت کر رہا ہوتاہے اور خیانت کا بھی مرتکب ہورہاہوتاہے۔ لوگوں کے ذہنوں کو بھی گندہ کررہاہوتاہے۔ اس لئے اس بارہ میں مَیں پہلے بھی بتا چکاہوں کہ بغیر نام کے کوئی درخواست کوئی شکایت کبھی بھی قابل پذیرائی نہیں ہوتی۔ اور اب یہ دوبارہ بھی واضح کر دیتاہوں۔ اس لئے اگر جماعت کا درد ہے، اصلاح مدنظرہے تو کھل کر لکھیں اور اگر اس کی وجہ سے کوئی عہدیدار شکایت کرنے والے سے ذاتی عناد بھی رکھتاہے، مخالفت بھی ہو جاتی ہے تو یہ معاملہ خدا پر چھوڑیں اور دعاؤں میں لگ جائیں۔ اگر نیت نیک ہے تو اللہ تعالیٰ ہر شرسے محفوظ رکھے گا۔ بے نام لکھنے کا مطلب تو یہ ہے کہ لکھنے والا خود خائن ہے۔

پھر ایک حدیث میں روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: چار ایسی علامتیں ہیں کہ جس میں وہ ہوں وہ پکا منافق ہو گا۔ اور جس میں ان میں سے ایک ہو اس میں ایک خصلت نفاق کی ہوگی سوائے اس کے کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ وہ چار باتیں یہ ہیں۔ جب اسے امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرتاہے۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولتا ہے۔ جب کسی سے معاہدہ کرے تو بے وفائی کرتا ہے۔ اور جب کسی سے جھگڑ پڑے تو گالی گلوچ پر اتر آتا ہے۔ (مسلم کتاب الایمان۔ باب بیان خصال المنافق)

پھرحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: جس نے میری طرف ایسی جھوٹی بات منسوب کی جو مَیں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔ اور جس سے اس کے مسلمان بھائی نے کوئی مشورہ طلب کیا تو اس نے بغیر رشد کے مشورہ دیا تو اِس نے اُس سے خیانت کی۔ (الادب المفرد۔ صفحہ۵ ۷ از حضرت امام بخاریؒ )

بعض دفعہ جان بوجھ کرغلط طریقے سے غلط مشورہ دے دیا جاتاہے تو یہ بھی خیانت ہے تاکہ کسی کو نقصان پہنچ جائے۔ یہ بالکل نہیں ہونا چاہئے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ اے میرے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں بھوک سے جس کا اوڑھنا بچھونا بہت برا ہے اور میں پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کیونکہ یہ اندرونے کو خراب کردیتی ہے یا اس کی چاہت برے نتائج پیدا کرتی ہے۔ (نسائی کتاب الاستعاذہ من الخیانۃ)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خائن اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کرسکتا۔ (کشتی ٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۱۳)

پھر آپ نے فرمایا:جو شخص بدنظری سے اور خیانت سے، رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرف سے تو بہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ …… ہر ایک مرد جو بیوی سے یا بیوی خاوند سے خیانت سے پیش آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ (کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ۱۸۔ ۱۹)

پھر آپ ؑ عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’خیانت نہ کرو۔ گِلہ نہ کرو۔ ایک عورت دوسری عورت یا مرد پر بہتان نہ لگاوے‘‘۔ (کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۸۱)

بعض عورتوں کو عادت ہوتی ہے کہ ہمدرد بن کر دوسری کسی شریف عورت کے گھر جاتی ہیں، اس سے باتیں نکلواتی ہیں، دوستیاں قائم کر تی ہیں۔ اور پھر مجلسوں میں بیان کرتی پھرتی ہیں۔ تو اس قسم کے لوگ چاہے مرد ہوں یا عورت(عورتوں کو زیادہ عادت ہوتی ہے) وہ بھی مجالس کی امانت میں خیانت کرنے والے ہوتے ہیں۔ ہر احمدی کو ان باتوں سے بھی اپنے آپ کو بچاکر رکھنا چاہئے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’خدا کے واحد ماننے کے ساتھ یہ لازم ہے کہ اس کی مخلوق کی حق تلفی نہ کی جاوے۔ جوشخص اپنے بھائی کا حق تلف کرتاہے اور اس کی خیانت کرتاہے وہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا قائل نہیں۔ (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۹۱ حاشیہ بدر جلد۶ نمبر ۱، ۲ صفحہ ۱۲)

پھر آپ نے چندوں کے بارہ میں فرمایا:۔

’’ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ ماہواری روپے ہی ضرور دو، ہم تو یہ کہتے ہیں کہ معاہدہ کرکے دو جس میں کبھی فرق نہ آوے۔ صحابہ کرامؓ کو پہلے ہی سکھایا گیا تھا: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْن}َ(آل عمران :93)۔ اس میں چندہ دینے اور مال صرف کرنے کی تاکید اور اشارہ ہے۔ یہ معاہدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدہ ہوتا ہے اس کو نباہنا چاہئے۔ اس کے برخلاف کرنے میں خیانت ہوا کرتی ہے۔ کوئی کسی ادنیٰ درجہ کے نواب کی خیانت کرکے اس کے سامنے نہیں ہوسکتا تو احکم الحاکمین کی خیانت کرکے کِس طرح سے اپنا چہرہ دکھلا سکتا ہے۔ ‘‘(ملفوظات جلد سوم صفحہ۳۱۶ البدر ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۳)

اب چندہ عام وغیرہ بھی اسی زمرے میں شامل ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ بھی ایک وعدہ ہے جو آپ نے کیاہوتاہے۔ پھر چندہ وصیت ہے۔ بعض موصی ہیں جو لمبے عرصہ تک چندہ ادا نہیں کرتے اور بقایا دار ہوجاتے ہیں اور وصیت منسوخ ہوجاتی ہے۔ پھر یہ شکوہ ہوتاہے کہ دفتر نے کیوں یاد نہیں کروایا، ہماری وصیت منسوخ ہو گئی۔ حالانکہ دفتر تو یاد کرواتاہے۔ اور اگر نہیں بھی یاد کروایا تو معاہدہ کا دوسرا فریق تو خود ہے اس کو بھی تو یاد رکھنا چاہئے کہ اس نے کیاعہد کیاہواہے۔

اب یہاں جون میں جماعت کا مالی سال ختم ہو رہاہے تو مَیں یہاں یاد کروا دیتاہوں کہ جو بھی آپ کے چندے ہیں، ادائیگیاں ہیں، وعدے ہیں، پورے کرلیں۔ ایک حدیث میں آتاہے۔ حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطاب کرتے ہوئے ہمیشہ فرمایا کرتے تھے : ’’لَااِیْمَانَ لِمَنْ لَّااَمَانَۃَ لَـہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَّاعَھْدَ لَـہٗ ‘‘۔ یعنی جو شخص امانت کا لحاظ نہیں رکھتا اس کا ایمان کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کا پاس نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔ (مسند احمد بن حنبل جلد ۳صفحہ ۱۳۵مطبوعہ بیروت)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:۔

’’خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے چنانچہ {لِبَاسُ التَّقْوی} ٰ قرآن شریف کا لفظ ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی اُن کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تابمقدور کاربند ہو جائے‘‘۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۱۰)

یعنی امانتوں کا خیال رکھے اور ان کے باریک در باریک پہلوؤں میں جا کر ان کو ادا کرنے کی کوشش کرے۔

پھر آپ فرماتے ہیں :

’’انسان کی پیدائش میں دو قسم کے حُسن ہیں۔ ایک حُسن معاملہ اور وہ یہ کہ انسان خداتعالیٰ کی تمام امانتوں اور عہد کے ادا کرنے میں یہ رعایت رکھے کہ کوئی امرحتّی الوسع ان کے متعلق فوت نہ ہو۔ جیساکہ خداتعالیٰ کے کلام میں رَاعُوْنَ کا لفظ اسی طرف اشارہ کرتاہے۔ ایسا ہی لازم ہے کہ انسان مخلوق کی امانتوں اور عہد کی نسبت بھی یہی لحاظ رکھے یعنی حقوق اللہ اور حقوقِ عباد میں تقویٰ سے کام لے۔ یہ حُسن معاملہ ہے یا یوں کہو کہ روحانی خوبصورتی ہے‘‘۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۲۱۸)

پھر آپ ؑ نے فرمایاکہ :

’’ہر مومن کا یہی حال ہوتا ہے۔ اگر وہ اخلاص اور وفاداری سے اُس کا ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا ولی بنتا ہے لیکن اگر ایمان کی عمارت بوسیدہ ہے تو پھر بے شک خطرہ ہوتا ہے۔ ہم کسی کے دل کا حال تو جانتے ہی نہیں۔ سینہ کا علم تو خدا کو ہی ہے مگر انسان اپنی خیانت سے پکڑا جاتا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ سے معاملہ صاف نہیں تو پھر بیعت فائدہ دے گی نہ کچھ اَور۔ لیکن جب خالص خدا ہی کا ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اُس کی خاص حفاظت کرتا ہے۔ اگرچہ وہ سب کا خدا ہے مگر جو اپنے آپ کو خاص کرتے ہیں اُن پر خاص تجلّی کرتا ہے اور خدا کے لئے خاص ہونا یہی ہے کہ نفس بالکل چکنا چور ہوکر اُس کا کوئی ریزہ باقی نہ رہ جائے۔ اس لئے میں بار بار اپنی جماعت کو کہتا ہوں کہ بیعت پر ہرگز ناز نہ کرو اگر دل پاک نہیں ہے۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھنا کیا فائدہ دے گا جب دل دُور ہے۔ جب دل اور زبان میں اتفاق نہیں تو میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر منافقانہ اقرار کرتے ہیں۔ تو یاد رکھو ایسے شخص کو دوہرا عذاب ہوگا مگر جو سچا اقرار کرتا ہے اُس کے بڑے بڑے گناہ بخشے جاتے ہیں اور اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد دوم صفحہ ۶۵الحکم ۱۴؍ فروری ۱۹۰۳ء)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو امانتوں کو نیک نیتی سے ادا کرنے اور ہر قسم کی خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 6؍ فروری 2004ء شہ سرخیاں

    ٭…خیانت کے بھیانک اور خطرناک نقصانات۔

    ٭…خیانت کے نتیجہ میں معاشرے کا امن و سکون تباہ ہو جاتا ہے۔

    ٭…خیانت اور اس کی مختلف شکلیں۔

    ٭…جماعتی عہدے … نیک نیتی اور امانت کے ساتھ ان کو بجا لانا۔

    ٭…میاں بیوی کے حقوق کی ادائیگی۔

    ٭…قرض اور باہمی لین دین میں امانت و دیانت۔

    ۶؍فروری ۲۰۰۴ء بمطابق۶؍تبلیغ ۱۳۸۳ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور