شہداء سانحہ لاہور کے مختصر کوائف اور ان کے واقعات کا ذکر

خطبہ جمعہ 25؍ جون 2010ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ جرمنی کا جلسہ سالانہ میرے اس خطبہ کے ساتھ شروع ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے اس جلسہ کو بابرکت فرمائے۔ یہ جلسہ اپنی تمام تر برکات کے ساتھ ہمارے ایمانوں میں تازگی پیدا کرنے والا اور ایک نئی روح پھونکنے والا ہو۔ ان مقاصد کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں جن کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسے کا انعقاد فرمایا تھا۔ اور وہ مقاصد یہ تھے کہ بیعت کی حقیقت کو سمجھ کر ایمان اور یقین میں ترقی کرنا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تمام دنیاوی محبتوں پر حاوی کرنا، نیکیوں میں ترقی کرنا اور قدم آگے بڑھانا، علمی، تربیتی اور روحانی تقاریر سن کر علم و معرفت میں ترقی کرنا، آپس میں محبت، پیار اور بھائی چارے کا تعلق قائم کرنا اور پھر ان رشتوں کو بڑھاتے چلے جانا۔ سال کے دوران ہم سے رخصت ہونے والے بھائی ہیں، بہنیں ہیں ان کے لئے دعائیں کرنا جو اپنا عہدِ بیعت نبھاتے ہوئے ہم سے جدا ہوئے۔ پس ان تین دنوں میں ان مقاصد کو پیشِ نظر رکھیں تبھی ہم اس جلسے کے انعقاد کی برکات سے فیض پا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ میں یہ بھی کہوں گا کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے آپ اپنے ان تین دنوں میں خاص طور پر اپنی حالتوں کو بدلنے کی کوشش بھی کریں اور دعا بھی کریں۔ جہاں اپنے لئے دعا کر رہے ہوں وہاں یہ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کے ہر فرد کو، دنیا کے کسی بھی کونے میں وہ رہتا ہو، اپنی حفاظتِ خاص میں رکھے۔ خاص طور پر پاکستانی احمدیوں کے لئے بہت دعائیں کریں۔ پاکستان میں آج کل جماعت پر حالات تنگ سے تنگ تر کئے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مخالفین کو کھلی چھٹی دی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستانی احمدیوں کو بھی ثباتِ قدم عطا فرمائے۔ ان کے ایمان کو مضبوط رکھے، ان کو ہر شر سے بچائے۔ ان کی قربانیوں کو قبول فرماتے ہوئے ان کو خارق عادت طور پر نشان دکھائے۔

آج کے خطبہ کے اصل مضمون کی طرف آنے سے پہلے میں جلسہ سالانہ کے بارے میں کچھ انتظامی باتیں بھی کہنا چاہوں گا۔ اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ جلسہ کے انتظامات کی سرانجام دہی کے لئے آپ سب جانتے ہیں کہ مختلف شعبہ جات ہوتے ہیں اور ہر شعبے کا ہر افسر اور ہر کارکن مہمانوں کی خدمت کے لئے مقرر ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادِ جماعت اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے پیش کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے عموماً محض للہ بے نفس ہو کر خدمت سر انجام دیتے ہیں۔ ان میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی ہیں، جوان بھی ہیں اور بوڑھے بھی ہیں اور بچے بھی ہیں اور ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے فرائض انجام دینے والا ہے۔ پس شاملینِ جلسہ ان کارکنان سے مکمل طور پر تعاون کریں۔ جلسہ کے بہترین انتظامات کے حصول کے لئے بعض اصول و قواعد انتظامات کے لئے بنائے جاتے ہیں اور بنائے گئے ہیں۔ پس اگر کوئی کارکن کسی مہمان کو اس طرف توجہ دلاتا ہے تو اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں، نہ کہ کسی بات پر ناراض ہو جائیں۔ کارکنان کو تو میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ وہ خوش اخلاقی سے اپنے فرائض ادا کریں۔ دوسری اہم بات جو شامل ہونے والوں کو خاص طور پر میں کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ خاص طور پر اپنے گرد و پیش پر نظر رکھیں۔ اپنے ماحول پر نظر رکھیں۔ سکیورٹی انتظامات کے باوجود کوئی شریر عنصر شرارت کر سکتا ہے۔ جبکہ آج کل ہر جگہ مخالفین کے منصوبے جماعت کو نقصان پہنچانے یا کم از کم بے چینی پیدا کرنے کے ہیں۔ جلسہ میں بھی وہ باوجود تمام تر سکیورٹی کے بعض دفعہ دھوکے سے بھی داخل ہو سکتے ہیں۔ سکیورٹی کا تو پورا انتظام ہے، اس لئے سکیورٹی کے انتظام سے خاص طور پر مکمل تعاون کریں۔ دس مرتبہ بھی آپ کو اپنے آپ کو چیک کرانے کے لئے پیش کرنا پڑے تو پیش کریں۔ یہ آپ کی ہتک یا کسی قسم کے شک کی وجہ سے نہیں ہو گا بلکہ آپ کی حفاظت کے لئے ہے۔ اسے کسی قسم کا اَنا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ کسی کے ساتھ اگر کوئی مہمان بھی آ رہا ہے تو اسے اسی صورت میں اجازت ہو گی جب انتظامیہ کی طرف سے اجازت ہو گی اور ان کی تسلی ہو گی۔ یا جو بھی انتظامیہ نے اس کے لئے طریقہ کار مقرر کیا ہوا ہے اس سے گزرنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے اور جلسہ سے حتی المقدور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اب میں خطبہ کے مضمون کی طرف آتا ہوں اور آج کے خطبہ کا مضمون بھی انہی شہداء کے ذکرِ خیر پر ہی ہے جنہوں نے اپنی جان کی قربانیاں دے کر ہماری سوچوں کے نئے راستے متعین کر دئیے ہیں۔

مکرم خلیل احمد صاحب سولنگی

آج کی فہرست میں سب سے پہلا نام جو میرے سامنے ہے، مکرم خلیل احمد صاحب سولنگی شہید ابن مکرم نصیر احمد سولنگی صاحب کا ہے۔ یہ ترتیب کوئی خاص وجہ سے نہیں ہے، جس طرح کوائف میرے سامنے آتے ہیں میں وہ بیان کر رہا ہوں۔ مکرم خلیل احمد سولنگی صاحب شہید کے آباوٴ اجداد کا تعلق قادیان کے ساتھ گاوٴں کھارا تھا، وہاں سے ہے۔ ان کے دادا حضرت ماسٹر محمد بخش سولنگی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابی تھے۔ مکرم عبدالقادر سوداگر مل صاحب بھی ان کے عزیزوں میں سے تھے۔ پارٹیشن کے بعد یہ لوگ گوجرانوالہ شفٹ ہو گئے۔ شہیدنے گورنمنٹ کالج لاہور سے الیکٹریکل انجنیئرنگ کرنے کے بعد پانچ سال واپڈا میں ملازمت کی، پھر اپنے والد صاحب کے ساتھ کاروبار شروع کر دیا۔ والد صاحب کی وفات کے بعد اپنا کاروبار شروع کیا۔ 1997ء میں یہ لاہور آ گئے اور یہاں کاروبار کرتے رہے اور ایک سال پہلے گارمنٹس کے امپورٹ کا امریکہ میں کاروبار شروع کیا اور امریکہ میں رہائش پذیر تھے۔ اس سے قبل پاکستان میں بھی کافی عرصہ ٹھہر کے کاروبار کرتے رہے ہیں۔ بطور ناظم اطفال انہوں نے پاکستان میں خدمات سرانجام دیں۔ قائد ضلع، قائد علاقہ مجلس خدام الاحمدیہ ضلع گوجرانوالہ، مجلس انصار اللہ علاقہ لاہور، مرکزی مشاورتی بورڈ برائے صنعت و تجارت کے صدر اور ممبر کے علاوہ جنرل سیکرٹری ضلع لاہور کی خدمات بھی انجام دیتے رہے۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 51سال تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ ان کی مسجد دارالذکر میں شہادت ہوئی ہے۔ شہید ایک ماہ قبل امریکہ سے پاکستان اپنے کاروبار کے سلسلے میں آئے تھے اور نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے مسجد دارالذکر پہنچے تھے۔ حملہ کے دوران صحن میں سیڑھیوں کے نیچے باقی احباب کے ساتھ قریباً ایک گھنٹہ رہے۔ شائد بیسمنٹ میں چلے جاتے لیکن انہوں نے دیکھا کہ ایک زخمی بھائی ہے اس کو بچانے کے لئے سیڑھیوں سے نیچے کھینچنے کی کوشش میں دہشتگرد کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے اور ان کے سینے کی دائیں طرف گولی لگی۔ کافی دیر تک زخمی حالت میں سیڑھیوں کے نیچے رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو ان کی شہادت منظور تھی، اس لئے مسجد میں ہی شہادت کا رتبہ پایا۔ جب دارالذکر پر حملہ ہوا تو انہوں نے اپنے بڑے بیٹے شعیب سولنگی کو فون کیا کہ اس طرح حملہ ہوا ہے، بس دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ سب کو محفوظ رکھے اور گھر والوں کو بھی دعا کے لئے کہو۔

انتہائی مخلص مالی جہاد میں پیش پیش تھے، ان کوچھوٹی عمر سے ہی اعلیٰ جماعتی عہدوں پر کام کرنے کی سعادت ملی۔ جماعتی خدمت کا بھر پور جذبہ رکھتے تھے۔ ہر مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔ مالی قربانیوں میں ہمیشہ سبقت لے جانے والے تھے۔ گوجرانوالہ میں محلہ بھگوان پورہ میں مسجد تعمیر کروائی۔ دارالضیافت ربوہ کی reception کے لئے انہوں نے خرچ دیا۔ محنتی اور نیک انسان تھے۔ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف بڑی توجہ دیتے رہے۔ ہر کام شروع کرنے سے پہلے خلیفہ وقت سے اجازت اور رہنمائی لیتے تھے۔ ان میں خلافت کی اطاعت بے مثال تھی۔ ان کا بزنس پاکستان میں تھا۔ ان کے کاروباری اور بعض دوسرے حالات کی وجہ سے میں نے ان کو کہا کہ امریکہ چلے جائیں۔ تو لاہور سے اسی وقت فوری طور پر وائنڈ اَپ کر کے امریکہ چلے گئے۔ انہوں نے بہت سے احمدی بے روز گار افراد کی ملازمت کے سلسلہ میں مدد کی۔ ان کی اہلیہ کہتی ہیں ہماری گھریلو زندگی بھی بڑی مثال تھی۔ مثالی باپ تھے، مثالی شوہر تھے۔ ہر طرح سے بچوں کا اور بیوی کا خیال رکھنے والے۔ دروازے پر کوئی ضرورتمند آ جاتا تو کبھی اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔ لوگ آپ کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لئے آتے اور بڑا مشورہ اچھا دیا کرتے تھے۔ اسی لئے مرکزی صنعتی بورڈ کے ممبر بھی بنائے گئے تھے۔ بڑے ہنس مکھ اور زندہ دل انسان تھے۔ ہر مشکل کام جو بھی ہوتا ان کے سپرد کیا جاتا بڑی خوشی سے لیتے، بلکہ کہہ دیتے تھے انشاء اللہ ہو جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو صلاحیت دی ہوئی تھی اس کو بخوبی سرانجام دیتے تھے۔ انہیں دوسروں سے کام لینے کا بھی بڑا فن آتا تھا۔ بہت نرم گفتار تھے، اخلاق بہت اچھے تھے۔ مثلاً یہ ضروری نہیں ہے کہ جو اپنے سپرد فرائض ہیں انہی کو صرف انجام دینا ہے۔ اگر کبھی سیکرٹری وقفِ جدیدنے کہہ دیا کہ چندہ اکٹھا کرنا ہے میرے سا تھ چلیں۔ گو ان کا کام نہیں تھا لیکن ساتھ نکل پڑتے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے مسجد بیت الفتوح کی جب تحریک کی ہے تو فوراً فیکس کے ذریعے اپنا وعدہ کیا اور وعدہ فوری طور پہ ادا بھی کر دیا۔ چوہدری منور علی صاحب سیکرٹری امورِ عامہ بیان کرتے ہیں کہ جلسہ سالانہ قادیان کے انتظامات میں ان کے پاس ٹرانسپورٹ کا شعبہ ہوتا تھا اور انتہائی خوبی سے یہ کام کرتے تھے۔ بسوں، کاروں اور دیگر ٹرانسپورٹ کا کام انتہائی ذمہ داری سے کرتے تھے اور یہ ہے کہ سارا دن کام بھی کر رہے ہیں اور ہنستے رہتے تھے۔ بڑے خوش مزاج تھے۔ امریکہ شفٹ ہونے کے باوجود 2009ء کا (قادیان کا) جو جلسہ ہوا ہے اس میں پاکستان آئے اور اس کام کو بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔ قادیان جانے والے جو لوگ تھے ان کی مدد کی۔

میرے ساتھ بھی ان کا تعلق کافی پرانا خدام الاحمدیہ کے زمانہ سے ہے۔ مرکز سے مکمل تعاون اور اطاعت کا نمونہ تھے۔ جیسے بھی حالات ہوں جس وقت بلاوٴ فورا ً اپنے کام کی پروا نہ کرتے ہوئے حاضر ہو جایا کرتے تھے۔ عام طور پر بزنس مین اپنے بزنس کو چھوڑا نہیں کرتے۔ اب بھی جب یہاں سے گئے ہیں، مجھے لندن مل کے گئے ہیں اور گو حالات کی وجہ سے میں نے ان کو کہا بھی تھاکہ احتیاط کریں، بہر حال اللہ تعالیٰ نے شہادت مقرر کی تھی، شہید ہوئے۔ ان کویہ بھی فکر تھی کہ جو پرانے بزرگ ہیں، جو پرانے خدمتگار ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے میں پہل کرنے والے ہیں، ان کی بعض اولادیں جو ہیں وہ خدمت نہیں کر رہیں۔ تو یہ بھی ان کوایک بڑا درد تھا اور میرے ساتھ درد سے یہ بات کر کے گئے اور بعض معاملات میرے پوچھنے پر بتائے بھی اور ان کے بارے میں بڑی اچھی اور صاف رائے بھی دی۔ رائے دینے میں بھی بہت اچھے تھے۔

سابق امیر صاحب گوجرانوالہ نے لکھا کہ سولنگی صاحب کہا کرتے تھے کہ خلافت کے مقابلے پہ کوئی دوستی اور رشتے داری کسی قسم کی حیثیت نہیں رکھتی۔ 1974ء میں سولنگی صاحب کے خاندان کے بعض افرادنے کمزوری دکھائی۔ یہ اس وقت بہت کم عمر تھے مگر اپنے خاندان کو اسی حالت میں چھوڑ کر امیر جماعت چوہدری عبدالرحمن صاحب کے گھر چلے گئے جہاں ساری جماعت پناہ گزین تھی اور وہاں ڈیوٹیاں دینی شروع کر دیں۔ چوہدری صاحب پہ بھی ان کی اس قربانی کا بڑا اثر تھا۔ جیسا کہ میں نے کہا مالی قربانی کی بھی بڑی توفیق ملی۔ یہ سابق امیر صاحب لکھتے ہیں کہ کھلے دل سے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے والے تھے۔ ایک دفعہ ایک پلاٹ مل رہا تھا جو بعد میں نہیں ملا۔ لیکن اس کی قیمت پچاس لاکھ روپے تھی۔ انہوں نے کہا میں ادا کر دوں گا۔ بہر حال وہ تو نہیں ملا لیکن اس کے مقابلے پر ایک اور کوٹھی چوالیس لاکھ روپے کی مل گئی، جس کی قیمت انہوں نے ادا کی اور جو جماعت کے گیسٹ ہاوٴس کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے مسجد کے لئے بھی کافی بڑی رقم دے چکے تھے لیکن کبھی یہ نہیں کہا کہ ابھی تھوڑا عرصہ ہوا ہے میں نے رقم دی ہے۔ خلافت جوبلی کے موقع پر لاہور کی طرف سے جو قادیان میں گیسٹ ہاوٴس بنا ہے، اس کی تعمیر کے لئے بھی انہوں نے دس لاکھ روپیہ دیا۔ خدام الاحمدیہ گیسٹ ہاوٴس جو ربوہ میں ہے اس کی رینوویشن (Renovation) کے لئے انہوں نے بڑی رقم دی۔ غرض کہ مالی قربانیوں میں پیش پیش تھے، وقت کی قربانی میں بھی پیش پیش تھے۔ اطاعت اور تعاون اور واقفینِ زندگی اور کارکنان کی عزت بھی بہت زیادہ کیا کرتے تھے۔ پیسے کا کوئی زعم نہیں۔ جتنا جتنا ان کے پاس دولت آتی گئی میں نے ان کو عاجزی دکھاتے ہوئے دیکھا ہے۔

مکرم چوہدری اعجاز نصراللہ خان صاحب

دوسرے شہید ہیں مکرم چوہدری اعجاز نصراللہ خان صاحب ابن مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب۔ یہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھتیجے تھے۔ اور چوہدری حمیدنصراللہ خان صاحب جو سابق امیر ضلع لاہور ہیں ان کے چچا زاد بھائی تھے۔ ان کو بھی جماعتی خدمات بجا لانے کا موقع ملتا رہا۔ چار خلفائے احمدیت کے ساتھ کام کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ ان کے والد مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب سابق امیر ضلع لاہور تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم قادیان کی تھی۔ میٹرک اور گریجویشن لاہور سے کی۔ انہوں نے لائرز اِن کالج لندن سے بار ایٹ لاء کیا۔ کچھ عرصہ لندن میں پریکٹس کی۔ پھر والد صاحب کی بیماری کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر واپس آ گئے اور پھر حضور رحمہ اللہ کے ارشاد پر ہی اسلام آباد میں سیٹ ہو گئے اور 1984ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔ پھر انہوں نے کوئی دنیاوی کام نہیں کیا بلکہ جماعتی کام ہی کرتے رہے۔ متعدد جماعتی عہدوں پر ان کو خدمت کی توفیق ملی۔ سابق امیر جماعت اسلام آباد، نائب امیر ضلع لاہور، ممبر قضاء بورڈ، ممبر فقہ کمیٹی کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 83سال تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے اور دار الذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔

جمعہ کے دن تیار ہو کر کمرے سے نکلے تو کمرے سے نکلتے ہی کہا کہ کمزوری بہت ہو گئی ہے۔ پھر ناشتہ کیا اور بیٹے کو کہا کہ میں نے بارہ بجے چلے جانا ہے۔ تو بیٹے نے کہا کہ اتنی جلدی جا کر کیا کرنا ہے۔ تو جواب دیا کہ میرا دل نہیں چاہتا کہ لوگوں کے اوپر سے پھلانگ کر جاوٴں اور پہلی صف میں بیٹھوں۔ بیٹا اور پوتا ساتھ تھے۔ بیٹے نے ڈیوٹی پر جانے سے پہلے کہا کہ پوتے کو اپنے ساتھ بٹھا لیں۔ پہلے یہ ہمیشہ ساتھ بٹھایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا نہیں اس کواپنے ساتھ لے کے جاوٴ۔ بیٹے نے کہا کہ میری ڈیوٹی ہے۔ تو کہا کہ نہیں بالکل نہیں۔ چنانچہ بیٹے نے اپنے بیٹے کو یعنی ان کے پوتے کو کسی اور کے پاس چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے بیٹے اور پوتے دونوں کو محفوظ رکھا۔ شہید مسجد دارالذکر کے مین ہال میں محراب کے اندر پہلی صف میں کرسی پر بیٹھے تھے۔ ان کے دائیں طرف سے شدید فائرنگ شروع ہوئی جس سے ان کے پیٹ میں گولیاں لگیں۔ کسی نے بتایا کہ امیر صاحب ضلع نے ان کو کہا کہ چوہدری صاحب آپ باہر نکل جائیں تو انہوں نے جواباً کہا کہ میں نے تو شہادت کی دعا مانگی ہے۔ چنانچہ امیر صاحب کے اور ان کے دونوں کے جسم ایک ہی جگہ پر پڑے ہوئے ملے۔

مولوی بشیر الدین صاحب نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے سفید رنگ کی بہت بڑی گاڑی آئی ہے، اس میں سے آواز آئی کہ میں آپ کو لینے آیا ہوں۔ رات کو عشاء کی نماز پڑھ کر جلدی سو جاتے تھے۔ اور رات ایک بجے اٹھ جاتے تھے پھر نمازِ تہجد اور دعاوٴں میں مشغول رہنا ان کا کام تھا۔ ہر ایک کو دعا کے لئے کہتے کہ خاتمہ بالخیر کی دعا کرو۔ خلافت سے محبت انتہا کی تھی۔ جوجماعت کے خدمت گزار تھے ان کی بھی بڑی تعریف کیا کرتے تھے کہ کتنی پیاری جماعت ہے کہ لوگ اپنا کام ختم کر کے جماعت کے کاموں میں جُت جاتے ہیں۔ لوگوں میں بیٹھتے تو تبلیغ کرتے۔ مجلس برخاست ہوتی تو کہتے کہ اگر کسی کو برا لگا ہے تو معاف فرمائیں۔ یکصد یتامیٰ میں مستقل ایک یتیم کا خرچ دیتے تھے۔ ربوہ سے ایک ملازم آیا، وہ ساتویں جماعت تک پڑھا ہوا تھا گھر میں کہاکہ اسے بھی پڑھاوٴ اور جو کچھ پڑھائی کے لئے اپنے بچوں کو چیزیں دیتی ہو وہی اس کو بھی دو۔ خدا کے فضل سے موصی تھے۔ ان کے بیٹے کا بیان ہے اور کسی اور نے بھی یہ لکھا ہے کہ بچپن سے ہی ایک خواہش کا اظہار فرماتے تھے کہ خدا زندگی میں وصیت کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے شہادت سے تین سال پہلے ان کو اپنی جائیداد پر وصیت کی ادائیگی کی توفیق عطا فرما دی اور شہادت سے چند روز پہلے اپنے سارے چندے ادا کر دئیے۔

آپ اسلام آباد میں ملازمت کے دوران موناپلی کنٹرول اتھارٹی میں رجسٹرار کے طور پر فائز تھے۔ اس دوران اس وقت کے وزیر اعظم کی سفارش کے ساتھ فائل آئی۔ بھٹو صاحب وزیر اعظم تھے۔ جب فائل آئی تو چوہدری صاحب کو کوئی قانونی سقم نظر آیا۔ انہوں نے انکار کے ساتھ اس فائل کو واپس کر دیا۔ اب وزیرِ اعظم پاکستان کی طرف سے فائل آئی ہے انہوں نے کہا کہ یہ قانونی سقم ہے مَیں اس کی منظوری نہیں دے سکتا۔ یہ غلط کام ہے۔ تو وزیرِ اعظم صاحب جو اس وقت سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ بہت سیخ پا ہوئے اور دھمکی کے ساتھ نوٹ لکھا کہ یا تو تم کام کرو ورنہ تمہارے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔ تو چوہدری صاحب نے اپنے احمدی ہونے کا بھی نہیں چھپایا تھا اور موقع و محل کے مطابق تبلیغ بھی کرتے تھے۔ وزیرِ اعظم صاحب کو بھی یہ پتہ تھا کہ احمدی ہے۔ کیونکہ اس نے اس معاملے میں بعض غلط قسم کے الفاظ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے بارے میں بھی استعمال کئے تھے۔ بہر حال یہ معاملہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی خدمت میں پیش ہوا تو حضور نے دعا کے ساتھ فرمایا ٹھیک ہے، ہمت کرے اور اگر بزدل ہے تو استعفیٰ دے دے۔ جب چوہدری صاحب کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا یہ پیغام ملا تو انہوں نے کہا جو مرضی ہو جائے میں استعفیٰ نہیں دوں گا اور ایک لمبا خط وزیرِ اعظم صاحب کو لکھا کہ اگر میں استعفیٰ دوں تو ہو سکتا ہے کہ سمجھا جائے کہ میں کچھ چھپانا چاہتا ہوں۔ مجھے کچھ چھپانا نہیں ہے اس لئے میں نے استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر ان کے خلاف کارروائی ہوئی اور ان کو ایک نوٹ ملا کہ تمہاری خدمات سے تم کو فارغ کیا جاتا ہے۔ اور کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ انہوں نے پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی خدمت میں معاملہ پیش کیا، اور دعا کے لئے کہا۔ انہوں نے دعا کی۔ اگلی صبح کہتے ہیں کہ میں فجر کی نماز کے لئے باہر نکلا تو اس وقت کے امیر جو چوہدری عبدالحق ورک صاحب تھے، ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں آپ کے لئے دعا کر رہا تھا تو مجھے آواز آئی کہ چُھٹیاں مناوٴ، عیش کرو۔ تو جب بھٹو صاحب کی حکومت ختم ہوئی اور مارشل لاء والوں نے تمام سرکاری دفاتر کی تلاشی لینی شروع کی تو ان کی فائل بھی سامنے آئی اور ان کے کاغذات مل گئے، اور جو انکوائری ہوئی پھر بغیروجہ ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا اس پہ فوراً ایکشن ہوا اور ان کو بحال کر دیا اور ساتھ یہ نوٹ بھی اس پہ لکھا ہوا آ گیا کہ دو سال کا عرصہ جو آپ کو برطرف کیا گیا ہے، یہ چھٹی کا عرصہ سمجھا جائے گا۔ تو اس طرح وہ خواب جو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے احمدی بھائی کو دکھائی تھی وہ بھی پوری ہوئی۔ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عجیب کام ہے کہ اگر ایک مخالفِ احمدیت نے ان کو برطرف کیا تو بحالی بھی مخالفِ احمدیت سے ہی کروائی اور ضیاء الحق نے ان کی بحالی کی۔

ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ لاہور کی انتظامیہ نے ہمیں کہا کہ حفاظت کے پیشِ نظر اپنی کار بدل لو تا کہ نمبر پلیٹ تبدیل ہو جائے۔ اور دارالذکر آنے جانے کے راستے بدل بدل کر آیا کرو۔ تو اپنے والد صاحب کو جب میں نے کہا تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے یہ کر لو، اور ساتھ یہ بھی ہدایت تھی کہ کبھی کبھی جمعہ چھوڑ دیا کرو۔ جب یہ بات میں نے والد صاحب سے کی تو انہوں نے کہا کہ جمعہ تو نہیں چھوڑوں گا چاہے جو مرضی ہو جائے، دشمن زیادہ سے زیادہ کیا کر سکتا ہے، ہمیں شہید ہی کر دے گا، اور ہمیں کیا چاہئے۔

مکرم چوہدری حفیظ احمد کاہلوں صاحب

اگلے شہید ہیں مکرم چوہدری حفیظ احمد کاہلوں صاحب ایڈووکیٹ۔ ان کے والد تھے چوہدری نذیر احمد صاحب سیالکوٹی۔ ان کا تعلق بھی ضلع سیالکوٹ سے ہے، تعلیم ایل ایل بی تھی۔ باقاعدہ وکالت کرتے تھے۔ پہلے سیالکوٹ میں پھر لاہور شفٹ ہو گئے۔ سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 83سال تھی اور ماڈل ٹاوٴن کی مسجد میں ان کی شہادت ہوئی۔ جمعہ ادا کرنے کے لئے مسجد بیت النور کے مین ہال میں تھے۔ حملے کے دوران سینے میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ سانس بحال کرنے کی کافی کوشش کی گئی لیکن وہیں شہادت ہوئی۔ جنرل ریٹائرڈ ناصر شہید، مکرم محمد غالب صاحب شہید، مکرم چوہدری اعجاز نصراللہ خان صاحب شہید بھی یہ سب حفیظ صاحب کے رشتہ دار تھے۔

شہید بہت ہی نرم طبیعت کے مالک تھے۔ کبھی کسی کو ڈانٹا نہیں۔ گھر میں ملازموں سے بھی حسنِ سلوک کرتے تھے۔ نماز کے پابند۔ اکثرپیدل ہی نماز کے لئے جاتے تھے۔ ان کے ایک بیٹے ناصر احمد کاہلوں صاحب آسٹریلیا میں ہمارے نائب امیر ہیں۔ بڑی اچھی طبیعت کے مالک تھے، اللہ تعالیٰ درجات بلند کرے۔ ان کے بارے میں کسی نے مجھے لکھا کہ غریبوں کے کیس مفت کرتے تھے بلکہ لوگوں کی مالی مدد بھی کرتے تھے۔ مارشل لاء کے زمانے میں لجنہ کے امتحانی پرچے میں پنجتن پاک کا لفظ لکھنے پر کیس بن گیا۔ چوہدری صاحب نے اس کیس میں احسن رنگ میں پیروی کرا کر اسے ختم کروا دیا۔ آپ کی تعزیت کے لئے بہت سے غیر از جماعت دوست بھی آئے۔ بلکہ کہتے ہیں بعض متعصب لوگوں نے بھی تعزیت کی۔ ان کا کورٹ میں، دفتر میں جومنشی تھا وہ کہتا ہے ایک سابق جج صاحب کا تعزیت کا فون آیا اور بہت دیر تک افسوس کا اظہار کرتے رہے۔ منشی نے جج صاحب سے کہہ دیا کہ آپ ان کی مغفرت کے لئے دعا کریں۔ تو جج صاحب کا جواب تھا (تعصب کی انتہا آپ دیکھیں ) کہ میں افسوس تو کر سکتا ہوں لیکن مغفرت کی دعا نہیں کر سکتا۔

جمعہ کی نماز باقاعدگی سے بیت النور ماڈل ٹاوٴن کی مسجد میں ادا کرتے تھے اور باوجودنظر کی کمزوری کے مغرب کی نماز پر پیدل چل کر آیا کرتے تھے۔ اپنے محلہ کی مسجد میں نمازادا کرتے تھے۔ گھنٹوں قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے رہتے تھے۔ آپ کی چھوٹی پوتی کو جب آپ کی شہادت کے بارے میں بتایا گیا، تو اس کی والدہ نے اسے بتایا کہ اس طرح آپ آسمان پر چلے گئے ہیں، شہید ہو گئے ہیں تو اس پرآپ کے قرآنِ کریم پڑھنے کا اتنا اثر تھا، ہر وقت دیکھتی تھی کہتی تھی کہ وہاں بھی بیٹھے قرآن شریف پڑھ رہے ہوں گے۔ تو یہ ہے وہ اثر جو بچوں پر عملی نمونے دکھا کر ہر احمدی کو قائم کرنا چاہئے۔

مکرم چوہدری امتیاز احمد صاحب

اگلے شہید جن کا ذکر کرنے لگا ہوں مکرم چوہدری امتیاز احمد صاحب شہید ابن مکرم چوہدری نثار احمد صاحب ہیں۔ شہید مرحوم کے دادا مکرم چوہدری محمد بوٹا صاحب آف بھینی محرمہ ضلع گورداسپور میں 1935ء میں بیعت کی تھی۔ ان کے دادا اکیلے احمدی ہوئے تھے اور سارا گاوٴں مخالف تھا۔ ان کی دادا کی وفات کے وقت مولویوں نے شور مچایا اور ان کی قبر کشائی کی گئی جس کی وجہ سے ان کی تدفین ان کی زمینوں میں کی گئی۔ پارٹیشن کے بعد یہ خاندان ساہیوال کے ایک چک میں آ گیا۔ اور 1972ء میں ان کے والد صاحب لاہور آ گئے۔ بوقتِ شہادت شہید امتیاز احمد کی عمر 34سال تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے، معاون قائد ضلع، ناظم تربیت نومبائعین ضلع، سابق ناظم اطفال اور سیکرٹری اشاعت ڈیفنس خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔ ان کی شہادت بھی مسجد دارالذکر میں ہوئی ہے۔ مسجد دارالذکر کے مین گیٹ پر دائیں جانب ان کی ڈیوٹی تھی۔ دہشتگردوں نے جب حملہ کیا تو یہ بھاگ کر ان کو پکڑنے کے لئے گئے۔ اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہو گئے۔ سر اور سینے میں گولیاں لگیں جس کے نتیجہ میں سانحہ کے اولین شہداء میں شامل ہو گئے۔ بہر حال جماعتی خدمات میں پیش پیش تھے، شوریٰ کے نمائندے بھی رہے، بچپن سے ہی اطفال کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ صد سالہ جشنِ تشکر کے سلسلہ میں اپنے حلقہ میں نمایاں خدمت کی توفیق ملی۔ سکیورٹی کی ڈیوٹی بڑی عمدگی سے ادا کرتے تھے۔ عموماً گیٹ کے باہر ڈیوٹی کرتے تھے۔ نمازوں کی ادائیگی میں باقاعدہ تھے۔ اپنے دونوں بچوں کو وقفِ نو کی بابرکت تحریک میں شامل کیا ہوا تھا۔ جماعتی عہدیداران کا بہت احترام کیا کرتے تھے۔ لیڈر شپ کی کوالیٹیز (Qualities) تھیں۔ وقف کرنے کی بہت خواہش تھی۔ اور ڈیوٹی کا کام بھی اپنے آپ کو وقف سمجھ کر کیا کرتے تھے۔ ان کی ڈائری کے پہلے صفحے پر لکھا ہوا ملا(بعد میں انہوں نے دیکھا) کہ بُزدل بار بار مرتے ہیں اور بہادر کو صرف ایک بار موت آتی ہے۔ پھر ان کی ایک بہن امریکہ میں رہتی ہیں۔ پاکستان کچھ عرصہ پہلے آئی ہوئی تھیں، انہوں نے کہا کہ میری ڈائری میں کچھ لکھ دیں۔ تو اس پر شہیدنے یہ شعر لکھا کہ

یہ ادا عشق و وفا کی ہم میں

اک مسیحا کی دعا سے آئی

ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ شہادت سے پہلے ان کو خواب آئے تھے کہ میرے پاس وقت کم ہے اور اپنی زندگی میں مجھے کہتے تھے کہ اپنے پاوٴں پر کھڑی ہو جاوٴ۔ اور اس کے لئے بزنس بھی تھوڑا سا ان کے لئے establishکر دیا۔ ہمیشہ تہجد پڑھنے والے اور نماز سینٹر میں فجر کی نماز اپنے والد صاحب کے ساتھ پڑھتے تھے۔ ایک دن رات کو دارالذکر سے ساڑھے بارہ بجے آئے اور صبح ساڑھے تین بجے پھر اٹھ گئے۔ میں نے کہا کہ کبھی آرام بھی کر لیا کریں۔ تو کہنے لگے، اس دنیا کے آرام کی مجھے کوئی پرواہ نہیں، مجھے آرام کی فکر ہے جو میں نے آگے کرنا ہے۔

مکرم اعجاز الحق صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم اعجاز الحق صاحب شہید ابن مکرم رحمت حق صاحب کا۔ شہید مرحوم کا تعلق حضرت الٰہی بخش صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تھا۔ آبائی وطن پٹیالہ ضلع امرتسر تھا، والد صاحب ریلوے میں ملازم تھے اور لاہور میں ہی مقیم تھے۔ ہال روڈ پر الیکٹرانکس رپیئر (Repair) کا کام کرتے تھے۔ ان دنوں لاہور کے ایک پرائیویٹ چینل میں بطور سیٹلائٹ ٹیکنیشن کام کر رہے تھے۔ بوقتِ شہادت ان کی عمر 46سال تھی۔ مسجد دارالذکر میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ وقوعہ کے روز ایم ٹی اے پر جو خلافت کا عہدِ وفا نشر ہو رہا تھا تو سر پر تولیہ رکھ کر کھڑے ہو کر عہد دوہرانا شروع کر دیا۔ اور اہلیہ نے بھی ان کو دیکھ کر عہد دوہرایا۔ مسجد دارالذکر میں ہی نمازِ جمعہ ادا کیا کرتے تھے اور سانحہ کے روز بھی اپنے کام سے سیدھے ہی نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لئے دارالذکر پہنچ گئے۔ باہر سیڑھیوں کے نیچے بیٹھے رہے۔ دہشتگردوں کے آنے پر گھر فون کیا اور بڑے بھائی سے کہا کہ اسلحہ لے کر فوری طور پر دارالذکر پہنچ جاوٴ۔ اور یہ ساتھ ساتھ اپنے ٹی وی کو فون پر رپورٹنگ بھی کر رہے تھے۔ اسی دوران گولیوں کی بوچھاڑ سے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ اہلِ خانہ نے بتایا کہ ہمدرد اور ملنسار انسان تھے۔ سب کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے تھے۔ چندہ جات کی ادائیگی باقاعدہ تھی اور ہر مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ حلقہ کے ناظم اطفال تھے ان کے بارے میں ناظم اطفال نے بتایا کہ میں جب بھی ان کے بچوں کو وقارِ عمل یا جماعتی ڈیوٹی کے لئے لے کر گیا اور جب واپس چھوڑنے آیا تو انہوں نے خصوصی طور پر میرا شکرایہ ادا کیا کہ آپ نے ہمیں یہ خدمت کا موقع دیا۔

مکرم شیخ ندیم احمد طارق صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم شیخ ندیم احمد طارق صاحب شہید ابن مکرم شیخ محمد منشاء صاحب۔ شہیدکے آباوٴ اجداد چنیوٹ کے رہنے والے تھے۔ کاروبار کے سلسلے میں کلکتہ چلے گئے، 1947ء کے بعد ان کے والد صاحب کلکتہ سے ڈھاکہ چلے گئے جہاں سے 1971ء میں لاہور آ گئے۔ شہید مرحوم کی اہلیہ صاحبہ کا تعلق بھی کلکتہ سے ہے۔ اہلیہ کے دادا مکرم سیٹھ محمد یوسف صاحب بانی تھے جو مکرم صدیق بانی صاحب کلکتہ کے چھوٹے بھائی تھے۔ شہید مرحوم نے آئی کام کرنے کے بعد سپیئر پارٹس کا کاروبار شروع کیا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 40سال تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔ ہمیشہ دارالذکر میں ہی جمعہ ادا کیا کرتے تھے۔ اور میرے خطبہ جمعہ تک جو لائیو نشر ہوتا ہے وہیں رہتے تھے اور وہ سن کر آیا کرتے تھے۔ سانحہ کے وقت یہ امیر صاحب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ دایاں بازو بہت سوجا ہوا تھا۔ باقی جسم پر کوئی زخم نہیں تھا۔ غالب خیال یہی ہے کہ بازو میں گولی جو لگی ہے توخون بہہ جانے کی وجہ سے شہید ہوئے۔ بہت صلح پسند، شریف اور بے ضرر اور نرم گفتار انسان تھے۔ کام پر ہوتے تو بچوں کو فون کر کے نماز کی ادائیگی کا پوچھتے۔ کام پر بیٹھے ہوئے ہیں، نماز کا وقت ہو گیا تو گھر بچوں کو فون کرتے تھے کہ نماز ادا کرو۔ یہ ہے ذمہ داری جو ہر باپ کو ادا کرنی چاہئے۔ اسی سے دعاوٴں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی عادت پڑتی ہے۔ نمازِ تہجد کا بہت خیال رکھتے تھے قریباً چار کلو میٹر دور جا کر نماز باجماعت پڑھا کرتے تھے۔ یہاں یہ فاصلے اتنے نہیں لگتے کیونکہ سڑکیں بھی ہیں، سواریاں بھی ہیں۔ لیکن گو وہاں سواری تو ان کے پاس تھی لیکن حالات ایسے ہیں ٹریفک ایسا ہے کہ مشکل ہو جاتی ہے۔ مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ حلقے کی مسجد کی ضروریات کو پورا کرنے میں نمایاں خدمت کی توفیق ملی۔ جماعتی ضرورت کے لئے اگر کبھی موٹر سائیکل ان سے مانگا جاتا تو پیش کر دیتے اور خود رکشہ پر چلے آتے۔ خدمتِ خلق نہایت مستقل مزاجی سے کرتے تھے۔ یہ خاندان بھی، ان کے باقی افراد بھی حسبِ توفیق مالی قربانیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔

مکرم عامر لطیف پراچہ صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم عامر لطیف پراچہ صاحب شہید کا ابن عبداللطیف پراچہ صاحب۔ موصوف شہید کے والد ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔ اور والد صاحب ضلع سرگودھا کی عاملہ کے فعال رکن تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ قریبی تعلق تھا۔ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ جب جابہ تشریف لے جاتے تو راستے میں اکثر اوقات شہید مرحوم کے والد مکرم عبداللطیف صاحب کے گھر ضرور قیام کرتے تھے۔ شہید کے والد کے نانا مکرم بابو محمد امین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ شہیدنے ابتدائی تعلیم سرگودھا سے حاصل کی اور ایم بی اے لاہور سے کیا۔ جماعتی چندہ جات اور صدقات باقاعدگی سے دیتے تھے۔ بزرگان کی خدمت کرتے تھے۔ سابق امیر ضلع سرگودھا مرزا عبدالحق صاحب کے ساتھ کام کرتے رہے۔ سانحہ کے دوران بھائی کو فون کیا کہ میرے ارد گرد شہداء کی نعشیں پڑی ہیں۔ جب آ کے دیکھا گیا تو ان کے چہرے پر گن کے بٹ کے کندے کے نشان بھی تھے۔ شاید کسی دہشتگرد سے گتھم گتھا ہوئے اور اس وقت اس نے مارا۔ یا یہ دیکھنے کے لئے کہ شہادت ہوئی ہے کہ نہیں، بعض لوگوں کو ویسے بھی گن سے مار کے دیکھتے رہے ہیں۔ اسی طرح ایک گرنیڈ بھی ہاتھ پر لگا ہوا تھا۔ اس کے زخم تھے۔ دارالذکر میں باہر سیڑھیوں کے نیچے بیٹھے تھے۔ وہیں پر شہید ہوئے۔ ان کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ نہایت دیانت دار اور امانت دار انسان تھے۔ دیانت داری کی وجہ سے جیولرز ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ کی جیولری ان کے حوالے کر دیا کرتے تھے۔ احمدیت کو کبھی نہیں چھپایا۔ والد صاحب عرصہ دراز بیمار رہے۔ ان کی وفات تک علالت میں ان کی بہت خدمت کی۔ اسی طرح والدہ صاحبہ بھی بیمار ہیں۔ ان کی بے پناہ خدمت کرتے تھے۔ چندہ جات اور مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ صدقہ و خیرات عمومی طور پر چھپا کر کرتے۔ اپنے آبائی علاقے سرگودھا کے بہت سارے مریضوں کو لاہور لا کر مفت علاج کرواتے تھے۔ قربانی کا بہت جذبہ تھا۔ نماز کے پابند، قرآن باقاعدگی سے پڑھتے۔ گھر والوں نے کہا کہ رات اڑھائی تین بجے، ان کو تہجد پڑھتے اور قرآن پڑھتے دیکھا ہے۔ شہید مرحوم کی والدہ محترمہ نے بتایا کہ میں شہید مرحوم کے والد صاحب مرحوم کو کچھ عرصہ خواب میں مسلسل دیکھ رہی تھی۔ شہید کی ایک خادمہ نے بتایا کہ شہادت سے چند دن قبل والدہ کے لئے چار سوٹ لے کر آئے تو والدہ نے کہا کہ میرے پاس تو پہلے ہی بہت سوٹ ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ ماں پتہ نہیں کب تک میری زندگی ہے آپ میرے لائے ہوئے سوٹ پہن لیں۔

مکرم مرزا ظفر احمد صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم مرزا ظفر احمد صاحب شہید ابن مکرم مرزا صفدر جنگ ہمایوں صاحب کا۔ شہید مرحوم اکتوبر 1954ء میں منڈی بہاء الدین میں پیدا ہوئے۔ خاندان میں احمدیت کا آغاز حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں ان کے دادا مکرم مرزا نذیر احمد صاحب کے ذریعے سے ہوا۔ مرزا نذیر احمد صاحب نے خلیفۃ المسیح الثانی کی بیعت کی۔ میٹرک لاہور سے کیا اس کے بعد لائلپوریونیورسٹی سے دو سال تعلیم حاصل کی۔ ہوسٹل میں بعض مشکلات کی بنا پر یونیورسٹی چھوڑ دی اور کراچی چلے گئے۔ جہاں سے مکینکس میں تین سالہ ڈپلومہ کیا۔ بعد ازاں مزید ایک سال کا کورس کیا۔ اپنے شعبہ سے متعلق ایک ملازمت کراچی میں کی۔ اس کے بعد جاپان چلے گئے۔ 1981ء سے سولر انرجی میں انجینئر کی حیثیت سے 21سال جاپان میں مقیم رہ کر کام کیا۔ وہاں جماعتی خدمات کی توفیق پائی۔ جاپان میں ٹوکیو مشن بند ہوا تو آپ کا گھر بطور مشن ہاوٴس استعمال ہوتا تھا۔ 1983ء میں کوریا میں وقفِ عارضی کا موقع ملا۔ 1985ء میں جلسہ سالانہ یو۔ کے میں جاپان کی نمائندگی کی توفیق حاصل ہوئی۔ 1993ء میں صدر خدام الاحمدیہ جاپان کی حیثیت سے ایک پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے اور اس پر اذان دینے کی سعادت پائی۔ 1999ء میں بیت الفتوح کے سنگِ بنیاد کے موقع پر آپ کواور ان کی بیگم کو جاپان کی نمائندگی کی توفیق ملی۔ جاپان میں بطور صدر جماعت ٹوکیو سیکرٹری مال کے علاوہ 2001ء سے 2003ء تک نائب امیر جاپان کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔ ایک موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے شہید مرحوم کی اطاعت اور تقویٰ کے نمونہ پر اظہارِ خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کرے کہ سب جماعت جاپان ان کے نمونے پر چلنے کی توفیق پائے۔ جاپان میں اکیس سال قیام کے دوران ملازمت کے علاوہ دیگر تعلیمی کوششیں بھی کرتے رہے۔ 2003ء میں پاکستان شفٹ ہو گئے۔ لاہور میں کیولری گراؤنڈ میں رہتے تھے، آپ کا گھر وہاں بھی نماز سینٹر تھا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 56سال تھی۔ اللہ کے فضل سے موصی تھے۔ دارالذکر میں شہادت پائی۔ ہمیشہ پہلی صف میں بیٹھتے تھے اور وہاں امام صاحب کے قریب بیٹھے تھے۔ ان کے سر کے پچھلی طرف گولی لگی اور دایاں ہاتھ گرنیڈ سے زخمی ہوا جس سے شہادت ہو گئی۔

شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ خلافت سے بے انتہا محبت کرنے والے تھے۔ جب بھی لندن جاتے تو ان کی کوشش ہوتی کہ نماز خلیفہ وقت کے پیچھے ادا کریں۔ خطبات کو ہمیشہ بڑے غور سے سنتے تھے۔ یہاں سے جو لائیو خطبات جاتے ہیں کسی وجہ سے براہِ راست نہ سن سکتے تو جب تک سن نہ لیتے، اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے۔ کہتی ہیں کہ حقیقی معنوں میں‘‘محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں ’’کے مصداق تھے۔ سب بچے بوڑھے ہر ایک ان سے عزت سے پیش آتا، سب کے دوست تھے۔ امانتوں کی حفاظت کرنے والے، وعدوں کا ایفاء کرنے والے اور اعلیٰ معیار کی قربانی کرنے والے تھے۔ ہر چیز میں سادگی ان کا شعار تھا۔ ایک نہایت محبت کرنے والے شوہر تھے۔ کہتی ہیں میری چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی خیال رکھتے تھے اور کبھی تھکی ہوتی تو کھانا بھی بنا دیا کرتے۔ گلے شکوے کی عادت نہیں تھی۔

جاپان میں ہمارے ایک ملک منیر احمد صاحب ہیں، انہوں نے لکھا کہ مرزا ظفر احمد صاحب جب جاپان تشریف لائے تو ابھی شادی شدہ نہ تھے۔ بڑے سادہ طبیعت کے مالک اور بہت کم گو تھے۔ سعید فطرت اور نیک سیرت انسان تھے۔ دین کی خدمت کا جذبہ آپ کی سرشت میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ آپ اس مقصد کے حصول کے لئے ہر وقت تیار نظر آتے۔ اطاعت کے بہت بلند معیار پر فائز تھے۔ جماعت کے چھوٹے چھوٹے عہدیداروں سے لے کر بڑے عہدیدار تک سب سے برابر کا سلوک کرتے اور عزت سے پیش آتے۔ کسی جماعتی خدمت کا کبھی انکار نہ کرتے۔ ایک سال جاپان کے مثالی خادم بھی قرار پائے۔ آپ پر رشک آتا تھا۔ آپ جب بھی کوئی کام اپنے اوپر لیتے تو اسے بہت ایمانداری اور احسن طریق پر نبھانے کی کوشش کرتے۔ جاپان سے جانے سے پہلے مستقل طور پر اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیا تھا۔

مغفور احمد منیب صاحب مبلغ ہیں ربوہ میں ہمارے مربی ہیں۔ یہ بھی جاپان میں رہے ہوئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ مرزا ظفر احمد صاحب جو لمبا عرصہ جاپان میں مقیم رہے اللہ کے فضل سے جاپان میں موصوف کی دینی خدمات کسی طرح بھی واقفینِ زندگی سے کم نہیں تھیں۔ بلکہ ان کی قربانیاں احباب کے لئے قابلِ تقلید تھیں۔ وقت کی قربانی، مال کی قربانی میں سب سے آگے تھے۔ آنریری مبلغ تھے، سیکرٹری مال جاپان تھے، صدر جماعت ٹوکیو رہے۔ خلافت سے والہانہ عشق تھا۔ نماز میں توجہ سے دعا کرتے۔ ان کی آنکھیں نمناک ہو جاتیں۔ محبت کرنے والے تھے، ہر ایک کی تکلیف کا سن کے آنکھیں نمناک ہو جاتیں۔

مکرم مرزا محمود احمد صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم مرزا محمود احمد صاحب شہید ابن مکرم اکبر علی صاحب کا۔ شہید مرحوم بدو ملہی ضلع نارووال کے رہنے والے تھے۔ ان کے دادا حضرت عنایت اللہ صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ محکمہ ٹیلیفون سے وابستہ تھے۔ 2008ء میں ریٹائر ہوئے۔ اور 35سال سے لاہور میں مقیم تھے۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 58سال تھی۔ مسجد بیت النور ماڈل ٹاوٴن میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ نمازِ جمعہ عموماً ماڈل ٹاوٴن میں ادا کرتے تھے۔ سانحہ کے روز مسجد کے عقبی ہال میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران ایک گولی ان کے ماتھے پر لگی جس سے موقعہ پر شہید ہو گئے۔ اہلِ خانہ نے بتایا کہ جماعتی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ وقفِ عارضی کی متعدد مرتبہ سعادت ملی۔ بہت نرم دل اور انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ محنتی انسان تھے۔ ان کے بیٹے قیصر محمود صاحب اس وقت ڈیوٹی پر موجود تھے جو اس سانحہ میں محفوظ رہے۔ شہادت سے چار دن قبل ان کی اہلیہ نے خواب دیکھا کہ ایک خوبصورت باغ ہے جس میں ٹھنڈی ہوا اور نہریں چل رہی ہیں خوبصورت محل بنا ہوا ہے۔ محمود صاحب مجھے کہتے ہیں کہ تم لوگوں کے لئے میں نے گھر بنا دیا ہے یہ میرا محل ہے اب میں نے یہاں رہنا ہے۔ پورے محل میں خوشبو ہی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔

مکرم شیخ محمد اکرام اطہر صاحب

مکرم شیخ محمد اکرام اطہر صاحب شہید ابن مکرم شیخ شمس الدین صاحب۔ شہید مرحوم کے والد صاحب چنگڑانوالہ ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔ طاعون سے جب سب رشتے دار وفات پا گئے تو مڈھ رانجھا ضلع سرگودھا میں آ کر آباد ہوئے۔ شہید مرحوم کے والد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور بعد میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت کرنے یعنی دبانے کا موقع ملا۔ تاہم بیعت کی سعادت حضرت مصلح موعودؓ کے دورِ خلافت میں ملی۔ شہید مرحوم کے خسر مکرم خواجہ محمد شریف صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ ان کے والد محترم شیخ شمس الدین صاحب کی تبلیغ کی وجہ سے حضرت مرزا عبدالحق صاحب کے خاندان میں احمدیت آئی۔ مولوی عطاء اللہ خان صاحب درویش قادیان ان کے بھائی تھے اور مکرم منیر احمد منور صاحب مربی سلسلہ جو یہاں (جرمنی میں ) بھی رہے ہوئے ہیں آج کل پولینڈ میں ہیں، ان کے بھانجے ہیں۔ بوقتِ شہادت ان کی عمر 66سال تھی۔ مسجد دارالذکر گڑھی شاہو میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ مسجد دارالذکر کے مین ہال میں کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ بڑھاپے کے باعث سانحے کے دوران سب سے آخر میں اٹھے۔ لیکن اس دوران دہشتگرد کی گولیاں سر اور پسلیوں میں لگنے سے شہید ہو گئے۔ اہلِ خانہ نے بتایا کہ شہید مرحوم دو تین ماہ سے کہہ رہے تھے کہ میرا وقت قریب آ گیا ہے۔ کچھ عرصے سے بالکل خاموش رہتے تھے۔

ان کی بہو نے خواب میں دیکھا کہ ربوہ میں انصار اللہ کا ہال ہے (جو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا) تو وہاں سے مجھے تین تحفے ملے ہیں اور وہ لے کر میں لاہور روانہ ہو رہی ہوں۔ شہداء کے سب کے جنازے بھی انصاراللہ کے ہال ہی میں ہوئے تھے۔

شہید مرحوم کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ قریبی دیہاتی علاقوں میں جا کر مختلف لوگوں سے گھروں میں رابطہ کر کے تبلیغ کیا کرتے تھے۔ خاص طور پر الفضل جیب میں ڈال کر لے جاتے۔ سگریٹ نوشی کے خلاف بڑاجہاد کیاکرتے تھے اور چلتے چلتے لوگوں کو منع کر دیتے اور کوئی دوسری چیز کھانے کی دے کر کہتے کہ یہ کھالو اور سگریٹ چھوڑ دو۔ تہجد گزار تھے۔ نیک عادات کی بنا پر ان کا رشتہ ہوا تھا یعنی عبادت اور تبلیغ کی وجہ سے۔ بہت دعا گو اور تہجد گزار تھے۔ خاص طور پر بہت سارے لوگوں کے نام لے کر دعا کیا کرتے تھے۔ چندوں میں باقاعدہ تھے، تنخواہ ملنے پر پہلے سیکرٹری صاحب مال کے گھر جاتے اور چندہ ادا کرتے۔ یہ ہے صحیح طریق چندے کی ادائیگی کا، نہ کہ یہ کہ جب بقایا دار ہوتے ہیں اور پوچھو کہ بقایا دار کیوں ہو گئے تو الٹا یہ شکوہ ہوتا ہے کہ سیکرٹری مال نے ہمیں توجہ نہیں دلائی، نہیں تو ہم بقایا دار نہ ہوتے۔ یہ تو خود ہر ایک کا اپنا فرض ہے کہ چندہ ادا کرے۔ خلافت جوبلی کے سال میں مقالہ تحریر کیا جس میں Aگریڈ حاصل کیا۔

مکرم مرزا منصور بیگ صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم مرزا منصور بیگ صاحب شہید ابن مکرم مرزا سرور بیگ صاحب مرحوم کا۔ شہید مرحوم کے آباؤ اجداد پئی ضلع امرتسر کے رہنے والے تھے۔ ان کے تایا مرزا منور بیگ صاحب، ان کی 1953ء سے قبل بیعت تھی ان کو(تایا کو بھی)1985ء میں ایک معاند احمدیت نے شہید کر دیا۔ ان کی زری کی دکان تھی۔ بوقت شہادت مرزا منصور بیگ صاحب کی عمر29سال تھی۔ اللہ کے فضل سے موصی تھے۔ بطورسیکرٹری اشاعت، ناظم تحریک جدید اور عمومی کی ڈیوٹی سکواڈ میں ان کو خدمت کا موقع مل رہا تھا۔ بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جام شہادت نوش فرمایا۔ جمعہ کی صبح ان کی مجلس کے قائد صاحب نے ان کو ڈیوٹی پر جانے کے لیے کہا۔ پھر گیارہ بجے کے قریب دوبارہ یاددہانی کے لیے قائدنے فون کیا تو انہوں نے جواب دیا‘‘قائد صاحب فکر نہ کریں اگر ضرورت پڑی تو پہلی گولی اپنے سینے پر کھاوٴں گا’’۔ بیت النور ماڈل ٹاؤن میں چیکنگ پر ڈیوٹی تھی۔ مین گیٹ کے باہر پہلے بیریئر کے پاس کھڑے تھے۔ خدام کی نگرانی پر متعین تھے کہ دہشتگردنے آتے ہی ان پر فائرنگ کر دی۔ سب سے پہلے ان کو ہی فائر لگا۔ کئی گولیاں لگنے کی وجہ سے موقع پر ہی شہادت ہوئی۔

شہید مرحوم نے سانحہ سے قبل صبح کے وقت گھر میں اپنی خواب سنائی کہ‘‘مجھے کوئی مار رہا ہے اور میرے پیچھے کالے کتے لگے ہوئے ہیں ’’۔ شہید مرحوم جماعتی خدمت کرنے والے اور اطاعت کا جذبہ رکھنے والے تھے۔ نرم مزاج، ہنس مکھ اور پنج وقتہ نماز کے پابند۔ اہلیہ کی عمر 26سال ہے۔ ان کی شادی ہوئی تھی تو ان کے ہاں اولاد متوقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نیک، صالح، صحتمند اور لمبی عمر پانے والی ان کو اولاد عطا فرمائے۔ ان کی والدہ اور اہلیہ خوشیاں دیکھیں۔

مکرم میاں محمد منیر احمد صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم میاں محمد منیر احمد صاحب شہید ابن مکرم مولوی عبدالسلام صاحب عمر کا۔ شہید مرحوم حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے تھے۔ آپ 11اکتوبر1940ء کوحید ر آباد دکن میں اپنے ناناحضرت مولوی میر محمدسعیدصاحب رضی اللہ عنہ کے گھرمیں پیداہوئے۔ آپ کے نانا حضرت میر محمد سعیدصاحب رضی اللہ عنہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت لینے کی اجازت دی تھی۔ آپ کے نانا کی وجہ سے حیدر آباد دکن میں کافی لوگ جو آپ کے مرید تھے احمدی ہو گئے۔ بی اے تک تعلیم حاصل کی اور 1962ء میں لاہور شفٹ ہو گئے۔ بوقت شہادت ان کی عمر70سال تھی۔ بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جام شہادت نوش فرمایا۔ نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے ہر جمعہ قریباً 12بجے گھر سے نکلتے تھے۔ وقوعہ کے روز ناسازی طبیعت کے باعث قریباً ایک بجے ماڈل ٹاؤن بیت النور میں پہنچے۔ مسجد کے صحن میں جنرل ناصر صاحب کے ساتھ کرسی پر بیٹھے تھے۔ حملے کے دوران موصوف ہال کے اندر داخل ہو کر پہلی صف میں بیٹھ گئے۔ اس دوران دروازہ بند کرنے کی کوشش کے دوران دہشتگردنے بندوق کی نالی دروازے میں پھنسا لی اور فائرنگ کرتا رہا۔ پہلی گولی آپ کے سر میں لگی جس سے موقع پر ہی شہادت ہو گئی۔

قریباًدس سال قبل آپ نے خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر کے ساتھ ایک قبر تیار کی گئی ہے، پوچھنے پر بتایا کہ یہ آپ کی قبر ہے۔ شہادت کے بعد یہ تعبیر بھی سمجھ میں آئی کہ وہ واقعہ میں آپ کی قبر تھی کیونکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل میں سے تھے اور شہادت بھی دونوں کی قدر ِمشترک ہے۔ شہادت کے بعد ان کی بیٹی نے خواب میں دیکھا کہ والد صاحب شہید خواب میں آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرا کمرہ (جو گھر کا کمرہ تھا) سیٹ کر دو تو خادم نے ٹھیک کر دیا۔ اور کہتی ہیں کہ کچھ دیر بعد کچھ مہمان آئے اور انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ہم نے کمرہ دیکھنا ہے۔

شہید مرحوم کے بیٹے مکرم نورالامین واصف صاحب بتاتے ہیں کہ جب والد صاحب شہید کے نکاح کا مرحلہ پیش ہوا تو بعض لوگوں نے ان کا تعلق غیر مبائعین سے قائم کرنے کی کوشش کی کہ یہ غیر مبائعین ہیں یعنی خلافت کی بیعت نہیں کی۔ جس پر معاملہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے پاس پہنچاتو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے بڑی شفقت سے فرمایا کہ ان کو تجدید بیعت کی کیا ضرورت ہے یہ تو اس شخص کے پوتے ہیں جس نے سب سے پہلے بیعت کی تھی اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت ہی پیارا تھا۔ اس پرحضرت مولانا ابوالعطاء جالندھر ی صاحب نے ان کا نکاح پڑھایا۔ آپ کے ایک عزیز نے آپ کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شہید مرحوم میں حسنِ سلوک، غریبوں کی مدد کرنا، مہمان نوازی، بیماروں کی تیمارداری کرنے کی خوبیاں نمایاں تھیں۔ شہید مرحوم کو سندھ قیام کے دوران متعدد ضرورتمند بچیوں کی شادی کروانے اور ضرورتمند بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی بھی توفیق ملی۔ مہمان نوازی کی صفت تو آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اگر کوئی مہمان آ جاتا اپنے گھر سے بغیر کھانا کھلائے اس کو جانے نہیں دیتے تھے۔ باقاعدہ تہجد گزار تھے۔

مکرم ڈاکٹر طارق بشیر صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم ڈاکٹر طارق بشیر صاحب شہید ابن مکرم چوہدری یوسف خان صاحب کا۔ شہید مرحوم کے والد شکر گڑھ کے رہنے والے تھے اور والد صاحب نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ارشاد پر زمینوں کی نگرانی کے لئے سندھ چلے گئے۔ کراچی قیام کیا۔ شہید مرحوم کی پیدائش کراچی میں ہوئی۔ تاہم بعد میں یہ خاندان شکر گڑھ آگیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد شہید مرحوم لاہور آگئے جہاں سے MBBSکے علاوہ میڈیکل کی دیگر تعلیم حاصل کی۔ 15سال قصور گورنمنٹ ہسپتال میں کام کیا۔ شہادت کے وقت میو ہسپتال لاہور میں بطورA.M.Sکام کر رہے تھے نیز قصور میں کلینک بھی بنایا ہوا تھا۔ بوقت شہادت ان کی عمر 57سال تھی اور دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔

مسجد دارالذکر کے مین ہال میں محراب کے بائیں طرف بیٹھے تھے کہ باہر سے حملہ کے بعد جو پہلا گرنیڈ اندر پھینکا گیا اس میں زخمی ہوئے اور اسی حالت میں ہی شہید ہو گئے۔ شہید مرحوم کی اہلیہ نے شہادت سے چند دن قبل خواب میں دیکھا کہ آسمان پر ایک اچھا سا گھر ہے جو فضا میں تیر رہا ہے اور آپ اس میں اڑتے پھر رہے ہیں۔ دوسری خواب میں دیکھا کہ زلزلہ اور طوفان آیا ہے چیزیں ہل رہی ہیں۔ اور میں دوڑتی پھر رہی ہوں اور وہ مجھے مل نہیں رہے۔ ان کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ بہت نفیس آدمی تھے، کبھی کسی سے سخت بات نہیں کی۔ بچوں سے اور خصوصاً بیٹیوں سے بہت پیار تھا۔ مریضوں سے حسن سلوک سے پیش آتے۔ ہر ایک سے ہمدردی کرتے تھے۔ ان کے غیر ازجماعت مالک مکان نے جب اپنے حلقہ احباب میں ان کی شہادت کی خبر سنی تواسے اتنا دکھ ہوا کہ وہ چکرا گئے۔ کئی سعید فطرت لوگ ایسے ہیں۔ چھ سال کے عرصہ کے دوران مالک مکان کو کرایہ گھر جا کر ادا کرتے تھے۔ کبھی موقع ایسا نہیں آیا کہ مالک مکان کو کرایہ لینے کے لئے آنا پڑا ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب بہت شوق سے پڑھتے تھے۔ چندہ باقاعدگی سے دیتے۔ بیوی کو کہا ہوا تھا کہ روزانہ آمدنی میں سے ایک حصہ غریبوں کے لیے نکالنا ہے۔ میرے خطبات باقاعدگی سے سنتے تھے۔ بعض اوقات بار بار سنتے تھے۔ ان کے ایک بیٹے نے بھی MBBSکر لیا ہے اور ہاؤس جاب کر رہا ہے۔ وہ بھی اس سانحہ میں زخمی ہواہے۔ اللہ تعالیٰ اس زخمی بیٹے کو اور تمام زخمیوں کو بھی صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔

مکرم ارشد محمود بٹ صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم ارشد محمود بٹ صاحب شہید ابن مکرم محمود احمد بٹ صاحب کا۔ شہید کے پڑدادا مکرم عبداللہ بٹ صاحب نے احمدیت قبول کی تھی اور پسرور ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ ان کے پڑنانا حضرت جان محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے۔ ڈسکہ کے رہنے والے تھے۔ ان کے والد صاحب ائیر فورس میں ملازم تھے۔ بسلسلہ ملازمت مختلف مقامات پر تعینات رہے۔ شہید مرحوم لاہور میں پیدا ہوئے۔ I.COM کیا ہوا تھا۔ بوقت شہادت ان کی عمر 48سال تھی۔ اپنے حلقہ کے نائب زعیم انصار اللہ اور سیکرٹری تحریک جدید کے طور پر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔ بیت النور میں جام شہادت نوش فرمایا۔ جمعہ کے روز جلدی تیار ہو گئے۔ عموماً ان کے بھائی ساتھ لے کر جاتے تھے، کیونکہ ان کا ایک پاؤں پولیو کی وجہ سے کمزور تھا۔ اگربھائی لیٹ ہوتے تو خود ہی وَین پر چلے جاتے۔ سانحہ کے وقت پہلی صف میں بیٹھے ہوئے تھے۔ شروع میں ہونے والے حملے میں تین چار گولیاں لگیں جس سے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ شہید مرحوم پنجوقتہ نماز کے پابند تھے روزانہ اونچی آواز میں تلاوت قرآن کریم کیا کرتے۔ معذور ی کے باوجود اپنا کام خود کرتے تھے۔ خلافت سے عشق تھا۔ اپنی استطاعت سے بڑھ کر چندہ ادا کرتے تھے۔ سلسلہ کی بہت ساری کتب کا مطالعہ کر چکے تھے۔ بہت دعا گو انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے۔

مکرم محمد حسین ملہی صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم محمد حسین ملہی صاحب شہید ابن مکرم محمد ابراہیم صاحب کا۔ شہید کا تعلق گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ سے تھا۔ ان کے والد محترم نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ کچھ عرصہ سندھ میں بھی رہے۔ 34سال سے لاہور میں مقیم تھے۔ ان کو جماعتی سکولوں میں بھی پڑھانے کا موقع ملا۔ بوقت شہادت ان کی عمر 68سال تھی۔ مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جام شہادت نوش فرمایا۔ ہانڈوگجر لاہور میں تدفین ہوئی۔ سانحہ کے روز ایک بجے کے قریب سائیکل پر گھر سے نکلے اور مسجد بیت النور کے مین ہال میں پہلی صف میں بیٹھے تھے کہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے بازو اور پیٹ میں گولیاں لگیں اور شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی حالت میں میو ہسپتال لے جایا گیا جہاں آپریشن تھیٹر میں شہید ہو گئے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ پنجوقتہ نماز کے پابند تھے، تہجد باقاعدگی سے ادا کرتے۔ ہر نیکی کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ پیشہ کے لحاظ سے الیکٹریشن تھے۔ غریبوں اور ضرورتمندوں کا کام بغیر معاوضہ کے کر دیتے تھے۔ اپنے حلقہ کی مسجد اپنی نگرانی میں تعمیر کروائی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔

مکرم مرزا محمد امین صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم مرزا محمد امین صاحب شہید ابن مکرم حاجی عبدالکریم صاحب کا۔ شہید مرحوم کے والد جموں کشمیر کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے 1952ء میں بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔ والد صاحب کے بیعت کرنے کے کچھ عرصہ بعد شہید مرحوم نے بھی بیعت کر لی تھی۔ بوقت شہادت ان کی عمر 70سال تھی اور مسجد دارالذکر میں جا م شہادت نوش فرمایا۔ عموماً مسجد دارالذکر میں نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔ پہلی صف میں بیٹھے ہوئے تھے کہ گرینیڈ اور گولیوں کے حملہ میں شدید زخمی ہو گئے۔ تین دن ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ 31مئی کو ہسپتال میں ہی شہید ہوگئے۔ سانحہ سے دو دن قبل رات کو سوئے ہوئے تھے کہ اچانک اپنے دونوں ہاتھ بلندکر کے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ کر اٹھ بیٹھے۔ ہڑ بڑا کر نعرہ لگاتے ہوئے اٹھے۔ نہایت خوش اخلاق اور ملنسار تھے۔ جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ مختلف جماعتی مقابلہ جات میں انعامات بھی حاصل کئے۔

مکرم ملک زبیر احمد صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم ملک زبیر احمد صاحب شہید ابن مکرم ملک عبدالرشید کا۔ شہید مرحوم ضلع فیصل آباد کے رہنے والے تھے۔ ان کے دادا مکرم ملک عبدالمجید خان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں احمدیت قبول کی تا ہم حضور علیہ السلام کی زیارت نہ کرپائے۔ شہید مرحوم نے فیصل آباد میں محکمہ واپڈا میں ملازمت کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد سانحہ سے قریباً ایک ماہ قبل لاہور شفٹ ہوئے تھے۔ فیصل آباد میں مسجد بیت الفضل کی تعمیر میں ان کے والد صاحب کا نام بنیادی لوگوں میں شامل تھا۔ ابتدا میں دیگر حلقہ جات میں نماز جمعہ ادا کرتے رہے لیکن بیت النور ماڈل ٹاؤن کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ یہاں احمدی اکٹھے ہوتے ہیں اور کافی تعداد میں ہوتے ہیں اور بیٹے کو کہا کہ مجھے یہاں ہی لایا کرو۔ بوقت شہادت ان کی عمر61سال تھی اور مسجد بیت النور میں ان کی شہادت ہوئی۔

شہید مرحوم مین ہال میں بیٹھے تھے اور بیٹا دوسرے ہال میں تھا۔ فائرنگ کے دوران ہال کے درمیان گرل (Grill)کے پاس جاتے ہوئے یہ گرے ہیں یا بیٹھے ہیں بہر حال وہیں بیٹھے تھے۔ بیٹا ان کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا تو بیٹے کو تو یہ نظر نہیں آئے لیکن انہوں نے بیٹے کو دیکھ لیا اور زور دار آواز میں کہا‘‘کدھر بھاگے پھرتے ہو، اگر کچھ ہوگا تو ہم شہید ہوں گے، اور یہاں اپنے بھائیوں کے ساتھ ہی شہید ہوں گے۔ ’’اسی دوران ان کو دل پر گولی لگی، شدید زخمی ہو گئے۔ اسی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی شہادت ہو گئی۔ اہل خانہ بتاتے ہیں کہ نمازی اور تہجد گزار تھے۔ تہجد میں کبھی ناغہ نہیں کیا۔ اکثر وقت MTA دیکھتے تھے۔ شہیدمرحوم کہا کرتے تھے کہ اگر تھکاوٹ کی وجہ سے کبھی بیدار نہ ہوں تو یوں لگتا ہے کہ کسی نے مجھے زبردستی اٹھا دیا ہے۔ تہجد کی اتنی عادت تھی اور وقت پر اٹھ جایا کرتے تھے۔ بیٹے نے گاڑی لی تو نصیحت کی کہ بیٹا اس میں کسی قسم کا کوئی ریڈیو یا ٹیپ ریکارڈر یا ڈی وی ڈی (جو ہے) نہیں لگانی۔ اس کے بدلے سبحان اللہ اور درود شریف کا وِرد کیا کرواور خود بھی یہی کیا کرتے تھے۔ چھوٹے بھائی نے بتایا کہ بچپن میں فٹ پاتھ پر بنے ہوئے چوکٹھوں پرچلتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اس چوکٹھے میں درود پڑھو، اس میں فلاں دعا پڑھو، اس میں فلاں دعا پڑھو۔ بیٹے نے کہا کہ گاڑی کی انشورنس کروانی ہے تو انہوں نے کہابیشک کروالو لیکن انشورنس والے کمزور ہیں تم ایسا کرو کہ گاڑی کے نام پر ہر ماہ چندہ دیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ حفاظت کرنے والا ہے۔ چنانچہ اس ہدایت پر بھی عمل کیا گیا۔ باکسنگ کے اچھے کھلاڑی تھے۔ اور انہوں نے کافی انعامات جیتے ہوئے تھے۔

مکرم چوہدر ی محمدنواز صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم چوہدر ی محمدنواز صاحب شہید کا جو مکرم چوہدری غلام رسول صاحب ججہ کے بیٹے تھے۔ شہید مرحوم کے آباؤ اجداد اونچا ججہ ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ ان کے پھوپھا حضرت چوہدری غلام احمد مہارصاحب رضی اللہ عنہ اور ان کے والد حضرت چوہدری شاہ محمد مہار صاحب رضی اللہ عنہ چندرکے منگولے ضلع نارووال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ ان کے والد صاحب اور ان کے بڑے بھائی نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں بیعت کی اور اس سے قبل گاؤں میں مناظرہ کروایا جس کے نتیجے میں ان کے خاندان نے بیعت کر لی تھی۔ بی۔ اے، بی۔ ایڈ کرنے کے بعد محکمہ تعلیم جائن (Join) کیا۔ 1991ء میں بطور ہیڈ ماسٹرگورنمنٹ ہائی سکول کشمیرسے ریٹائر ہوئے اور اکتوبر 1992ء میں لاہور شفٹ ہو گئے۔ اپنے حلقہ میں بطور محاسب خدمت کی توفیق پائی۔ بوقت شہادت ان کی عمر 80سال تھی اور مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔

مسجد دارالذکر سے ان کو خاص لگاؤ تھا۔ کہا کرتے تھے کہ جب لاہور میں زیر تعلیم تھا تو دارالذکر کی تعمیرکے سلسلہ میں وقار عمل میں شامل ہوتاتھااس لئے دارالذکر سے خاص لگاؤ ہے۔ وقوعہ کے روز نیا سوٹ اور نیا جوتا پہنا۔ ایک بجے کے قریب دارالذکر کے مین ہال میں پہنچے، کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران گرینیڈ پھٹنے سے شہید ہو گئے۔ چند ماہ پہلے اہلیہ نے خواب میں دیکھا کہ آواز آئی ہے‘‘مبارک ہو آپ کا خاوند زندہ ہے’’۔ اہل خانہ نے مزید بتایا کہ صاف گو انسان تھے۔ تندرست اور Activeتھے۔ اپنی عمر سے 20سال چھوٹے لگتے تھے۔ تعلیم الاسلام کالج میں روئنگ کی ٹیم کے کیپٹن تھے۔ مختلف زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ جماعتی لٹریچر کے علاوہ دیگر مذاہب کا لٹریچر بھی زیر مطالعہ رہتا تھا۔

مکرم شیخ مبشر احمد صاحب

اگلا ذکر ہے مکرم شیخ مبشر احمد صاحب شہید ابن مکرم شیخ حمید احمد صاحب کا۔ شہید مرحوم کے آباؤ اجداد قادیان کے رہنے والے تھے، پارٹیشن کے بعد ربوہ آگئے اور 35سال سے لاہور میں مقیم تھے۔ پھر ربوہ سے لاہور چلے گئے۔ ان کے دادا مکرم شیخ عبدالرحمن صاحب نے خلافت ثانیہ کے دور میں بیعت کرنے کی توفیق پائی۔ حضرت مہر بی بی صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، صحابیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کی نا نی تھیں۔ بوقت شہادت ان کی عمر47سال تھی اور مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ بیت النور کے پچھلے ہال کی تیسری صف میں بیٹھے ہوئے تھے۔ دہشتگرد کے آنے پر دروازہ بند کرنے کی کوشش کی مگر ایک گولی ان کے پیٹ میں دائیں طرف لگ کر باہر نکل گئی۔ بعد میں گرینیڈ پھٹنے سے بھی مزید زخمی ہوئے۔ اور کان سے بھی کافی دیر تک خون نکلتا رہا۔ باوجود اس کے بعد میں بھی دو تین گھنٹے یہ زندہ رہے ہیں، پیٹ پر ہاتھ رکھ کر خود چل کر ایمبولینس تک گئے لیکن ایمبولینس میں ہسپتال جاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ سانحہ کے روز بظاہر حالات اس نوعیت کے تھے کہ نماز جمعہ پر جانا مشکل تھا لیکن خدا تعالیٰ نے شہادت کا رتبہ دینا تھا اس لئے بالآخر بیت النور پہنچ گئے۔ شہید مرحوم ہر جمعہ کو اپنے بیمار خُسر کو نماز کے لئے لے جایا کرتے تھے۔ اس مرتبہ ان کی طبیعت ناساز تھی اور انہوں نے کہا کہ میں نے اس دفعہ جمعہ پر نہیں جانا۔ چنانچہ اکیلے خود ہی جمعہ کیلئے نکلے۔ راستے میں گاڑی خراب ہو گئی گاڑی کو ورکشاپ پہنچایااس کے بعد اپنے قریبی کام کرنے والی جگہ پر چلے گئے تا کہ بعض امور نمٹا سکیں۔ وہاں پہنچے ابھی کام شروع کیاہی تھا تو لائٹ بند ہو گئی۔ وہاں سے باہر نکلے تو بھائی سے ملاقات ہو گئی اور اس نے کہا کہ مجھے بھی جمعہ پر جانا ہے، لے جائیں۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ لائٹ آگئی۔ لیکن بہر حال جمعہ پر چلے گئے۔ بجلی آنے پر کام شروع نہیں کیا بلکہ جمعہ کے لئے روانہ ہو گئے۔ اگر کام میں مصروف ہوتے تو ہو سکتا تھا وقت کاپتہ نہ لگتا۔ ان کی اہلیہ محترمہ نے بتایا کہ میرے خاوند ایک مثالی شوہر تھے۔ ہماری شادی قریباً بیس سال قبل ہوئی تھی۔ ہماراجائنٹ فیملی سسٹم تھا۔ میرے شوہر نے ہر ایک کا خیال رکھا اور کبھی کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیا۔ ان کی نسبتی ہمشیرہ نے شہادت سے پہلے خواب میں دیکھا کہ مبشر بھائی سفید رنگ کی گاڑی میں ہیں جو آسمان پر اڑتی جا رہی ہے۔ ان کی شہادت کے دو دن بعد ان کی بیٹی ماریہ مبشر نے خواب میں دیکھا کہ‘‘ابو دروازے میں کھڑے مسکرا رہے ہیں تو پوچھا کہ آپ زندہ ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میں تو ٹھیک ہوں اور آپ کے ساتھ ہوں ’’۔ شہید مرحوم نہایت سادہ طبیعت کے مالک، رحم دل، غریبوں کے ہمدرد محبت کرنے والے انسان تھے۔ چھوٹوں اور بڑوں کی عزت کرنے والے اور سب میں ہردل عزیز تھے۔

اللہ تعالیٰ ان سب شہداء کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے بیوی بچوں کا حافظ وناصر ہو۔ جن کے والدین حیات ہیں انہیں بھی ہمت اور حوصلہ سے یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ان کی نسلوں کے ایمانوں کو بھی مضبوط رکھے۔ آئندہ نسلیں بھی صبر اور استقامت سے یہ سب دین پر قائم رہنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان سب کو اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔

(الفضل انٹرنیشنل جلد 17 شمارہ 29 مورخہ 16 جولائی تا 22 جولائی 2010 صفحہ 5 تا 11)


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 25؍ جون 2010ء شہ سرخیاں

    جلسہ سالانہ جرمنی کاافتتاح، پاکستان کے احمدیوں کے لئے خاص طور پر دعا کی تحریک، جلسہ کے انتظامات کا ذکر اور خاص طور پر سیکیورٹی والوں سے تعاون کی تلقین، اور دعا کرنے کی تلقین کہ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے، سانحہ لاہور کے شہداء کے کوئف اور ان کے واقعات کا ذکر۔  

    خطبہ جمعہ فرمودہ 25جون 2010ء بمطابق25 احسان 1389 ہجری شمسی بمقام منہائیم، فرینکفرٹ جرمنی

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور