حضرت مسیح موعودؑ کے بعض صحابہ کی روایات کا ایمان افروز تذکرہ

خطبہ جمعہ 12؍ اکتوبر 2012ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

جب مَیں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے واقعات اور روایات بیان کرتا ہوں تو جس صحابی کا واقعہ بیان ہوتا ہے، اُن کی اولادیں اور اُن کی نسلیں اپنے خطوط میں اس پر خوشی کا اظہار کرتی ہیں اور دعا کے لئے بھی کہتی ہیں کہ دعا کریں کہ ہم اور ہماری آئندہ نسلیں اس اعزاز کی حفاظت کرنے والے ہوں جو ہمیں ہمارے دادا، پڑدادا یا پڑنانا، دادی پڑدادی وغیرہ کو زمانے کے امام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے دستِ مبارک پر بیعت کرنے سے ملا، یا اُنہوں نے وہ زمانہ پایا اور براہِ راست امامِ وقت سے فیض پایا۔ لیکن ایک واقعہ پر میری حیرت کی انتہا ہوئی، جب میں نے سنا کہ بعض ایسے بھی ہیں جو اپنے بزرگوں پر یہ اعتراض بھی کر دیتے ہیں کہ انہوں نے غلط کیا کہ اپنے ماں باپ کو چھوڑ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس آ گئے۔ اُن کے دلوں میں یہ غلط خیالات اُن بزرگوں کے صحیح حالات اور واقعات نہ جاننے کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ اب جبکہ میں نے اُن بزرگوں کے واقعات بیان کرنا شروع کئے ہیں تو ایسے ہی غلط فہمی میں مبتلا ایک خاندان یا شخص نے مجھ سے رابطہ کر کے کہا کہ فلاں بزرگ کی روایات بیان کر کے آپ نے اُن کے بارے میں جو اُلجھن پیدا کرنے والے بعض سوالات مجھے اُٹھتے تھے اُن کو ختم کر دیا ہے۔ تو یہ واقعات بیان کرنا بعض خاندانوں کے افراد کی غلط فہمیاں جو اُن کو اپنے بزرگوں کے بارے میں پیدا ہو جاتی ہیں، اُنہیں دور کرنے کا بھی باعث بنتا ہے اور اُن کی نسلوں کو جماعت کے قریب لانے کا بھی باعث بنتا ہے۔ اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کے واقعات بیان کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا جو کچھ حد تک بیان کئے تھے پھر بیچ میں رہ گئے تھے۔ اس لئے مَیں بھی کہتا رہا ہوں اور مجھ سے پہلے خلفاء بھی خاص طور پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بھی کہتے رہے ہیں کہ اگلی نسلوں کو اپنے بزرگوں کے واقعات اور حالات اور تاریخ کی جُگالی کرتے رہنا چاہئے تا کہ اگلی نسلوں کا بھی جماعت سے مضبوط تعلق پیدا ہو اور اُن کی تربیت بھی ہو۔

یہاں یہ بھی بتا دوں کہ صحابہ کے خاندانوں کے بعض افراد جو جماعت سے دور ہٹ جاتے ہیں، وہ بعض افرادِ جماعت یا عہدیداروں وغیرہ کے رویہ کی وجہ سے دور ہٹتے ہیں اور پھر نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہمارے بزرگ غلط تھے۔ پس ایسے لوگوں کو ذرا ذرا سی بات پر زُود رنجی دکھانے کی بجائے اپنے لئے بھی خدا تعالیٰ سے ہدایت پر قائم رہنے کی دعا مانگنی چاہئے اور جو لوگ وجہ بن رہے ہیں اُن کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمارے بزرگوں نے بڑی تحقیق کر کے احمدیت قبول کی تھی، یا اللہ تعالیٰ سے براہِ راست رہنمائی حاصل کر کے احمدیت کو قبول کیا تھا۔ موجودہ نسلیں تو غلط ہو سکتی ہیں کیونکہ اُن کا خدا تعالیٰ سے وہ تعلق نہیں ہے جو پہلوں کا تھا، جو اُن بزرگوں کا تھا، لیکن وہ بزرگ غلط نہیں ہو سکتے۔ ہمیشہ یاد رکھیں۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ خالی الذہن ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سیدھے راستے پر چلائے اور کبھی کوئی ایسا موقع پیدا نہ ہو جو اُنہیں یا ہم میں سے کسی کو بھی دین سے دُور لے جانے والا ہو، اللہ تعالیٰ کی رضا سے دور لے جانے والا ہو۔ ایسے لوگ اگر خود یہ جائزے لیں تو اُنہیں پتہ چلے گا کہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن کو اُن کی اَنانیت یا ناسمجھی نے دین کے مقابل پر کھڑا کر کے دین سے دور کر دیا ہے۔

پس صحابہ کی اولاد میں سے ایسے جو کسی بھی وجہ سے دین سے دور ہو گئے ہیں یا جماعتی نظام سے دور ہو گئے ہیں، جن کے ذاتی تصورات یا خیالات اُن پر حاوی ہو گئے ہیں، اَنانیت اُن پر حاوی ہو گئی ہے، اُنہیں چاہئے کہ اپنے لئے ہمیشہ راہِ راست پر چلنے کے لئے دعائیں کریں۔ اپنے بزرگوں کے احسانوں کو یاد کریں جس میں سے سب سے بڑا احسان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مان کر ہمارے خون میں اس فیض کو جاری کرنا ہے۔ اللہ کرے کہ صحابہ کی اولادیں ہمیشہ دین پر قائم رہنے والی ہوں اور اُن کے لئے دعا کرنے والی ہوں، نہ یہ کہ کسی بھی قسم کا اعتراض اُن کے دل میں پیدا ہو۔

آج پھر مَیں اس چھوٹی سی تمہید کے بعد صحابہ کے واقعات بیان کروں گا۔

پہلا واقعہ اور روایت حضرت محمد فاضل صاحبؓ ولدنور محمد صاحب کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ایک رات بعدنماز عشاء میں نے مولوی صاحب (مولوی سلطان حامد صاحب) کی خدمت میں عرض کی کہ مولوی صاحب! یہ جو حضرت مرزا صاحب نے مہدویت اور مسیحیت کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر حقیقت میں یہ مدعی صادق ہو۔ درآنحالیکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو ہمارے وطن ہی میں مبعوث فرمایا ہے۔ اگر ہم اُن کی شناخت سے محروم رہ جائیں تو کیا ہم اتنی سی تکلیف بھی گوارا نہیں کر سکتے کہ وہاں جا کر اُن کی زیارت تو کریں (کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں ہمارے وطن میں مبعوث فرمایا ہے لیکن پھر بھی ہم شناخت سے محروم رہ جائیں اور کوئی تکلیف نہ کریں کہ اُن کی زیارت کریں۔ تو) مولوی صاحب چونکہ سلیم القلب اور حلیم الطبع تھے۔ (انہوں نے) سن کر جواباً فرمایا کہ ضرور جانا چاہئے۔ میں نے اُن سے واثق عہد لے لیا، (مضبوط عہد لے لیا)۔ مولوی صاحب چلے گئے اور میں سو رہا۔ (وہ تو اس کے بعد، عہد کرنے کے بعد میری بات سن کے چلے گئے لیکن مَیں سو گیا۔ مولوی صاحب اُس مجلس سے اُٹھ کے چلے گئے اور اُس کے بعد کہتے ہیں میں سو گیا۔ کہتے ہیں اُس وقت) میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بڑا خوشنما مکان ہے، اس کے غالباً چار دروازے ہیں اور اس کا رُخ جنوب کی طرف ہے اور اُس کی شرقی طرف ایک میدان ہے جس میں ایک بڑا مجمع معززین کا جو سفید پوش اور فلکی صفات معلوم ہوتے ہیں، حلقہ باندھ کر بیٹھے ہیں، اُن کی تعداد تقریباً یک صد سے تجاوز ہو گی۔ اُن کے درمیان مَیں بیٹھا ہوں۔ دفعتہ اس مکان کے شرقی دروازے سے ایک نورانی شکل سفید رِیش اور سفید دستار بُشروں کی چمک ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے، باہر نکلے اور اس جماعت کی طرف رُخ کیا ہے۔ تو اُس جماعت کے درمیان میں مَیں کھڑا ہوا ہوں۔ تو اُس نورانی وجودنے میری طرف انگشت شہادت کا اشارہ کر کے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے سارے گناہ بخش دئیے ہیں۔ معاً میرے دل میں ڈالا گیا کہ آپ یعنی وہ بزرگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ کہتے ہیں اس پر میری زبان پر درود شریف جاری ہو گیا اور میں بیدار ہو گیا اور میرے دل میں اس قدر سرور پیدا ہوا کہ پھر مجھے نیندنہ آئی۔ میں نے اُٹھ کر نماز تہجد پڑھ لی اور دل میں یہ کہا کہ کس وقت صبح ہو اور مَیں مولوی صاحب کو یہ خواب سناؤں۔ صبح کو جب مولوی صاحب تشریف لائے تو فراغتِ نماز کے بعد میں نے اُن کو یہ خواب سنایا تو انہوں نے سن کر فرمایا کہ تُو بڑا خوش قسمت ہے۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر7 صفحہ229-230 روایت حضرت محمد فاضل صاحبؓ)

حضرت شیخ اصغر علی صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ تبلیغ کے سلسلے میں لوگوں کو اس طرف توجہ دلانا بہت مفید ہوتا ہے کہ نمازِ عشاء کے بعد سونے سے پہلے تازہ وضو کرکے دو نفل پڑھے جاویں اور اُن میں دعا کی جاوے کہ اے ہمارے مولیٰ! اگر یہ سلسلہ سچا ہے تو ہم پر حقیقت ظاہر کر۔ کہتے ہیں کہ مَیں مشرقی افریقہ سن 1900ء میں ملازمت پر جاتے ہوئے اپنے ایک پرانے دوست مسمّٰی نیک محمد صاحب ساکن سرائے عالمگیر ضلع گجرات کو اپنے ملازم کی حیثیت سے ساتھ لے گیا تھا۔ اُن کو تبلیغ کرتے ہوئے میں نے یہ نسخہ بتایا جو اوپر بیان ہوا ہے۔ تو انہوں نے یہ عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے اُن کو خواب میں حسبِ ذیل نظارہ دکھایا کہ ’’وہ اپنے مکان واقع سرائے عالمگیر میں ہیں اور اُن کا والد مرحوم بھی ہے اور جس کوٹھڑی میں وہ ہیں وہ حد درجہ روشن ہو گئی ہے اور یہ نظر آ رہا ہے کہ آسمان سے نور کی ایک لہر چل رہی ہے جس نے کوٹھڑی میں نور ہی نور کر دیا ہے۔ اور معاً ایک بزرگ نہایت خوبصورت، پاکیزہ شکل ظاہر ہوتے ہیں اور بھائی نیک محمد صاحب کے والد بزرگوار اپنے بیٹے کی طرف مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ یہ امام مہدی ہیں۔ اور دونوں باپ بیٹا حضور سے ملے ہیں‘‘۔ ایسے خوشکُن نظارے کے بعد اُن کی نیند کھلی اور دن چڑھے انہوں نے مجھے یہ حال بتایا اور اُن کی بیعت کے واسطے خط لکھنے کے واسطے کہا۔ چنانچہ مَیں نے اُن کی بیعت کا خط لکھا۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے اُن کا سارا خاندان احمدی ہے۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر4 صفحہ167-168روایت حضرت شیخ اصغر علی صاحبؓ)

حضرت ماسٹر مولا بخش صاحبؓ ولد عمر بخش صاحب فرماتے ہیں کہ: مَیں مدرسہ سنگہونی ریاست پٹیالہ میں ہیڈماسٹر تھا۔ ماہ بھادوں (جو برسات کے بعد اگست کا مہینہ ہوتا ہے) کہتے ہیں اُس وقت موسمی تعطیلات ہوئیں۔ مجھے حضور کی خدمت میں حاضر ہونے کا شوق ہوا۔ میرا بچہ عبدالغفار مرحوم دو سال کا تھا۔ اُس کے بدن پر پھوڑے نکلے ہوئے تھے جو اچھے نہ ہوتے تھے۔ میں اُس کی پرواہ نہ کر کے وہاں سے چل پڑا اور سرہند کے مولوی محمد تقی صاحب کو ساتھ لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی۔ جب میں تقریباً ایک ماہ یہاں گزار کر گھر پہنچا تو مَیں نے لڑکے کو بالکل تندرست دیکھا۔ میری بیوی نے کہا کہ میں نے اس کو نہلانا چھوڑ دیا تھا، پھوڑے اچھے ہوگئے۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر7 صفحہ146روایت حضرت مولا بخش صاحبؓ)

حضرت قاضی محمد یوسف صاحبؓ فرماتے ہیں: مَیں نے 1898ء کے قریب ایک رؤیا دیکھی تھی کہ مَیں ایک بلند پہاڑ کی چوٹی پر رُو بہ مشرق کھڑا ہوں۔ میرے دونوں ہاتھ پوری وسعت کے ساتھ شانوں کے برابر پھیلے ہوئے ہیں اور میری دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر سورج کا زرّیں کُرّہ بلور کی طرح چمکدار موجود ہے اور چاند کا کُرّہ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر تین فٹ کی بلندی پر آ پہنچا ہے۔ مشرق سے ایک دریا پہاڑ سے جانب جنوب ہو کر گزرتا ہے اور دریا اور پہاڑ کے درمیان میں وسیع میدان اور سبزہ زار ہے۔ بعد میں یہ تعبیر کھلی کہ پہاڑ سے مراد عظمت اور رفعت ہے۔ سورج سے مراد حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور چاند سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بدرِ کامل ہیں۔ اور دریا سے مراد علومِ آسمانی ہیں جو مشرق کی طرف سے مغرب کو فیضیاب کر دیں گے اور چاند کا تین فٹ دور ہاتھ سے بلند ہونا ظاہر کرتا تھا کہ تین سال کے بعد احمدیت نصیب ہو گی‘‘۔ 1898ء میں خواب دیکھی تھی چنانچہ 1901ء میں اُن کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر7 صفحہ200-202 روایت حضرت قاضی محمد یوسف صاحبؓ)

حضرت شیخ محمد افضل صاحبؓ سابق انسپکٹر پولیس پٹیالہ فرماتے ہیں کہ سن 1900ء میں گرمی کا مہینہ تھا کہ ایک خادم مع ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے قادیان بارادہ بیعت گیا۔ مغرب کے قریب قادیان پہنچا۔ قادیان کے کچے مہمان خانے میں بستر رکھ کر مسجد مبارک میں گیا۔ حضرت مرزا صاحب نماز مغرب کے لئے اندرونِ خانہ سے تشریف لائے۔ چونکہ کچھ اندھیرا ہو گیا تھا، بہت فربہ معلوم ہوئے۔ کیونکہ خادم شہری آب و ہوا میں پرورش پایا ہے شیطان نے دل میں ڈالا۔ موٹا کیوں نہ ہو۔ (نعوذ باللہ)۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں ان کو خیالات آئے کیونکہ اندھیرے کی وجہ سے صحیح طرح نظر نہیں آیا۔ شیطان نے دل میں ڈالا کہ موٹے کیوں نہ ہوں۔ لوگوں کا ماس خوب کھاتے ہیں۔ پھر اندر سے بہت سی عورتوں کے بولنے کی آوازیں آئیں۔ پھر دل میں وسوسہ پیدا ہوا، شیطان نے ڈالا کہ اس کی نیک چلنی کا کیا پتہ ہے۔ نفس کے ساتھ سخت جدوجہد ہوئی کہ تمام بدن پسینہ پسینہ ہوگیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں نفس نئے سے نئے پلید خیالات لاتا تھا۔ میں نماز میں دعا کرتا رہا کہ اے خدا! اگر یہ شخص سچا ہے تو میں اس کے دروازہ سے نامراد اور ناکام واپس نہ جاؤں۔ مگر دل کی کوئی اصلاح نہ ہوئی۔ نماز کے بعد مہمان خانے میں واپس آ گیا اور فیصلہ کیا کہ ایسے حالات میں بیعت کرنا درست نہیں ہے۔ یہ یادنہیں کہ عشاء کی نماز پڑھی یا نہیں اور پڑھی تو کہاں پڑھی۔ مغموم حالت میں سو گیا۔ رات کے دو یا تین بجے کا وقت ہو گا کہ ایک شخص نے مجھ کو گلے سے پکڑ کر چارپائی سے کھڑا کر دیا۔ یعنی خواب میں یہ نظارہ دیکھ رہے ہیں۔ اور اس زور سے میرا گلا دبایا کہ جان نکلنے کے قریب ہو گئی اور کہا تُو نہیں جانتا کہ مرزا کون شخص ہے؟ یہ وہ شخص ہے جس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اپنے دعوے میں بالکل صادق ہے۔ خبردار اگر کچھ اور خیال کیا اور مجھ کو چارپائی پر دے مارا۔ اور کہتے ہیں کہ ایسی دہشت والی خواب تھی کہ خوفزدہ ہو کے میری آنکھ کھل گئی۔ اُس وقت میری آنکھوں میں آنسو تھے اور گلا سخت درد کر رہا تھا جیسے فی الواقعہ کسی نے دبایا ہو۔ حالانکہ یہ سب خوابی کیفیت تھی۔ دل سے دریافت کیا کہ اب بھی مرزا صاحب کی صداقت میں کوئی شبہ ہے۔ دل نے کہا بالکل نہیں۔ صبح کو مرزا صاحب کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ تو کوئی فرشتہ آسمان سے اُترا ہے اور معمولی بدن کا انسان ہے اور اس کی ہر حرکت پر جان قربان کرنے کو طبیعت چاہتی تھی۔ جب حضور علیہ السلام سامنے آ جاتے تھے، بے اختیار رونا آ جاتا تھا اور گویا حضور معشوق تھے اور یہ ناچیز عاشق۔ بڑی خوشی سے بیعت کی اور خدا نے شیطان کے پنجے سے چھڑا کر مسیح کے دروازے پر زبردستی لا ڈالا۔ ورنہ میرے بگڑنے میں کیا کسر باقی رہی تھی۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر7 صفحہ219-220روایت حضرت شیخ محمد افضل صاحبؓ)

حضرت قائم الدین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے گاؤں کی مسجد سے نماز پڑھ کر اُٹھا ہوں تو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ارے بھائی! ایک ایسی آفت آئی ہے کہ وہ تمام دنیا کو چَٹ کر جائے گی۔ میں بھی سن کر محسوس کر رہا ہوں کہ یہ تمام ہم لوگوں کو کھا جائے گی۔ سیاہ رنگ کی لکڑی سی ہے جو کہ تمام کھیتوں میں نظر آ رہی ہے۔ میں لوگوں کو کہتا ہوں کہ بھائی یہ تو ہم کو ضرور کھا جائے گی۔ کچھ خدا کو تو یاد کر لو۔ اُسی وقت (اُن آفتوں میں سے) ایک دو نے میرے دائیں ہاتھ کی انگلی پکڑ لی تو مجھے فکر ہوا کہ مجھے یہ نہیں چھوڑے گی۔ تو میں نے اس کیڑے سے پوچھا کہ کیا تم خدا کی طرف سے آئے ہو؟ اُس کیڑے نے انگلی پکڑ لی۔ اُس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا کیا مرزا صاحب سچے ہیں یا نہیں؟ اُس نے کہا وہ سچے ہیں۔ اگر تُو مرزا صاحب کو نہیں مانے گا تو ہم تمہیں ضرور کھائیں گے کیونکہ وہ صادق ہیں۔ بار بار تین دفعہ آواز آئی کہ مرزا صاحب سچے ہیں۔ پھر آنکھ کھل گئی۔ وہ پھر کہتے ہیں کہ صبح اُٹھ کر میں نے اپنی اماں سے پوچھا کہ جمعہ کب ہے؟ انہوں نے کہا: پرسوں۔ چنانچہ جمعہ کے دن جا کر حضرت صاحب کی مَیں نے بیعت کر لی۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر7 صفحہ367خواب حضرت قائم الدین صاحبؓ بروایت سردار خان گجراتی صاحب)

حضرت اللہ رکھا صاحبؓ ولد میاں امیر بخش صاحبؓ، یہ دونوں صحابی تھے، فرماتے ہیں کہ: مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خواب میں دیکھا۔ تصدیق خواب کے لئے مَیں مع مولوی احمد دین صاحب مرحوم ساکن نارووال قادیان آئے۔ گرمی کے دن تھے۔ مہینہ یادنہیں۔ مسجد مبارک میں نماز صبح کے بعد حضرت مسیح موعودؑ تشریف فرما ہوئے۔ مولوی احمد دین مرحوم ساکن نارووال نے اپنی ایک سہ حرفی جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ مبارک کے متعلق اور اُس زمانے کے لوگوں کی شرارتوں کے متعلق ذکر تھا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور پڑھی جس میں مولوی صاحب مذکور نے ذکر کیا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پیٹھ پر اُٹھا کر غارِ ثور میں لے گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُٹھا کر نہیں لے گئے تھے، بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ چل کر غار میں داخل ہوئے تھے۔ بعد اس کے حضرت صاحب نے اُن کی کاپی چھپوانے کی اجازت دی اور اندر تشریف لے گئے۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر7 صفحہ151روایت حضرت اللہ رکھاصاحبؓ)

حضرت محمد فاضل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چونکہ بیعت کے لئے میرے اندر بڑی تڑپ تھی اور اُدھر روحانیت حضرت اقدس علیہ السلام نے اس قدر دل میں تغیر پیدا کیا جس کا بیان اظہار سے بالا تر ہے۔ حضرت مخدوم الملّت کی خدمت میں مَیں نے عرض کی کہ میری بیعت کے لئے عرض کریں۔ (یعنی حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کو کہا)۔ چنانچہ ہر شام کی نمازمیں حضرت مخدوم الملّت میری بیعت کے لئے عرض کرتے (یعنی حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کو وہ کہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کریں ) اور حضور علیہ السلام فرماتے کہ کل۔ اس پر میرے شوق کی آگ بمصداق وعدہ، (فارسی کا شعر پڑھتے ہیں کہ)

وصل چوں شود نزدیک

آتشِ شوق تیز تَر گَرْدد

(یعنی جب محبوب سے ملنے کا وقت نزدیک آ جائے تو آتش شوق جو ہے وہ بھڑکتی جاتی ہے۔) کہتے ہیں آخر ہفتے کے بعد میری طبیعت نے یہ فیصلہ کیا کہ بیعت تو خواب میں بھی کر چکا ہوں۔ وہاں سے بغیر رخصت کے روانہ ہو گیا۔ (جب کچھ دن بیعت نہیں ہوئی تو میں نے کہا، بیعت تو میں خواب میں کر چکا ہوں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پوچھے بغیر میں واپس اپنے گھر، اپنے شہر آ گیا۔ کہتے ہیں جب یہاں گھر پہنچا تو پھر بیقراری اور اضطراب بڑھ گیا۔ پھر ایک ماہ کے بعد قادیان شریف روانہ ہو پڑا۔ جب میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے مطب میں داخل ہوا تو آپ نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ جو امام وقت کی بغیر اجازت کے جاتا ہے اُس کے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے۔ غرض میں نے اُس وقت سمجھا کہ بغیر اجازت امام الوقت جانا مناسب نہیں۔ پھر حضرت صاحب کو ملا۔ پھر میں نے بیعت کے لئے اصرار نہ کیا۔ دل میں برودت اور تسکین پیدا ہوتی گئی۔ آخر بائیس روز کے بعد شام کی نماز کے بعد جمعرات تھی، حضور نے خود فرمایا کہ محمد فاضل بیعت کرلو۔ میں نے بیعت کی اور یہ 1899ء کا آخر یا سن 1900ء کا ابتدا تھا۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر7 صفحہ233-234 روایت حضرت محمد فاضل صاحبؓ)

حضرت میاں غلام احمد صاحبؓ بافندہ بیان کرتے ہیں کہ ’’مَیں پہلے حنفی تھا، پھر وہابی ہوا مگر اطمینان نصیب نہ ہوا۔ دل میں خواہش رہتی تھی کہ خدا تعالیٰ حضرت امام مہدی کو مبعوث فرمائے تو اُس کی فوج میں شامل ہو جاؤں۔ ایک دفعہ خواب میں مجھے حضرت اقدس کی شبیہ مبارک دکھلائی گئی۔ مَیں قادیان گیا تو ہُو بہو وہی نقشہ دیکھا اور بیعت کر لی‘‘۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر10صفحہ103روایت حضرت میاں غلام محمد صاحبؓ بافندہ)

حضرت حکیم عبدالرحمن صاحبؓ بیان کرتے ہیں، (اپنے والد صاحب کے بارے میں بیان کیا) کہ اُن کے بیعت کرنے کا واقعہ اس طرح ہے کہ وہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ یہاں ایک مولوی علاؤ الدین صاحب رہا کرتے تھے۔ اُن کی یہاں قریب ہی ایک مسجد بھی ہے۔ میرے والد صاحب اُن کے پاس پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن عشاء کے وقت وضو کرتے کرتے میرے والد صاحب نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ مولوی صاحب، آجکل آسمان سے تارے بہت ٹوٹتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ مولوی صاحب نے کہا کہ امام مہدی آنے والا ہے۔ آسمان پر اُس کی آمد کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ چند دن کے بعد میں نے حضرت اقدس کا ذکر سنا اور قادیان جا کر بیعت کر لی۔ واپس آ کر مولوی صاحب کو بھی کہا کہ میں نے تو بیعت کر لی ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ مگر وہ خاموش ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد آہستہ سے بولے کہ میاں بات تو سچی ہے مگر ہم دنیادار جو ہوئے۔ (یعنی مولوی بھی ہیں، دنیا دار بھی)۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر10 صفحہ121-122روایت حضرت حکیم عبدالرحمن صاحبؓ)

حضرت میاں رحیم بخش صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ جس روز عبدالحق غزنوی کے ساتھ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مباہلہ امرتسر میں ہوا میرے والد صاحب اس مباہلہ میں موجود تھے۔ وہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ جس وقت حضرت صاحب نے دعا مانگی۔ حضرت مولانا نورالدین صاحب کو غشی آ گئی اور وہ برداشت نہ کر سکے۔ (یعنی انہوں نے بھی بہت رِقت سے اور شدت سے دعا کی تو اُس کی وجہ سے حالت خراب ہو گئی) والد صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب کو دیکھ کر میرے دل نے گواہی دی کہ یہ زمینی شخص نہیں بلکہ آسمانی ہے۔ چنانچہ وہ جب یہاں چونڈہ میں آئے تو انہوں نے آکر اپنے قبیلے میں اس سلسلے کا تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ تو کوئی عجیب ہی سلسلہ ہے۔ فرشتے لوگ ہیں۔ چنانچہ مَیں، میرے والد، میرے تایا بلکہ سارے خاندان نے ہی بیعت کر لی۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر10 صفحہ183روایت حضرت میاں رحیم بخش صاحبؓ)

حضرت چوہدری رحمت خان صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ میری بیعت کا واقعہ اس طرح ہے کہ خواب میں مَیں گھر سے نکلا تو باہر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بمع چوہدری مولابخش بھٹی، چوہدری غلام حسین، مولوی رحیم بخش، مولوی شمس الدین، مولوی الف دین، مولوی عنایت اللہ، رحمت خان جٹ وغیرہ کے ساتھ کھڑے تھے اور اُس وقت بازار سے آئے تھے۔ چوہدری مولا بخش صاحب نے مجھ سے کہا کہ اب بیعت کر لو۔ اس سے اچھا وقت اور کونسا ہو گا۔ حضرت صاحب خود یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں۔ مَیں ساتھ ہو گیا۔ یہ ساری پارٹی پہلے چوہدری مولا بخش کے کنوئیں پر گئی پھر ہمارے کنوئیں پر۔ وہاں حضرت صاحب نے نماز پڑھائی۔ نماز پڑھنے کے بعد میں بیدار ہو گیا۔ (خواب میں یہ نظارہ دیکھ رہے ہیں )۔ حضور کی شبیہ مبارک میرے دل میں اس طرح گڑ چکی تھی کہ کبھی بھول ہی نہیں سکتی تھی۔ صبح اُٹھ کر میں گھر آیا۔ کرایہ لے کر قادیان کا رُخ کیا اور بیعت کی اور تین دن وہاں ٹھہرا رہا۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر10صفحہ206 روایت حضرت چودھری رحمت خان صاحبؓ)

واقعات دیکھیں تو بعضوں کو بلکہ بہت سوں کو ہم نے دیکھا ہے، اس طرح لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خوابوں کے ذریعے پکڑ کے بیعت کروائی ہے۔

حضرت مولوی محمد عبداللہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے براہینِ احمدیہ 1892ء، 93ء میں پڑھی۔ میری طبیعت پر بڑا اثر ہوا۔ پھر میں حضرت صاحب کی تحریرات اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی تحریرات بالمقابل دیکھتا رہا۔ مولوی محمد حسین کے دلائل سے میں یہی سمجھتا رہا کہ یہ کمزور ہیں۔ ان کا میری طبیعت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ حضرت صاحب کے دلائل مضبوط بھی معلوم ہوتے تھے اور روحانیت بھی ظاہر ہوتی تھی۔ دن بدن محبت بڑھتی گئی اور میری طبیعت پر گہرا اثر ہوتا گیا۔ تحقیقات جاری رکھیں۔ خوابوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 1897ء میں مَیں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام میرے سامنے ہیں۔ میرا منہ مشرق کی طرف ہے۔ حضرت اقدس کا چہرہ مبارک میری طرف ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ حضرت صاحب کے دائیں طرف ہیں۔ اُس وقت میرے خیال میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی عمر آٹھ نو سال تھی۔ حضرت اقدس نے خلیفہ ثانی کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے فرمایا۔ وہ احمد جو آگے تھا وہ پیغمبر تھا (یعنی جو احمد پہلے تھا وہ پیغمبر تھا) اور متبع پیغمبر نہ تھا۔ (یعنی کسی کی اتباع میں نہیں آیا تھا) اور وہ احمد جو اَب ہے (اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے خلیفہ ثانی سے پوچھا کہ وہ احمد جو اَب ہے اُس سے مراد کون ہے؟ تو انہوں نے اشارہ کے ساتھ ہی سمجھایا کہ اس سے مراد آپ ہیں۔ ) متبع پیغمبر ہے۔ (یعنی یہ احمد جو ہے وہ پہلے احمد کی اتباع میں آیا ہے۔) اس کے بعد میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔ کچھ عرصہ بعد میں قادیان گیا اور دستی بیعت کی۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر10صفحہ218-219 روایت حضرت مولوی محمد عبداللہ صاحبؓ)

حضرت نظام الدین صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضور کوالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جناب سرورِ کائنات کی اکثر دور دراز کے علاقوں سے آیا کرتی تھی۔ (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو حدیث کے مطابق جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ناں کہ میرے مسیح کو جاکے سلام کہو تو یہ السلام علیکم کا پیغام اکثر دور دراز کے علاقوں کی طرف سے آیا کرتا تھا)۔ مگر کہتے ہیں مجھے یہی خیال رہا کرتا تھا، (فارسی میں انہوں نے مصرع پڑھا ہے) کہ

پِیراں نَمِے پَرَنْدْ مُریداں مِے پَرا نَنْد

(کہ پیر نہیں اُڑتے مگر جو مرید ہیں وہ اُنہیں اُڑا رہے ہوتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ان کی کوئی خوبی نہیں بلکہ یہ لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں تو اس وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اہمیت بن رہی ہے۔ کہتے ہیں) آخر جب مسجد اقصیٰ میں بہت زاری سے دعا کی، تب اللہ تعالیٰ کے صدقے قربان، ا ُس نے ایک خزانہ غیب کا اس عاجز پر کھول دیا کہ جس کے لکھنے سے ایک شیٹ کاغذ کی ضرورت ہے۔ تب بیعت کر لی اور امن اور تسکین ہو گئی۔ (کہتے ہیں جب زاری سے دعا کی تب اللہ تعالیٰ نے ایسا سینہ کھولا کہ تسکین ہوئی اور پھر میں نے بیعت کر لی۔ جو شیطانی خیالات تھے اور وساوس تھے وہ دُور ہو گئے)۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر13صفحہ413تا416 روایت حضرت نظام الدین صاحبؓ)

حضرت سید ولایت شاہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں 1897ء میں شہر سیالکوٹ کے امریکن مشن ہائی سکول کی پانچویں جماعت میں تعلیم حاصل کرتا تھا۔ پہلے بورڈنگ ہاؤس میں رہتا تھا۔ پھر اپنے انگریزی کے استاد کی سفارش پر آغا محمد باقر صاحب قزلباش رئیس کے ہاں اُن کے دو برادرانِ خورد کا ٹیوٹر مقرر ہوا اور ایک الگ چوبارہ رہائش کے واسطے دیا گیا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعاوی کی نسبت سنا ہوا تھا لیکن چونکہ یہ اپنے پرانے رسمی عقائد کے مطابق نہ تھے اس لئے تحقیق کی طرف بھی توجہ نہ دی۔ علاوہ ازیں عوام کچھ ایسے غلط پیرائے میں حضرت اقدس کی تعلیم پیش کرتے تھے کہ دل میں ان کو سننے سے بھی نفرت پیدا ہو گئی تھی۔ کچھ دنوں بعد شہر میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی اور کثرت سے لوگ مرنے لگے۔ ایک دن نیچے بازار میں دیکھا تو کئی جنازے اور ارتھیاں گزر رہی تھیں اور اُن کے لواحقین ماتم کرتے جا رہے تھے۔ اس عبرتناک نظارے سے مجھے خیال آیا کہ یہ ایک متعدی بیماری ہے۔ ممکن ہے کہ مجھ پر بھی حملہ کر دے اور اگر خدانخواستہ موت آ جائے تو مجھ جیسا نالائق انسان خداوند تعالیٰ کی بارگاہ میں کونسے نیک اعمال پیش کرے گا۔ پھر اعمال حسنہ تو ایک طرف رہے، چھوٹی سی عمر میں اپنے گاؤں کی مسجد میں پڑا ہوا قرآنِ کریم بسبب تلاوت نہ جاری رکھنے کے بھول چکا ہے۔ (یعنی نیکیاں تو علیحدہ رہیں جو بچپن میں قرآن شریف پڑھا تھا وہ بھی بھول گیا ہے کیونکہ اُس کے بعد کبھی پڑھا نہیں )۔ کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ میں اپنی کلاس میں اوّل ہوں لیکن عقبیٰ میں یہ تو نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے انگریزی اور حساب وغیرہ میں کتنے نمبر حاصل کئے۔ اس خیال سے اتنی ندامت محسوس ہوئی کہ دل میں مصمّم ارادہ کر لیا کہ قرآنِ شریف کو از سرِ نو کسی نہ کسی سے ضرور صحیح طور پر پڑھوں گا۔ پہلے خود قرآنِ کریم کو کھول کر پڑھا لیکن یقین نہ آیا کہ آیا میں بالکل صحیح پڑھ رہا ہوں (یا غلط ہے)۔ اس کے بعد سوچا کہ کسی مسجد کے مُلّاں سے پڑھوں لیکن ساتھ ہی یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ وہ کہے گا کہ تم اتنے بڑے ہو گئے ہو، قرآن شریف بھی پڑھنا نہیں جانتے۔ آخر کار یہ ترکیب سوجھی کہ اگر کہیں کلام اللہ کا درس دیا جاتا ہے تو وہاں جا کر مَیں بھی بیٹھ کر قرا ءت سنتا رہوں اور صحیح قرأت کے علاوہ ترجمہ بھی سیکھ جاؤں۔ ادھر اُدھر سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سوائے احمدیہ مسجد کے اور کہیں درس نہیں ہوتا۔ میں نے دل میں کہا کہ خیر قرآنِ کریم سن لیا کروں گا اُن کے عقائد اور تعلیم کے بارے میں بالکل توجہ نہیں دوں گا۔ جب میں جانے لگا تو آغا صاحب نے روکا اور کہنے لگے کہ اگر تم وہاں گئے تو ضرور مرزائی ہو جاؤ گے۔ میں نے اُن کو یقین دلایا کہ میں مرزائی بننے نہیں جا رہا، صرف قرآنِ شریف سننے جا رہا ہوں۔ وہ نہ مانے۔ لیکن اگلے دن موقع پا کر میں مسجد احمدیہ میں پہنچ گیا۔ حضرت میر حامد شاہ صاحب مرحوم اُن دنوں درس دیا کرتے تھے۔ میں بلا ناغہ ہر روز درس میں حاضر ہو جایا کرتا تھا اور حقائق و معارف سنتا رہتا تھا۔ جب کبھی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم قادیان سے آ کر درس دیتے تو اُن کے رُعب کی وجہ سے ہمارے غیر احمدی استاد بھی درس میں حاضر ہو جاتے تھے۔ گو مجھے خاص طور پر بھی تبلیغ نہیں کی گئی لیکن قرآنِ کریم کے درس کے دوران میں ہی میرے سب شکوک رفع ہو گئے اور معلوم ہو گیا کہ سلسلہ احمدیہ پر سب الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان میں ذرا بھی صداقت نہیں۔ آخر میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا۔ چند دنوں کے بعد منظوری کا جواب آ گیا اور میں خوش قسمتی سے احمدیت کی آغوش میں آگیا۔ میں تحدیثِ نعمت کے طور پر عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ نے مجھے شریف خاندان میں پیدا کیا۔ ڈاکٹری جیسا شریف پیشہ سیکھنے کی توفیق دی۔ میری اکثر دعائیں قبول فرمائیں۔ سب مرادیں پوری کیں۔ رزق دیا، اولاد دی اور سب سے بڑھ کر جو نعمت عطا فرمائی، وہ نبی آخر الزمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شناخت تھی جس سے احمدی بننے کا فخر حاصل ہوا۔ آغا صاحب کی بات سچی نکلی(جو انہوں نے کہا تھا نا کہ مرزائی ہو جاؤ گے) کہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ مَیں سیدھے رستے پر پڑ گیا۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلدنمبر1صفحہ173تا176 روایت حضرت سید ولایت شاہ صاحبؓ)

یہ چند واقعات تھے جو مَیں نے بیان کئے۔

اِس وقت مَیں یہ بات بھی کہنا چاہوں گا کہ جوں جوں جماعت ترقی کی منازل طے کر رہی ہے، حاسدوں کی اور مفسدین کی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی چلی جا رہی ہیں اور وہ مختلف طریقوں سے جماعت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ بعض دفعہ چھپ کر حملے کرتے ہیں، بعض دفعہ ظاہری حملے کرتے ہیں، بعض دفعہ ہمدرد بن کر وار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے ہر احمدی کو دشمن کے ہر قسم کے شر سے بچنے کے لئے بہت دعائیں کرنے کی ضرورت ہے۔ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ کی دعا۔ (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب ما یقول الرجل اذا خاف قوماً حدیث نمبر 1537)

رَبِّ کُلِّ شَیْئٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ۔ (تذکرہ صفحہ 363 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ)

اور اس طرح باقی دعائیں بھی۔ ثبات قدم کی دعا رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَاعَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ۔ (البقرۃ: 251)

یہ ساری دعائیں اور درود شریف بھی میں نے کہا تھا، اس کو بہت زیادہ پڑھنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم دشمن کے ہر قسم کے شر سے محفوظ رہیں۔ گزشتہ دنوں اسی طرح کسی فتنہ پرداز نے فیس بک (facebook) پر ایک طرف حضرت باوا نانک صاحبؒ کی تصویر بنا کر ڈالی اور ساتھ ہی دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصویر اور پھر نہایت گندی اور غلیظ سوچ کا اظہار کرتے ہوئے حضرت باوا نانک صاحبؒ کے متعلق انتہائی غلط اور گندے الفاظ استعمال کئے اور تصویر کے اوپر لکھے اور ساتھ اُس پر کاٹا بھی مارا ہوا تھا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق تعریفی کلمات لکھ کر پھر مقابلہ بھی کیا کہ یہ اصل ہے اور فلاں ہے فلاں ہے۔ اس فعل سے یقینا اُس کا مقصد اور نیت بد تھی اور فتنہ اور فساد پیدا کرنا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعریف اور مقام بتانا اُس کا مقصودنہیں تھا، بلکہ سِکھ حضرات کے جذبات بھڑکانا تھا۔ اور پھر اس سے بھی بڑا ظلم وہاں کی ایک اخبار نے کیا کہ اس طرح اُس نے شائع بھی کر دیا جس پر قادیان اور ارد گرد کے علاقوں میں بڑا اشتعال پیدا ہوا۔ بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ اُن کے لیڈروں نے عقل اور انصاف سے کام لیتے ہوئے اُن لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا کہ احمدی ایسی حرکت نہیں کر سکتے۔ یہ کسی شرارتی اور بدفطرت عنصر نے یقینا ہمیں لڑانے کے لئے ایسا کیا ہے۔ مجھے بھی قادیان سے بعض سِکھ خاندانوں کے سربراہوں کے خطوط آئے ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ کسی نے شرارت کی ہے اور جماعت احمدیہ کی طرف یہ منسوب کی گئی ہے۔ یعنی اظہار ایسا لگتا ہے جس طرح کسی احمدی نے لکھا ہے اور جماعت نے یہ اعلان شائع کروایا ہے لیکن جماعت کبھی ایسی بیہودہ حرکت نہیں کر سکتی۔ بہرحال اُن لوگوں نے بھی، اُن کی مختلف تنظیموں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے اور جماعت نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی تحقیق کروائی جائے اور مجرم کو سخت سزا دی جائے۔ جماعت احمدیہ کا تو ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ کبھی کسی کے جذبات سے نہ کھیلا جائے اور مذہبی رہنما تو ایک طرف ہم تو قرآنی تعلیمات کے مطابق ’دوسروں کے بتوں کو بھی برا نہ کہو‘ کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں۔ اور پھر حضرت باوا نانک صاحبؒ کا مقام اور عزت و احترام جو جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں ہے، اس کے بارے میں کھل کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تعریفی کلمات کہے ہوئے ہیں۔ اُن کے بارے میں تو کوئی حقیقی احمدی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایسے گھٹیا اور گندے کلمات کہے جائیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت باوا نانک صاحبؒ کے بارے میں ایک جگہ فرمایا ہے کہ: ’’ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے باوا صاحبؒ کو حق اور حق طلبی کی روح عطا کی جبکہ پنجاب میں روحانیت کم ہو چکی تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بلا شبہ اُن عارفوں میں سے تھے جو اندر ہی اندر ذات یکتا کی طرف کھینچے جاتے ہیں‘‘۔ (ست بچن روحانی خزائن جلد10صفحہ120)

پھر ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ: ’’ہر یک مومن متقی پر فرض ہے کہ اُن کو (یعنی حضرت باوا نانک صاحبؒ کو) عزت کی نگاہ سے دیکھے اور پاک جماعت کے رشتے میں اُن کو شامل سمجھے‘‘۔ (ست بچن روحانی خزائن جلد10صفحہ120)

پھر فرمایا کہ: ’’ہم کو اقرار کرنا چاہئے کہ باوا صاحبؒ نے اُس سچی روشنی پھیلانے میں جس کے لئے ہم خدمت میں لگے ہوئے ہیں، وہ مدد کی ہے کہ اگر ہم اُس کا شکر نہ کریں تو بلا شبہ ناسپاس ٹھہریں گے‘‘۔ (ست بچن روحانی خزائن جلد10صفحہ121)

پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے کام اور حضرت باوا نانک صاحبؒ کے کام کو ایک طرح کا قرار دیا ہے۔ پس بدبخت ہے وہ جو حضرت باوا نانک صاحبؒ کے خلاف غلط الفاظ استعمال کرے۔

پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ’’ہمارا انصاف ہمیں اس بات کے لئے مجبور کرتا ہے کہ ہم اقرار کریں کہ بیشک باوا نانک صاحبؒ اُن مقبول بندوں میں سے تھے جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے نور کی طرف کھینچا ہے‘‘۔ (ست بچن روحانی خزائن جلد10صفحہ115)

پھر آپ فرماتے ہیں: ’’مَیں سِکھ صاحبوں سے اس بات میں اتفاق رکھتا ہوں کہ باوا نانک صاحبؒ درحقیقت خدا تعالیٰ کے مقبول بندوں میں سے تھے‘‘۔ پھر آپ فرماتے ہیں اور اب یہ اعلان جماعت کی طرف سے شائع بھی ہوا ہے کہ: ’’باوا نانک صاحبؒ درحقیقت خدا کے مقبول بندوں میں سے تھے اور اُن لوگوں میں سے تھے جن پر الٰہی برکتیں نازل ہوتی ہیں اور خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے صاف کئے جاتے ہیں۔ مَیں اُن لوگوں کو شریر اور کمینہ سمجھتا ہوں جو ایسے بابرکت لوگوں کو توہین اور ناپاکی کے الفاظ سے یاد کریں‘‘۔ (ست بچن روحانی خزائن جلد10صفحہ111)

راجہ رام چندر جی مہاراج اور کرشن جی مہاراج سارے خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے مقدس وجود ہیں۔ پس یہ اعلان جس نے بھی شائع کیا ہے یا جس نے تصویر بنائی، اس نے یہ سب کچھ شرارت اور فسادپھیلانے کی غرض سے کیا۔ وہاں قادیان کی انتظامیہ نے اس کی پُرزور تردید اخباروں میں شائع کروائی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے نزدیک حضرت باوا نانک صاحبؒ کا مقام بہت بلند ہے اور ہم اُنہیں بڑی عزت و احترام سے دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے فساد اور شر سے قادیان کے احمدیوں کو بھی اور اُس کے ماحول کو بھی محفوظ رکھے اور دشمن اپنی شرارتوں میں ناکام و نامراد ہوں۔

اس وقت میں بعض فوت شدگان کا بھی ذکر کروں گا اور اُن کے جنازے بھی نماز جمعہ کے بعد پڑھاؤں گا۔ پہلا جنازہ مکرم عبدالرزاق بٹ صاحب کا ہے جو 6؍اکتوبر 2012ء کو 65سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا للَََّہِ وَ اِ نَّا اِ لَیْہِ رَاجِعُوْن۔ آپ مبلغ سلسلہ تھے۔ موصی تھے۔ ان کی نماز جنازہ احاطہ صدر انجمن احمدیہ میں ادا کی گئی۔ کسی دوائی کے غلط استعمال کی وجہ سے اُن کے دل پر اثر ہوا اور اُن کی وفات ہو گئی۔ ویسے تو اللہ کے فضل سے صحتمند ہی تھے۔ ان کے والد کا نام غلام محمد کشمیری تھا اور یہ گجرات کے رہنے والے تھے اور بچپن سے ہی ان کے والدنماز کے بڑے عادی تھے اور اس وجہ سے اپنے علاقے میں مولوی کہلاتے تھے۔ 1930ء میں انہوں نے بیعت کی تھی۔ جب انہوں نے بیعت کی تو ان کی اہلیہ ان کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ اُس وقت ان کی ایک غیر احمدی سہیلی نے ان سے پوچھا کہ کیا اُس نے احمدی ہو کے نمازیں پڑھنی چھوڑ دی ہیں؟ تو ان کی بیوی نے یعنی رزاق بٹ صاحب کی والدہ نے اُسے کہا کہ نہیں۔ نمازیں تو پہلے سے زیادہ پڑھنے لگ گئے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ پھر وہ کافر کس طرح ہو گیا۔ تو بہرحال پھر وہ واپس آ گئیں، نیک فطرت تھیں۔ عبدالرزاق بٹ صاحب نے ابتدائی تعلیم عالم گڑھ گجرات سے حاصل کی۔ پھر 1971ء میں جامعہ سے فارغ ہوئے اور بطور مربی سلسلہ پاکستان کی مختلف جگہوں میں خدمات سرانجام دیں۔ پھر 1975ء میں غانا میں ان کی تقرری ہوئی۔ وہاں یہ مختلف جگہوں پر رہے۔ 1979ء سے 1989 تک بطورِ پرنسپل احمدیہ مشنری ٹریننگ کالج خدمت کی توفیق پائی اور پھر 89ء میں یہ پاکستان آ گئے تھے۔ پاکستان میں مختلف جگہوں پر مربی رہے۔ پھر اصلاح و ارشاد مرکزیہ کے تحت تربیت نو مبائعین میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اصلاحی کمیٹی کے ممبر رہے اور اصلاحی کمیٹی میں بھی بڑے کامیاب تھے۔ ان کا سمجھانے کا انداز، بتانے کا انداز بڑا خوبصورت تھا۔ ان کی اہلیہ کے بھائی مبارک طاہر صاحب جو سیکرٹری نصرت جہاں ہیں وہ لکھتے ہیں کہ جب میری ہمشیرہ عزیزہ امۃالنور طاہر کے لئے بٹ صاحب کا رشتہ آیا تو میرے ابّا جان حضرت مولانا محمد منور صاحب نے، اس وقت جو سیکرٹری حدیقۃالمبشرین شیخ مبارک احمد صاحب ہوتے تھے، اُن سے مشورہ کیا کہ بتائیں ان کا (بٹ صاحب کا) فیلڈ میں کیسا کام ہے؟ تو شیخ صاحب نے بتایا کہ اچھا کام کر رہے ہیں۔ ان کی رپورٹس خوش کن ہیں اور تسلی بخش ہیں۔ کہتے ہیں بس اسی رپورٹ پر ابّا جان نے اس رشتہ کا فیصلہ کر لیا۔ کام تو فیلڈ میں مَیں نے دیکھا ہے۔ گھانا میں مَیں اُن کے ساتھ رہا ہوں۔ جس بے نفسی سے انہوں نے کام کیا ہے بہت کم مبلغین اس طرح کام کرتے ہیں۔ ان کا بیوی بچوں سے بڑا دوستانہ تعلق تھا۔ ہر جمعہ کو سب بیٹیوں کو دعوت پر بلایا کرتے تھے اور پھر سب کے ساتھ بیٹھ کے ٹی وی پر جمعہ کا خطبہ سنتے تھے۔ اور والدہ کی انہوں نے بڑی خدمت کی ہے۔ اپنے کامیاب وقف کا کریڈٹ بھی ہمیشہ اپنی والدہ کو دیتے تھے۔ ہمیشہ اپنے بچوں کو نمازوں اور دعاؤں کی تلقین کرتے رہتے۔ جو نمازیں پڑھنے والے بچے تھے، اُن سے زیادہ پیار اور محبت کا سلوک اور خوشی کا اظہار کرتے۔ ان کی پانچ چھ بچیاں تھیں۔ جب ان کی بچیوں کے رشتے آئے تو کوئی پوچھتا کہ کون لوگ ہیں، تو ان کو ہمیشہ انہوں نے یہی جواب دیا ہے اور اس میں عموماً ان لوگوں کے لئے بھی اس میں بڑا سبق ہے جو ضرورت سے زیادہ دنیاداری کو دیکھتے ہیں کہ لڑکا نمازیں پڑھتا ہے اور چندے دیتا ہے تو تمہیں اَور کیاچاہئے اور یہ بھی کہتے کہ اگر میری بچی کے نصیب ہیں تو خالی گھر بھی بھر دے گی اور اگر نصیب میں نہ ہوا تو پھر بہت ساری لڑکیاں ایسی ہیں جو بھرے ہوئے گھر بھی خالی کر دیتی ہیں۔ خلافت سے بڑی گہری محبت تھی۔ ان کے بیٹے کو کسی وجہ سے تعزیر ہو گئی تو جب تک اُس کی معافی نہیں ہوئی اُس سے بات نہیں کی اور یہ کہتے تھے کہ جس سے خلیفۂ وقت ناراض ہے تو مَیں اُسے کس طرح گوارا کر لوں۔ یہاں بھی 2009ء میں آئے ہیں۔ ان کے بیٹے کو سزا تھی تو مجھ سے کبھی ہلکا سا بھی ذکر نہیں کیا۔ اشارۃً بھی بات نہیں کی کہ اُس کو معاف کر دیں یا کیا صحیح ہے یا غلط ہے۔ بس یہی کہا کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ اُس کو عقل دے۔ ہمیشہ نظام جماعت اور خلافت کے پابند رہے اور بچوں کو اسی کی تلقین کرتے رہے۔ خطبے بڑی باقاعدگی سے سننے والے تھے، جیسا کہ میں نے کہا۔ اس دوران میں کوئی بچہ شور بھی کرتا تو بڑا بُرا مناتے۔ بیماری کی حالت میں بھی عموماً چھٹی نہیں لیا کرتے تھے۔ اگر کوئی چھٹی کا کہتا تو کہتے جب دفتر جاؤں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا۔ اگر بچے کبھی مطالبہ کرتے کہ چھٹیاں ہیں، سیر پر لے جائیں تو کہتے تھے میری تو ساری زندگی جماعت کیلئے وقف ہے۔ اور یہ فقرہ یقینا اُن کا سطحی فقرہ نہیں تھا۔ انہوں نے ہر لمحہ جماعت کی خدمت کے لئے وقف کیا ہوا تھا اور اس کو انہوں نے کر کے بھی دکھایا۔

افریقہ میں جیسا کہ میں نے ذکر کیا مَیں ان کے ساتھ رہا ہوں۔ اُس وقت کے جو حالات تھے وہ آجکل کے نہیں ہیں۔ بڑے تنگ حالات ہوتے تھے۔ لیکن بڑی خوشی سے انہوں نے وہاں اپنے دن گزارے ہیں۔ بیمار بہت زیادہ ہوتے رہے۔ ملیریا ہو جاتا تھا۔ ہسپتالوں میں داخل ہوتے رہے، لیکن جب بھی ٹھیک ہوتے فوراً اپنا کام شروع کر دیتے اور وہاں بھی محبت اور پیار کی وجہ سے لوگ ان کے بہت قائل تھے۔ میں بھی جب وہاں گیا ہوں تو یہ پہلے سے وہاں مشنری تھے۔ اس کے بعد انہوں نے بہت کچھ وہاں کے حالات کے بارے میں اور بہت ساری چیزوں کے بارے میں مجھے بتایا، سمجھایا۔ اس طرح میری کافی رہنمائی کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے پیار اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔ ان پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ اپنے پیاروں میں ان کو جگہ دے۔ ان کی اہلیہ اور بچوں کو بھی صبر اور حوصلہ اور ہمت عطا فرمائے۔ ایک بیٹی ان کی سیرالیون میں ایک مربی سلسلہ ہیں اُن کی اہلیہ ہیں، وہ جنازے میں شامل نہیں ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ اُن سب کو صبر اور ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔

دوسرا جنازہ جو اس وقت مَیں پڑھوں گا مکرمہ ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ کا ہے۔ 75سال کی عمر میں 8؍اکتوبر 2012ء کو کینیڈا میں وفات پائی۔ اِ نَّا لِلّٰہِ وَ اِ نَّا اِ لَیْہِ رَاجِعُوْن۔ 1964ء میں انہوں نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا۔ ہاؤس جاب کرنے کے بعد ترقی کے کافی مواقع تھے مگر فضل عمر ہسپتال ربوہ میں گائنی کے شعبہ میں ڈاکٹر کی ضرورت تھی، اس لئے وہاں چلی گئیں اور 1965ء سے فضل عمر ہسپتال جوائن کر لیا۔ ان کا خدمت کا عرصہ بڑا لمبا ہے اور ان کی خدمات کے قصے پڑھنے لگو تو شاید پورا ایک خطبہ بلکہ اس سے بھی زیادہ چاہئے ہوگا۔ 1964ء میں ایچی سن ہسپتال لاہور میں ہاؤس جاب کر رہی تھیں کہ اس دوران انگلینڈ میں جاب کے لئے درخواست دی جس پر ان کو ایمپلائمنٹ واچر مل گیا۔ ٹکٹ کا انتظام بھی ہو گیا۔ انگلینڈ جانے کی تیاریاں مکمل تھیں کہ اگلے دن الفضل گھر پر آیا تو اس میں فضل عمر ہسپتال ربوہ میں لیڈی ڈاکٹر کی آسامی کا اشتہار دیکھا۔ ساتھ ہی حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا پیغام بھی تھا کہ اگر کوئی احمدی لیڈی ڈاکٹر نہیں آتی تو فضل عمر ہسپتال میں کسی عیسائی ڈاکٹر کا انتظام کر لیں۔ انہوں نے لندن جانے کا پروگرام کینسل کیا۔ باوجود گھر میں سفید پوشی کے اور دس بہن بھائی تھے۔ والد ان کے سیکشن افسر تھے لیکن بہر حال مالی تنگی تھی اور والدنے بھی ادھار لے کر ان کو ایم بی بی ایس کروایا تھا۔ ان حالات کے باوجود اُسی دن لاہور سے ربوہ آنے کے لئے تیاری شروع کر دی۔ اپنے ہسپتال جہاں ہاؤس جاب کر رہی تھیں، وہاں جا کر اپنی ایم ایس سے اجازت طلب کی۔ ایم ایس نے پوچھا کہ وہ کس لئے جارہی ہیں؟ تمہیں وہاں تنخواہ کیا ملے گی؟ تو ڈاکٹر فہمیدہ صاحبہ نے بتایا کہ شاید 230 روپے ماہانہ الاؤنس ملے گا تو ایم ایس نے کہا میں تمہیں ساڑے پانچ سو روپے دلواتی ہوں۔ لاہور چھوڑ کر نہ جاؤ۔ تمہارا مستقبل بھی اس ہاؤس جاب سے وابستہ ہے۔ مگر انہوں نے یہ آفر بھی منظور نہ کی اور کہا کہ میں پیسوں کی خاطر نہیں جا رہی۔ میرے پاس تو انگلینڈ کا ایمپلائمنٹ واچر بھی موجود ہے، ٹکٹ کا انتظام بھی ہے اور وہاں داخلہ بھی ہو چکا ہے۔ مگر میں یہ سب کچھ چھوڑ کر ربوہ جا رہی ہوں۔ اس پر ایم ایس نے جواب دیا کہ آپ بہت عظیم عورت ہیں۔ اپنی جماعت کی خاطر اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ ایم ایس نے ان کو اپنی بہترین ہاؤس جاب اسسٹنٹ کا سرٹیفکیٹ دیا۔ اور یوں 1964ء میں وہ ربوہ آ گئیں اور 1984ء تک فضل عمر ہسپتال میں بطور لیڈی ڈاکٹر کے خدمت کی توفیق پائی۔ ربوہ میں اُس زمانے میں لیڈی ڈاکٹر کوئی نہیں تھی بلکہ ارد گرد کے علاقوں میں کوئی نہیں تھی اور بڑا وسیع کیچمنٹ ایریا تھا جس کو انہوں نے اکیلے ہی اپنے زمانے میں بھگتایا۔ سردی ہو یا گرمی رات کو بھی دو یا تین بجے کسی بھی وقت کوئی مریض آتا تو فوراً بستر چھوڑ کر مریض دیکھنے چلی جاتیں۔ یہ بھی ان کے بارے میں بیان ہوتا ہے کہ ولیمہ والے دن دلہن بن کے سٹیج پر بیٹھی تھیں کہ ہسپتال سے کال آ گئی کہ ایمرجینسی (Emergency) آئی ہے۔ اپنے اُسی لباس میں وہاں سے اُٹھیں اور ہسپتال چلی گئیں اور مہمانوں نے ان کے بغیر ہی بعد میں کھانا کھا لیا۔ بہرحال یہ قربانی کی روح تھی۔ اور انہوں نے وقف کی روح کے ساتھ اپنے اس خدمت کے عہد کو نبھایا۔ اللہ تعالیٰ باقی واقفین کو بھی اس نمونے کو قائم رکھنے کی توفیق دے۔

غریبوں کی بڑی مدد کیا کرتی تھیں۔ ان کا مفت علاج کر دیا کرتی تھیں۔ وہاں علاقے میں رواج ہے، لوگ جھوٹ بول کے اپنی مشکل بیان کر دیتے ہیں تو کبھی یہ نہیں کہا کہ تم جھوٹی سچی ہو، تحقیق کروں گی۔ جو کسی نے کہا اعتبار کر لیا اور مفت علاج بھی کیا اور ساتھ دوائیاں بھی دے دیں۔ ان کے میاں کہتے ہیں کہ کئی دفعہ اس طرح ہوا کہ وہ رات ہسپتال میں گزارتی تھیں۔ صبح میاں کام پر جا رہے ہوتے تھے اور وہ ہسپتال سے واپس آرہی ہوتی تھیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے ایک دفعہ مجلس شوریٰ میں ان کے پردہ کی بھی مثال دی تھی کہ کسی نے پردہ میں رہ کر کام کرنا سیکھنا ہے تو ڈاکٹر فہمیدہ سے سیکھیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے بھی ان کے متعلق فرمایا کہ بڑی قربانی کرنے والی عورت ہیں اور بہت کم لوگوں کو ایسی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ جب انہوں نے 1964ء میں ہسپتال جائن (join) کیا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو ملنے گئیں تو حضرت چھوٹی آپا اُمّ متین صاحبہ وہاں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ فضل عمر ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر آ گئی ہے تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے فوراً الحمد للہ کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں۔ ایک دفعہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی خدمت میں ملاقات کے دوران کہا کہ میں اعتکاف بیٹھنا چاہتی ہوں تو انہوں نے فرمایا: میرے مریض دیکھو۔ مَیں تمہارے لئے بہت دعائیں کروں گا۔ آپ کا اعتکاف یہی ہے۔ خلافت سے ان کو بڑا تعلق تھا اور بڑی باحوصلہ خاتون تھیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کو ان کی شاعری بھی بہت پسند تھی اور صرف ڈاکٹر نہیں تھیں بلکہ شاعرہ بھی تھیں اور بڑی اچھی شاعرہ تھیں۔ بے ساختگی بھی تھی اور پختگی بھی تھی، دلی جذبات بھی تھے۔ سات شعری مجموعے ان کے چھپ چکے ہیں۔ خلیفۃ المسیح الرابعؒ جب یہاں آئے ہیں تو ایک دفعہ یہاں ہجرت کے بعد انہوں نے اپنی نظم بھیجی اور اُس کا ایک شعر تھا کہ

گھر پہ تالا پڑا ہے مدّت سے

اُس سے کہہ دو کہ اپنے گھر آئے

تو حضور رحمہ اللہ نے اس شعر کو بڑا سراہا۔ اس کا ذکر فرمایا کہ ڈاکٹر فہمیدہ کا یہ بڑی بوڑھیوں کے سے انداز سے ڈانٹنا مجھے بڑا پسند آیا ہے۔ ہمیشہ اپنے بچوں کو نصیحت کی، بہن بھائیوں کو نصیحت کی کہ اگر دنیا میں عزت چاہتے ہو تو خلافت سے ایسے وابستہ ہو جاؤ کہ اپنی ہستی کو اس راہ میں مٹا دو۔ ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ جو اس وقت فضل عمر ہسپتال میں انچارج ڈاکٹر ہیں، وہ کہتی ہیں کہ یہ بہت متحمل مزاج اور خوش اخلاق ڈاکٹر تھیں۔ اُس وقت نامساعد حالات تھے۔ سہولتیں بھی موجودنہیں تھیں لیکن انتہائی لگن اور محنت سے انہوں نے کام کیا۔ اپنے کام میں اعلیٰ درجہ کی مہارت تھی۔ مریضوں کے ساتھ بہت مروّت اور محبت کا سلوک تھا اور ان کے مریض ان کو آج بھی یاد رکھتے ہیں۔ اِس وقت ڈاکٹر نصرت جہاں وہاں ہیں اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے وقف کی رو سے کام کررہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کی بھی عمر و صحت میں برکت ڈالے اور فضل عمر ہسپتال میں ڈاکٹروں کی جو کمی ہے اُس کو پورا کرے اور یہ جو چند ڈاکٹر وہاں ہیں، ان کے ہاتھ میں شفا بھی عطا فرمائے اور ان کو ہمت اور حوصلہ بھی عطا فرمائے۔ یہ ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ بھی دعاؤں کی محتاج ہیں۔ ایک دفعہ وہاں شعروں کا مقابلہ ہوا۔ نظمیں لکھنے کا مقابلہ تھا اور ایک مصرعہ دیا گیا۔ اُس میں نام پتہ وغیرہ بھی لکھنا تھا۔ ان کی یہ عادت تھی کہ کافی عاجز تھیں تو انہوں نے اس کے آخر میں نام پتہ کی جگہ پر لکھا کہ ’’خدمتِ خلق، لکھنا لکھانا، خانہ داری، دعائے خاتمہ بالخیر‘‘۔ یہ صرف الفاظ ہی نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ میں نے کہا یہ بے نفس خاتون تھیں اور انہوں نے بڑی بے نفس خدمت کی ہے۔ اپنی زندگی کا خلاصہ انہوں نے بیان کیا اور یقینا یہ خدمتِ خلق کرنے والی تھیں اور گھریلو ذمہ داریوں کو نبھانے والی تھیں۔ آخرت پر نظر رکھنے والی تھیں۔ بڑی نافع الناس وجود تھیں اور ان کا خاتمہ بھی مَیں سمجھتا ہوں خاتمہ بالخیر ہی ہوا ہے۔ کیونکہ حدیث کے مطابق جب لوگ کسی کی تعریف کریں تو جنت اُس پر واجب ہو جاتی ہے اور یہ اُنہی لوگوں میں سے ایک تھیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیاں اپنانے اور جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان کے خاوند کو بھی صبر اور ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔

تیسرا جنازہ جو ابھی جمعہ کے بعد پڑھایا جائے گا وہ مکرمہ ناصرہ بنت ظریف صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر عقیل بن عبدالقادر صاحب شہید آف حیدرآباد کا ہے جو آجکل ناروے میں تھیں۔ 23؍ستمبر 2012ء کو ان کی وفات ہوئی۔ اِ نَّا لِلّٰہِ وَ اِ نَّا اِ لَیْہِ رَاجِعُوْن۔ ان کی والدہ فاطمہ جمیلہ صاحبہ حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ ان کے ابّا مکرم محمد ظریف صاحب مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے تیرہ برس کی عمر میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اور اس کی وجہ سے انہیں چھوٹی سی عمر میں بھی بہت سی مشکلیں اور صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ مرحومہ کی شادی 1949ء میں محترم ڈاکٹر عقیل بن عبدالقادر صاحب سے ہوئی جو حضرت پروفیسر عبدالقادر صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیٹے تھے اور حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے بڑے بھائی تھے۔ بہت مہمان نواز خاتون تھیں۔ اپنے شوہر ڈاکٹر عقیل بن عبدالقادر صاحب کے ہاں آنے والے بیشمار مہمانوں اور عزیزوں کی دل و جان سے خدمت کرتی تھیں۔ نمازوں کی پابند، تہجد گزار، خوش مزاج، صاف دل، غریبوں کی ہمدرد اور علم دوست خاتون تھیں۔ یہ خاندان بھی ماشاء اللہ علم دوست ہے۔ اسی کوشش میں رہتی تھیں کہ حاجتمندوں کی ضرورت پوری کی جائے۔ اُن کی مدد کی جائے اور اُن کو اظہار بھی نہ کرنا پڑے۔ ہر کام سیکھنے کا شوق تھا۔ آپ نے ادب کا امتحان پاس کیا ہوا تھا۔ بچوں کو بھی اعلیٰ تعلیم دلوانے کی کوشش کی۔ 1985ء میں اپنے شوہر کی شہادت سے پیدا ہونے والے حالات کے باعث 1987ء میں اُنہیں ناروے ہجرت کرنا پڑی۔ اگرچہ اُن کی عمر ساٹھ برس کی تھی اور ہائی بلڈ پریشر کی مریضہ بھی تھیں لیکن اس کے باوجودنارویجین زبان سیکھنے کی کوشش کی۔ جماعت اور خلافت سے بہت محبت رکھتی تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحریرات اور جماعت کا لٹریچر ہر وقت زیرِ مطالعہ رہتا تھا۔ چندوں کی بروقت ادائیگی کا خیال رکھتی تھیں۔ ان کے دو بیٹے ڈاکٹر ہیں۔ ایک بیٹی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بچوں کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 12؍ اکتوبر 2012ء شہ سرخیاں

    صحابہ کے خاندانوں کے بعض افراد جو جماعت سے دُور ہٹ جاتے ہیں، وہ بعض افرادِ جماعت یا عہدیداروں وغیرہ کے رویہ کی وجہ سے دُور ہٹتے ہیں اور پھر نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہمارے بزرگ غلط تھے۔ پس ایسے لوگوں کو ذرا ذرا سی بات پر زُود رنجی دکھانے کی بجائے اپنے لئے بھی خدا تعالیٰ سے ہدایت پر قائم رہنے کی دعا مانگنی چاہئے اور جو لوگ وجہ بن رہے ہیں اُن کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے۔

    اپنے بزرگوں کے احسانوں کو یاد کریں جس میں سے سب سے بڑا احسان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مان کر ہمارے خون میں اس فیض کو جاری کرنا ہے۔ اللہ کرے کہ صحابہ کی اولادیں ہمیشہ دین پر قائم رہنے والی ہوں اور اُن کے لئے دعا کرنے والی ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض صحابہ کی روایات کا ایمان افروز تذکرہ۔

    جوں جوں جماعت ترقی کی منازل طے کر رہی ہے، حاسدوں کی اور مفسدین کی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی چلی جا رہی ہیں اور وہ مختلف طریقوں سے جماعت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ بعض دفعہ چھپ کر حملے کرتے ہیں۔ بعض دفعہ ظاہری حملے کرتے ہیں۔ بعض دفعہ ہمدرد بن کر وار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے ہر احمدی کو دشمن کے ہر قسم کے شر سے بچنے کے لئے بہت دعائیں کرنے کی ضرورت ہے۔

    کسی بدفطرت فتنہ پرداز کی طرف سے فیس بُک پر حضرت باوا نانک صاحبؒ کی تصویر پر غلیظ فقرات لکھ کر اشتعال انگیزی کی نہایت مکروہ اور مذموم حرکت۔

    جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے ہمارے نزدیک حضرت باوا نانکؒ کا مقام بہت بلند ہے اور ہم اُنہیں بڑی عزت و احترام سے دیکھتے ہیں۔

    مکرم عبدالرزاق بٹ صاحب، مکرمہ ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ اور مکرمہ ناصرہ بنت ظریف صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر عقیل بن عبدالقادر صاحب شہید کی وفات، مرحومین کا ذکرخیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 12؍ستمبر 2012ء بمطابق 12؍اخاء 1391 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح۔ مورڈن۔ لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور