ابتلاؤں اور مشکلات سے بچنے کی دعائیں

خطبہ جمعہ 5؍ دسمبر 2008ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

ہر انسان کی اِس دنیا میں خواہشات ہوتی ہیں جو ہر ایک کی ذہنی اور جسمانی استعدادوں، علمی صلاحیتوں، مالی حالتوں، اپنے ماحول اور معاشرے کی حدود یاوسعت کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔ لیکن ایک مومن کو، ایک کامل ایمان والے کو، ایسے لوگوں کو جن کا کامل بھروسہ خداتعالیٰ کی ذات پر ہوتا ہے ہر کام، ہر خواہش ہر مشکل اور ہرآسائش میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور ہونی چاہئے۔ تبھی ایک انسان مومن کہلا سکتا ہے۔ تبھی ایمان میں ترقی کرنے والا کہلا سکتا ہے۔ تبھی اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار کہلا سکتا ہے۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی خواہش اور اس کو پورا کرنے کے لئے وہ اس فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے کہ اگر جوتی کا تسمہ بھی لینا ہے تو خدا سے مانگو۔ کیونکہ اگر خداتعالیٰ کی مرضی نہیں ہو گی تو جیب میں رقم ہونے کے باوجود، بازار تک پہنچنے کے باوجود، اُس دکان میں داخل ہونے کے باوجود جہاں سے تسمہ خریدنا ہے، ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں کہ اس تسمے کا حصول ممکن نہ ہو۔ اور اگر یہ ممکن ہو بھی جائے تو اس کو استعمال کرنا نصیب نہ ہو۔

پس ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کے لئے، ہر چھوٹی سے چھوٹی خواہش کی تکمیل کے لئے، اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا ایک مومن کے لئے انتہائی ضروری ہے اور اس کا فضل مانگتے ہوئے اس چیز یا خواہش کے حصول اور تکمیل کی کوشش کرنی چاہئے۔

ہم احمدیوں پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اور مَیں اکثر اس حوالے سے بات کرتا ہوں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلو ٰۃ والسلام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق یہ عرفان اپنی جماعت میں پیدا کرنے کی طرف بڑی شدت سے کوشش کی اور جماعت کو توجہ دلائی بلکہ پیدا فرمایا کہ خدا کو پہچانو اور کس طرح پہچانو۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلو ٰۃ والسلام ایک موقع پر فرماتے ہیں:

’’مَیں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہی کو پیار کرتا ہے اور انہی کی اولاد بابرکت ہوتی ہے جو خداتعالیٰ کے حکموں کی تعمیل کرتا ہے۔ اور یہ کبھی نہیں ہوا اور نہ ہو گا کہ خدا تعالیٰ کا سچا فرمانبردار ہو، وہ یا اس کی اولاد تباہ و برباد ہو جاوے۔ دنیا اُن لوگوں کی ہی برباد ہوتی ہے جو خداتعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور دنیا پر جھکتے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہر امر کی طناب اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اُس کے بغیر کوئی مقدمہ فتح نہیں ہو سکتا۔ کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی اور کسی قسم کی آسائش اور راحت میسر نہیں آ سکتی۔ دولت ہو سکتی ہے مگر یہ کون کہہ سکتا ہے کہ مرنے کے بعد یہ بیوی بچوں کے کام ضرور آئے گی‘‘۔

پھر آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ مخفی ہے مگر وہ اپنی قدرتوں سے پہچانا جاتا ہے۔ دعا کے ذریعہ سے اس کی ہستی کا پتہ لگتا ہے۔ کوئی بادشاہ یا شہنشاہ کہلائے ہر شخص پر ضرور ایسے مشکلات پڑتے ہیں جن میں انسان بالکل عاجز رہ جاتا ہے اور نہیں جانتا اب کیا کرنا چاہئے۔ اس وقت دعا کے ذریعہ سے مشکلات دور ہوتے ہیں‘‘۔

پس یہ فہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلو ٰۃ والسلام نے اپنی جماعت میں پیدا فرمایا کہ ہر حالت میں خداتعالیٰ کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے وہی ہے جو تمام مشکلات کو دور کرنے والا ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں کی صحیح راہنمائی کرنے والا ہے۔ پس جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ اکثریت اس بات کا ادراک رکھتی ہے اور مشکلات میں اور ہر ضرورت میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتی ہے۔ ہر مومن کا کام اور اس کی پیدائش کا مقصد ہی خداتعالیٰ کی عبادت ہے لیکن خاص حالات میں زیادہ توجہ پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل بھی خاص اس وجہ سے ہوتا ہے کہ عام حالات میں بھی مومن خداتعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دینے والا ہوتا ہے۔

جیسا کہ مَیں نے کہا مومن کی بھی خواہشات ہوتی ہیں لیکن وہ ان کو پورا کرنے کے لئے خداتعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اور اس کو جھکنا چاہئے۔ کیونکہ اسے پتہ ہے کہ خداتعالیٰ ہی ہے جو میری خواہشات کو پورا کرنے والا ہے۔ ہر کام میں خداتعالیٰ کی رضا میرا مقصود زندگی ہے۔ یہ ایک مومن کی سوچ ہوتی ہے۔ ایک مومن کو اس بات کا ادراک ہے کہ چاہے وہ ذاتی کام ہو جس کا تعلق روزمرہ کے معاملات سے ہے یا کاروباری معاملات سے ہے یا دینی اور جماعتی حالات ہیں ہر کام کرنے سے پہلے ایک مومن جسے خداتعالیٰ پر کامل ایمان ہے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کام میں برکت ڈالے اور اس کے نیک نتائج پیدا فرمائے۔

بعض دفعہ ایک انسان ایک کام کو اچھا سمجھ رہا ہوتا ہے اور ہوتا بھی وہ نیک کام ہی ہے، سمجھتا ہے کہ اس کے اچھے نتائج نکلیں گے۔ کسی خواہش کی تکمیل کے لئے کوشش بھی کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر وہ بہتر نہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی بھلائی کی خاطر اس میں وقتی یا مستقل روک ڈال دیتا ہے۔ بعض اوقات ایک مومن کسی کام میں ہاتھ ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو یا اس کے قریبیوں کو یا اگر جماعتی معاملہ ہے تو جماعت میں بہت سارے افراد کو اس کام کے اس خاص موقع پر نہ ہونے یا بعض روکوں کے بارے میں پہلے سے اطلاع دے دیتا ہے۔ لیکن انسان پھر بھی اپنے اجتہاد کی وجہ سے اس کو کرنے پر اصرار کرتا ہے اور نتیجۃ ً پھر وہ کام اس خواہش کے مطابق نہیں ہوتا جو مومن چاہ رہا ہوتا ہے اور کام بھی نیک ہوتا ہے۔ اور پھر بعد کے حالات اس حقیقت کو کھول دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے اور اسی میں برکت ہے اور اللہ تعالیٰ فی الحال نہیں چاہتا کہ ایسے حالات پیدا ہوں جس میں یہ کام ہو۔

اللہ تعالیٰ نے اس اصولی بات کی طرف کہ تم بعض کاموں کو اپنے لئے بہتر اور خیر کا باعث سمجھتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس میں تمہارے لئے خیر نہیں ہوتی یا اس میں ایک عارضی روک ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ وَعَسٰی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ کہ ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو۔ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوا شَیْئًا وَّھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ اور ممکن ہے ایک چیز تم پسند کرتے ہو اور وہ تمہارے لئے شر انگیز ہو۔ اور پھر فرمایا وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (البقرۃ: 217) کہ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

اب یہ اصولی بات ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتا دیا کہ انسان کا علم چونکہ محدود ہے۔ بعض دفعہ وہ ایسی چیز کا مطالبہ کر رہا ہوتا ہے جو اسے اچھی بھی لگ رہی ہوتی ہے اور ہوتی بھی حقیقتاً اچھی ہے۔ اس میں اس کو اپنے لئے فائدے بھی نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے حصول کے لئے اس کے دل کی شدید خواہش ہوتی ہے جبکہ وہ یہ برداشت نہیں کرتا کہ کسی بھی طرح وہ اپنی خواہش کی تکمیل یا اس کام کے ہونے سے محروم رہ جائے۔ لیکن نہیں جانتا کہ اس کام کے ہونے سے اس کو نقصان بھی ہو سکتا ہے یا اس وقت کے لئے اتنا فائدہ نہیں جتنا بعد میں ہو سکتا ہے۔ جو جذبہ ایک انسان کا کسی کام کے ہونے کے پیچھے کار فرما ہوتا ہے وہ شدت پسندیدگی یا ناپسندیدگی ہے۔ وہ آگے سے آگے بڑھنے کی خواہش ہے۔ وہ اچھے سے اچھا حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ اگر یہ عام حالات میں کسی مخالف کو نیچا دکھانے کے لئے ہے تو تب بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کام ہو جائے تاکہ میرا ہاتھ مخالف کے اوپر رہے۔ اور کیونکہ انسان کا علم محدود ہوتا ہے اس لئے دونوں طرح کے جذبات یعنی خواہش کی تکمیل اور مخالف کو فوری طور پر ناکامی کا منہ دکھانے کے فائدے اور مضرات کو سمجھ نہیں سکتا اور جب انسان ضد کرتا ہے تو اس کوشش میں بجائے فائدے کے بعض اوقات اپنا نقصان کرا لیتا ہے۔ اپنے تمام وسائل اور سوچیں بروئے کار لانے کے بعد پھر ناکامی ہوتی ہے۔

پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک مومن کا کام ہے کہ کسی خواہش کی تکمیل میں اپنی پسند کو دخل نہ دے۔ بلکہ خاص طور پر جو دینی معاملات ہیں ان کے لئے تو بہت اہم ہے اور عام معاملات میں بھی کہ جو عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ خدا ہے جو سیدھے راستے پر چلانے والا خدا ہے، جس نے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ (الفاتحہ: 6) کی دعا سکھائی ہے اس سے مدد مانگیں۔ وہ خدا جو مجیب ہے، دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے، جو دعاؤں کو سنتا ہے اس کے آگے جھکے کہ اے اللہ! تُو ہی ہر ظاہری اور چھپے ہوئے کا کامل علم رکھنے والا ہے۔ تُو مجھے سیدھے راستے پر چلا۔ میری دعا سن اور مجھے اپنی جناب سے جو تیرے نزدیک بہترین ہے اور جس طرح تو چاہتا ہے اس طرح عطا کر۔ تو جیسا کہ مَیں نے پہلے بیان کیا ہے کہ ایک مومن کو دُعا کے ذریعہ سے ہر کام میں خداتعالیٰ سے مدد مانگنی چاہئے اور جب اس طرح مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ راستہ بھی دکھادیتا ہے۔ لیکن بعض دفعہ دُعا کرنے کے باوجود اور بعض اشاروں کے باوجود جیسا کہ مَیں نے کہا اجتہادی غلطی کر جاتا ہے اور بعض اور اشاروں پر محمول کرتے ہوئے کہ اس میں کامیابی ہے لیکن وہ اشارے کسی اور مقصد کے لئے ہوتے ہیں یا کسی اور وقت کے لئے ہوتے ہیں، اُن کو دیکھتے ہوئے کام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں کو نقصان سے بچانا چاہتا ہے ان کی غلطیوں کے باوجود پھر ایسے حالات پیدا کردیتا ہے، بعض ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کر رہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ نہیں ہے۔ باوجود تمہاری شدید خواہش کے خداتعالیٰ نے اس کام کی تکمیل یا اس کو کرنا کسی اور وقت کے لئے مقدر کر رکھا ہے۔ بے شک یہ کام ہونا ہے، خاص طور پر جو جماعت کی ترقی کے کام ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں یہ مقدر ہیں۔ بے شک انہوں نے ہونا ہے۔ بے شک ہم نے اور جماعت نے من حیث القوم، من حیث الجماعت اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کو سمیٹنا ہے اور پھر ان فضلوں کا ایک نئی شان کے ساتھ دوبارہ انتشار بھی ہونا ہے جس نے پھر دنیا میں پھیلنا ہے اور پھر جماعتی ترقی کے اسباب نظر آنے ہیں۔ لیکن اس کے وقت کا تعین خود خداتعالیٰ نے فرمانا ہے۔ ہمارا کام اس کی رضا پر چلتے ہوئے اور دعائیں مانگتے ہوئے اپنے کام کئے چلے جانا ہے۔

اس سال خلافت جوبلی کے حوالے سے ہر احمدی میں نیا جذبہ ہے۔ مختلف ملکوں کے جلسہ سالانہ ہو چکے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں۔ قادیان کا جلسہ سالانہ بھی دسمبر کے آخر میں مقرر کیا گیا ہے اور اس میں شمولیت کے لئے بڑے جذبے سے دنیا میں احمدیوں نے کوشش کی اور تیاریاں بھی کی ہیں۔ لیکن گزشتہ دنوں ظالم لوگوں نے اس ملک میں، ممبئی میں جو دہشت گردی کی واردات کی ہے، اس نے پورے ملک میں ایک بے چینی پیدا کر دی ہے۔ یہاں کے اخباروں اور ٹیلیویژن چینلز نے جو شخص پکڑا گیا ہے اس کے حوالے سے انکشافات کئے ہیں۔ جو باتیں سامنے آرہی ہیں اس سے لگتا ہے کہ یہ ظالم لوگ یا گروپ جو بھی ان میں ملوث ہیں اپنے ظلموں کو مزید پھیلانے کی کوشش کریں گے۔ اس کی وجہ سے حکومت نے بڑے احتیاطی اقدامات بھی کئے ہیں۔ تو بہرحال ان حالات کی وجہ سے جو یہاں آج کل ہیں مَیں نے باہر سے آنے والے احمدیوں کو روک دیا ہے اور بلا استثناء ہر ایک کو، مَیں پھر واضح کر دوں کہ باوجود اپنی بڑھی ہوئی خواہش کے باہر سے کسی نے اس جلسہ میں شامل ہونے کے لئے نہیں آنا۔ اللہ تعالیٰ حالات بہتر کرے گا تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ موقع مل جائے گا۔ ہمیں تعلیم بھی یہی دی گئی ہے اور دعا بھی یہی سکھائی گئی ہے کہ ہمیشہ ابتلاؤں اور مشکلات سے بچنے کے لئے دعا کرو اور ان جگہوں سے بھی بچو۔ جو یہاں کے شہری ہیں وہ تو بہرحال یہیں رہتے ہیں۔ غیر ملکی جو سفر میں ہوتے ہیں ان کے حالات کچھ اور ہو جاتے ہیں۔ تو بہرحال ہمیں دعاؤں کی تلقین کی گئی ہے چاہے وہ قدرتی آفات ہیں یا ظالمو ں کے پیدا کردہ فسادات ہیں، ان سے بچنے کے لئے دعائیں ہیں۔ مختلف لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جوپہلے ہی بعض فکر مندی والی رؤیا دکھائی تھیں جو کچھ نے مجھے پہلے بھی لکھی تھیں اور اب زیادہ آ رہی ہیں اور یہ سب خوابیں جو دنیا میں ان لوگوں کو دکھائی گئیں جو مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں یہ سننے اور پڑھنے کے بعد اور اسی طرح دعا کے بعد اور مختلف مشوروں کے بعد مَیں نے باہر سے آنے والے لوگوں کو روکا ہے۔ یہی فیصلہ کیا ہے کہ نہ آئیں۔ ہمارے سب کام جذباتیت سے بالا ہو کر ہونے چاہئیں۔ دنیا کی باتوں یا استہزاء کا خیال دل سے نکالتے ہوئے ہونے چاہئیں۔ ہر احمدی کی جان کی قیمت ہے، بلاوجہ اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ مجھے پتہ ہے بہت سوں کو اس سے شدید جذباتی تکلیف پہنچے گی۔ لیکن ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر فضل فرماتا ہے۔ اگر ہم کسی غلط فیصلے کا اپنی بشری کمزوری کی وجہ سے سوچ بھی رہے ہوں تو حالات و واقعات کو اللہ تعالیٰ اس نہج پر لے آتا ہے جس سے ہمیں صحیح سوچوں اور صحیح فیصلوں کی طرف راہنمائی ملتی ہے۔

مَیں نے ابتلاؤں اور مشکلات سے بچنے کے لئے دعا کا ذکر کیا تھا اس کے لئے بہت سی مسنون دعائیں بھی ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی دعائیں سکھائی ہیں۔ حضرت مسیح موعود الصلوٰۃ والسلام کی دعائیں بھی ہیں۔ تو اس وقت مَیں آنحضرتﷺ کی ایک دعا سامنے رکھتا ہوں جس کو مَیں پہلے بعض حوالوں سے بیان کر چکا ہوں اور وہ دعا یہ ہے اَعُوْذُ بِوَجْہِ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ الَّذِیْ لَیْسَ شَیْ ئٌ اَعْظَمُ مِنْہُ وَبِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ الَّتِیْ لَا یُجَاوِزُھُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ وَبِاَسْمَآءِ اللّٰہِ الْحُسْنَی کُلِّھَا مَا عَلِمْتُ مِنْھَا وَ مَا لَمْ اَعْلَمْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَ ذَرَأَ وَبَرَأَ۔ (مؤطا امام مالک کتاب الشعر باب ما یومر بہ من التعوذ حدیث نمبر 1775)

کہ مَیں اپنے عظیم شان والے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ جس سے عظیم تر کوئی شے نہیں اور کامل اور مکمل کلمات کی پناہ میں بھی کہ جن سے کوئی نیک و بد تجاوز نہیں کر سکتا اور اللہ کی تمام صفات حسنہ جو مجھے معلوم ہیں یا نہیں معلوم ان سب کی پناہ طلب کرتا ہوں اس مخلوق کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا اور پھیلایا۔

اس میں تمام زمینی و آسمانی شرور سے بچنے اور خداتعالیٰ کی پناہ میں آنے کی دعا ہے۔ آنحضرتﷺ کی تو ہر دعا ہی بہت جامع ہے، اور برکتیں سمیٹنے والی ہے۔ لیکن جن چند مسنون دعاؤں کو روزانہ مَیں سامنے رکھتا ہوں ان میں سے ایک یہ بھی ہے، اس لئے ذہن میں آ گئی۔ تواللہ تعالیٰ ہماری دعائیں قبول فرمائے اور ہر احمدی کو ہر شر سے بچائے۔

پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مثلاً ایک دعا جو حضرت موسیٰ ؑ کی ہے رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتََ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ (القصص: 25) کہ اے میرے ربّ! مَیں تیری ہر چیز، ہر خیر جو تومجھے دے مَیں اس کا محتاج ہوں۔ یہ دعا مانگنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ ہمیں خیر ہی خیر ملتی رہے۔

پس یہ دعائیں ہیں جو ہر وقت انسان کو اپنے خدا سے مانگنی چاہئیں۔ ہمیشہ وہ اپنی خیر اور فضل سے ہمیں نوازتا رہے۔ ہر برائی اور شر سے ہمیں بچائے۔ ہماری خواہشات کو ہمیشہ صحیح سمتوں پر رکھے۔ اگر کبھی کسی غلط اجتہاد کی وجہ سے خداتعالیٰ کے پیغام کو نہ سمجھ سکیں تو اللہ تعالیٰ محض اور محض اپنے فضل سے اس کے بداثرات سے ہمیں محفوظ رکھے۔ کبھی ہم ایسے نہ بنیں جو حکمت سے عاری ہوتے ہوئے اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور منشاء کے الٹ چلانے والے ہوں۔ حکمت سے کئے ہوئے فیصلے بھی اللہ تعالیٰ کی خیر میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہیں اور یہ بھی خیر ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بھی دعا سکھائی ہے کہ رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ (الشعراء: 84) کہ اے میرے ربّ مجھے حکمت عطا کر اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کر۔ حکمت کے بہت وسیع معنی ہیں۔ ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کوئی پیغام ملے تو اسے انسان سمجھنے کی کوشش کرے جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خداتعالیٰ کی ذات کی ہمیں حقیقی پہچان کروائی ہے اور ہر کام کے لئے اس کے آگے جھکنے اور اس کے پیغام کو سمجھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اس پرقائم رکھے۔ ہمارے سب فیصلے حکمت والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی منشاء کو سمجھنے والے ہوں اور یہی ایک حقیقی مومن کی نشانی ہے۔ مومن کی فراست ہی یہی ہے کہ ہر پہلو پر غور کرے۔ مومن کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔ یقینا مومن نڈر ہوتا ہے۔ لیکن یہ ضرور غور کرنا چاہئے کہ کس بات میں فائدہ ہے یا زیادہ فائدہ ہے اور کس بات میں زیادہ نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم کسی قربانی سے نہیں ڈرتے لیکن اگر کسی جگہ ایسے شر نظر آتے ہوں جن سے بچنا مومن کے اور جماعت کے مفاد میں ہو تو اس سے بچنا چاہئے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ بعض خوابوں کے ذریعہ ایسے اشارے بھی ملے تھے یا کچھ اور اندازے تھے جس سے لگتا تھا کہ وسیع پیمانہ پر یہ جلسہ نہ ہو سکے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ خداتعالیٰ ہمارے اس فیصلے کے بہتر نتائج نکالے اور بے انتہا برکت ڈالے اور ہمارا ہر کام جماعت کے مفاد میں ہو۔ افراد جماعت جو جلسہ پر آنا چاہتے تھے ان کو نہ آنے سے جو جذباتی تکلیف ہوئی ہے اللہ تعالیٰ ان کا ایسا مداوا کرے کہ ان کی توجہ مزید اللہ تعالیٰ سے پختہ تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ ہر احمدی کو ایمان اور ایقان میں بڑھائے۔ ان کی توجہ دعاؤں کی طرف پہلے سے بڑھ کر ہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام فرماتے ہیں:

’’یقینا خدا رحیم، کریم اور حلیم ہے اور دعا کرنے والے کو ضائع نہیں کرتا‘‘۔

پس ہمیشہ ہمیں ہر تکلیف کے بعد پہلے سے بڑھ کر خداتعالیٰ کے سامنے جھکنے والا بننا چاہئے۔ انشاء اللہ تعالیٰ جیسا کہ مَیں نے کہا اللہ تعالیٰ بہتر حالات میں ہمیں جلسہ میں شمولیت کی توفیق دے گا۔ قادیان کے احمدیوں کے لئے بھی دعا کریں اور یہاں کے بسنے والے تمام احمدیوں کے لئے بھی۔ دنیا میں بسنے والے احمدی ان کو دعاؤں میں یاد رکھیں اور یہاں اس ملک ہندوستان میں رہنے والے احمدی بھی اپنے لئے بھی دعائیں کریں اور یہاں کے بسنے والوں کے لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ہر ظلم سے محفوظ رکھے۔ دنیا اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچانے۔ انسان، انسان کا حق ادا کرنے والا بنے۔ مذہب کے نام پر یا ذاتی مفادات کی خاطر جو ظلم ہو رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو جو اس میں ملوث ہیں اپنی پکڑ میں لے اور ان کو عبرت کا نمونہ بنائے۔ پاکستان کے احمدی بھی بعض لحاظ سے محرومی کا شکار ہیں یا محرومی سے گزر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی محرومیاں بھی دور فرمائے۔ ہر ایک کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور اللہ تعالیٰ دنیا میں ہر شخص کو اور اپنی ہر مخلوق کو جو انسانیت کے نام پر انسان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں حقیقی انسانیت پرقائم کر دے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ میں فرمایا:

ابھی نمازوں کے بعد مَیں ایک نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو مکرمہ امۃ الرحمن صاحبہ اہلیہ چوہدری محمد احمد صاحب درویش مرحوم کا ہے۔ 3دسمبر 2008ء کو قادیان میں وفات پا گئی تھیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ موصیہ تھیں اور 91سال کی عمر پائی اور درویشی کا زمانہ اپنے میاں کے ساتھ انتہائی صبر اور شکر کے ساتھ گزارا۔ بڑی نیک خاتون تھیں۔ کئی خوبیوں کی مالک تھیں۔ نمازوں کی پابندی، چندوں میں باقاعدگی، باوجود کم وسائل کے غریبوں کی مدد کرنے والی اور پھر جب حالات اچھے ہوئے تب بھی غریبوں کی مدد کرنے والی مخلص خاتون تھیں۔ ایک لمبے عرصے تک بطور سیکرٹری مال خدمت کی توفیق بھی پائی۔ مرحومہ کے ایک بیٹے کینیڈا میں مکرم بشیر احمد صاحب ناصر فوٹو گرافر ہیں جو یہاں آئے ہوئے تھے۔ میرے ساتھ پھر رہے تھے ابھی۔ واپس چلے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بچے بھی ہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کے بچوں کو اور لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔

(الفضل انٹرنیشنل جلد 15 شمارہ 52 مورخہ 26 دسمبر 2008 تا یکم جنوری 2009 صفحہ 5 تا صفحہ 7)


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 5؍ دسمبر 2008ء شہ سرخیاں

    ہرچھوٹی سے چھوٹی خواہش کے لئے اللہ کی طرف جھکنا چاہیے، کسی خواہش کی تکمیل میں اپنی پسند کو دخل نہ دے، اس  سال خلافت جوبلی کے حوالے سے ہراحمدی میں نیاجذبہ ہے، بمبئی انڈیا میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت، قادیان کے جلسہ میں شمولیت سے دنیابھرکے احمدیوں کو حضورانورکی طرف سے روک دیاجانا۔

    فرمودہ مورخہ 5؍دسمبر 2008ء بمطابق5؍ فتح 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الہادی۔ دہلی۔ انڈیا

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور