اللہ تعالیٰ کی صفت الولی

خطبہ جمعہ 30؍ اکتوبر 2009ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

گزشتہ خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی صفت وَلِیْ کے حوالے سے بعض آیات کا ذکر کیا تھا۔ جن کا بیان اہل لغت نے اپنی لغات میں کیا ہے اور ان کی روشنی میں ایک دو آیات کا مضمون بھی بیان ہوا تھا۔ باقی آیات کچھ رہ گئی تھیں ان میں سے بھی ایک آیت آج بیان کروں گا اور اس کے علاوہ جو مَیں نے اُس دن نہیں پڑھی تھیں ان میں سے بھی ایک آدھ آیت جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت وَلِیْ کا ذکر کیا ہوا ہے بیان کروں گا۔ اللہ تعالیٰ کے وَلِیْ اور مَوْلٰی ہونے کا ذکر تو کئی جگہ قرآن کریم میں آتا ہے، تمام آیات تو بیان نہیں کی جا سکتیں جیسا کہ مَیں نے کہا چند بیان کرتا ہوں اور یہ بیان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تفسیر کی روشنی میں ہو گا۔

اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور غیر مومنوں دونوں کو اپنی اس صفت کے حوالے سے توجہ دلائی ہے۔ بلکہ کفار کو تنبیہ بھی کی ہے۔ سورۃ رعد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَہٗ مُعَقِّبَاتٌ مِّنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ وَاِذَآ اَرَادَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ سُوٓءً افَلَا مَرَدَّ لَہٗ وَمَا لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّالٍ(الرعد: 12)۔ اس آیت کا ترجمہ ہے کہ اس کے لئے اس کے آگے اور پیچھے چلنے والے محافظ مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ یقینا اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اسے تبدیل نہ کریں جو ان کے نفوس میں ہے۔ اور جب اللہ کسی قوم کے بدانجام کا فیصلہ کر لے تو کسی صورت اس کا ٹالنا ممکن نہیں اور اس کے سوا ان کے لئے کوئی کار ساز نہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ ہم نے دیکھا چار باتیں بیان فرمائی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی حفاظت اپنے ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔ دوسری یہ کہ قوموں کی حالت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ان کے عمل کے مطابق کرتا ہے۔ تیسرے یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو سزا کا مستوجب قرار دیتا ہے تو اسے ٹالا نہیں جا سکتا اور پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی وَلی اور نگران اور محافظ اور مددگار ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آیت کے اس حصہ کہ لَہُ مُعَقِّبَاتٌ مِّنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ کے ذکر میں فرماتے ہیں کہ:

’’خداتعالیٰ کی طرف سے چوکیدار مقرر ہیں جو اس کے بندوں کو ہر طرف سے یعنی کیا ظاہری طور پر اور کیا باطنی طور پر حفاظت کرتے ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد 5صفحہ 79)

یہ حفاظت سب سے زیادہ کن لوگو ں کی ہوتی ہے؟ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے فرستادوں کی؟ ان کی حفاظت پر سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ نے اپنا حفاظتی ہاتھ رکھا ہوا ہے، اور آنحضرتﷺ کی پیدائش کے بعدخداتعالیٰ کو اگر کوئی سب سے پیارا تھا تو وہ آنحضرتﷺ کی ذات تھی۔ اور پیدائش سے لے کر وفات تک ہر موقع پر جس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے اس قول کو آپﷺ کی ذات پر پورا کرکے دکھایا، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی تفسیر میں اسی وجہ سے فرمایا ہے کہ لَہُ مُعَقِّبَاتٌ یعنی اس کے لئے چوکیدار ہیں۔ لَہٗ کی ضمیر جو ہے آنحضرتﷺ کی ذات کی طرف پھرتی ہے۔ جہاں ہر موقع پر خداتعالیٰ کی حفاظت ہمیں نظر آتی ہے۔ مکّہ میں آپ نے جو زندگی گزاری جیسا کہ اسلام کی تاریخ سے ہر ایک پرروز روشن کی طرح واضح ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر موقعہ پر آپ کی حفاظت فرمائی۔ سورۃ رعد جس کی مَیں نے آیت پڑھی ہے۔ یہ آپؐ پر مکّہ میں نازل ہوئی تھی جبکہ دشمنی کی ایک انتہا ہوئی ہوئی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق ان خوفناک اور خطرناک حالات میں بھی آپؐ کی ایسی حفاظت فرمائی کہ دشمن جو چاہتا تھا، جس مقصد کو حاصل کرنا چاہتا تھا اس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکا۔

بدر کی جنگ میں ہم ظاہری و باطنی حفاظت کا شاندار نظارہ دیکھتے ہیں۔ پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ عامر ابن طفیل ایک سردار تھا۔ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آنحضرتﷺ سے کہاکہ اگر مَیں مسلمان ہو جاؤں تو کیا آپؐ کے بعد خلافت مجھے مل جائے گی؟ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اس شرط لگانے والے اور اس کی قوم کو کبھی بھی خلافت نہیں مل سکتی۔ اس پر وہ ناراض ہو گیا اور کہا کہ مَیں ایسے سوار لاؤں گا جو آپ کو نعوذ باللہ ایسا سبق دیں گے کہ آپ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ خداتعالیٰ تمہیں کبھی اس کی توفیق ہی نہیں دے گا۔ بہرحال وہ اپنے ساتھی کے ساتھ جسے وہ اپنے ساتھ لایا تھا، غصّہ میں واپس لوٹا۔ راستے میں اس کے ساتھی نے اس سے کہا کہ میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے آؤ واپس چلتے ہیں۔ مَیں محمدﷺ کو باتوں میں لگاؤں گا اور تم تلوار کا وار کرکے کام تمام کر دینا۔ عامر کچھ محتاط بھی تھا، لگتا ہے اس کو عقل بھی زیادہ تھی۔ اس نے کہا اس سے تو بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس کے بعد آپﷺ کے ساتھی ہمیں قتل کر دیں گے۔ اس ساتھی نے جو زیادہ ہی شیطان فطرت تھا کہا کہ ہم اس کے بدلہ میں دِیت دے دیں گے۔ بہرحال اس نے اپنے ساتھی کو منا لیا اور وہ واپس لوٹے۔ عامر کے ساتھی نے آپﷺ سے باتیں شروع کیں اور عامر نے پیچھے کھڑے ہو کر تلوار سونتی لیکن وہ آپؐ پروار نہ کر سکا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر آنحضرتﷺ کا ایسا رعب طاری فرمایا کہ اس کا ہاتھ وہیں کھڑا رہ گیا اور حملے کی جرأت نہیں ہوئی۔ اتنے میں آنحضرتﷺ نے مڑ کے دیکھا تو اس کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ تلوار کا قبضہ ہاتھ میں تھا اور اٹھائی ہوئی تھی۔ تو آپﷺ اس کے ارادے کو بھانپ گئے اور پیچھے ہو گئے، ایک طرف ہو گئے۔ اس پر وہ دونوں وہاں سے چپکے سے چلے گئے اور آپ نے ان کو جانے دیا، کچھ نہیں کہا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک تو آنحضرتﷺ کی حفاظت فرمائی اور پھر ان دونوں سے انتقام کس طرح لیا؟ اس کے ساتھی پرتو راستہ میں بجلی گری اور ختم ہو گیا۔ اور عامر کے متعلق آتا ہے کہ وہ کاربنکل ایک بیماری ہے۔ ایک پھوڑا ہوتا ہے، اس سے ہلاک ہو گیا۔ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد سوم صفحہ 391-392 مطبوعہ ربوہ)

تو یہ ایک مثال ہے جیسا کہ مَیں نے کہا کہ مختلف وقتوں میں آپؐ کی حفاظت کے واقعات ہمیں ملتے ہیں اور چند ایک نہیں بلکہ آپؐ کی پوری زندگی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں خداتعالیٰ کی خاص حفاظت فرشتوں کے ذریعے سے نظر آتی ہے۔ اس حفاظت کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے مکّہ میں کیا تھا مدینہ میں آپؐ کی تسلی کے لئے اس کا اعادہ فرمایا اور فرمایا وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ (المائدۃ: 68) یعنی اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کے حملوں سے محفوظ رکھے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’آنحضرتﷺ کا کسی کے ہاتھ سے قتل نہ کیا جانا ایک بڑا بھاری معجزہ ہے اور قرآن شریف کی صداقت کا ثبوت ہے۔ کیونکہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی ہے کہ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ (المائدۃ: 68) اور پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی درج تھی کہ نبی آخر زمان کسی کے ہاتھ سے قتل نہ ہو گا‘‘۔ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 363-364 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے کہ علاوہ فرشتوں کے میرے نزدیک وہ مخلص صحابہ بھی مُعَقِّبَات میں سے تھے جنہوں نے خداتعالیٰ کے فضل سے آپﷺ کے آگے پیچھے لڑنے کا عہد پورا فرمایا۔ اور صحابہ نے خداتعالیٰ کے حکم سے آپؐ کی حفاظت کی۔ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ کہ خداتعالیٰ کے حکم سے حفاظت کرنے والے ہیں۔ ایک تو فرشتوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ حفاظت فرماتا رہا۔ دوسرے اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دلوں کو پابند کر دیا کہ وہ آپﷺ کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے ہر وقت تیار رہیں اور آپؐ کی حفاظت کے لئے ہر وقت حاضر رہیں۔ اُس ایمان کی وجہ سے یہ قربانی دیں جو آنحضرتﷺ کے ذریعہ ان صحابہ کے دلوں پر قائم ہوا۔ ان صحابہ نے کسی قومیت یا قبیلے کی وجہ سے آپؐ کا ساتھ نہیں دیا۔ یا کسی دوستی اور ضد کی وجہ سے ساتھ نہیں دیا۔ بعض دفعہ بعض ایسے ساتھی بن جاتے ہیں جو کسی کی مخالفت اس لئے کرتے ہیں کہ خود بھی اس کے مخالف ہوتے ہیں اور ضد میں ساتھ دے رہے ہوتے ہیں۔ آپؐ کے آگے اور پیچھے لڑنے کے لئے کسی ضد کی وجہ سے یہ لوگ تیار نہیں ہوئے تھے یا کسی حکومت کے خوف کی وجہ سے مجبور نہیں تھے۔ بلکہ اس ایمان کی وجہ سے جو خداتعالیٰ نے صحابہ کے دلوں میں پیدا کیا تھا خداتعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے آپؐ کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ پس سب سے زیادہ تو آنحضرتﷺ کی ذات کی حفاظت کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمایا۔ لیکن ایک معنی اس کے یہ بھی ہیں جو ہر انسان پر لاگو ہوتے ہیں کیونکہ ہر انسان کی حفاظت کا بھی اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمایا ہوا ہے۔ اگر وبائی امراض نہ بھی پھیلی ہوں تب بھی فضا میں مختلف قسم کے بیماریوں کے جراثیم ہیں جو انسان کی سانس کے ساتھ جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک دفاعی نظام رکھا ہوا ہے جوانسان کے اندر اِن گندے جراثیم کو انسانی جسم کو متاثر کرنے سے باز رکھتا ہے۔ اور اس کے علاوہ اپنے خاص ولیوں کو بعض دفعہ نشان کے طور پر بھی ان چوکیداروں کے ذریعہ سے حفاظت کا نظارہ دکھاتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کے اُن فرستادوں کے لئے نہیں ہوتے بلکہ ان کے ماننے والوں کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد سوم صفحہ 392-393مطبوعہ ربوہ)

اس زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کی نشانی کے طور پر طاعون کی بیماری کا نشان دکھایا توآپؑ اور آپؑ کے حقیقی ماننے والوں کی حفاظت کا وعدہ بھی فرمایا۔ چنانچہ جب حکومت نے کہا تھا کہ ٹیکہ لگوایا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کشتی نوح میں اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’ہم بڑے ادب سے اس محسن گورنمنٹ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر ہمارے لئے ایک آسمانی روک نہ ہوتی تو سب سے پہلے رعایا میں سے ہم ٹیکا کراتے‘‘۔ فرمایا کہ ’’اور آسمانی روک یہ ہے کہ خدا نے چاہا ہے کہ اس زمانہ میں انسانوں کے لئے ایک آسمانی رحمت کانشان دکھاوے۔ سو اس نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ تُو اور جو شخص تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہو گا اور وہ جو کامل پیروی اور ا طاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے۔ اور ان آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہو گا‘‘۔ (کشتی ٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ 2-1)

اور دنیا نے دیکھا کہ کس طرح باوجود بڑے وسیع پیمانے پر طاعون پھیلنے کے اور کئی سال تک یہ وبا چلتے چلے جانے کے پانچ چھ سال کے عرصے پر محیط ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی محفوظ رہے۔

پھر بیماریوں کے علاوہ بھی مختلف قسم کے صدمات ہیں۔ مال کا صدمہ انسان کو پہنچتا ہے۔ اولاد کا صدمہ انسان کو پہنچتا ہے۔ عزت کا صدمہ پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے فضل سے یہ طاقت دیتا ہے تو انسان وہ برداشت کر سکتا ہے۔ ورنہ انسان اس صدمہ سے ہی پاگل ہو جاتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا ایک طریقہ ہے۔ بعض انسانوں پر ان صدمات کے اثرات نظر بھی آتے ہیں اور عجیب ذہنی کیفیت ان کی ہوئی ہوتی ہے۔ بلکہ اس حالت میں پھر بعض دفعہ بعض لوگوں کو جو صدمات پہنچتے ہیں ان کا خدا تعالیٰ سے بھی یقین اٹھ جاتا ہے اور خداتعالیٰ کے خلاف بول رہے ہوتے ہیں۔ تو یہ نمونے جو اللہ تعالیٰ بعض دفعہ دکھاتا ہے وہ اس طرف توجہ دلانے والے ہونے چاہئیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور اس کی حفاظت کا انتظام نہ ہو تو انسان کی زندگی چل ہی نہیں سکتی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی حفاظت کی وجہ سے انسان کی زندگی کا جو ایک ایک لمحہ ہے اللہ تعالیٰ اس میں اپنے نیک بندوں سے خاص سلوک فرماتا ہے اور وہ ہر حالت میں خداتعالیٰ کی رضا کو پیش نظر رکھتے ہیں اور صدمات اور مصائب میں جب بھی وہ ان پر آتے ہیں تو اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہتے ہیں اور پھر اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی جورحمت ہے وہ انہیں سمیٹتی چلی جاتی ہے اور انہیں ہر مصیبت اور مشکل کے بدنتائج سے محفوظ رکھتی ہے۔ پھر قانون قدرت کے تحت اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا اثر کیونکہ تمام مخلوق اور تمام انسانوں کو پہنچ رہا ہے جس میں خداتعالیٰ کو ماننے والے اور نہ ماننے والے سب شامل ہیں تو اس مضمون میں اللہ تعالیٰ کے حکموں کے انکاری اور کافروں کے لئے بھی سبق ہے کہ اگر شرارتوں میں بڑھتے رہے تو اللہ تعالیٰ جو تمہیں آرام مہیا کرنے والا ہے اور حفاظت کے سامان کرنے والا ہے اپنی حفاظت واپس بھی لے سکتا ہے اور ایسی صورت میں تمہاری تباہی لازمی ہے۔

پھر اس آیت میں خداتعالیٰ نے فرمایا کہ اِنَّ اللّٰہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ (الرعد: 12) یعنی یقینا اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی اندرونی حالت کو نہ بدلیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکوں کے متعلق اپنا رویہ نہیں بدلتا۔ جو نیک لوگ ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ہمیشہ فیض پاتے چلے جاتے ہیں۔ جب تک ان میں نیکیاں رہیں گی، جب تک وہ خداتعالیٰ کے احکامات کے پابند رہیں گے، جب تک وہ حقوق اللہ کی ادائیگی کرتے رہیں گے، جب تک وہ حقوق العباد خوش اسلوبی سے ادا کرتے رہیں گے، جب تک وہ من حیث الجماعت نیکیوں پر قائم رہیں گے تووہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بنتی چلی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل، اس کی رحمت، اس کے انعامات اس وقت اٹھنا شروع ہو تے ہیں جب لوگ اللہ تعالیٰ کے ولی بننے کی بجائے شیطان کو اپنا ولی بنانا شرو ع کر دیتے ہیں۔ نیکیاں جو ہیں وہ مفقود ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ ظلم بڑھنا شرو ع ہو جاتا ہے۔ سفّاکی جنم لینا شروع کر دیتی ہے۔ حقوق غصب کئے جانے لگتے ہیں۔ حکومتی کارندے رشوت اور ناانصافی میں تمام حدود پھلانگنے لگ جاتے ہیں۔ ہر شخص دوسرے کے مال پر نظر رکھ رہا ہوتا ہے۔ مذہب کے نام پر خون کئے جاتے ہیں۔ تو اُس وقت پھر اللہ تعالیٰ اپنی امان اور حفاظت اٹھا لیتا ہے۔

پس اس حصہ آیت کا صرف یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ بُروں کے ساتھ نیک سلوک نہیں کرتا بلکہ یہ ہے کہ نیکوں کے بارے میں خداتعالیٰ اپنے رویّہ کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود بدیوں اور برائیوں میں اپنے آپ کو مبتلا کرکے خداتعالیٰ کے فضلوں سے اپنے آپ کو محروم نہ کر لیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ دنیاوی تاریخ تو ہمیں اس انجام کو خداتعالیٰ کی تقدیر کے حوالے سے نہیں دکھاتی۔ لیکن مذہبی تاریخ اس بات پر گواہ ہے۔ قرآن کریم کھول کھول کر اس بات کو ہمارے سامنے بیان فرما تا ہے کہ جب برائیاں قوموں میں جنم لینے لگتی ہیں۔ جب نیکیاں مفقود ہونا شروع ہو جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی امان اور حفاظت اٹھ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تو کہیں نہیں لکھا کہ ایک دفعہ تم نے کلمہ پڑھ لیا تو ہمیشہ کے لئے پناہ میں آ گئے۔

اللہ تعالیٰ نے ایک اصولی بات بتا کر ہوشیار کر دیا کہ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰت اصل شرط ہے۔ یہاں اس حصہ آیت میں تو یہ بیان نہیں ہوئی۔ دوسری بے شمار جگہ قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے کہ ایمان لانے کے بعد جو نیک اعمال ہیں وہ اصل شرط ہیں۔ پس آج پوری امت کے لئے اور خاص طور پر ان مسلمان ملکوں کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے جو ظلم و تعدی میں بڑھ رہے ہیں۔ شرفاء کو ختم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اگلی بات فرمائی اور اس پر آجکل غور کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے خاص طور پر پاکستانیوں کو تو توبہ اور استغفار کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاِذَآ اَرَادَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ سُوْئً افَلَا مَرَدَّ لَہٗ کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے بدانجام کا فیصلہ کر لے تو اسے ٹالنا ممکن نہیں۔ پس ضرورت ہے کہ کسی آخری فیصلہ سے پہلے اپنی حالتوں کو پھر نیکیوں کی طرف لانے کی کوشش کی جائے۔ کاش ہمارے لوگ یہ سمجھ لیں۔ ملک کے لوگوں کو اس کی عقل آ جائے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’انسان کو عذاب ہمیشہ گناہ کے باعث ہوتاہے۔ خدا فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ (الرعد: 12) اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ کرے‘‘۔ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 232 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ’’جب لوگوں نے اپنے افعال اور اعمال سے غضب الٰہی کے جوش کو بھڑکایا اور بدعملیوں سے اپنی حالتوں کو ایسا بدل لیا کہ خوف خدا اور تقویٰ و طہارت کی ہر ایک راہ کو چھوڑ دیا اور بجائے اس کے طرح طرح کے فسق و فجور کو اختیار کر لیا اور خداتعالیٰ پر ایمان سے بالکل ہاتھ دھو دیا۔ دہریت اندھیری رات کی طرح دنیا پر محیط ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کے نورانی چہرے کو ظلمت کے نیچے دبا دیا تو خدا نے اس عذاب کو نازل کیا تا لوگ خدا کے چہرے کو دیکھ لیں اور اس کی طرف رجو ع کریں‘‘۔ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 37 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پس خداتعالیٰ کے عذاب کسی بھی رنگ میں آئیں، اس وقت آتے ہیں جب یہ کیفیت ہوتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’جو شخص چاہتا ہے کہ آسمان میں اس کے لئے تبدیلی ہو۔ یعنی وہ ان عذابوں اور دکھوں سے رہائی پائے جو شامت اعمال نے اس کے لئے تیار کئے ہیں اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی کرے۔ جب وہ خود تبدیلی کر لیتا ہے تواللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق جو اس نے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ میں کیا ہے اس کے عذاب اور دکھ کو بدلا دیتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 119 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

یعنی پھر وہ اپنی نیکیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے فیض حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات اس پر نازل ہوتے ہیں۔ برائیوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے جو آثار نظر آ رہے ہوتے ہیں وہ دور ہو جاتے ہیں۔ پس آجکل مسلم اُمّہ کو بھی سوچنے اور بہت سوچنے اور استغفار کی ضرورت ہے۔ اللہ کرے کہ ان کو عقل آ جائے۔ احمدی بھی جہاں ان کے تعلقات ہیں ان کو اس بات کو سمجھانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّالٍ (الرعد: 12) اور اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں۔ کوئی والی نہیں۔ پس جب خداتعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں ہے جو حفاظت میں رکھنے والاہے یا مددگار ہے یا اپنے بندوں کی ہر شر کے خلاف نگرانی کرنے والا ہے تو اس کی تلاش کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے اور وہ کہاں ملتا ہے۔ اگر باوجودنمازیں پڑھنے کے نتیجے نہیں نکل رہے، وہ نتیجے نہیں نکل رہے جو آخری نتیجے ہوں۔ اگرباوجود روزوں کے قومی لحاظ سے انحطاط پذیری ہے۔ اگر باوجود لاکھوں لوگوں کے حج کا فریضہ ادا کرنے کے بہتری کے نشانات نظر نہیں آ رہے تو یقینا ان سب عبادتوں کا حق ادا کرنے میں کہیں نہ کہیں کمی ہے۔ اللہ کرے اُمّت کو اس کی سمجھ آ جائے اور وہ خداتعالیٰ کی طرف حقیقی رجوع کرنے والے ہوں۔ اس مضمون کو خداتعالیٰ نے سورۂ انفال میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔ فرمایا کہ ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (الانفال: 54) یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کبھی وہ نعمت تبدیل نہیں کرتا جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو۔ یہاں تک کہ وہ خود اپنی حالت کو تبدیل کر دیں اور یا د رکھو کہ یقینا اللہ بہت سننے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔ اسے مزید کھول دیا کہ اللہ تعالیٰ مومن کو تبدیل نہیں کرتا۔ جب تک وہ خود اپنی حالت اس نعمت سے محرومی کی نہ بنا لے اللہ تعالیٰ کسی سے کوئی دی ہوئی نعمت نہیں چھینتا۔ انسان خود اپنے اعمال کی وجہ سے، اپنی بدبختی کی وجہ سے، اپنی بدقسمتی کی وجہ سے ان نعمتوں کو ضائع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہمارے سامنے قرآن کریم میں آ گیاہے۔ یہ صرف پرانے لوگوں کے قصّے بیان کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو بھی ہوشیار کرنے کے لئے ہے کہ یہ کتنی بڑی نعمت تمہیں مل گئی ہے اس کی قدر کرنا۔ اس نعمت کو خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ (المائدہ: 4) کہ اپنی نعمت کو مَیں نے پورا کر دیا۔ پس یہ نعمت آخری شرعی کتاب کی صورت میں، قرآن کریم کی صورت میں ہمیں ملی۔ عمل کا حکم ہے اور جب اس پر عمل ہو گا تو تب ہی نیکیاں قائم ہوں گی اور جب نیکیاں قائم ہوں گی تو پھر جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے خداتعالیٰ اپنی حفاظت میں لے لے گا۔ اپنے مولیٰ ہونے کا ثبوت دے گا۔ اس کے نظارے دکھائے گا۔ جو اقبالؔ نے کہا تھا اس سے یہ مزید واضح ہوتا ہے کہ ع

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

(بانگ درا، از کلیات اقبال صفحہ 139، ناشر: جواد اکمل بٹ مطبع: نیاز جہانگیر پرنٹرز، غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور)

اوراس کا نتیجہ پھر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے محروم ہو گئے۔ نعمت کو ضائع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کی حفاظت بھی اٹھ گئی۔ غیر ہم پر حکومت کرنے لگ گیا۔ کیا اب بھی مسلمانوں کو سمجھ نہیں آئے گی کہ وہ اُمّت جس کے بارہ میں قرآن کریم نے اعلان فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا تھا کہ کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران: 111) کہ تم وہ بہترین اُمّت ہو جو لوگوں کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ وہ اُمّت جو فائدے کے لئے پیدا کی گئی تھی وہ اس انعام سے محروم کیوں ہو رہی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تو اسے لوگوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا تھا۔ لیکن انعامات سے محرومی کیوں ہے؟ اس لئے کہ اپنے لوگوں کے گلے کاٹے جا رہے ہیں۔ کہیں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کئے جاتے ہیں۔ اب کل پرسوں ہی پشاور میں جو دھماکہ ہوا، معصوم جانیں ضائع ہوئیں وہ اسی کا نتیجہ ہے۔ کہیں خود کش حملے ہو رہے ہیں۔ کہیں مذہب کے نام پر احمدیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے یا بعض دوسرے لوگوں کو نشا نہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ کون سی خیر ہے جو اُمّت کے نام نہاد علماء کے ٹو لے کے پیچھے چل کر تقسیم کی جا رہی ہے یا جس کو تقسیم کرنے کے لئے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں۔ پس سوچنے کا مقام ہے۔ اپنی حالتوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ جب خداتعالیٰ کی آخری فیصلہ کُن تقدیر حرکت میں آ جائے تو پھر کوئی اس انجام کو ٹالنے والا نہیں ہوتا۔ دوسروں کے نمونے بھی اصلاح کا باعث بنتے ہیں اور بننے چاہئیں۔ یہ احمدیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے بھی جائزے لیتے رہیں کہ خداتعالیٰ ہمیں ہمیشہ سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔ ہمیشہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والے ہوں۔ ہمیشہ ہم اپنے اعمال پر نظر رکھنے والے ہوں۔ ہمیشہ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار رہیں۔ اور اگر یہ رہے گا تو پھر خداتعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق ہمارا مولیٰ، ہمارا نصیر ہونے کا نظارہ دکھاتا چلا جائے گا۔ کوئی نہیں جو جماعت کو نقصان پہنچا سکے۔ اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے فَاَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُواالزَّکٰوۃَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللّٰہِ۔ ھُوَ مَوْلٰکُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ (الحج: 79)۔ پس نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ وہی تمہارا آقا ہے۔ پس کیا ہی اچھا آقا اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔

پس ایک حقیقی مومن کے یہ فرائض ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نماز کو قائم کریں اور اس قیام نمازسے ان میں پاک تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر مالی قربانی کی طرف توجہ دیں۔ اپنے مالوں کو پاک کریں اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کو مضبوطی سے پکڑ یں۔ کیونکہ اس کے احکامات پر عمل ہی اس بات کا ثبوت ہو گا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنا آقا و مولیٰ سمجھتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اور اس یقین پر قائم ہیں کہ وہی ہر آن ہمارا آقا و مولیٰ ہے اور رہے گا۔

قرآن کریم میں ایک اور جگہ سورۃ مائدہ میں اسی مضمون کو اس طرح بھی بیان کیا گیا ہے اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ رَاکِعُوْنَ۔ وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہُ وَرَسُوْلَہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ (المائدۃ: 57-56) یقینا تمہارا دوست اللہ ہی ہے اور اس کا رسول اور وہ لوگ جو ایمان لائے جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور خدا کے حضور جھکے رہنے والے ہیں۔ اور جو اللہ کو دوست بنائے اور اس کے رسول کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تو اللہ ہی کا گروہ ہے جو ضرور غالب آنے والا ہے۔ یہ وہی باتیں ہیں۔ اس میں رَاکِعُوْنَ کا لفظ آیاہے اور رَاکِعُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور خالصتاً اس کے حضور جھکتے ہوئے سب کچھ اسی کو سمجھنے والے ہوں۔ کسی بھی قسم کا شرک، کسی بھی قسم کی دوسری ملونیاں ان کے دین میں شامل نہ ہوں۔ تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا دوست اور وَلِیْ ہے اور اس کا رسول بھی اور مومن بھی اور مومنین کی یہی جماعت ہے جس نے پھر غالب آنا ہے اور اسی کے لئے غلبہ مقدر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے جو دوست ہیں اللہ تعالیٰ کے جو ولی ہیں اللہ تعالیٰ ان کا ولی ہو جاتا ہے اور ان کو یقینا غالب کرتا ہے۔

ایک حدیث میں آتا ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا۔ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (یہ حدیث قدسی ہے) جس نے میرے ولی سے دشمنی اختیار کی تو مَیں نے اس کے ساتھ اعلان جنگ کر دیا۔ مجھے یہ چیز سب سے زیادہ پسند ہے کہ میر ابندہ فرض کی ہوئی چیزوں کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرے۔ (فرائض کیاہیں؟ قرآن کریم میں تلاش کرنے ہوں گے فرائض۔ اور سب سے زیادہ فرض عبادات ہیں۔ روزانہ کی نمازیں ہیں) اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرے قریب ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ مَیں اسے پیار کرنے لگتا ہوں اور جب مَیں اسے پیار کرنے لگ جاتا ہوں تو مَیں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو مَیں اسے ضرور عطا کروں گا اور اگر وہ میری پناہ چاہے گا تو مَیں ضرور اسے پناہ دوں گا۔ کسی چیز کے کرنے میں مجھے کبھی تردّدنہیں ہوا (جیسا) ایک مومن کی جان نکالتے ہوئے تردد ہوتا ہے وہ موت کو ناپسند کرتا ہے۔ اور اسے تکلیف دینا مجھے ناپسند ہے۔ (صحیح بخاری کتاب الرقاق باب التواضع۔ حدیث نمبر 6502)

تو اللہ تعالیٰ اس طرح اپنے بندوں کا خیال اور لحاظ رکھتا ہے۔ پس اگر خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکا جائے۔ اس کے حقوق ادا کئے جائیں۔ اس کے حکموں پر عمل کیا جائے۔ تقویٰ کو ہمیشہ پیش نظر رکھا جائے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگو ں کا پھر مولیٰ بنتا ہے۔ جیسا کہ حدیث سے بھی ہمیں واضح ہوا۔ پھر اس کی ہر حرکت و سکون میں اللہ تعالیٰ کا عمل دخل شامل ہو جاتا ہے۔

اللہ کرے کہ ہم نیکیوں پر قدم مارتے ہوئے اپنے حقیقی آقا و مولیٰ سے ہمیشہ جڑے رہیں تاکہ ہر آن ہم اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے دیکھتے چلے جائیں۔

(الفضل انٹرنیشنل جلد 16 شمارہ 47 مورخہ 20 نومبر تا 26 نومبر 2009ء صفحہ 5 تا صفحہ 7)


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 30؍ اکتوبر 2009ء شہ سرخیاں

    سب سے زیادہ حفاظت اللہ تعالیٰ کے فرستادوں کی ہوتی ہے اور ان میں سب سے زیادہ نبی کریمؐ کی۔ فرشتوں کے علاوہ صحابہ نے بھی نبی کریمؐ کی حفاظت کی۔ صحابہ کی قربانیوں کا ذکر۔ اس زمانہ میں اللہ کا جماعت کو طاعون سے بچانا، امت مسلمہ میں سے جو ظلم و تعدی میں بڑھ رہے ہیں انہیں آج سوچنا چاہئے خاص طور پر پاکستانیوں کو توبہ و استغفار کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ امتِ مسلمہ کو سمجھ نہیں آ ہی کہ جو خیر امت ہے وہ اس انعام سے کیوں محروم ہے۔ مذہب کے نام پر احمدیوں کو نشانہ بنایا جانا۔ احمدیوں کی ذمہ داری کہ اپنے جائزے لیتے رہیں کہ خدا ہمیں ہمیشہ سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔

    فرمودہ مورخہ 30؍اکتوبر 2009ء بمطابق30؍اخاء 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور