حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد

خطبہ جمعہ 10؍ اگست 2007ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد، تعوذ و سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

وَبَشِّرِالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْا َنْھٰرُ۔ کُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْھَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا قَالُوْا ھٰذَاالَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَاُ تُوْا بِہٖ مُتَشَابِھًا۔ وَلَھُمْ فِیْھَآ اَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ(البقرۃ:26)

جلسہ سالانہ کے خطبات سے پہلے مَیں اللہ تعالیٰ کی صفتِ مومن کے تحت یہ بیان کررہا تھا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اس سے حقیقی رنگ میں فیض پانے والے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اس صفت المؤمن کے تحت ایک مومن کے کیا اوصاف ہونے چاہئیں جن کے بعد ایک بندہ حقیقی رنگ میں اللہ پر ایمان لاتے ہوئے اس کے انعامات کا حصہ دار بنے گا، آج بھی میں اسی مضمون کوجاری رکھتا ہوں۔ ایک مومن کی اللہ تعالیٰ نے یہ نشانی بتائی ہے کہ وہ اعمال صالحہ بجالانے والا ہوتا ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ پر ایمان ہوگا، اس کے فرشتوں پر ایمان ہوگا، اس کی کتابوں پر ایمان ہوگا، اس کے رسولوں پر ایمان ہوگا، یومِ آخرت پر ایمان ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا نام جب ایک مومن کے سامنے لیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں موجزن ہو گی اور اس کا دل اس بات سے بھی خوفزدہ ہو گا کہ کہیں مَیں کوئی ایسی بات نہ کروں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنے۔ تو لازماً پھر جب ایسی حالت ہوگی تو پھر اس کے دل میں یہ خیال ہر وقت غالب رہے گا کہ مَیں وہی اعمال بجالاؤں جو اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اعمال ہیں، جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ پس ایک مومن کو ایسے صالح اعمال بجالانے چاہئیں جن میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ بندوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جاتا ہو۔ اگر یہ بات ایک انسان میں پیدا ہو جائے تو یہ اسے حقیقی مومن کی صف میں کھڑا کردیتی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ کامل الایمان کی تعریف کرتے ہوئے اور افرادِ جماعت کو توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

’’ اس کی توحید زمین پر پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کوشش کرو اور اس کے بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی ترکیب سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو اور کسی پر تکبر نہ کرو، گو اپنا ماتحت ہو اور کسی کو گالی مت دو، گو وہ گالی دیتا ہو۔ غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔ بہت ہیں جو حلم ظاہر کرتے ہیں مگر وہ اندر سے بھیڑیے ہیں۔ بہت ہیں جو اوپر سے صاف ہیں مگر اندر سے سانپ ہیں۔ سو تم اس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔ بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو، نہ ان کی تحقیر۔ عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو نہ خودنمائی سے ان کی تذلیل۔ امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو، نہ خود پسندی سے ان پر تکبر۔ ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔ خدا سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو‘‘۔ (کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ12-11)

یہ وہ چند باتیں ہیں، یہ وہ اعمال ہیں جن کے بجالانے کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے توجہ دلائی ہے اور ان کو بجالانے والا نیک اور صالح کہلا سکتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے سلسلے میں شمولیت کرنے والوں کے لئے شرط قرار دیا ہے۔ اور اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق، اس بات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ آخرین میں مبعوث ہونے والا آنحضرتﷺ  کا غلام صادق یہی ہے جس کی ہم نے بیعت کی ہے، جس کی جماعت میں ہم شامل ہیں، جو تقویٰ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے نیک اعمال کے کرنے کی ہم سے توقع کررہا ہے تو پھر اپنے ایمان کی مضبوطی کے لئے بڑی سنجیدگی سے ہر احمدی کو ان باتوں کی طرف توجہ دینی ہوگی تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث بنتے چلے جائیں۔ اور پہلی بات جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں توجہ دلائی ہے وہ ہے توحید کو زمین پر پھیلانے کی کوشش۔ خداتعالیٰ پر ایمان صرف اسی بات کا نام نہیں کہ ہم نے اپنے منہ سے خداتعالیٰ پر اپنے ایمان کا اعلان کر دیا یا کہہ دیا کہ ہمارے دلوں میں اللہ کا بڑا خوف ہے بلکہ اس کی عملی شکل دکھانی ہو گی اور وہ کیا ہے؟ توحید کے قیام کی کوشش۔ اور توحید کے قیام کی عملی کوشش اس وقت ہوگی جب ہم سب سے پہلے اپنے دلوں کو غیراللہ سے پاک کریں گے۔ دنیاوی خواہشات کے چھوٹے چھوٹے بتوں کو اپنے دلوں سے نکال کر باہر پھینکیں گے۔ ذاتی منفعتیں حاصل کرنے کے لئے دنیاوی چالاکیوں اور جھوٹ کا سہارا نہیں لیں گے۔ اپنے کاموں کو، اپنے کاروباروں کو، اپنی نمازوں پر ترجیح نہیں دیں گے۔ اپنے بچوں کا خداتعالیٰ سے تعلق جوڑنے کے لئے اپنے عمل سے اور اپنے قول سے ان کی تربیت کریں گے، ان کے لئے نمونہ بنیں گے۔ اپنے ماحول میں خداتعالیٰ کی توحید کا پرچار کریں گے۔ پس جب یہ باتیں ہم اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اور استعدادوں کے ساتھ کررہے ہوں گے تو تب ہی توحید کے قیام کی کوشش ہوگی اور تبھی ہم اپنے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کر رہے ہوں گے۔

پھر نیک اعمال کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’ بندوں پر رحم کرو‘‘۔ کوئی مومن نہ صرف دوسرے مومن پر بلکہ کسی انسان پر زبان سے یا ہاتھ سے یا کسی بھی طریق سے ظلم نہ کرے۔ آنحضرتﷺ  نے تو مومن کی نشانی یہ بتائی ہے کہ (مومن وہ ہے) جس سے تمام دوسرے انسان محفوظ رہیں۔ پس مومن کی پہچان ہی رحم ہے۔ ظلم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ جب یہ رحم ایک مومن کے دل میں دوسروں کے لئے ہروقت موجزن ہوگا تبھی وہ رحمان خدا پر حقیقی ایمان لانے والے کہلا سکیں گے اور آپس کے تعلقات میں تو ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ اس طرح ہے جیسے ایک جسم کے اعضاء۔ پس جب تعلق کا یہ تصور ہر احمدی میں پیدا ہوگا تو بے رحمی اور ظلم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ دوسروں کو پہنچی ہوئی تکلیف، بلکہ ہلکی سی تکلیف بھی اپنی تکلیف لگے گی اور یہ ایک احمدی کی سوچ ہونی چاہئے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ’مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو‘۔ تو جیسا کہ مَیں نے کہا کہ مومن دوسرے مومن کی تکلیف کو بھی اپنی تکلیف سمجھتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمارے معیار بہت اونچے دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ صرف مومن کی تکلیف کو محسو س ہی نہیں کرنا بلکہ جب تمہارے دل میں رحم کا جذبہ دوسرے کے لئے پیدا ہو جائے تو مزید ترقی کرو۔ اس رحم کے جذبے کو صرف اپنے دل تک ہی نہ رکھو، وہیں تک محدود نہ رہے بلکہ اس کا اظہار بھی ہو۔ اور اظہار کس طرح ہو؟ فرمایا اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی’ مخلوق کی بھلائی کی کوشش کرتے رہو‘۔ لوگوں کو فیض پہنچانے کے لئے اگر قربانی بھی کرنی پڑے تو کرو۔ اپنے ایمان کے اعلیٰ معیار کے وہ نمونے دکھاؤ جو پہلوں نے دکھائے تھے، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے کہ وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ (الحشر:10) اور وہ خود اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے۔

آنحضرتﷺ نے دعویٰ نبوت سے پہلے بھی اپنی پاک فطرت کے نمونے دکھائے اور یہ نمونے دکھاتے ہوئے دوسروں کی بھلائی کی خاطر، دوسروں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے کوششیں کیں اور حلف الفضول جو ایک معاہدہ ہے جو تاریخ میں آتا ہے وہ اُسی کی ایک کڑی ہے۔ اور نبوت کے بعد تو دوسروں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ان کی بھلائی اور خیر چاہنے کے لئے آپ کے جوعمل تھے اس کے نظارے ہمیں آپ کی زندگی میں تیز بارش کی طرح نظر آتے ہیں اور یہی آپ کے نمونے اور قوتِ قدسی تھی جس نے یہ روح صحابہ میں پھونک دی جس کی و جہ سے وہ دوسروں کی بھلائی چاہنے میں بڑھتے چلے گئے۔

اور اس زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مخلوق کی بھلائی کے لئے بھی بلاتفریق مذہب و ملت وہ نظارے دکھائے جو ہمارے لئے قابلِ تقلید ہیں اور مشعل راہ ہیں۔ عورتیں، بچے دیہاتوں سے آتے ہیں کہ آپؑ سے اپنی بیماری کے لئے دوائیاں لیں اور آپؑ بغیر کسی اعتراض کے اس فیض سے کئی گھنٹے تک لوگوں کو فیضیاب کررہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ غریب لوگ ہیں اس علاقے میں ڈاکٹر نہیں ہے، ان کے پاس پیسے نہیں، خرچ نہیں کرسکتے تو ان سے ہمدردی کا یہ تقاضا ہے کہ ان کی ضرورت پوری کی جائے۔ باوجود اس کے کہ آپ کے بے انتہا کام تھے اور اس زمانے میں ایک چومکھی لڑائی تھی جو تمام ادیانِ باطلہ سے آپ لڑرہے تھے لیکن مخلوق کی بھلائی کا اس قدر جذبہ تھا کہ اس کے لئے وقت نکال رہے ہیں اور گھنٹوں اس کام کے لئے مصروف ہیں۔ پھر اس اقتباس میں جو مَیں نے پڑھا آپ ہمیں توجہ دلاتے ہیں کہ’کسی پر تکبر نہ کرو، گو تمہارا ماتحت ہی ہو‘۔ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت بنایا ہے، تمہارے زیر نگین کیا ہے تو اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ تمہاری مدد کے لئے اللہ تعالیٰ نے سامان بہم پہنچایا، بعض لوگوں کو تمہاری خدمت پر مامور کیا۔ ایک مومن کی یہ شان ہے کہ جتنے اختیارات وسیع ہوں اتنی زیادہ عاجزی ہونی چاہئے، اتنی زیادہ شکرگزاری ہونی چاہئے، ہمیشہ یہ یاد رکھو کہ ہمارا ہر عمل وہ رہنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ کو پسندیدہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر سے بچنے کے بارے میں کیا فرماتا ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے وَلَا تُصَعِّرْخَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ(لقمان:19) اور نخوت سے اپنے گال لوگوں کے سامنے نہ پھلا اور زمین میں تکبر سے مت چل۔ اللہ یقینا ہر شیخی کرنے والے اور فخر کرنے والے سے پیار نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ ناپسند ہیں جو فخر کرنے والے اور تکبر کرنے والے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کاپیار حاصل کرنا ہے، اگر یہ دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے میرا دل ڈر جاتا ہے تو پھر ہر قسم کے تکبر سے اپنے آپ کو پاک کرنا ہوگا۔ بااختیار اور صاحب عزت ہونا ایک مومن کو، اگر اس کے دل میں حقیقی ایمان ہے، عاجزی اور شکرگزاری میں بڑھاتا ہے۔

آنحضرتﷺ نے تو غلاموں کی بھی عزت نفس کا اس قدر خیال رکھا ہے کہ فرمایا کہ اپنے غلاموں کو میرا غلام یا میری لونڈی کہہ کے نہ پکارو بلکہ میرا لڑکا یا لڑکی کہہ کر پکارا کرو۔

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں توجہ دلائی فرمایا کہ گالی مت دو خواہ دوسرا شخص گالی دیتا ہو۔ اور یہی گُر ہے جس سے مومن کی زبان ہمیشہ صاف رہتی ہے۔ ایک مومن کو تو ہمیشہ پاک زبان کا استعمال کرنا چاہئے۔ گالی کی تو اس سے توقع ہی نہیں کی جاسکتی۔ اپنے آپ کو کسی کی گالی سن کر پھر اس سے روکنا نہ صرف زبان کو پاک رکھتا ہے بلکہ ذہن کو بھی بہت سے غلط کاموں کے کرنے سے بچاتا ہے۔ گالی سن کر انسان کا فطری ردّعمل یہی ہوتا ہے کہ انسان غصے میں آجاتا ہے اور اس کے ردّعمل کے طور پر بھی جس کو گالی دی جاتی ہے یا بُرا بھلا کہا جاتا ہے، وہ بھی اسی طرح الفاظ دوسرے پر الٹاتا ہے۔ پس جب یہ ارادہ ہو کہ انہی الفاظ میں جواب نہیں دینا جو غلط الفاظ دوسرے نے استعمال کئے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع فرمایا ہے، تو یہ بہت بڑی نیکی ہے اور یہ نیکی ایک بہت بڑے مجاہدے سے حاصل ہوگی۔ یہ آسان کام نہیں ہے۔ اور یہ مجاہدہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا، جب تک خداتعالیٰ پر کامل ایمان نہ ہو اور ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب نہ ہو اور پھر یہی چیز ہے جس سے صبر کے معیار بڑھیں گے۔ ایک مومن کو تو یہ ضمانت میسر ہے کہ اگر کسی کی غلط زبان پر یا غلط بات پر یا غلط حملوں پر تم صبر کرتے ہو تو فرشتے جواب دیتے ہیں۔ جب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے ہماری ڈھال بھی بنا دیا ہے اور ہماری طرف سے جواب دینے کے لئے بھی مقرر کردیا ہے تو پھر اس سے بہتر اور کیا سودا ہوگا۔ پھر اس سے بڑھ کر صبر کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں خوشخبری دی ہے کہ وَبَشِّرِالصَّابِرِیْنَ یہ نوید اللہ تعالیٰ ہمیں سناتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ ان مومنوں کے ربّ کی طرف سے جو صبر کرتے ہیں ان پر اس صبر کی و جہ سے برکتیں اور رحمتیں نازل ہوں گی۔ اور الٹا کر جواب نہ دینا صرف ایک مومن نہ صرف اس سے اپنے دل و دماغ کو غلاظت سے بچاتا ہے بلکہ فرشتوں کی دعاؤں سے بھی حصہ لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں بھی حاصل کرتا ہے اور پھر معاشرے میں امن قائم کرنے والا بھی بنتا ہے، مزید جھگڑوں اور فسادوں سے معاشرے کو محفوظ رکھتا ہے۔ گالی کا جواب گالی سے دینے سے بعض دفعہ دوسرا فریق مزید طیش میں آجاتا ہے۔ اس کے حمایتی جمع ہو جاتے ہیں، دوسرے فریق کے حمایتی جمع ہو جاتے ہیں، اس گالی پر بعض دفعہ ایسی خطرناک لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ قتل تک ہو جاتے ہیں۔ پس جب مومن کا مطلب ہی امن سے رہنے والا اور امن پھیلانے والا ہے تو اس سے ایسے امن کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی جس کے نتائج فتنہ و فساد پر منتج ہوں۔ پس اگر ان بھیانک نتائج سے بچنا ہے تو پھر اس کا علاج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ گالی کا جواب گالی سے نہ دو، غریب اور حلیم اور نیک نیت ہو جاؤ۔ پس اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کی نیت سے اور یہ سب کچھ عاجزی اور عقل سے چلتے ہوئے برداشت کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے حقیقی مومن کہلاؤ گے۔ پس یہ اور اسی طرح دوسرے اخلاق اپنانے والی اور بُرائیوں سے روکنے والی جو باتیں ہیں، یہی ہیں جو انسان کو، ایک مسلمان کو ایک حقیقی مومن بناتی ہیں اور جب تک ایک مسلمان نیک اعمال بجالانے کی کوشش کرتا رہے گا اور اپنی عبادتوں کے ساتھ اعمالِ صالحہ بجالاتا رہے گا جن میں سے ابھی کچھ کا بیان ہوا ہے تو وہ حقیقی مومن کہلانے والا رہے گا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ایک مسلمان توجہ کے ساتھ ان باتوں پر عمل نہیں کرتا جو خداتعالیٰ نے بتائی ہیں تو پھر اس کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اٰمَنَّا کہ ہم ایمان لے آئے بلکہ ہماری ابھی یہ حالت ہے جو اَسْلَمْنَا والی ہے کہ ہم نے بیعت تو کرلی، فرمانبرداری تو کچھ حد تک قبول کرلی لیکن ایمان کامل نہیں ہوا۔ کیونکہ اگر حقیقتاً ایمان دل میں پیدا ہوگیا ہے تو پھر تو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کی کوشش ہر ایک میں نظر آنی چاہئے۔ اور ہم دنیا میں حقیقی انقلاب اسی وقت لاسکیں گے جب ہمارا ایمان اس معیار کی طرف جارہا ہوگا جس میں عبادتوں کے معیار بھی بلند کرنے کی کوشش ہورہی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا خوف بھی دلوں میں پیدا ہوگا اور اس کے لئے کوشش ہورہی ہوگی۔ اعمالِ صالحہ بجالانے کے لئے بھی ایک تڑپ ہوگی جو ایک مومن میں بڑھتی چلی جاتی ہے اور ان باتوں کے ساتھ ہم پھر اللہ تعالیٰ کے اس پیارے رسولﷺ کے حقیقی ماننے والے بھی ہوں گے جو حظِّ عظیم پر پہنچا ہوا تھا، بڑے بلند مقام پر پہنچاہوا تھا اور جس کی نمازیں بھی اور تمام اعما ل بھی جس کی قربانیاں بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر تھیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنحضرتﷺ کے اُسوہ پر چلنے کا حکم دیا ہے تو آپؐ نے جو نمونے قائم کئے ان کی طرف چلنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔ پس جب یہ معیار حاصل کرنے کی طرف آگے بڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ پھر ایسے ایمان لانے والوں کو خوشخبری دیتا ہے اور وہ فرماتا ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے کہ وَبَشِّرِالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْا َنْھٰرُ خوشخبری دے دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے کہ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔ کُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْھَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا قَالُوْا ھٰذَاالَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَاُ تُوْا بِہٖ مُتَشَابِھًاجب ان باغات میں سے، ان جنتوں میں سے جو اُخروی جنتیں ہیں ان کو بطور رزق پھل دیئے جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے بھی دیا جاچکا ہے۔ وَاُ تُوْا بِہٖ مُتَشَابِھًا حالانکہ اس سے پہلے ان کے پاس ملتا جلتارزق لایاگیاتھااور ان کے لئے ان باغات میں پاک بنائے ہوئے جوڑے ہوں گے وَھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (البقرۃ:26)اور وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :

’’جو لوگ ایمان لاتے اور اچھے اعمال کرتے ہیں ان کو خوشخبری دے دو کہ وہ ان باغوں کے وارث ہیں جن کے نیچے ندیاں بہ رہی ہیں۔ اس آیت میں ایمان کو اللہ تعالیٰ نے باغ سے مثال دی ہے اور اعمالِ صالحہ کو نہروں سے۔ جو رشتہ اور تعلق نہر جاریہ اور درخت میں ہے وہی رشتہ اور تعلق اعمالِ صالحہ کو ایمان سے ہے۔ پس جیسے کوئی باغ ممکن ہی نہیں کہ بغیر پانی کے بدُوں سرسبز اور ثمردار ہوسکے‘‘ (پانی کے بغیر پھل نہیں لگ سکتے، درخت سرسبز نہیں رہ سکتا) ’’اسی طرح پر کوئی ایمان جس کے ساتھ اعمالِ صالحہ نہ ہوں مفید اور کارگر نہیں ہوسکتا۔ پس بہشت کیا ہے وہ ایمان اور اعمال ہی کے مجسم نظارے ہیں۔ وہ بھی دوزخ کی طرح کوئی خارجی چیز نہیں ہے بلکہ انسان کا بہشت بھی اس کے اندر ہی سے نکلتا ہے۔ یاد رکھو کہ اُس جگہ پر جو راحتیں ملتی ہیں وہ وہی پاک نفس ہوتا ہے جو دنیا میں بنایا جاتا ہے۔ پاک ایمان پودا سے مماثلت رکھتا ہے اور اچھے اچھے اعمال، اخلاقِ فاضلہ یہ اس پودا کی آبپاشی کے لئے بطور نہروں کے ہیں جو اس کی سرسبزی اور شادابی کو بحال رکھتے ہیں۔ اس دنیا میں تو یہ ایسے ہیں جیسے خواب میں دیکھے جاتے ہیں مگر اس عالم میں محسوس اور مشاہد ہ ہوں گے‘‘۔

فرمایا کہ: ’’یہی وجہ ہے کہ لکھا ہے کہ جب بہشتی ان انعامات سے بہرہ ور ہوں گے تو یہ کہیں گے کہ ھٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَاُ تُوْا بِہٖ مُتَشَابِھًا (البقرۃ:26) اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ دنیا میں جو دودھ یا شہد یا انگور یا انار وغیرہ چیزیں ہم کھاتے پیتے ہیں وہی وہاں ملیں گی۔ نہیں، وہ چیزیں اپنی نوعیت اور حالت کے لحاظ سے بالکل اَورکی اَور ہوں گی۔ ہاں صرف نام کا اشتراک پایا جاتا ہے اور اگرچہ ان تمام نعمتوں کا نقشہ جسمانی طور پر دکھایا گیا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ بتا دیا گیا ہے کہ وہ چیزیں روح کو روشن کرتی ہیں اور خدا کی معرفت پیدا کرنے والی ہیں۔ ان کا سرچشمہ روح اور راستی ہے۔ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ سے یہ مراد لینا کہ وہ دنیا کی جسمانی نعمتیں ہیں، بالکل غلط ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا منشاء اس آیت میں یہ ہے کہ جن مومنوں نے اعمالِ صالحہ کئے، انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک بہشت بنایا جس کا پھل وہ اس دوسری زندگی میں بھی کھائیں گے اور وہ پھل چونکہ روحانی طور پر دنیا میں بھی کھا چکے ہوں گے اس لئے اُس عالم میں اُس کو پہچان لیں گے اور کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل معلوم ہوتے ہیں۔ اور یہ وہی روحانی ترقیاں ہوتی ہیں جو دنیا میں کی ہوتی ہیں اس لئے وہ عابد و عارف ان کو پہچان لیں گے، مَیں پھر صاف کرکے کہنا چاہتا ہوں کہ جہنم اور بہشت میں ایک فلسفہ ہے جس کا ربط باہم اسی طرح پر قائم ہوتا ہے جو میں نے ابھی بتایا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 21 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پس اعمال کی یہ سرسبزی اسی وقت تک قائم ہوگی جب تک اعمال صالح ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے ہم اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ پس مومنوں کویہ خوشخبری صرف اگلی زندگی کے لئے نہیں تھی بلکہ اللہ تعالیٰ مومنوں کے ایمانوں کو مضبوط کرنے کے لئے اس دنیا میں بھی نیک عمل کرنے والوں اور اس کی رضا کے حصول کے لئے کوشاں رہنے والوں کو ان پھلوں کے مزے چکھاتا ہے، ان پھلوں کو دکھاتا ہے جو قبولیتِ دعا کے ذریعہ سے بھی ہوتے ہیں۔ ایک مومن کی روحانی ترقی کی و جہ سے اس کا دل سکون اور قناعت کی صورت میں ہوتا ہے جو اس کے دل میں پیدا ہوتی ہے، یہ بھی ان پھلوں میں سے ہے۔ دینی اور دنیاوی نعمتیں بھی ایک مومن کو اس دنیا میں ملتی ہیں اور یہ دنیاوی نعمتیں اس کامقصود نہیں ہوتیں بلکہ اللہ تعالیٰ اُن اعمال کی و جہ سے جو ایک مومن خدا کی رضا کے حصول کے لئے بجالاتا ہے یا بجالارہا ہوتا ہے، اسے عطا فرماتا ہے۔ پس ہر عمل صالح تب ہوگا جب اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اس کو بجالارہے ہوں گے۔ ورنہ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگ نمازیں پڑھنے والے ہیں جن کی نمازیں ان کے منہ پر ماری جاتی ہیں حالانکہ نمازپڑھنا نیک عمل ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگ بعض دفعہ بہت خرچ کرتے ہیں لیکن ان میں ایمان نہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر نہیں کررہے ہوتے بلکہ دنیا دکھاوے کے لئے کررہے ہوتے ہیں اس لئے وہ عمل ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ ایک شخص، ایک یہودی صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے بارش میں جانوروں کو دانہ ڈال رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ اجر دیا کہ اس کو ایمان نصیب ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے جو عمل ہوگا وہ ایمان میں بھی بڑھاتا ہے، ایمان نصیب بھی کرتا ہے اور اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا وارث بناتا ہے اور آخرت میں بھی بناتا ہے۔ پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ درختوں کی سرسبزی کے لئے پانی ضروری ہے اسی طرح ایمان کی مضبوطی اور سرسبزی کے لئے اعمالِ صالحہ ضروری ہیں۔ تمام وہ نیک اعمال بجالانے ضروری ہیں جو خداتعالیٰ نے ہمیں بتائے ہیں۔ جو اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہیں، جو ایمان میں بڑھنے کے لئے ہیں۔ پس اس سوچ کے ساتھ ہر احمدی کو اپنی عبادتیں بھی کرنی چاہئیں اور دوسرے اعمال بھی بجالانے چاہئیں تاکہ ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی چلی جائے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ہم وارث بنتے چلے جائیں۔ اللہ تعالیٰ اسی سوچ کے ساتھ ہر احمدی کو زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا:

’’ابھی جمعہ کی نماز کے بعد انشاء اللہ میں دو نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔ ایک تو صاحبزادی امۃ العزیز بیگم صاحبہ کا ہے، جو میری خالہ تھیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت امّ ناصر کے بطن سے بیٹی تھیں۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی بہو تھیں، مرزا حمید احمد صاحب کی بیوی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اپنے بچوں کی آمین لکھی، حضرت مرزا ناصر احمد خلیفۃ المسیح الثالث سے ان تک کے بچوں کی، اس میں آپ کے بارے میں بچپن میں یہ لکھا کہ’’ عزیزہ سب سے چھوٹی نیک فطرت‘‘، (اس آمین کا ایک مصرعہ ہے)۔

بڑی صبر کرنے والی تھیں، توکُّل کا اعلیٰ مقام تھا، نیک تھیں، ملنسار تھیں، بڑی دعا گو تھیں۔ نمازیں بڑے انہماک اور توجہ سے ادا کرتیں۔ ان کی نمازیں بڑی لمبی ہوا کرتی تھیں۔ کئی کئی گھنٹے مغرب کی نماز عشاء تک اور عشاء کی نماز آگے کئی گھنٹے تک تو مَیں نے ان کو پڑھتے دیکھا ہے اور یہ روزانہ کا معمول تھا۔ اللہ کے فضل سے بڑی دعا گو غریب پرور خاتون تھیں۔ آپ کو خلافت سے بڑا تعلق تھا۔ مجھے بھی بڑی عقیدت سے خط لکھا کرتی تھیں۔ جماعتی طور پر پہلے سترہ سال لاہور کی نائب صدر لجنہ رہیں۔ 1967ء سے 1983ء تک لاہور میں صدر لجنہ رہیں۔ اللہ کے فضل سے لاہور کی لجنہ کے لئے بڑا کام کیا۔

عالمی بیعت کے دنوں میں ایک سبز کوٹ پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ پہنا کرتے تھے اور اب مَیں پہنتا ہوں، یہ کوٹ حضرت مرزا بشیراحمد صاحب کی طرف سے ان کے خاوند محترم صاحبزادہ مرزا حمید احمد صاحب کے حصہ میں آیا تھا۔ جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے یہاں ہجرت کی تو یہ کوٹ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کو دیا کہ آپ جب تک وہاں ہیں اس کوٹ کو آپ جب بھی پہنیں میرے لئے بھی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد مرزا حمید احمد صاحب کی وفات تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے زمانے میں ہو گئی تھی۔ صاحبزادی امتہ العزیز نے یہ کوٹ دے دیا۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کی وفات کے بعد مَیں نے ان کو کہا کہ یہ کوٹ آپ لوگوں نے امانتاً دیا ہوا تھا تو انہوں نے مجھے اپنی بیٹیوں سے پوچھ کر لکھ کر دیاکہ یہ کوٹ اب عالمی بیعت کی ایک نشانی بن چکا ہے، اس لئے ہم اس کو خلافت کو ہبہ کرتے ہیں اور انہوں نے یہ تبرک خلافت کے لئے دے دیا۔ ان کے لئے جماعت کو بھی دعا کرنی چاہئے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک تبرک، چھوٹا سا کپڑا بھی کوئی نہیں دیتا، بڑی قربانی کرکے یہ کوٹ دیا ہوا ہے۔ آپ کی تین بیٹیاں ہیں۔ ایک مصطفی خان صاحب لاہور کی اہلیہ ہیں جو حضرت نواب امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ کے بیٹے ہیں۔ دوسری امۃ الرقیب ہیں جو ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب جو ربوہ کے ہیں ان کی بیگم ہیں اور تیسری کوثر حمید ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ان نیکیوں پر قائم فرمائے جو ان میں تھیں۔ دوسرا جنازہ نعیمہ سعید صا حبہ اہلیہ ملک سعید احمد رشید صاحب مربی سلسلہ کا ہے۔ ان کے نانا، دادا، پڑدادا یہ سب صحابی تھے۔ عبدالسمیع صاحب کپورتھلوی کی پوتی تھیں اور منشی عبدالرحمن صاحب کی پڑپوتی تھیں۔ علاوہ واقف زندگی کی بیوی ہونے کے ان کی لجنہ میں بھی کافی خدمات ہیں۔ لجنہ ہومیوکلینک انہوں نے بڑی اچھی طرح چلایا اور اپنی بیماری کے باوجود بڑی ہمت اور محنت سے کام کرتی رہیں۔ ان کی تقریباً جوانی کی ہی عمر تھی۔ یہ 49 سال کی عمر میں فوت ہو گئیں۔ ان کے بچے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان بچوں کو بھی صبر دے اور ان کی دعائیں اپنے بچوں کے لئے قبول فرمائے۔ ان کا ہمیشہ حافظ و ناصر رہے۔

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل لندن مورخہ 31؍اگست تا 6ستمبر2007ء ص 5 تا 8)


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 10؍ اگست 2007ء شہ سرخیاں

    مومن کو حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی خیال رکھنا چاہیے، ہمیں عبادتوں کے معیار کو بلند کرنے کی کوشش کرنی ہوگی، صاحبزادی امۃ العزیز بیگم صاحبہ کی وفات اور ان کی خوبیوں کا ذکر، نیز نعیمہ سعدیہ صاحبہ اہلیہ ملک سعید احمد رشید صاحب کی وفات کا ذکر

    فرمودہ مورخہ 10 ؍اگست 2007ء (10؍ظہور 1386ہجری شمسی) بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور