اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں بلکہ وہ سب قوموں کا ربّ ہے

خطبہ جمعہ 8؍ دسمبر 2006ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

للہ تعالیٰ جو ربُّ العالمین ہے اُس کی صفت ربوبیت ایک تو عام ہے جس سے ہر انسان، چرند، پرند بلکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اور ہر ذرّہ فیض پا رہا ہے۔ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’ ربُّ العالمین کیسا جامع کلمہ ہے اگر ثابت ہو کہ اجرام فلکی میں آبادیاں ہیں تب بھی وہ آبادیاں اس کلمہ کے نیچے آئیں گی‘‘۔ (کشتی ٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد 19صفحہ42حاشیہ)

پھر آپؑ فرماتے ہیں : ’’اور یہ کہہ کر حقیقت سے ہمیں خبر دے دی کہ وہ ربُّ العالمین ہے یعنی جہاں تک آبادیاں ہیں اور جہاں تک کسی قسم کی مخلوق کا وجود موجود ہے خواہ اجسام خواہ ارواح ان سب کا پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا خدا ہے‘‘۔ یعنی چاہے مادی جسم ہو، چاہے روح ہو، اس کا پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا خدا ہے۔ ’’ جو ہر وقت ان کی پرورش کرتا اور ان کے مناسب حال ان کا انتظام کر رہا ہے اور تمام عالموں پر ہر وقت، ہر دم اس کا سلسلۂ ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور جزا سزا کا جاری ہے‘‘۔ (کشتی ٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد 19صفحہ42-41حاشیہ)

تو یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عام فیض ہے جو ہر چیز کے حصے میں آ رہا ہے یا ہر چیز اس سے فیض پا رہی ہے، حصہ لے رہی ہے، لیکن اس کی ربوبیت کا ایک امتیازی سلوک اُن لوگوں سے ہے جو خداتعالیٰ کے خاص بندے ہیں اور ان میں سب سے اوّل نمبر پر انبیاء علیہم السلام ہیں اور انبیاء میں سے سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آج مَیں اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں کے بعض واقعات کا ذکر کروں گا جو اللہ تعالیٰ کے خاص سلوک کے حصہ دار بنے اور جیسا کہ مَیں نے کہا اللہ تعالیٰ کے تمام انعاموں کی طرح صفت ر بوبیت سے بھی سب سے بڑھ کر فیض پانے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ مَیں چند واقعات یہاں بیان کروں گا جن سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ آپؐ کی خواہشات اور ضرورتوں کو پورا فرمایا کرتا تھا اور نہ صرف براہ راست آپؐ بلکہ آپ کی وجہ سے آپ کے صحابہ بھی اُن انعاموں سے حصہ لیتے تھے جو صفت ربوبیت کے تحت اللہ تعالیٰ آپ پر فرماتا تھا۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پیدائش کے وقت سے، بلکہ اس سے بھی پہلے سے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا ایک روشن نشان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر لمحہ ربِّ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جلووں کی شان دکھانے والا ہے جس کا بیان نہ کسی طرح سمیٹا جا سکتا ہے، نہ ختم ہو سکتا ہے۔ اس میں روحانی معجزات کے جلوے بھی ہیں جن سے خداتعالیٰ کی صفت ربوبیت کا پتہ چلتا ہے اور ظاہری مادی معجزات بھی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح خداتعالیٰ اپنے پیارے کے ساتھ اپنی صفت کا اظہار فرمایا کرتا تھا۔

سب سے پہلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ میں ربوبیت کے ایک عظیم روحانی جلوے کا ذکر کرتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’ربّ العالمین کی صفت نے کس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں نمونہ دکھایا۔ آپؐ نے عین ضعف میں پرورش پائی۔ کوئی موقع مدرسہ، مکتب نہ تھا جہاں آپؐ اپنے روحانی اور دینی قویٰ کونشوونما دے سکتے۔ کبھی کسی تعلیم یافتہ قوم سے ملنے کا موقع ہی نہ ملا۔ نہ کسی موٹی سوٹی تعلیم کا ہی موقع پایا اور نہ فلسفہ کے باریک اور دقیق علوم کے حاصل کرنے کی فرصت ملی۔ پھر دیکھو کہ باوجود ایسے مواقع کے نہ ملنے کے قرآن شریف ایک ایسی نعمت آپؐ کو دی گئی جس کے علوم عالیہ اور حقہ کے سامنے کسی اور علم کی ہستی ہی کچھ نہیں۔ جو انسان ذرا سی سمجھ اور فکر کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھے گا اس کو معلوم ہو جاوے گا کہ دنیا کے تمام فلسفے اور علوم اس کے سامنے ہیچ ہیں اور سب حکیم اور فلاسفر اس سے بہت پیچھے رہ گئے ‘‘۔ (الحکم 17؍اپریل 1900ء صفحہ 3۔ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام جلد نمبر 1صفحہ171)

تو دیکھ لیں جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے قرآن کریم زندہ کتاب تھی، اُس وقت اور اُن حالات کے مطابق اُن لوگوں کے لئے نصیحت تھی، اُن کے سوالوں اور اُن کی ضروریات کو پورا کررہی تھی، آج اِس زمانے میں جب انسان کے سامنے نئے نئے مضامین اور ایجادات ہیں تو اس بارے میں بھی یہ کتاب خبر دے رہی ہے اور یہ سب معجزے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کسی دنیاوی علم اور فلسفے کو جاننے والے کا کام نہیں ہے بلکہ اس ربّ العالمین کا کام ہے جس نے پہلے دن سے ہی آپؐ کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔ آپ کے اٹھنے بیٹھنے، آپؐ کے مزاج، آپ کی تربیت کی انفرادیت اس زمانے میں بھی ہر ایک کو نظر آتی تھی۔ یہ سب تربیت کسی اکیڈمی کی یا کسی ادارے کی یا کسی شخص کی مرہون منت نہیں تھی بلکہ یہ تربیت، یہ سب ٹریننگ براہ راست اس ربّ العالمین کا کام تھا۔ تو آپؐ کے اِن سب علوم کو نہ جاننے بلکہ پڑھنا تک نہ جاننے کی گواہی قرآن کریم نے دی ہے۔

پہلی وحی پر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مَااَنَابِقَارِیٍٔ کہ مَیں تو پڑھنا نہیں جانتا، تو فرشتے نے تین دفعہ اپنے ساتھ لگا کر بھینچا لیکن ہر دفعہ آپ کا یہی جواب ہوتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما ئی اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ (العلق:2) اپنے ربّ کا نام لے کر پڑھ جس نے سب اشیاء کو پیدا کیا ہے۔ اور پھر دیکھ لیں اس ربّ نے، جس نے زمین و آسمان کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے، آپؐ کے ذریعہ سے علوم و معرفت کے وہ خزانے ہم تک پہنچائے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اور معترضین، جن میں آج کے پوپ بھی شامل ہو گئے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ قرآن نے نیا کیا دیا؟ اس پہلی وحی میں ہی اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ذریعہ سے یہ اعلان فرما دیا تھا کہ ربّ کا تصور تو ہر مذہب میں ہے لیکن ہر مذہب نے اس میں بگاڑ پیدا کر لیا ہے اور اس ربّ کے تصور کو بگاڑنے کے بعد چھوٹے چھوٹے ربّ پیدا کر لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس بندے کے ذریعہ سے ربّ کی پہچان کرو جس کی ہر بات کا آغاز ہی اپنے ربّ کے نام کے ساتھ ہوتا ہے جو خالصتاً میری پرورش میں پروان چڑھا ہے اور اس کے علوم و معرفت کے کمالات کا منبع بھی مَیں ہی ہوں۔ لیکن جنہوں نے ظلم پر ہی کمر کس لی ہو اور جہالت اور بغض اور عناد ان کا شیوہ ہو ان کو کچھ نظر نہیں آتا کہ کیا نئی چیز دی۔ قرآن نے پہلے ہی اس کا اعلان فرما دیا ہے کہ یہ جوتعلیم ہے ان کی سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ ایسے لوگوں کو اس دشمنی کی وجہ سے قرآن کریم کے نشانات اور آیات بجائے فائدہ دینے کے اور اس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ان کو خسارے میں بڑھائیں گے۔ پس یہ ان کی قسمت ہے۔

بہرحال ربوبیت کے اس عظیم اظہار کے ذکر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روزمرہ زندگی میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے جو نظارے ہمیں نظر آتے ہیں، اس کا مَیں ذکر کرتا ہوں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ بیان تو کبھی ختم نہیں ہو سکتا تاہم چند واقعات پیش کرتا ہوں۔ ایک سفر کاواقعہ ہے جس کے دوران ایک قافلے نے ایک جگہ پڑاؤ کیا لیکن سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے فجر کی نماز کے لئے وقت پر کسی کی آنکھ نہیں کھلی، ساروں کی آنکھ دیر سے کھلی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں سے کوچ کرو، یہاں نہیں ٹھہرو۔ پھرکچھ فاصلے پر جا کر وضو وغیرہ کرکے نماز پڑھی گئی۔ ا س کے بعد ایک صحابی نے پیاس کی شکایت کی کہ پیاس لگ رہی ہے، وہاں پانی کی کمی تھی۔ آپؐ نے اپنے دو ساتھیوں کو پانی لینے کے لئے بھیجا۔ اس واقعہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا انتظام فرمائے جو اپنوں کے ایمان میں بھی اضافے کا باعث بنے اور غیر کو بھی حیران کر گئے۔ یہ ایک لمبی حدیث ہے، پہلے حصے کو چھوڑ کرمَیں اتنا حصہ لیتا ہوں۔ یہ لکھا ہے کہ لوگوں نے آپؐ کے پاس پیاس کی شکایت کی، آپؐ اترے اور کسی شخص کو آواز دی اور حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا کہ تم دونوں جاؤ اور پانی ڈھونڈ کر لاؤ۔ اس پر وہ دونوں چل پڑے اور ایک عورت کو اپنے اونٹ پر سوار پانی کے دو مشکیزوں یا دو پکھالوں کے درمیان بیٹھے ہوئے دیکھا اور انہوں نے اس سے پوچھا کہ پانی کہاں ہے؟ تو اس نے کہا مَیں نے کل اس وقت وہاں پانی دیکھا تھا اور ہمارے آدمی اب پیچھے ہیں۔ دونوں نے اس کو کہا کہ چلو۔ اس نے پوچھا کہاں ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ وہ عورت مسلمان نہیں تھی، کہنے لگی وہی جسے صابی کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہاں وہی ہے، بہرحال تم چلو۔ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئے اور آپؐ کو سارا واقعہ بتایا۔ حضرت عمرانؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کو اس کے اونٹ سے نیچے اتارا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور اس میں ان دو مشکیزوں کے دہانوں سے پانی ڈالا اور ان کے اوپر کے دہانوں کے منہ تسموں سے، ڈوری سے بند کر دئیے جس طرح پہلے بند تھے اور نیچے کے دہانے چھوڑ دئیے اور لوگوں میں اعلان کر دیا کہ پانی لے لو، پیو بھی اور پلاؤ بھی، وہ کہتے ہیں جس نے جتنا چاہا پانی پیا اور پلایا۔

آگے اس کا بیان ہے اس پانی کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا تھا، اتنی فراونی سے اس پانی کو خرچ کیا جا رہا تھا کہ وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی کہ مَیں ایک دن کی مسافت سے پانی لے کے آئی ہوں پتہ نہیں اب میرے پانی کا کیا بنے گا۔ لیکن کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ان مشکیزوں سے لوگ ایسی حالت میں ہٹے کہ ہمیں معلوم ہوتا تھا کہ وہ اُس وقت سے بھی زیادہ بھری ہوئی ہیں، یعنی جب وہ عورت پانی کی وہ مشکیں لے کر آ رہی تھی تو یہ سب پانی نکالنے کے بعد بھی بجائے اس کے کہ اس کی پانی کی مشکیں خالی ہوتیں دیکھنے والے کہتے ہیں کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ بھری ہوئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کے لئے کچھ اکٹھا کرو۔ کہتے ہیں کہ اس کے لئے خشک کھجوریں اور کچھ آٹا اور کچھ ستو وغیرہ اکٹھے کئے گئے یہاں تک کہ اس کے لئے بہت ساری خوراک جمع ہو گئی۔ اس عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کیا اور ایک کپڑے میں ڈال کر وہ کپڑا اس کے سامنے رکھ دیا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم جانتی ہو ہم نے تمہارے پانی سے کچھ بھی کم نہیں کیا لیکن اللہ ہی ہے جس نے ہمیں پلایا۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئی اور کسی نے اس سے پوچھا کہ اے فلانی تجھے کس چیز نے روکا تھا؟ کہنے لگی عجیب بات ہوئی ہے۔ مجھے دو آدمی ملے اور مجھے اس شخص کے پاس لے گئے جس کوصابی کہتے ہیں اور اس نے اللہ کی قسم ایسا ایسا کیا اور وہ اِس اور اُس یعنی اس نے زمین وآسمان کی طرف اشارہ کیا، کے درمیان تمام لوگوں سے بڑھ کر جادوگر ہے۔

تو دیکھیں اس بیابان میں جہاں دُور دُور تک پانی کا نشان نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے اس عورت کو بھیج کر ان سب کیلئے پانی کا انتظام فرمایا۔ تو یہ ہے اسلام کا ربّ جو حاجت کو پورا کرتا ہے۔ پیاسوں کی پیاس بجھائی۔ بظاہر اس عورت کو ایک ذریعہ بنایا تھا کہ قانون قدرت بھی استعمال ہو لیکن اس پانی میں اتنی برکت ڈالی کہ اسکے پانی کے مشکیزوں میں کمی کا کیا سوال ہے، پانی پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا جس نے اس عورت کو بھی حیران کر دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کوبتا دیاکہ یہ نہ سمجھو کہ ہمیں پانی مہیا کرنے والی تم ہو، نہ یہ سمجھو کہ ہم نے ظلم سے تمہارا پانی چھین لیا ہے۔ یہ ایک ظاہری ذریعہ تھا جس کو ایک مومن انسان کو استعمال کرنا چاہئے ورنہ ہمیں پالنے والا اور ہماری ضروریات کو پورا کرنے والا ہمارا ربّ ہے جس نے ہمیں بھی پانی پلایا اور تمہیں بھی کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی۔ اس نے اس بات پر حیران ہو کر اپنے گھر والوں کو بتا دیا تھا کہ وہ ایک بہت بڑا جادو گر ہے لیکن اس کو کیا پتہ تھا کہ یہ جادو نہیں، یہ تو ربّ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے بندے اور اس کے ساتھیوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اپنی ربوبیت کا اظہار تھا۔

اور پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرے بندے میری صفات کا رنگ اختیار کریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کون اس میں رنگین ہو سکتا تھا۔ آپؐ نے اس عورت کے پانی میں کمی نہ ہونے کے باوجود بلکہ زیادتی کے باوجود اس کی اس خدمت کی وجہ سے اس کے لئے کھانے کا سامان جمع کروایا جو اس کے اونٹ پرلاد دیا۔ یہ بھی احسان تھا جو صفت ربوبیت کی وجہ سے ہی آپؐ نے کیا تھا۔ تو یہ عورت اُن مسلمانوں کو پانی پلا کر یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی پلا کر اللہ تعالیٰ کے احسان سے بھی حصہ لے گئی کہ پانی میں کوئی کمی نہ ہوئی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان سے بھی حصہ لے گئی۔

پھر ایک واقعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے جس کو مختلف صفات کے ساتھ، مختلف رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اظہار ہے۔ جیسا کہ مَیں پہلے بتا چکا ہوں کہ ربّ کا ایک مطلب غریب کی بھوک ختم کرنے والے کا بھی ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل ہم ابوہریرہ ؓ سے ہی سنتے ہیں۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ابتدائی ایّام میں بھوک کی وجہ سے مَیں اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا یا زمین سے لگاتا تاکہ کچھ سہارا ملے۔ ایک دن میں ایسی جگہ پر بیٹھ گیا جہاں سے لوگ گزرتے تھے۔ میرے پاس سے حضرت ابوبکر ؓ گزرے۔ مَیں نے ان سے ایک آیت کا مطلب پوچھا۔ میری غرض تھی کہ مجھے کھانا کھلائیں گے مگر وہ آیت کا مطلب بیان کرکے گزر گئے۔ پھر حضرت عمر ؓ سے پوچھا وہ بھی اسی طرح گزر گئے۔ کہتے ہیں اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو آپؐ سے بھی اس آیت کا مطلب پوچھا۔ آپ نے تبسم فرمایا۔ میری حالت دیکھی، مسکرائے اور میرے دل کی کیفیت کو بھانپ لیا۔ آپؐ نے بڑے مشفقانہ انداز میں فرمایا کہ اے ابوہریرہ! مَیں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ آپؐ نے فرمایا میرے ساتھ آؤ۔ مَیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر پہنچے اور اندر جانے لگے تو کہتے ہیں مَیں نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ آپؐ کی اجازت سے اندر چلا گیا۔ آپ اندر گئے تو دیکھا کہ وہاں دُودھ کا ایک پیالہ پڑا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ دُودھ کہاں سے آیا ہے؟ گھر والوں نے بتایا کہ فلاں شخص یا فلاں عورت تحفہ دے گئی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو ہریرہ ! کہتے ہیں مَیں نے کہا یا رسول اللہ! مَیں حاضر ہوں۔ آپؐ نے فرمایا سب صُفّہ میں رہنے والوں کو بلا لاؤ۔ یہ لوگ اسلام کے مہمان تھے اور ان کا نہ کوئی گھر بار تھانہ کاروبار۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کا مال آتا تو ان کے پاس بھیج دیتے اور خود کچھ نہ کھاتے اور اگر کہیں سے تحفہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صُفّہ والوں کے پاس بھی بھیجتے اور خود بھی کھاتے۔ تو بہرحال کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ مَیں ان کو بلا لاؤں، مجھے بڑا ناگوار گزرا، ایک پیالہ دودھ کا ہے اور یہ سارے آ جائیں گے تو یہ کس کس کے کام آئے گا۔ مَیں سب سے زیادہ ضرورت مند ہوں تاکہ پی کر مجھے کچھ طاقت ملے، لیکن بہرحال حضور کا ارشاد تھا تو میں بلا لایا۔ پھر کہتے ہیں کہ سب لوگ آ گئے اور اپنی اپنی جگہ پر جب بیٹھ گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ باری باری یہ پیالہ سب کو پکڑا تے جاؤ۔ کہتے ہیں تب مَیں نے دل میں خیال کیا کہ اب تو یہ دودھ مجھے نہیں مل سکتا۔ بہرحال کہتے ہیں مَیں پیالے کو ہر آدمی کے پاس لے جاتا رہا، سارے اچھی طرح سیر ہو کر پیتے رہے، آخر میں پیالہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپؐ نے میری طرف دیکھا اور مسکرا کے فرمایا کہ اباھرّ! مَیں نے کہا یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا اب تو صرف ہم دونوں رہ گئے ہیں۔ مَیں نے کہا حضور ٹھیک ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ بیٹھو اور خوب پیو، جب مَیں نے بس کیا تو فرمایا ابوہریرہ اور پیو۔ مَیں پھر پینے لگا۔ جب مَیں پیالے سے منہ ہٹاتا تو آپ فرماتے ابوہریرہ اور پیو، جب اچھی طرح سیر ہو گیا تو عرض کیا کہ جس ذات نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے اس کی قسم اب تو بالکل گنجائش نہیں۔ چنانچہ مَیں نے پیالہ آپ کو دے دیا۔ آپؐ نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد کی پھر بسم اللہ پڑھ کر دُودھ نوش فرمایا۔ (بخاری کتاب الرقاق باب کیف کان عیش النبی صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ وتخلیھم من الدنیا)

تو یہ ہے ربّ، جو ربّ العالمین بھی ہے جس نے ظاہری اسباب کے قانون کے تحت ایک دودھ کا پیالہ مہیا فرمایا اور پھر اس میں اتنی برکت ڈالی کہ وہ کئی بھوکوں کی بھوک ختم کرنے کے کام آ گیا۔

پھرایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے بغیر روزہ رکھنے سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ تو سحری کے بغیر روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تم میں سے کون میری مانند ہے، میرا ربّ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ بعض مواقع ایسے آتے ہوں گے کہ بھوک کا احساس اس طرح نہیں ہوتا۔ مگر جب لوگ سحری کے بغیر روزے سے باز نہ آئے تو آپ نے ایک دن ان کے ساتھ سحری کے بغیر روزہ رکھا، پھر ایک اور روزہ رکھا، پھر جب لوگوں نے چاند دیکھا تو حضورؐ نے فرمایا اگر چاند نظر نہ آتا تو مَیں کئی دن تک تمہارے لئے اسی طرح روزہ رکھتا جاتا۔ گو یا ان لوگوں کے باز نہ آنے کی وجہ سے سزا کے طورپر اور یہ بتانے کے لئے فرمایا کہ تمہاری استعدادیں میرے برابر نہیں ہو سکتیں، مَیں تو اللہ کا نبی ہوں۔ (بخاری کتاب الصوم باب التفکیل لمن اکثرالوصال)

اس زمانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کے غلام صادق کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ سلوک فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چھ ماہ مسلسل روزے رکھے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’ ایک دفعہ ایّام جوانی میں ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کرکے کہ کسی قدر روزے انوارِ سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے‘‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا جونور ہے اس سے حصہ پانے کے لئے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے روزے رکھنا بھی سنت نبوی ہے، انبیاء کی سنت ہے۔ ’’اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مَیں یہ سنت اہل بیت اور رسالت کو بجا لاؤں ‘‘۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’اس دوران مجھ پر عجیب عجیب مکاشفات کھلے۔ کئی سابقہ انبیاء اور اولیاء سے ملاقاتیں ہوئیں۔ عین بیداری کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت حسین ؓ، حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کو دیکھا‘‘۔ پھر فرماتے ہیں کہ’’ جب مَیں نے چھ ماہ کے روزے رکھے تو ایک طائفہ، ایک وفد انبیاء کا مجھے ملا اور انہوں نے کہا کہ تم نے کیوں اپنے نفس کو مشقت میں ڈالا ہوا ہے اس سے باہر نکل‘‘۔ تو فرماتے ہیں کہ’’ جب اس طرح انسان اپنے آپ کو خدا کی راہ میں مشقت میں ڈالتا ہے تو وہ ماں باپ کی طرح رحم کرکے اسے کہتا ہے کہ تو کیوں مشقت میں پڑا ہے‘‘۔ تو اس طرح اپنے بندے کا خیال کرنا بھی صفت ربّ کا ہی فیض ہے۔ بہرحال انبیاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا علیحدہ سلوک ہے، اس کا سب سے زیادہ اظہار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ہوا اور پھر ہر ایک کے ساتھ اپنے اپنے لحاظ سے ہوتا ہے۔

اِن روزوں کے دنوں میں حضرت مسیح موعود ؑ کی خوراک چند لقمے تھے بلکہ لکھا ہے کہ چند تولے خوراک ہو گئی۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے آقا کی غلامی میں آپ کو یہ جلوہ دکھا رہا تھا لیکن ہر کوئی یہ نہیں کر سکتا۔ عام مسلمانوں کے لئے تکلیف مالا یطاق تھی، طاقت سے باہر تھی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیرسحری کھانے کے روزہ رکھنے سے خود ہی روکا تھا۔

پھر ایک واقعہ جو معجزے میں بیان کیا جاتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کے تحت ہی ہے۔ جب جنگ میں بھوکوں کو کھانا کھلایا اور ایک ہزار صحابہ ؓ نے کھانا کھایا۔ جنگ خندق کے موقع پر جب ایک صحابی نے گھر جا کر اپنی بیوی سے پوچھا کہ گھر میں کچھ کھانے کو ہے؟ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت دیکھی ہے۔ بھوک سے بہت تکلیف والی حالت تھی میرے سے برداشت نہیں ہو سکی۔ تو اس نے کہا کہ چھوٹی سی بکری ہے اور کچھ تھوڑا سا آٹا ہے۔ تو انہوں نے بکری ذبح کرکے دی کہ اس کو پکاؤ اور آٹا گوندھو مَیں بُلا کے لاتا ہوں۔ ان کا نام جابر تھا۔ کہتے ہیں مَیں گیا اور بڑی آہستگی سے تاکہ کوئی اور نہ سن لے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ میرے پاس کچھ گوشت اور جَو کا آٹا ہے، ان کے پکانے کے لئے میں اپنی بیوی سے کہہ آیا ہوں، آپ اپنے چند اصحاب کے ساتھ تشریف لے چلیں اور کھانا کھا لیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ارد گرد دیکھا اور آواز دی کہ سب انصار اور مہاجرین میرے ساتھ چلو، کھانا کھا لو، جابر نے ہماری دعوت کی ہے۔ تو کہتے ہیں اس پر تقریباً ایک ہزار لوگ جن کا فاقے سے برا حال تھا، وہ صحابی آپ ؐ کے ساتھ ہو گئے۔ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور اپنی بیوی سے کہنا کہ جب تک مَیں نہ آ جاؤں ہانڈی چولہے سے نہیں اتارنی اور روٹیاں بھی پکانی شروع نہیں کرنی۔ انہوں نے اپنی بیوی کو جا کے اطلاع کی تو انہوں نے کہا اب کیا ہو گا؟ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچتے ہی بڑے اطمینان سے جہاں کھانا پک رہا تھا ہانڈی اور آٹے پر دعا فرمائی۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ روٹیاں پکانی شروع کر دو اور اس کے بعد آپؐ نے آہستہ آہستہ کھانا تقسیم کرنا شرو ع کر دیا۔ جابر کہتے ہیں کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس کھانے میں سب لوگ سیر ہو کر اٹھ گئے اور ابھی ہماری ہنڈیا اُسی طرح ابل رہی تھی اور آٹااسی طرح پک رہا تھا۔ (بخاری کتاب المغازی حالات غزوہ احزاب وفتح الباری جلد 7صفحہ307-304)

تو اللہ تعالیٰ کا یہ عجیب سلوک ہے، ظاہری سامان تو پیدا فرمائے لیکن جیسا کہ صفت ربّ کے یہ معنے ہیں کہ بھوکے کو کھانا کھلانا، ضرورت پوری کرنا، حاجتیں پوری کرنا وہ اس ذریعہ سے، معمولی سی دنیاوی مدد کے ساتھ اپنے جلوے دکھاتا گیا۔

جیسا کہ مَیں نے پہلے بتایا ہے اللہ تعالیٰ کا بندوں کو یہ بھی حکم ہے کہ تم میرے رنگ میں رنگین ہو۔ میری صفات اپنانے کی کوشش کرو اور اللہ کے بندے ایک دوسرے کا بھی خیال رکھیں۔ اس سے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ٹھہرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’ خدا کی ربوبیت یعنی نوع انسان اور غیر انسان کا مربی بننا اور ادنیٰ سے ادنیٰ جانور کو بھی اپنی مربیانہ سیرت سے بے بہرہ نہ رکھنا یہ ایک ایسا امر ہے اگر ایک خدا کی عبادت کا دعویٰ کرنے والا خد اکی اس صفت کو محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کو پسند کرتا ہے، یہاں تک کہ کمال محبت سے اس الٰہی سیرت کا پرستار بن جاتا ہے تو ضروری ہوتا ہے کہ وہ آپ بھی اس صفت اور سیرت کو اپنے اندر حاصل کر لے تاکہ اپنے محب کے رنگ میں آ جائے‘‘۔ (اشتہارواجب الاظہار۔ مورخہ4؍نومبر 1900ء۔ مشمولہ تریاق القلوب۔ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ186)

یہاں جوحضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ انسان اور غیر انسان کا مربی بننا اور اپنی مربیانہ سیرت سے بے بہرہ نہ رکھنا یہ انسان کا کام ہے۔ یہاں مربی سے مراد صرف تربیت کرنے والا نہیں جو عام معنے رائج ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرپرست اور پرورش کرنے والا بننا۔ تو یہ فہم و ادراک کہ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہونا ہے اور تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہ کا نمونہ بننا ہے صحابہ میں بہت زیادہ تھا اور ہر ایک اپنے اپنے علم کے مطابق اس پر عمل کیا کرتا تھا۔

روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اپنے عزیزو ں کی بہت مدد کیا کرتے تھے۔ اس میں ایک مِسطح بن اثاثہ بھی تھا۔ جب اِفک کا واقعہ ہوا تو اس نے بھی حضرت عائشہ ؓ کے متعلق غلط باتیں کیں۔ لوگوں میں وہ باتیں پھیلائیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ کی وحی کے بعد حضرت عائشہ ؓ کی بریت ثابت ہو گئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے قسم کھائی کہ اب مَیں کبھی بھی اس کی مدد نہیں کروں گا۔ جب قسم کھالی تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی کہ وَلَایَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْآ اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُھٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَاتُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَاللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (النور:23) اور تم میں سے صاحبِ فضیلت اور صاحبِ توفیق اپنے قریبیوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں۔ پس چاہئے کہ معاف کر دیں اور در گزر کریں۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والااور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے بعد پھر وظیفہ جاری فرما دیا اور یہ عہد کیا کہ مَیں وظیفہ کبھی بند نہیں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا نمونہ اور فوری ردّ عمل اور اس کی تعلیم کا یہ عرفان ہے کہ فوری طور پر اُس قسم کو توڑ دیا جس کا توڑنا کوئی گناہ نہیں۔ جو قسم اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کھائی جائے اس کو توڑنا جائز اور ضروری ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اُس کی ربوبیت کے تحت جو تمہارے ساتھ سلوک ہو رہاہے، انسانوں سے سلوک ہو رہاہے، جس میں رحم بھی ہے بخشش بھی ہے اور بہت سے دوسرے فیض بھی ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے لئے تمہیں بھی ان کو اختیار کرنا چاہئے اور کسی بھی چیز کے خلاف دلوں میں کینے پیدا نہیں ہونے چاہئیں۔ ضرورت مند کی ضرورت پوری ہونی چاہئے۔ یہ نہیں کہ فلاں آدمی ایسا ہے، فلاں عہدیدار کے ساتھ صحیح تعلقات نہیں ہیں یا فلاں بات فلاں کو غلط کہہ دی ہے تو اس کو اگر ضرورت بھی ہے تو اس کی مدد نہیں کرنی۔ اس کی ضرورت پوری کرنا، اس کی مدد کرنا، اس کی بھوک مٹانا ایک علیحدہ چیز ہے اور انتظامی معاملات اور ان پہ ایکشن (Action) لینا ایک علیحدہ چیز ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اختیار کرنے کے بعد یا ایسا کام کرنے کے بعد جو اللہ تعالیٰ کی صفت بھی ہے ایک بندہ، بندہ ہی رہتا ہے اور ربّ کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ بعض دفعہ بعض لوگوں کو خیال ہوتا ہے کہ ہم جن کی ضروریات پوری کر رہے ہیں شاید ان کے ربّ بن گئے ہیں۔ وہ بہرحال بندہ ہے پس ایک تو یہ کہ اس کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق نرمی کا سلوک کرنا چاہئے، دوسرے آپ نے اس حد تک احتیاط کی کہ فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے غلام کو بھی عَبْدِیْ یعنی اے میرے بندے، کہہ کر نہ پکارے کیونکہ تم سب اللہ کے بندے ہو بلکہ یہ کہے کہ اے میرے غلام اور نہ ہی کوئی غلام اپنے مالک کو رَبِّیْ یعنی میرے ربّ کہے بلکہ وہ سیّدی یعنی اے میرے آقا کہہ کر پکارے۔ (صحیح مسلم کتاب الالفاظ باب حکم الطلاق لفظۃ العبد والامۃ)

تو مُرَبِّی بن کر، سرپرست بن کر، کسی کے مالک بن کر اس کو پالنے کی ذمہ داری ادا کرنے کے بعد بھی بندہ بندہ ہی رہتا ہے او ر ربّ، ربّ ہے، اس کی صفات کااحاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ انسان کا دائرہ محدود ہے تو یہ ساری احتیاطیں بھی انسان کے ذہن میں ہونی چاہئیں۔ جیسا کہ گزشتہ خطبہ میں مَیں نے بتایا تھا کہ خداتعالیٰ نے اس زمانے میں بھی ہمیں اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے مسیح و مہدی عطا فرما یاجس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات کا، ربّ العالمین کا فہم و ادراک عطا فرما کر پہلو ں سے ملایا، جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اللہ قرار دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت ربوبیت کو ختم نہیں کر دیا بلکہ یہ سلسلہ جاری ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں اللہ تعالیٰ کی صفات کی پہچان اور اس کے ادراک کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے جہاں ہمیں اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا ادراک حاصل ہوا وہاں ہمارے پیارے ربّ کے آپؑ کے ساتھ سلوک کے نظارے بھی نظر آتے ہیں۔ جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ کئے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی پہچان کروانے کے لئے آنا ضروری تھا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’ مَیں اس لئے بھیجا گیا ہوں تا ایمانوں کو قوی کروں اور خداتعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کرکے دکھلاؤں ‘‘۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں :’’ خدا کا شناخت کرنا نبی کے شناخت کرنے سے وابستہ ہے‘‘ فرمایا :’’نبی خدا کی صورت دیکھنے کا آئینہ ہوتا ہے‘‘۔ اسی آئینہ کے ذریعہ سے خدا کا چہرہ نظر آتا ہے جب خداتعالیٰ اپنے تئیں ظاہر کرنا چاہتا ہے تو نبی کو جو اس کی قدرتوں کا مظہر ہے دنیا میں بھیجتا ہے اور اپنی وحی اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی ربوبیت کی طاقت اس کے ذریعہ سے دکھاتا ہے۔

پھرحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :

’’ خداتعالیٰ نے قرآن شریف کو اسی آیت سے شروع کیا کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن اور جابجا اس نے قرآن شریف میں صاف صاف بتلا دیا ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ کسی خاص قوم یا خاص ملک میں خداکے نبی آتے رہتے ہیں بلکہ خدا نے کسی قوم اور کسی ملک کو فراموش نہیں کیا۔ اور قرآن شریف میں طرح طرح کی مثالوں میں بتلایا گیا ہے کہ جیسا کہ خداہر ایک ملک کے باشندوں کے لئے ان کے مناسب حال ان کی جسمانی تربیت کرتا آیاہے ایسا ہی اس نے ہر ایک ملک اور ہر ایک قوم کو روحانی تربیت سے بھی فیضیاب کیا ہے۔ جیسا کہ وہ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ (فاطر:25) کہ کوئی ایسی قوم نہیں جس میں کوئی نبی یا رسول نہیں بھیجا گیا۔

سو یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لانا ہر ایک بندہ کا فرض ہے وہ ربّ العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا ربّ ہے اور تمام زمانوں کا ربّ ہیاور تمام مکانوں کا ربّ ہے اور تمام ملکوں کا وہی ربّ ہے اور تمام فیوض کا وہی سرچشمہ ہے اور ہر ایک جسمانی اور روحانی طاقت اُسی سے ہے اور اُسی سے تمام موجودات پرورش پاتی ہیں اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔

خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہو رہاہے۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا کسی قوم کو شکایت کرنے کا موقع نہ ملے اور یہ نہ کہیں کہ خدا نے فلاں فلاں قوم پر احسان کیا مگر ہم پر نہ کیا۔ یا فلاں قوم کو اس کی طرف سے کتاب ملی تا وہ اس سے ہدایت پاویں مگر ہم کو نہ ملی۔ یا فلاں زمانہ میں وہ اپنی وحی اور الہام اور معجزات کے ساتھ ظاہر ہوا مگر ہمارے زمانہ میں مخفی رہا۔ پس اس نے عام فیض دکھلا کر ان تمام اعتراضات کودفع کر دیا۔ اور اپنے ایسے وسیع اخلاق دکھلائے کہ کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا اور نہ کسی زمانہ کو بے نصیب ٹھہرایا‘‘۔ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23صفحہ442-441)

پرانے زمانے میں انبیاء اپنی اپنی قوموں کے لئے آتے رہے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد جب آپ کو تمام دنیا کے لئے رحمۃللعالمین بنا کر بھیجا تو تمام دنیا کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کر دیا اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء تھے، تمام نبیوں کے جامع تھے اب مَیں خاتم الخلفاء ہوں اور اس زمانے میں تمام دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ اب ہمارا کام ہے کہ یہ پیغام ہر شخص تک پہنچائیں تاکہ کسی کو یہ احساس نہ رہے یا اس علم سے محروم نہ رہے کہ اس زمانے میں ہماری اصلاح کے لئے کوئی نبی نہیں آیا۔ ہم خوش قسمت ہیں جنہوں نے اس زمانے کے امام کو جو نبی اللہ ہے مان کر اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا فہم و ادراک حاصل کیا۔ پس اس میں بڑھنا اور مزید فیض اٹھانے کی کوشش کرنا ہر احمدی کا کام ہے۔

صفتِ ربوبیت کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات سے اللہ تعالیٰ کا جو سلوک تھا اب میں اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ابتدا سے ہی دنیا داری سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لئے کوئی دنیاداری کا کام نہیں کرتے تھے بلکہ قرآن میں ہر وقت غور کرنا اور اس میں غرق رہنا اور اللہ تعالیٰ کی طرف لَو لگائے رکھنا آپ کا کام تھا اس لئے دنیاوی ضروریات کے لئے اپنے والد صاحب پر آپ کابڑا انحصار تھا۔ جب آپ کے والد صاحب کی وفات کا وقت قریب آیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلا ع دی تو جو ایک ظاہری انسانی بشری تقاضا ہوتاہے اس کے تحت آپ کو فکر ہوئی جس کا ذکر کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ:’’ جب مجھے حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کی نسبت اللہ جلّشانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا جو مَیں نے ابھی ذکر کیا ہے‘‘ اس الہام کو مَیں نے یہاں نہیں بتایا، بہرحال ایک الہام ہوا تھا کہ وفات کا وقت قریب ہے ’’تو بشریت کی وجہ سے مجھے خیال آیا کہ بعض وجوہ آمدن حضرت والد صاحب کی زندگی سے وابستہ ہیں پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلا ہمیں پیش آئے گا۔ تب اسی وقت یہ دوسرا الہام ہوا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہ‘ یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے اور اس الہام نے عجیب سکینت اور اطمینان بخشا اور فولادی میخ کی طرح میرے دل میں یہ دھنس گیا۔ پس مجھے اس خدائے عزوجل کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے اس مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کرکے دکھلایا کہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا۔ میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہر گز ایسا متکفل نہیں ہوگا‘‘۔ (کتاب البریّہ، روحانی خزائن جلد 13صفحہ195-194 حاشیہ)

ایک الہامی دعا کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:

’’پہلے اس سے چند مرتبہ الہامی طورپرخدائے تعالیٰ نے اس عاجز کی زبان پر یہ دعا جاری کی تھی کہ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُبَارَکًا حَیْثُمَا کُنْتُ یعنی اے میرے ربّ مجھے ایسا مبارک کر کہ ہر جگہ مَیں بودو باش کروں برکت میرے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے اپنے لطف و احسان سے وہی دعا کہ جو آپ ہی فرمائی تھی قبول فرمائی‘‘۔ پہلے دعا سکھائی پھر قبول فرمائی۔ ’’اور یہ عجیب بندہ نوازی ہے کہ اوّل آپ ہی الہامی طور پر زبان پر سوال جاری کرنا اور پھر یہ کہنا کہ یہ تیرا سوال منظور کیا گیا ہے‘‘۔ (براہین احمدیہ حصہ چہارم۔ روحانی خزائن جلد 1صفحہ621۔ حاشیہ در حاشیہ نمبر3)

اس طرح کے بے شمار الہامات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دعائیں سکھائیں اور پھر انہیں قبول فرمایا۔ تو جہاں یہ قبولیت دعا کے نشانات ہیں ربوبیت کے جلوے کا بھی اظہار ہے۔ ایک دو اور مثالیں مَیں دے دیتا ہوں۔ ایک الہام ہے ’’رَبِّ اَخِّرْ وَقْتَ ھٰذَا۔ اَخَّرَ ہُ اللّٰہُ اِلٰی وَقْتٍ مُسَمًّی‘‘ کہ اے خدا بزرگ زلزلہ کے ظہور میں کسی قدر تاخیر کر دے۔

تو اگلا حصہ ہے اَخَّرَ ہُ اللّٰہُ اِلٰی وَقْتٍ مُسَمًّی کہ خدا نمونہ قیامت کے زلزلہ کے ظہور میں ایک وقت مقررہ تک تاخیر کر دے گا۔ (تذکرہ صفحہ557-556)

پھر ہے کہ رَبِّ اَخْرِجْنِیْ مِنَ النَّارِ کہ اے میرے رب مجھے آگ سے نکال۔

اور اگلا حصہ پھر الہام ہوتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ النَّارِ کہ سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے آگ سے نکالا۔ (تذکرہ صفحہ612)

یہاں بھی پہلے دعا سکھائی پھر قبولیت کا نشان۔

پھر ایک دعا ہے رَبِّ اَرِنِیْ اَنْوَارَکَ الْکُلِّیَّۃَ اے میرے رب مجھے اپنے وہ انوار دکھا جو مُحیطِ کُل ہوں۔ اِنِّیْ اَنَرْتُکَ وَاخْتَرْتُکَ کہ مَیں نے تجھے روشن کیا اور تجھے برگزیدہ کیا۔ (تذکرہ صفحہ 534)

یہاں بھی وہی اظہارہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :

’’کچھ تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ مجھ کو خواب آیا تھا کہ ایک جگہ میں بیٹھا ہوں یک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ غیب سے کسی قدر روپیہ میرے سامنے موجود ہو گیا ہے۔ مَیں حیران ہوا کہ کہاں سے آیا۔ آخر میری رائے ٹھہری کہ خداتعالیٰ کے فرشتے نے ہماری حاجات کے لئے یہاں رکھ دیا ہے۔ پھر ساتھ الہام ہوا کہ اِنِّیْ مُرْسِلٌ اِلَیْکُمْ ھَدِیَّۃً کہ مَیں تمہاری طرف بھیجتا ہوں اور ساتھ ہی میرے دل میں پڑا کہ اس کی یہ تعبیر ہے کہ ہمارے مخلص دوست حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب ایک فرشتہ کے رنگ میں متمثل کئے گئے ہوں گے اور غالباً وہ روپیہ بھیجیں گے اور اس خواب کو عربی زبان میں اپنی کتاب میں لکھ دیا۔ (ازمکتوب 6؍مارچ 1895ء بنام سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی۔ مکتوبات احمدیہ جلد 5حصہ اول صفحہ 3بحوالہ تذکرہ صفحہ226-225)

چنانچہ تصدیق ہو گئی اور الہام پورا ہو گیا۔

فرماتے ہیں کہ’’ 18برس سے ایک یہ پیشگوئی ہے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الصِّھْرَ والنَّسْب ترجمہ: وہ خدا سچا خدا ہے جس نے تمہارا دامادی کا تعلق ایک شریف قوم سے جو سید تھے کیااور خود تمہاری نسب کو شریف بنایا……‘‘۔

فرماتے ہیں :’’اس پیشگوئی کو دوسرے الہامات میں اور بھی تصریح سے بیان کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اس شہر کا نام بھی لیا گیا تھا جو دہلی ہے‘‘۔ حضرت امّاں جان سے جب دوسری شادی ہوئی تھی یہ اس وقت کا واقعہ ہے۔ ’’اور یہ پیشگوئی بہت سے لوگوں کوسنائی گئی تھی…… اور جیسا کہ لکھا گیا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بغیر سابق تعلقات قرابت اور رشتہ کے دہلی میں ایک شریف اور مشہورخاندان سیادت میں میری شادی ہو گئی……‘‘۔

فرماتے ہیں :’’سو چونکہ خداتعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہو گا اس لئے اس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو اُن نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخمریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلاوے۔ اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہو گی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔ یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔ یہ خداتعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے‘‘۔ (تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15صفحہ273تا275)

تو دیکھیں کہاں وہ وقت کہ والد صاحب کی وفات کا سن کر آپؑ کو فکر ہو رہی ہے کہ ضرورت کی چیزیں اب کس طرح میسر ہوں گی اور کہاں اللہ تعالیٰ کی تسلی کہ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔ جب یہ کہہ دیاتو اس تسلی کے بعد اس ربّ العالمین نے تمام جہان کی مدد کے لئے آپؑ کے خاندان کی بنیاد ڈالی ہے اور پھر یہ بھی ہے کہ اس خاندان کی بنیاد جس نے تمام جہان کی مدد کرنی ہے۔ تو یہ ہے وہ ربّ جس نے ہمیں اپنا چہرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر آپؐ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے دکھایا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل مَیں ہی تمہاری پرورش کرتا ہوں۔ جب خداتعالیٰ کی پرورش نہ ہو تو کوئی پرورش نہیں کر سکتا۔ دیکھو جب خداتعالیٰ کسی کو بیمار ڈال دیتا ہے تو بعض دفعہ طبیب کتنا ہی زور لگاتے ہیں مگر وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ طاعون کے مرض کی طرف غور کرو۔ سب ڈاکٹر زور لگا چکے مگر یہ مرض دفع نہ ہوا۔ اصل یہ ہے کہ سب بھلائیاں اسی کی طرف سے ہیں اور وہی ہے کہ جو تمام بدیوں کو دور کرتا ہے۔

پھر فرماتا ہے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن (الفاتحہ:2)سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور تمام پرورشیں، تمام جہان پر اسی کی ہیں ‘‘۔ (البدرنمبر 24جلد 2صفحہ186۔ مورخہ 3؍جولائی 1903۔ ملفوظات جلد سوم صفحہ349 جدیدایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

آخر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دُعا پڑھتا ہوں جس کاذکر حدیث میں یوں ملتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرب کے وقت میں یہ دعا کیا کرتے تھے کہ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے جو سب سے بڑ ااور بردبار ہے، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے جو عرش عظیم کا ربّ ہے، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے جو آسمانوں اور زمین کو پالنے والا ہے اور عرش کریم کا ربّ ہے۔ (بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء عند الکرب)

اصل میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی ذات اور رب العالمین کے سامنے جھکنا ہی تھا۔ ہو سکتا ہے کہ روایت کرنے والے نے بعض خاص حالات میں زیادہ شدت سے آپ کو کسی وقت یہ دعا کرتے دیکھا ہو اور اس کا اظہار ہوا ہو۔ تو بہرحال یہ ایک جامع دعا ہے جو ہمیشہ ہمارے پیش نظر ر ہنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ربّ کی صحیح پہچان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 8؍ دسمبر 2006ء شہ سرخیاں

    اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا ربّ ہے اور تمام مکانوں کا ربّ ہے۔

    فرمودہ مؤرخہ 08؍دسمبر 2006ء (08؍فتح 1385ھش)بمقا م مسجد بیت الفتوح، لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور