وقف نو

خطبہ جمعہ 18؍ جنوری 2013ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اِذْ قَالَتِ امْرَ اَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّراً فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم(آل عمران: 36)

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیٓ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی۔ قَالَ یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ اِنْشَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ(الصفت: 103)

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ۔ وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ (آل عمران: 103)

وَ مَا کَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِیَنۡفِرُوۡا کَآفَّۃً ؕ فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَحۡذَرُوۡنَ(التوبہ: 122)

ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ:

جب عمران کی ایک عورت نے کہا اے میرے ربّ! جو کچھ بھی میرے پیٹ میں ہے یقینا وہ میں نے تیری نذر کر دیادنیا کے جھمیلوں سے آزاد کرتے ہوئے۔ پس تُو مجھ سے قبول کر لے۔ یقینا تُو ہی بہت سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔

پس جب وہ اس کے ساتھ دوڑنے پھرنے کی عمرکو پہنچا۔ اس نے کہا اے میرے پیارے بیٹے! یقینا میں سوتے میں دیکھا کرتا ہوں کہ مَیں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ پس غور کر تیری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا اے میرے باپ! وہی کر جو تجھے حکم دیا جاتاہے۔ یقینا اگر اللہ چاہے گا تُو مجھے تو صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔

اور چاہئے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو۔ وہ بھلائی کی طرف بلاتے رہیں اور نیکی کی تعلیم دیں اور بدیوں سے روکیں۔ اور یہی ہیں وہ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔ مومنوں کے لئے ممکن نہیں کہ وہ تمام کے تمام اکٹھے نکل کھڑے ہوں۔ پس ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ان کے ہر فرقہ میں سے ایک گروہ نکل کھڑا ہو تاکہ وہ دین کا فہم حاصل کریں اور وہ اپنی قوم کو خبردار کریں جب وہ ان کی طرف واپس لوٹیں تاکہ شاید وہ ہلاکت سے بچ جائیں۔ یہ آیات سورۃ آل عمران، سورۃ توبہ اور سورۃ الصافات کی آیات ہیں۔ ان آیات میں ماں کی خواہش، ماں باپ کی بچوں کی صحیح تربیت، بچوں کے احساسِ قربانی کو اجاگر کرنا اور اس کے لئے تیار کرنا، وقفِ زندگی کی اہمیت اور کام اور پھر یہ کہ یہ سب کچھ کرنے کا مقصد کیا ہے؟ یہ بیان کیا گیا ہے۔

پہلی آیت جو سورۃ آل عمران کی ہے، یہ چھتیسویں آیت ہے۔ اس میں ایک ماں کا بچے کو دین کی خاطر وقف کرنے کی خواہش کا اظہار ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس کو قبول کر لے۔

پھر سورۃ صافات کی آیت 103 ہے جو اس کے بعد مَیں نے تلاوت کی ہے۔ اس میں خدا تعالیٰ کی خاطر قربانی کے لئے تیار کرنے کی خاطر باپ کا بیٹے کی تربیت کرنا اور بیٹے کا خدا تعالیٰ کی خاطرہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہونے کا ذکر ہے۔ باپ کی تربیت نے بیٹے کو خدا تعالیٰ کی رضا کے ساتھ جوڑ دیا اور بیٹے نے کہاکہ اے باپ! تُو ہر قسم کی قربانی کرنے میں مجھے ہمیشہ تیار پائے گا اور نہ صرف تیار پائے گا بلکہ صبر و استقامت کے اعلیٰ نمونے قائم کرنے والا پائے گا۔

پھر سورۃ آلِ عمران کی آیت 105 مَیں نے تلاوت کی جس میں نیکیوں کے پھیلانے اور پھیلاتے چلے جانے والے اور بدیوں سے روکنے والے گروہ کا ذکر ہے۔ کیونکہ یہی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بن کر ایک انسان کوکامیاب کرتی ہیں۔ پھر سورۃ توبہ کی 122 ویں آیت ہے جو مَیں نے آخر میں تلاوت کی ہے۔ اس میں فرمایا کہ نیکی بدی کی پہچان کے لئے دین کا فہم حاصل کرنا ضروری ہے۔ اور دین کا فہم کیا ہے؟ یہ شریعتِ اسلامی ہے یا قرآنِ کریم ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا (المائدہ: 4)۔ اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ کی پسند حاصل کرنے کے لئے قرآنِ کریم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ سب کچھ کرنے کا مقصد کیا ہے؟ وہ یہ بیان فرمایا کہ تا کہ تم دنیا کو ہلاکت سے بچانے والے بن سکو۔ پس یہ وہ مضمون ہے جس کا حق ادا کرنے کے لئے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے سے جماعت احمدیہ کا قیام فرمایا۔ یہی وہ جماعت ہے جس میں بچے کی پیدائش سے پہلے ماؤں کی دعائیں بھی ہمیں صرف اس جذبے کے ساتھ نظر آتی ہیں، اس جذبے کو لئے ہوئے نظر آتی ہیں کہ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ (آل عمران: 36)۔ اے میرے رب! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے، تیری نذر کرتی ہوں۔ آزاد کرتے ہوئے (یعنی دنیا کے جھمیلوں سے آزاد کرتے ہوئے) پس تُو اسے قبول فرما۔ آج آپ نظر دوڑا کر دیکھ لیں، سوائے جماعت احمدیہ کی ماؤں کے کوئی اس جذبے سے بچے کی پیدائش سے پہلے اپنے بچوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے پیش کرنے کی دعا نہیں کرتے۔ کوئی ماں آج احمدی ماں کے علاوہ ہمیں نہیں ملے گی جو یہ جذبہ رکھتی ہو، چاہے وہ ماں پاکستان کی رہنے والی ہے، یا ہندوستان کی ہے، یا ایشیا کے کسی ملک کی رہنے والی ہے یا افریقہ کی ہے، یورپ کی رہنے والی ہے یا امریکہ کی ہے۔ آسٹریلیا کی رہنے والی ہے یا جزائر کی ہے۔ جو اس ایک اہم مقصد کے لئے اپنے بچوں کو خلیفۂ وقت کو پیش کر کے پھر خدا تعالیٰ سے یہ دعا نہ کر رہی ہو کہ اے اللہ تعالیٰ! ہمارا یہ وقف قبول فرما لے۔ یہ دعا کرنے والی تمام دنیا میں صرف اور صرف احمدی عورت نظر آتی ہے۔ اُن کو یہ فکر ہوتی ہے کہ خلیفۂ وقت کہیں ہماری درخواست کا انکار نہ کر دے اور یہ صورت کہیں اور پیدا ہو بھی نہیں سکتی۔ یہ جذبہ کہیں اور پیدا ہو بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ خلافت کے سائے تلے رہنے والی یہی ایک جماعت ہے جس کو خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق کے ذریعہ سے قائم فرمایا ہے اور پھر اس پر بس نہیں، جماعت احمدیہ میں ہی وہ باپ بھی ہیں جو اپنے بچوں کی اس نہج پر تربیت کرتے ہیں کہ بچہ جوانی میں قدم رکھ کر ہر قربانی کے لئے تیار ہوتا ہے اور خلیفۂ وقت کو لکھتا ہے کہ پہلا عہد میرے ماں باپ کا تھا، دوسرا عہد اب میرا ہے۔ آپ جہاں چاہیں مجھے قربانی کے لئے بھیج دیں۔ آپ مجھے ہمیشہ صبر کرنے والوں اور استقامت دکھانے والوں میں پائیں گے اور اپنے ماں باپ کے عہد سے پیچھے نہ ہٹنے والوں میں پائیں گے۔ یہ وہ بچے ہیں جو اُمّتِ محمدیہ کے باوفا فرد کہلانے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت میں ہونے کا حق ادا کرنے والے ہیں۔ ماں باپ کی تربیت اور بچے کی نیک فطرت نے اُنہیں حقوق اللہ کی ادائیگی کے بھی رموز سکھائے ہیں اور حقوق العباد کی ادائیگی کے بھی معیار سکھائے ہیں۔ جنہیں دین کا فہم حاصل کرنے کا بھی شوق پیدا ہوا ہے اور اُسے اپنی زندگی پر لاگو کرنے کی طرف توجہ بھی پیدا ہوئی ہے اور پھر اس کے ساتھ تبلیغِ اسلام اور خدمتِ انسانیت کے لئے ایک جوش اور جذبہ بھی پیدا ہوا۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ زندہ قومیں اور ترقی کرنے والی جماعتیں ان احساسات، ان خیالات، ان جذبوں اور ان عہد پورا کرنے کی پابندیوں کو کبھی مرنے نہیں دیتیں۔ ان جذبوں کو تروتازہ رکھنے کے لئے ہمیشہ ان باتوں کی جگالی کرتی رہتی ہیں۔ اگر کہیں سستیاں پیدا ہو رہی ہوں تو اُن کو دور کرنے کے لئے لائحہ عمل بھی ترتیب دیتی ہیں۔ اور خلافت کے منصب کا تو کام ہی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم ’’ذَکِّرْ‘‘ پر عمل کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً یاد دہانی کرواتا رہے تا کہ جماعت کی ترقی کی رفتار میں کبھی کمی نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ایک کے بعد دوسرا گروہ تیار ہوتا چلا جائے۔ جس طرح مسلسل چلنے والی نہریں، زمین کی ہریالی کا باعث بنتی ہیں اسی طرح ایک کے بعد دوسرا دین کی خدمت کرنے والا گروہ روحانی ہریالی کا باعث بنتا ہے۔ جن علاقوں میں کھیتوں میں ٹیوب ویلوں یا نہروں کے ذریعوں سے کاشت کی جاتی ہے وہاں کے زمیندار جانتے ہیں کہ اگر ایک کھیت پر پانی مکمل لگنے سے پہلے پانی کا بہاؤ ٹوٹ جائے، پیچھے سے بند ہو جائے تو پھر نئے سرے سے پورے کھیت کو پانی لگانا پڑتا ہے اور پھر وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور پانی بھی۔ اسی طرح اگر اصلاح اور ارشاد کے کام کے لئے مسلسل کوشش نہ ہو، یا کوشش کرنے والے مہیا نہ ہوں تو پھر ٹوٹ ٹوٹ کر جو پانی پہنچتا ہے، جو پیغام پہنچتا ہے، جو کوشش ہوتی ہے وہ سیرابی میں دیر کر دیتی ہے۔ تربیتی اور تبلیغی کاموں میں روکیں پیدا ہوتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر قوم میں سے ایسے گروہ ہر وقت تیار رہنے چاہئیں جو خدا تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کے بہاؤ کو کبھی ٹوٹنے نہ دیں۔ پس اس لئے مَیں آج پھر اس بات کی یاددہانی کروا رہا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے وقفِ نَو کی جو سکیم شروع فرمائی تھی تو اس امید پر اور اس دعا کے ساتھ کہ دین کی خدمت کرنے والوں کا گروہ ہر وقت مہیا ہوتا رہے گا۔ یہ پانی کا بہاؤ کبھی ٹوٹے گا نہیں۔ جماعت کے لٹریچر کا ترجمہ کرنے والے بھی جماعت کومہیا ہوتے رہیں گے، ۔ تبلیغ اور تربیت کا کام چلانے والے بھی بڑی تعداد میں مہیا ہوتے رہیں گے اور نظامِ جماعت کے چلانے کے دوسرے شعبوں کو بھی واقفین کے گروہ مہیا ہوتے رہیں گے۔

پس اس بات کو ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ ماں باپ کو اپنے بچوں کو پیش کرنے کے بعد اپنے فرض سے فارغ نہیں ہو جانا چاہئے۔ بیشک بچوں کو واقفینِ نَو میں پیش کرنے کا جذبہ قابلِ تعریف ہے۔ ہر سال ہزاروں بچوں کو واقفین نَو میں پیش کرنے کی درخواستیں آتی ہیں لیکن ان درخواستوں کے پیش کرنے کے بعد ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ ان بچوں کو اس خاص مقصد کے لئے تیار کرنا جو دنیا کو ہلاکت سے بچانے کا مقصد ہے، اس کی تیاری کے لئے سب سے پہلے ماں باپ کو کوشش کرنی ہو گی۔ اپنا وقت دے کر، اپنے نمونے قائم کر کے بچوں کو سب سے پہلے خدا تعالیٰ سے جوڑنا ہو گا۔ بچوں کو نظامِ جماعت کی اہمیت اور اس کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہونے کے لئے بچپن سے ہی ایسی تربیت کرنی ہو گی کہ اُن کی کوئی اَوردوسری سوچ ہی نہ ہو۔ ہوش کی عمر میں آ کر جب بچے واقفینِ نَو اور جماعتی پروگراموں میں حصہ لیں تو اُن کے دماغوں میں یہ راسخ ہو کہ انہوں نے صرف اور صرف دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا ہے۔ زیادہ سے زیادہ بچوں کے دماغ میں ڈالیں کہ تمہاری زندگی کا مقصد دین کی تعلیم حاصل کرنا ہے۔ یہ جو واقفینِ نَو بچے ہیں ان کے دماغوں میں یہ ڈالنے کی ضرورت ہے کہ دین کی تعلیم کے لئے جو جماعتی دینی ادارے ہیں اُس میں جانا ضروری ہے۔ جامعہ احمدیہ میں جانے والوں کی تعداد واقفینِ نَو میں کافی زیادہ ہونی چاہئے۔ لیکن جو اعداد و شمار میرے سامنے ہیں، اُن کے مطابق سوائے پاکستان کے تمام ملکوں میں یہ تعداد بہت تھوڑی ہے۔ پاکستان میں تو اللہ کے فضل سے اس وقت ایک ہزار تینتیس واقفینِ نَو جامعہ احمدیہ میں پڑھ رہے ہیں۔ اور انڈیا میں جو تعداد سامنے آئی ہے وہ 93ہے۔ یہ میرا خیال ہے کہ شاید اس میں شعبہ وقفِ نَو کو غلطی لگی ہو۔ اس سے تو زیادہ ہونے چاہئیں۔ بہرحال اگر اس میں غلطی ہے تو انڈیا کا جو شعبہ ہے وہ اطلاع دے کہ اس وقت جامعہ احمدیہ میں اُن کے واقفینِ نَو میں سے کتنے طلباء پڑھ رہے ہیں۔ جرمنی میں 70 ہیں۔ یہ رپورٹ پچھلے جون تک ہے۔ اب وہاں 80 سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ یہ صرف جرمنی کے نہیں، اس میں یورپ کے مختلف ممالک کے بچے بھی شامل ہیں۔ کینیڈا کے جامعہ احمدیہ میں 55 ہیں۔ اب اس میں کچھ تھوڑی سی تعداد شاید بڑھ گئی ہو۔ اس میں امریکہ کے بھی شامل ہیں۔ یوکے کے جامعہ میں گزشتہ رپورٹ میں 120 تھے۔ شاید اس میں دس پندرہ کی کچھ تعداد بڑھ گئی ہو۔ یہاں بھی یورپ کے دوسرے ممالک سے بچے آتے ہیں۔ گھانا میں 12ہے، یہ شاید وہاں جو نیا جامعہ شاہد کروانے کے لئے شروع ہوا ہے، اُس کی تعداد انہوں نے دی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں 23 ہیں۔ اور یہ کُل تعداد جو اب تک دفتر کے شعبہ کے علم میں ہے، وہ 1400 ہے۔ جبکہ واقفینِ نَو لڑکوں کی تعداد تقریباً اٹھائیس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ہمارے سامنے تو تمام دنیا کا میدان ہے۔ ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، جزائر، ہر جگہ ہم نے پہنچنا ہے۔ ہر جگہ ہر براعظم میں نہیں، ہر ملک میں نہیں، ہر شہر میں نہیں بلکہ ہر قصبہ میں، ہر گاؤں میں، دنیا کے ہر فرد تک اسلام کے خوبصورت پیغام کو پہنچانا ہے۔ اس کے لئے چند ایک مبلغین کام کو انجام نہیں دے سکتے۔

بچوں میں وقفِ نَو ہونے کی جو خوشی ہوتی ہے بچپن میں تو اُس کا اظہار بہت ہو رہا ہوتا ہے۔ لیکن اس یورپی معاشرے میں ماں باپ کی صحیح توجہ نہ ہونے کی وجہ سے، دنیاوی تعلیم سے متاثر ہوجانے کی وجہ سے یا اپنے دوستوں کی مجلسوں میں بیٹھنے کی وجہ سے جامعہ کے بجائے دوسرے مضامین پڑھنے کی طرف توجہ زیادہ ہوتی ہے۔ بعض بچپن میں تو کہتے ہیں جامعہ میں جانا ہے۔ لیکن جی سی ایس سی (GCSC) پاس کرتے ہیں، سیکنڈری سکولز پاس کرتے ہیں تو پھر ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ بعض بچے بیشک ایسے ہوتے ہیں جو خاص ذہن رکھتے ہیں۔ اُن کے رجحانات کا بچپن سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔ اُن کو بعض مضامین میں غیر معمولی دلچسپی ہوتی ہے۔ مثلاً سائنس کے بعض مضامین ہیں اور اس میں ان کا دماغ بھی خوب چلتا ہے۔ اُن کو یقینا اُس مضمون کو لینے اور ان مضامین کو پڑھنے کی طرف encourage کرنا چاہئے۔ لیکن اکثریت صرف بھیڑ چال کی وجہ سے سیکنڈری سکولز کرنے کے بعد اپنے مضامین کا انتخاب کرتے ہیں۔ اکثر بچے جب مجھے ملتے ہیں، مَیں اُن سے پوچھتا ہوں تو دسویں، (یہاں یہ ten Year کہلاتا ہے۔ امریکہ، کینیڈا وغیرہ میں، آسٹریلیا وغیرہ میں گریڈ کہلاتا ہے) اور جی سی ایس سی (GCSC) تک اُن کے ذہن میں کچھ نہیں ہوتا۔ ذہن بنا نہیں ہوتا کہ ہم نے کونسے مضامین لینے ہیں۔ پس اگر ماں باپ کی تربیت شروع میں ایسی ہو کہ بچے کے ذہن میں بیٹھ جائے کہ مَیں وقفِ نَو ہوں اور جو کچھ میرا ہے وہ جماعت کا ہے تو پھر صحیح وقف کی روح کے ساتھ یہ بچے کام کر سکیں گے۔ اور مضامین کے چناؤ کے لئے بھی اُن میں مرکز سے، جماعت سے رہنمائی لینے کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ اس وقت صرف جماعت احمدیہ میں ایسے ماں باپ ہیں جو ایک جذبے سے اپنے بچے وقف کرتے ہیں اور پھر ان کی تربیت بھی ایک جذبے اور درد سے کرتے ہیں کہ بچے جماعت کی خدمت کرنے والے اور وقف کی روح کو قائم کرنے والے ہوں۔ لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اکثریت جو اپنے بچوں کو وقف نَو میں بھیجتی ہے، وہ پھر اُن کی تربیت کی طرف بھی اس طرح خاص توجہ دیتی ہے۔

پس ماں باپ کو، اُن ماں باپ کو جو اپنے بچوں کو وقفِ نَو میں بھیجتے ہیں، یہ جائزے لینے ہوں گے کہ وہ اس تحفے کو جماعت کو دینے میں اپنا حق کس حد تک ادا کر رہے ہیں؟ کس حد تک اس تحفے کو سجانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کس حد تک خوبصورت بنا کر جماعت کو پیش کرنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں؟ وہ اپنے فرائض کس حد تک پورے کر رہے ہیں؟ ان ملکوں میں رہتے ہوئے، جہاں ہر طرح کی آزادی ہے خاص طور پر بہت توجہ اور نگرانی کی ضرورت ہے۔

اسی طرح ایشیا اور افریقہ کے غریب ملکوں میں بھی بچے کو وقف کر کے بے پرواہ نہ ہو جائیں بلکہ ماں اور باپ دونوں کا فرض ہے کہ خاص کوشش کریں۔ واقفینِ نَو بچوں کو بھی مَیں کہتا ہوں جو بارہ تیرہ سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں کہ وہ اپنے بارے میں سوچنا شروع کر دیں، اپنی اہمیت پر غور کریں۔ صرف اس بات پر خوش نہ ہو جائیں کہ آپ وقفِ نَو ہیں۔ اہمیت کا پتہ تب لگے گا جب اپنے مقصد کا پتہ لگے گاکہ کیا آپ نے حاصل کرنا ہے۔ اُس کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔ اور پندرہ سال کی عمر والے لڑکوں اور لڑکیوں کو تو اپنی اہمیت اور اپنی ذمہ داریوں کا بہت زیادہ احساس ہو جانا چاہئے۔ ان آیات میں صرف ماں باپ یا نظامِ جماعت کی خواہش یا ایک گروہ یا چند لوگوں کی خواہش اور ذمہ داری کا بیان نہیں ہوا بلکہ بچوں کو بھی توجہ دلائی گئی ہے۔

پہلی بات جو ہر وقفِ نَو بچے میں پیدا ہونی چاہئے، وہ اس توجہ کی روشنی میں یہ بیان کر رہا ہوں۔ اور وہ ان آیات میں آئی ہے کہ اُس کی ماں نے اُس کی پیدائش سے پہلے ایک بہت بڑے مقصد کے لئے اُسے پیش کرنے کی خواہش دل میں پیدا کی۔ پھر اس خواہش کے پورا ہونے کی بڑی عاجزی سے دعا بھی کی۔ پس بچے کو اپنے ماں باپ کی، کیونکہ اس خواہش اور دعا میں بعد میں باپ بھی شامل ہو جاتا ہے، اُن کی خواہش اور دعا کا احترام کرتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نذر ہونے کا حق دار بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اور یہ تبھی ہو سکتا ہے جب اپنے دل و دماغ کو اپنے قول و فعل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق بنانے کی طرف توجہ ہو۔

دوسری بات یہ کہ ماں باپ کا آپ پر یہ بڑا احسان ہے اور یہ احسان کرنے کی وجہ سے اُن کے لئے یہ دعا ہو کہ اللہ تعالیٰ اُن پر رحم فرمائے۔ آپ کی تربیت کے لئے اُن کی طرف سے اُٹھنے والے ہر قدم کی آپ کے دل میں اہمیت ہو۔ اور یہ احساس ہو کہ میرے ماں باپ اپنے عہد کوپورا کرنے کے لئے جو کوشش کر رہے ہیں مَیں نے بھی اُس کا حصہ بننا ہے، اُن کی تربیت کو خوشدلی سے قبول کرنا ہے۔ اور اپنے ماں باپ کے عہد پر کبھی آنچ نہیں آنے دینی۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے عہد کا سب سے زیادہ حق ایک واقفِ نَو کا ہے۔ اور واقفِ نَوکو یہ احساس ہونا چاہئے کہ یہ عہد سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر مَیں نے پورا کرنا ہے۔

تیسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہر قربانی کے لئے صبر اور استقامت دکھانے کا عہد کرنا ہے۔ جیسے بھی کڑے حالات ہوں، سخت حالات ہوں، میں نے اپنے وقف کے عہد کو ہر صورت میں نبھانا ہے، کوئی دنیاوی لالچ کبھی میرے عہدِ وقف میں لغزش پیدا کرنے والا نہیں ہو سکتا۔ اب تو اللہ تعالیٰ کا جماعت پر بہت فضل اور احسان ہے۔ خلافتِ ثانیہ کے دور میں تو بعض موقعوں پر، بعض سالوں میں قادیان میں ایسے حالات بھی آئے، اتنی مالی تنگی تھی کہ جماعتی کارکنان کو کئی کئی مہینے اُن کا جو بنیادی گزارہ الاؤنس مقرر تھا، وہ بھی پورا نہیں دیا جا سکتا تھا۔ اسی طرح شروع میں ہجرت کے بعد ربوہ میں بھی ایسے حالات رہے ہیں لیکن ان سب حالات کے باوجود کبھی اُس زمانے کے واقفینِ زندگی نے شکوہ زبان پر لاتے ہوئے اپنے کام کا حرج نہیں ہونے دیا۔ بلکہ یہ تو دُور کی باتیں ہیں۔ ستّر اور اسّی کی دہائی میں افریقہ کے بعض ممالک میں بھی ایسے حالات رہے جو مشکل سے وہاں گزارہ ہوتا تھا۔ جو الاؤنس جماعت کی طرف سے ملتا تھا، وہ زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس دن میں ختم ہوجاتا تھا۔ مقامی واقفین تو جتنا الاؤنس اُن کو ملتا تھا اس میں شاید دن میں ایک وقت کھانا کھا سکتے ہوں۔ لیکن انہوں نے اپنے عہدِ وقف کو ہمیشہ نبھایا اور تبلیغ کے کام میں کبھی حرج نہیں آنے دیا۔

چوتھی بات یہ کہ اپنے آپ کو اُن لوگوں میں شامل کرنے کے احساس کو ابھارنا اور اس کے لئے کوشش کرنا جو نیکیوں کے پھیلانے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہیں۔ اپنے اخلاق کے اعلیٰ نمونے قائم کرنا، جب ایسے اخلاق کے اعلیٰ نمونے قائم ہوں گے، نیکیاں سرزد ہو رہی ہوں گی، برائیوں سے اپنے آپ کو بچا رہے ہوں گے تو ایسے نمونے کی طرف لوگوں کی توجہ خود بخود پیدا ہوتی ہے۔ لوگوں کی آپ پر نظر پڑے گی تو پھر مزید اس کا موقع بھی ملے گا۔ پس یہ احساس اپنے اندر پیدا کرنا بہت ضروری ہے اور کوشش بھی ساتھ ہو۔

پانچویں بات یہ کہ نیکیوں اور برائیوں کی پہچان کے لئے قرآن اور حدیث کا فہم و ادراک حاصل کرنا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب اور ارشادات کوپڑھنا۔ اپنے دینی علم کو بڑھانے کے لئے ہر وقت کوشش کرنا۔ بیشک ایک بچہ جو جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرتا ہے وہاں اُسے دینی علم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ لیکن وہاں سے پاس کرنے کے بعد یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اب میرے علم کی انتہا ہو گئی۔ بلکہ علم کو ہمیشہ بڑھاتے رہنے کی کوشش کرنی چاہئے، ایک دفعہ کا جو تفقّہ فی الدین ہے اُس وقت فائدہ رساں رہتا ہے جب تک اُس میں ساتھ ساتھ تازہ علم شامل ہوتا رہے۔ تازہ پانی اُس میں ملتا رہے۔ اسی طرح جو جامعہ میں نہیں پڑھ رہے، اُن کو بھی مسلسل پڑھنے کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔ یہ نہیں کہ جو واقفینِ نَودنیاوی تعلیم حاصل کر رہے ہوں اُن کو دینی تعلیم کی ضرورت نہیں ہے۔ جتنا لٹریچر میسر ہے، اُن کو پڑھنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ قرآنِ کریم کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جو جو کتب اُن کی زبانوں میں ہیں اُن کو پڑھنے کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔

چھٹی بات جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جس کی طرف ایک واقفِ نَو کو توجہ دینی چاہئے وہ عملی طور پر تبلیغ کے میدان میں کودنا ہے۔ اب بعض واقفاتِ نَو کو یہ شکوہ ہوتا ہے کہ ہمارے لئے جامعہ نہیں ہے۔ یعنی ہم دینی علم حاصل نہیں کر سکتے۔ اگر اپنے طور پر، جس طرح مَیں نے پہلے بتایا، پڑھیں تو اپنے حلقے میں جو بھی اُن کا دائرہ ہے اُس میں تبلیغ کی طرف توجہ پیدا ہو گی، موقع ملے گا۔ اُس کے لئے جب تبلیغ کی طرف توجہ پیدا ہو گی اور موقعے ملیں گے تو پھر مزید تیاری کی طرف توجہ ہو گی اور اس طرح دینی علم بڑھانے کی طرف خود بخود توجہ پیدا ہوتی چلی جائے گی۔

پس تبلیغ کا میدان ہر ایک کے لئے کھلا ہے اور اس میں ہر وقفِ نَو کو کودنے کی ضرورت ہے اور بڑھ چڑھ کر ہر وقفِ نَوکو حصہ لینا چاہئے اور یہ سوچ کر حصہ لینا چاہئے کہ میں نے اُس وقت تک چَین سے نہیں بیٹھنا جب تک دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے نہیں آ جاتی اور یہ احساس اور جوش ہی ہے جو دینی علم بڑھانے کی طرف بھی متوجہ رکھے گا اور تبلیغ کی طرف بھی توجہ رہے گی۔

ساتویں بات ہر واقفِ زندگی کو، واقفِ نَو کوخاص طور پر ذہن میں رکھنی چاہئے کہ وہ اُس گروہ میں شامل ہے جنہوں نے دنیا کو ہلاکت سے بچانا ہے۔ اگر آپ کے پاس علم ہے اور آپ کو موقع بھی مل رہا ہے لیکن اگر دنیا کو ہلاکت سے بچانے کا سچا جذبہ نہیں ہے، انسانیت کو تباہی سے بچانے کا درد دل میں نہیں ہے تو ایک تڑپ کے ساتھ جو کوشش ہو سکتی ہے، وہ نہیں ہو گی اور برکت بھی ہو سکتاہے اُس میں اُس طرح نہ پڑے۔ پس اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کے لئے ہر درد مند دل کو اپنی کوششوں کے ساتھ دعاؤں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اور یہ درد سے نکلی ہوئی دعائیں ہیں جو ہمیں اپنے مقصد میں انشاء اللہ کامیاب کریں گی۔ اس لئے ہر ایک کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری دعاؤں کا دائرہ صرف اپنے تک محدودنہ ہو، بلکہ اس کے دھارے ہمیں ہر طرف بہتے ہوئے دکھائی دیں تا کہ کوئی انسان بھی اُس فیض سے محروم نہ رہے جو خدا تعالیٰ نے آج ہمیں عطا فرمایا ہے۔ ویسے بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے مقاصد کا حصول بغیر دعاؤں کے، ایسی دعاؤں جو سچے جذبے اور ہمدردی سے پُر ہوں کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

پس یہ باتیں اور یہ سوچ ہے جو ایک حقیقی واقفِ نَو اور وقفِ زندگی کی ہونی چاہئے۔ اس کے بغیر کامیابی کی امید خوش فہمی ہے۔ ان باتوں کے بغیر صرف واقفِ نَو اور واقفِ زندگی کا ٹائٹل ہے جو ایسے واقفینِ نَونے اپنے ساتھ لگایا ہوا ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کچھ حیثیت نہیں۔ اور صرف ٹائٹل لینا تو ہمارا مقصدنہیں، نہ اُن ماں باپ کا مقصد تھا جنہوں نے اپنے بچوں کو اس قربانی کے لئے پیش کیا۔ پس جیسا کہ مَیں بیان کر آیا ہوں ماں باپ کے لئے بھی اور واقفینِ نَو کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ مَیں دوبارہ اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ دنیا میں دین کے پھیلانے کے لئے دینی علم کی ضرورت ہے اور یہ علم سب سے زیادہ ایسے ادارہ سے ہی مل سکتا ہے جس کا مقصد ہی دینی علم سکھانا ہو۔ اور یہ ادارہ جماعت احمدیہ میں جامعہ احمدیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ جامعات صرف پاکستان یا قادیان میں نہیں ہیں، یہیں تک محدودنہیں بلکہ یوکے میں بھی ہے۔ جو مَیں نے کوائف پیش کئے ہیں اُن سے پتہ لگتا ہے کہ جرمنی میں بھی ہے، انڈونیشیا میں بھی ہے، کینیڈا میں بھی ہے، اور گھانا میں بھی ہے جیسا کہ مَیں نے کہا وہاں شاہد کروانے کے لئے نیا جامعہ کھلا ہے۔ پہلے وہاں جامعہ تو تھا لیکن تین سالہ کورس میں صرف معلمین تیار ہوتے تھے۔ تو یہ جامعہ احمدیہ جو گھانا میں کھلا ہے، یہ فی الحال تمام افریقہ کے جماعت کے لئے شاہد مبلغ تیار کرے گا۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی جامعہ احمدیہ ہے۔ تبلیغ کا کام بہت وسیع کام ہے۔ اور یہ باقاعدہ تربیت یافتہ مبلغین سے ہی زیادہ بہتر طور پر ہو سکتا ہے۔ اس لئے واقفینِ نَوکو زیادہ سے زیادہ یا واقفینِ نَو کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو جامعہ احمدیہ میں آنا چاہئے۔ جبکہ جو اعداد و شمار مَیں نے بتائے ہیں، اس سے تو ہم ہر ملک کے ہر علاقے میں جیسا کہ میں نے کہا مستقبل قریب کیا بلکہ دور میں بھی ہر جگہ مبلغ نہیں بٹھا سکتے۔ اور جب تک کل وقتی معلمین اور مبلغین نہیں ہوں گے انقلابی تبدیلی اور انقلابی تبلیغی پروگرام بہت مشکل ہے۔

اس وقت دنیا بھر سے شعبہ کے پاس جو رپورٹ آئی ہے یہ شاید ان کے پاس جولائی 2012ء تک کی رپورٹ ہے۔ اس کے مطابق پندرہ سال کے اوپر کے واقفینِ نَو اور واقفاتِ نَو کی تعداد پچیس ہزار ہے جس میں سے لڑکے16,988 ہیں اور ان میں پاکستان کے واقفینِ نَو 10,687 ہیں۔ پاکستان کے بعد جرمنی میں سب سے زیادہ واقفینِ نَو ہیں۔ 1877 لڑکے اور 1155 لڑکیاں۔ پھر انگلستان ہے۔ 918 لڑکے اور ان کی کُل تعداد1758 ہے۔ باقی 800 کچھ لڑکیاں ہیں۔ لیکن جامعہ احمدیہ میں آنے والوں کی تعداد جرمنی میں بھی اور یوکے میں بھی بہت کم ہے۔ ان دونوں جامعات میں یورپ کے دوسرے ملکوں سے بھی طالب علم آتے ہیں، اس طرح تو یہ تعداد اور بھی کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح امریکہ اور کینیڈا کے جامعات میں تعداد کم ہے۔

جماعتیں مبلغین اور مربیان کا مطالبہ کرتی ہیں تو پھر واقفینِ نَو کو جامعہ میں پڑھنے کے لئے تیار بھی کریں۔ کینیڈا اور امریکہ میں اس وقت پندرہ سال سے اوپر تقریباً آٹھ سو واقفینِ نوَہیں۔ اگر ان کو تیار کیا جائے تو اگلے دو سال میں جامعات میں داخل ہونے والوں کی تعداد خاصی بڑھائی جا سکتی ہے۔ صرف مربی مبلغ کے لئے نہیں بلکہ جامعہ میں پڑھ کے، دینی علم حاصل کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کے مختلف زبانوں میں تراجم کے لئے بھی تیار کئے جا سکتے ہیں۔ ان کو جامعہ میں پڑھانے کے بعد مختلف زبانوں میں سپیشلائز بھی کرایا جا سکتا ہے۔ پھر جو جامعہ میں نہیں آ رہے، وہ بھی زبانیں سیکھنے کی طرف توجہ کریں اور زبانیں سیکھنے والے کم از کم جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے بھی فرمایا تھا اور یہ ضروری ہے کہ تین زبانیں اُن کو آنی چاہئیں۔ ایک تو اُن کی اپنی زبان ہو، دوسرے اردو ہو، تیسرے عربی ہو۔ عربی تو سیکھنی ہی ہے، قرآنِ کریم کی تفسیروں اور بہت سارے میسر لٹریچر کو سمجھنے کے لئے۔ اور پھر قرآن کریم کا ترجمہ کرتے ہوئے جب تک عربی نہ آتی ہو صحیح ترجمہ بھی نہیں ہو سکتا۔ اور اردو پڑھنا سیکھنا اس لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب سے ہی اس وقت دین کا صحیح فہم حاصل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ آپ کی تفسیریں، آپ کی کتب، آپ کی تحریرات ہی ایک سرمایہ ہیں اور ایک خزانہ ہیں جو دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر سکتی ہیں، جو صحیح اسلامی تعلیم دنیا کو بتا سکتی ہیں، جو حقیقی قرآنِ کریم کی تفسیر دنیا کو بتا سکتی ہیں۔ پس اردو زبان سیکھے بغیر بھی صحیح طرح زبانوں میں مہارت حاصل نہیں ہو سکتی۔ ایک وقت تھا کہ جماعت میں ترجمے کے لئے بہت دِقّت تھی، دِقّت تو اب بھی ہے لیکن یہ دِقّت اب کچھ حد تک مختلف ممالک کے جامعات کے جو لڑکے ہیں اُن سے کم ہو رہی ہے یا اس طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے۔ جامعہ احمدیہ کے مقالوں میں اردو سے ترجمے بھی کروائے جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب، حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی بعض کتب، کے ترجمے کئے ہیں اور جو بھی طلباء کے سپروائزر تھے، اُن کے مطابق اچھے ہوئے ہیں۔ لیکن بہرحال اگر معیار بہت اعلیٰ نہیں بھی تو مزید پالش کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال ایک کوشش شروع ہوچکی ہے۔ لیکن یہ تو چند ایک طلباء ہیں جن کو دوچار کتابیں دے دی جاتی ہیں، ہمیں زیادہ سے زیادہ زبانوں کے ماہرین چاہئیں۔ اس طرف واقفینِ نَو کو بہت توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر جامعہ کے طلباء کے علاوہ کوئی کسی زبان میں مہارت حاصل کرتا ہے تو اُسے جیسا کہ مَیں نے کہا عربی اور اردو سیکھنے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔ اس کے بغیر وہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا جس کے لئے زبان کی طرف توجہ ہے۔

جامعہ احمدیہ پر یہاں یا جرمنی میں یا بعض جگہ بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ یہاں پڑھائی اچھی نہیں ہے۔ یہ بالکل بودے اعتراض ہیں۔ اُن کے خیال میں اُن کا جو اعتراض ہو تا ہے وہ یہ ہے کہ جامعہ سے فارغ ہوتا ہے تو اُس کو عربی بولنی نہیں آتی یا بول چال اتنی اچھی نہیں ہے۔ جہاں تک زبان کی مہارت کا سوال ہے، جامعہ احمدیہ میں کیونکہ مختلف مضامین پڑھائے جاتے ہیں، صرف ایک زبان کی طرف ہی تو توجہ نہیں دی جاتی۔ باقی یونیورسٹیوں میں یا دوسرے مدرسوں میں اگر پڑھایا جاتا ہے تو ایک مضمون پڑھا کر اُس پر توجہ دی جاتی ہے۔ لیکن یہاں تو مختلف مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ ہاں جب یہ دیکھا جائے کہ کسی کا کسی زبان کی طرف رجحان ہے یا زبانوں کے سیکھنے کی طرف رجحان ہے تو اُن کو زبانوں میں پھر سپیشلائز بھی انشاء اللہ کروایا جائے گااور پھر بولنے کا جو شکوہ ہے وہ بھی دُور ہو جائے گا۔ لیکن بہرحال جہاں تک پڑھائی کا سوال ہے، جو علم دیا جا رہا ہے، وہ بہت وسیع علم ہے جو جامعہ کے طلباء اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان میں تو کیونکہ پرانے جامعات ہو گئے ہیں، وہاں تخصص بھی کروایا جاتا ہے، سپیشلائز بھی کروایا جاتا ہے۔ تو یہ تو بعض لوگوں کے، خاص طور پر جرمنی سے مجھے اطلاع ملی تھی، جامعہ میں بچوں کو نہ بھیجنے کے بہانے ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا اللہ تعالیٰ کے فضل سے یوکے اور کینیڈا کے جو طلباء جامعہ سے فارغ ہوئے ہیں ان کا تبلیغی میدان میں اب تک جو تھوڑا تجربہ ہوا ہے وہ اللہ کے فضل سے بڑے مؤثر رہے ہیں۔ اور یہ علم تو جیسا کہ مَیں نے کہا ساتھ ساتھ انشاء اللہ تعالیٰ بڑھتا چلا جائے گا۔ پس جو لوگ یہ باتیں کرتے ہیں اور بعض طلباء کو جامعہ آنے یا داخلہ لینے سے بد دل کرتے ہیں، یہ لوگ صرف فتنہ ہیں یا اُن میں نفاق کا رنگ ہے۔ اس لئے اُن کو بھی استغفار کرنی چاہئے۔ جو شعبہ وقف نَو ہے، اُنہوں نے بعض انتظامی باتوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جو مَیں دہرا دیتا ہوں۔ شاید پہلے بھی بعض کا ذکر ہو چکا ہو۔

وقفِ نَو میں ماں باپ بچوں کی بلوغت کو پہنچ کر یا پہلے ہی اس طرح تربیت نہیں کرتے، جیسا کہ مَیں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ بچوں نے اپنے آپ کوباقاعدہ جماعت کی خدمت میں پیش کرنا ہے۔ ایسی تربیت سے بچوں کو یہ پتہ ہونا چاہئے۔ تعلیم کے ہر مرحلے پر اُن کو توجہ دلائیں۔ اور پھر وقفِ نَو کا جو شعبہ ہے اُس سے رہنمائی بھی حاصل کریں۔ اپنی تعلیم کے بارے میں بچوں کو پوچھنا چاہئے کہ اب ہم اس سٹیج پر پہنچ گئے ہیں کیا کریں؟ اور اگر اُس نے اپنی مرضی کرنی ہے یا ایسے شعبوں میں جانا ہے جس کی فی الحال جماعت کو ضرورت نہیں ہے تو پھر وقف سے فراغت لے لیں۔ لڑکیاں جو واقفاتِ نَو ہیں، جو پاکستانی اور یجن (origin) کی ہیں، پاکستان سے آئی ہوئی ہیں، جن کو اردو بولنی آتی ہے، وہ اردو پڑھنی بھی سیکھیں۔ اور جو یہاں باہر کے ملکوں میں رہ رہی ہیں وہ مقامی زبان بھی سیکھیں۔ جہاں انگلش ہے، جرمن ہے یا ایسے علاقوں میں ہیں جہاں انگلش سرکاری زبان ہے اور مقامی لوکل زبانیں اَور ہیں وہ بھی سیکھیں، عربی سیکھیں، پھر اپنے آپ کو تراجم کے لئے پیش کریں۔ مَیں نے دیکھا ہے عورتوں میں، لڑکیوں میں زبانوں کا ملکہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے وہ اپنے آپ کو پیش کر سکتی ہیں۔ پھر ڈاکٹر ہیں، ٹیچر ہیں، یہ بھی لڑکیاں اپنے آپ کو ٹیچر اور ڈاکٹر بن کے بھی پیش کر سکتی ہیں، اسی طرح لڑکے بھی۔ تو اس طرف بھی توجہ ہونی چاہئے اور شعبہ کو ہر مرحلے پر پتہ ہونا چاہئے۔ مقامی جماعتی نظام کو لڑکوں اور لڑکیوں کی رہنمائی اور تربیت کے لئے سال میں کم از کم دو مرتبہ اُن کے فورم منعقد کرنے چاہئیں جس میں کام اور تعلیم کی رہنمائی ہو۔

ان کے شعبہ کو ایک شکوہ یہ ہے کہ بعض والدین وقف کرنے کے بعد، حوالہ نمبر ملنے کے بعد مقامی جماعت اور مرکز دونوں سے تقریباً لا تعلق ہو جاتے ہیں یا ویسے رابطہ نہیں رکھتے جیسا کہ رکھنا چاہئے۔ اور پھر ایک سٹیج پر پہنچ کے جب شعبہ یہ کہتا ہے کہ رابطہ نہیں ہے آٹھ دس سال گزر گئے ہیں ان کو نکال دیا جائے، تو اُس وقت پھر شکوے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے حوالہ نمبر ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب رابطہ ختم کر لیا اور وقفِ نَو ہو گیا۔ مسلسل رابطہ دفتر سے اور اپنے نیشنل سیکرٹری شعبہ سے بھی اور مرکز سے بھی قائم رکھنا ضروری ہے۔ پھر واقفینِ نَواور واقفاتِ نَو کا نصاب مقرر ہے جو پہلے تو صرف بنیادی تھا، اب اکیس سال تک کے لڑکوں اور لڑکیوں کا یہ نصاب مقرر ہوچکا ہے۔ اس کو پڑھنا بھی چاہئے اور اگر امتحان وغیرہ ہوتے ہیں تو اس میں بھر پور شمولیت اختیار کرنی چاہئے۔ اور اس سے اوپر جو لڑکے لڑکیاں ہیں، اُن کو قرآنِ کریم کی تفسیر جن کو اردو آتی ہے وہ اردو میں، اور جن کو انگلش آتی ہے وہ انگلش میں five volume commentary جو ہے وہ پڑھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب جو مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں، جو جو زبان آتی ہے اُس میں پڑھیں۔ خطبات اور خطابات ہیں وہ باقاعدہ سنیں۔ اپنا علم بڑھاتے چلے جائیں۔ یہ بھی اُن کے لئے ضروری ہے اور پھراس کی رپورٹ بھی بھیجا کریں۔ جو سیکرٹریانِ وقفِ نَو ہیں یہ بھی بعض جگہ فعّال نہیں ہیں۔ یہ بھی صرف عہدہ سنبھال کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کو بھی فعّال ہونے کی ضرورت ہے۔ نہیں تو اس سال انتخابات ہو رہے ہیں، جماعتوں سے یہ رپورٹیں آنی چاہئیں کہ کون کون سے سیکرٹریانِ وقفِ نَو فعّال نہیں ہیں اور اگر وہ فعّال نہیں ہیں تو چاہے اُن کے ووٹ زیادہ ہوں اُن کو اس دفعہ مقرر نہیں کیا جائے گا۔

نصاب کاپہلے ذکر آیا تھا۔ اگر جماعت کا بھی ایک نصاب بنا ہوا ہے، اور وہاں ایسا انتظام نہیں ہے کہ علیحدہ علیحدہ انتظام ہو سکے تو جو جماعتی نصاب ہے، اُسی میں وقفِ نَو بھی شامل ہو سکتے ہیں، پڑھیں۔ تھوڑا بہت معمولی فرق ہے۔ آپس میں دونوں کی کوآرڈی نیشن (Co-ordination) اگر ہو جائے تو اطفال کی عمر کے اطفال کا نصاب پڑھ سکتے ہیں، خدام کی عمر کا وہ پڑھ سکتے ہیں، لجنہ والی لجنہ کا پڑھ سکتی ہیں یا نصاب آپس میں سمویا جاسکتا ہے۔ جب جماعتی نظام کے تحت سیکرٹری تربیت اور سیکرٹری تعلیم اور سیکرٹری وقفِ نَو جماعتی شعبہ کے تحت ہی کام کررہے ہیں تو امراء اور صدران کا کام ہے کہ ان کو اکٹھا کر کے ایسا معین لائحہ عمل بنائیں کہ یہ نصاب بہرحال پڑھا جائے۔ خاص طور پر واقفینِ نَو کو اس میں ضرور شامل کیا جائے۔ پھر یہ جو وقفِ نَو کا نصاب ہے اُس کو مختلف ممالک اپنی زبانوں میں بھی شائع کروا سکتے ہیں۔ سویڈن نے اپنی زبان میں شائع کروایا ہے۔ فرنچ میں شائع کرنے کے لئے فرانس والے اور ماریشس والے کوشش کریں۔ اور یہ کوشش صرف زبانی نہ ہو۔ یہ تو اطلاع فوری طور پر دیں کہ کون اس کا ترجمہ کر سکتا ہے اور دو مہینے کے اندر اندر یہ ترجمہ ہو بھی جانا چاہئے۔

واقفینِ نَو کے مطالعہ میں روزانہ کوئی نہ کوئی دینی کتاب ہونی چاہئے۔ چاہے ایک دو صفحے پڑھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب، جیسا کہ مَیں نے کہا، اگر وہ پڑھیں تو سب سے زیادہ بہتر ہے۔ پھر اسی طرح خطبات ہیں سو فیصد واقفینِ نَو اور واقفاتِ نَو کو یہ خطبات سننے چاہئیں۔ کوشش کریں۔ یہاں یوکے میں ایک دن مَیں نے کلاس میں جائزہ لیا تھا تو میرا خیال ہے دس فیصد تھے جو باقاعدہ سنتے تھے۔ اس کی طرف شعبہ کو بھی اور والدین کو بھی اور خود واقفینِ نَو کو بھی توجہ دینی چاہئے۔ انتظامیہ کو بھی چاہئے کہ وہ واقفینِ نَو کے جو پروگرام بناتے ہیں، وہ inter-active پروگرام ہونے چاہئیں جس سے زیادہ توجہ پیدا ہوتی ہے۔

پھر اسی طرح ہر ملک کی جو انتظامیہ ہے وہ ایک کمیٹی بنائے جو تین مہینہ کے اندر یہ جائزہ لے کہ ان ملکوں کی اپنی ضروریات آئندہ دس سال کی کیا ہیں؟کتنے مبلغین ان کو چاہئیں؟کتنے زبان کے ترجمے کرنے والے چاہئیں؟ کتنے ڈاکٹرز چاہئیں؟ کتنے ٹیچرز چاہئیں؟ جہاں جہاں ضرورت ہے۔ اور اس طرح مختلف ماہرین اگر چاہئیں تو کیا ہیں؟ مقامی زبانوں کے ماہرین کتنے چاہئیں؟ تو یہ جائزے لے کر تین سے چار مہینے کے اندر

اندر اس کی رپورٹ ہونی چاہئے اور پھر جو شعبہ وقفِ نَو ہے وہ اس کا پراپر فالو اَپ (Proper Follow up) کرے۔

بعض لوگ بزنس میں جانا چاہتے ہیں یا پولیس یا فوج میں جانا چاہتے ہیں یا اَورشعبوں میں جانا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے وہ بے شک جائیں لیکن وقف سے فراغت لے لیں۔ یہ اطلاع کیاکریں۔ پھر اسی طرح ہر ملک میں واقفینِ نَو کے لئے کیرئیر گائیڈنس کمیٹی بھی ہونی چاہئے جو جائزہ لیتی رہے اور مختلف فیلڈز میں جانے والوں کی رپورٹ مرکز بھجوائے یا جن کو مختلف فیلڈز میں دلچسپی ہے، اُن کے بارے میں اطلاع ہو، پھر مرکز فیصلہ کرے گا کہ آیا اس کو کس صورت میں اجازت دینی ہے۔ اور پھر یہ بھی جیسا کہ مَیں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے والے واقفینِ نَو اپنے تجدیدِ وقفِ نَو کے عہد کو نہ بھولیں، لکھ کر بھجوایا کریں۔ بانڈ (Bond) لکھیں۔ اسی طرح واقفینِ نَو کے لئے ایک رسالہ لڑکوں کے لئے ’’اسماعیل‘‘ اور لڑکیوں کے لئے ’’مریم‘‘ شروع کیا گیا ہے۔ جرمن اور فرنچ میں بھی اس کا ترجمہ ہونا چاہئے۔ اگر تو ایسے مضامین ہیں جو وہاں کے مقامی واقفینِ نو، واقفاتِ نَو لکھیں تو وہ شائع کریں۔ نہیں تو یہاں سے مواد مہیا ہو سکتا ہے اس کو یہ اپنی اپنی زبانوں میں شائع کر لیا کریں۔ اردو کے ساتھ مقامی زبان بھی ہو۔

اللہ تعالیٰ تمام اُن والدین میں جنہوں نے اپنے بچے وقفِ نَو کے لئے پیش کئے، اس رنگ میں بچوں کی تربیت اور دعا کرنے کی طرف توجہ پیدا فرمائے جو حقیقت میں اُن کو واقفینِ نَو بنانے کا حقدار بنانے والی ہوں۔ اور یہ بچے والدین کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں۔ بچوں کو بھی اپنے ماں باپ اور اپنے عہدوں کو پورا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق بھی عطا فرمائے اور وہ حقیقت میں اُس گروہ میں شامل ہو جائیں جن کا کام صرف اور صرف دین کی اشاعت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 18؍ جنوری 2013ء شہ سرخیاں

    بیشک بچوں کو واقفین نَو میں پیش کرنے کا جذبہ قابل تعریف ہے لیکن ان درخواستوں کو پیش کرنے کے بعد ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ جامعہ احمدیہ میں جانے والوں کی تعداد واقفینِ نَو میں زیادہ ہونی چاہئے۔

    ہمارے سامنے تو تمام دنیا کا میدان ہے۔ ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، جزائر، ہر جگہ ہم نے پہنچنا ہے۔ ہر جگہ، ہر براعظم میں نہیں، ہر ملک میں نہیں، ہر شہر میں نہیں بلکہ ہر قصبہ میں، ہر گاؤں میں، دنیا کے ہر فرد تک اسلام کے خوبصورت پیغام کوپہنچاناہے۔ اس کے لئے چند ایک مبلغین کا م کو سرانجام نہیں دے سکتے۔ دنیا میں دین کو پھیلانے کے لئے دینی علم کی ضرورت ہے اور یہ علم سب سے زیادہ ایسے ادارہ سے ہی مل سکتاہے جس کا مقصد ہی دینی علم سکھاناہو اور یہ ادارہ جماعت احمدیہ میں جامعہ احمدیہ کے نام سے جانا جاتاہے۔ اس لئے واقفین نَو کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو جامعہ احمدیہ میں آنا چاہئے۔ واقفین نَو، ان کے والدین اور شعبہ وقفِ نَو سے متعلقہ انتظامیہ کے لئے نہایت اہم اور ضروری ہدایات۔

    اس سال انتخابات ہو رہے ہیں۔ جماعتوں سے یہ رپورٹیں آنی چاہئیں کہ کون کون سیکرٹریانِ وقفِ نَوفعّال نہیں ہیں۔ اور اگر وہ فعّال نہیں ہیں تو چاہے ان کے ووٹ زیادہ ہوں ان کو اس دفعہ مقرر نہیں کیا جائے گا۔

    وقفِ نَو کاایک نصاب بنا ہواہے۔ اگر جماعت کا بھی ایک نصاب بنا ہواہے تو جب  سیکرٹری تربیت اور سیکرٹری تعلیم اور سیکرٹری وقفِ نَو جماعتی نظام کے تحت ہی کام کررہے ہیں تو امر اء اور صدران کاکام ہے کہ ان کوا کٹھا کر کے ایسا معین لائحہ عمل بنائیں کہ یہ نصاب بہرحال پڑھا جائے۔ خاص طور پر واقفینِ نَو کو اس میں ضرور شامل کیا جائے۔

    وقفِ نَو کے نصاب کو مختلف ممالک اپنی زبانوں میں بھی شائع کرواسکتے ہیں۔ ہر ملک کی انتظامیہ ایک کمیٹی بنائے جو جائزہ لے کہ ان ملکوں کی اپنی ضروریات آئندہ دس سال کی کیا ہیں؟ کتنے مبلغین ان کوچاہئیں؟ کتنے زبان کے ترجمے کرنے والے چاہئیں؟ کتنے ڈاکٹر ز چاہئیں؟ کتنے ٹیچر ز چاہئیں جہاں جہاں ضرورت ہے۔ اور اس طرح مختلف ماہرین اگر چاہئیں تو کیا ہیں؟ مقامی زبانوں کے ماہرین کتنے چاہئیں۔ یہ جائزے لے کر تین سے چار مہینے کے اندر اندر اس کی رپورٹ ہونی چاہئے اور شعبہ وقفِ نَو اس کو Proper Follow up کرے۔

    فرمودہ مورخہ 18؍جنوری 2013ء بمطابق 18؍صلح 1392 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح۔ لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور