اللہ تعالیٰ کی صفتِ مجیب کاایمان افروزتذکرہ

خطبہ جمعہ 11؍ اگست 2006ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے درج ذیل آیات قرآنی کی تلاوت فرمائی:

{ھُوَالْحَیُّ لَآ اِلٰہَ اِلَّاھُوَ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ}(المؤمن: 66)

{اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَ یَجۡعَلُکُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ}(النمل: 63)

اللہ تعالیٰ کی ایک صفت مجیب ہے جس کے معنے ہیں دعا کو سننے والا یا ایسی ہستی جس سے جب سوال کیا جائے اور دعا مانگی جائے تو عطا کرتا ہے، نوازتا ہے، قبول کرتا ہے۔ پس یہ اسلام کا خدا ہے جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور زندگی بخش ہے، جو مضطرکی دعاؤں کو سن کر اپنے وجود کا ثبوت دیتا ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے ہیں جس نے ہمیں اس خدا کی پہچان کروائی۔ جو ہمیں مایوسیوں کی گہرئی کھائیوں سے نکال کر امیدوں کی روشنی عطا فرماتا ہے اور پھر صفت مجیب کا مزید فہم و ادراک عطا کرتے ہوئے اپنے انعامات اور فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے وہ راستے دکھاتا ہے جو اس کے قرب کو حاصل کرنے والے اور اس کی بلندیوں پر لے جانے والے ہیں۔ پھر ہماری یہ بھی خوش قسمتی ہے کہ ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس غلام صادق کی جماعت میں شامل ہیں جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے طفیل ان راستوں کو دوبارہ صاف کرکے، ان راہوں پر ہمیں ڈالا جس سے ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کا صحیح فہم و ادراک حاصل کرنے والے بنیں اور اس طرف ہمیں توجہ پیدا ہو۔ اس نے ہمیں بتایا کہ اسلام کا خدا وہ خدا ہے جو سنتا بھی ہے اور بولتا بھی ہے۔ دعا مانگو تو جواب بھی دیتا ہے۔ آپؑ نے دنیا کو یہ چیلنج دیا کہ آؤ اس زندہ خدا کی پہچان مجھ سے حاصل کرو کیونکہ اس زمانہ میں اس کی پہچان کروانے والا اور اس کو دکھانے والا میں ہوں۔ آپؑ فرماتے ہیں :۔

’’ہمارا زندہ حی و قیوم خدا ہم سے انسان کی طرح باتیں کرتا ہے ہم ایک بات پوچھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں تو قدرت کے بھرے ہوئے الفاظ کے ساتھ جواب دیتا ہے، دعائیں قبول کرتا ہے اور قبول کرنے کی اطلاع دیتا ہے‘‘۔ (نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد19صفحہ448)

پس اس زمانے میں ہمیں زمانے کے امام کے ساتھ جڑ کر دعاؤں کی قبولیت کا بھی فہم و ادراک حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھنے کا بھی فہم حاصل ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھنے کا بھی ادراک حاصل ہوا کیونکہ زمانے کے امام کے ساتھ چمٹنے سے اللہ تعالیٰ ان ماننے والوں کو بھی ہر ایک کے اپنے تعلق کے معیار کے مطابق جو اس کا خداتعالیٰ سے ہے، اپنی صفات کے جلوے دکھاتا ہے۔ پس قرآن کریم کا یہ دعویٰ صرف دعویٰ نہیں کہ اسلام کا خدا زندہ خدا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے اسے پکارو، کامل تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے بلکہ عملاً اس کے نمونے بھی دکھاتا ہے۔ پس اس اعلان سے اگر فائدہ اٹھانا ہے تو اس شرط پر عمل کرنا ہو گا کہ صرف اور صرف وہی معبود ہو اور اس کو حاصل کرنے کے لئے باقی سب کچھ چھوڑنا ہو گا۔ اور جب دنیا کے تمام ذرائع خدا کے مقابلے پر ہیچ سمجھ کر چھوڑیں گے اور خالصۃً اسی کے ہو کر اس کو پکاریں گے پھر وہ ان پکارنے والوں کی پکار سنے گا، نوازے گا اور قبول کرے گا۔ ہمیشہ ہمارے ذہن میں دعا کرتے ہوئے یہ بات ہونی چاہئے کہ وہ ایک ہی ہمارا رب ہے۔ جب اس نے بغیرمانگے ہمارے لئے اتنے انتظامات کئے ہوئے ہیں تو جب ہم خالص ہو کر اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کی عبادت کریں گے، اس کے احکامات پر عمل کریں گے تو کس قدر وہ پیارا خدا جو اپنے بندوں سے بے انتہا پیار کرتا ہے، ہماری طرف توجہ کرتے ہوئے اپنے انعاموں اور فضلوں سے ہمیں نوازے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تو خود کہہ دیا ہے کہ میں دعائیں سنتا ہوں، مجھے پکارو تاکہ میں تمہاری سنوں تو پھر کس قدر بدقسمتی ہے کہ ہم ضرورت کے وقت دوسری چیزوں پر زیادہ انحصارکریں، دوسروں پر زیادہ انحصار کریں اور اپنے پیارے رب کو پکارنے کی طرف کم توجہ ہو۔

دوسری آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یا پھر وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا کو قبول کرتا ہے، جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کے وارث بناتا ہے۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔

اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود کی سب سے بڑی دلیل یہ دی ہے کہ اس کی طاقتیں لامحدود ہیں صرف اور صرف وہی ذات ہے جو بے قرار کی دعا کو سنتا ہے۔ لیکن پھر بھی اکثر لوگ اس بات کو بھول کر اس طرف جھکتے ہیں، اُن کو خدا سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں جو خدا کی مخلوق ہیں۔ پس یہ اعلان ہی اصل میں اسلام کی بنیاد ہے کہ مجھے پکارو، میں سنوں گا۔ اور ایمان میں مضبوطی تبھی پیدا ہوتی ہے جب ایک سچا مسلمان اس بات کا خود تجربہ کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے شرائط رکھی ہیں۔ اس نے بھی بندوں کو کچھ راستے دکھائے ہیں کہ ان پر چل کر میرے پاس آؤ۔ تو ان راستوں کو اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ تبھی وہ ہمیں زمین کے وارث بنائے گا۔ اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اس زمانے میں ان راستوں کی واضح پہچان ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کروائی ہے۔ پس اس تعلیم پر مکمل طور پر عمل کرنا بھی ہمارا فرض ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے اور جس کی وضاحت اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے سامنے پیش فرمائی ہے۔ اپنے قرب کی پہچان اور اپنے بندوں کی پکار کو سننے کا اعلان اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ یوں فرمایا ہے کہ{وَاِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ۔ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ} لیکن فرمایا کہ تم بھی اس بات پر عمل کرو کہ{فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ} (البقرۃ: 187)۔ یعنی چاہئے کہ وہ بھی میری عبادت کریں۔ اللہ کے بندے بھی میری عبادت کریں، میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ پس دعاؤں کی قبولیت کے لئے ایسا ایمان ضروری شرط ہے جو تمام دنیاوی ذریعوں کو پیچھے پھینک دے اور اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان ہو، اس کے احکامات پر مکمل عمل ہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:۔

’’پس چاہئے کہ اپنے تئیں ایسا بناویں کہ میں ان سے ہم کلام ہو سکوں۔ اور مجھ پر کامل ایمان لاویں تا ان کو میری راہ ملے‘‘۔ (لیکچر لاہور۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ159)

اور جب یہ کامل ایمان پیدا ہو جائے توپھر اس بندے کے لئے جو بہترین ہو (کیونکہ بندہ غیب کا علم نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ جو بہترین سمجھتا ہے) اس کے مطابق اسے نوازتا ہے۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر دعا اسی رنگ میں پوری ہو جائے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ بندے کے لئے کیا بہتر ہے۔ بہرحال جب انسان دعا کرتا ہے اور خالص ہو کر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ سنتا ہے۔ اور یہی دعا ہی ہے جس سے پھر خداتعالیٰ کی پہچان ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:۔

’’سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خدا تو دعاؤں ہی سے پہچانا جاتا ہے۔ دنیا میں جس قدر قومیں ہیں، کسی قوم نے ایسا خدا نہیں مانا جو جواب دیتا ہو اور دعاؤں کو سنتا ہو۔ کیا ایک ہندو ایک پتھر کے سامنے بیٹھ کر یا درخت کے آگے کھڑا ہو کر یا بیل کے رُوبرو ہاتھ جوڑ کر کہہ سکتا ہے کہ میرا خدا ایسا ہے کہ میں اس سے دعا کروں تو یہ مجھے جواب دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیا ایک عیسائی کہہ سکتا ہے کہ میں نے یسوع کو خدا مانا ہے وہ میری دعا کو سنتا اور اس کا جواب دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ بولنے والا خدا صرف ایک ہی ہے جو اسلام کا خدا ہے، جو قرآن نے پیش کیا ہے، جس نے کہا {اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ} (المؤمن:61) تم مجھے پکارو میں تم کو جواب دوں گا۔ اور یہ بالکل سچی بات ہے۔ کوئی ہو جو ایک عرصہ تک سچی نیت اور صفائی قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہو۔ وہ مجاہدہ کرے اور دعاؤں میں لگا رہے آخر اس کی دعاؤں کا جواب اسے ضرور دیا جاوے گا۔

قرآن شریف میں ایک مقام پر ان لوگوں کے لئے جو گو سالہ پرستی کرتے ہیں اور گوسالہ کو خدا بناتے ہیں آیا ہے۔ {اَلَّایَرْجِعُ اِلَیْہِمْ قَوْلًا} (طٰہٰ: 90) کہ وہ ان کی بات کاکوئی جواب ان کو نہیں دیتا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو خدا بولتے نہیں ہیں وہ گوسالہ ہی ہیں۔ ‘‘ (ملفوظات جلد دوم صفحہ148-147 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں دعا سکھائی ہے اور نہ صرف اپنے ایمان کی مضبوطی کے لئے بلکہ اپنی نسلوں کے ایمان کے لئے بھی تاکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے آگے جھکے رہنے اور اس سے مانگنے کا یہ سلسلہ نسلاً بعد نسلٍ چلتا رہے۔ اور اس کی اہمیت کے پیش نظر ہم دعائیں بھی کرتے ہیں۔ نماز میں التحیات میں بیٹھے ہوئے، درود شریف کے بعد، اس میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی ہے کہ {رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآئِ} (ابراھیم:41)۔ کہ اے میرے رب مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری نسلوں کو بھی۔ اے ہمارے رب اور میری دعا قبول کر۔ پس جب ایک درد کے ساتھ ہم یہ دعا ہمیشہ مانگتے رہیں گے۔ نہ کہ صرف ان دعاؤں کی طرف توجہ رہے گی جو کسی خاص مقصد کے حصول کے لئے ہی اللہ کے حضور مضطر بن کرمانگی جاتی ہیں۔ تو یہ بات ہمارے ایمان میں اضافے کا باعث بنے گی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والا بنائے گی۔ اور وہ مجیب خدا اس وقت اس دعا کی وجہ سے جو خالصۃً اس کی رضا کے حصول کے لئے کی جا رہی ہو گی، دوسری دعاؤں کو بھی قبول فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس دعا کا صحیح فہم و ادراک ہمیں عطا فرمائے اور آخرین کے امام کو مان کر ایمان میں ترقی کی جو ایک روح ہم میں دوبارہ پیدا ہوئی ہے وہ بڑھتی چلی جائے۔ اور وہ مجیب خدا ہماری دعاؤں کو سنتے ہوئے ہمیشہ اس جماعت کو نماز قائم کرنے والوں کی جماعت بنائے رکھے۔

پھر اس بات کے ساتھ کہ مضبوط ایمان ہو، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے سے دعائیں مانگو اور خالص ہو کر مانگو۔ اس کے ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ مختلف دعائیں مانگنے کے طریقے کیا ہیں ؟ فرمایا کہ وہ طریقے یہ ہیں کہ جو میری مختلف صفات ہیں ان کے حوالے سے اپنی مختلف قسم کی جو ضروریات ہیں ان کے لئے دعا مانگو۔ یہ بات بندے اور خدا کے تعلق کو مزید قرب دلانے والی ہو گی، قریب کرنے والی ہو گی، ایمان میں بڑھانے والی ہو گی اور قبولیت دعا کا ذریعہ بنے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ {وَلِلّٰہِ الْا َسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا} (الاعراف:181) اور اللہ ہی کے سب خوبصورت نام ہیں پس ان ناموں سے اسے پکارا کرو۔

اس مجیب خدا نے مختلف جگہوں پر دعا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور اس کے سلیقے اور طریقے بھی سکھائے ہیں جن پر ہم میں سے ہر ایک کو عمل کرنا چاہئے کیونکہ اسی میں ہماری بقا ہے۔ اللہ تعالیٰ کس طرح ہمیں نوازنا چاہتا ہے۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہو گی کہ وہ تو ہمیں نوازنا چاہتا ہے لیکن ہم اس مجیب خدا کو نہ پکاریں بلکہ دوسروں کی طرف ہماری توجہ ہو اور پھرنہ پکار کر اس کے انعاموں سے محروم رہیں۔ خداتعالیٰ تو اپنی مخلوق سے پیار کی وجہ سے ہمیں یہ راستے دکھاتا ہے۔ ورنہ اس کو ہماری پکار اور ہماری دعاؤں کی ضرورت تو نہیں ہے۔ بندہ ہے جس کو خدا سے تعلق کی، اس کی مدد کی ضرورت ہے، اس کو پکارنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ{قُلْ مَایَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُکُمْ} (الفرقان: 78) تُو کہہ دے کہ اگر تمہاری دعا نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری کوئی پرواہ نہ کرتا۔ پس اللہ کو بھی ان لوگوں کی پرواہ ہے جو دعا کرنے والے ہیں۔ پس اگر اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا ہے تو ہر چیز کے حصول کے لئے اسی خدا کو پکارنے کی ضرورت ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اگر تمہیں جوتی کا ایک تسمہ بھی چاہئے تو اس خدا سے مانگو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی انہیں الفاظ میں الہام ہوا تھا اور نظارہ دکھایا گیا تھا کہ بھیڑوں کی ایک لائن ہے جو زمین پر لیٹی ہوئی ہیں اور ایک شخص ان پر چھری پھیرتا چلا جاتا ہے اور ساتھ یہ کہتا ہے کہ تم تو بے حیثیت بھیڑیں ہی ہو، تمہاری حیثیت تو کوئی نہیں۔ پس یہ الہام بھی ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ مانگتے رہنے والے ہوں اور اس امام سے جڑے رہتے ہوئے، اس کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے اس مجیب خدا کو پکارنے والے بنیں اور اس پر کامل ایمان لا کر اس کے حکموں پر عمل کریں اور ان لوگوں میں سے نہ بنیں جو مشکل کے وقت تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اور آسانی اور آسائش میں بھول جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم لوگ سمندر میں، پانی میں پھنسے ہوتے ہو تو پکارتے ہو، آہ وزاری کرتے ہو۔ جب وہ تمہیں خشکی میں لے آتا ہے تو پھر تم بھول جاتے ہو کہ خدا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔

’’یاد رکھو کہ یہ اسلام کا فخر اور ناز ہے کہ اس میں دعا کی تعلیم ہے۔ اس میں کبھی سستی نہ کرو اور نہ اس سے تھکو۔ پھر دعا خداتعالیٰ کی ہستی کا زبردست ثبوت ہے۔ چنانچہ خداتعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے {وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ۔ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ} (البقرۃ: 187) یعنی جب میرے بندے تجھ سے سوال کریں کہ خدا کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے؟ تو کہہ دو کہ وہ بہت ہی قریب ہے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اُسے جواب دیتا ہوں۔ یہ جو اب کبھی رؤیا صالحہ کے ذریعہ ملتا ہے اور کبھی کشف اور الہام کے واسطے سے۔ اور علاوہ بریں دعاؤں کے ذریعہ خداتعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا قادر ہے کہ مشکلات کو حل کر دیتا ہے۔ ‘‘ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ207جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پھر آپ ؑ نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

’’اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ خیریت سے رہو اور تمہارے گھروں میں امن رہے تو مناسب ہے کہ دعائیں بہت کرو اور اپنے گھروں کو دعاؤں سے پُر کرو۔ جس گھر میں ہمیشہ دعا ہوتی ہے خداتعالیٰ اسے برباد نہیں کیا کرتا۔ لیکن جو سستی میں زندگی بسر کرتا ہے اسے آخر فرشتے بیدار کرتے ہیں۔ اگر تم ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھو گے تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ بہت پکا ہے، وہ کبھی تم سے ایسا سلوک نہ کرے گا جیسا کہ فاسق فاجر سے کرتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد سوم صفحہ232جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :۔

’’دعا کرتے وقت بے دلی اور گھبراہٹ سے کام نہیں لینا چاہئے اور جلدی ہی تھک کر نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ اس وقت تک ہٹنا نہیں چاہئے جب تک دعا اپنا پورا اثر نہ دکھائے۔ جو لوگ تھک جاتے اور گھبرا جاتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں کیونکہ یہ محروم رہ جانے کی نشانی ہے۔ میرے نزدیک دعا بہت عمدہ چیز ہے اور میں اپنے تجربہ سے کہتا ہوں، خیالی بات نہیں۔ جو مشکل کسی تدبیر سے حل نہ ہوتی ہو اللہ تعالیٰ دعا کے ذریعہ اسے آسان کر دیتا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ دعا بڑی زبردست اثر والی چیز ہے۔ بیماری سے شفا اس کے ذریعہ ملتی ہے۔ دنیا کی تنگیاں مشکلات اس سے دور ہوتی ہیں۔ دشمنوں کے منصوبے سے یہ بچا لیتی ہے۔ اور وہ کیا چیز ہے جو دعا سے حاصل نہیں ہوتی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو پاک یہ کرتی ہے۔ اور خداتعالیٰ پر زندہ ایمان یہ بخشتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑا ہی خوش قسمت وہ شخص ہے جس کو دعا پر ایمان ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کو دیکھتا ہے۔ اور خداتعالیٰ کو دیکھ کر ایمان لاتا ہے کہ وہ قادر کریم خدا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ205جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ:۔

’’دعا ایک زبردست طاقت ہے جس سے بڑے بڑے مشکل مقام حل ہوجاتے ہیں اور دشوارگزار منزلوں کو انسان بڑی آسانی سے طے کر لیتا ہے۔ کیونکہ دعا اس فیض اور قوت کو جذب کرنے والی ہے جو اللہ تعالیٰ سے آتی ہے۔ جوشخص کثرت سے دعاؤں میں لگا رہتا ہے وہ آخر اس فیض کو کھینچ لیتا ہے اور خداتعالیٰ سے تائید یافتہ ہو کر اپنے مقاصد کو پا لیتا ہے۔ ہاں نری دعا خداتعالیٰ کا منشاء نہیں ہے بلکہ اوّل تمام مساعی اور مجاہدات کو کام میں لائے۔ ‘‘ یعنی کوشش کرنا ضروری ہے۔ عمل بھی کرنا ضروری ہے’’اور اس کے ساتھ دعا سے کام لے، اسباب سے کام لے۔ اسباب سے کام نہ لینا اور نری دعا سے کام لینا یہ آداب الدعا سے ناواقفی ہے اور خداتعالیٰ کو آزمانا ہے۔ اور نرے اسباب پر گر رہنا‘‘ صرف دنیاوی کوششیں کرتے رہنا’’اور دعا کو لاشی محض سمجھنا یہ دہریت ہے۔ ‘‘ یعنی خداتعالیٰ کا انکار ہے، مذہب سے دوری ہے۔ ’’یقینا سمجھو کہ دعا بڑی دولت ہے۔ جوشخص دعا کو نہیں چھوڑتا اس کے دین اور دنیا پر آفت نہ آئے گی۔ وہ ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہے جس کے ارد گرد مسلح سپاہی ہر وقت حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن جو دعاؤں سے لاپروا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو خود بے ہتھیار ہے اور اس پر کمزور بھی ہے اور پھر ایسے جنگل میں ہے جو درندوں اور موذی جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کی خیر ہرگز نہیں ہے۔ ایک لمحہ میں وہ موذی جانوروں کا شکار ہوجائے گا اور اس کی ہڈی بوٹی نظر نہ آئے گی۔ اس لئے یاد رکھو کہ انسان کی بڑی سعادت اور اس کی حفاظت کا اصل ذریعہ ہی یہی دعا ہے۔ یہی دعا اس کے لئے پناہ ہے اگر وہ ہر وقت اس میں لگا رہے۔ ‘‘ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ149-148جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پس ہم خوش قسمت ہیں، جیسے کہ مَیں نے کہا، کہ زمانے کے امام نے دعا کی فلاسفی کو کھول کر ہمار ے سامنے رکھا اور واضح فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی صفت مجیب کا صحیح فہم و ادراک عطا فرمایا۔ پس آج ہم نے نہ صرف اپنی بقا کے لئے، اپنی ذات کی بقا کے لئے، اپنے خاندان کی بقا کے لئے، جماعت احمدیہ کی ترقیات کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہے بلکہ امت مسلمہ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر پوری انسانیت کی بقا کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ کرنی ہے جس کی آج بہت ضرورت ہے۔ پس ہر احمدی کو ان دنوں میں (ان دنوں سے میری مراد ہے ہمیشہ ہی) اور آج کل خاص طور پر جب حالات بڑے بگڑ رہے ہیں، بہت زیادہ اپنے رب کے حضور جھک کر دعائیں کرنی چاہئیں۔ مضطر کی طرح اسے پکاریں۔ بے قرار ہوکر اسے پکاریں۔ آج امت مسلمہ جس دور سے گزر رہی ہے اور مسلمان ممالک جن پریشانیوں میں مبتلا ہیں اس کا حل سوائے دعا کے اور کچھ نہیں۔ اور دعا کے اس محفوظ قلعے میں جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذکر فرمایا آج احمدی کے سوا اور کوئی نہیں۔ پس امت مسلمہ کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اندرونی اور بیرونی فتنوں سے نجات دے۔ ان کو اس پیغام کو سمجھنے کی توفیق دے جو آج سے چودہ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم امت کو دیا تھا۔ یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا سے ظلم ختم کرے۔ انسان اپنے پیدا کرنے والے خدا کی طرف رجوع کرے۔ اسے پہچان کر اپنی ضدوں اور اناؤں کے جال سے باہر نکلے۔ خداتعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کو آواز نہ دے بلکہ اس کی طرف جھکے۔ اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو سمجھنے والاہو، اس بات کو سمجھنے والا ہو کہ میری طرف آؤ، خالص ہو کر مجھے پکارو تاکہ میں تمہاری دعاؤں کو سن کر اس دنیا کو جس کو تم سب کچھ سمجھتے ہو، جو کہ حقیقت میں عارضی اور چند روزہ ہے، تمہارے لئے امن کا گہوارہ بنا دوں تاکہ پھر نیک اعمال کی وجہ سے تم لوگ میری دائمی جنت کے وارث بنو۔

جیسا کہ مَیں نے کہا ہم احمدی تو صرف دعا ہی کر سکتے ہیں اور درد دل کے ساتھ ظالم اور مظلوم دونوں کے لئے دعا کر سکتے ہیں اور اپنے خدا سے یہ عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ اس امت پر رحم فرما اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے کے صدقے رحم فرماتے ہوئے ان لوگوں کو عقل اور سمجھ عطا فرما، ان کو دوست اور دشمن کی پہچان کی توفیق عطا فرما، ان کو اس زمانے کے امام کو پہچاننے کی توفیق عطا فرما۔

پھر جیسا کہ مَیں نے کہا اس دنیا کیلئے، انسانیت کیلئے بھی دعا کریں۔ دنیا بڑی تیزی سے اپنی اَناؤں اور ضدوں کیوجہ سے تباہی کے گڑھے کی طرف جا رہی ہے۔ اپنے خدا کو بھلا چکی ہے اور نتیجۃً اللہ تعالیٰ کے غضب کو آواز دے رہی ہے۔ ظلم اتنا بڑھ چکا ہے کہ اسے انصاف کا نام دیا جارہا ہے، اللہ ہی ان لوگوں پر رحم کرے۔

پہلے بھی مَیں نے کہا ہے اپنے لئے بھی اور جماعت کے لئے بھی بہت دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ احمدیت کے مخالفین اور دشمنوں کو ناکام و نامراد کر دے۔ جیسا کہ ہمیشہ سے الٰہی جماعتوں سے ہوتا آیا ہے کہ مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ تو چلتا چلا جائے گا اور یہ ہوتا رہا ہے تبھی ترقیات بھی ہوتی ہیں۔ یہ بھی ایک سچائی کی دلیل ہے کہ جب دلیل دوسرے کے پاس نہ ہو تو پھر وہ سختیاں کرتا ہے۔ تو ان مخالفتوں سے نہ تو احمدی ڈرتے ہیں اور نہ انشاء اللہ ڈریں گے۔ یہی چیز ایمان میں ترقی اور جماعت کی ترقی کا باعث بنتی ہے اور یہ مخالفتیں ہمیشہ کھاد کا کام دیتی ہیں لیکن اس مخالفت کی وجہ سے مخالفین کا جو بدانجام ہونا ہے، انسانی ہمدردی کے ناطے ہم ایسے لوگوں کے لئے بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے اور یہ اپنے بد انجام سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے اس سے بچ سکیں۔ اور اپنے لئے بھی یہ دعا کرنی چاہئے کہ ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کی وجہ سے ہم اللہ تعالیٰ کے ان انعاموں سے محروم نہ رہ جائیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقدر فرمائے ہوئے ہیں۔ دشمن کا ہر شر اور ہر کوشش ہمارے ایمان میں ترقی اور خیر کے سامان لانے والی ہو۔ ہم میں سے ہر ایک استقامت دکھانے والا ہو۔ ہماری نیک تمنائیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے قبولیت کا درجہ پانے والی ہوں اور اس کی وجہ سے ہم اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی تمام ان نیک صفات کی پناہ میں لے لے جن کا ہمیں علم ہے یا نہیں اور اپنی مخلوق کے ہرشر سے ہمیں بچائے۔ آمین

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا:-

ایک دعا کے لئے بھی مَیں کہنا چاہتا ہوں۔ پروگرام کے مطابق اس ہفتے میں امریکہ کے سفر کا انشاء اللہ تعالیٰ ارادہ ہے، لیکن ائیرپورٹس پر کل کے جو واقعات ہوئے ہیں، ان کی وجہ سے بعض لوگوں کو بڑی فکر بھی ہے۔ تو بہرحال دعا کریں، ہمارا تو ہر کام میں دعا پر انحصار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر بابرکت سفر ہو گا تو انشاء اللہ تعالیٰ جو بھی روکیں ہوں گی اللہ تعالیٰ دور فرما دے گا۔ اور ہر لحاظ سے بابرکت ہونے کے لئے دعا کریں۔ کسی قسم کی کوئی ایسی بات نہ ہو جو شماتت ِاعداء کا باعث بنے۔ امریکہ والے بھی سوچ سمجھ کر جذبات سے بالا ہو کر پھر مجھے مشورہ دیں۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 11؍ اگست 2006ء شہ سرخیاں

    زمانے کے امام کے ساتھ چمٹنے سے اللہ تعالیٰ ان ماننے والوں کو بھی ہر ایک کے اپنے تعلق کے معیار کے مطابق جو اس کا خداتعالیٰ سے ہے، اپنی صفات کے جلوے دکھاتا ہے۔

    فرمودہ مؤرخہ 11؍ اگست 2006ء (11؍ ظہور 1385ھش) مسجد بیت الفتوح، لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور