روزے خدا کی قر بت کا ایک ذریعہ

خطبہ جمعہ 28؍ اگست 2009ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی:

وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَ لۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ ۔ (البقرہ: 187)

اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقینا مَیں قریب ہوں۔ مَیں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پرلبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ اللہ تعالیٰ کا بے حد و حساب احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایک اور رمضان المبارک دیکھنا نصیب فرمایا اور آج ہم محض اور محض اس کے فضل سے اس رمضان کے چھٹے روزہ سے گزر رہے ہیں۔ اگر انسان سوچے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا شمار نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا۔ وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ(العنکبوت: 70) یعنی اور جو لوگ ہم سے ملنے کی پوری کوشش کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنے راستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشتے ہیں۔ فرمایا تو یہ ہے کہ جو لوگ آنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو خداتعالیٰ اپنی طرف آنے کی توفیق بخش دیتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بندوں پر نہیں چھوڑا کہ میری طرف آنے کے راستے خود تلاش کرو اگر صحیح راستے کو خود ہی پالیا تو ٹھیک ہے، مَیں پکڑ لوں گا اور آگ میں گرنے سے بچا لوں گا۔ نہیں، بلکہ خداتعالیٰ نے ہر زمانے میں جیسا کہ اس کی سنت ہے اپنے انبیاء کے ذریعہ سے وہ راستے دکھائے جو خداتعالیٰ کی طرف لے جانے والے ہیں اور پھر جب انسانی استعدادوں نے اپنی بلوغت کو پا لیا جو یقینا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ارتقائی عمل سے گزرتے ہوئے انسان نے حاصل کیا تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو مبعوث فرمایا اور آپ کو مبعوث فرما کر ہمیں اپنی کامل شریعت کے ذریعہ سے اپنی طرف آنے کے راستے دکھائے تاکہ انسان تباہی اور جہنم میں گرنے سے بچ جائے اور ان راستوں پر گامزن ہو جائے جو خداتعالیٰ کی طرف لے جانے والے راستے ہیں اور ان میں سے ایک راستہ رمضان کے روزے ہیں۔ یہ رمضان کا جو مہینہ ہے بے شمار برکات لئے ہوئے ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف سے ہمیں پتہ چلتا ہے۔ اور یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے اس سے پہلی آیات میں سے ایک آیت میں اس کا ذکر بھی ہے کہ اپنی قربت دلانے کا یہ ذریعہ یعنی روزے خداتعالیٰ نے پہلے انبیاء کی قوموں کے لئے بھی فرض کئے تھے اور آج مسلمانوں پر بھی فرض ہیں۔ لیکن جیسا کہ اسلام دین کامل ہے اسلام میں روزوں کا تصور بھی اعلیٰ ترین صورت میں اللہ تعالیٰ نے دیا اور اس کی تعلیم دی۔ سحری اور افطاری کے اوقات کا تعین اور بعض دوسری سہولیات کا ذکر کیا جس میں بیماری اور سفر کی حالت میں چھوٹ بھی دی۔ اور پھر یہ کہ بعد میں تعداد کو پوری کرنا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر طاقت ہے تو فدیہ کا بھی حکم ہے۔ اور مستقل بیماری اور عذر کی وجہ سے فدیہ وغیرہ دینے کا حکم ہے۔ لیکن عبادتوں اور قرآن کریم کی تلاوت کی طرف توجہ توبہرحال اللہ تعالیٰ نے ایک مومن پر فرض کی ہے، اس کو توجہ دلائی ہے۔ کیونکہ یہ برکتوں والا مہینہ ہے اس لئے ایک مومن کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہلکی پھلکی بیماری اور کمزوری کو اس چھوٹ کابہانہ بنا کر روزوں کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔ ایک مومن کی کامل اطاعت کا تو تبھی پتہ چلتا ہے جب خداتعالیٰ کی خاطر کھانا پینا اور بعض جائز کام بھی ایک وقت تک کے لئے چھوڑ دے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش کرے کیونکہ ان دنوں میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے گناہ معاف کرنے اور اسے اپنے قرب سے نوازنے کے لئے خاص سامان پیدا فرماتا ہے۔ ایک تو لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا کہہ کر ہر وقت، ہر موسم، ہر زمانے اور ہر ملک کے انسانوں کو کہہ دیا کہ ہم اپنی طرف آنے کے راستے دکھاتے ہیں۔ ہر اس شخص کو جو اپنی بھرپور کوشش ہماری طرف آنے کے لئے کرے۔

گویا یہ اعلان عام ہے اور ہر وقت جو بھی نیک نیت ہو کر خداتعالیٰ کی طرف جائے گا اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے حصہ پانے والا بنے گا۔ لیکن رمضان کا مہینہ ایسا مہینہ ہے جس میں ان قربانیوں کی وجہ سے جو بندہ خداتعالیٰ کے لئے کرتا ہے، خداتعالیٰ کے حکم سے کرتا ہے، ایک فیض خاص کا چشمہ بھی جاری فرما دیا۔ اپنے بندوں کی روحانی ترقی کے لئے ایک خاص اہتمام فرمایا ہے۔ ایک ایسا ماحول میسر فرمایا ہے جو نیکیوں کے راستوں کو جلد از جلد طے کرنے میں مدد دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کے لئے آسانیاں پیدا فرما دی ہیں۔ بندے کی دعاؤں کی قبولیت کے لئے تمام دُوریوں کو قربتوں میں بدل دیا ہے۔

ایک حدیث میں آتا ہے، آنحضرتﷺ نے فرمایا حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اِذَاجَآءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّیَاطِیْنُ۔ (صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل شھر رمضان حدیث نمبر 2384)

ترجمہ اس کا یہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔

تو یہ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کے ذریعہ کس طرح اس حالت کا نقشہ کھینچ دیا اور بیان فرما دیا کہ رمضان میں یہ صورتحال ہوتی ہے۔ پس کیایہ ہماری خوش قسمتی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور رمضان سے ہمیں فائدہ اٹھانے کا، فیض حاصل کرنے کا موقع مہیا فرما دیا۔ اللہ تعالیٰ تو عام حالات میں بھی ایک نیکی کے بدلے کئی گنا ثواب دیتا ہے اور گناہ کی سزا اُس (گناہ) کے برابر ہے۔ لیکن ان دنوں میں تو جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہے یوں لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی کوئی حدنہیں ہوتی۔ وہ اپنے بندے پربے شمار فضل نازل فرما رہا ہوتا ہے۔ اور عام حالات میں تو شیطان کو کھلی چھٹی ہے کہ وہ ہر راستے سے بندوں کو ورغلانے کی کوشش کرتا ہے اور بعض اوقات نیکیاں بجا لانے والے بھی اس کے بھرّے میں، اس کی چال میں آ جاتے ہیں، اس کے دھوکے میں آ جاتے ہیں اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کی رفتار میں سستی پیدا ہو جاتی ہے۔ اصل میں شیطان بعض اوقات بعض نیک لوگوں کو بھی نیکی کے روپ میں برائی کی طرف لے جا رہا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں تو آنحضرتﷺ نے یہ اعلان فرمایا ہے اور یقینا اللہ تعالیٰ کے اذن سے یہ اعلان فرمایا ہے کہ صُفِّدَتِ الشَّیَاطِیْنُ کہ شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے اور شیطان نے اپنے چیلے مختلف راستوں پر انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے بٹھائے ہوئے ہیں، ان سب کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ پس موقع ہے اس رمضان کے روحانی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ہر قسم کی نیکیاں بجا لاتے ہوئے، جنت کے جتنے زیادہ سے زیادہ دروازوں سے داخل ہو اجا سکتا ہے انسان داخل ہونے کی کوشش کرے۔ ان بلندیوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرو جہاں تک شیطان کی پہنچ نہ ہو اور پھر ان معیاروں کو ہمیں اپنی زندگیوں کا حصہ بناتے چلے جانا چاہئے۔ عبادتوں کے معیار بھی بلند سے بلند تر کرتے چلے جائیں۔ صدقہ و خیرات میں بھی بڑھتے چلے جائیں کہ ہم نے اپنے آقا و مطاع محمد رسول اللہﷺ کے اُسوہ پر عمل کرنا ہے جن کا ہاتھ صدقہ و خیرات کے لئے رمضان میں تیز آندھی کی طرح چلا کرتا تھا۔ (بخاری کتاب الصوم باب اجود ما کان النبیؐ یکون فی رمضان1902)

اخلاق حسنہ کی بجا آوری ہے اس میں بھی نئے سے نئے معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت کرکے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش بھی خاص لگن اور شوق سے کرنی چاہئے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے۔ پس ہم خوش قسمت ہوں گے اگر ہم رمضان کے ان دنوں میں رمضان کی برکات سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں اور اس سے استفادہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے خالص بندے بن جائیں۔ ہمارا شمار ان لوگوں میں ہو جن کے بارے میں ایک حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ابن آدم کا ہر عمل اس کی ذات کے لئے ہوتا ہے سوائے روزوں کے۔ پس روزہ میری خاطر رکھا جاتا ہے اور مَیں ہی اس کی جزادوں گا او ر روزے ڈھال ہیں اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ شہوانی باتیں اور گالی گلوچ نہ کرے اور اگر اس کو کوئی گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو اسے جواب میں صرف یہ کہنا چاہئے کہ مَیں تو روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمدﷺ کی جان ہے روزہ دارکے منہ کی بُو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے زیادہ طیب ہے، پاک ہے، روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جو اسے خوش کرتی ہیں۔ ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور دوسرے جب وہ اپنے ربّ سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہو گا۔ (صحیح بخاری کتاب الصوم۔ باب ھل یقول انی صائم اذا شتم حدیث نمبر 1904)

پس ہمیں وہ روزے رکھنے چاہئیں جو ہمارے اس دنیا سے رخصت ہونے تک ہماری ہر حرکت و سکون، ہمارے ہر قول و فعل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بناتے ہوئے ہمیں اللہ تعالیٰ سے ملانے والے ہوں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہر روزہ دار جو روزے کے تمام لوازمات پورے نہیں کرتا حدیث کے الفاظ کہ وَاِذَا لَقِیَ رَبَّہٗ فَرِحَ بِصَوْمِہٖ۔ (صحیح بخاری کتاب الصوم۔ باب ھل یقول انی صائم اذا شتم حدیث نمبر 1904)

یعنی اور جب وہ اپنے رب ّسے ملے گا تو اپنے روزہ کی وجہ سے خوش ہو گا اس کا مصداق نہیں بن سکتا اور اس کے بارہ میں آنحضرتﷺ نے انذار بھی فرمایا ہوا ہے کہ صرف روزہ کافی نہیں ہے کہ روزہ رکھو گے تو اللہ تعالیٰ سے ملاقات پر خوش ہو جاؤ گے، بلکہ روزہ کی قبولیت کے لئے جولوازمات ہیں ان کو بھی پورا کرو۔

اس کے بارہ میں ایک روایت میں مزید آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا۔ اللہ تعالیٰ کو اس چیز کی قطعاً ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری کتاب الصوم۔ باب من لم یدع قول الزور والعمل بہ فی الصوم حدیث نمبر 1903)

پس پہلی حدیث میں برائیوں سے بچنے والے کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خبر دی گئی ہے اور اس حدیث میں یہ بتایا کہ برائیوں سے نہ بچنے والے کا روزہ، روزہ نہیں ہوتابلکہ فاقہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ کو کسی شخص کے فاقہ زدہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یا اس شخص کے فاقہ زدہ رہنے سے اس کی نیکیوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ پس حقیقی مومن کو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضلوں کو مانگنے اور رمضان کی برکات سے فیضیاب ہونے کے لئے اس خاص ماحول میں ایک کوشش کی ضرورت ہے۔ ماحول تو ہمارا وہی ہے جہاں اچھے لوگ بھی رہ رہے ہیں، نیکیوں پر قدم مارنے والے بھی لوگ رہ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشاں لوگ بھی رہ رہے ہیں اور پھر برائیوں میں مبتلا لوگ بھی یہاں بس رہے ہیں۔ گندگی میں ڈوبے ہوئے اور شراب اور زناکی برائیوں میں مبتلا لوگ بھی یہاں بس رہے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو روزہ رکھ کر خدا اور مذہب کے نام پر ایک دوسرے کا خون بھی کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو رمضان میں احمدیوں کو تکالیف دینا اور شہید کرناکار ثواب سمجھتے ہیں۔ تو کیا یہ نیکیاں اور برائیاں کرنے والے صرف رمضان کے بابرکت مہینے کی وجہ سے برابر ہو جائیں گے۔ جس طرح نیکیاں کرنے والوں کے لئے جنت کے دروازے کھولے گئے ہیں۔ برائیوں میں مبتلا لوگوں کے لئے بھی جنت کے دروازے کھولے جائیں گے؟ جس طرح نیکیاں بجا لانے والے اور عبادت کرنے والے جہنم سے محفوظ کئے گئے ہیں اور ان کے شیطانوں کو قید کر دیا گیا ہے ان تمام قسم کی برائیاں کرنے والوں کو بھی جہنم سے محفوظ کر دیا گیا ہے اور ان کے شیطانوں کو قید کر دیا گیا ہے؟ اگر ان کے شیطانوں کو بھی قید کر دیا جاتا تو یہ شیطانی فعل ان سے سرزد ہی نہ ہوتے بلکہ وہ نیکیاں کرنے والے ہوتے۔ پس یہ معاملہ بعض نسبتوں اور اعمال کے ساتھ مشروط ہے۔ جو خداتعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے رمضان سے فیضیاب ہونے کی کوشش کرے گا خداتعالیٰ عام حالات سے بڑھ کر اس کے لئے یہ سامان مہیا فرمائے گا۔ کیونکہ وہ شخص جو روزہ دار ہے اور اس نیت سے روزہ رکھتا ہے کہ اللہ کو راضی کرے وہ خداتعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ان سب برائیوں کو ترک کر رہا ہے بلکہ جائز باتوں کو بھی چھوڑ رہا ہے۔ پس ہمیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ان خاص سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے اس کے فضل کو مانگتے ہوئے اس کے حضور جھکنے کی ضرورت ہے۔ وہ پیغام جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کے ذریعہ، آنحضرتﷺ کے صحابہ کے سوال پر یا امکان سوال پر دیا تھا وہ ہمیشہ کے لئے قرآن کریم میں محفوظ ہوکر ہمارے لئے خوشخبری کا پیغام بن گیا ہے۔

جو آیت مَیں نے تلاوت کی ہے جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے کہ روزوں کے احکام کے درمیان میں یہ آیت آتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے قُرب اور ان دعاؤں کی قبولیت کی خوشخبری دی ہے جو بندہ کرتا ہے اور جیسا کہ جواحادیث مَیں نے پیش کیں وہ بھی اس آیت کی وضاحت کرتی ہیں۔ احادیث میں روزہ کے حوالے سے بعض اوامر و نواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے قریب آنے اور اپنا قُرب پانے اور اپنے بندے کی دعا کی قبولیت کا ذکر فرما کر بعض شرائط بھی عائد فرما دیں۔ پہلی بات توسَاَلَکَ عِبَادِیۡ کہہ کر فرما دی کہ رمضان سے فیضیاب ہونا اور فیض پانا اور قبولیت دعا کے نظارے دیکھنا ہرایرے غیرے کے لئے نہیں ہے۔ فرمایا کہ ’’میرے بندے‘‘، وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کا عبد بننا چاہتے ہیں اور ہیں یہ قربتیں انہی کو ملنے والی ہیں۔ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں یا خاص بندے بننے کے خواہاں ہیں۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّا کَ نَسْتَعِیْنُ(الفاتحہ: 5) کا اظہار ان کے ہر فعل سے ہو رہا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وہ سوال عَنِّیْ کا کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ میرے بارے میں پوچھتے ہیں، مجھے تلاش کرتے ہیں۔ ان کی خواہشات دنیاوی نہیں ہوتیں کہ خدا ملے تو بزنس بڑھانے کی دعا کرو۔ اس سے بزنس کے لئے مانگو۔ دوسری دنیاوی خواہشات کو پورا کرنے کی دعا کرو۔ نہیں، بلکہ ان کی تڑپ پھر یہ ہوتی ہے کہ بتاؤ میرا اللہ کہاں ہے۔ مَیں بے چین ہوں اپنے خدا کی تلاش میں۔ دنیا دہریت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ خدا کے وجود کے خلاف کتابیں لکھی جا رہی ہیں ایسے میں مجھے بھی اپنی فکر ہے کہ مَیں جو خدا ئے واحد پر ایمان لانے والا ہوں۔ میری صرف ایک خواہش ہے کہ مجھے خداتعالیٰ کی ذات کا اتنا عرفان حاصل ہو جائے کہ کوئی دنیاوی چیز اور دہریت کی چمک اور دھوکہ مجھے میرے احمدی مسلمان ہونے سے ہٹا نہ سکے۔ اور اس خواہش کے پورا کرنے کے لئے مَیں رمضان کے روزے بھی خاص اہتمام سے رکھ رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خالص ہو کر میری تلاش کرنے والو! مَیں تمہارے قریب ہوں۔ جو بھی مسلمان ہے اور حقیقی مسلمان بننے کے لئے کوشاں ہے۔ آنحضرتﷺ پر اتری ہوئی کامل شریعت پر ایمان لانے والا ہے۔ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والا ہے۔ خداتعالیٰ کی تلاش میں آنحضرتﷺ کی سنّت اور باتوں پر عمل کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے آنحضرتﷺ سے محبت کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَیں ان کے قریب ہوں اور جب بھی میرے بندے مجھے پکارتے ہیں مَیں جواب دیتا ہوں۔ پس اگر اللہ تعالیٰ سے سوال جواب کا سلسلہ شروع کرنا ہے تو سب سے پہلے خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی تلاش ضروری ہے۔ اور تلاش کے لئے پھر اللہ تعالیٰ نے خود ہی طریق بھی بتا دیا جس کا مَیں نے ابھی ذکر کیا ہے کہ قرآن کی حکومت اپنے پر قائم کرنا۔ سنت رسولﷺ پر عمل کرنا اور عشق رسول عربی کی انتہا کرنا۔ اور قرآن کریم اور آنحضرتﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق جو زمینی اور آسمانی نشانوں کے طورپر پوری بھی ہو چکی ہیں اس زمانہ کے امام سے کامل وفا کرنا۔ آنحضرتﷺ کے عاشق صادق کی بیعت میں خالص ہو کر آنا۔ صرف مسلمان ہونے کا اعلان کرنا کافی نہیں ہے۔ یہاں پھر وہی مضمون بیان ہوتا ہے کہ اَسْلَمْنَا کافی نہیں ہے بلکہ یُؤْمِنُوْا بِیْ کے مضمون کو سمجھو۔ اپنے ایمان کو کامل کرو اور ایمان کامل کرنے کی اپنی تعریفیں نہ کرو بلکہ اُس راستہ سے کامل ایمان کی طرف آؤ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے بتائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ مجھ پر ایمان لانے کا معیار کس طرح حاصل ہو گا؟ یہ اس وقت حاصل ہو گا جب فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ پر بھی عمل ہو گا۔ یعنی میر ی بات پر لبیک کہو گے، میری باتوں کو سننے والے ہو گے اور یہ عمل اس وقت ہو گا جب قرآن کریم کے تمام حکموں پر عمل کرنے کی کوشش ہو رہی ہو گی۔ تقویٰ کے راستوں پر چلنے کے لئے، خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کی بات پر لبیک کہنے کے لئے حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی کوشش خالص ہو کر کر نے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادات کی طرف بھی خالص ہو کر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لئے اخلاق فاضلہ میں ترقی کی بھی ضرورت ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’جو لوگ ان دونوں باتوں کے جامع ہوتے ہیں، یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کے، وہی متقی کہلاتے ہیں۔ انہی کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ ان کو خداتعالیٰ کی تلاش ہے۔ انہی کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی بات پر لبیک کہنے والے ہیں۔ اگر بعض اخلاق تو ہیں اور بعض حقوق کی ادائیگی تو ہے لیکن بعض کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تو اسے متقی نہیں کہا جا سکتا۔ پس اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لئے، اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے، تقویٰ کا یہ معیار ہمیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ پس ہمیں اس رمضان میں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھنے والے اس کا حق ادا کرنے کی تمام تر استعدادوں کے ساتھ کوشش کرنے والے بن جائیں۔ اپنی نمازوں کا حق ادا کرنے والے بن جائیں۔ کئی لوگوں سے یہ جواب سن کر مجھے بڑی حیرت بھی ہوتی ہے اور پریشانی بھی کہ ہم کوشش کرتے ہیں کہ پانچوں نمازیں ادا کرنے والے بن جائیں لیکن پھر بھی ایک آدھ نماز رہ جاتی ہے۔ جب نمازیں ہی رہ جاتی ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ سے دعاؤں کی قبولیت کے لئے کس طرح درخواست کی جا سکتی ہے۔

اسی طرح تمام اخلاق فاضلہ کو اپنانے کے لئے درد کے ساتھ کوشش کی ضرورت ہے۔ پس ہم میں سے ہر ایک کی کوشش ہونی چاہئے کہ رمضان جو تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے اعلیٰ سے اعلیٰ معیاروں کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو جنت کے دروازے ہمارے لئے کھولے ہیں ان میں سے ہر ایک سے اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے داخل ہونے کی کوشش کریں۔ تبھی اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے قدم بڑھانے والے ہم کہلا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس آیت کے حوالے سے ایک جگہ فرمایاکہ:

’’پس چاہئے کہ وہ دعاؤں سے میرا وصل ڈھونڈیں اور مجھ پر ایمان لاویں تاکہ کامیاب ہوں‘‘۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 396)

پس یہ دعاؤں کی قبولیت کا خاص مہینہ ہے اور سب سے بڑی دعا جو ہمیں کرنی چاہئے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وصل تلاش کیا جائے، اس کا قرب تلاش کیا جائے۔ اس سے ملنے کی خواہش ہو۔ اللہ تعالیٰ سے اس سے ملنے کی دعا کی جائے۔ جب خدا مل جائے گا تو دوسری خواہشات خود بخود پوری ہوتی چلی جائیں گی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔

لیکن یہاں ایک بات اور یاد رکھیں کہ دعا کی تعریف بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائی ہے کہ دعا ہے کیا چیز اور کس قسم کی دعا ہونی چاہئے۔ اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’یہ خیال مت کرو کہ ہم بھی ہر روز دعا کرتے ہیں اور تمام نماز دعا ہی ہے۔ جو ہم پڑھتے ہیں کیونکہ وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے۔ وہ فنا کرنے والی چیز ہے۔ وہ گداز کرنے والی آگ ہے۔ وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے۔ وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے۔ وہ ایک تُند سَیْل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتا ہے۔ ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر آخر اس سے تریاق ہو جاتا ہے‘‘۔ (لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 222)

پھر آپ فرماتے ہیں:

’’دعا خدا سے آتی ہے اور خدا کی طرف ہی جاتی ہے۔ دعا سے خدا ایسا نزدیک ہو جاتا ہے جیسا کہ تمہاری جان تم سے نزدیک ہے۔ دعا کی پہلی نعمت یہ ہے کہ انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔‘‘ (لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 223)

اللہ تعالیٰ ہمیں وہ معرفت عطا فرمائے جس سے ہم دعاؤں کی حقیقت اور خداتعالیٰ کا قرب پانے کے فلسفہ کو سمجھ سکیں۔ ہمارا ہر عمل اور فعل خداتعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو۔ رمضان میں ان دعاؤں کے طفیل جن سے خدا اپنے بندے کے نزدیک آ جاتا ہے وہ تبدیلیاں ہم میں پیدا ہوں جو ہمیں دوسروں سے ہمیشہ ممتاز کرکے دکھاتی چلی جائیں۔ اپنی دعاؤں میں ہمیں جماعت کے ہر شر سے محفوظ رہنے اور اسلام کی ترقی کے لئے بھی بہت دعائیں کرنی چاہئیں۔ جو دعائیں ہم خداتعالیٰ کے دین کے قیام و استحکام کے لئے کریں گے وہ یقینا اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دعاؤں کی بھی توفیق دے اور پاک تبدیلیاں بھی اس کے نتیجہ میں ہمارے اندر پیدا فرمائے اور ہم اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے بھی بن جائیں۔

اس کے بعد اب مَیں حضرت مولانا دوست محمد صاحب شاہد کا کچھ ذکر خیر کروں گا۔ جن کی دو دن پہلے وفات ہوئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ جماعت کے چوٹی کے عالم تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔ آپ مؤرخ احمدیت کہلاتے تھے۔ تاریخ احمدیت آپ نے لکھی ہے جس کی 20جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ لیکن مَیں سمجھتا ہوں کہ صرف مؤرخ احمدیت نہیں تھے بلکہ آپ تاریخ احمدیت کا ایک باب بھی تھے اور ایک ایسا روشن وجود تھے جو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی روشنی کو ہر وقت جب بھی موقع ملے دنیا میں پھیلانے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ آپ کا حافظہ بلا کا تھا اور یہ کہنا بے جا نہ ہو گا بلکہ کئی لوگوں نے مجھے لکھا بھی کہ آپ ایک انسا ئیکلوپیڈیا ہیں کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بھی یہ کہہ چکے ہیں۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے بھی کہا ہے لیکن مَیں ان کو یہ ہی کہا کرتا تھا کہ وہ تو ایک انسا ئیکلو پیڈیا ہیں۔ اب جب مَیں نے پڑھا تو مجھے پتہ لگا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے بھی ان کے بارے میں یہی فرمایا تھاکہ وہ ایک انسا ئیکلو پیڈیا تھے۔ پرانے بزرگوں، اولیاء اور مجددین کے حوالے بھی ان کو یاد ہوتے تھے۔ بڑا گہرا مطالعہ تھا اور نہ صرف حوالے یاد ہوتے تھے بلکہ کتابیں اور اس کے صفحے تک یاد ہوتے تھے۔ بعض لوگوں نے مجھے خطوط میں ان کی بعض ذاتی خوبیاں بھی لکھی ہیں۔ ان کے بار ہ میں کچھ معلومات مَیں نے ان کے بیٹے کے ذریعہ سے بھی لی ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا وہ تاریخ احمدیت کا بھی ایک باب تھے۔

سب کچھ تو یہاں بیان نہیں ہو سکتا۔ چند باتیں مَیں ان کے بارے میں بیان کروں گا۔ بہت ہی بے نفس اور اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ دین کی خاطر صرف کرنے والے بزرگ تھے۔ واقف زندگی تھے۔ خلافت سے انتہا کا تعلق تھا۔ بہت بزرگ اور دعا گو تھے۔ مجھے کسی نے لکھا کہ جب بھی کسی نے ان کو دعا کے لئے کہا تو ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ مجھے دعا کے لئے نہ کہو۔ دعا کے لئے لکھنا ہے تو خلیفۃ المسیح کو لکھو۔

عاجزی میں بے انتہا بڑھے ہوئے تھے، کوئی بھی نئی چیز جب مطالعہ میں آتی تھی تو مجھے بھی متعلقہ صفحات کی فوٹو کاپیاں کرکے بھیجا کرتے تھے۔ ایک ایسے عالم تھے جو یقینا ایک عالِم باعمل کہلانے کے حقدار تھے۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہابڑے بے نفس کارکن۔ ایک ایسے سلطان نصیر کے جانے سے طبعاً فکر بھی پیدا ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ خلافت کو سلطان نصیر عطا فرماتا چلا جائے گا۔

ایک لکھنے والے ہمارے مبشر ایاز صاحب ہیں انہوں نے مجھے لکھا کہ ان کے ساتھ جب میٹنگز اٹینڈ (Attend)کرتے تھے ان کا وجودایک عجیب عشق میں ڈوبا ہوا وجود لگتا تھا کہ جس طرح قطب نما کی سوئی ہمیشہ شمال کی جانب رہتی ہے اسی طرح ان کی سوچ کا محور بھی ہمیشہ خلافت کی طرف رہتا تھا۔ بڑے بڑے حوالوں اور فتاویٰ کو پرِکاہ سے زیادہ وقعت نہیں دیتے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ جب خلیفۃ المسیح نے یہ کہہ دیا تو فلاں کے حوالے کی اور فلاں کے قول کی کیا اہمیت ہے۔

پھر ایک مربی صاحب نے مجھے لکھا کہ سعودی عرب کے امیر صاحب آئے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے وہاں کی تاریخ احمدیت مرتب کرنی ہے۔ مولانا دوست محمد شاہدکے پاس چلتے ہیں۔ چنانچہ وہ ان کے دفترمیں گئے تو انہوں نے آدھے گھنٹے میں سارے حوالے وغیرہ دے کے پوری تاریخ بیان کردی اور فوٹو کاپیاں بھی کروا کر ان کو دے دیں۔ جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ بہت بلا کا حافظہ اور حوالوں کے بادشاہ تھے۔ جماعتی اموال کا بھی بڑا درد تھا ان کو۔ ایک صاحب نے لکھا کہ مَیں کسی حوالے کے لئے ان کے دفتر میں گیا۔ تو انہوں نے مجھے بتایا اور حوالہ میرے سامنے کردیا تو مَیں نے ان کی میز سے قلم اٹھا کر لکھنا شروع کیا۔ پہلے قلم لیا، پھر کاغذ لیا تو انہوں نے قلم اور کاغذ دونوں مجھ سے لے لئے کہ تم یہاں ذاتی استعمال کے لئے حوالہ لینے آئے ہو، اپنا قلم استعمال کرو اور اپنی نوٹ بک استعمال کرو۔

پھر محمود ملک صاحب نے مجھے یہ لکھا کہ ان کے والد عبدالجلیل عشرت صاحب کے یہ دوست تھے۔ ایک دفعہ یہ لاہور کے دورہ پہ گئے تو انہوں نے پیغام بھیجا کہ میں آ نہیں سکتا تو یہاں آجائیں تو دوستی کی وجہ سے ذاتی تعلق کی وجہ سے چلے گئے، وہ رکشے پہ ان کولے کے گئے۔ مولوی صاحب نے رکشہ کا کرایہ ادا کرنے کی کوشش کی۔ خیر انہوں نے اس وقت تو دے دیا۔ اگلے دن وہاں مسجد دارالذکر میں جانا تھا تو انہوں نے کہا کہ جا کے ٹیکسی لے کے آؤ اور ٹیکسی کا کرایہ بھی مَیں ادا کروں گا، کیونکہ مجھے مرکز ٹیکسی کاکرایہ دیتا ہے اور مرکز چاہتا ہے کہ ہمارے علماء کی عزت رہے۔ اس لئے مَیں رکشے پہ نہیں بیٹھوں گا اور ٹیکسی پہ جاؤں گا۔ تو یہ صرف اطاعت نہیں تھی۔ اس سے بہت سے سبق ملتے ہیں کہ جو جس چیز کا اینٹا ئٹلمینٹ (entitlement) ہے، جس چیز کا مرکز نے کہا ہے کہ آپ نے استعمال کرنا ہے، اس کو استعمال بھی کرنا تاکہ کسی بھی قسم کی اطاعت سے باہر نہ نکل سکیں۔ اور دوسرے علماء کا جو وقار ہے اس کا بھی احساس رہنا۔

آپ کی وفات جیسا کہ مَیں نے بتایا دو دن پہلے 26؍ اگست کو ہوئی ہے۔ آپ 1935ء میں مدرسہ احمدیہ قادیان میں داخل ہوئے تھے اور 1944ء میں جامعہ کی تعلیم کاآغاز ہوا۔ 1946ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل پاس کیا اور تیسری پوزیشن لی۔ آپ کا جماعتی خدمات کا عرصہ63سال پر محیط ہے۔ 1952ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر الفضل میں ’’شذرات‘‘ کے نام سے لکھنا شروع کیا۔ بڑا لمبا عرصہ یہ چلتا رہا۔ 1953ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو تاریخ احمدیت مدوّن اور مرتب کرنے کے لئے فرمایا۔ اس کی 20جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور باقی بھی 2004ء تک مکمل ہیں اور اس کے بعدنوٹس بنا کے چھوڑ گئے ہیں۔ آپ کا ایک بیٹا ہے ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب۔ فضل عمر ہسپتال میں ہیں اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ ان کے خاندان میں احمدیت اس طرح آئی کہ ان کے ایک عزیز حضرت میاں محمد مراد صاحب حافظ آبادی تھے۔ بڑے نیک بزرگ تھے، وہ احمدی ہوئے۔ حضرت مولوی صاحب کے داد اکو جب پتہ لگا تو انہوں نے ان پر بڑا ظلم کیا اور اتنا مارا کہ بعض دفعہ تو بہت زیادہ۔ شدید زخمی کر دیا کرتے تھے۔ تو میاں مراد صاحب نے کہا کہ انشاء اللہ تعالیٰ تمہارے تین عقلمند بیٹے ضرور احمدی ہو جائیں گے۔ چنانچہ حضرت مولوی صاحب کے پڑدادا جو تھے اس پر اور بھی مشتعل ہو گئے اور زیادہ سخت سزائیں دیں۔ اس بارہ میں مولوی صاحب نے ایک واقعہ بیان کیاہے۔ جابہ نخلہ ایک چھوٹی سی جگہ ہے جو حضرت مصلح موعودؓ نے آباد کی تھی، گرمیوں کے لئے آپ ان دنوں میں وہاں تفسیر صغیرکی تالیف فرما رہے تھے۔ مولوی صاحب بھی ان دنوں میں وہاں گئے لیکن وہاں جانے سے پہلے وہ کہتے ہیں کہ مَیں اپنے دادا کے پاس خانقاہ ڈوگرا ں کے قریب گاؤں میں گیا۔ ان کی زندگی کے آخری دن تھے۔ تووہ کہنے لگے اپنے خلیفہ صاحب کو میرا ایک پیغا م دے دینا کہ میرے چھ بیٹے ہیں، جن میں سے تین بچے جن میں سے ایک حافظ قرآن ہے اور دوسرے دو بہت عقلمند اور صاحب علم ہیں تمہارے خلیفہ صاحب نے مجھ سے چھین لئے ہیں اور باقی جو تین اَن پڑھ یا معذور ہیں میرے حوالے کر دئیے ہیں۔ اگر انہوں نے گنتی پوری کرنی ہے تو جویہ تین معذور ہیں یہ لے لیں اور جو پڑھے لکھے ہیں وہ مجھے واپس کر دیں۔ تو کہتے ہیں جب مَیں جابہ نخلہ گیا تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی۔ مَیں نے یہ بات عرض کر دی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے جب یہ پیغام سنا تو آپ مسکرائے اور فرمایا کہ اپنے دادا کو میرا پیغام پہنچا دیں کہ مجھے بیٹوں کا تبادلہ بڑی خوشی سے منظور ہے۔ آپ اپنے غیر احمدی بیٹے جو ہیں میرے حوالے کر دیں اور جوآپ کے احمدی بیٹے ہیں ان کو میری طرف سے اجازت ہے اگر وہ احمدیت چھوڑ کے آپ کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں تو چلے جائیں۔ تو کہتے ہیں کہ مَیں نے اپنے دادا کو آ کے یہ پیغام دیا۔ تو کہتے ہیں آپ کے خلیفہ صاحب بڑے ہوشیار ہیں ان کو پتہ ہے کہ انہوں نے مرزائیت نہیں چھوڑنی اور اس پر بڑے روئے اور چلاّئے بھی۔ حضرت مولوی صاحب کی والدہ بھی 1949ء میں ایک رؤیا کی بنا پر احمدیت میں شامل ہوئی تھیں۔ 1951ء میں جامعۃ المبشرین کی پہلی کامیاب ہونے والی شاہد کلاس میں آپ شامل تھے اور اس کی الوداعی پارٹی میں حضرت مصلح موعودؓ نے بھی شرکت فرمائی اور جو جوابی ایڈریس حضرت مولوی صاحب نے پیش کیا اس پر حضرت مصلح موعودؓ نے بڑی خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ آپ نے جامعۃ المبشرین سے شاہد کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد جماعت اسلامی پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا۔ اس کا عنوان بھی خود حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تجویز فرمایا تھا اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی راہنمائی میں ہی آپ نے یہ مضمون لکھا اور حضرت امیر مینائی کے جانشین اور حضرت مسیح موعو دؑ کے صحابی حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری نے مختلف وقتوں میں ان کی راہنمائی بھی فرمائی۔ جیسا کہ مَیں نے کہا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 1953ء میں آپ کے سپرد تاریخ احمدیت کی تدوین کا کام کیا تھا جس کی 20جلدیں مکمل ہو چکی ہیں اور خلافت خامسہ کی تاریخ کا کام بھی جاری ہے۔ 40سے زائد آپ کی تالیفات ہیں جو مختلف موضوعات پر چھپ چکی ہیں اور بعضوں کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔

بڑی ہی علمی ادبی شخصیت تھے اور روایتی رکھ رکھاؤ والے آدمی تھے۔ اور تحریر و تقریر میں ایک خاص ملکہ تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو آواز بھی خوب دی تھی۔ 1974ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی قیادت میں جو نمائندہ وفد اسمبلی میں گیا تھا وہاں اس وفد میں حضرت مولوی صاحب بھی شامل تھے۔ آپ اس وفد کے آخری رکن تھے جن کی وفات ہوئی ہے۔ وہاں بھی معلومات اور حوالوں کی فراہمی کی ذمہ داری آپ کے سپرد کی گئی اور آپ جب بھی حوالے نکال کر دیتے تھے تو ممبران اسمبلی بڑے حیرت زدہ ہو جایا کرتے تھے۔ بلکہ وہاں اس دوران میں ایک دفعہ ایک ممبر اسمبلی نے بڑی حیرانی کا اظہار بھی کیا کہ ہمارے علماء کو حوالے نکالنے کی ضرورت پڑتی ہے تو کئی کئی دن لگ جاتے ہیں اور مصیبت پڑ جاتی ہے۔ ان مرزائیوں کا یہ چھوٹا سا مولوی ہے، یہ پتہ نہیں پندرہ منٹ میں حوالے نکال کے لے آتا ہے۔

جلسوں میں بھی آپ کو بڑا لمبا عرصہ تقریر کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی۔ 1957ء کے جلسہ میں آپ نے شبینہ اجلاس میں پہلی بار تقریر کی اور 1958ء میں آپ کی یہ تقریر شائع ہوئی اور اس کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اتناپسند فرمایا کہ شوریٰ میں خاص طور پر اس کا ذکر فرمایا۔ ریسرچ سیل میں بھی کام کیا۔ قاضی کے طور پر بھی کام کیا اور وفات تک آپ مجلس شوریٰ پاکستان کے ممبر رہے اور آپ کو بحیثیت نمائندہ خصوصی اور اعزازی ممبر جو خلیفۃ المسیح کی طرف سے منتخب ہوتا ہے شرکت کا موقع ملا۔ اور 1992ء۔ 1993ء میں کیمبرج کے مشہور بین الاقوامی ادارہ انٹرنیشنل بائیو گرافیکل سنٹر نے آپ کو مین آف دی ایئر (Man of the Year) کا اعزاز بھی دیا تھا اور یہ جو اعزاز ہے ایسی خاص علمی شخصیات کو دیا جاتا ہے جن کی صلاحیتوں کامیابیوں اور قیادت کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جاتا ہے۔ 1994ء میں بھارت کے صوبہ تامل ناڈو کے شہر کوئمبے ٹور (Coimbatore) میں جماعت احمدیہ اور جماعت اہل قرآن و حدیث کے مابین ایک مناظرہ ہوا۔ یہ مناظرہ وہاں کے ایک ہوٹل کے وسیع ہال میں ہوا تھا۔ 9روز تک جاری رہا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے کہنے پر آپ وہاں گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی آپ کو فتح سے نوازا اور آپ نے جماعت احمدیہ کی خوب نمائندگی کی۔ اور اس دوران جب آپ وہاں تھے آپ کی ایک بیٹی کی شادی بھی ہوئی جس میں آپ شامل نہیں ہوئے بلکہ دو بیٹیوں کی شادیاں اس صورت میں ہوئیں کہ آپ دَوروں پر ہوتے تھے اور اس دن پہنچتے تھے جس دن شادی تھی۔ اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی کہ میرے ذاتی کام کیا ہیں۔ 1982ء میں آپ کو اسیرراہ مولیٰ بننے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ چند روز آپ ربوہ کی حوالات میں رہے۔ اپریل 1988ء میں دوبارہ ڈسٹرکٹ جیل گوجرانوالہ میں آپ کو قید کرکے رکھا گیا۔ پھر 1990ء میں جج نے آپ کی ضمانت منسوخ کر دی اور دو دوسال قید بامشقت اور پانچ پانچ ہزار روپے جرمانہ کی آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو سزا دی گئی۔ بہرحال کچھ عرصہ کے بعد پھر یہ ضمانت پر رہا ہو گئے۔ جیل میں بھی آپ نے درس قرآن اور تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔

مولوی صاحب اپنا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر جب مَیں نے دو ہفتہ کے لئے اپنا بستر رات کو اپنے معمول کے مطابق دفتر میں ہی بچھا رکھا تھا۔ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری سے فون کے لئے منتظر بیٹھا تھا تو اتنے میں ثاقب زیروی صاحب جو لاہور کے ایڈیٹر تھے وہ آئے۔ انہوں نے کہا مَیں ابھی حضور سے مل کے آ رہا ہوں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو فرمایا کہ ابھی فون کرکے فلاں فلاں جو حوالہ ہے وہ مولوی صاحب سے کہو بھجوا دیں۔ تو ثاقب صاحب کہتے ہیں مَیں نے عرض کیا کہ ابھی رات ہو گئی ہے، اب کہاں مولوی صاحب ملیں گے۔ تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ اپنے دفتر شعبہ تاریخ میں اس وقت بیٹھے ہوں گے۔ ثاقب صاحب نے کہا کہ مَیں صرف چیک کرنے آیا ہوں کہ واقعی آپ دفترمیں ہیں کہ نہیں۔ تو دن رات آپ کا یہ کام تھا کہ خدمت دین میں مصروف رہیں۔ خلیفہ وقت کی طرف سے جب بھی کوئی کام آ جاتا خواہ رات کے دو بجے ہوتے، اسی وقت اٹھ کر کام شروع کر دیتے اور کام مکمل ہونے تک پھر اور کوئی کام نہیں کرتے تھے اور نہ آرام کرتے تھے، بلکہ کہا کرتے تھے کہ مَیں کوئی اور کام کرنا جائز ہی نہیں سمجھتا۔ ڈاکٹر مبشر صاحب نے بتایا کہ وفات سے چند روز پہلے انہوں نے کہا کہ مجھے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی آواز آئی ہے کہہ رہے ہیں۔ السلام علیکم۔ بہرحال واپسی کے اشارے ہو رہے تھے۔ ڈاکٹر سلطان مبشر نے ہی یہ لکھا ہے کہ کوئی بھی پریشانی ہوتی تو سب سے پہلے کہتے کہ خلیفہ وقت کو دعا کے لئے لکھو۔ پھر صدقہ دو اور پھر درودشریف اور استغفار کثرت سے پڑھو۔ اور آپ کاعربی، فارسی، انگلش کا مطالعہ بڑا وسیع تھا اور نہ صرف مطالعہ کرتے تھے بلکہ پڑھتے وقت جِلد پر پوائنٹس اور نشان بھی لگاتے تھے اور پھر اس کے باہرپوائنٹس نوٹ کرتے جاتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے یہ نصیحت فرمائی تھی کہ کتابیں ہمیشہ خود خریدو اور پڑھو تو انہوں نے ہمیشہ اس کواپنے پلے باندھا۔ ان کی گھر میں اپنی لائبریری تھی جس میں آٹھ ہزار کے قریب کتابیں تھیں۔ جب بھی کبھی ربوہ سے باہر جاتے تھے، خلیفۃ المسیح کے ہوتے ہوئے تو خیر اجازت لینی ہوتی ہے، بعد میں امیر مقامی کی اجازت کے بغیر باہر نہیں نکلتے تھے اور جب جماعتی کاموں کے لئے جاتے تھے تو بعض دفعہ بلکہ اکثر ہی اپنے عزیزوں کو نہیں ملتے تھے۔ ان کی بیٹیاں لاہور میں رہتی تھیں۔ کبھی لاہور دورے پہ گئے ہیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ بیٹیوں کو ملیں بلکہ بعض دفعہ بیٹیوں کو ان کے واپس پہنچنے پر پتہ چلا کرتا تھا اور اگر کبھی ملنا پڑ جائے تو امیرصاحب کی اجازت سے ان کو ملنے جایا کرتے تھے۔ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ مَیں خلیفہ وقت کا سپاہی ہوں اور سپاہی اپنا مورچہ نہیں چھوڑتا۔ جمعہ کے دن بھی انہوں نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ ربوہ میں جمعہ کودفتروں میں رخصت ہوتی ہے، آپ ہمیشہ کام کیا کرتے تھے، چھٹی کا تصور ہی کوئی نہیں تھا۔

بڑا سادہ لباس ہوتا تھا لیکن صاف ستھرا اور نظافت تھی، روزانہ نہانا، خوشبو لگانا۔ ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ جماعت کے نمائندے کو جماعت کے وقار کا پاس رکھنا چاہئے اور ظاہری حلیہ بھی ٹھیک رکھنا چاہئے۔ اور واقف زندگی کرکے بہت مشکل حالات بھی آئے، کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا اور نہ کہیں اشارۃً کنایۃً اپنی غربت کا، اپنی ضرورت کا اظہار کیا۔ بلکہ ڈاکٹر سلطان مبشر لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ میری والدہ نے ذکر کیا کہ فلاں عالم جو ہیں ان کو مخیر دوست کی طرف سے وظیفہ ملتا ہے۔ آپ بھی اگر کوشش کریں تو یہ ہو سکتا ہے۔ حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ مَیں یہ بے شرمی نہیں کر سکتا اور آپ کا یہ کہنا تھا کہ مَیں جائز نہیں سمجھتا کہ خدا کے علاوہ کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلاؤں۔ ایک دفعہ چند مربیان آپ کے پاس آئے کہ اس کاغذ پر دستخط کر دیں جس پر لکھا ہوا تھا کہ تحریک جدید کے مبلغین کو زیادہ الاؤنس ملتا ہے اور صدر انجمن احمدیہ کے مبلغین کو، کارکنان کو کم تو اس پر نظرثانی ہونی چاہئے۔ تو آپ نے کہا مَیں تو اس پر دستخط نہیں کروں گا کیونکہ مَیں تو ایک وقف زندگی ہوں، جو جماعت مجھے دے گی وہ بصد شکریہ قبول کروں گا اور یہ بھی جماعت کا شکر ہے کہ ہم سے لینے کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ کچھ نہ کچھ دے دیتی ہے۔ کبھی خلفاء کو بھی ذاتی ضرورت کے لئے نہیں لکھتے تھے، کبھی حرف شکایت منہ پر نہیں لائے۔

ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کو ضرورت پڑی۔ آپ نے کہا مولوی صاحب کو بلوا کے لاؤ۔ تو ہر جگہ تلاش کر لیا۔ لائبریری میں، دفتر میں بھی، گھر میں بھی، کہیں بھی نہیں ملے۔ عصر کی نماز پہ جب آئے تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے پوچھا کہ تلاش کر رہا ہوں کہاں تھے؟ انہوں نے کہا مَیں لائبریری میں تھا، مسئلہ یہ ہے کہ لائبریری کا کارکن باہر سے تالہ لگا کے چلا گیا تھا اور مجھے اندر جانا تھا۔ بجائے اس کے کہ مَیں وقت ضائع کرتا مَیں دیوار پھلانگ کے اندر چلا گیا اور اندر بیٹھا کام کر رہا تھا۔ تو یہاں بھی اپنا فرض ادا کیا اور بڑے طریقہ سے کارکن کی غلطی کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔

جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ جیل میں بھی رہے ہیں اور جیل میں مشقت لی جاتی تھی۔ لیکن جیل میں جب تک رہے کبھی اظہار نہیں کیاکہ مجھ سے مشقت لی جاتی ہے، مَیں بڑا پریشان ہوں۔ جب رہائی ہوئی، تب بتایا کہ مجھ سے وہاں مشقت لی جاتی رہی ہے۔ ہر کام خود کرنے کے عادی تھے، کتابوں کی جلدیں بھی خود کر لیا کرتے تھے اور گھر میں جیساکہ مَیں نے بتایا کہ لائبریری رکھی ہوئی تھی اس لائبریری کا مقصد بھی یہی تھا کہ رات کے وقت بھی جب بھی کہیں کسی وقت بھی خلیفۃ المسیح کی طرف سے کوئی کام آئے یا حوالے کی تلاش آئے تو فوری طور پر مَیں مہیا کر دوں اور لائبریری کھلنے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

شروع میں سائیکل بھی نہیں تھا۔ ہر جگہ پیدل ہی جایا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے جب مَیں نے سنا تو مجھے خود یہ خیال آیا تھا۔ جب خدام الاحمدیہ کے اجتماع ہوا کرتے تھے تو ٹی آئی کالج دُور تھا اس کی گراؤنڈ میں، گھوڑ دوڑ گراؤنڈ کہلاتی ہے وہاں تک یہ انجمن کے کوارٹروں سے پیدل چل کر جایا کرتے تھے۔ باوقار چال، پگڑی، کوٹ، ہاتھ میں سوٹی۔ حالانکہ اس وقت خدام الاحمدیہ میں تھے۔ شاید سائیکل نہیں لے سکتے ہوں گے۔ کیونکہ اس وقت جماعت کے حالات ایسے نہیں تھے۔ مبلغین اور واقفین زندگی کے الاؤنس بھی بہت تھوڑے تھے۔ ان کے بیٹے نے مجھے لکھاکہ واقعی وہ سائیکل نہیں خرید سکتے تھے اس لئے سارے ربوہ میں جہاں بھی جانا ہوتا تھا پیدل ہی پھرا کرتے تھے۔ پھر 1978-79ء میں ان کو دفتر کی طرف سے سائیکل ملی۔

جب بھی خلفاء کی مجلس عرفان میں بیٹھتے تھے تو ہمیشہ گردن جھکا کے بیٹھا کرتے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی بھی یہی عادت تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے گردن جھکا کر بیٹھے تھے۔ ان کے بیٹے نے لکھا کہ ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب بڑے خوش خوش گھر میں آئے ہم نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے انہوں نے کہا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی ملاقات کے لئے گیا تھا تو تھوڑی دیر کے لئے کسی کام سے حضور اندرتشریف لے گئے۔ آپ کی جوتی باہر پڑی تھی تو مجھے اس کو اپنے رومال سے صاف کرنے کا موقع مل گیا۔ اس بات پہ بڑے خوش تھے۔ کسی دوست نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ جس کام کے لئے دنیا میں ادارے بنائے جاتے ہیں وہ اکیلے اس شخص نے کیا۔ 1982ء سے پہلے آپ کے پاس کوئی مستقل مربی بھی نہیں تھا اور اکیلے ہی آپ زیادہ تر تاریخ احمدیت کا کام یاحوالے نکالنے، تلاش کرنے، لکھنے، نوٹس بنانے وغیرہ کا کام کیا کرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے کامیاب طریقہ سے ساری تاریخ لکھی۔ لوگ دنیاداری کے لئے تو بعض دفعہ ایساکرتے ہیں کہ اپنا ویک اینڈ (Weekend) استعمال کرلیتے ہیں، چھٹی پہ بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ بچے کہتے ہیں کہ ہمیں مہینوں یہ پتہ نہیں لگتا تھا کہ کس وقت ہمارے والد گھر آئے اور کس وقت گھر سے چلے گئے۔ جب وہ صبح صبح اٹھ کے چلے جاتے تھے تب بھی ہم سوئے ہوتے تھے اور جب گھر واپس آتے تھے تب بھی ہم سوئے ہوتے تھے۔

یہ واقفین زندگی اور مبلغین کے لئے بھی ایک تاریخی نصیحت بھی ہے۔ کہتے ہیں کہ 1965ء میں خلافت ثالثہ کے تاریخ ساز عہد کا پہلا جمعہ تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کو بلایا اور فرمایا کہ جمعہ کو چھٹی تو ہوتی ہے لیکن مَیں نے تمہیں تکلیف دی ہے تومَیں نے کہا بڑی خوشی کی بات ہے۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فرمایا کہ تمہیں اس لئے بلایا ہے کہ جب مَیں نے (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کہتے ہیں کہ) وقف زندگی کا فارم پُر کیا اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پیش کیا تو آپؓ نے ارشاد فرمایا کہ آج تم نے میرے دل کی پوشیدہ خواہش کو پورا کر دیا ہے۔ مَیں چاہتا تھا کہ تم میری تحریک کے بغیر خود ہی تحریک جدید کے روحانی مجاہدوں میں شامل ہو جاؤ۔ آج میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں مگر یاد رکھو اب تم نے اپنی زندگی وقف کر دی ہے اب مرنے سے پہلے تمہارے لئے کوئی چھٹی نہیں۔ مولوی صاحب کہتے ہیں مَیں نے یہ عرض کی کہ حضور مَیں بھی یہ عہد کرتا ہوں کہ ایک واقف زندگی کی حیثیت سے ہمیشہ دن رات خدمت دین میں مشغول رہوں گا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے آخری وقت تک اس عہد کو نبھایا ہے۔

جب ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں تو بڑے شدید بیمار تھے اور جب بھی ذرا کمزوری دُور ہوئی تو جب تک ان کو ہوش رہی ہے (آخری دو چار دن تو بیہوشی کی ہی کیفیت تھی) تو بے چین ہو کر کہا کرتے تھے کہ مجھے ہسپتال سے جلدی فارغ کرو۔ مَیں نے دفتر جانا ہے کیونکہ مجھے خلیفۃ المسیح نے بعض کام سپرد کئے ہوئے ہیں جو مَیں نے فوری انجام دینے ہیں۔ تو انہوں نے آخر دم تک اس عہد کو نبھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرتا جائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان کے جو بیٹے ڈاکٹر سلطان مبشر ہیں وہ بھی واقف زندگی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی حقیقی رنگ میں وقف نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

مَیں جمعہ کے بعدان کا جنازہ غائب ادا کروں گا۔ اس کے ساتھ ہی دو اور جنازے بھی ہیں۔ ایک تو مولوی صاحب کے چھوٹے بھائی ہیں جو سات سال آپ سے چھوٹے تھے۔ ان کی وفات مولوی صاحب کے ایک گھنٹے بعد ہوئی ہے اور وہ موصی تھے۔ اُن کی اولاد تو کوئی نہیں تھی۔ بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے ہیں۔ ان کومالی قربانیوں کا موقع ملا اور بڑے بڑھ چڑھ کر حصّہ لینے کی توفیق ملی۔ انہوں نے وفات سے پہلے مریم فنڈ کے لئے دو لاکھ روپے دینے کی وصیت کی۔ اپنے خاندان میں بھی دو یا تین بچوں کی شادی اور بیوہ کے لئے دو لاکھ روپے دئیے۔ اس لحاظ سے یہ بھی نیکیوں پہ چلنے والے اور قربانیاں کرنے والے تھے۔ مولوی صاحب کے بھائی کا نام محمد اسلم صاحب ہے۔

اسی طرح ایک اور جنازہ ہے۔ نسیم بیگم صاحبہ اہلیہ بشیر احمد صاحب چک 46شمالی سرگودھا۔ یہ 17؍ اگست کو وفات پا گئی ہیں۔ ہمارے مبلغ سلسلہ محمد عارف بشیرصاحب کی والدہ تھیں جو آج کل تنزانیہ میں ہیں۔ یہ میدان عمل میں تھے اپنی والدہ کے جنازہ میں شامل نہیں ہو سکے۔ یہ کہتے ہیں کہ جب مَیں جامعہ میں داخل ہوا ہوں تو میری والدہ نے پنجابی میں نصیحت کی تھی (جس کا اُردو میں یہ بنتا ہے) کہ بیٹا اب پڑھ کے آنا اور دین کی خدمت کرنا۔ آپ موصیہ بھی تھیں۔ بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اپنی اولادوں کے بارے میں جو نیک خواہشات تھیں وہ بھی پوری فرمائے۔

(الفضل انٹرنیشنل جلد 9 شمارہ 38 مورخہ 18 تا 24 ستمبر 2009ء صفحہ 5 تا صفحہ 9)


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 28؍ اگست 2009ء شہ سرخیاں

    خدا نے ہر زمانے میں اپنے انبیاء کے ذریعہ سے وہ راستے دکھائے جو خدا کی طرف لے جانے والے ہیں۔ انسان کے ارتقائی عروج میں کامل شریعت کا نزول۔ ہلکی پھلکی بیماری اور چھوٹ کو بہانہ بنا کر روزہ نہ چھوڑیں۔ ہماری خوش قسمتی کہ ایک اور رمضان سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کر دیا۔ ان دنوں میں اللہ کے فضلوں کی کوئی حدنہیں ہوتی۔ رمضان میں شیطان کو جکڑ دیے جانے کی حقیقت۔ صدقہ اور اخلاق حسنہ، تلاوت قرآن کریم کی نصیحت۔ ہمیں ایسے روزے رکھنے چاہئیں جو ہمارے اس دنیا سے رخصت ہونے تک ہمارے ہر قول و فعل کو خدا کی رضا کا ذریعہ بناتے ہوئے خدا سے ملانے والے ہوں۔ روزے کی قبولیت کے لئے لوازمات کو پورا کرنا ضروری ہے۔ رمضان میں برائیاں اور بدیاں کرنے والوں کے لئے جنت کے دروازے نہیں کھولے جاتے، اس امر کی تشریح۔ آیت وَاِذَا سَأَلَکَ کی لطیف تشریح۔ 

    فرمودہ مورخہ 28؍اگست 2009ء بمطابق28؍ظہور 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور