اللہ تعالیٰ کی صفت لطیف

خطبہ جمعہ 17؍ اپریل 2009ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

قرآن کریم میں خداتعالیٰ نے مختلف آیات میں بعض مضامین بیان فرما کر جن میں مختلف رنگوں میں خداتعالیٰ کی اپنے بندوں پر مہربانیوں کا ذکر ہے اس کو اپنی صفت لطیف کے ساتھ باندھا ہے۔ ان متفرق آیات اور مضامین کا مَیں اس وقت کچھ ذکر کروں گا لیکن اس سے پہلے لفظ لطیف کے معنوں کی وضاحت بھی کر دوں۔ جو بعض لغات میں ہیں یا قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں مفسرین نے بیان کی ہیں۔ اقرب یہ لغت کی کتاب ہے۔ اس میں اَللَّطِیْفُ کا معنے لکھا ہے کہ لطف و مہربانی کرنے والا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے بھی ہے اور تب اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اپنے بندوں سے حسن سلوک کرنے والا۔ اپنی مخلوق کو ان کے منافع۔ نرمی اور مہربانی سے عطا کرکے ان سے حسن سلوک کا معاملہ کرنے والا۔ باریک در باریک اور مخفی در مخفی امور کو جاننے والا۔

علامہ قرطبی نے اس لفظ کے معنے کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف کرنے سے مراد انہیں اعمال حسنہ کی توفیق بخشنا اور گناہوں سے بچائے رکھناہے۔ ملاطفت یعنی حسن سلوک بھی اسی سے نکلا ہے۔

پھر جنید بغدادی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اَللَّطِیْفُ وہ ہے کہ جس نے ہدایت کے نور سے تیرے دل کو منور کیا اور غذا کے ذریعہ تیرے بدن کی پرورش کی اور آزمائش کے وقت میں تیرے لئے اپنی ولایت رکھی ہے۔ جب تو شعلوں میں پڑتا ہے تو وہ تیری حفاظت کرتا ہے اور اپنی پناہ کی جنت میں تجھے داخل کرتا ہے۔

الکُرظی کہتے ہیں کہ لَطِیْفٌ بِعِبَادِہٖ کا مطلب ہے کہ حکم دینے اور محاسبہ کرنے میں بندوں سے بہت نرمی کرنے والا۔ بعض نے کہا ہے کہ اَللَّطِیْف سے مراد وہ ہے جو اپنے بندوں کی خوبیاں تو شائع کرتا ہے لیکن ان کی کمزوریوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ اور یہی مضمون آنحضرتﷺ کے اس قول میں بیان ہوا ہے۔ کہ یَا مَنْ اَظْھَرَ الْجَمِیْلَ وَ سَتَرَالْقَبِیْحَ یعنی اے وہ خدا جو اچھی باتوں کو ظاہر کرنے والا اور ناپسندیدہ چیزوں کی پردہ پوشی کرنے والا ہے۔

اَللَّطِیْفُ کے ایک معنے یہ کئے گئے ہیں کہ جو تھوڑی سی دی ہوئی قربانی کو قبول کرتا ہے مگر بدلہ عظیم الشان دیتا ہے۔

ایک معنی یہ کئے گئے ہیں کہ لطیف وہ ہے جو اس شخص کے کام سنوارے جس کے سب کام ٹوٹ اور بکھر گئے ہوں اور جو تنگ دست کو خوشحالی عطا کرتا ہے۔

پھر اس کے ایک معنے یہ ہیں کہ لطیف وہ ہے جو نافرمانی کرنے والے کی گرفت کرنے میں جلدی نہیں کرتا اور جو کوئی اس سے امید رکھتا ہے وہ اسے نامرادنہیں رکھتا۔

بعض نے لَطِیْفٌ کے یہ معنے کئے ہیں کہ وہ جو عارفوں کے اندرونوں میں اپنی ذات کے مشاہدے کے ذریعہ ایک چراغ جلا دیتاہے اور صراط مستقیم کو ان کا منہاج بنا دیتا ہے اور اپنے نیک سلوک کے موسلا دھار برستے ہوئے بادلوں سے انہیں وسیع انعام عطا کرتا ہے۔

تفسیرقرطبی نے لکھا ہے کہ خطابی کہتے ہیں کہ لَطِیْف بندوں سے حسن سلوک کرنے والے اس وجود کو کہتے ہیں جو ان کے ساتھ ایسے پہلوؤں سے جن کو وہ بندے جانتے ہیں لطف و احسان کا معاملہ کرتا ہے اور ان کے لئے ان کی خیر خواہی کے اسباب ایسی ایسی جگہوں سے پیدا کرتا ہے جس کا وہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔

بعض علماء کے نزدیک اَللَّطِیْفُ وہ ہے جو معاملات کی باریکیوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ اس کے ایک معنی بڑے واضح ہیں کہ باریک بینی سے دیکھنے والا۔

ان ساری باتوں کا جو خلاصہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ اپنی اس صفت کے تحت ہدایت کے نور سے خود منور کرتا ہے۔ پھر نمبر2یہ کہ وہ اپنی صفت لطیف کے تحت ہماری جسمانی اور روحانی نشوونما اور پرورش کے سامان کرتا ہے۔

پھر یہ کہ وہ اپنی صفت کے تحت ہماری آزمائش کے وقت ہمارا دوست اور ولی ہوتا ہے۔

پھر یہ کہ وہ جہنم سے بچاؤ کے طریق ہمیں سکھاتا ہے۔

نمبر 5 یہ کہ وہ تکالیف کے وقت ہماری حفاظت فرماتا ہے۔

پھر یہ کہ وہ اپنی صفت لطیف کے تحت ہماری پردہ پوشی فرماتا ہے۔

پھر وہ اپنی اس صفت کے تحت ہماری تھوڑی سی قربانیوں کا بہت بڑا اور عظیم اجر دیتا ہے۔

اور پھر اپنی صفت لطیف کی وجہ سے انسان کو سزا دینے اور پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ اور اس کے ایک معنے یہ ہیں کہ اس صفت کے تحت بڑی باریک بینی اور گہرائی سے ہر معاملے پر نظر رکھنے والا ہے۔ اور یہ سب باتیں ایسی ہیں جن کا قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے صفت لطیف کے حوالے سے ذکر فرمایا ہے۔

قرآن کریم میں سورۂ انعام کی آیت 104میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَ ھُوَیُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَ ھُوَاللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ کہ آنکھیں اس کو نہیں پا سکتیں ہاں وہ خود آنکھوں تک پہنچتا ہے اور وہ بہت باریک بین اور ہمیشہ باخبر رہنے والا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’بصارتیں اور بصیرتیں اس کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتیں‘‘۔ (شحنہ ٔ حق، روحانی خزائن جلدنمبر 2صفحہ 398)

تمہاری نظریں، تمہارا عقل و شعور اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ یعنی خداتعالیٰ کی تلاش میں اگر یہ کوشش ہو کہ وہ ہمیں نظر آ جائے تو یہ ناممکن ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لطیف ہے۔ وہ ایک ایسا نور ہے جو نظر نہیں آ سکتا۔ ہاں جن پر پڑتا ہے ان کو ایسا روشن کر دیتا ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی تائیدات اور نشانات کا اظہار کرنے والے وجود بن جاتے ہیں اور یہ نور سب سے زیادہ انبیاء کو ملتا ہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمدؐ رسول اللہ کو یہ نور ملا۔ لیکن جوآ نکھوں کے اندھے تھے، جن کی بصارتیں بھی کمزور تھیں، جن کی بصیرتیں بھی کمزور تھیں انہیں یہ سب کچھ نظر نہیں آیا اور وہ آپ کے فیض سے محروم رہے۔ جو بڑے بڑے عقلمند سمجھے جاتے تھے اور سرداران قوم تھے ان کو تو خداتعالیٰ کا نور نظر نہ آیا لیکن غریب لوگ جن کی لگن اور کوشش سچی تھی، جو چاہتے تھے کہ خداتعالیٰ کا نور ان تک پہنچے انہیں آنحضرتﷺ میں خداتعالیٰ کے نور کاپر توَ نظر آ گیا۔

پس خداتعالیٰ کے نور کے نظر آنے میں کسی دنیاوی عقل، کسی دنیاوی تعلیم، کسی دنیاوی وجاہت، بادشاہت یا رتبے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ خداتعالیٰ جو بڑی باریک بینی سے اپنی صفت لطیف کے تحت ہر دل پر نظررکھے ہوئے ہے اور اس بات سے با خبر ہے کہ نور کی تلاش کرنے والوں کے دل میں اس تلاش کی جو چاہت ہے وہ سچی چاہت ہے تو وہ خود ایسے سامان پیدا فرما دیتا ہے کہ وہ نور اور روشنی جو انبیاء لاتے ہیں اسے نظر آ جاتی ہے اور اس کے لئے روحانیت کے سامان مہیا ہو جاتے ہیں۔ چاہے دنیاوی لحاظ سے وہ شخص کچھ بھی حیثیت نہ رکھنے والا ہو۔

پس اگر خواہش سچی ہو تو اللہ تعالیٰ خود اپنی صفات کے اظہار سے بندے کی ہدایت کے سامان پیدا فرما دیتا ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ اپنے نور کا اظہار اپنے انبیاء کے ذریعہ کرتا ہے جو اس کی توحید کے قیام کے لئے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا نور لے کر یہ توحید کی روشنی چاروں طرف پھیلاتے ہیں اور سب سے زیادہ یہ روشنی آنحضرتﷺ کے ذریعہ دنیا میں پہنچی کیونکہ خداتعالیٰ کی ذات کا سب سے زیادہ ادراک انسان کامل کو ہی ہوا اور آپؐ اس کامل ادراک کی وجہ سے خداتعالیٰ کے رنگ میں مکمل طور پر رنگین ہوئے اور خداتعالیٰ کی صفات کے پرتَوبن گئے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ اپنے شعری کلام میں فرمایا۔ کہ

’’نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اِک نور تھے‘‘

اور اس زمانے میں آنحضرتﷺ کے غلام صادق کو آپؐ کی غلامی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس نور سے منور کیا۔ جیسا کہ آپؑ اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ

آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں

دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے

جب سے یہ نور ملا نور پیمبرؐ سے ہمیں

ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے

پس آج خداتعالیٰ کا کلام کہ وَ ھُوَیُدْرِکُ الْاَبْصَار انہیں پر پورا ہوتا ہے جو اپنے دلوں کو پاک کرتے ہوئے حقیقی رنگ میں اللہ تعالیٰ کو پانا چاہتے ہیں اور وہ آنحضرتﷺ کی غلامی میں آئے ہوئے زمانے کے امام کو قبول کرتے ہیں اور پھر خداتعالیٰ اپنے وجود کے ہر روز نئے رنگ میں جلوے دکھاتا ہے اور انہیں دیکھ کر پھر حقیقی توحید کی پہچان بندے کو ہوتی ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ آنحضرتﷺ کی غلامی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے آپؑ کا وجود مل گیا اور جب وجو د مل گیا تو آپؑ خداتعالیٰ تک پہنچنے کا ایک ذریعہ بن گئے اور آنحضرتﷺ کی غلامی کی وجہ سے آپؑ بھی سچی توحید کی پہچان کروانے والے بن گئے۔

اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’خداتعالیٰ کی ذات تو مخفی در مخفی اور غیب در غیب اور وراء الوراء ہے۔‘‘ (بہت چھپی ہوئی۔ بہت دور ہے)۔ ’’اور کوئی عقل اس کو دریافت نہیں کر سکتی جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے کہ لَاتُدْرِکُہٗ الْاَبْصَارُ وَ ھُوَیُدْرِکُ الْاَبْصَارَ۔ یعنی بصارتیں اور بصیرتیں اس کو پا نہیں سکتیں اور وہ ان کے انتہا کو جانتا ہے اور ان پر غالب ہے۔ پس اس کی توحید محض عقل کے ذریعہ سے غیر ممکن ہے۔ کیونکہ توحید کی حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ انسان آفاقی باطل معبودوں سے کنارہ کرتا ہے یعنی بتوں یا انسانوں یا سورج چاند وغیرہ کی پرستش سے دستکش ہوتا ہے ایسا ہی اَنْفُسی باطل معبودوں سے پرہیز کرے۔ یعنی اپنی روحانی جسمانی طاقتوں پر بھروسہ کرنے سے اور ان کے ذریعہ سے عُجب کی بلا میں گرفتار ہونے سے اپنے تئیں بچاوے۔ پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ بجز ترک خود ی اور رسول کا دامن پکڑنے کے توحیدِ کامل حاصل نہیں ہو سکتی۔ اور جو شخص اپنی کسی قوت کو شریک باری ٹھہراتا ہے وہ کیونکر موحّد کہلا سکتا ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد 22صفحہ 148-147)

پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کی روشنی حاصل کرنے اور خالص توحید قائم کرنے کے لئے ایک بندے کی کوشش کہ پہلے اپنے اندر کے جھوٹے معبودوں کو باہر نکالے۔ کسی کو یہ زعم ہو کہ میں دولت رکھتا ہوں، میں قوم کا لیڈر ہوں اور مسلمان بھی ہوں اس لئے خداتعالیٰ کو پا لیا، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں تویہ غلط ہے۔ اگر کسی کو یہ زعم ہے کہ میں دینی علم رکھنے والا ہوں، روحانیت میں مَیں بڑا پہنچا ہوا ہوں اور ایک قوم میرے پیچھے ہے اور اس وجہ سے مجھے خداتعالیٰ کا فہم و ادراک حاصل ہو گیا ہے تو یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ ان سب باتوں کے پیچھے ایک چھپا ہوا تکبر ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی کام جو ہے وہ نیک نیتی سے نہیں کیا جاتا، چاہے خداتعالیٰ کے نام پر نظام عدل قائم کرنے کی کوشش کی جائے یا دین کو پھیلانے کی کوشش کی جائے یا دین کو پھیلانے کا دعویٰ کیا جائے یا شریعت قائم کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ دلوں کے تکبر دور نہیں ہوئے۔ اپنے اندر باطل معبودوں نے قبضہ جمایا ہوا ہے اور اس وجہ سے زمانے کے امام کا بھی انکار ہے۔ اس لئے راستے میں حائل پردے خداتعالیٰ کے نور کے پہنچنے میں روک بنے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی ہے۔ جہاں وہ ایسا نور ہے جو پاک دلوں میں داخل ہوتا ہے وہاں وہ باریک بینی سے دلوں کے اندرونے دیکھ کر ہر وقت باخبر بھی رہتا ہے کہ کس کے دل میں کیا ہے۔ اور جس کا دل باطل معبودوں سے بھرا ہوا ہو، جن آنکھوں میں دنیاوی ہوا و ہوس ہو وہاں خداتعالیٰ کا نور نہیں پہنچتا۔ پس اگر حقیقی رنگ میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان وَ ھُوَیُدْرِکُ الْاَبْصَارَ یعنی وہ خود آنکھوں تک پہنچتا ہے، سے فیض پانا ہے تو اپنے دلوں کو پاک کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کی توفیق دیتا رہے۔

پھر ایک آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ رَفَعَ اَبَوَیۡہِ عَلَی الۡعَرۡشِ وَ خَرُّوۡا لَہٗ سُجَّدًا ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ ہٰذَا تَاۡوِیۡلُ رُءۡیَایَ مِنۡ قَبۡلُ ۫ قَدۡ جَعَلَہَا رَبِّیۡ حَقًّا ؕ وَ قَدۡ اَحۡسَنَ بِیۡۤ اِذۡ اَخۡرَجَنِیۡ مِنَ السِّجۡنِ وَ جَآءَ بِکُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّیۡطٰنُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَ اِخۡوَتِیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَطِیۡفٌ لِّمَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ (یوسف: 101)

یعنی اور اس نے (حضرت یوسفؑ کا ذکر ہے) اپنے والدین کو عزت کے ساتھ اپنے تخت پر بٹھایا اور وہ سب اس کی خاطر سجدہ ریز ہو گئے اور اس نے کہا اے میرے باپ! یہ تعبیر تھی میری پہلے سے دیکھی ہوئی رؤیا کی۔ میرے رب نے اسے یقینا سچ کر دکھایا اور مجھ پہ بہت احسان کیا جب اس نے مجھے قید خانے سے نکالا اور تمہیں صحراء سے لے آیا، بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان رخنہ ڈال دیا تھا۔ یقینا میرا رب جس کے لئے چاہے بہت لطف و احسان کرنے والا ہے۔ بے شک وہی دائمی علم رکھنے والا اور بہت حکمت والا ہے۔ یہ سورۂ یوسف کی آیت 101ہے۔

اس آیت میں حضرت یوسفؑ اللہ تعالیٰ کی صفت لطیف کے تحت مہربانیوں اور احسانوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ آپؑ کے پاک دل کی وجہ سے بچپن سے ہی خداتعالیٰ نے آپؑ کو رؤیاء صادقہ دکھائیں اور آج جب یہ تمام خاندان اکٹھا ہوا تو بچپن کی رؤیا جو آج پوری ہو رہی تھی آپ کو یاد آ گئی۔ باوجود بھائیوں کے ظلموں کے اللہ تعالیٰ آزمائش اور امتحان کے دور میں آپ کا ولی اور دوست رہا۔ ہمیشہ آپ کی حفاظت کی اور آج دنیاوی لحاظ سے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے پر بھی ان کی تھوڑی بہت جو قربانی تھی اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت لطیف کے تحت اس کا بے انتہا اجر دیا۔ اور پھر نہ صرف حضرت یوسفؑ کی قربانی کا پھل ان کو ملا بلکہ حضرت یعقوبؑ کی قربانی کا پھل بھی ان کو ملا اور آپؑ کو اللہ تعالیٰ نے اتنا عرصہ زندہ رکھا اور بیٹے کا وہ دنیاوی مرتبہ بھی دکھایا۔ اور پھر یہ مضمون اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے ان معنوں کی طرف بھی پھرتا ہے کہ خداتعالیٰ ہر آزمائش کے وقت ولی ہوتا ہے۔ باپ بیٹے دونوں کا ولی رہااور تکالیف سے نکالتا رہا۔ صبر اور ہمت اور حوصلے کی توفیق دیتا رہا۔ پھراللہ کے ان دو مقرب باپ بیٹے کی وجہ سے باقی بیٹوں کی اصلاح کے سامان پیدا کر دئیے۔

اس سے یہ مضمون بھی کھلتا ہے کہ ایک دوسرے کے لئے دعاؤں سے اصلاح کے راستے کھلتے ہیں۔ جتنا قریبی تعلق ہو گا یا تعلق کا اظہار ہو گا دعا زیادہ ہو گی۔ اس لئے آنحضرتﷺ نے اپنی قوم کی اصلاح کے لئے بہت دعائیں کیں۔ جب بھی آپؐ کو کبھی کسی دوسرے قبیلے کے متعلق شکایت ہوتی تھی کہ مخالفت بہت کرتے ہیں، ان کے لئے بددعا کریں تو آپؐ ہمیشہ دعا کیا کرتے تھے اور امت کو بھی تلقین کی کہ ہدایت کے لئے دعا کیا کرو۔ پس آج امت مسلمہ کے لئے ہمیں بھی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ دعاؤں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو بھی صاف کرے اور وہ حقیقت پہچاننے کی کوشش کریں تاکہ خداتعالیٰ کا نور ان کی بصارتوں تک بھی پہنچے۔

پھر ایک آیت سورۃ حج کی 64 ویں آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّۃً۔ اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ  (الحج: 64)۔ کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتاراتو زمین اس سے سرسبز ہو جاتی ہے۔ یقینا اللہ بہت باریک بین اور ہمیشہ با خبر رہنے والاہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس صفت کے تحت ایک مضمون یہ بیان فرمایا کہ زمینی اور روحانی زندگی دونوں سے متعلق جو چیز یاد رکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ زندگی پانی سے ملتی ہے اور روحانی زندگی پانے کے لئے تمام قوتوں کے مالک خداتعالیٰ کی توحید کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آسمان سے پانی اتارنے کی یہ مثال اس لئے دی کہ جس طرح یہ بارش کا پانی آسمان سے اترتا ہے اور زمین کو سرسبز کر دیتا ہے اسی طرح روحانی پانی بھی ہے۔ جس طرح جسمانی پانی زمین پر پڑتا ہے اور اُسے سرسبز کرتا ہے اسی طرح روحانی پانی بھی جب زمین پر اترتا ہے تو لوگوں کے لئے روحانیت پیدا کرنے کا سامان پیدا کرتا ہے۔ آسمان سے بادل کا پانی جب زمین پر گرتا ہے تو چٹانوں اور پتھروں اور ریگستانوں میں تو اس طرح سرسبزی نہیں آتی۔ اسی طرح جوروحانی پانی جو ہے وہ بھی انہیں کو سرسبز کرتا ہے، انہی صاف دلوں کو زرخیز کرتا ہے جن میں نیکی کی کچھ رمق ہوتی ہے۔ تو یہاں ایک بات کی اور وضاحت ہو گئی کہ پانی جو زندگی کی علامت ہے، جب یہ گرتا ہے تو جہاں زمین سرسبز و شاداب ہوتی ہے وہاں چرند پرند حتیٰ کہ تمام کیڑے مکوڑے (حشرات الارض) جو ہیں وہ بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کی زندگی بھی اسی پر منحصر ہے۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا چٹانوں اور ریگستانوں میں اس طرح زندگی پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے علیحدہ زندگی کا نظام رکھا ہوا ہے۔ گو وہ بھی اس پانی سے تھوڑا بہت فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن وہ ہر یالی اور سرسبزی پیدا نہیں ہوتی جو زرخیز زمینوں میں ہوتی ہے۔ لیکن جو زندگی وہاں موجود ہے اس کے لئے بہرحال اس سے بھی فائدہ ہوتا ہے جب درخت پھوٹتا ہے تو اس میں سے نئی پوٹ نکلتی ہے تو اس پوٹ سے پھر نئے پتے پیدا ہوتے ہیں، پھول پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا ثمر آگے بنتا ہے، پھل پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح روحانی پانی کے آنے سے جو نیک دل ہیں وہ اس طرح ثمر آور ہوتے ہیں۔ جومخالفین ہیں وہ بھی اپنی مخالفت کی وجہ سے اس روحانی پانی سے دنیاوی فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ ایک طرف سے سبزی جہاں انسان کو فائدہ پہنچا رہی ہوتی ہے وہاں دوسرے جانوروں اور حشرات کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔ اسی طرح جہاں روحانی سرسبزی زرخیز زمینوں کو فائدہ پہنچا رہی ہوتی ہے وہاں جوبعض پتھر دل لوگ ہیں ان کو بھی اس روحانی پانی آنے کی وجہ سے فائدہ پہنچ رہا ہوتاہے لیکن وہ فائدہ دنیاوی فائدہ ہوتا ہے۔ اگر ہم جائزہ لیں تو جہاں جہاں ہماری جماعتیں پنپ رہی ہیں وہاں مخالفین بھی سرگرم ہیں۔ سیاسی فائدے بھی اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور مالی فائدے بھی اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں گویاکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے ان کے لئے روٹی کے سامان بھی پیدا ہو گئے ہیں، ان کو دنیاوی فائدے پہنچنے شروع ہو گئے ہیں۔ بہرحال یہ ایک فائدہ ہے جو ہر جگہ پہنچ رہا ہوتا ہے۔ اس کا اظہار بھی بعض دفعہ بعض لوگ کر دیتے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ تو جب انسانوں میں مُردنی کے آثار دیکھتا ہے تو آسمانی پانی اتارتا ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ ’’میں وہ پانی ہوں جو آسمان سے آیا وقت پر‘‘۔

پس جب خداتعالیٰ دیکھتا ہے کہ ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم: 42) کہ ہر طرف خشکی اور تری میں فساد برپا ہے تو نبیوں کے ذریعہ سے روحانی پانی بھیجتا ہے اور انتہائی تاریک زمانے میں آنحضرتﷺ کو بھیج کر آپؐ کے ذریعہ سے وہ کامل دین اور شریعت اتاری جس نے ان لوگوں کی روحوں کو تازہ کیا اور سیراب کیا جنہوں نے فائدہ اٹھانا تھا۔ اور پھر آنحضرتﷺ کی پیشگوئی کے مطابق ایک ہزار سال کے تاریک زمانے کے بعد جب دنیا میں دوبارہ فساد کی حالت پیدا ہوئی تو آپؐ کے غلام صادق کو بھیجا تاکہ جس طرح پہلے یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا (الروم: 51) کا نظارہ دکھایا تھا اب پھر دکھائے اور ان دلوں کو تقویت پہنچائے جو اپنے دلوں میں نور حاصل کرنے کی سچی چاہت اور تڑپ رکھتے ہیں۔ یہاں لطیف اور خبیر کے لفظ استعمال کرکے یہ بھی بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی باریک بین نظر جانتی ہے کہ کن لوگوں کو سچی تلاش ہے جن کے لئے روحانی پانی سے فیض اٹھانا مقدر ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ سورہ شوریٰ کی آیت میں فرماتا ہے۔ کہ اَللّٰہُ لَطِیْفٌ بِعِبَادِہٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ وَھُوَالْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ  (الشوریٰ: 20)کہ اللہ اپنے بندوں کے حق میں نرمی کا سلوک کرنے والا ہے اور جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے اور وہی بہت طاقتور اور کامل غلبے والا ہے۔

جیسا کہ مَیں نے پہلے بیان کیا، اللہ تعالیٰ نے سورہ ٔانعام کی آیت میں فرمایا تھا کہ خودنظروں تک پہنچتا ہے اور پھر سورہ ٔحج کی آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتاراتاکہ زمین سرسبز ہو۔ یعنی روحانی پانی۔ اس جگہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پربہت مہربان ہے اور انہیں ہر طرح کے رزق دیتا ہے لیکن فائدے میں وہی ہیں جو صرف دنیاوی رزق کی بجائے خداتعالیٰ کے روحانی رزق کی بھی تلاش کریں۔ جو روحانی رزق کی تلاش میں ہوں گے ان کو مادی رزق تو ملے گا ہی۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق ان کو ملناہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ (الطلاق: 4) اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے رزق آنے کا اس کو خیال بھی نہیں ہو گا۔ تو مومن سے تو یہ وعدہ ہے۔ پس جو روحانی رزق کی تلاش میں رہیں انہیں مادی رزق تو ملتا ہی رہے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ پردہ پوشی کرتے ہوئے، نرمی کا سلوک کرتے ہوئے، غلطیوں اور گناہوں کو معاف کرتے ہوئے اپنے نور کی پہچان کرنے کی بھی اسے توفیق دے گا جو اس کے روحانی پانی کی تلاش میں ہو گا۔

آخر میں اس آیت میں قوی اور عزیز کہہ کر اس بات کی طرف بھی توجہ دلا دی کہ اگر باوجود اللہ تعالیٰ کے لطیف ہونے کے اُس کی طرف توجہ نہ کی تو یاد رکھو کہ وہ قوی ہے۔ طاقتور ہے اور تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہے۔ اس کی پکڑ بھی بہت سخت ہوتی ہے اور غلبہ اللہ تعالیٰ کا اور اس کے بھیجے ہوؤں کا ہی ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے انبیاء سے یہ وعدہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی یہ وعدہ ہے۔ مخالفتیں کبھی بھی اس نور کو بجھا نہیں سکتیں۔ جو جماعت اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نے قائم فرمائی ہے اس کو کوئی ختم نہیں کر سکتا کہ یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیروں میں سے ایک تقدیر ہے اور اٹل تقدیرہے کہ اللہ اور اس کے رسول ہی غالب رہیں گے۔ پس دنیا والوں کی بقا اسی میں ہے کہ اس کی صفت لطیف سے فیض پانے کے لئے کوشش کریں اور قوی اور لطیف خدا کے شیر کی جماعت کی مخالفت میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے محروم نہ کریں۔ آج کل پاکستان میں ایک تو عمومی حالات خراب ہیں اس لئے ان کے لئے بھی دعا کے لئے کہنا چاہتا ہوں کہ پورے ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں اور دنیا کی نظر بھی اب اس طرح اس طرف پڑ رہی ہے کہ جس طرح سب سے زیادہ دہشت گردی اس وقت پاکستان میں ہی ہے۔ لیکن بہرحال جوخبریں آتی ہیں ان سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ شدید فساد کی حالت سارے ملک میں طاری ہے اور کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ نہ احمدی اور نہ غیر احمدی۔ لیکن احمدیوں کے لئے خاص طور پر اس لئے (دعا کے لئے کہنا چاہتاہوں ) کہ ایک توعمومی ملکی حالات کی وجہ سے ایک پاکستانی ہونے کی وجہ سے احمدی متأثر ہو رہے ہیں۔ دوسرے احمدی بحیثیت احمدی بھی آج کل بہت زیادہ متأثر ہو رہے ہیں۔ مخالفین کی آجکل احمدیوں پر بہت زیادہ نظر ہے، نیا ابال آیا ہوا ہے اور جہاں موقع ملتا ہے اور جب موقع ملتا ہے احمدیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے، کوئی دقیقہ بھی نہیں چھوڑا جاتا۔

گزشتہ دنوں جیسا کہ سب کو پتہ ہے، چار چھوٹی عمر کے، 15-14سال کی عمر کے بچے ایک بھیانک قسم کے الزام میں پکڑ لئے گئے اور ابھی تک ان کی ضمانت کی کوئی کوشش بھی بار آور نہیں ہو رہی۔ اسی طرح اور بہت سارے اسیران ہیں۔ غلط قسم کے گھناؤنے الزام لگا کر، ہتک رسول کے نعوذ باللہ الزام لگا کر احمدیوں کو پکڑا جاتا ہے اور پھر اور بھی بعض خطرناک سازشیں جماعت کے خلاف ہو رہی ہیں اور اس میں بعض جگہ حکومت بھی شامل ہے۔

گزشتہ دنوں بادشاہی مسجد میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ اس میں اوقاف کے وفاقی وزیر بھی شامل ہوئے مولانا فضل الرحمن اور بعض اَور لوگ بھی تھے۔ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے اور جماعت کے خلاف اور بہت ساری بیہودہ گوئیاں کی گئیں۔ تو اب حکومت بھی مولویوں کے ساتھ مل کر سازشیں کر رہی ہے اور جو شدت پسند ہیں وہ تو کر ہی رہے ہیں۔ بہرحال پاکستان میں احمدیوں کے حالات آج کل بہت زیادہ خطرناک صورت حال اختیار کر رہے ہیں اس لئے بہت دعائیں کرنی چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کی جان اور مال کو محفوظ رکھے اور ہر شر اور فتنہ سے ہر ایک کو بچائے۔ پاکستان کے احمدی پہلے بھی اپنے حالات دیکھ کر دعاؤں کی طرف توجہ کرتے ہیں لیکن اب پہلے سے بڑھ کر دعاؤں کی طرف توجہ کریں اور دنیا کے احمدی بھی اپنے پاکستانی بھائیوں کے لئے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہر لحاظ سے اپنی حفاظت میں رکھے۔

اسی طرح ہندوستان میں بھی بعض جگہوں پر جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اُبال اٹھتا رہتا ہے۔ پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں۔ انڈونیشیا میں بھی اسی طرح کی صورت حال کبھی نہ کبھی پیدا ہوتی رہتی ہے۔ ان دونوں ملکوں میں آج کل ملکی انتخابات بھی ہو رہے ہیں تویہ دعابھی کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان ملکوں میں انصاف کرنے والی اور اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے والی حکومتیں لے کر آئے۔ اسی طرح کرغیزستان اور قازقستان وغیرہ میں بھی جو پہلے رشین سٹیٹس تھیں وہاں کے بعض حکومتی ادارے سرکاری مولویوں کی انگیخت پر احمدیوں کو تنگ کر رہے ہیں۔ باقاعدہ ایک مہم چلائی جا رہی ہے۔ ان کے لئے بھی بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام دنیا میں ہر جگہ ہر احمدی کو اپنے فضل سے نوازتا رہے اور اس کی صفت لطیف کا ہر فیض انہیں پہنچتا رہے یا پہنچاتا رہے اور احمدی بھی خاص طور پر دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دیں۔ اللہ کرے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو محفوظ رکھے۔

(الفضل انٹرنیشنل جلد 16 شمارہ 19 مورخہ 8مئی تا 14 مئی 2009ء صفحہ 5 تا 8)


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 17؍ اپریل 2009ء شہ سرخیاں

     حضرت یوسفؑ پر خدا کی مہربانیوں اور احسانوں  کا ذکر۔ ایک دوسرے کے لئے دعاؤں سے اصلاح کے راستے کھلتے ہیں۔ آنحضرتؐ نے قوم کی اصلاح کے لئے بہت دعائیں کی ہیں۔ آج ہمیں بھی دعاؤں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ غلبہ اللہ اور اس کے بھیجے ہووؤں کا ہی ہونا ہے۔ مخالفتیں خدا کے نور کو بجھا نہیں سکتیں۔ جماعت احمدیہ کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ پاکستان سمیت بعض دیگر ممالک میں بسنے والے احمدیوں کے حالات بیان کر کے ان کے لئے دعاؤں کی تحریک کہ خدا ان کے جان و مال کی حفاظت فرمائے اور اپنی صفت لطیف کا فیض انہیں پہنچاتا رہے۔

    فرمودہ مورخہ 17؍اپریل 2009ء بمطابق17؍شہادت 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور