امانت اور باہمی لین دین کے معاملات میں اسلامی تعلیم

خطبہ جمعہ 18؍ نومبر 2005ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت کی:

اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ وَ لَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِیۡنَ۔ وَ زِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِیۡمِ۔ وَ لَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡیَآءَہُمۡ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ (الشّعراء:184-182)

پھر فرمایا:

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی حضرت شعیب ؑ کی قوم کا ذکر کیا ہے ان کویہ نصیحت فرمائی کہ ماپ تول پورا دیا کرو۔ کم تولنے کے لئے ڈنڈی مارنے کے طریقے اختیار نہ کرو کیونکہ تمہاری یہ بدنیتی ملک میں فساد اور بدامنی پھیلانے کا باعث بنے گی۔ یہ آیات جو مَیں نے تلاوت کی ہیں یہ بھی اسی مضمون کی ہیں۔ ان کا ترجمہ ہے کہ: پورا پورا ماپ تولو اور ان میں سے نہ بنو جو کم کرکے دیتے ہیں۔ اور سیدھی ڈنڈی سے تولا کرو۔ اور لوگوں کے مال ان کو کم کرکے نہ دیا کرو۔ اور زمین میں فسادی بن کر بدامنی نہ پھیلاتے پھرو۔

اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’اور کسی طور سے لوگوں کو ان کے مال کا نقصان نہ پہنچاؤ اور فساد کی نیت سے زمین پر مت پھرا کرو۔ یعنی اس نیت سے کہ چوری کریں یا ڈاکہ ماریں یا کسی کی جیب کتریں یا کسی اور ناجائز طریق سے بیگانہ مال پر قبضہ کریں ‘‘۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ347)

تو یہ ماپ تول پورا نہ کرنا یا ڈنڈی مارنا، دیتے ہوئے مال تھوڑا تول کر دینا اور لیتے ہوئے زیادہ لینے کی کوشش کرنا یہ تمام باتیں چوری اور ڈاکے ڈالنے کے برابر ہیں۔ اس لئے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ کوئی بات نہیں تھوڑاسا کاروباری دھوکہ ہے کوئی ایسا بڑا گناہ نہیں۔ بڑے واضح طور پر فرمایاگیا ہے کہ خبردار رہو، سن لو کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔

پھر بعض لوگ دوسرے کے مال پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی بات نہیں اس کو تو پتہ نہیں چل رہا کہ فلاں چیز کی کیاقدر ہے، اس کو دھوکے سے بیوقوف بنا لو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کچھ اپنی جیب میں ڈال لو، کچھ اصل مالک کو دے دو۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ بات یہ عمل بھی اسی زمرے میں آتے ہیں جو فساد پیدا کرنے والے عمل ہیں۔ اس قسم کے لوگ جو اس طرح کا مال کھانے والے ہوتے ہیں یہ لوگ دوسروں کے مال کھا کر آپس میں لڑائی جھگڑوں اور فساد کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔ دوسرے فریق کو جب پتہ چلتا ہے کہ اس طرح میرا مال کھایا گیا تو ان کے خلاف کارروائی کرتا ہے اور اس طرح آپس کے تعلقات میں دراڑیں پڑتی ہیں۔ تعلقات خراب ہوتے ہیں، مقدمے بازیاں ہوتی ہیں۔ دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں اور بڑھتی ہیں۔ لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔ اور اگر دوسرا فریق صبر کرنے والا ہو، حوصلہ دکھانے والا ہو تو پھر تو بچت ہو جاتی ہے ورنہ جیسا کہ مَیں نے بیان کیا یہ لڑائی جھگڑے، فساد، فتنہ یہی صورتحال سامنے آتی ہے۔ اور روزمرہ ہم ان باتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ پھر لوگوں کا مال کھانے والا، کم تول کرنے والا اس حرام مال کی وجہ سے جو وہ کھا رہا ہوتا ہے طبعاً فسادی اور فتنہ پرداز بن جاتا ہے۔ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے والا نہیں ہوتا۔ نیکی اور امن کی بات کی اس سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ اس کی ہر بات اور ہر کام میں سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ اور یہ کاروباری بددیانتی یا کسی بھی وجہ سے دوسرے کا مال کھانا یہ ایسے فعل ہیں جن کی وجہسے جیسا کہ اس آیت میں آیاکہ فساد نہ کرو، پہلی قوموں پہ تباہی بھی آئی ہے، یہ بھی ایک وجہ تباہیوں کی بنتی رہی ہے۔ تو یہ واقعات جو قرآن کریم میں ہمیں بتائے گئے ہیں صرف ان پرانے لوگوں کے قصے کے طور پر نہیں تھے بلکہ یہ سبق ہیں آئندہ آنے والوں کے لئے بھی کہ دیکھو اللہ تعالیٰ سے کسی کی رشتہ داری نہیں ہے۔ اگر اس تعلیم سے دور ہٹو گے تو اس کے عذاب کے مورد بنو گے۔ ورنہ پہلی قومیں بھی یہ سوال کر سکتی ہیں کہ ہماری ان غلطیوں کی وجہ سے تو ہمیں عذاب نے پکڑا لیکن بعد میں آنے والے بھی یہی گناہ کرتے رہے اور آزادانہ پھرتے رہے اور عیش کرتے رہے۔ یہ ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ مالک ہے جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے سزا دے، لیکن جن واقعات کی خداتعالیٰ نے خود اطلاع دے دی، یہ اطلاع اس لئے ہے کہ پہلی قوموں میں یہ یہ برائیاں تھیں جن کی و جہ سے ان کو یہ سزائیں ملیں، تم اگر سزا سے بچنا چاہتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو اور ان فساد کی باتوں سے رکو۔

اس زمانے میں دنیا کے لالچ کی و جہ سے عموماً انفرادی طور پر بھی اور قوموں کی سیاست کی و جہ سے قومی طور پر بھی ایک دوسرے کو تجارت میں، لین دین میں نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو معاہدے ہوتے ہیں ان پر من و عن عمل نہیں ہوتا۔ سو سو تاویلیں اور حجتیں نکالی جاتی ہیں۔ اگر ان مغربی قوموں کی اپنی مرضی کے مطابق غریب ممالک عمل نہ کریں تویہ اپنے معاہدوں کو اور سودوں کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح وہ اس معاہدے سے اتنا استفادہ نہ کر سکیں جس کی و جہ سے یہ معاہدے ہو رہے ہیں۔ بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ ان غریب ممالک کو پہلے تجارت اور ہمدردی کے دھوکے میں رکھ کر لوٹا جاتا ہے اور پھر زیر نگیں کر لیا جاتا ہے۔ جو اختلاف کرے اس پر فوج کشی کر دی جاتی ہے۔ طاقت استعمال کرکے اس قوم کو اپنے تسلط میں لے لیا جاتا ہے۔ تو بہرحال ان فساد پیدا کرنے والوں کے، دوسروں کے حقوق چھیننے والوں کے یہ دوہرے معیار ہوتے ہیں کہ اپنی پسند کی قوموں سے، اپنی ہم مذہب قوموں سے لین دین اور طرح سے کرتے ہیں۔ غریب ملکوں سے یا غیر مذہب قوموں سے لین دین اور طرح سے ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ بھی کرتے ہیں کہ غریب ملکوں کی معاشی پالیسیاں بنانے کے بہانے سے ان کو ایسے شیطانی معاشی چکر میں گرفتار کر دیتے ہیں کہ وہ ترقی کر ہی نہیں سکتے۔ اور یہ لوگ پھر ان غریب ملکوں کی دولت بھی لوٹ لیتے ہیں۔ تو ان سب چیزوں کی جڑجن کی و جہ سے یہ فائدے اٹھائے جا رہے ہوتے ہیں اور نقصان پہنچائے جا رہے ہوتے ہیں یہی تجارتیں اور لین دین اور ماپ تول ہی ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ فرمایا ہے کہ {وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَ ھُمْ وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْا َرْض} (الاعراف:86) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ کسی طورسے لوگوں کو ان کے مال کا نقصان نہ پہنچاؤ اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ سورۃ الاعراف میں ایک آیت میں اس مضمون کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ {ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ} (الاعراف:86) کہ تمہارے لئے بہتر تھا اگر تم ایمان لانے والے ہوتے۔

پس آج یہ پیغام ہمیں ہر اس شخص تک اور ہر اس قوم کے لیڈروں تک پہنچانا چاہئے اور ہر اس قوم تک پہنچانا چاہئے جو ان تجارتی دھوکے بازیوں میں مبتلا ہیں کہ تم ان دھوکوں سے امن اور اپنی بالادستی حاصل نہیں کر سکتے، اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر ایمان لانا ضروری ہے ورنہ پرانی قوموں کی تباہیاں تمہارے سامنے ہیں۔ یہ عذاب جنہوں نے پہلی قوموں کو تباہ کیا اب بھی آ سکتے ہیں۔ اگر ہوش کی آنکھ ہو تو دیکھیں کہ آ رہے ہیں۔ دنیا میں ہر جگہ جو آفتیں اور تباہیاں آ رہی ہیں امریکہ میں بھی، ایشیا میں بھی اور دوسری جگہوں میں بھی اور اب موسم کی سختیوں کے بارے میں بھی پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں۔ تو ان آفتوں کی وجہ سے بہت ساری برائیاں جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ان سے بچنے کا ایک ہی طریق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرو۔ ہر احمدی کو یہ پیغام اپنے اپنے دائرے میں اور اپنے حلقے میں پہنچانا چاہئے، قرآن کریم کے انذار کو سامنے رکھنا چاہئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوے کو پیش کرنا چاہئے۔

مسلمانوں کو بھی سمجھانا چاہئے کہ سب سے اوّل یہ حکم تمہارے لئے ہے کہ اس تعلیم پر عمل کرو۔ کیونکہ ہمارے مسلمان ملکوں میں سے جس کسی کا بس چلتا ہے انفرادی طور پرماپ تول اور لین دین میں تقریباً سبھی ڈنڈی مارنے والے ہیں، دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں۔ عیسائی مغربی ممالک کم از کم چھوٹی اور انفرادی تجارت میں کافی حد تک ایمانداری سے اپنی چیزیں بیچتے ہیں اور لین دین کرتے ہیں اور عموماً اسی اعتماد پر ان سب کے کاروبار بھی چل رہے ہوتے ہیں۔ لیکن مسلمان ملکوں میں اس کی بہت زیادہ کمی ہے۔ کئی ملکوں سے تجارت ہوتی ہے اور مغربی ممالک سے بڑے بڑے آرڈر ملتے ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ بعض کاروباری مسلمان بھائی کاروبار صحیح نہیں رکھتے اور دھوکے کی و جہ ہے وہ تجارتیں بجائے پھیلنے کے کم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہم نے دوسرے کو دھوکہ دے کر تیر مار لیا۔ جبکہ بعد میں وہ نقصان اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو انذار فرمایا ہے یعنی جو اس کا علم رکھنے والے اور اس کتاب کو ماننے والے ہیں کہ یہ سب سے زیادہ اس کے نیچے آتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان بحیثیت قوم ترقی نہیں کرپا رہے۔ کیونکہ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے بڑا واضح طور پر کھول کر ان پرانی قوموں کے واقعات بتائے ہیں اور احکامات بھی دیئے ہیں کہ یہ یہ باتیں تم نے نہیں کرنی او ریہ یہ کرنی ہیں۔ اس لئے ہم بہرحال جب تک اس پر عمل نہیں کرتے، ترقی نہیں کر سکتے۔ دوسروں کوتو ڈھیل زیادہ لمبا عرصہ ہو سکتی ہے لیکن مسلمانوں کو نہیں۔ پس آج دنیا کو ہرمصیبت، آفت اور پریشانی سے بچانے کے لئے ہر قسم کے اعلیٰ خلق پر عمل اور اس کی تبلیغ کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔ اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے کیا اسوہ قائم فرمایا۔ کس طرح آپؐ تجارت اور لین دین اور اس کے معاہدے کیا کرتے تھے، کس طرح اپنے عہد پورے کیا کرتے تھے، کس طرح قرضے اتارا کرتے تھے آپؐ نے اپنی امت کو بھی نصیحتیں فرمائیں کہ کس طرح لین دین کیا کرو۔ اور یہ سب تعلیم آپؐ نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق دی اس کی چند مثالیں یہاں پیش کرتا ہوں۔ ایک روایت میں آتا ہے حضرت عَدّاء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے ایک دستاویز لکھی کہ عداء بن خالد بن ہوذہ نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک غلام خریدا جس کے اندر نہ توکوئی بیماری ہے اور نہ کوئی اخلاقی خرابی و خباثت ہے۔ یہ دو مسلمانوں کا آپس میں ایک سودا ہے (جس میں کسی طرح کی دھوکے بازی نہیں کی گئی)۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاء فی کتابۃ الشروط)

تو دیکھیں کس طرح اور کس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محتاط ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور تقویٰ کا جو معیار تھا اس تک تو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ یقینا آپؐ نے اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد یہ تحریر لکھوائی ہو گی۔ اس غلام کو اچھی طرح پرکھنے اور دیکھنے کے بعد اس پر یہ اعتماد قائم ہوا ہو گا۔ آپ نے کھول کر بتا دیا کہ یہ باتیں مَیں اس کے متعلق کہہ رہا ہوں۔ بعض دفعہ انسانی طبیعتوں کا پتہ بھی نہیں چلتا لیکن یہ جو باتیں کہی ہیں تم بھی ان کا جائزہ لے لو کہ یہ ایسا ہی ہے جس طرح میں نے کہا ہے اور ہر چیز کھول کر بیان کر دی۔

پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نو عمر اونٹ کسی سے قرض لیا۔ پھر آپؐ کے پاس زکوٰۃ کے کچھ اونٹ آئے تو آپؐ نے مجھے حکم دیا کہ اس آدمی کا نو عمر اونٹ واپس کر دو۔ مَیں نے کہا ان اونٹوں میں سے صرف ایک اونٹ ہے جو بہت عمدہ ہے اور سات سال کا ہے۔ تو آپؐ نے فرمایا وہی اسے دے دو اس لئے کہ بہترین آدمی وہ ہے جو بہترین طریق پر قرض ادا کرتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب المساقات، باب جواز اقتراض الحیوان)

تو دیکھیں قرض کی حسن ادائیگی، معاشرے میں محبت و پیار پھیلانے کا طریق۔ لوگ تو آمنے سامنے کے سودوں پر بھی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح دھوکہ دینے کی کوشش کریں۔ پھر زمانہ نبوت سے پہلے بھی لین دین کے معاملے میں، تجارت میں، آپؐ کے اعلیٰ خُلق کے بارے میں روایت میں آتا ہے، حضرت ابی سائب سے روایت ہے کہ ہم آپؐ کے ساتھ جاہلیت کے زمانے میں کاروبار میں شراکت کرتے لیکن ہم نے آپؐ کو کبھی دھوکے بازی اور جھگڑا کرتے نہیں دیکھا۔

اگر آج اس اسوہ پر عمل ہو تو بہت سارے جھگڑوں سے معاشرہ محفوظ ہو سکتا ہے۔ تحریریں بھی لکھی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود بھی جھگڑے ہوتے ہیں۔ مقدمے بازیاں چلتی ہیں اور سالوں تک ان مقدمے بازیوں کی وجہ سے دونوں فریق وقت کے ساتھ ساتھ اپنا مالی نقصان بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک روایت میں آتا ہے مُحارب بن دثار روایت کرتے ہیں کہ مَیں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا قرض ادا کرنا تھا چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری رقم ادا فرمائی اور میری رقم سے زائد بھی عنایت فرمایا۔ (سنن ابی داؤد -کتاب البیوع۔ باب فی حسن القضاء)

یہ اس طرح رقم ادا کرنا کوئی سُود نہیں ہے۔ بلکہ ایک روایت میں آتاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ قرضے کی احسن رنگ میں ادائیگی ہے کہ قرض کی ادائیگی اس طرح احسن طورپر ہو، اس طرح شکریہ کے ساتھ کی جائے کہ مَیں تمہارا ممنون ہوں تم نے وقت پر میری ضرورت پوری کی اور اس شکر کے اظہارکے طور پر مَیں تمہیں یہ زائد اپنی خوشی سے دے رہا ہوں۔ تو یہی وہ اُسوہ ہے جس سے معاشرے میں محبت اور امن کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔

دارقطنی کی ایک لمبی روایت ہے جس میں راوی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابتدائی زمانے میں مشرکین مکہ کے ظالمانہ سلوک کا نقشہ کھینچا ہے۔ پھر اسلام کے غالب آنے کے بعد جب تمام عرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگیں تھا اس وقت کا آپ ؐ کے لین دین کا واقعہ بیان کیا ہے۔ طارق بن عبداللہ المحاربی کہتے ہیں کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ایک قافلے کے ساتھ مدینہ کے قریب آکر پڑاؤ کیا۔ اس پڑاؤ کے دوران ایک شخص سفید کپڑوں میں ملبوس ہمارے پاس آیا اور سلام کیا۔ (جو لین دین سے تعلق والا حصہ ہے وہ مَیں بیان کر رہا ہوں ) اور پھر ہم سے پوچھا آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں ؟ہم نے بتایا کہ رمضہ سے آئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک سرخ اونٹ بھی تھا (اس زمانے میں سرخ اونٹ کافی مہنگے اونٹوں میں شمار ہوتے تھے) تو اس آنے والے شخص نے (جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے جنہیں راوی اس وقت نہیں جانتے تھے) پوچھا کیا تم اپنا یہ سرخ اونٹ فروخت کرنا چاہتے ہو؟۔ انہوں نے کہا: ہاں ہم فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: کتنے میں فروخت کرو گے؟ تو انہوں نے کچھ صاع کھجوریں اس کی قیمت بتائی کہ اتنے میں فروخت کریں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے مجھے دے دو۔ اور آپؐ نے وہ اونٹ لیا اور مدینہ کی طرف چل دئیے کہ قیمت مدینہ جا کے مَیں بھجوا دوں گا۔ توراوی کہتے ہیں کہ ہم نے دیکھا کہ آپؐ اونٹ لے کر چلے گئے اور ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس کے بعد ہمیں خیال آیا کہ ہم نے ان سے تعارف تو حاصل ہی نہیں کیا کہ کون ہے۔ پتہ نہیں کون شخص ہے؟ کیا ہے؟ اب رقم بھی ملے گی یا نہیں ؟ یا کھجوروں کا جو سودا ہوا ہے اس کی مقدار ملے گی یا نہیں ؟ اس فکر میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگ گئے۔ ہر کوئی دوسرے کو کہہ رہا تھا کہ تم نے کیوں اونٹ جانے دیا۔ ایسے شخص کو اتنا قیمتی اونٹ دے دیا جس کو ہم جانتے ہی نہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمارے اس قافلے میں ایک خاتون بھی موجود تھیں۔ (لگتا ہے کہ وہ بڑی ذہین اور قیافہ شناس تھیں اور ان میں مومنانہ فراست تھی) اس عورت نے ہمیں کہا کہ ایک دوسرے کو ملامت نہ کرو۔ مَیں نے اس شخص کے چہرے کو دیکھا تھا وہ ایسا نہیں لگتا کہ تمہیں ذلیل کرے۔ میں نے کبھی کسی شخص کا چہرہ ایسا نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ چودھویں رات کے چاند سے مشابہت رکھتا ہو۔ تو راوی کہتے ہیں کہ رات کے کھانے کے وقت ایک شخص ہمارے پاس آیا اور ہمیں سلام کیا اور بتایا کہ مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامبر کے طورپر آیا ہوں۔ انہوں نے تمہارے لئے کھانا بھیجا ہے، خوب سیر ہو کر کھاؤ۔ اور یہ کھجوریں اپنے اونٹ کی قیمت کے مطابق ماپ لو یعنی کھانا بھی رات کا بھجوا دیا اور قیمت بھی بھجوا دی۔ روایت آگے بھی چلتی ہے۔ یہ لوگ پھر مدینہ گئے۔ بہرحال دیکھیں آپؐ نے صرف یہ نہیں کہا کہ مَیں نے ماپ کے کھجوریں بھیج دی ہیں لے لو۔ بلکہ فرمایا کہ تم لوگ بھی اس کو ماپ لو تاکہ کسی بھی قسم کا ابہام نہ رہے اور تمہاری قیمت پوری ہو جائے، کوئی غلط فہمی نہ رہے۔ (سنن الدار قطنی، کتاب البیوع، روایت نمبر186/2944)

پھر ہمیں آپس کے لین دین کے بارے میں امانتوں کی ادائیگی کے بارے میں آپ ؐ نصیحت فرماتے ہیں۔ ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی تمہارے پاس کوئی چیز امانت کے طور پر رکھتا ہے اس کی امانت اسے لوٹا دو اور اس شخص سے بھی ہرگز خیانت سے پیش نہ آؤ جو تم سے خیانت سے پیش آ چکا ہے۔ (ابوداؤد۔ کتاب البیوع۔ باب فی الرجل یاخذحقہ من تحت یدہٖ)

پھر صرف یہی نہیں کہ امانت لوٹا دو بلکہ فرمایا کہ وہ شخص مومن ہی نہیں کہلا سکتا جو امانتوں میں خیانت کرتا ہے، جو دوسروں کے حق مارتا ہے، جو کسی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے، جو اپنے عہد کو صحیح طور پر نہیں نبھاتا۔

اس بارے میں ایک اور روایت ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطاب کرتے ہوئے ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ لَااِیْمَانَ لِمَنْ لَّااَمَانَۃَ لَہٗ وَلَادِیْن لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ یعنی جو شخص امانت کا لحاظ نہیں رکھتا اس کا ایمان کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کا پاس نہیں رکھتا اس کا کوئی دین نہیں۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 3صفحہ135 مطبوعہ بیروت)

اب امانت صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ کسی نے کوئی چیز یا رقم کسی کے پاس رکھوائی تو وہ اس طرح واپس کر دی۔ یہ تو ہے ہی لیکن کوئی بھی شخص جو بھی کام کر رہا ہے اگر وہ اس کا حق ادا نہیں کر رہا، چاہے کام میں سستی کرکے حق ادا نہیں ہو رہا یا کاروباری آدمی کا اپنے کاروبار میں دوسرے کو دھوکے دینے کی و جہ سے اس سے انصاف نہیں ہو رہا، حق ادا نہیں ہو رہا تویہ خیانت ہے کیونکہ کاروبار میں، لین دین میں مثلاً اگر کسی نے کسی دوسرے پر اعتبار کیا ہے تو اس کو امین سمجھ کر ہی، اس کو امانتدار سمجھ کر ہی اس سے کاروبار یا لین دین کامعاہدہ کیا ہے۔ اگر اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے تو یہ خیانت ہے۔ پھر ہمارے ملکوں میں سودے ہوتے ہیں۔ لوگ چیزیں بیچتے ہیں تواس میں ملاوٹ کر دیتے ہیں۔ یہ خیانت ہے۔ امانت کا صحیح طرح حق ادا کرنا نہیں ہے، کسی کا حق مارنا ہے۔ تو یہ سب باتیں ایسی ہیں جو ایمان میں کمزوری کی نشانی ہیں۔ وعدوں کا پاس کرنا ہے۔ اگر اپنے عہد نہیں نبھا رہے تو عہد توڑنے کے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں اور عہد توڑنے کے ساتھ ساتھ خیانت بھی کر رہے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ بے ایمان اور بے دین لوگ ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ ؓ میں امانت، دیانت اور لین دین میں اعلیٰ معیار قائم کرنے کا جو احساس پیدا کیا، جو تربیت کی اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بعض دفعہ صحابہ سودے میں اس بات پر بحث کیا کرتے تھے کہ مثلاً لینے والا یا خریدنے والا کسی چیز کی قیمت زیادہ بتا رہا ہے اور دینے والا اس کی قیمت کم بتا رہا ہے۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ ’’ایک دفعہ ایک صحابی ایک دوسرے صحابی کو ایک گھوڑابیچنے لگے اور اس کی جو قیمت بیچنے والے نے بتائی وہ خریدنے والے کے نزدیک کم تھی۔ انہوں نے اس کی قیمت تین چار گنا کرکے بتائی۔ اور اس بات پہ جھگڑا ہو گیا۔ لینے والا کہہ رہا ہے میں کم قیمت لوں گا۔ دینے والا کہہ رہا ہے کہ نہیں مَیں زیادہ قیمت دوں گا۔‘‘ (تفسیرکبیرجلدہفتم صفحہ249) تو یہ تھے وہ معیار جو صحابہ نے حاصل کئے۔ اور یہی معیار ہیں جو ایک مومن کو حاصل کرنے چاہئیں، جن باتوں کا ایک مومن کو خیال رکھنا چاہئے اور اس طرح اپنی امانت اور دیانت کے معیاروں کو بڑھانا چاہئے۔

ایک بہت بڑی بیماری جو دنیا میں عموماً ہے اور جس کی و جہ سے بہت سارے فساد پیدا ہوتے ہیں وہ ہے کاروبار کے لئے یا کسی اور مَصرف کے لئے قرض لینااور پھر ادا کرتے وقت ٹال مٹول سے کام لینا۔ بعض کی تو نیت شروع سے ہی خراب ہوتی ہے کہ قرض لے لیا پھردیکھیں گے کہ کب ادا کرنا ہے۔ اور ایسے لوگ باتوں میں بھی بڑے ماہر ہوتے ہیں جن سے قرض لینا ہو ان کو ایسا باتوں میں چراتے ہیں کہ وہ بیوقوف بن کے پھر رقم ادا کر دیتے ہیں یا کاروباری شراکت کر لیتے ہیں۔ بہرحال ایسے ہر دو قسم کے قرض لینے والوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے لوگوں سے واپس کرنے کی نیت سے مال قرض پر لیا اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادائیگی کے سامان کر دے گا۔ اور جوشخص مال ہڑپ کرنے کی نیت سے قرض لے گا اللہ تعالیٰ اسے تلف کر دے گا‘‘۔ (بخاری، کتاب فی الاستقراض، باب من اخذ اموال الناس …)

اکثر مشاہدہ میں آتا ہے ایسے لوگ جو بدنیتی سے قرض لیتے ہیں ان کے کاموں میں بڑی بے برکتی رہتی ہے۔ مالی لحاظ سے وہ لوگ ڈوبتے ہی چلے جاتے ہیں اور خود تو پھر ایسے لوگ برباد ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی اس بے چارے کو بھی اس رقم سے محروم کر دیتے ہیں جس سے انہوں نے باتوں میں چرا کر رقم لی ہوئی ہوتی ہے۔ جو بعض دفعہ اس لالچ میں آ کر قرض دے رہا ہوتا ہے، پیسے کاروبار میں لگا رہا ہوتا ہے کہ مجھے غیر معمولی منافع ملے گا۔ وہاں عقل اور سوچ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بس وہ منافع کے چکر میں آ کر اپنے پیسے ضائع کر دیتے ہیں اور بظاہر اچھے بھلے، عقلمند لوگوں کی اس معاملے میں عقل ماری جاتی ہے اور ایسے دھوکے بازوں کو رقم دے دیتے ہیں۔ تو قرض جب بھی لینا ہو نیک نیتی سے لینا چاہئے۔ جیسا کہ آپؐ نے فرمایا اللہ پھر اس کی مدد کرتا ہے۔ اور ایک احمدی کا یہی نمونہ ہونا چاہئے اور قرض کی واپسی بھی بڑے اچھے طریقے سے ہونی چاہئے جیسا کہ پہلے بھی ذ کر آ چکا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی ایک اور روایت مَیں بیان کرتا ہوں۔ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سال کا اونٹ لینا تھا وہ آیا اور تقاضا کرنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے دے دو۔ جس کو بھی آپؐ نے کہا تھا انہوں نے طلب کرنے والے کے تقاضے کے مطابق اونٹ تلاش کیا تو اس عمر کا یعنی ایک سال کا اونٹ انہوں نے نہیں پایا۔ بڑی عمر کا اونٹ تھا جو زیادہ قیمتی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو دے دو۔ اس پر جس کو دینا تھا اس نے کہا آپؐ نے میرا قرض بہتر طور پر پورا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہتر دے۔ (بہرحال وہ اس کی دعا تھی۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرض ادا کرنے کے لحاظ سے بہتر ہو۔ (بخاری -کتاب الوکالۃ -باب وکالۃ الشاھد والغائب جائزۃ…)

تو یہ قرض کی ادائیگی کے نیک طریق کے نمونے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دکھائے ہیں۔ احمدیوں نے اگر دنیا سے فسا د کو دور کرنا ہے تو آپس میں جوبھی لین دین یا قرض لیتے ہیں ان کی اس طرح حسن ادائیگی ہونی چاہئے۔ آپس میں کاروباری معاملات خوبصورتی سے طے ہونے چاہئیں۔ اور کوئی دھوکہ اور کسی قسم کی بھی بدنیتی شامل نہیں ہونی چاہئے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نفس امّارہ کی حالت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’اس حالت کی اصلاح کے لئے عدل کا حکم ہے۔ اس میں نفس کی مخالفت کرنی پڑتی ہے۔ مثلاً کسی کا قرضہ ادا کرنا ہے لیکن نفس اس میں یہی خواہش کرتا ہے کہ کسی طرح سے اس کو دبا لوں اور اتفاق سے اس کی میعاد بھی گزر جاوے۔ اس صورت میں نفس اور بھی دلیر اور بے باک ہو گا کہ اب تو قانونی طور پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ ٹھیک نہیں۔ عدل کا تقاضا یہی ہے کہ اس کا دَین واجب ادا کیاجاوے (اس کا قرض واجب ادا کرو) اور کسی حیلے اور عذر سے اس کو دبایا نہ جاوے۔

مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ ان امور کی پروا نہیں کرتے اور ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں جو بہت کم تو جہ کرتے ہیں اپنے قرضوں کے ادا کرنے میں۔ یہ عدل کے خلاف ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے لوگوں کی نماز نہ پڑھتے تھے(یعنی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے) پس تم میں سے ہر ایک اس بات کو خوب یاد رکھے کہ قرضوں کے ادا کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہئے اور ہر قسم کی خیانت اور بے ایمانی سے دور بھاگنا چاہئے۔ کیونکہ یہ امر الٰہی کے خلاف ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 4 صفحہ607جدید ایڈیشن)

پس ہمارے سامنے یہ تعلیم ہے۔ ہم جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تعلیم کے نمونے قائم کرتے ہیں۔ اگر ہمارے عمل اس کے خلاف ہوں تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ نہ تو ہم امانت کا حق ادا کر رہے ہیں، نہ ہی ہم اپنے عہد پورے کر رہے ہیں بلکہ کاروبار میں دوسروں کو دھوکہ دے کر قرضوں میں ٹال مٹول سے کام لے کر گناہگار بن رہے ہیں اور اُس زمرے میں آ رہے ہیں جو فساد پیدا کرنے والے ہیں۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ ان امور کی پرواہ نہیں کرتے اور ہماری جماعت میں سے بھی ایسے لو گ ہیں جو بہت کم تو جہ کرتے ہیں۔ تو مَیں بھی آج بڑے افسوس سے یہی بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اتنا بڑا دعویٰ لے کر اٹھے ہیں پہلے تو ذرائع وسائل اتنے نہیں تھے کہ خلیفۂ وقت جو بات کہہ رہا ہوتا تھا یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات جو بیان کئے جا تے تھے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تعلیم بتائی جاتی تھی جس کو ماننے کا ہم دعویٰ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے احکامات بیان کئے جاتے تھے وہ اسی جگہ پر محدود ہوتے تھے جس مجمع کو یا جس جلسے کو وہ خطاب کیا جا رہا ہوتا تھا۔ یا زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اس کا خلاصہ یا کچھ حد تک تفصیل چند ہفتوں بعد جماعت کے افراد تک پہنچ جاتی تھی اور ان کی تعداد بہت کم ہوتی تھی جو براہ راست استفادہ کر سکیں۔ لیکن آج ایم ٹی اے کے بابرکت انعام اور انتظام کی و جہ سے یہ آواز اس وقت لاکھوں احمدیوں کے کانوں تک پہنچ جاتی ہے۔ بلکہ آج ہمارے دعوے کی آواز اپنوں اور غیروں تک یکساں ایک ہی وقت میں پہنچ جاتی ہے۔ دوسرے بھی بہت سارے استفادہ کرتے ہیں۔ اس لئے ہماری ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ ہر ملک میں، ہر شہر میں، ہر احمدی اپنے آپ کو اس تعلیم کے مطابق ڈھالے جس کا وہ دعویٰ کرتا ہے۔ اپنی کمزوریوں کو اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے چھپانے کی کوشش کرے، دور کرنے کی کوشش کرے۔ اور حتی الوسع یہ کوشش کرے کہ ایسی کمزوریاں اور عمل سرزدنہ ہوں جو جماعت کی بدنامی کا موجب بنیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو بڑے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ ایسے لوگوں کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میری طرف منسوب ہو کے اور پھر مجھے بدنام کرتے ہو تو پھر میرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہیں کرتے تو میری بیعت کے مقصد کو پورا کرنے والے نہیں ہو۔ کیونکہ جب ایک شخص غیر کے سامنے اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے تو دوسرا تو بہرحال اس کو احمدی سمجھتا ہے اور کسی احمدی کہلانے والے کے بارے میں گہرائی میں جانے سے پہلے، جاننے سے پہلے، یہی سمجھتا ہے کہ عموماً جس طرح احمدی دوسروں کی نسبت زیادہ قابل اعتماد ہیں، قابل اعتبار ہیں، یہ بھی ہو گا۔ لیکن جب کسی احمدی سے ایسی سوچ والے کسی شخص کولین دین میں یا کاروبار میں یا دوسرے وعدوں میں کوئی نقصان پہنچتا ہے یا صدمہ پہنچتا ہے تو وہ پوری جماعت کوہی برا سمجھتا ہے۔

آج کل مجھے کئی خط مل رہے ہیں غیر از جماعت مسلمانوں کی طرف سے بھی اور غیرمسلموں کی طرف سے بھی۔ چاہے مہینے میں دو چار ہی ہوں، لیکن بہرحال بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ جماعت جس طرح پھیل رہی ہے بعض نئے آنے والے اپنے کاروباری ساتھیوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور ان کے پرانے دھوکے چل رہے ہوتے ہیں۔ لیکن مجھے تکلیف اس وقت زیادہ ہوتی ہے جب پُرانے احمدی خاندانوں کے بعض لوگ بھی دھوکے میں ملوث ہوتے ہیں۔ پاکستان سے بھی اور دوسرے ملکوں سے بھی بعض غیر از جماعت خط لکھتے ہیں کہ آپ کا فلاں احمدی ہمارے اتنے پیسے کھا گیا۔ بلکہ ایک نے تو یہ لکھا کہ مَیں نے آپ کو خط لکھا تھا آپ نے جماعت کو کہا جماعت نے بڑی مدد کی۔ لیکن وہ احمدی کسی طرح اس وعدے کو پورا کرنے یا پیسے دینے پر راضی نہیں ہے۔ اس لئے مَیں اب اپنا معاملہ خدا پہ چھوڑتا ہوں۔ یہ الفاظ تو ایک احمدی کو کہنے چاہئیں کہ مَیں اپنا معاملہ خدا پہ چھوڑتا ہوں کجا یہ کہ کوئی دوسرا کہہ رہا ہو۔ تو جب بھی ایسے معاملات کا علم ہوتا ہے تو دوسرے کے پیسے واپس کرانے یا ادا کرنے کی کوشش تو کی جاتی ہے لیکن بعض دفعہ مطالبہ کرنے والا بھی غلط ہوتا ہے، ناجائز مطالبہ کر رہا ہوتا ہے۔ بہرحال احمدیوں کا فرض بنتا ہے کہ اپنے لین دین کو، ماپ تول کو، کاروبار کو، قرضوں کی واپسی کو، بالکل صاف ستھرا رکھیں۔ قرآنی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توقعات کے مطابق ہمیشہ اپنا دامن پاک و صاف رکھیں۔ اس طرح کرنے سے جہاں وہ اپنی عاقبت سنوارنے والے ہوں گے وہاں جماعت کی نیک نامی کا بھی باعث بن رہے ہو ں گے۔ پہلے بھی مَیں کئی دفعہ اس بارے میں کہہ چکا ہوں یہ بھی ایک خاموش تبلیغ ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس طرح عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ ہر کوئی اپنے معاملات ہمیشہ صاف رکھنے ولا ہو۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 18؍ نومبر 2005ء شہ سرخیاں

    ہر احمد ی کوکاروباری معاملات میں اعلیٰ اخلاق کا نمونہ ہونا چاہئے۔

    خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18؍نومبر 2005ء بمقا م مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور