مساجد کی تعمیر

خطبہ جمعہ 29؍ دسمبر 2006ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

اس دفعہ مَیں اس موسم میں امیر صاحب کے کہنے پر، جماعت جرمنی کی دعوت پر اس لئے آیا ہوں کہ امیر صاحب کی خواہش تھی کہ جو مساجد سال میں تعمیر ہوئی ہیں ان کا افتتاح ہو جائے۔ وہ ایک مہینہ پہلے مجھے بلانا چاہتے تھے لیکن مَیں نے یہ دسمبر کا آخر رکھا تھا اور بعض مساجد کا سنگ بنیاد بھی رکھنا ہے۔ ان سے یا یہ کہنا چاہئے کہ جماعت جرمنی سے وعدہ تو میرا یہ تھا کہ ہر سال پانچ مساجد بنائیں گے تو افتتاح کیلئے آؤں گا۔ لیکن ابھی تک اس سال کی جو بنائی گئی ہیں، جن کا افتتاح ہونا ہے صرف تین ہیں۔ تو ان مساجد کیلئے افتتاح کے لئے آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مَیں اب آپ سے تین پر راضی ہو گیا ہوں کہ چلو کچھ تو ہاتھ آیا۔ میرا زیادہ مقصد اور خواہش جو مجھے یہاں لائی ہے وہ برلن کی مسجد کا سنگ بنیاد ہے۔ کیونکہ یہاں مسجد تعمیر کرنا بھی جماعت کیلئے ایک چیلنج ہے۔ آج کل کے حالات کے لحاظ سے بھی اور تاریخی اعتبار سے بھی اس جگہ کی خاص اہمیت ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو برلن میں مسجد بنانے کی بڑی خواہش تھی اس کے لئے چندہ بھی جمع کیا گیا جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں لیکن حالات کی وجہ سے پھر وہ رقم لندن بیت الفضل کی تعمیر میں خرچ کردی گئی۔

برلن کی مسجد کیلئے جیسا کہ پہلے بھی ایک دفعہ بتا چکا ہوں عورتوں نے چندہ جمع کیا تھا اور بڑی قربانی کرکے انہوں نے چندہ جمع کیا تھا۔ لجنہ نے اس زمانہ میں ہندوستان میں یا صرف قادیان میں، زیادہ تو قادیان میں کہنا چاہئے ہوتی تھیں، تقریباً ایک لاکھ روپیہ جمع کیا تھا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی خدمت میں پیش کیا جو اس وقت کے لحاظ سے ایک بہت بڑی رقم تھی، بڑی خطیر رقم تھی اور زیادہ تر قادیان کی غریب عورتوں کی قربانی تھی جس کا مَیں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ کسی نے مرغی پالی ہوئی ہے تو بعض مرغی لے کے آجاتی تھیں۔ کوئی انڈے بیچنے والی ہے تو انڈے لے کر آگئی۔ کسی کے گھر میں بکری ہے تو وہ بکری لے کر آگئی۔ کسی کے گھر میں کچھ نہیں ہے تو گھر کے جو برتن تھے تو وہی لے کر آگئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ایک دفعہ تحریک جو کی تھی میرا خیال ہے کہ یہی تحریک تھی۔ فرماتے ہیں کہ مَیں نے جو تحریک کی تو عورتوں میں اس قدر جوش تھا کہ ان کا دل چاہتا تھا کہ سب کچھ گھر کا سامان جو ہے وہ دے دیں۔ ایک عورت نے اپنا سارا زیور جو تھا سارا چندے میں دے دیا۔ اور گھر آئی اور کہنے لگی کہ اب میرا دل چاہتا ہے کہ(غریب سی عورت تھی معمولی زیور تھا) کہ اب مَیں گھر کے برتن بھی دے آؤں۔ اس کے خاوند نے کہا کہ تمہارا جو زیور تم نے دے دیا ہے کافی ہے۔ تو اس کا جواب یہ تھا کہ اس وقت میرا اتنا جوش ہے کہ میرا اگر بس چلے تو تمہیں بھی بیچ کے دے آؤں۔ تو گو کہ جواب صحیح نہیں ہے لیکن یہ اس جوش کو ظاہر کرتا ہے جو قربانی کیلئے عورتوں میں تھا۔ حیرت ہوتی تھی اس وقت کی عورتوں کی قربانی دیکھ کر اور آج کل جو آپ اس وقت کے حالات کے مقابلے میں بہت بہتر حالات میں ہیں تو کہنا چاہئے انتہائی امیرانہ حالت میں رہ رہے ہیں۔ فرق بڑا واضح نظر آتا ہے۔ آپ لوگ آج شاید وہ معیار پیش نہ کر سکیں۔ جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے جو ان لوگوں نے کئے تھے۔

کچھ عرصہ ہوا آپ کے صدر صاحب انصار اللہ نے مجھے لکھا کہ انصار اللہ نے 100 مساجد کیلئے وعدہ کیا ہوا ہے۔ پانچ لاکھ یا جتنا بھی تھا۔ جو مَیں نے ٹارگٹ دیا تھا ساروں کو اور فلاں فلاں اخراجات ہو گئے ہیں اس لئے مرکز ہمیں اتنے عرصہ کے لئے کچھ قرض دے دے تاکہ انصار اللہ اپنا وعدہ پورا کرسکے۔ تو مَیں نے ان کو جواب دیا تھا کہ بالکل اس کی امید نہ رکھیں۔ یہ گندی عادت جو آپ ڈالنا چاہتے ہیں اپنے آپ کو اور پھر ایک آپ کو جو یہ گندی عادت پڑے گی تو باقی تنظیموں کو بھی پڑے گی۔ اس کومَیں نہیں ہونے دوں گا خود ہمت کریں، خود رقم جمع کریں۔ انہوں نے وعدہ پورا کیا یا نہیں کیا مجھے نہیں پتہ لیکن بہر حال انکار ہوگیا تھا۔ تو میں نے سوچا تھا کہ اگر انہوں نے زیادہ زور دیا یا کسی اور تنظیم نے لکھا تو پھر مَیں ان کو یہی جواب دوں گا کہ اب مَیں پاکستانی احمدیوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے ان امیر بھائی بہنوں کی مدد کریں کیونکہ یہ ہمت ہار رہے ہیں۔ اور کچھ تھوڑا بہت جوڑ کر آنہ دو آنے چندہ جمع کریں اور ان لوگوں کو بھجوا دیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ میرا انصار اللہ کو جو جو اب تھا وہ کافی اثر کر گیا اور امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اب آپ لوگ خود اپنے پاؤں پہ ساری تنظیمیں کھڑی ہوں گی۔

تو بہر حال میں یہ کہہ رہا تھا کہ اس مسجد کی جو برلن میں مسجد انشاء اللہ شروع ہوگی۔ میرے نزدیک یہ بڑی اہمیت کی حامل ہے جس کوتقریباً 86سال بعد حالات ٹھیک ہونے پر ہم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انشاء اللہ بنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آج جرمنی کو پھر ایک کرکے، دونوں جرمنی جو مغربی اور مشرقی جرمنی تھے ایک کرکے، دیوار برلن گرا کر ایسے حالات پیدا فرمائے ہیں کہ ہم وہاں مسجد بنانے کی خواہش کی تکمیل کرنے لگے ہیں انشاء اللہ۔ اس لئے ایک تو یہ ہے کہ فوری حالات ابھی سازگار ہیں فوری فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ تعمیر شروع ہو جائے گی اور جلدی ختم بھی ہو جائے۔ امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ 2 جنوری 2007 کو وہاں سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ آپ بھی اور یہاں ایم ٹی اے کی وساطت سے دنیا کے احمدیوں سے بھی مَیں کہتا ہوں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے حالات ٹھیک رکھے اور یہ سنگ بنیاد رکھا بھی جائے اور مسجد کی تکمیل بھی ہو جائے۔ حکومتی اداروں کی طرف سے اللہ کے فضل سے اجازت مل چکی ہے۔ لیکن مقامی لوگوں میں ایک طبقہ ایسا ہے جن کو نیشنلسٹ کہتے ہیں، جو شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ چند ماہ پہلے جو علاقے کی کونسل کے لیڈرزنے سب کو اکٹھا کیا تھا کہ اس معاملے کو سلجھایا جائے تو ان لوگوں نے میٹنگ نہیں ہونے دی تھی اور اتنی شدید مخالفت کی تھی کہ ہمارے لوگ مشکل سے وہاں سے بچ کر واپس آسکے تھے۔ تو اس لحاظ سے بہت دعا کی ضرورت ہے۔ گزشتہ مہینے کی بات ہے کہ آپ کے امیر صاحب جب لندن میں مجھے ملے تھے اور بڑے پریشان تھے اور کوئی فیصلہ نہیں کر سک رہے تھے کہ مسجد کی بنیاد میں رکھوں یا کس طرح رکھی جائے یا کیا کیا جائے، جماعت بھی فیصلہ نہیں کر رہی تھی۔ تو مَیں نے انہیں کہا انشاء اللہ تعالیٰ مَیں سنگ بنیاد رکھوں گااور یہ کوئی بات نہیں کہ حالات کی وجہ سے بنیاد رکھنے کے لئے نہ جاؤں۔ مَیں نے امیر صاحب سے کہا کہ انشاء اللہ جائیں گے اور اللہ مدد فرمائے گا۔ یہ سر پھروں کا جو گروہ ہے وہ ہمارے ساتھ زیادہ سے زیادہ کیا کر لے گا، چند ایک پتھر پھینک دے گا۔ تو یہ چیزیں ہمارے راستے میں روک نہیں بننی چاہئے۔ تو امیر صاحب نے مزاقاً کہا کہ جرمن پتھر نہیں پھینکتے، ٹماٹر مارتے ہیں۔ تو بہرحال جو بھی ہو انتظامیہ کچھ فکر مند ہے۔ لیکن اگر نیک مقصد کیلئے اللہ کا گھر بنانے کیلئے اس کی عبادت کرنے کیلئے اور اس کی عبادت کرنے والے پیدا کرنے کیلئے اور اسلام کا محبت اور امن کا پیغام پہنچانے کیلئے اگر ہم اللہ کے حضور جھکتے ہوئے، اس سے عجز سے دعائیں مانگتے ہوئے کہ وہ قادر توانا ہے جس نے ہمیں ہر آن آفات و مشکلات سے بچایا ہے مدد فرمائے اور ہم اس نیک کام کو انجام دیں گے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آسانیاں پیدا فرمائے گا۔

جرمن قوم عمومی طور پر اتنی سخت نہیں ہے جتنا کہ وہاں اظہار ہو رہا ہے۔ برلن میں جیسا اظہار کیا جارہا ہے ایک تو نیشنلسٹ ہیں وہ قوم پرست جو ہیں ہر قوم میں ہوتے ہیں۔ اور مشرقی جرمنی میں ایک لمبے عرصے کے حالات کی وجہ سے ایک خاص ردّعمل ہے۔ وہ لوگ زیادہ کھردرے ہو چکے ہیں۔ بہر حال لیکن دوسری بد قسمتی یہ ہے کہ بعض مسلمان گروپوں نے اس فضا کو اور زیادہ بگاڑا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ کسی بات کا یا کم از کم کسی مسلمان گروپ کا، جماعت کا یقین کرنے کو تیار نہیں۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہے جس نے اسلام کا دفاع کرنا ہے۔ اللہ کے بندوں کو اللہ کے حضور جھکنے والا بنانا ہے۔ محبتیں بکھیرنی ہیں اور اسلام کی صحیح اور خوبصورت تعلیم دنیا میں پھیلانی ہے۔ انشاء اللہ

پس ایک تو مسجد بننے کے دوران بھی وہاں کے رہنے والے لوگ اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی قسم کی بدمزگی نہ ہو۔ اگر مخالفین کی طرف سے سخت رویہ اختیار کیا جائے تو آپ نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔ کل قادیان کے جلسہ کے دوران مَیں نے جو تقریر کی تھی اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کا حوالہ دے کر یہی بتایا تھا کہ ہمارے لئے حکم یہی ہے کہ صبر کرو اللہ تعالیٰ وقت پر سب کچھ ظاہر فرمائے گا، آسانیاں پیدا فرمائے گا۔ انگلستان میں جب ہارٹلے پول کی مسجد کی بنیاد رکھی گئی اور وہاں تعمیر شروع ہوئی تو وہاں بھی بعض اسلام مخالف گروپوں نے، نوجوانوں نے، تعمیر کے دوران پتھر وغیرہ پھینکے تھے۔ پتھر مارتے تھے، شیشے توڑتے تھے تو یہ حرکتیں وہاں بھی ہوتی تھیں۔ لیکن جماعت کے نمونے اور مثبت ردّ عمل کی وجہ سے ارد گرد کے ہمسایوں نے کچھ عرصہ کے بعد ہمارا دفاع کرنا شروع کردیا۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں ہر کوئی اس بات کی تعریف کرتا ہے کہ آپ لوگوں نے ہمارے غلط تاثر کو جو اسلام کے بارے میں تھا اس کو بالکل دھو دیا ہے۔ پس یہ تاثر جو یہاں بھی پیدا کیا گیا ہے یہ تو وقت کے ساتھ ساتھ انشاء اللہ زائل ہو جائے گا۔ لیکن آپ لوگ کوشش کرکے اسلام کی تعلیم بھی ان لوگوں کو بتائیں۔ یہ آپ کا فرض ہے اور بتانی ہوگی۔ ان کو بتائیں کہ ہم یہ مسجد اس گھر کے نمونے اور اس مقصد کے لئے بنا رہے ہیں جو خدا کا پہلا گھر تھا اور جس کی بنیادیں رکھتے ہوئے ان باپ بیٹا نے جو دعائیں کی تھیں، وہ تھیں۔ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَاَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّک اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْم ُ(البقرۃ:129) کہ اے ہمارے رب ہم اپنے دو فرمانبردار بندے بنا دے۔ ہماری ذریت میں سے بھی اپنی فرمانبردار اُمّت پیدا کر اور ہمیں اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے طریق سکھا۔ تو ایسے بندے بنا دے جو تیرے حکموں پر چلنے والے ہوں۔ تیرے بھی حقوق ادا کرنے والے ہوں اور تیری مخلوق کے بھی حقوق ادا کرنے والے ہوں محبت پیار اور امن کا پیغام دنیا میں پھیلانے والے ہوں۔ اور صرف ہم نہیں بلکہ ہماری اولادیں بھی ان نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی ہوں۔ ہمارا مقصد تو اس گھر کی بنیاد سے، اس گھر کی تعمیر سے یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرنے والے بنیں۔ ہمیں عبادت کے وہ طریق سکھا جس سے ہم تیرا پیار حاصل کر سکیں اور ہمیشہ ہم تیری راہ میں تیری خاطر قربانی کرنے والے اور تیری عبادت کرنے والے رہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان بزرگوں کی یہ بھی دعا ہمیں بتائی کہ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰھِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلَ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (البقرۃ:128) کہ اے ہمارے رب ہماری دعائیں قبول فرما، ہماری قربانیاں قبول فرما، تیری عبادت کی طرف توجہ رکھنے اور تیرے حکموں پر عمل کرنے کی ہماری جو کوشش ہے اپنے فضل سے اس کو قبول فرماتے ہوئے اس میں برکت ڈال دے۔ اور اس سے پہلے جو آیت ہے اس میں ذکر یہ ہے کہ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدً اٰمِنًا (البقرۃ 127) پس آپ لوگ یہ اعلان کریں کہ ہماری مسجدیں اس گھر کی تتبع میں ہیں، جہاں بھی بنتی ہیں، جہاں بھی بنیں گی، جس علاقے میں جہاں بھی بن رہی ہیں یہ اس شہر میں جہاں پر تعمیر ہو رہی ہیں امن کا پیغام پہنچانے اور امن قائم کرنے اور پیار محبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے والوں کی دعاؤں کے لئے بنیں گی۔ اس لئے تم لوگ بے فکر رہو۔ ہماری مسجد سے تم دیکھو گے کہ اللہ کے حضور جھکنے والوں کے چشمے پھوٹیں گے۔ ہماری مسجدوں کے میناروں سے اللہ کی آخری اور کامل شریعت کی تعلیم کے نور کی کرنیں ہر سُو پھیلیں گی۔ پس ہم سے کسی قسم کا خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تو دنیا کے خوفوں کو دور کرنے والے ہیں۔ ہم تو دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے اپنی قربانیاں دینے والے لوگ ہیں۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جو اپنے حقوق چھوڑ کر دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرتے ہیں۔ پس یہ پیغام یہاں کے ہر باشندے کو پہنچائیں اور اس کیلئے اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کریں۔ تو انہیں میں سے آپ دیکھیں گے کہ جو نیک فطرت لوگ ہیں آپ کے دفاع کیلئے نکلیں گے۔ جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ تجربہ ہو چکا ہے اس ملک میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی یہاں جرمنی میں بھی بعض علاقوں میں۔ ہماری مسجدیں بنی ہیں تو پہلے وہی لوگ جو اعتراض کرتے تھے۔ جن کو ہماری مساجد کا ان کے علاقوں میں تعمیر ہونے پر اعتراض تھا اب وہ خود بڑھ کر ہمارے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ پس اگر آپ لوگ نیک نیت ہو کر قربانیاں دیتے ہوئے مسجدیں بنانے کی کوشش کریں گے تو برلن میں ایک نہیں کئی مسجدیں بنانے والے انشاء اللہ بن جائیں گے۔ پس شرط یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ قربانیاں دیتے چلے جائیں اور عاجزی سے دعائیں کرتے چلے جائیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری ان حقیر قربانیوں اور کوششوں کو قبول فرمائے۔ یہ نہیں کہ وعدہ پورا کرنے کیلئے جماعت سے ہی قرض مانگنے لگ جائیں جیسا کہ مَیں نے مثال دی ہے۔ دنیا میں بے شمار غریب جماعتیں ہیں جن کی مدد کرنی ہوتی ہے۔ اگر آپ جو صاحب توفیق ہیں ان کو ہی رقم دے کر رقم بلاک کر دی جائے تو دنیا میں جو بے شمار مساجد بن رہی ہیں، جن کی مدد کرنی پڑتی ہے مشن ہاؤسز بن رہے ہیں، دوسرے تبلیغ کے منصوبے ہیں تو وہ پھر اس رقم کے بلاک ہونے کی وجہ سے پورے نہیں ہو سکتے۔ پس اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں اور قربانیاں کرکے جیسا کہ میں نے کہا عاجزی سے اللہ کے حضور التجا کریں۔ کہ اے اللہ ہماری قربانیاں قبول فرما اور اس سے زیادہ کی بھی توفیق دے۔ مالی قربانی نام ہی اس بات کا ہے کہ اپنے پر تنگی وارد کرکے اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ اللہ کے فضل سے جرمنی میں ایسے لوگ ہیں جو اس معیار پر پہنچے ہوئے ہیں۔ لیکن ابھی بھی بہت جگہوں پر بہت گنجائش ہے۔ آپ کی جان، مال، وقت کی قربانی ہی ہے جس نے جرمنوں کے دل جیتنے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بھی اس ملک میں اسلام کے بارے میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کے بارے میں خبر پہنچنے کی وجہ سے توجہ پیدا ہوگئی تھی۔ اگر دنیا کے حالات اور کچھ ہماری سستیوں کی وجہ نہ ہوتی تو یہاں بہت کام ہو سکتا تھا۔ لیکن اب آپ نے اس کا مداوا کرنا ہے اور ہونا چاہئے۔

یہاں مَیں ایک خط کا ذکر کرتا ہوں جو ایک جرمن عورت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھا تھا۔ یہ بدر قادیان 1907ء میں کسی رپورٹ میں درج ہے۔ ایک عورت تھیں مسز کیرولین۔ انہوں نے لکھا کہ میں کئی ماہ سے آپ کا پتہ تلاش کر رہی تھی تاکہ آپ کو خط لکھوں اور آخر کار مجھے ایک شخص ملا ہے جس نے مجھے آپ کا ایڈریس دیا ہے۔ بلکہ ایڈریس جو دیا وہ بھی اس طرح ہے۔ لفافے پر لکھا ہوا تھا، بمقام قادیان علاقہ کشمیر ملک ہند، تو تب بھی قادیان پہنچ گیا۔ مَیں آپ سے معافی چاہتی ہوں کہ مَیں آپ کو خط لکھتی ہوں کہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ خدا کے بزرگ رسول ہیں اور مسیح موعود کی قوت میں ہو کر آئے ہیں اور مَیں دل سے مسیح کو پیار کرتی ہوں۔ مجھے ہند کے تمام معاملات کے ساتھ اور بالخصوص مذہبی امور کے ساتھ دلچسپی حاصل ہے۔ میں ہند کے قحط بیماری اور زلازل کی خبروں کو افسوس کے ساتھ سنتی ہوں۔ مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ مقدس رشیوں کا خوبصورت ملک اس قدر بت پرستی سے بھرا ہوا ہے۔ ہمارے لارڈ اور نجات دہندہ مسیح کے واسطے جس قدر جوش آپ کے اندر ہے اس کے واسطے مَیں آپ کو مبارک باد کہتی ہوں اور مجھے بڑی خوشی ہوگی اگر آپ اپنے اقوال چند سطور کے مجھے تحریر فرما دیں۔ مَیں پیدائش سے جرمن ہوں اور میرا خاوند انگریز تھا۔ اگرچہ آپ شاندار قدیمی ہندوستانی قوموں کے نور کے اصلی پوت ہیں۔ تا ہم میرا خیال ہے کہ آپ انگریزی جانتے ہوں گے۔ وہ لکھتی ہیں کہ اگر ممکن ہو تو مجھے اپنا ایک فوٹو ارسال فرمائیں۔ کیا دنیا کے اس حصہ میں آپ کی کوئی خدمت کرسکتی ہوں۔ آپ یقین رکھیں پیارے مرزا کہ مَیں آپ کی مخلصانہ دوست ہوں۔ کیر ولین(دستخط)۔

تو یہ اس زمانے کی بات ہے جب رابطے اتنے آسان نہیں تھے جو آج کل ہیں۔ یہاں کوئی احمدی نہیں تھا، پتہ نہیں انہوں نے کہاں سے ایڈریس لیا۔ آج تو آپ یہاں ہزاروں میں ہیں۔ تبلیغ بھی کرتے ہیں اور مسجدیں بھی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گو کہ مادیت کی طرف دنیا آج پہلے سے زیادہ ہے، مذہب سے ہٹی ہوئی ہے۔ لیکن ایک بے چینی بھی ساتھ ہی ہے۔ اس لئے دنیا کی بے چینی دور کرنے کی کوشش کریں۔ اِن لوگوں کو اسلام کی خوبیاں بتائیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر جماعت کا اور اسلام کا تعارف کروانا چاہتے ہو تو جس علاقے میں کوشش کرنا چاہتے ہوں وہاں مسجد بنا دو۔ اس کا مَیں پہلے بھی کئی دفعہ ذکر چکا ہوں کہ مسجدیں ہی ہیں جو تمہارا تعارف کروائیں گی۔ پس مسجدوں کا جال آپ کی تبلیغ میں آسانیاں پیدا کرے گا۔ اس لئے اس طرف خاص طور پر کوشش کریں۔ اللہ کرے کہ ہم یہ کام جلد سے جلد سر انجام دینے والے بن جائیں۔ جیسا کہ مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ مشرقی جرمنی میں اس پہلی ایک مسجد پر خوش نہ ہو جائیں بلکہ اور مسجدیں بنانے کی بھی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ سامان پیدا فرمائے۔

پھر برلن میں جماعت کی تاریخ اور مسجد بنانے کے حوالے سے خلافت ثانیہ کے دور میں ایک تاریخ کا صفحہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں، لکھا ہے کہ جرمنی میں سب سے پہلے پروفیسر فرنیزی ایل ایل ڈی اور ڈاکٹر اوسکا جیسے قابل مصنفوں کو احمدیت کی طرف توجہ ہوئی اور ان کے دیکھا دیکھی برلن کے کالجوں کے پروفیسروں اور طلباء میں بھی تحقیق سلسلہ کی جستجو پیدا ہوگئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارادہ یہاں شاندار اسلامی مرکز قائم کرنے کا تھا اور اسی لئے مسجد برلن کی تحریک بھی آپ نے فرمائی۔ مگر جرمنی کے حالات بدل گئے اور کاغذی روپیہ کی عملی صورت بھی منسوخ ہوگئی۔ سونے کا سکہ بھی جاری ہوگیا۔ مسجد برلن کیلئے پہلے تیس ہزار کا اندازہ کیا گیا تھا پھر 15 لاکھ روپے کا اندازہ ہوا۔ تو ان حالات کی بناء پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے تعمیر مسجد کا کام ملتوی کردیا اور فیصلہ فرمایا کہ یورپ میں دو مرکز رکھ کر طاقت تقسیم کرنے کی بجائے دارالتبلیغ لندن ہی مضبوط کیا جائے اور اس سے وسط یورپ میں تبلیغ اسلام ہو۔ یہ فیصلہ مارچ 1924ء میں ہوا اور مئی 1924ء میں یہاں جرمنی میں جو مشن ہاؤس تھا وہ بند کر دیا گیا۔

آج جماعت پر اللہ کا فضل ہے کہ یہاں جرمنی کی جماعت احمدیہ اَور مسجدوں کے علاوہ اس کے ساتھ ساتھ برلن کی مسجد کی تعمیر کی بھی تیاری میں ہے۔ اور جہاں 13 لاکھ روپیہ مشکل سے آتا تھا آج بہت ساری مساجد پر روپیہ خرچ کر رہے ہیں اور اس کے باوجود میرا اندازہ ہے کہ اگر روپوں میں اسے دیکھا جائے تو سات آٹھ کروڑ روپے کا خرچ ہو جائے گا۔ پس ان فضلوں کو ہمیں شکر گزاری کی طرف اور زیادہ مائل کرنے والا ہونا چاہئے۔ پہلے سے بڑھ کر اسلام کی خوبصورت تعلیم کو یہاں کے لوگوں تک پہنچائیں۔ اور آپ کا جو پیغام ہے، آپ نے جو مسجدیں بنانی ہیں اور آپ کے رویے جو ہیں ان کی وجہ سے یہ مسجدیں جو ہیں اس ملک میں امن کا سمبل (Symbol) بن جائیں۔ امن و آشتی کا ایک نشان بن جائیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ ہماری مسجدوں کے میناروں سے اللہ تعالیٰ کے نور کی کرنیں پھیلنی چاہئیں جس کا ادراک ہمیں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی خوبصورت تعلیم کے ذریعہ سے کروایا ہے تو جب تک ہم اس نور کو پھیلانے والے نہیں بن سکیں گے تب تک ہم مسجدوں کے حقوق ادا نہیں کر سکیں گے۔ اس لئے مسجدوں کی تعمیر کے مقصد کو جاننے والا بننا ہوگا کہ مقصد کیا ہے اور ہم نے کیا کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰٓی اُوْلٰئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ(التوبۃ:18) اللہ کی مساجد تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے۔ پس قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جائیں۔ یہ وہ سبق ہے، یہ وہ حکم ہے، جو ہر احمدی کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ بغیر اللہ تعالیٰ پر کامل اور مکمل ایمان کے یہ دعویٰ غلط ہے کہ ہم اللہ کا گھر بنا رہے ہیں جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔ اللہ پر ایمان کی شرائط جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں وہ کیا ہیں ؟ صرف اتنا کہہ دینا کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ کافی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کے لئے بعض شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے پر ایمان لانے والے کی ایک شرط یہ ہے کہ ایمان لانے میں سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتا ہو۔ فرماتا ہے وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآاَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِِ(البقرۃ:166) ہر غیر اللہ کاروبار روپیہ جائیداد سونا چاندی زیور رشتہ دار اولاد کی ایک مومن کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہونی چاہئے، نہ کسی مخفی شرک میں مبتلا ہو، نہ کسی ظاہری شرک میں مبتلا ہو۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مسجدوں میں ہر قسم کے لالچ اور مفاد سے بالا ہو کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے آتے ہیں۔ پھر ایک نشانی اللہ پر ایمان والوں کی یہ بتائی کہ جب اللہ کا نام ان کے سامنے لیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔ فرمایا اِذَا ذُکِرَاللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ(الانفال:3) کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات ان کے سامنے بیان کئے جائیں تو فوراً توجہ کرتے ہیں ڈرتے ہیں کہ نافرمانی سے کہیں پکڑے نہ جائیں، کسی گرفت کے نیچے نہ آجائیں۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ بعض لوگ چاہے چند ایک ہی ہوں یہاں یا دنیا میں کہیں بھی بڑے انہماک سے خطبے بھی سنتے ہیں، جماعت کے اجلاسوں میں بھی شامل ہوتے ہیں لیکن عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ خلیفہ ٔوقت کا کام ہے اللہ رسول کی باتیں بتانا۔ انہوں نے بتا دیں، تم نے بھی سن لیں، مَیں نے بھی سن لیں لیکن کروں گا وہی جو میرا دل کرے گا۔ یعنی فیصلہ درست ہے لیکن پرنالہ وہیں رہتا ہے۔ تو ایسے لوگ خود ہی جائزے لیں کہ وہ ایمان کی کس حالت میں ہیں۔ ایمان لانے والوں کی پھر ایک نشانی یہ ہے کہ ہر دن ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ہر روز ایک نئی پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ اپنے یہ جائزے اب آپ نے خود لینے ہیں کہ کیا ہر دن جو چڑھتا ہے وہ آپ کے ایمان میں اور آپ کے اندر اللہ کے خوف میں زیادتی کا باعث بنتا ہے یا وہیں رُکے ہوئے ہیں جہاں کل تھے۔

ایک نشانی یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں، اس کا پہلے بھی ذکر کیا ہے، تو یہ نہیں کہتے کہ ہم نے سن لیا جو دل چاہے گا کریں گے۔ بلکہ کہتے ہیں سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کہ ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا۔ پس اگر یہ جواب نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ پر ایمان بھی کامل نہیں اور پھر مسجدیں آباد کرنے والوں میں شمار نہیں ہو سکتے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف فرمائی ہے۔

پھراللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والوں کی ایک نشانی یہ ہے، اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان لانے والے وہ لوگ ہیں جو سجدہ کرتے ہیں اور کامل فرمانبرداری سے سجدہ کرتے اور اللہ کی تسبیح و تحمید کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ ایمان لا کر کہتے ہوں کہ ہاں ہم ایمان لائے اللہ پر ایمان کا دعویٰ ہو اور پھر اللہ رسول کے مخالفین کے ساتھ محبت کا سلوک بھی ہو۔ ایک طرف تو یہ دعویٰ ہو کہ ہم نے زمانے کے امام کو مان لیا اور دوسری طرف امام کے مخالفین کے ساتھ دوستیاں بھی ہوں تو یہ دونوں چیزیں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ ایمان کی نشانی تو یہ ہے کہ تم اللہ اور رسول اور نظام سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے بنو۔ دلوں میں کبھی اس بارے میں بال نہیں آنا چاہئے کہ یہ کیوں ہوا وہ کیوں ہوا تبھی تم کامل الایمان کہلا سکتے ہو۔ غرض اور بہت ساری باتیں جن پر اللہ پر ایمان لانے کا دعویٰ کرنے والوں کو کاربند ہونا چاہئے، ان پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔

اسی آیت میں جو میں نے پڑھی ہے ایک بات یہ بتائی گئی کہ یوم آخرت پر ایمان ہو۔ اب اگر یوم آخرت پر حقیقی ایمان ہو تو ایسی باتیں انسان کر ہی نہیں سکتا جو اللہ تعالیٰ پر ایمان میں کمزور ی پیدا کرنے والی ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ شیطان کے وساوس بہت ہیں اور سب سے زیاہ خطرناک وسوسہ اور شبہ جو انسانی دل میں پیدا ہو کر اسے خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃ کر دیتا ہے، آخرت کے متعلق ہے، کیونکہ تمام نیکیوں اور راستبازیوں کا بڑا بھاری ذریعہ منجملہ دیگر اسباب اور وسائل کے آخرت پر ایمان بھی ہے۔ اور جب انسان آخرت اور اس کی باتوں کو قصہ اور داستان سمجھے تو سمجھ لو کہ وہ ردّ ہو گیا۔ او ر دونوں جہاں سے گیا گزرا ہوا اس لئے کہ آخرت کا ڈر بھی تو انسان کوخائف اور ترساں بنا کر معرفت کے سچے چشمے کی طرف کشاں کشاں لئے آتا ہے۔ اور سچی معرفت بغیر حقیقی خشیت اور خدا ترسی کے حاصل نہیں ہو سکتی۔

پس یاد رکھو کہ آخرت کے متعلق وساوس کا پیدا ہونا ایمان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے اور خاتمہ بالخیر میں فتور پڑ جاتا ہے۔ پس جسے آخرت کا خوف ہو گا اس کو سچی معرفت بھی ہوگی۔ وہی نیکیوں میں ترقی بھی کرے گا اور اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرے گا۔ اور ایسے لوگوں کی عبادت کو اللہ تعالیٰ نے پھر عبادت قرار دیا ہے اور یہ مسجدیں آباد کرنے والے لوگ ہیں۔ پھر فرمایا کہ مسجدیں آباد کرنے والے نماز کا قیام کرنے والے ہیں۔ مسجد کیلئے تھوڑا سا چندہ دے کر یہ نہیں سمجھتے کہ ہم نے جماعت پر بڑا احسان کر دیا ہے کہ مسجد کی تعمیر میں رقم دے دی ہے بلکہ مسجدیں تعمیر کرنے کے بعد ان کی آبادی کی فکر کرتے ہیں۔ نماز باجماعت کیلئے مسجدوں میں آتے ہیں۔ فجر کی نماز پر بستروں میں پڑے اینٹھتے نہیں رہتے۔ آج کل تو یہاں بڑی لمبی راتیں ہیں گرمیوں کی راتوں میں اکثر کی ایمانی حالتوں کا پتہ چلتا ہے۔ پس نماز باجماعت کی طرف بھی ایک فکر کے ساتھ توجہ ہونی چاہئے۔

پھر مسجدیں آباد کرنے والوں کی نشانی یہ بتائی کہ زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔ ایک دفعہ مسجد کی تعمیر میں چندہ دے کر ایک بڑی رقم بھی اگر دے دی ہے تو اس کے بعد آزاد نہیں ہو گئے بلکہ زکوٰۃ اور دوسرے جماعتی چندوں کی طرف بھی ایک فکر کے ساتھ متوجہ رہتے ہیں۔ اگر یہ توجہ قائم رہے گی اور اللہ کا خوف سب خوفوں پر غالب رہے گا کوئی ایسی حرکت نہیں ہوگی جو خلاف اسلام اور خلاف شرع ہو بندوں کے حقوق بھی ادا کر رہے ہوں گے توپھر آپ کو مسجدیں وہ نظارے پیش کریں گی جو عابدوں اور زاہدوں کے نمونوں سے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ پھر اللہ کے فضلوں کو سمیٹنے والے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوتے ہیں اور جس مقصد کو لے کر اٹھتے ہیں اس میں پھر کامیابیاں حاصل کرتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنی دعاؤں کے تیروں سے مخالفین کے حملوں کو ناکام کر دیتے ہیں۔ پس اس سوچ کے ساتھ مسجدیں بنائیں اور انہیں آباد کریں تو جہاں آپ اپنی عاقبت سنوار رہے ہوں گے، اپنی آخرت سنوار رہے ہوں گے وہاں دنیا کی قسمت بھی سنوارنے والے بن رہے ہوں گے۔ ورنہ دنیا میں ایسی مساجد ہیں اور خاص طور پر اس زمانے میں جو مسلمانوں نے خود ہی اسلام کی شکل بگاڑ دی ہے کہ مسجدیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو آواز دینے والی ہیں۔ اس حالت کا نقشہ ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا ہے۔ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہ رہے گا، الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اس زمانے کے لوگوں کی مسجدیں بظاہر تو آباد نظر آئیں گی۔ لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِّنَ الْھُدٰی، علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بد ترین مخلوق ہوں گے۔ ان میں سے فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح۔ کتاب العلم الفصل الثالث۔ حدیث نمبر۲۷۶) تو کیا ان مسجدوں میں نمازیں نہیں ادا کی جاتیں۔ آج کل تو ہمارے مخالف زیادہ زور سے پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ ظاہری نمازیں پڑھتے ہیں سب کچھ کرتے ہیں لیکن جو اللہ تعالیٰ نے شرط بتائی ہے ایمان کی اس کو وہ زمانے کے امام کو نہ مان کر پورا نہیں کر رہے۔ پس یہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر فضل فرمایا ہے اس پر اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں اور اس کے بتائے ہوئے حکموں پر عمل کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں تاکہ یہ فضلوں کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :’’مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ‘‘۔

پس آج جب ہم نئی مساجد بنا رہے ہیں اس سوچ کے ساتھ بنائیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے اس کی تعمیر اور آبادی کرنی ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 29؍ دسمبر 2006ء شہ سرخیاں

    آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہے جس نے اسلام کا دفاع کرنا ہے۔ اللہ کے بندوں کو اللہ کے حضور جھکنے والا بنانا ہے۔ محبتیں بکھیرنی ہیں اور اسلام کی صحیح اور خوبصورت تعلیم دنیا میں پھیلانی ہے۔ انشاء اللہ۔

    ہماری مسجدوں کے میناروں سے اللہ تعالیٰ کے نور کی کرنیں پھیلنی چاہئیں۔

    فرمودہ مورخہ 29؍دسمبر 2006ء (29؍ فتح 1385ھش) بمقا م بیت السبوح، فرینکفورٹ

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور