قادیان میں رہنے والوں کا فرض ہے کہ دین کو دنیا پر ہمیشہ مقدم رکھیں

خطبہ جمعہ 16؍ دسمبر 2005ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:

آج محض اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے، اس کی دی ہوئی توفیق سے مَیں اس بستی سے، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس بستی سے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلیفہ اور نمائندہ کے طور پر مخاطب ہوں۔ آج کا دن میرے لئے اور جماعت کے لئے دو لحاظ سے اہم ہے۔ ایک تو میرا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خوبصورت اور روحانیت سے پُر بستی میں خلیفۃ المسیح کی حیثیت سے پہلی دفعہ آنا۔ اور دوسرے جماعت احمدیہ عالمگیر کے لئے یہ ایک عجیب خوشی اور روحانی سرور کا موقع ہے کہ آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کاایک الہام ایک اَور نئی شان کے ساتھ پورا ہو رہاہے۔ گو کہ یہ الہام مختلف پہلوؤں سے بڑی شان کے ساتھ کئی دفعہ پورا ہو چکا ہے۔ لیکن آج یہاں اس بستی سے اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا کرنے کا، اس وعدے کو پورا کرنے کا نشان دکھایا ہے۔ آج یہاں سے پہلی دفعہ ایم ٹی اے کے ذریعے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام براہ راست دنیا کے کونے کونے تک پہنچ رہا ہے۔ یہ ایم ٹی اے بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے اور فضل فرماتے ہوئے ایک انعام کے طور پر جماعت کو عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے گئے وعدوں کا یہ ایک عظیم الشان ثمر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیغام کو بڑی شان کے ساتھ دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کا ذریعہ بناتا رہے۔ ہمارا کام ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ خالصتاً اللہ کے ہوتے ہوئے دعاؤں اور استغفار کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی کوشش کرتے رہیں۔ مَیں جب سے اس ملک بھارت میں آیا ہوں، مجھ سے کئی دفعہ یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ اب آپ قادیان جا رہے ہیں آپ کیا محسوس کرتے ہیں ؟ تو میرا جواب تو ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بستی ہے اور ہر احمدی کو اس سے ایک خاص تعلق ہے، ایک جذباتی لگاؤ ہے اور جوں جوں ہم قادیان کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں ان جذبات کی کیفیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک دنیا دار کا جذباتی تعلق تو ایک و قتی جوش اپنے اندر رکھتا ہے لیکن ایک احمدی کو جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے روحانیت کے مدارج طے کرنے کے راستے دکھائے ہیں اس کا آپ سے روحانیت کا تعلق ہے۔ اس کے جذبات میں تلاطم یا جذباتی کیفیت وقتی اور عارضی نہیں ہوتی اور نہ ہی وقتی اور عارضی ہونی چاہئے۔ اس بستی میں داخل ہو کر جو روحانی بجلی کی لہر جسم میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے سب احمدیوں کو، یہاں آنے والوں اور رہنے والوں کو، اس لہر کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لینا چاہئے اور یہاں کے رہنے والوں کی تویہ سب سے زیادہ ذمہ داری ہے۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ اس بستی کے رہنے والے ہیں جس کے گلی کوچوں نے مسیحا کے قدم چومے۔ اور آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ اس بستی کے رہنے والے ہیں جس کی خاک نے مسیح دوران اور امام الزمان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے پاؤں دم بدم چومے ہیں۔ آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ آپ میں سے ایک بڑی تعداد اُن لوگوں کی ہے یا اُن لوگوں کی نسل میں سے ہے جنہوں نے مسیح پاک کی اس بستی کی حفاظت کے لئے ہر قربانی دینے کا عہد کیا تھا۔ جنہوں نے اپنے اس عہد کو نبھایا اور خوب نبھایا۔

جو درویشان یہاں رہے۔ ان میں سے اب جو موجود ہیں اکثر ایسی عمر کو پہنچ چکے ہیں جس عمر میں صحت کی و جہ سے اتنی فعال زندگی گزارنے کا موقع نہیں مل سکتا۔ یہ ایک قدرتی بات ہے جو عمر کے ساتھ ساتھ ہے۔ پھر قادیان کی احمدی آبادی میں سے ایسے بھی ہیں جو مختلف جگہوں سے یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں ان میں سے بھی میرے خیال میں ایک بڑی تعداد اس لئے یہاں آئی کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے، دین کی خدمت کریں گے۔ بہرحال ایک احمدی جب یہاں آیا اور یہاں رہا تو مَیں یہی حسن ظن رکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عشق ہی انہیں یہاں کھینچ لایا ہو گا۔ آپ سے مَیں یہی کہنا چاہتا ہوں جیسا کہ مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ایک احمدی پر اس بستی کا یہی حق ہے اور ایک احمدی جو اس بستی میں رہتا ہے اس کا یہ فرض ہے کہ صرف دنیا کو اپنا مقصود نہ بنائیں۔ درویشوں کی نسلیں بھی اور نئے آنے والے بھی، سب یہ بات یاد رکھیں۔ خدا سے ایسا تعلق قائم ہو جو ہر دیکھنے والے کو نظر آئے۔ یہاں باہر سے آنے والے احمدیوں کو بھی اور غیروں کو بھی نظر آئے اور یہاں رہنے والے غیروں کو بھی نظر آئے۔ اور وہ تب نظر آئے گا جب ہر ایک میں دعائیں، استغفار اور پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف خاص تو جہ پیدا ہوگی۔

نیک نیتی سے کی گئی دعائیں اور استغفار یقینا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والی ہوتی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق ایسے پاک اور نیک لوگوں کو اپنے نشان بھی دکھاتا ہے۔ ان کو دینی لحاظ سے بھی اوپر لے کے جاتا ہے، ان کی دنیاوی ضروریات بھی پوری فرماتا ہے، ان کا خودکفیل ہوتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کا اگر اپنے پیدا کرنے والے سے صحیح تعلق ہو، تو ان کے دل میں دنیاوی خواہشات بھی کم ہو جاتی ہیں۔ آج کل کے معاشرے میں ایک دوسرے کو دیکھ کر، آپس میں رابطے کی کثرت کی و جہ سے، میڈیا کی و جہ سے دنیاوی خواہشات ہی ہیں جو انسان کو دنیا کی طرف زیادہ مائل کر دیتی ہیں۔ گھانا میں ایک دفعہ کسی نے مجھے کہا کہ ہم بھی واقف زندگی ہیں اور ڈاکٹر بھی وقف کرکے آتے ہیں لیکن ان کے حالات ہم سے بہتر ہیں۔ بہرحال یہ چیز ان کے سامنے تھی تو مَیں نے ان سے کہا کہ زیادہ استغفار کرو۔ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔ اس نے بڑی نیک نیتی سے استغفار شروع کیا، دعائیں کرنی شروع کیں اور کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ وہ جو خواہش تھی اور مقابلہ تھا اور دنیاوی لحاظ سے آگے بڑھنے کی جستجو تھی وہ ان کے دل میں ختم ہو گئی۔ بلکہ یہاں تک ہو گیا کہ دوسرے کی خاطر قربانی دینے کی عادت پڑ گئی۔ تو اگر نیک نیتی سے کی گئی دعائیں ہوں، استغفار کیاگیا ہو تو اللہ تعالیٰ بہت فضل فرماتا ہے۔ خدا کرے کہ نہ صرف یہاں رہنے والے احمدی اللہ تعالیٰ کا تقویٰ دل میں لئے ہوئے ہوں بلکہ یہاں سے باہر جا کر دنیا کمانے والے بھی ایسے ہوں جن کو دیکھ کر دنیا خود بخود کہہ اٹھے کہ یہ حقیقت میں وہ لوگ نظر آتے ہیں جن میں مسیح پاک کی پاک بستی کی روحانی جھلک نظر آتی ہے۔ یہاں کا رہنے والا ہر احمدی اپنی حرکات و سکنات کے لحاظ سے، اپنے چہرے کی سچائی کے لحاظ سے، اپنے عمل کے لحاظ سے، پاک دل ہونے کے لحاظ سے، خود بخود یہ اظہار کر رہا ہو کہ وہ ایک روحانی ماحول سے اٹھ کر باہر آیا ہے۔ کبھی بھی یہاں کا رہنے والا کوئی احمدی نہ اپنوں کے لئے کسی کی ٹھوکر کا باعث بنے، نہ غیروں کے لئے کسی قسم کی ٹھوکر کا باعث بنے۔ یہاں نومبائعین بھی آتے ہیں اور اب تو ایک خاصی بڑ ی تعداد ہے جو یہاں آئی ہے وہ بھی آپ کے نمونے دیکھتے ہیں۔ جو پرانے بزرگوں کی اولادیں ہیں ان کے نمونے تو بہرحال ہر کوئی دیکھے گا۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ایسے لوگوں کی اولاد ہیں جن کی تربیت ایک خاص ماحول میں ہوئی ہوئی ہے۔ اس لئے یہاں کے پرانے رہنے والے، جو یہاں رہے، درویش رہے، انہوں نے بڑی قربانیاں کیں اور اب بھی جو اُن میں سے زندہ ہیں قربانیاں کر رہے ہیں، ایک عمر کا بڑا حصہ گزار چکے ہیں اور زیادہ فعال نہیں رہے۔ اب ان کی اولادوں کا فرض ہے کہ اس مقام کو سمجھیں جس کی خاطر ان کے باپ دادا نے قربانیاں دیں۔ تو بہرحال میں کہہ رہا تھا کہ نومبائعین یہاں بھی آتے ہیں، ان کی تربیت کے لئے آپ کو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی۔

ہم سورۃ فاتحہ میں دعا کرتے ہیں کہ {اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّا کَ نَسْتَعِیْن} کہ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ پس جب ہم خالص ہو کر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگیں گے تو یقینا اللہ تعالیٰ ہماری رہنمائی فرمائے گا۔ ہمیں سیدھے راستے پر رکھے گا، دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے عہد کی ہمیں توفیق ملے گی۔

اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’یعنی ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ ذوق، شوق، حضور قلب بھرپور ایمان ملنے کے لئے۔ روحانی طور پر (تیرے احکام پر) لبیک کہنے کے لئے سرور اور نور کے لئے‘‘۔ (ترجمہ کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد 7صفحہ 121)

پھر فرماتے ہیں کہ: ’’مومن جب{اِیَّاکَ نَعْبُدُ} کہتا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں تو معاً اس کے دل میں گزرتا ہے کہ مَیں کیا چیز ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں جب تک اس کا فضل اور کرم نہ ہو۔ اس لئے وہ معاً کہتا ہے {اِیَّا کَ نَسْتَعِیْن} مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں ‘‘۔ (الحکم 10؍فروری1904ء صفحہ 2کالم 1)

پس اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے، اس کے فضلوں کا وارث بننے کے لئے، دنیا کی محبت ٹھنڈی کرکے دین میں آگے بڑھنے کے لئے، ایمان میں اضافے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کے لئے گویا ہر معاملے میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنے حقوق بتائے ہیں وہاں اپنے بندوں کے حقوق کی طرف بھی تو جہ دلائی ہے۔ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے زیادہ مشکل ہو جاتے ہیں۔ کئی دفعہ کئی لوگوں کے معاملات آتے ہیں۔ بظاہر بڑے نیک اس لحاظ سے کہ نمازیں پڑھنے والے، بظاہر جماعتی طور پر اچھا کام کرنے والے ہوتے ہیں لیکن حقوق العباد کا سوال آئے اور اپنا مفاد ہو تو بعض دفعہ غلط بیانی بھی کر جاتے ہیں، دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کے ساتھ ہی مشروط ہے۔ ظالم شخص کبھی بھی اللہ تعالیٰ کا مقرب نہیں ہو سکتا اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل میں اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر عمل کرنا، اس کی صحیح اور حقیقی عبادت ہے۔ پس اس میں ظاہری نمازوں اور عبادتوں کے ساتھ ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنا، نظام جماعت کی پیروی کرنا، امانتدارانہ طور پر اپنے کام سر انجام دینا، اپنے فرائض کی ادائیگی کرنا، یہ سب باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے زمرہ میں آتی ہیں۔ اس لئے ہمیشہ ہر احمدی کو اس فکر میں رہنا چاہئے کہ کبھی بھی، کسی معاملے میں بھی اس سے کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ ہو۔ اور بہرحال کیونکہ انسان کی طبیعت میں کمزوری ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو بہت سے احکامات پر عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لئے اس کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے ہمیشہ دعاؤں اور استغفار اور اس کی مدد طلب کرتے رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے اور اس کی مدد طلب کرنے کا ایک بہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ استغفار کرو۔ جیسا کہ مَیں نے مثال بھی دی ہے کہ کس طرح ایک شخص میں استغفار کی وجہ سے تبدیلی پیدا ہوئی۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’ ظاہر ہے کہ انسان اپنی فطرت میں نہایت کمزور ہے اور خداتعالیٰ کے صدہا احکام کا اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے۔ پس اس کی فطرت میں یہ داخل ہے کہ وہ اپنی کمزوری کی و جہ سے بعض احکام کے ادا کرنے سے قاصر رہ سکتا ہے۔ اور کبھی نفس امّارہ کی بعض خواہشیں اس پر غالب آ جاتی ہیں۔ پس وہ اپنی کمزور فطرت کی رُو سے حق رکھتا ہے کہ کسی لغزش کے وقت اگر وہ توبہ اور استغفار کرے تو خدا کی رحمت اس کو ہلاک کرنے سے بچا لے۔ ‘‘

فرمایا :’’اور توبہ کے یہ معنی ہیں کہ انسان ایک بدی کو اس اقرارکے ساتھ چھوڑ دے کہ بعد اس کے اگر وہ آگ میں بھی ڈالا جائے تب بھی وہ بدی ہرگز نہیں کرے گا‘‘۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد 23صفحہ190-189)

پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم برائیاں کرنے کے بعد، کسی غلطی کے سرزد ہونے کے بعد اس درد کے ساتھ توبہ و استغفار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں ؟ استغفار کے ساتھ{اِیَّا کَ نَسْتَعِیْن} کے مضمون کو بھی سامنے رکھتے ہیں ؟ کمزوری سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو اس سوچ کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے گناہوں اور غلطیوں کی معافی مانگ رہے ہیں ؟ اور پھر اس کے ساتھ اس عہد پر قائم ہونے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے بھی حالات ہو جائیں یہ غلطیاں نہیں دوہرائیں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر آگ میں بھی ڈالا جائے تب بھی وہ بدی نہیں کرے گا۔ لیکن آگ میں ڈالنا تو علیحدہ بات ہے۔ معمولی سا دنیاوی لالچ یا ذاتی مفاد بھی بعض لوگوں کو وہی غلطیاں کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

کئی لوگوں کو جب بعض غلطیوں پر جماعتی نظام کے تحت سزا ہوتی ہے، تعزیر ہوتی ہے تو معافی مانگتے ہیں۔ اور معافی کے بعد پھر وہی چیز دوہراتے ہیں۔ پھر سزا ہوتی ہے پھر دوبارہ وہی حرکت کر لیتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو تو اگر دوبارہ سزا کے بعد معافی ہو بھی جاتی ہے تو بعض دفعہ مشروط معافی ہوتی ہے۔ بعض دفعہ کارکن یا عہدیدار ہوں تو معافی تو ہو گئی لیکن عہدوں یا کام پر نہیں لگایا گیا۔ اس پر خطوط کے سلسلے شروع ہو جاتے ہیں، نظام کے متعلق شکایات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ تو ایسے لوگوں کو پہلے اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مان کر، آپ کی بستی میں وقت گزار کر پھر بھی اگر اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو پھر ان کا معاملہ نظام جماعت سے نہیں یا خلیفۂ وقت سے نہیں بلکہ خدا سے ہو جاتا ہے۔ اس لئے میری ان باتوں سے باہر کی دنیا کیونکہ ہر جگہ خطبہ سنا جا رہا ہے، یہ تأثر نہ لے لے کہ خدانخواستہ یہاں بگڑے ہوؤں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اب پرانے درویشوں کے بعدنیکی اور تقویٰ کے معیار بالکل ہی ختم ہو گئے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں اگردوچار ہی لوگ خراب ہوں تو برائی نظر آ جاتی ہے۔ اور جتنا شفاف معاشرہ ہو گا اگر اس میں برائی پید اہو گی تو اُتنا زیادہ نظر آجائے گی۔ جتنی سفید چادر ہو گی اتنا ہی اس میں داغ زیادہ نمایاں ہو کر نظر آئے گا۔ اس لئے ہر احمدی کو اس لحاظ سے سوچنا چاہئے اور احتیاط کرنی چاہئے۔ تو اس لئے بجائے اس کے کہ بعدمیں برائیاں پیدا ہوں اور پھیلتی چلی جائیں اور پھر ایک کے بعد دوسرا لپیٹ میں آئے مَیں تو اس اصول پر چلتا ہوں کہ پہلے سمجھانا چاہئے۔ اس انتظار میں نہیں رہنا چاہئے کہ جب برائی پھیلے گی تو دیکھیں گے۔ جب دوسروں کو متاثر کرے گی تو دیکھیں گے۔ بہرحال یہاں کے احمدیوں میں اخلاص و وفا ماشاء اللہ بہت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو مزید بڑھاتا چلا جائے۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا تھا اس بستی پر دنیا کی نظر بہت زیادہ ہے اور جتنا زیادہ ایکسپوژر (Exposure) دنیا کے سامنے ہو رہاہے یہ نظر بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ آج آپ اس وقت براہ راست ساری دنیا کے سامنے ہیں اس لئے اُتنے ہی زیادہ آپ کو تقویٰ کے معیار اونچے کرنے کی ضرورت ہے۔

پھر استغفار کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’ استغفار کے حقیقی اور اصلی معنی یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہرنہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے۔ یہ لفظ غَفَر سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔ سو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مُسْتَغْفِر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔ لیکن بعد اس کے عام لوگوں کے لئے اس کے معنی اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ڈھانک لے۔ لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھمُسْتَغْفِر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے۔ کیونکہ خدا انسان کو پیدا کرکے اس سے الگ نہیں ہوا بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اس کے تمام قویٰ اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیّوم بھی ہے یعنی جو کچھ بنایا ہے اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا ہے۔ پس جبکہ خدا کا نام قیوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والا اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کی خالقیت سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی وہ اپنی پیدائش کے نقش کو خدا کی قیومیت کے ذریعہ بگڑنے سے بچاوے۔ ……۔ پس انسان کے لئے یہ ایک طبعی ضرورت تھی جس کے لئے استغفار کی ہدایت ہے۔ اسی کی طرف قرآن شریف میں یہ اشارہ فرمایا گیا ہے{اَللّٰہُ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوَ۔ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ} (البقرۃ:256) …… سو وہ خالق بھی ہے اور قیّوم بھی۔ اور جب انسان پیدا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا مگر قیّومیت کا کام ہمیشہ کے لئے ہے اسی لئے دائمی استغفار کی ضرورت پیش آئی۔ غرض خدا کی ہر ایک صفت کے لئے ایک فیض ہے اور استغفار صفت قیومیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے ہے۔

نیکی کرنے کی توفیق اسی وقت ملے گی جب استغفار ہوتا رہے گا۔ پودا اسی وقت پروان چڑھتا ہے جب اس کو پانی اور کھاد ملتی رہے۔ تو استغفار جو ہے وہ انسان کے لئے کھادکا کام دیتی ہے۔

فرمایا کہ:’’ اسی کی طرف اشارہ سورۂ فاتحہ کی اس آیت میں ہے {اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّا کَ نَسْتَعِیْن} یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی اس بات کی مدد چاہتے ہیں کہ تیری قیّومیت اور ربوبیت ہمیں مدد دے اور ہمیں ٹھوکر سے بچاوے تا ایسا نہ ہو کہ کمزوری ظہور میں آوے اور ہم عبادت نہ کر سکیں۔ (ریویو آف ریلیجنز اردو۔ جلد اول نمبر 5صفحہ 187تا 189)

پس ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ نیکیوں پر قائم رہنے، دعاؤں پر تو جہ دینے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننے کے لئے استغفار کرتے رہیں۔ اور صرف منہ سے ہی استغفار نہ کرتے رہیں بلکہ اس مضمون کو سمجھ کر استغفار کرنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ واسطہ دے کر استغفار کرنے والے ہوں کہ اے اللہ! ہم کمزور ہیں، تیرے مسیح موعود ؑ کی اس بستی میں رہنے والے ہیں، ہماری کمزوریوں اور کوتاہیوں کی پردہ پوشی فرما۔ ہمیں اس بستی کا حق ادا کرنے والا بنا۔ ، پہلے سے بڑھ کر ہم تیرے مسیح کے پیغام کو سمجھنے والے ہوں، اس کو آگے پہنچانے والے ہوں۔ اور پیغام کو آگے پہنچانا بھی ہر احمدی کا فرض ہے۔ اور اس کے لئے بھی سب سے بڑا ذریعہ آپ کا اپنا عملی نمونہ ہے۔ جب تک آپ کے اپنے نمونے اس قابل نہیں بنتے اس وقت تک دوسروں کو آپ متأثر نہیں کر سکتے۔ دلیل سے قائل بھی کر لیں گے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے اندر کیا پاک تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔

آپس میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی ہماری تو جہ ہو۔ نظام جماعت کے احترام کی طرف بھی ہماری تو جہ ہو۔ اور یہ دعا کریں کہ اے اللہ! تیری عبادت کی طرف بھی ہماری تو جہ ہو۔ ہماری توبہ و استغفار کو قبول فرما، ہر شر سے بچا۔ ہمارے نفس کے شیطان کو ختم فرما اور ہمیں ہمیشہ ان نیکیوں پر قائم فرما اور ان اعلیٰ اخلاق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما جن پر تُو نے ہمیں ایک دفعہ قائم فرما دیا ہے۔ ہماری کوتاہیاں، ہماری کمزوریاں، ہماری لغزشیں تیری ناراضگی کی و جہ بننے سے پہلے ہماری توبہ و استغفار قبول فرماتے ہوئے ہمیں معاف فرما دے۔ ہمارے دل و دماغ ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس پیغام کو اپنے اندر بٹھائے رکھنے والے ہوں کہ فرمایا:’’پس اٹھو اور توبہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو‘‘۔ (لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20، صفحہ 174)

اللہ کرے کہ وہ مالک ہم سے ہمیشہ راضی رہے اور کبھی ہمارے سے ایسا فعل سرزد نہ ہو جو اس کی ناراضگی کا موجب بنے۔ اللہ ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے۔

ایک اور بات ہے جس کی طرف مَیں تو جہ دلانی چاہتا ہوں۔ یہ دعا کے لئے ہے کہ میرے یہاں آنے کی و جہ سے مختلف ممالک سے بہت سارے احمدیوں کی خواہش ہے کہ وہ بھی یہاں آئیں اور جلسے میں شامل ہوں لیکن بعض جگہ پر ویزے کے حصول میں دِقت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی دقتوں کو دور فرمائے اور اپنے فضل سے ان کی اس پاک بستی میں آنے کی نیک خواہش کو پورا فرمائے اور اس مقصد کے لئے جو بھی یہاں آئے ہیں اور جو آنا چاہتے ہیں وہ اس مقصد کوحاصل کرنے والے ہوں۔ پاکستان کے احمدیوں کے لئے بھی بعض سفری دقتیں ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بھی دور فرمائے۔ پہلے انتظامیہ نے یعنی ہماری اپنی انتظامیہ نے صحیح پلاننگ نہ کرنے کی و جہ سے یا بہرحال کسی و جہ سے بعض علاقوں اور ربوہ کے بہت سارے لوگوں کا کوئی ایسا انتظام ہوا کہ ویزہ نہیں مل سکا۔ اب جن کو ویزہ ملا ہے ان کے لئے بھی بعض سفر کی دقتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ اس لئے یہاں والے بھی ان کے لئے دعا کریں اور جو آنے کے خواہش مند ہیں اور جن کو ویزہ وغیرہ مل چکا ہے لیکن اس کے بعد روکیں پیدا ہو رہی ہیں وہ خود بھی دعا کریں، استغفار کریں اور استغفار سے اس طرف تو جہ دیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے مسئلے حل فرمائے۔ ان کی نیک خواہش کو پورا فرمائے اور ان کی راستے کی ہر مشکل کو دورفرمائے۔

ایک اعلان انتظامیہ کی طرف سے ہے یہ مَیں دنیا کے لئے بتا رہا ہوں کہ یہاں کے انتظامات محدود ہیں اور بہت سارے ممالک سے، یورپ، امریکہ وغیرہ سے لوگ آ رہے ہیں اور جیسا کہ مَیں نے کہا اور جماعت کے وسائل بھی محدود ہیں۔ کیونکہ یہاں سردی کافی ہے، رات کو خاص طور پر کافی زیادہ ہو جاتی ہے اس لئے باہر سے آنے والے موسم کے لحاظ سے اپنے بستر وغیرہ کا انتظام کرکے یہاں آئیں۔ اور جو یورپ سے پہلی دفعہ آ رہے ہیں اور اس خیال سے آرہے ہیں کہ بڑا انتظام ہو گا ان پر بھی واضح ہو کہ اس لحاظ سے ان کو اپنا انتظام کرنا ہو گا۔ اس لئے بستر وغیرہ لے کر آئیں۔ کیونکہ یہاں کے انتظام کے تحت اس ملک کے دُور سے آنے والے لوگوں اور غریب لوگوں کے لئے انتظام کیا جاتا ہے۔ دوسرے بعض لوگوں کو بعد میں شکایتیں پیدا ہوتی ہیں کہ ہمیں پہلے بتایا ہی نہیں گیا۔ اس لئے بتا دوں کہ رہائش کا انتظام بھی اتنی سہولت والا یہاں نہیں ہو گا جیسا کہ بعض دفعہ لوگوں کو توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح غسل خانوں وغیرہ کی سہولت بھی اس طرح نہیں ہو سکتی جس طرح ان کو وہاں میسر آ جاتی ہے۔ بعض لوگ زیادہ نازک مزاج ہوتے ہیں اور جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو اور زیادہ نزاکت آجاتی ہے تو وہ یہ سوچ کر آئیں کہ یہاں کافی سختی برداشت کرنی پڑے گی اور جو بھی دیسی طرز کا جماعتی لحاظ سے یہاں انتظام موجود ہے اسی پر گزارہ کرنا ہو گا۔ پھر یہاں کے رہنے والے تو جانتے ہی ہیں لیکن بہت سارے باہر سے آنے والے غلطی کر جاتے ہیں۔ 1991ء میں مَیں آیا تھا اس وقت بھی ایک دو سے اس طرح غلطی ہوئی اور پھر دوسروں نے بتایا کہ یہاں پر بعض دکانوں پہ گوشت کا سالن جو پکا ہوتا ہے ایک تو یہ ہے کہ وہ حلال نہیں ہوتا، ذبیحہ نہیں ہوتا اور بعض دفعہ گوشت بھی صحیح نہیں ہوتا بعض دفعہ سؤر وغیرہ کا گوشت بھی مل رہا ہوتا ہے جو مجھے بتایا گیا ہے۔ اس وقت تو یہ بہرحال ہوتا تھا۔ اس لئے اس لحاظ سے احتیاط کریں کہ بازاروں میں کھانا وانانہ کھائیں۔ جو آنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو خیریت سے لائے اور ان کے نیک مقاصد کو پورا فرمائے اور آنے والے بھی دعا اور استغفار کے مضمون کو سمجھتے ہوئے نیکیوں کے حصول اور ان پر قائم رہنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 16؍ دسمبر 2005ء شہ سرخیاں

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بستی میں رہنے والوں کا فرض ہے کہ دین کو دنیا پر ہمیشہ مقدم رکھیں

    قادیان دارالامان سے حضور انور کا پہلا تاریخی خطبہ جمعہ جو براہ راست تمام دنیا میں نشر ہوا

    خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16؍دسمبر 2005ء بمقام مسجداقصیٰ۔ قادیان دارالامان (بھارت)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور