مجلس مشاورت کی اہمیت اورنمائندگانِ شوریٰ کی ذمہ داریاں

خطبہ جمعہ 24؍ مارچ 2006ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت فرمائی:

{فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ۔ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ}(آل عمران : 160)

آج سے پاکستان میں وہاں کی مجلس شوریٰ شروع ہو رہی ہے۔ اِن دنوں میں اَور ملکوں میں بھی سالانہ مجلس مشاورت ہو رہی ہوتی ہیں، آج کل شروع ہو جاتی ہیں۔ اس لئے شوریٰ کے نمائندگان اور عہدیداران کے حوالے سے چند باتیں کہوں گا۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں جماعت میں مجلس شوریٰ کا ادارہ نظام جماعت اور نظام خلافت کے کاموں کی مدد کے لئے انتہائی اہم ادارہ ہے۔ اور حضرت عمر ؓ کا یہ قول اس سلسلہ میں بڑا اہم ہے کہ لَاخِلَافَۃَ اِلَّابِالْمَشْوَرَۃکہ بغیر مشورے کے خلافت نہیں ہے۔ اور یہ قول قرآن کریم کی ہدایت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے عین مطابق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے ہر اہم کام میں مشورہ لیا کرتے تھے۔ لیکن جیسا کہ آیت سے واضح ہے مشورہ لینے کا حکم تو ہے لیکن یہ حکم نہیں کہ جو اکثریت رائے کا مشورہ ہو اُسے قبول بھی کرنا ہے۔ اس لئے وضاحت فرما دی کہ مشورہ کے بعد مشورہ کے مطابق یا اُسے رد ّکرتے ہوئے، اقلیت کا فیصلہ مانتے ہوئے یا اکثریت کا فیصلہ مانتے ہوئے جب ایک فیصلہ کر لو، ، کیونکہ بعض دفعہ حالات کا ہر ایک کو پتہ نہیں ہوتا اس لئے مشورہ ردّ بھی کرنا پڑتا ہے۔ تو پھر یہ ڈرنے یا سوچنے کی ضرورت نہیں کہ ایسا نہ ہو جائے، ویسا نہ ہو جائے۔ پھر اللہ پر توکل کرو اور جس بات کا فیصلہ کر لیا اس پر عمل کرو۔

اس کے ساتھ ہی قرآن کریم نے اس حوالے سے اُس ماحول کی بھی نشاندہی کر دی اور ہمیں وہ طریقہ بھی بتا دیا جو جماعت کا ہونا چاہئے۔ یہاں مخاطب گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن مراد اُمّت سے ہے۔ جو آیت مَیں نے پڑھی ہے اس میں خاص طور پر اس زمانے میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد کے بعد خلافت نے دائمی طور پر قائم ہونا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حکم دیا گیا یا جو ارشادفرمایا گیا ہے، اصل میں تو یہ جماعت کے لئے ہے اُمّت کے لئے بھی ہے لیکن جماعت کے افراد کے لئے بھی ہے۔ ان کو یہ یاد رکھنا چاہئے اس میں عہدیداران بھی آ جاتے ہیں۔ سب سے بڑا مخاطب خلیفہ وقت ہوتا ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نرمی ہے اسی طرح خلیفہ وقت کے دل میں بھی نرمی ہو تی ہے اور جب تک خلافت کا نظام علیٰ منہاج نبوت رہے گا اور خلافت کا نظام علیٰ منہاج نبوت کا یہ نظام اللہ تعالیٰ کے فضل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق قائم ہو چکا ہے اور جب تک یہ نظام رہے گا خلیفۂ وقت کے دل میں افراد جماعت کے لئے نرمی بھی رہے گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا یہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق قائم ہو گیا ہے اور یہ ایک دائمی نظام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ سب کچھ کسی کی کوششوں سے نہیں ہو گا یا اپنی طبیعتوں میں خود بخود تبدیلی پیدا نہیں ہو گی بلکہ یہ خداتعالیٰ کی خاص رحمت اور فضل سے ہو تاہے اور ہوگا۔ اور خلافت کا یہ نظام اور پھرجماعت کا نظام، یہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں سے چلتا رہے گا۔ اور افرادِ جماعت کا بھی خلافت کے ساتھ جو تعلق ہے وہ بھی اس نظام خلافت کے چلنے کی وجہ سے جاری رہے گا اور یہ تعلق بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہی جماعت کے افراد کے اندر پیدا کیا ہوا ہے۔ خلافت سے جوجوش اور محبت جماعت کو ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں میں سے ہے۔ یہ دو طرفہ بہاؤ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی وجہ سے جماعت میں قائم ہے۔ یعنی خلیفۂ وقت کو یہ حکم ہے کہ دین کے اہم کاموں میں اُ مّت کے لوگوں سے مشورہ لو۔ نرم دل رہو اور دعا کرو۔ لوگوں کو یہ حکم ہے کہ جب مشورہ مانگا جائے تو نیک نیت ہو کر تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے مشورہ دو۔ اس لئے حکم ہے کہ جن سے مشورہ لیا جائے وہ نیک ہوں اور تقویٰ پر چلنے والے ہوں ہر ایک سے مشورہ لینے کا حکم نہیں ہے۔

اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ

شَاوِرُوْا الْفُقَہَآءَ وَالْعَابِدِیْن (کنزا لاعمال جلد 2جزو 3کتاب الاخلاق حرف میم ’’المشورۃ‘‘نمبر7188 طبع ثانی 2004ء)

کہ سمجھدار اور عبادت گزار لوگوں سے مشورہ کرو۔ اس لئے جماعت میں یہ طریق رائج ہے کہ ایسے لوگ جو بظاہر نظام جماعت کے پابند بھی ہوں، مالی قربانی کرنے والے بھی ہوں، عبادتیں کرنے والے بھی ہوں وہ مرکزی شوریٰ کے لئے اپنے میں سے نمائندے چنتے ہیں جو مجلس شوریٰ میں بیٹھ کر تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے مشورے دیتے ہیں یاد ینے چاہئیں۔ ایک ر وایت میں آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب {شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ} کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگرچہ اللہ اور اس کا رسول اس سے مستغنی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے میری اُ مّت کے لئے رحمت کا باعث بنایا ہے۔ پس ان میں سے جو مشورہ کرے گا وہ رشد وہدایت سے محروم نہیں رہے گا۔ (شعب الایمان للبھیقی جلد 6 صفحہ 76-77روایت نمبر7542ایڈیشن اول 1990ء)

پس یہ مشورے امت کے لئے رحمت کا باعث ہیں اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے رُشد وہدایت پر چلانیوالے ہیں۔ لیکن اس پہلی حدیث کے مطابق اگر مشورہ دینے والے اپنی عقل اور سمجھ کے ساتھ ساتھ اپنے کسی خاص کام میں مہارت کے ساتھ ساتھ عبادت گزار بھی ہوں اور نیکیوں پر قدم مارنیوالے بھی ہوں، تقویٰ پر قائم ہوں تبھی ایسے مشورے ملیں گے جو قوم کے مفاد میں ہونگے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنیوالے ہوں گے۔ اور ان مشوروں میں برکت بھی پڑے گی اور بہتر نتائج بھی برآمد ہونگے۔

پس یہاں ممبران جماعت پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ صرف اپنی دوستی اور رشتہ داری یا تعلق داری کی وجہ سے ہی شوریٰ کے نمائندے منتخب نہیں کرنے بلکہ ایسے لوگ جو تقویٰ پر چلنے والے ہوں، کیونکہ تم جس ادارے کے لئے یہ نمائندگان منتخب کرکے بھجوا رہے ہو یہ بڑا مقدس ادارہ ہے اور نظام خلافت کے بعد نظام شوریٰ کا ایک تقدس ہے۔ اس لئے بظاہر سمجھدار اور نیک لوگ جو عبادت کرنے والے اور تقویٰ پر قدم مارنے والے ہوں اُن کو منتخب کرنا چاہئے اور جب ایسے لوگ چنو گے تبھی تم رحمت کے وارث بنو گے ورنہ دنیادار لوگ تو پھر ویسے ہی اخلاق دکھائیں گے جیسے ایک دنیا دار دنیاوی اسمبلیوں میں، پارلیمنٹوں میں دکھاتے ہیں۔ پس افراد جماعت کی طرف سے اس امانت کا حق جو اُن کے سپرد کی گئی ہے اس وقت ادا ہو گا جب تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنے شوریٰ کے نمائندے منتخب کریں گے۔

پاکستان میں تو اب جماعتوں کی طرف سے اس ادائیگی امانت کا وقت گزر چکا ہے۔ کیونکہ نمائندے منتخب کر لئے ہیں آج شوریٰ ہو رہی ہے۔ لیکن جن ملکوں میں ابھی نمائندے چنے جانے ہیں ان کو یہ بات ہمیشہ مدنظر رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ {تُؤَدُّواالْا َمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا} (النساء 59:) کہ امانتوں کو ان کے مستحقوں کے سپردکرو کیونکہ وہ نمائندے خلیفہ ٔوقت کو مشورہ دینے کے لئے چنے جاتے ہیں۔ آپ اپنی جماعتوں سے نمائندے چن کے اس لئے بھیج رہے ہیں کہ خلیفہ ٔوقت کو مشورہ دیں۔ اس لحاظ سے بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ جو لوگ کھلی آنکھ سے ظاہرًانااہل نظر آ رہے ہوں ان کو اگر آپ چنیں گے تو وہ پھر شوریٰ کی نمائندگی کا حق بھی ادا نہیں کر سکتے۔ یا ایسے لوگ جو بلاوجہ اپنی ذات کو ابھار کر سامنے آنے کا شوق رکھتے ہیں وہ بھی جب شوریٰ میں آتے ہیں تو مشوروں سے زیادہ اپنی علمیت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ تو جماعتیں جب انتخاب کرتی ہیں تو اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ ایسے لوگوں کو نہ چنیں۔ تو یہ ہے شوریٰ کے ضمن میں ذمہ داری افراد جماعت کی کہ تقویٰ پر قائم ہوتے ہوئے اپنے نمائندگان شوریٰ چنیں نہ کہ کسی ظاہری تعلق کی وجہ سے اور جس کو چنیں اس کے بارے میں اچھی طرح پر کھ لیں۔ اس کو آپ جانتے ہوں، آپ کے علم کے مطابق اس میں سمجھ بوجھ بھی ہو اور علم بھی ہو اور عبادت گزار بھی ہو۔ اور تقویٰ کی راہوں پر چلنے والا بھی ہو۔

اب مَیں نمائندگان سے بھی چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ شوریٰ کی نمائندگی ایک سال کے لئے ہوتی ہے۔ یعنی جب شوریٰ کا نمائندہ منتخب کیا جاتا ہے تو اس کی نمائندگی اگلی شوریٰ تک چلتی ہے جب تک نیا انتخاب نہیں ہو جاتا۔ صرف تین دن یا دو دن کے اجلاس کے لئے نہیں ہوتی۔ شوریٰ کے نمائندگان کے بعض کام مستقل نوعیت کے اور عہدیداران جماعت کے معاون کی حیثیت سے کرنے والے ہوتے ہیں اس لئے مستقلاً اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ تو جیسا کہ مَیں نے کہا جماعت کو اپنے نمائندے ایسے لوگوں کو چننا چاہئے جو ان کے نزدیک ایک تو سمجھ بوجھ رکھنے والے ہوں۔ ہر میدان میں ہر ایک ماہر نہیں ہوتا، کوئی کسی معاملے میں زیادہ صائب رائے رکھنے والا ہوتا ہے یا مشورہ دے سکتا ہے، کوئی کسی معاملے میں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ عبادت گزار ہونا چاہئے اور حقیقی عبادت گزار ہمیشہ تقویٰ پر قدم مارنے والا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کرے۔ اور جہاں قرآن اور سنت کے مطابق واضح ہدایات نہ ملتی ہوں وہاں وہ اپنی سمجھ اور علم کو خدا سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کہنے کا یہ مطلب ہے کہ جب نمائندگان کو افراد جماعت اس حسن ظنی کے ساتھ منتخب کرتے ہیں تو جو نمائندگان شوریٰ ہیں ان پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اپنی اس ذمہ داری کوادا کریں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ جماعت کے افراد نے آپ پر حسن ظن رکھتے ہوئے قرآن کریم کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہوئے آپ کو منتخب کیا ہے کہ{تُؤَدُّوْاالْا َمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا} (سورۃ النساء آیت :59)کہ اما نتیں ان کے اہل کے سپرد کرو۔ خدا کرے کہ اکثریت نمائندگان جو وہاں شوریٰ میں آئے ہوئے ہیں ان کا انتخاب اسی سوچ کے ساتھ ہوا ہو اور کسی خویش پروری یا ذاتی پسند کی وجہ سے نہ ہوا ہو۔

لیکن اگر بالفرض بعض ایسے نمائندگان بھی آ گئے ہیں جو ذاتی تعلق کی وجہ سے منتخب ہوئے ہیں تو مَیں امید رکھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے نمائندگان کو سمجھ بوجھ کے ساتھ تقویٰ پر چلتے ہوئے مشورے دینے والا بنائے اور کبھی مجھے ایسے مشیرنہ ملیں جو دنیا کی ملونی اپنے اندر رکھتے ہوئے مشورے دینے والے ہوں۔ تو مَیں کہہ یہ رہا تھا کہ اگر بعض نمائندگان اس معیار کو مدنظر رکھے بغیر بھی چنے گئے ہیں وہ بھی اب میری یہ بات سن کر استغفار کرتے ہوئے اپنے آپ کو تقویٰ پر چلاتے ہوئے اس امانت کی ادائیگی کا اہل بنانے کی کوشش کریں۔ یہ خداتعالیٰ کا حکم ہے اس لئے اس پر چلتے ہوئے اگر آپ عمل کریں گے تو اپنی ذات کو بھی فائدہ پہنچا رہے ہوں گے۔

پس ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ایک امانت ہے جس کی ادائیگی کا آپ کو حق ادا کرنا ہے۔ اس نمائندگی کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھیں کہ تین دن کے لئے ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں کچھ باتیں سن لیں کچھ دوستوں سے مل لئے اور بس، صرف اتنا کام نہیں ہے، ان کا بڑاوسیع کام ہے۔

پھر نمائندگان یہ بھی یاد رکھیں کہ جب مجلس شوریٰ کسی رائے پر پہنچ جاتی ہے اور خلیفۂ وقت سے منظوری حاصل کرنے کے بعد اس فیصلے کو جماعتوں میں عملدر آمد کرنے کے لئے بھجوا دیا جاتا ہے۔ تو یہ نمائندگان کا بھی فرض ہے کہ اس بات کی نگرانی کریں اور اس پر نظر رکھیں کہ اس فیصلے پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا اور اس طریق کے مطابق ہو رہا ہے جوطریق وضع کرکے خلیفہ وقت سے اس کی منظوری حاصل کی گئی تھی۔ یا بعض جماعتوں میں جا کر بعض فیصلے عہدیداران کی سستیوں یا مصلحتوں کا شکار ہورہے ہیں۔ اگر تو ایسی صورت ہے تو ہر نمائندہ شوریٰ اپنے علاقے میں ذمہ دار ہے کہ اس پر عملدرآمد کروانے کی کوشش کرے اپنے عہدیداران کو توجہ دلائے، جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ان کے معاون کی حیثیت سے کام کرے۔ ایک کافی بڑی تعداد عہدیداران کی نمائندہ شوریٰ بھی ہوتی ہے۔ وہ اگر کسی فیصلے پر عمل ہوتا نہیں دیکھتے تو اپنی عاملہ میں اس معاملے کو پیش کرکے اس پر توجہ دلائیں۔ نمائندگان شوریٰ چاہے وہ انتظامی عہدیدار ہیں یا عہدیدار نہیں ہیں اگر اس سوچ کے ساتھ کئے گئے فیصلوں کی نگرانی نہیں کرتے اور وقتاً فوقتاً مجلس عاملہ میں نتائج کے حاصل ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ نہیں لیتے تو ایسے نمائندگان اپنا حق امانت ادا نہیں کر رہے ہوتے۔ اور اگر یہاں اس دنیا میں یا نظام جماعت کے سامنے، خلیفۂ وقت کے سامنے اگر بہانے بنا کر بچ بھی جائیں گے تو اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگ ضرور پوچھے جائیں گے جو اپنی امانتوں کا حق ادا نہیں کرتے۔

پس اس اعزاز کو کسی تفاخر کا ذریعہ نہ سمجھیں۔ بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے اور بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر باوجود توجہ دلانے کے پھر بھی مجلس عاملہ یا عہدیداران توجہ نہیں د یتے اور اپنے دوسرے پر وگراموں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور شوریٰ کے فیصلوں کو درازوں میں بند کیا ہوا ہے، فائلوں میں رکھا ہوا ہے تو پھر نمائندگان شوریٰ کا یہ کام ہے کہ مجھے اطلاع دیں۔ اگر مجھے اطلاع نہیں دیتے تو پھر بھی امانت کا حق ادا کرنے والے نہیں ہیں، بلکہ اس وجہ سے مجرم بھی ہیں۔ جب بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے، کسی رنجش کی بنا پر کوئی فرد جماعت اگر کوئی خط لکھتا ہے تو پھر جب بات سامنے آتی ہے اور جب بعض کاموں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، یاتحقیق کی جاتی ہے تو پھر یہی عہدیداران اور نمائندگان لمبی لمبی کہانیوں کا ایک دفتر کھول دیتے ہیں۔ امانت کی ادائیگی کا تقاضا تو یہ تھا کہ جب کوئی غلط بات یا سستی دیکھی تو فوراً اطلاع کی جاتی۔ اور اگر مقامی سطح پر یہ باتیں حل نہیں ہو رہی تھیں تو اُس وقت آپ باتیں پہنچاتے۔

جماعت کی ترقی کی رفتار تیز کرنے کا یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ بعض لوگ اس خوف سے کہ ہم پر ذمہ داری نہ آ پڑے ذمہ داری سے بچنے کے لئے خاموشی سے بیٹھے رہتے ہیں۔ تو اگر اپنا جائزہ لینے کی، اپنا محاسبہ کرنے کی ہرعہدیدار کو ہر نمائندہ شوریٰ کو عادت ہو گی اور یہ خیال ہو گا کہ مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے خلیفہ وقت کو مشورہ دینے کے لئے چنا گیا ہے اور پھر تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے مشورہ دینے کے بعد میری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ مَیں یہ جائز ہ لیتا رہوں کہ کس حد تک ان فیصلوں پر عمل ہوا ہے یا ہو رہا ہے تو مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے کاموں میں ایک واضح تبدیلی پیدا ہو گی۔ جیسا کہ مَیں نے کہا یہ ایک مسلسل عمل ہے کام کرنے کا اور جائزے لیتے رہنے کا۔ تبھی ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔ اور جماعتوں میں ایک واضح بیداری پیدا ہو گی اور نظر آ رہی ہو گی۔

اب اس دفعہ بھی پاکستان کی شوریٰ میں پیش کرنے کے لئے جماعتوں نے بعض تجویزیں رکھیں اور یہ دوسرے ملکوں میں بھی ہوتا ہے لیکن ان تجویزوں کو انجمن یا ملکی مجلس عاملہ شوریٰ میں پیش کرنے کی سفارش نہیں کرتی کہ یہ تجویز گزشتہ سال یا دو سال پہلے شوریٰ میں پیش ہو چکی ہے اور حسب قواعد تجویز تین سال سے پہلے شوریٰ میں پیش نہیں ہو سکتی۔ تو اس تجویز کے آنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کم از کم اس جماعت میں جس کی طرف سے یہ تجویز آئی ہے وہاں اُس فیصلے پر جو ایک سال یا دو سال پہلے ہوا تھا، شوریٰ نے کیا تھا اور پھر منظوری لی تھی، اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اور یہ بات واضح طور پر اس جماعت کے عہدیداران اور نمائندگان شوریٰ کی سستی اور نااہلی ثابت کرتی ہے۔ اور یہ واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ خود ہی کسی کام کو کرنے کے بارے میں ایک رائے قائم کرکے اور پھر اس پر آخری فیصلہ خلیفہ وقت سے لینے کے بعد اس فیصلے کو جماعت نے کوئی اہمیت نہیں دی۔ یہ سستی صرف اس لئے ہے کہ جس طرح ان معاملات کا پیچھا کرنا چاہئے، مرکز نے بھی پیچھانہیں کیا، نظارتوں نے بھی پیچھا نہیں کیا یا ملکی سطح پر ملکی عاملہ پیچھا نہیں کرتی۔ ترجیحات اَور اَور رہیں۔ اس طرح مرکزی عہدیداران بھی جب یہ توجہ نہیں دے رہے ہوتے تو وہ بھی اپنی امانت کا حق ادا نہیں کر رہے ہوتے۔ اس کے لئے مرکزی عہدیداران کو بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اور مقامی جماعت کے عہدیداران اور نمائندگان شوریٰ کو بھی اپنا محاسبہ کرنا ہو گا اور جائزہ لینا ہو گا اور وجوہات تلاش کرنی ہوں گی کہ کیوں سال دو سال پہلے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ جیسا کہ مَیں نے کہا ہے کہ ملکی انتظامیہ کی طرف سے یا انجمنوں کی طرف سے اس بنا پر کہ تھوڑا عرصہ پہلے کوئی تجویز پیش ہو چکی ہے، پیش نہ کئے جانے کی سفارش آتی ہے۔ ٹھیک ہے شوریٰ میں پیش تو نہ ہو لیکن اپنے جائزے اور محاسبہ کے لئے کچھ وقت ان تجاویز کی جگالی کے لئے ضروری ہے۔

یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا وجہ ہے کہ عملدرآمد نہیں ہوا۔ اگر تو 80-70 فیصد جماعتوں میں عمل ہو رہا ہے اور 30-20فیصد جماعتوں میں نہیں ہو رہا تو پھر تو جائزے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر80-70فیصد جماعتوں میں گزشتہ فیصلوں پر عمل نہیں ہو رہا ہے تو لمحہ فکریہ ہے۔ اس طرح تو اعلیٰ مقاصد حاصل نہیں کئے جاتے۔ تو مَیں سمجھتا ہوں کہ شوریٰ میں اس کے لئے بھی مخصوص وقت ہونا چاہئے تاکہ دیکھا جائے اپنا جائزہ لیا جائے۔ یہ ٹھیک ہے کہ کج بحثی ناپسندیدہ فعل ہے لیکن بحث سے بچنے کے لئے، اپنے جائزے لینے کے لئے، آنکھیں بند کر لینا بھی اس سے زیادہ ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس جائزہ میں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ جن جماعتوں نے خاص کوشش کی ہے زیادہ اچھا کام کیا ہے ان کا طریقہ کار کیا تھا۔ انہوں نے کس طرح اس پر عملدرآمد کروایا۔ اس طرح پھر جب ڈسکشن(Discussion) ہو گی تو پھر دوسری جماعتوں کو بھی اپنی کارکردگی بہتر کرنے کا موقع مل جائے گا۔ لیکن اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے اس کارروائی یا بحث میں بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کی ذات پر تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔ کسی کی ذات پر تبصرہ نہیں کرنا بلکہ صرف شعبے کا جائزہ ہو۔ اس فیصلے پر جس پر پوری طرح عمل نہیں ہو رہا، اس کا جائزہ لیا جائے کہ کہاں کمیاں ہیں اور کیوں کمیاں ہیں۔ بہرحال ہمیں کوئی ایسا طریق وضع کرنا ہو گا جس سے قدم آگے بڑھنے والے ہوں۔ یہ نہیں ہے کہ ایک فیصلہ کیا اور تین سال اس پر عمل نہ کیا یا اتنا کم عمل کیا کہ نہ ہونے کے برابر ہو، اکثر جماعتوں نے سستی دکھائی اور پھر تین سال کے بعد وہی معاملہ دوبارہ اس میں پیش کر دیا کہ شوریٰ اس کے لئے لائحہ عمل تجویز کرے۔ تو یہ تو ایک قدم آگے بڑھانے اور تین قدم پیچھے چلنے والی بات ہو گی۔

پھر شوریٰ کے نمائندگان اور عہدیداران کو چاہے وہ مقامی جماعتوں کے ہوں یا مرکزی انجمنوں کے ہوں ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جماعت کی نظر میں آپ جماعت کا ایک بہترین حصہ ہیں جن کے سپرد جماعت کی خدمت کا کام کیا گیا ہے۔ اور آپ لوگوں سے یہ امید اور توقع کی جاتی ہے کہ آپ کا معیار ہر لحاظ سے بہت اونچا ہو گا اور ہونا چاہئے۔ چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ہو، عبادت کرنے کی طرف توجہ دینے کے بارے میں ہو، یا بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ہو یا خلیفہ وقت سے تعلق اور اطاعت کے بار ے میں ہو۔

اس لئے نمائندگان اور عہدیداران کواس لحاظ سے بھی اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ وہ کس حد تک اپنی عبادتوں کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔ جیسا کہ مَیں بتا آیا ہوں کہ عبادت ایک بنیادی چیز ہے جس کو نمائندگی دیتے ہوئے مدنظر رکھنا چاہئے اور ایک عام مسلمان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ عبادت گزار ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس دین میں عبادت نہیں وہ دین ہی نہیں ہے۔ (الترغیب و الترھیب جلد نمبر اول حدیث نمبر 820 الترھیب من ترک الصلوۃ تعمدا و اخراجھا…طبع اول 1994دار الحدیث قاہرہ)

تو ایک عام احمدی کے لئے جب نمازوں کی ادائیگی فرض ہے تو عہدیدار جو ہر لحاظ سے افراد جماعت کے لئے نمونہ ہونا چاہئیں ان کے لئے تو خا ص طور پر اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی کوئی نماز بغیر جماعت کے نہ ہو سوائے کسی اشد مجبوری کے۔

پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ جو دو تین دن شوریٰ کے لئے آتے ہیں اور آئے ہیں، ان میں صرف یہی نہیں کہ ان دنوں میں ہی یہیں نمازیں پڑھنی ہیں اور دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہے بلکہ ہر نمائندے کو، ہر عہدیدار کو، باقاعدہ نماز باجماعت کا عادی ہونا چاہئے۔ خود اپنے جائزے لیں، اپنا محاسبہ کریں، دین کی سر بلندی کی خاطر آپ کے سپرد بعض ذمہ داریاں کی گئی ہیں۔ اگران میں دین کے بنیادی ستون کی طرف ہی توجہ نہیں ہے تو خدمت کیا کریں گے اور مشورے کیا دیں گے۔ جو دل عبادتوں سے خالی ہیں ان کے مشورے بھی تقویٰ کی بنیاد پر نہیں ہو سکتے۔

پھر بندوں کے حقوق ہیں۔ نمائندگان اور عہدیداران کو اپنے دلوں کو ہر قسم کی برائیوں اور رنجشوں سے پاک کرنا ہو گا، لین دین کے معاملے میں بھی ان کے ہاتھ بالکل صاف ہونے چاہئیں۔ ہمسایوں کے حقوق کے بارے میں بھی ان کے ہاتھ بالکل صاف ہونے چاہئیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمسائے سے حسن سلوک کا خداتعالیٰ کا حکم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تواس کی یہاں تک تاکید فرمائی ہے کہ صحابہ کو خیال ہوا کہ شاید یہ ہمارے ورثہ میں حصہ دار بننے والے ہیں۔ (صحیح بخاری کتاب الادب باب الوصاۃبالجار حدیث 6015)

تو جب اتنی تاکید ہے ہمسائے سے حسن سلوک کی تو یہ کس طرح برداشت کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جن کے سپرد جماعتی ذمہ داریاں کی گئی ہیں وہ اپنے ہمسایوں کے لئے دکھ کا باعث ہوں اور ہمسائے ان کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا ہوں۔ یاد رکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمسائے کی تعریف یہ کی ہے کہ تمہارے دینی بھائی بھی تمہارے ہمسائے ہیں۔ یعنی ہر احمدی ہمسایہ ہے۔ عہدیداروں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر احمدی ان کا ہمسایہ ہے اور اگر کسی احمدی کو آپ کی وجہ سے کوئی تکلیف یا دکھ پہنچتا ہے تو یہ انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔ ایک عام احمدی جب دوسرے احمدی کے لئے تکلیف کا باعث بنتا ہے تو گویہ بھی بڑی تکلیف والی بات ہے لیکن وہ معاملہ ان دو اشخاص کے درمیان رہتا ہے لیکن جب ایک ذمہ دار جماعت کی خدمت کرنے والے سے کسی کو دکھ پہنچتا ہے یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ایک عام احمدی کو بعض اوقات دین سے دور لے جانے والی بھی بن جاتی ہے وہ اس کی ٹھوکر کا باعث بن رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح اور بھی بہت سارے بنیادی اخلاق ہیں جو جماعتی خدمتگاروں کے لئے چاہے وہ نمائندگان شوریٰ ہوں یا عہدیدار ہوں یا واقفین زندگی ہوں، سب کو ان کے اعلیٰ نمونے دکھانے کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔ بعض باتیں چونکہ نمائندگان شوریٰ کے علاوہ بھی خدمتگاروں کے لئے ضروری تھیں اس لئے مَیں نے سب کو توجہ دلائی ہے کیونکہ یہ عہدیداروں کے اچھے نمونے ہیں جن کو دیکھ کر پھر جماعت میں بھی اچھے نمونے قائم ہوں گے۔

پھر ایک اور بات جس کی طرف نمائندگان شوریٰ اور دوسرے کارکنان کو توجہ دلانی چاہتا ہوں، وہ خلیفۂ وقت کی اطاعت ہے۔ جیسا کہ مَیں پہلے بھی بتا آیا ہوں کہ شوریٰ کے فیصلوں پر عملدرآمد کروانا نمائندگان شوریٰ اور عہدیداران کا کام ہے۔ اور کیونکہ یہ فیصلے خلیفہ ٔوقت سے منظور شدہ ہوتے ہیں اس لئے اگر ان پر عملدرآمد کروانے کی طرف پوری توجہ نہیں دی جا رہی تو غیر محسوس طریقے پر خلیفہ وقت کے فیصلوں کو تخفیف کی نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اطاعت کے دائرے کے اندر نہیں رہ رہے ہوتے جبکہ جن کے سپر د ذمہ داریاں کی گئی ہیں ان کو تو اطاعت کے اعلیٰ نمونے دکھانے چاہئیں جو کہ دوسروں کے لئے باعث تقلید ہوں، نمونہ ہوں۔ پس یہ جو خدمت کے موقعے ملے ہیں ان کو صرف عزت اور خوشی کا مقام نہ سمجھیں کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے اور بڑی عزت کی بات ہے ہمیں خدمت کا موقع مل گیا۔ اس کے ساتھ جب تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم ہوں گے تب یہ عزت اور خوشی کی بات ہو گی اور تب یہ عزت اور خوشی کے مقام بنیں گے۔

ایک بات مَیں پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکا ہوں، شوریٰ کے ممبران کے لئے دوبارہ یاددہانی کروا رہا ہوں کہ شوریٰ کی بحث کے دوران جب اپنی رائے دینا چاہتے ہیں تو رائے دینے سے پہلے اس تجویز کے سارے اچھے اور برے پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے اپنی رائے دیں نہ کہ کسی دوسرے رائے دینے والے کے فقرہ کو اٹھا کر جوش میں آ جائیں۔ سمجھ بوجھ رکھنے والی شرط بھی اسی لئے رکھی گئی ہے کہ ہوش و حواس میں رہتے ہوئے رائے دیں۔ اور دوسری بات یہ کہ اظہار رائے کے وقت کسی کے جوشِ خطابت سے متاثر ہو کر اس طرف نہ جھک جائیں۔ یا اپنی کسی پسندیدہ شخصیت کی رائے سن کر اس پر صاد نہ کر دیں، اس کی بات نہ مان لیں۔ بلکہ رائے کو پرکھیں اور اگر معمولی اختلاف ہو تو بلاوجہ کج بحثی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن اگر واضح فرق ہو، آپ کے پاس زیادہ مضبوط دلیلیں ہوں یا دوسرے کی دلیل زیادہ اچھی ہو تو ضروری نہیں وہاں کسی رائے دینے والے سے تعلق کا اظہار کیا جائے۔

بہرحال آخر میں پھر یہی کہتا ہوں کہ جب شوریٰ میں بحثوں کے بعد آپ ایک رائے قائم کر لیتے ہیں اور اس پر خلیفہ وقت کا فیصلہ لے لیتے ہیں چاہے وہ آپ لوگوں کی رائے مان لینے کی صورت میں ہو یا کسی تبدیلی کے ساتھ فیصلہ کرنے کی صورت میں۔ جب یہ جماعتوں کو عملدرآمد کے لئے بھجوا دیا جاتا ہے تو امانت کا حق اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ خلیفہ وقت کا دست و بازو بن کر اس پر عملدرآمد میں جت جائیں، نہ سستیاں دکھائیں اور نہ توجیہیں نکالنے کی کوشش کریں۔ اگر اس طرح کریں گے تو پھر آپ کے فیصلوں میں کبھی برکت نہیں پڑے گی۔ اور عہدیداران کی دوسری باتیں بھی بے برکت ہو جائیں گی۔

پھر مَیں کہتا ہوں کہ اپنی ذمہ داریوں کے احساس کو اجاگر کریں، اس کو سمجھیں اور خدا سے مدد مانگتے ہوئے شوریٰ کے دنوں میں اپنے اجلاس کے اوقات میں بھی اور فارغ اوقات میں بھی دعاؤں میں گزاریں۔ اور جب اپنی جماعت میں جائیں تو وہاں بھی آپ میں اس تبدیلی کا اثر مستقل نظر آتا ہو۔ یاد رکھیں کہ ہوشیاری، چالاکی یا علم سے نہ احمدیت کا غلبہ ہونا ہے، نہ کوئی انقلاب آنا ہے۔ اگر دنیا میں کوئی تبدیلی پیدا ہونی ہے تو وہ دعاؤں سے اور تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے ہونی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والی ہو گی۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’ اللہ جلّ شانہ فرماتا ہے {یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنْ تَتَّقُوْااللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًاوَّیُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ} (الأنفال:30) {وَیَجْعَلْ لَّکُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِہٖ} (الحدید:29) یعنی اے ایمان والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خداتعالیٰ تم میں او ر تمھارے غیر وں میں فرق رکھ دے گا۔ وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قویٰ اور حواس میں آجائے گا۔ تمہاری عقل میں بھی نور ہو گااور تمہاری ایک اٹکل کی بات میں بھی نور ہو گا اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہو گا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہو گا اور جن راہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی‘‘۔ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5صفحہ 177-178)

پس یہ معیار ہیں جن پر تقویٰ کے ساتھ چلنے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں خوشخبری دی ہے۔ جیسا کہ آپؑ نے فرمایا تقویٰ پر چلنے سے ہی سب کچھ ملے گا۔ اور اگر نمائندگان شوریٰ اور تمام عہدیداران اور تمام خدمت گزار یہ حالت اپنے اندر پیدا کر لیں تو جماعت کے تقویٰ کے معیار بھی خود بخود بڑھنے شروع ہو جائیں گے انشاء اللہ۔ اور پھر ہر فیصلہ جو کیا جائے گا اور ہر فیصلہ جس کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلائی جائے گی، اس پر عملدرآمد بھی ہو گا اور اس میں برکت بھی پڑے گی۔ اور یہ شکوے بھی انشاء اللہ ختم ہو جائیں گے کہ اتنی کوششوں کے باوجود بھی ہمارے پروگراموں کے نتائج سامنے نہیں آئے۔

اللہ سب کو تقویٰ کی راہوں پر چلاتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام وہ لوگ جن کو کسی بھی رنگ میں جماعت کی خدمت کا موقع مل رہا ہے خلیفہ وقت کے دست راست بن کر رہیں۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 24؍ مارچ 2006ء شہ سرخیاں

    نظام خلافت کے بعد نظام شوریٰ کا ایک تقدس ہے

    فرمودہ مورخہ 24؍مارچ 2006ء (24؍امان 1385ھش) مسجد بیت الفتوح، لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور