دو المناک واقعات۔ سانحۂ مونگ اور خوفناک زلزلہ

خطبہ جمعہ 14؍ اکتوبر 2005ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت کی:

وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ۔وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ۔الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔ (البقرة: ۱۵۵ تا ۱۵۷)

پھر فرمایا:۔

گزشتہ دنوں دو ایسے واقعات ہو ئے جنہوں نے ہر احمدی کے دل میں چاہے وہ کہیں کا بھی رہنے والا احمدی ہے، ایک غم اور درد کی لہردوڑا دی۔ مختلف ممالک سے خطوط کے ذریعہ سے اس کا اظہار ہوا۔ خاص طور پر پاکستانی احمدیوں کے لئے یہ دونوں صدمے بہت تکلیف دہ تھے۔ ہر دل بے چین ہو گیا۔ ایک واقعہ تو گزشتہ جمعہ کو ہوا تھا جس کا مَیں نے خطبہ کے آخر پر ذکر بھی کیا تھا۔ دوسرا واقعہ دوسرے روز صبح ایک خوفناک زلزلے کا تھا جس نے شمالی پاکستان اور کشمیر کے وسیع علاقے میں خوفناک تباہی پھیلائی۔

جہاں تک پہلے واقعہ کا تعلق ہے ہمیں پتہ ہے کہ الٰہی جماعتوں پر امتحان آتے ہیں۔ تمام انبیاء پر ایسی سختیاں اور ظلم ہوئے اور انہوں نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے آگے فریاد کی اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ جماعت احمدیہ کی گزشتہ سو سال سے زائد کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی جماعت کے افراد پر یا جماعت پر ایسا موقع آیاتو جماعت کے افراد نے صبر اور حوصلے کے ساتھ تمام ظلم برداشت کئے۔ کبھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔ اور اسی صبر کا نتیجہ ہے کہ ہر ایسے واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ جماعت کو پہلے سے بڑھ کر نوازتا ہے اور نوازتا چلا جا رہاہے، اور انشاء اللہ تعالیٰ نوازتا رہے گا۔ اس لئے آج بھی افراد جماعت کو اور خاص طور پر ان لوگوں کو جن کے بچے، بھائی یا خاوند شہید ہوئے یا زخمی ہوئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے صبر کے ساتھ اس کا رحم اور فضل مانگتے رہنا چاہئے۔ یہ افراد جو شہید ہوئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہمیشہ کی زندگی پا گئے اور جماعت احمدیہ کی تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں جن کو آئندہ آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔

یہ آیات جو مَیں نے تلاوت کی ہیں ان میں یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ان کے متعلق یہ مت کہو کہ وہ مُردہ ہیں۔ وہ مُردہ نہیں مگر تم نہیں سمجھتے۔ کتنا بڑا اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا ہے، وہ ہمیشہ کی زندگی پانے والے ہیں۔ پس مونگ کے یہ آٹھ شہید اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر حاصل کرنے والے ہیں۔ پھر ان لوگوں کا خون تو اُس وقت بہایا گیا تھا جب خدا کے گھر میں اس کی عبادت میں مصروف تھے۔ ظالمانہ طور پر گولیوں کا نشانہ اس وقت بنایا گیا تھا جب وہ خدا کے حضور جھکے ہوئے تھے۔ یقینا یہ شہداء اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہمیشہ کی زندگی پانے والے ہیں۔ پس ہر احمدی جس نے خدا کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور شہادت کا مقام پایا، اس کے عزیز اور رشتہ دار اور ہر احمدی کو یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ یہ خدا کی خاطر قربانی کرنے والے اپنی دائمی زندگی بنا گئے ہیں، ہمیشہ کی زندگی بنا گئے ہیں۔ گو ان کے بچوں اور قریبی عزیزوں کے لئے یہ صدمہ بہت بڑا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری ملنے کے بعدہم نے حوصلے اور صبر سے اس کوبرداشت کرنا ہے اور اس آزمائش پر پورا اترنا ہے، ان کے لئے دعا کرنی ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ خداتعالیٰ نے کبھی بھی جماعت کی قربانیاں ضائع نہیں کیں اور یہ قربانیاں بھی انشاء اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرے گا۔ لیکن وہی بات ہے کہ ہمیں صبر سے کام لینا چاہئے۔ ہمارے لئے خوشخبریاں بھی اسی صورت میں ہیں جب ہم صبر کریں گے۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہم ہمیشہ ان لوگوں میں شامل ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ {اَلَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْآ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} یعنی ان پر جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو گھبراتے نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ پس جب یہ سوچ ہو گی تو اللہ تعالیٰ اپنی خاطر قربانی دینے والے افراد کے درجات تو بلند فرما ہی رہا ہو گا۔ ان شہداء کے پیچھے رہنے والوں کے لئے یہ امتحان آسان کر دے گا۔ اور نہ صرف یہ کہ یہ امتحان آسان فرمائے گا بلکہ اپنے فضل سے ایسی برکات سے اور ایسے فضلوں سے نوازے گا کہ بندہ سوچ بھی نہیں سکتا۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ اگر ایک مومن کو کوئی دکھ پہنچے یا رنج پہنچے یا تنگی اور نقصان پہنچے اور اگر وہ صبر کرتا ہے تو اس کا یہ طرز عمل بھی اس کے لئے خیر و برکت کا باعث بن جاتا ہے۔ ‘‘ (تفسیر الدرالمنثور تفسیر سورۃ البقرۃ آیت نمبر 157)

کیونکہ وہ صبرکرکے ثواب حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شہداء کے تمام عزیزوں کو صبر سے یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی جناب سے بے انتہا نوازے۔

ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس تعلیم کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ:

’’ خدا ہر ایک قدم میں تمہارے ساتھ ہو گا اور کوئی تم پر غالب نہیں ہو سکے گا۔ خدا کے فضل کی صبر سے انتظار کرو۔ گالیاں سنو اور چپ رہو۔ ماریں کھاؤ اور صبر کرو اور حتی المقدور بدی کے مقابلہ سے پرہیز کرو تا آسمان پر تمہاری قبولیت لکھی جاوے۔ یقینا یادرکھو کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور دل ان کے خدا کے خوف سے پگھل جاتے ہیں انہیں کے ساتھ خدا ہوتا ہے‘‘۔ (تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ68)

پس ہمارا کام ہے کہ صبر کے ساتھ دعاؤں میں لگے رہیں۔ اللہ کا خوف ہمارے سب خوفوں پر غالب ہو۔ اور اس کی رضا کا حصول ہماری زندگی کا مقصد ہو۔ بعض لوگ جلد بازی میں مخالف پر بعض دفعہ طعن و تشنیع کر جاتے ہیں یا دوسروں سے طعن و تشنیع کی باتیں کر جاتے ہیں۔ ایک احمدی کو یہ زیب نہیں دیتا۔ کسی نے مجھے کسی کی شکایت بھی لکھی تھی۔ ہم نے اپنا جو ایک امتیاز قائم رکھا ہوا ہے اسے قائم رکھنا ہے، انشاء اللہ تعالیٰ۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’ کیا وہ شخص جو سچے دل سے تم سے پیار کرتا ہے اور سچ مچ تمہارے لئے مرنے کو بھی طیار ہوتا ہے اور تمہارے منشاء کے موافق تمہاری اطاعت کرتا ہے اور تمہارے لئے سب کچھ چھوڑتا ہے۔ کیا تم اس سے پیار نہیں کرتے؟ اور کیا تم اس کو سب سے عزیز نہیں سمجھتے۔ پس جب کہ تم انسان ہو کرپیار کے بدلہ میں پیار کرتے ہو پھر کیونکر خدا نہیں کرے گا۔ خدا خوب جانتا ہے کہ واقعی اس کا وفادار دوست کون ہے اور کون غدّار اور دنیا کو مقدم رکھنے والا ہے۔ سو تم اگر ایسے وفادار ہو جاؤ گے تو تم میں اور تمہارے غیروں میں خدا کا ہاتھ ایک فرق قائم کرکے دکھلائے گا‘‘۔ (تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ68)

پھر آپؑ نے فرمایا کہ:

’’ یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔ تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔ خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا، اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔ پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے۔ تاکہ خدا تمہاری آزمائش کرے‘‘۔ (رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20صفحہ 309)

تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ درخت بڑھا اور بڑھ رہا ہے۔ اور ایک جگہ آپؑ نے فرمایا چھوٹی چھوٹی شاخ تراشیاں اس لئے ہوتی ہیں کہ مزید بہتری پیدا ہو۔ پس ہمارا کام اس ایمان پر قائم رہنا ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ سب شہیدوں کی اولادوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے۔

ضمناً مَیں یہ بھی ذکر کر دوں کہ رمضان سے کچھ عرصہ پہلے ہی (شاید ایک ڈیڑھ مہینہ پہلے) کوئٹہ میں بھی ایک شہادت ہوئی تھی۔ وقتاً فوقتاً اِکّادُکّا وہاں تو ہوتی رہتی ہیں۔ یہ بڑا ایک حادثہ ہوا تھا رمضان سے پہلے۔ ان کی اولاد کو بھی سب لوگ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ سب جماعت کا فرض بنتا ہے کہ شہداء اور ان کی اولادوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور آئندہ جماعت کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔

اب مَیں کچھ ذکر گزشتہ دنوں پاکستان میں جو زلزلہ آیا ہے، اس کا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ زلزلہ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ شمالی پاکستان کے کچھ حصوں اور کشمیر کے علاقے میں بہت زیادہ تباہی پھیلا کر گیا ہے۔ جماعت احمدیہ کا ہرفرد بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان بھی اس آسمانی آفت پر دل میں درد اور دُکھ محسوس کر رہا ہے۔ اور ہم پاکستانی احمدی تو اپنے بھائیوں کی تکلیف اور دُکھ دیکھ کر انتہائی دکھ اور کرب میں ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمارے ہم وطنوں کی تکلیفوں کو کم کرے اور انہیں آفات سے بچائے۔ مَیں نے صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان اور صدر آزاد کشمیر اور وزیراعظم آزاد کشمیرکو جو افسوس کا خط لکھا تھا اس میں بھی انہیں یقین دلایا تھا کہ جماعت احمدیہ ہمیشہ کی طرح ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ وطن کی محبت کا تقاضا بھی یہ ہے کہ ہر پاکستانی احمدی اس کڑے وقت میں اپنے بھائیوں کی مدد کرے۔ عملی طورپر بھی اور دعاؤں سے بھی۔ اپنی تکلیفوں کو بھول جائیں اور دوسرے کی تکلیف کا خیال کریں۔ جماعت احمدیہ نے پہلے دن سے ہی جب سے کہ پاکستان کا قیام عمل میں آیا ہے ہمیشہ پاکستان اور مسلمانوں کے حقوق کے لئے قربانیاں دی ہیں اس لئے یہ تو کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایک احمدی کا کوئی مسلمان بھائی تکلیف میں ہو یا ملک پر کوئی مشکل ہو اور ایک احمدی پاکستانی شہری دُور کھڑا صرف نظارہ کرے اور اس تکلیف کو دور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ پس جماعت احمدیہ نے اس ملک کے بنانے میں بھی حصہ لیا ہے اور انشاء اللہ اس کی تعمیر و ترقی میں بھی ہمیشہ کی طرح حصہ لیتی رہے گی۔ کیونکہ آج ہمیں ’’وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے‘‘ کا سب سے زیادہ ادراک ہے۔ آج احمدی ہے جو جانتا ہے کہ وطن کی محبت کیا ہوتی ہے۔ اور جس جس ملک میں بھی احمدی بستا ہے وہ اپنے وطن سے، اپنے ملک سے خالص محبت کی عملی تصویر ہے۔ اس لئے اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہے کہ پاکستانی احمدی ملک کے وفادار نہیں ہیں تو یہ اس کا خام خیال ہے۔

گو کہ اس زلزلے کے بعد سے فوری طور پر ہی افراد جماعت بھی اور جماعت احمدیہ پاکستان بھی اپنے ہموطنوں کی، جہاں تک ہمارے وسائل ہیں، مصیبت زدوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن مَیں پھر بھی ہر پاکستانی احمدی سے یہ کہتا ہوں، ان کو یہ توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ اِن حالات میں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں، حتی المقدور ان کی مدد کریں۔ جو پاکستانی احمدی باہر کے ملکوں میں ہیں، ان کو بھی بڑھ چڑھ کر ان لوگوں کی بحالی اور ریلیف (Relief) کے کام میں حکومت پاکستان کی مدد کرنی چاہئے۔ وہاں کی ایمبیسیوں نے جہاں جہاں بھی فنڈ کھولے ہوئے ہیں اور جہاں ہیومینیٹی فرسٹ (Humanity First) نہیں ہے، ان ایمبیسیز میں جا کر مدد دے سکتے ہیں۔ ہماری ذمہ داریاں تو کئی طرح بنتی ہیں۔ ایک بحیثیت انسان، جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ایک احمدی کو سب سے زیادہ انسانیت کا ادراک حاصل ہے۔ ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم محسن انسانیت ؐ کے سب سے زیادہ عاشق ہیں۔ اس لئے آج اگر دکھی انسانیت ہمیں بلا رہی ہے تو ہمیں اس کی مدد کے لئے آگے آنا چاہئے۔ یہ مَیں صرف اس لئے نہیں کہہ رہا کہ مَیں پاکستانی ہوں اس لئے پاکستان کی مدد کریں۔ انڈونیشیا میں طوفان آیا وہاں بھی ہم نے مدد کی ہے اور جگہوں پر بھی آیا، وہاں پہ بھی مدد کی۔ ایران میں بھی کی، جاپان میں بھی کی۔ تو ہر جگہ جماعت احمدیہ ہمیشہ کرتی ہے۔ لیکن ہم میں سے یہاں بیٹھے ہوئے اکثریت جو پاکستانیوں کی ہے، اپنے وطن کی محبت کا تقاضاہے کہ ان کو بہرحال مدد کرنی چاہئے۔ اور بحیثیت ایک مسلمان، قطع نظر اس کے کہ وہ لوگ ہمیں کیا سمجھتے ہیں، ہم بہرحال مسلمان ہیں اور وہ بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے ہیں۔ اس لئے بحیثیت مسلمان ہمیں مدد کرنی چاہئے۔ عوام کی اکثریت کم علمی کی وجہ سے اپنے بعض علماء کے پیچھے پڑ کر ہمارے خلاف ہے لیکن یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ منسوب ہونے کا کم از کم دعویٰ رکھتے ہیں۔ اس لئے آج یہ تکلیف میں ہیں توہمیں اپنی تکلیفیں بھلا کر ان کی مدد کرنی چاہئے۔ پھر پاکستانی احمدی کا جیسا کہ مَیں نے کہا ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے بھی یہ فرض بنتا ہے کہ اس آسمانی آفت کی وجہ سے ملک میں جو تباہی آئی ہے اس کی بحالی کے لئے ملک کی مدد کریں۔ آسمانی آفات جب آتی ہیں تو پھر چھوٹا، بڑا، بچہ، بوڑھا، غریب، امیر سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ دیکھ لیں خبریں یہی بتاتی ہیں کہ بعض شہروں میں سرکاری افسران بھی اور ممبر آف پارلیمنٹ بھی، سیاسی لیڈر بھی، سکولوں کے بچے بھی، عورتیں بھی، بوڑھے بھی، سب کے سب بعض جگہوں پہ اس زلزلے کی وجہ سے مکانوں کے گرنے کی وجہ سے لقمۂ اجل بن گئے، وفات پا گئے۔ تو یہ بہت بڑی تباہی تھی۔ شہروں کے شہرا جڑ گئے، دیہاتوں کے دیہات ملیا میٹ ہو گئے، بعض تو صفحہ ہستی سے ختم ہو گئے۔ ابھی تک بعض جگہوں پر امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں۔ لیکن پھر بھی جو روز خبریں آتی ہیں بڑا خوفناک منظر پیش کرتی ہیں۔ بہرحال جیسا کہ مَیں نے کہا کہ جماعت بعض جگہ اپنے وسائل کے لحاظ سے امدادی کام کررہی ہے اور کرنا بھی چاہئے۔ بعض جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں خدام الاحمدیہ کی ٹیمیں سب سے پہلے پہنچیں۔ نہ کوئی حکومتی ٹیم وہاں پہنچی، نہ کوئی فوج پہنچی، نہ کوئی اور ادارہ، این جی او یا کوئی اور پہنچا۔ لیکن بہرحال جماعت وہاں پہنچتی ہے اور خاموشی سے کام کرتی ہے کیونکہ اس کا اتنا زیادہ پراپیگنڈا نہیں ہوتا، زیادہ شور شرابہ نہیں کرتی۔ مقصد صرف خدمت خلق ہوتا ہے اس لئے بہت سوں کو ان خدمات کا پتہ نہیں ہوتا جو چھپی ہوئی خدمات ہو رہی ہوتی ہیں۔ لیکن بعض احمدی کیونکہ مستقل فیکسیں بھیجتے رہتے ہیں یا مشورے بھی لکھتے رہتے ہیں کہ یوں ہونا چاہئے اور بعض غیر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کیونکہ احمدی خاموش ہیں تو شاید یہ لوگ، پاکستانی احمدی اس آسمانی آفت پر قوم سے ہمدردی نہیں کر رہے، اور ان کی مدد نہیں کر رہے۔ تو اس لئے میں مختصر اًبعض کام جو فوری طور پر جماعت نے شروع کئے ان کے متعلق بتا دیتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ یاد رکھیں کہ جیسا میں نے کہا ہم تو اللہ تعالیٰ کی خاطر کام کرنے والے ہیں، ہمیں کوئی نام و نمود نہیں چاہئے۔ کسی سے بھی اس کا اجر نہیں چاہئے۔ صرف دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ہمارا مقصد ہے۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا کہ بعض لوگوں کی تسلی کے لئے مختصر اً بتا دوں، پہلے بھی کہہ چکاہوں، کہ بعض جگہ سب سے پہلے ہماری ٹیمیں پہنچی ہیں۔ وہاں ابتدائی طورپر جو بھی مدد ہو سکتی تھی وہ ان کی کی گئی۔ پھر جو حالات تھے کہ آفت کے بعد آفت۔ یعنی زلزلے کے بعد سخت بارش اور اولے پڑنے شروع ہو گئے۔ گھر تو لوگوں کے رہے نہیں تھے، باہر ٹھنڈ میں لوگ پڑے ہوئے تھے جو اس آفت اور زلزلے سے بچ گئے تھے، گھروں میں دبنے سے بچ گئے تھے، بھوکے پیاسے تھے تو وہاں بھوک پیاس مٹانے کے لئے خشک راشن کا تو کوئی فائدہ نہیں تھا۔ کیونکہ باہر بارش ہو رہی تھی لکڑی جل نہیں سکتی تھی۔ تو ہمارے خدام اسلام آباد سے کئی کئی دیگیں چاول پکوا کے اور ان کے پیکٹ بنا کے لے جاتے تھے۔ جن علاقوں تک وہ پہنچ سکتے تھے قریب ترین، پورے علاقے کو تو سنبھال نہیں سکتے تھے، لیکن ایک دو گاؤں تک جہاں تک وہ پہنچ سکتے تھے وہ پہنچتے رہے اور روزانہ ڈیڑھ دو ہزار آدمیوں کو پکا ہوا کھانا ملتا رہا۔ پھر اس کے علاوہ روزانہ دو تین ٹرک جماعت کی طرف سے جن میں خشک راشن، کپڑے کمبل وغیرہ بھی جاتے رہے ہیں۔ پھر ملک کے دوسرے حصوں سے بھی ہر جگہ سے جہاں جہاں جماعت ہے انہوں نے ریلیف فنڈ کے لئے مدد کی ہے۔ احمدی سامان اکٹھا کر رہے ہیں اور بھیج رہے ہیں۔ کل ہی تین ٹرک چاول جس میں ساڑھے سات سو بوری چاول تھا۔ چار ٹرک کمبل، بستر اور گرم کپڑے وغیرہ سیالکوٹ، شیخوپورہ سے گئے ہیں۔ اس سے پہلے لاہور وغیرہ سے بھی جا چکے ہیں۔ پھر ربوہ سے کل ایک ٹرک گرم کپڑوں کا گیا ہے۔ وہاں لجنہ، انصار، خدام ماشاء اللہ سب یہ کام کر رہے ہیں۔ اپنی ذمہ واری کو سمجھتے ہوئے ہیں اور یہ امدادی کام سنبھالا ہوا ہے۔ اور بڑی خوش اسلوبی سے یہ سرانجام دے رہے ہیں۔ دو دن کی بات ہے مَیں ٹی وی پر سن رہا تھا کہ سرکاری عہدیدار، کوئی سیاسی لیڈر باتیں کر رہے تھے کہ آئندہ چند دنوں میں ان علاقوں میں شدید سردی پڑنے والی ہے۔ کشمیر کے علاقے میں تو ٹھنڈ ہوتی ہے۔ اس لئے فوری طور پر وہاں جو مسئلہ ہے وہ رہائش کا ہے۔ کیونکہ موجودہ رہائش تو اس قابل نہیں رہی۔ اس لئے ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ وہاں ان کی رہائش کا مسئلہ حل کریں۔ اور پھر چونکہ بے تحاشا اموات ہوئی ہیں اور ان کو فوری طور پر دفنانے کا بھی انتظام نہیں ہے، ان کے پاس سامان نہیں اس لئے بیماری پھیلنے کا خطرہ ہے۔ تو ٹینٹ اور گرم کپڑے اور دوائیاں وغیرہ اور ڈاکٹر وغیرہ فوری طور پر وہاں چاہئیں۔ جماعت کا خیال تھا کہ کچھ علاقے مخصوص کرکے، جو بھی وہاں حکومت علاقے جماعت کے لئے مخصوص کر دے، وہاں ایک ٹینٹ کالونی قائم کر دی جائے اور اُن لوگوں کو مکمل طور پر جماعت سنبھالے۔ کم از کم دو مہینے کے لئے راشن وغیرہ اور کھاناوغیرہ بھی مہیا کرے اور ہر چیز رہائش اور کپڑے بھی۔ اس کے لئے بہرحال کوشش ہو رہی ہے۔ باقی سامان کا تو انشاء اللہ تعالیٰ انتظام ہو جائے گا بلکہ ہو گیا ہے لیکن وہاں خیمے نہیں مل رہے تھے۔ کیونکہ فوج نے اور دوسرے لوگوں نے پہلے لے لئے تھے۔ کچھ تو یہاں سے ہیومینیٹی فرسٹ UK نے 500کے قریب خیمے خریدے ہیں۔ اسی طرح پاکستانی جماعت نے انتظام کیا ہے، چین سے منگوا رہے ہیں ہزار ڈیڑھ ہزار خیمے۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ یہ لوگ اس کام کو باحسن کر سکیں اور ہمیشہ کی طرح دکھی انسانیت کی بے نفس ہو کر خدمت کر سکیں۔ ہیومینیٹی فرسٹ کی طرف سے ڈاکٹروں کا ایک گروپ تقریباً 20ہزار پونڈ مالیت کی دوائیاں بھی ساتھ لے کر گئے ہیں جس میں پانچ ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس کے دو آدمی شامل ہیں اور جرمنی سے دو ڈاکٹرز گئے ہیں اور ایک یہاں UK سے بھی گیا ہے جو پاکستان پہنچ چکا ہے۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم امریکہ میں بھی تیار بیٹھی ہے جب بھی ان کو اشارہ ملے گا، کیونکہ روٹیشن (Rotation) میں جاناہے، تو وہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ روانہ ہو جائیں گے۔ ہیومینیٹی فرسٹ کے تحت یہاں سے کنٹینر بھی آج یا کل جانے والا ہے جس میں خیمے اور دوسرا سامان بھی ہو گا۔ یہ جو ڈاکٹر یہاں سے گئے تھے اب ان کی اطلاع ہے کہ’ باغ‘ جو وہاں ایک جگہ ہے وہاں وہ پہنچ چکے ہیں اور کام شروع کر دیا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ نقد رقم بھی اور سامان بھی ہومینیٹی فرسٹ مہیا کرتی رہے گی۔ لیکن یہ کام اتنا بڑااور تباہی اتنی وسیع علاقے پر ہے کہ جیسے مَیں بتا چکاہوں، چھوٹی چھوٹی این جی او ز بلکہ پوری حکومتی مشینری بھی اس کو نہیں سنبھال سکتی۔ ایسی آفتیں جب آتی ہیں تو بڑی بڑی حکومتیں بھی بحالی کا کام نہیں کر سکتیں۔ اب دیکھیں گزشتہ دنوں امریکہ میں جو دو طوفان آئے تھے، پہلے نے جو تباہی پھیلائی تھی ان کا خیال ہے کہ اس شہر کو آباد کرتے ہوئے تو کئی سال لگ جائیں گے۔ تو پاکستان کے پاس تو وسائل بھی اتنے نہیں ہیں۔ بہت تھوڑے سے وسائل ہیں اور تباہی بہت وسیع علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ تو اگرپوری قوم جذبے سے کام کرے، ایمانداری سے امداد کی پائی پائی بحالی پر خرچ ہو تب بھی کئی سال لگ جائیں گے۔

پاکستان کے ایک ٹی وی چینل پر ڈسکشن (Discussion) ہو رہی تھی، کوئی ایم این اے یا دوسرے سیاسی لوگ مشورے دے رہے تھے کہ ایم این ایز وغیرہ کے ڈویلپمنٹ فنڈز بحالی پر خرچ کر دئیے جائیں۔ بڑی مدد ہو جائے گی۔ کوئی صاحب کہہ رہے تھے کہ اب عید آ رہی ہے، فطرانہ اس کے اوپر سارا لگا دیا جائے تو بہت اعلیٰ کام ہو جائے گا۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ اس سے کچھ حد تک مدد تو مل جائے گی۔ یہ اتنی چھوٹی موٹی تو تباہی نہیں ہے۔ بحالی کے لئے تو بڑا خرچ چاہئے۔ اب مثلاً فطرانہ ہی لے لیں۔ ان کی بات سے میں نے اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان کی کل آبادی تقریباً 15کروڑ ہے اور تیس روپے کہتے ہیں فطرانہ فی کس مقرر ہے کہ اس سے بڑے پیسے جمع ہو جائیں گے۔ اوّل تو وہاں پر ہر شہری فطرانہ دیتا ہی نہیں۔ بہت سے غریب لوگ ہیں جو اس قابل ہی نہیں کہ دے سکیں۔ اور پھر نظام بھی ایسا ہے کہ پورا اکٹھا بھی نہیں کیا جا تا۔

اگر فرض کر لیا جائے کہ تمام فطرانہ دے دیں گے تو پھر بھی 4؍ارب پچاس کروڑ روپے ہی رقم بنتی ہے۔ جبکہ ہمارے اندازے کے مطابق دو ماہ کا راشن اور ٹینٹ اور گرم کپڑے وغیرہ اگر ایک خاندان کو مہیا کئے جائیں تو 16ہزار روپے فی خاندان کا خرچ ہے۔ پہلے تو کہہ رہے تھے کہ40لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اب کہتے ہیں 50لاکھ۔ ابھی کسی کو اندازہ نہیں ہے۔ موتیں بھی بے تحاشہ ہیں بہرحال اگر یہ تعداد لی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ کم از کم آٹھ لاکھ خاندان متاثر ہوا ہے۔ اس حساب سے تقریباًدو ماہ کے لئے اگر ان کو کھانا پینا دینا ہو اور ٹینٹ مہیا کرنے ہوں تو تقریباً13؍ ارب روپے چاہئے۔ 13 ؍ ارب روپے کا مطلب ہے 130ملین پونڈ اگر صرف دو مہینے کا کھانا دیں۔ اگر اپنے ڈویلپمنٹ اخراجات بھی خرچ کر دیں اور سب کچھ خرچ کر دیں تب بھی ممکن نہیں ہے۔ اور ہم جب اندازہ لگاتے ہیں تو ہم تو ایک ایک پائی خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔ ۔ کوئی ذاتی مفاد نہیں ہوتا۔ لیکن سرکاری کاموں میں تو بے تحاشا اخراجات ہو رہے ہوتے ہیں۔ پھر جماعت کے بہت سارے کام والنٹیئرز کے ذریعے ہوتے ہیں۔ خدمت خلق کے ذریعے سے ہو رہے ہوتے ہیں۔ خدمت خلق کے جذبہ کے تحت ہو رہے ہوتے ہیں۔ دوسروں میں یہ جذبہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ آجکل گو کہ جذبہ پیدا ہوا ہوا ہے لیکن دیکھیں کتنی دیر قائم رہتا ہے۔ تو جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ صرف دو مہینے کا خرچ ہے۔ جو تباہی آئی ہے، سڑکیں، ہسپتال، سکول اور متفرق چیزیں ان کو بحال کرنے کے لئے ایک انفراسٹرکچر بحال کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ پھر لوگوں کے گھر ہیں، کاروبار ہیں، ایک خوفناک صورت حال ہے جو اس علاقے میں ہے۔ ان کے لئے تو بلینز روپوں کی ضرورت ہو گی۔ اربوں کی باتیں نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحم کرے اور آئندہ ملک کو ہر آفت سے بچائے۔ یہ سارے لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والے ہوں۔ حکومت کے ادارے بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے والے ہوں۔ اور عوام کی خدمت اور بحالی کے کام میں اسی طرح اچھے نمونے قائم کریں جس طرح آج کل اظہار کیا جا رہا ہے۔ جس طرح ایک سیاسی لیڈر نے کہا کہ ان حالات میں سیاسی فائدے نہ اٹھائیں بلکہ ایک ہو کر کام کریں۔ اور بظاہر عمومی طور پر پروگراموں میں یہ نظارے ایک ہوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ ایک ہونا ہمیشہ قائم بھی رہے۔ اور یہ اپنے رویے مستقل طور پر ایسے ہی کر لیں۔ ایک قوم ہو کر آفت زدوں کی مدد کریں۔ سیاسی مخالفتیں اور مذہبی منافرتیں ختم کریں۔ علماء ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے بند کریں۔ اس سے باز آئیں۔ استغفار زیادہ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ مہربان ہو اور قوم کو آئندہ ہر قسم کی آفت سے محفوظ رکھے۔ ان حالات میں جب آسمانی آفات کا امکان ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کانمونہ ہمارے سامنے کیا ہے۔ آپ نے کیا دعاؤں کے نمونے ان سے بچنے کے لئے قائم کئے ان کی طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔ آجکل پاکستانی اخباروں میں آتا ہے خود ان کے بعض علماء یہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں وارننگ ہے تو چاہئے کہ ایک دوسرے سے خدا کی خاطر محبت کریں اور سمجھیں کہ کیوں وارننگ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے ہمیشہ پناہ مانگیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ہمیں ایک دعا یوں سکھائی ہے کہ: اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں، او ر تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں۔ مَیں خالص تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مَیں تیری تعریف شمارنہیں کر سکتا۔ بے شک تو ویسا ہی ہے جس طرح تو نے خود اپنی تعریف آپ کی ہے۔ (ابن ماجۃ۔ کتاب اقامۃالصلوٰۃ۔ باب ماجاء فی القنوت فی الوتر)

پس اللہ کی رضا کی پناہ اور اللہ کی معافی کی پناہ میں آنے کے لئے اپنے آپ کو بدلنا چاہئے۔ سیاسی لیڈروں کو بھی، علماء کو بھی، عام آدمی کوبھی۔ آپس کی نفرتوں اور کدورتوں اور دشمنیوں کو، ایک دوسرے پر کفر کے فتووں کو ختم کرنا چاہئے۔ ہم احمدی بہرحال ہمدردی کے جذبے سے یہ دعا کرتے ہیں کہ جس طرح بظاہر آجکل اس آفت کی وجہ سے پوری قوم ایک ہوئی ہوئی ہے ہمیشہ ایک رہے اور اللہ کا خوف ان کے دل میں قائم ہو۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ حال تھاکہ بارش، بادل کو دیکھ کر بھی آپؐ کی عجیب حالت ہو جایا کرتی تھی۔ اس کا ایک روایت میں ذکر آتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل یا آندھی کے آثار دیکھتے تو آپؐ کا چہرہ متغیر ہو جاتا تھا۔ کہتی ہیں ایک دن مَیں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہو گی۔ مگر مَیں دیکھتی ہوں کہ آپ بادل دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اے عائشہ! کیا پتہ اس آندھی میں بھی ویسا ہی عذاب پوشیدہ ہو جس سے ایک قوم ہلاک ہو گئی تھی۔ اور ایک قوم ایسی گزری ہے جس نے عذاب دیکھ کر کہا تھا کہ یہ تو بادل ہے برس کر چھٹ جائے گا۔ مگر وہی بادل ان پر درد ناک عذاب بن کر برسا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ الاحقاف۔ باب قولہ فلما رأوہ عارضا مستقبل أودیتھم)

پس ہم جو مسلمانوں کے کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ ان سب کو یہی کہتے ہیں کہ اس اُسوہ کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔ اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنی چاہئے اور اس کی پناہ میں آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

پھر ایک روایت میں آتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا کا یوں ذکر کیا ہے:

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بادل، گرج اور کڑک، سنتے تو یہ دعا کرتے کہ

’اَللّٰھُمَّ لَاتَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَلَا تَُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ‘‘ (ترمذی -کتاب الدعوات- باب مایقول اذا سمع الرعد)

کہ اے اللہ! تو ہمیں اپنے غضب سے قتل نہ کرنا۔ اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک نہ کرنا اور اس سے پہلے ہمیں بچا لینا۔

پھر ایک دعا کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے:

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں جب کبھی آندھی چلتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے کہ اَللّٰھُمَّ اِنّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا وَخَیْرَ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّمَافِیْھَا۔ وَشَرِّمَا اُرْسِلَتْ بِہٖ‘‘ (مسلم، کتاب صلاۃ الاستسقاء باب التعوذ عند رؤیۃ الریح والغیم)

اے اللہ ! مَیں اس آندھی کی تجھ سے ظاہری اور باطنی خیر و بھلائی چاہتا ہوں اور وہ خیر بھی چاہتا ہوں جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔ اور مَیں اس کے ظاہری و باطنی شر سے اور اس شر سے بھی پناہ مانگتا ہوں جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔

پھر آپ ؐ کی دعا ہے کہ:

’’اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَفُجَآءَ ۃِ نِقْمَتِکَ وَجَمِیْعِ سَخَطِکَ‘‘ (مسلم۔ کتاب الرقاق، باب اکثر اھل الجنۃ الفقراء)

کہ اے اللہ! مَیں تیری نعمت کے زائل ہو جانے سے، تیری عافیت کے ہٹ جانے سے، تیری اچانک سزا سے اور ان سب باتوں سے پناہ مانگتاہوں جن سے تو ناراض ہو۔

پھر ایک اور دعاآنحضرت ؐ سے مروی ہے کہ:

’’اَعُوْذُ بِوَجْہِ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ الَّذِیْ لَیْسَ شَیْی ئٌ اَعْظَمُ مِنْہُ وَبِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ الَّتِیْ لَا یُجَاوِزُھُنَّ بَرٌّ وَّلَا فَاجِرٌ وَبِاَسْمَآئِ اللّٰہِ الْحُسْنٰی کُلِّھَا مَا عَلِمْتُ مِنْھَا وَمَا لَمْ اَعْلَمْ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ ‘‘ (موطاء امام مالک، کتاب الجامع باب مایُؤمَرُبِہٖ مِنَ التَّعَوُّذِ)

کہ مَیں اپنے عظیم شان والے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ جس سے عظیم تر کوئی شے نہیں اور ان کامل اور مکمل کلمات کی پناہ میں بھی کہ جن سے کوئی نیک و بدتجاوز نہیں کر سکتا۔ اور اللہ کی تمام نیک صفات جو مجھے معلوم ہیں یا نہیں معلوم ان سب کی پناہ طلب کرتا ہو ں اس مخلوق کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا اور پھیلایا۔

پس یہ سنت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قائم فرما گئے اور یہ زمانہ ایسا ہے کہ ہر احمدی کو سب سے بڑھ کر یہ دعائیں کرتے رہنا چاہئے اور بہت زیادہ استغفار کرنی چاہئے۔

جب 100سال پہلے 1905ء میں کانگڑہ کا زلزلہ آیا تو قادیان میں بھی اس کے جھٹکے لگے تھے۔ اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں روایت میں آتا ہے کہ آپ سب گھروالوں اور دوستوں کو لے کر بڑی دیر تک نفلوں اور دعاؤں، سجدوں اور رکوع میں پڑے رہے۔ اور روایت میں آتا ہے کہ آپؑ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی سے سخت لرزاں و ترساں تھے۔ بڑا سخت خوف تھا۔ خشیت طاری تھی۔ اور پھر کہتے ہیں اس وقت بھی تھوڑے تھوڑے وقفے سے زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے رہتے تھے۔ اس لئے آپ ؑ کا سب خدام کو لے کر تین منزلہ عمارت میں رہنا بہتر نہیں تھا، قادیان میں جو آپؑ کا باغ تھا وہاں چلے گئے اور خیمے لگا کر وہاں رہے تھے۔ تو اس بات کو بھی ہر ایک احمدی کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ ہر آفت جوآتی ہے اس سے بہت زیادہ اپنے آپ کے محفوظ رہنے کے لئے بھی اور قوم کے محفوظ رہنے کے لئے بھی دعائیں کرنی چاہئیں۔ اور ان دعاؤں میں، ان سجدوں میں یقینا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی اپنی ان دعاؤں میں اور ان سجدوں میں قوم کے لئے بھی دعائیں کر رہے ہوں گے، بلکہ قوم کے لئے ہی کر رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عذاب سے بچائے۔ اس لئے ہر احمدی کو ان آفات سے پناہ مانگنی چاہئے۔ اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے پناہ مانگنی چاہئے۔ جو دعائیں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات کے ذریعہ پہنچی ہیں وہ بھی مانگیں اور اپنی زبان میں بھی دعائیں مانگیں۔ استغفار بھی بہت کثرت سے کرنی چاہئے۔ اپنی قوم کے لئے بھی دعائیں کرنی چاہئیں جیسا کہ مَیں نے کہا ہے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں ایسی حالت میں دعا کرنے کا جو طریق سکھایا ہے اس کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔

آپ ؑ فرماتے ہیں کہ:

’’جماعت کے سب لوگوں کو چاہئے (اُس وقت کے زلزلے کی کیفیت کی یہ دعا آپؑ نے بتائی ہے) کہ اپنی حالتوں کو درست کریں۔ توبہ و استغفار کریں اور تمام شکوک و شبہات کو دور کرکے اور اپنے دلوں کو پاک و صاف کرکے دعاؤں میں لگ جائیں اور ایسی دعا کریں کہ گویا مرہی جائیں تاکہ خدا ان کو اپنے غضب کی ہلاکت کی موت سے بچائے۔ بنی اسرائیل جب گناہ کرتے تھے تو حکم ہوتا تھا کہ اپنے تئیں قتل کرو۔ اب اس اُمّت مرحومہ سے وہ حکم تو اٹھایا گیا ہے مگر یہ اس کی بجائے ہے کہ دعا ایسی کرو کہ گویا اپنے آپ کو قتل ہی کر دو‘‘۔ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 256جدید ایڈیشن)

اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ دعاؤں کے یہ معیار حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آجکل رمضان کا بابرکت مہینہ بھی ہے اور اس میں قبولیت دعا کے بھی خاص مواقع ملتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مہینہ عطا فرمایا ہوا ہے۔ اس لئے ان دنوں میں خاص طور پر دنیا کی ہدایت اور تباہی سے بچنے کے لئے ہر احمدی کو دعا کرنی چاہئے۔ اور اپنے آپ کو بھی ہر آفت سے محفوظ رکھنے کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سب کو دعا کرنے کی توفیق بھی دے اور محض اور محض اپنے فضل سے ان دعاؤں کو قبول بھی فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 14؍ اکتوبر 2005ء شہ سرخیاں

    سانحۂ مونگ اور شمالی پاکستان اور آزاد کشمیر میں خوفناک زلزلہ۔

    زلزلہ کے متأثرین کی امداد کے لئے جماعت محض اللہ کی خاطر خدمت میں مصروف ہے۔ 

    خداتعالیٰ نے جماعت کی قربانیاں نہ کبھی ضائع کیں اور نہ کرے گا۔

    خطبہ جمعہ فرمودہ 14؍ اکتوبر2005 ء بمقا م مسجد بیت الفتوح، لندن(برطانیہ)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور