اللہ تعالیٰ کی ذاتِ بابرکات کی صفاتِ حسنہ،اس کی حقیقت و مرتبہ

خطبہ جمعہ 18؍ اپریل 2014ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چند اقتباسات پیش کروں گا جن میں آپ نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی کیا حقیقت ہے؟ اس کا مرتبہ کیا ہے؟ اس کے سب طاقتوں کے مالک اور واحد و یگانہ ہونے کا مقام بیان فرمایا ہے نیز یہ بھی کہ وہی ہے جو تمام مخلوق کا خالق ہے۔ ہر چیز کو فنا ہے اور اس کو فنا نہیں۔ آپ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اس کائنات کے خدا تک پہنچنے کا ذریعہ اب صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ جس کا حسن و احسان میں کوئی ثانی نہیں۔ آپ نے بتایا کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو دیکھنے کے لئے اس کی طرف خالص ہو کر جھکنا ضروری ہے۔ اس کے آگے خالص ہو کر جھکنا ضروری ہے۔ اس کی عبادت بجا لانا ضروری ہے۔ پھر جب انسان کی یہ حالت ہوتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ دوڑ کر انسان کو گلے لگاتا ہے اور اس پر اپنے فضلوں کی بارش برساتا ہے۔ پس آپ نے بڑے درد سے فرمایا کہ ایسے خدا سے تعلق جوڑو تا کہ اپنی دنیا و آخرت سنوارنے والے بن سکو۔

اللہ تعالیٰ کی کیا حقیقت ہے، وہ خدا جو تمام کائناتوں کا مالک ہے جس کو اسلام نے پیش کیا ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ اس بارے میں ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ

’’خدا آسمان و زمین کا نور ہے۔ یعنی ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے۔ خواہ وہ ارواح میں ہے۔ خواہ اجسام میں اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ ذہنی ہے خواہ خارجی۔‘‘ (یعنی ہر قسم کا نور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی وہ نور ہے جو جسموں میں نظر آتا ہے۔ ذاتی خوبیاں ہیں ان میں نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض خاص آدمیوں کو دی گئی خوبیاں ہیں وہ ان میں نظر آتی ہیں، ظاہری خوبیاں ہیں یا چھپی ہوئی خوبیاں ہیں، ذہنی خوبیاں ہیں یا خارجی ہیں۔ انسان کے باہر نظر آرہی ہوتی ہیں۔ کسی چیز کی خوبصورتی جو نظر آ رہی ہوتی ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے نور کی وجہ سے ہیں۔ فرمایا:) ’’اسی کے فیض کا عطیّہ ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العالمین کا فیضِ عام ہر چیز پر محیط ہورہا ہے اور کوئی اس کے فیض سے خالی نہیں۔‘‘ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ191 حاشیہ نمبر 11)

دنیا میں جتنی چیزیں ہیں، جتنی ان کی خوبیاں نظر آتی ہیں، جہاں جہاں خوبصورتی نظر آتی ہے، حسن نظر آتا ہے۔ انسان دیکھتا ہے اس کو فائدے پہنچ رہے ہوتے ہیں۔ ہر قسم کی چیزیں جو ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فیض عام کی وجہ سے ہیں اور اس کے فیض سے کوئی خالی نہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ فرمایا کہ

’’وہی تمام فیوض کا مبدء ہے اور تمام انوار کا علت العلل اور تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے‘‘ (اسی سے تمام فیض پھوٹتے ہیں۔ وہی تمام نوروں کا سبب اور ذریعہ ہے۔ وہی ہے جہاں سے رحمتوں کے چشمے پھوٹتے ہیں ) ’’اسی کی ہستیٔ حقیقی تمام عالَم کی قیّوم اور تمام زیر و زبر کی پناہ ہے۔‘‘ (یعنی تمام دنیا کے قائم رکھنے کے لئے اور جو بھی اس میں شکست و ریخت ہو رہی ہے یا جو بھی تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں وہ اسی کی طرف لوٹتی ہیں ) ’’وہی ہے جس نے ہرایک چیز کو ظلمت خانۂ عدم سے باہر نکالا‘‘ (جو اندھیروں میں پڑی ہوئی چیزیں تھیں ان کو باہر نکالا) ’’اور خلعتِ وجود بخشا۔ بجز اس کے کوئی ایسا وجودنہیں ہے کہ جو فی حد ذاتہ واجب اور قدیم ہو۔‘‘ (اس کے علاوہ کوئی ہستی نہیں، کوئی وجودنہیں جو اپنی ذات میں اس بات کا حقدار ٹھہرتا ہو اور ہمیشہ سے ہو) ’’یا اس سے مستفیض نہ ہو بلکہ خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان اور حجر اور شجر اور روح اور جسم سب اسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں۔‘‘ (یہ دنیا، ہماری دنیا بھی، آسمان بھی، انسان بھی، حیوان بھی، پتھر بھی، درخت بھی، روح جسم ہر چیز جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فیض سے ہی وجود میں ہے۔ ) (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ191۔ 192حاشیہ نمبر 11)

پھر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کے بارے میں وضاحت فرماتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں کہ

’’شرکت از روئے حصر عقلی چار قسم پر ہے۔ کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ میں اور کبھی نسب میں اور کبھی فعل میں اور تاثیر میں۔ سو اس سورۃ میں …‘‘ (یعنی سورۃ اخلاص میں) ’’… ان چار قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلا دیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے دو یا تین نہیں اور وہ صمد ہے یعنی اپنے مرتبہ وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد اور یگانہ ہے اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور ہالک الذّات ہیں …‘‘ آگے بعض الفاظ مشکل آئیں گے میں مختصراً ان کی وضاحت کر دوں گا۔

فرمایا کہ ’’…جو اس کی طرف ہر دم محتاج ہیں اور وہ لَمْ یَلِدْ ہے یعنی اس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے اور وہ لَمْ یُوْلَدْ ہے یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا شریک بن جائے اور وہ لَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس سے برابری کرنے والا نہیں تا باعتبار فعل کے اس کا کوئی شریک قرار پاوے۔ سو اس طور سے ظاہر فرما دیا کہ خدئے تعالیٰ چاروں قسم کی شرکت سے پاک اور منزہ ہے اور وحدہ لا شریک ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ518، حاشیہ در حاشیہ نمبر 3)

آپ نے اس میں فرمایا کہ شرکت یا شریک ہونا عقل کی رو سے چار قسم پر منحصر ہے یعنی تعداد میں۔ ایک تو کسی کی شرکت ہو سکتی ہے، کوئی کسی کا شریک ہو سکتا ہے جب تعداد میں اس کے مطابق ہو۔ ایک دو تین چار پانچ ہوں۔ دوسرے مرتبہ اور مقام میں۔ تیسرے نسب یا خاندان میں۔ چوتھے کسی کام کے کرنے کی طاقت میں اور اس کے اثرات قائم کرنے میں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان چاروں قسم کے شرک سے پاک ہے۔ یہاں اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے کھول کر بتا دیا کہ وہ احد ہے۔ وہ اپنے عدد میں ایک ہے۔ دو تین چار نہیں۔ نہ اس کے برابر کوئی ہو سکتا ہے۔ وہ صمد ہے یعنی وہی ہے جس کی ضرورت ہر وقت مخلوق کو ہے۔ جب بھی کسی چیز کی احتیاج ہو، کسی چیز کی ضرورت ہو تو اسی کی طرف جایا جاتا ہے اور جایا جانا چاہئے۔ یا وہی ہے جو اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی طرف جایا جائے۔ کوئی اور وجود ضرورت پوری کرنے کے لئے اس کا ہم پلہ نہیں ہے۔ اس کے برابر نہیں ہے۔ وجہ کیا ہے؟ کوئی وجود برابر کیوں نہیں ہے جو ضرورتیں پوری کر سکے؟ یہاں آپ نے وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس کے علاوہ ہر چیز وجود میں آ سکتی ہے لیکن خدا تعالیٰ ہمیشہ سے ایک ہی ہے اور رہے گا اور پھر ہر چیز کو فنا ہے۔ ایک وقت میں ختم ہو جائے گی، ہلاک ہونے والی ہے۔ یعنی ہر وجود جو مخلوق ہے اس کے ساتھ پیدائش بھی ہے اور فنا بھی لیکن خدا تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ پس بوجہ پیدا ہونے اور ہلاک ہونے کے باقی مخلوق عارضی ہے۔ کچھ وقت کے لئے ہے اور جو عارضی اور کچھ وقت کے لئے ہو وہ اپنی ضروریات کے تمام سامان مہیا نہیں کر سکتا، نہ کسی کو مہیا کروا سکتا ہے۔ پس جو تمام سامان مہیا نہ کر سکے اسے خود ایک خدا کی ضرورت ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جس نے یہ اعلان کیا ہے کہ میں نے اپنی مخلوق کی زندگی قائم رکھنے کے لئے سامان مہیا کئے ہیں۔ وہی ہے جس پر انحصار کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہئے۔ پس یہ وجہ ہے اور تفصیل سے صمد کے یہ معنی ہیں۔ پھر نسب کی بات کی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہیلَمْ یَلِدْ اس کا کوئی بیٹا نہیں۔ وَلَمْ یُوْلَد اور اس کا کوئی باپ نہیں۔ پس نسب، نسل سے وہ بالا ہے۔ لہٰذا اس کا کوئی شریک ہو نہیں سکتا۔ پھر چوتھی بات اللہ تعالیٰ کے متعلق فرماتا ہے کہ لَمْ یَکُن لَّہٗ کُفُوًا اَحَد۔ اس کے کاموں میں کوئی اس کی برابری کرنے والا نہیں۔ پس جب برابری کرنے والا نہیں تو نہ ہی خدا تعالیٰ جیسے کوئی کام کر سکتا ہے۔ نہ ہی کام کے نتائج اور اثرات پیدا کرنا کسی کے بس میں ہے یا ہو سکتا ہے۔ یہ عام دنیا دار بھی جو اپنے کاموں کا نتیجہ دیکھ رہا ہوتا ہے اور بڑے فخر سے کہتا ہے کہ میں نے یہ کر دیا وہ کر دیا۔ اس کے بھی جو نتائج پیدا ہو رہے ہوتے ہیں یہ نتائج پیدا کرنا اس کے بس میں نہیں ہے بلکہ قانون قدرت کے تحت انسان کو اس کی محنت کا صلہ مل رہا ہوتا ہے جو محنت وہ کرتا ہے۔ وہ رب بھی ہے اور رحمان بھی ہے۔ اس کی ربوبیت اور رحمانیت کا فیض انسان کو مل رہا ہوتا ہے۔ پس کتنا بدقسمت ہے وہ انسان جو بجائے اپنے خدا کے اس احسان کے اس کے قریب ہو، اس کے آگے جھکے، اکثریت ان میں سے دور ہٹتی چلی جاتی ہے۔

پھر لیکچر لاہور میں خدا تعالیٰ کی توحید اور سب طاقتوں کا مالک ہونے کے بارے میں آپ نے اسی سورت کو مزید بیان فرمایا کہ

’’قرآن میں ہمارا خدا اپنی خوبیوں کے بارے میں فرماتا ہے۔ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔ (الاخلاص: 2-5) یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے نہ کوئی ذات اس کی ذات جیسی ازلی اور ابدی … نہ کسی چیز کے صفات اُس کی صفات کے مانند ہیں۔ انسان کا علم کسی معلّم کا محتاج ہے…‘‘ (علم حاصل کرنے والے کے لئے کسی علم سکھانے والے کی ضرورت ہے) ’’…اورپھر محدود ہے…‘‘ (جو بھی علم حاصل ہو گا وہ محدود ہوتا ہے) ’’…مگر اس کا علم…‘‘ (خدا تعالیٰ کا علم) ’’…کسی معلم کا محتاج نہیں اور باایں ہمہ غیر محدود ہے…‘‘ (اور ساتھ ساتھ غیر محدود بھی ہے) ’’…انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے…‘‘ (بغیر ہوا کے سن نہیں سکتے) ’’…اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدودنہیں۔ اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے…‘‘ (ایک حد تک دیکھ سکتا ہے انسان) ’’…مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ ایسا ہی انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہے۔ لیکن خدا کی پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے نہ کسی وقت کی محتاج اور غیرمحدود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل و مانند ہیں اور جیسے کہ اس کی کوئی مثل نہیں اس کی صفات کی بھی کوئی مثل نہیں … اگر ایک صفت میں وہ ناقص ہو تو پھر تمام صفات میں ناقص ہوگا۔ اس لئے اس کی توحید قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنی ذات کی طرح اپنے تمام صفات میں بے مثل و مانندنہ ہو۔‘‘

آپ فرماتے ہیں کہ ’’…پھراس سے آگے آیت ممدوحہ بالا کے یہ معنی ہیں کہ خدا نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کوئی اس کا بیٹا ہے۔ کیونکہ وہ غنی بالذات ہے۔ اس کو نہ باپ کی حاجت ہے اور نہ بیٹے کی۔ یہ توحید ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی ہے جو مدار ایمان ہے۔‘‘ (لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20صفحہ154۔ 155)

پھر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی عقلی دلیل دیتے ہوئے آپ قرآن شریف کے عقائد سے ہی استنباط کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ یعنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’پھر بعد اِس کے اُس کے وحدہٗ لا شریک ہونے پر ایک عقلی دلیل بیان فرمائی اور کہا لَوْ کَانَ فِیْھِمَا اٰلِھَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا۔ …‘‘(سورۃ) انبیاء کی آیت 23 ہے۔ پھر فرمایا: ’’… وَمَاکَانَ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ الخ۔ …‘‘مومنون کی آیت (92) ہے۔ ’’…یعنی اگر زمین و آسمان میں بجز اُس ایک ذات جامع صفات کاملہ کے کوئی اور بھی خدا ہوتا تو وہ دونوں بگڑ جاتے۔ کیونکہ ضرور تھا کہ کبھی وہ جماعت خدائیوں کی ایک دوسرے کے برخلاف کام کرتے۔ پس اسی پھوٹ اور اختلاف سے عالَم میں فساد راہ پاتا اور نیز اگر الگ الگ خالق ہوتے تو ہر واحد ان میں سے اپنی ہی مخلوق کی بھلائی چاہتا اور ان کے آرام کے لئے دوسروں کا برباد کرنا روا رکھتا۔ پس یہ بھی موجبِ فساد عالم ٹھہرتا۔‘‘ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ518۔ 519 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3)

پس سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایک سے زیادہ کوئی خدا ہو۔ پھر خدا تعالیٰ کی بعض صفات جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے، ان کا ذکر فرماتے ہوئے مختصر وضاحت آپ نے فرمائی۔ فرمایا کہ

’’جس خد اکی طرف ہمیں قرآن شریف نے بلایا ہے اس کی اس نے یہ صفات لکھی ہیں۔ ھُوَاللّٰہُ الَّذِیْ لَا ٓاِلٰہَ اِلَّاھُوَ۔ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ۔ ھُوَا لرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ  (الحشر: 23) مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ (الفاتحۃ: 4) اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ (الحشر: 24) ھُوَاللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِیُٔ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَ سْمَآءُ الْحُسْنٰی۔ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْا َرْضِ وَھُوَا لْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ  (الحشر: 25) عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْر  (البقرۃ: 21) رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ  (الفاتحۃ: 2-4) اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ  (البقرۃ: 187) اَلْحَیُّ الْقَیُّوم  (البقرۃ: 256) قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ  (الاخلاص: 2-5)

یعنی وہ خدا جو واحد لاشریک ہے جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں۔ یہ اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لاشریک نہ ہو تو شاید اس کی طاقت پر دشمن کی طاقت غالب آجائے۔ اس صورت میں خدائی معرضِ خطرہ میں رہے گی۔ اور یہ جو فرمایا کہ اس کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں۔ اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ ایسا کامل خدا ہے جس کی صفات اور خوبیاں اور کمالات ایسے اعلیٰ اور بلند ہیں کہ اگر موجودات میں سے بوجہ صفات کاملہ کے ایک خدا انتخاب کرنا چاہیں یا دل میں عمدہ سے عمدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی صفات فرض کریں تو سب سے اعلیٰ جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہو سکتا۔ وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنیٰ کو شریک کرنا ظلم ہے۔ …‘‘ (جہاں تک بھی اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی سوچ پہنچ سکتی ہے اس کے ساتھ پھر کسی ادنیٰ کو شریک نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔)

’’…پھر فرمایا کہ عالم الغیب ہے یعنی اپنی ذات کو آپ ہی جانتا ہے۔ اس کی ذات پر کو ئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ ہم آفتاب اور ماہتاب اور ہر ایک مخلوق کا سراپا دیکھ سکتے ہیں مگر خدا کا سراپا دیکھنے سے قاصر ہیں۔ …‘‘ (ہر چیز کو ہم دیکھ سکتے ہیں لیکن خدا کو جسمانی صورت میں نہیں دیکھ سکتے۔)

’’…پھر فرمایا کہ وہ عالم الشہادۃ ہے یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں ہے۔ یہ جائز نہیں کہ وہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو۔ وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان نہیں رکھ سکتا۔ وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا۔ اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہوگا؟ سو وہی خدا ہے جو ان تمام وقتوں کو جانتا ہے۔ پھر فرمایا ھُوَ الرَّحْمٰن یعنی وہ جانداروں کی ہستی اور ان کے اعمال سے پہلے محض اپنے لطف سے نہ کسی غرض سے اور نہ کسی عمل کے پاداش میں ان کے لئے سامان راحت میسر کرتا ہے۔ جیسا کہ آفتاب اور زمین اور دوسری تمام چیزوں کو ہمارے وجود اور ہمارے اعمال کے وجود سے پہلے ہمارے لئے بنا دیا۔ اس عطیہ کا نام خدا کی کتاب میں رحمانیت ہے۔ اور اس کام کے لحاظ سے خدائے تعالیٰ رحمن کہلاتا ہے۔ …‘‘ (یعنی تمام ضروریات کو پہلے سے مہیا کر دیا یہ اس کی روحانیت ہے۔)

’’…اورپھر فرمایا کہ اَلرَّحِیْم یعنی وہ خدا نیک عملوں کی نیک تر جزا دیتا ہے اور کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور اس کام کے لحاظ سے رحیم کہلاتا ہے۔ اور یہ صفت رحیمیت کے نام سے موسوم ہے۔ اور پھر فرمایا مٰلِکِ یَوْمِ الدِّینِ یعنی وہ خدا ہر ایک کی جزا اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ اس کا کوئی ایسا کارپرداز نہیں جس کو اس نے زمین و آسمان کی حکومت سونپ دی ہو…‘‘ (کسی سے کوئی کام کروانے کے لئے اس کو ضرورت نہیں۔ ہر چیز اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ) ’’… اور آپ الگ ہو بیٹھا ہو اور آپ کچھ نہ کرتا ہو۔ وہی کارپرداز سب کچھ جزا سزا دیتا ہو یا آئندہ دینے والا ہو۔ اور پھر فرمایا اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ یعنی وہ خدا بادشاہ ہے جس پر کوئی داغ عیب نہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ انسانی بادشاہت عیب سے خالی نہیں۔ …‘‘ (انسانی بادشاہت عیب سے خالی نہیں ہے۔ کوئی نہ کوئی خامیاں کمزوریاں اس میں ہیں۔ ’’…اگر مثلاً تمام رعیت جلا وطن ہو کر دوسرے ملک کی طرف بھاگ جاوے تو پھر بادشاہی قائم نہیں رہ سکتی یا اگر مثلاً تمام رعیت قحط زدہ ہو جائے …‘‘ (رعایا قحط زدہ ہو جائے) ’’… تو پھر خراج شاہی کہاں سے آئے …‘‘ (جو اس سے ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے وہ کہاں سے آئے گا) ’’… اور اگر رعیت کے لوگ اس سے بحث شروع کر دیں کہ تجھ میں ہم سے زیادہ کیا ہے تو وہ کونسی لیاقت اپنی ثابت کرے۔ …‘‘ (بادشاہ کے مقابلے پر اگر رعایا کھڑی ہو جائے تو کیا ثابت کرے۔ آجکل دنیا میں، ملکوں میں آپ دیکھ لیں۔ یہی کچھ فتنہ و فساد ہو رہا ہے۔ حکومتوں اور رعایا کی جنگیں ہو رہی ہیں۔ پس فرمایا کہ) ’’…پس خدا تعالیٰ کی بادشاہی ایسی نہیں ہے۔ وہ ایک دم میں تمام ملک کو فنا کرکے اور مخلوقات پیدا کر سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا خالق اور قادر نہ ہوتا تو پھر بجز ظلم کے اس کی بادشاہت چل نہ سکتی۔ کیونکہ وہ دنیا کو ایک مرتبہ معافی اور نجات دے کر پھر دوسری دنیا کہاں سے لاتا۔ کیا نجات یافتہ لوگوں کو دنیا میں بھیجنے کے لئے پھر پکڑتا اور ظلم کی راہ سے اپنی معافی اور نجات دہی کو واپس لیتا؟ تو اس صورت میں اس کی خدائی میں فرق آتا…‘‘ (یہ جو لوگوں کا نظریہ ہے ناں کہ معافی کی اور پھر بھیجا۔ پھر فرمایا) ’’…اور دنیا کے بادشاہوں کی طرح داغدار بادشاہ ہوتا جو دنیا کے لئے قانون بناتے ہیں۔ بات بات پر بگڑتے ہیں اور اپنی خودغرضی کے وقتوں پر جب دیکھتے ہیں کہ ظلم کے بغیر چارہ نہیں تو ظلم کو شیرِ مادر سمجھ لیتے ہیں۔ …‘‘ (ظلم کے بغیر چارہ نہیں تو پھر اس طرح ظلم کرتے ہیں جس طرح ماں کا دودھ پی رہے ہیں۔ آجکل بھی آپ دیکھ لیں، بعض ملکوں میں حکومت کے سربراہان کی طرف سے جو ظلم ہو رہا ہے، اسی طرح ہو رہا ہے۔ پھر فرمایا) ’’…مثلاً قانون شاہی جائز رکھتا ہے کہ ایک جہاز کو بچانے کے لئے ایک کشتی کے سواروں کو تباہی میں ڈال دیا جائے اور ہلاک کیا جائے مگر خدا کو تو یہ اضطرار پیش نہیں آنا چاہئے۔ پس اگر خدا پورا قادر اور عدم سے پیدا کرنے والا نہ ہوتا تو وہ یا تو کمزور راجوں کی طرح قدرت کی جگہ ظلم سے کام لیتا اور یا عادل بن کر خدائی کو ہی الوادع کہتا۔ بلکہ خدا کا جہاز تمام قدرتوں کے ساتھ سچے انصاف پر چل رہا ہے۔ پھر فرمایا اَلسَّلَام یعنی وہ خدا جو تمام عیبوں اور مصائب اور سختیوں سے محفوظ ہے بلکہ سلامتی دینے والا ہے۔ اس کے معنے بھی ظاہر ہیں کیونکہ اگر وہ آپ ہی مصیبتوں میں پڑتا، لوگوں کے ہاتھ سے مارا جاتا اور اپنے ارادوں میں ناکام رہتا تو اس بدنمونہ کو دیکھ کر کس طرح دل تسلی پکڑتے کہ ایسا خدا ہمیں ضرور مصیبتوں سے چھڑا دے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ باطل معبودوں کے بارے میں فرماتا ہے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِاجْتَمَعُوْا لَہٗ۔ وَاِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ۔ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ۔ مَا قَدَرُوااللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ۔ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ (الحج: 75-74) جن لوگوں کو تم خدا بنائے بیٹھے ہو وہ تو ایسے ہیں کہ اگر سب مل کر ایک مکھی پیدا کرناچاہیں تو کبھی پیدا نہ کر سکیں اگرچہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ بلکہ اگر مکھی ان کی چیز چھین کر لے جائے تو انہیں طاقت نہیں ہوگی کہ وہ مکھی سے چیز واپس لے سکیں۔ ان کے پرستار عقل کے کمزور اور وہ طاقت کے کمزور ہیں۔ کیا خدا ایسے ہوا کرتے ہیں؟ خدا تو وہ ہے کہ سب قوتوں والوں سے زیادہ قوت والا اور سب پر غالب آنے والا ہے۔ نہ اُس کو کوئی پکڑ سکے اور نہ مار سکے۔ ایسی غلطیوں میں جو لوگ پڑتے ہیں وہ خدا کی قدر نہیں پہچانتے اور نہیں جانتے خدا کیسا ہونا چاہئے اور پھر فرمایا کہ خدا امن کا بخشنے والا اور اپنے کمالات اور توحید پر دلائل قائم کرنے والا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سچے خدا کا ماننے والا کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہو سکتااور نہ خدا کے سامنے شرمندہ ہوگا کیونکہ اس کے پاس زبردست دلائل ہوتے ہیں۔ لیکن بناوٹی خدا کا ماننے والا بڑی مصیبت میں ہوتا ہے۔ وہ بجائے دلائل بیان کرنے کے ہر ایک بیہودہ بات کو راز میں داخل کرتا ہے تا ہنسی نہ ہو اور ثابت شدہ غلطیوں کو چھپانا چاہتا ہے۔

اورپھر فرمایا کہ اَلْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ یعنی وہ سب کا محافظ ہے اور سب پر غالب اور بگڑے ہوئے کاموں کابنانے والا ہے۔ اور اس کی ذات نہایت ہی مستغنی ہے۔

اور فرمایا ھُوَاللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِیُٔ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْا َسْمَآءُ الْحُسْنٰی۔ یعنی وہ ایسا خدا ہے کہ جسموں کا بھی پید اکرنے والا اور روحوں کا بھی پیدا کرنے والا۔ رِحم میں تصویر کھینچنے والا ہے۔ …‘‘ (بچے کی پیدائش سے پہلے جب بچہ رحم میں ہی ہوتا ہے تو وہیں اس کی شکل بنا دیتا ہے۔ )’’…تمام نیک نام جہاں تک خیال میں آ سکیں سب اسی کے نام ہیں۔ اور پھر فرمایا۔ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْا َرْضِ وَھُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ یعنی آسمان کے لوگ بھی اس کے نام کو پاکی سے یاد کرتے ہیں اور زمین کے لوگ بھی۔ اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ آسمانی اجرام میں آبادی ہے اور وہ لوگ بھی پابند خدا کی ہدایتوں کے ہیں۔ …‘‘ (یعنی دنیا میں اور بھی ایسے کُرّے ہوسکتے ہیں جہاں آبادیاں ہوں، بلکہ ہیں۔)

’’…اور پھر فرمایا عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ یعنی خدا بڑا قادر ہے۔ یہ پرستاروں کے لئے تسلی ہے۔ کیونکہ اگر خدا عاجز ہو اور قادر نہ ہو تو ایسے خدا سے کیا امید رکھیں۔ اور پھر فرمایا۔ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ یعنی وہی خدا ہے جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا۔ رحمن رحیم اور جزا کے دن کا آپ مالک ہے۔ اس اختیار کو کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا۔ ہر ایک پکارنے والے کی پکار کو سننے والا اور جواب دینے والا یعنی دعاؤں کا قبول کرنے والا۔ اور پھر فرمایا اَلْحَیُّ الْقَیُّوم یعنی ہمیشہ رہنے والا اور تمام جانوں کی جان اور سب کے وجود کا سہارا۔ یہ اس لئے کہا کہ وہ ازلی ابدی نہ ہو تو اس کی زندگی کے بارے میں بھی دھڑکا رہے گا کہ شاید ہم سے پہلے فوت نہ ہو جائے۔ اور پھر فرمایا کہ وہ خدا اکیلا خدا ہے نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا بیٹا۔ اور نہ کوئی اس کے برابر اور نہ کوئی اس کا ہم جنس۔‘‘ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10صفحہ 372۔ 376)

پھر آپ فرماتے ہیں:

’’مذہب اسلام کے تمام احکام کی اصل غرض یہی ہے کہ وہ حقیقت جو لفظ اسلام میں مخفی ہے اُس تک پہنچایا جائے۔ اسی غرض کے لحاظ سے قرآن شریف میں ایسی تعلیمیں ہیں کہ جو خدا کو پیارا بنانے کے لئے کوشش کررہی ہیں۔ کہیں اس کے حسن و جمال کو دکھاتی ہیں اور کہیں اُس کے احسانوں کو یاد دلاتی ہیں۔ کیونکہ کسی کی محبت یا تو حُسن کے ذریعہ سے دل میں بیٹھتی ہے اور یا احسان کے ذریعہ سے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ خدا اپنی تمام خوبیوں کے لحاظ سے واحد لاشریک ہے کوئی بھی اس میں نقص نہیں۔ وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا…‘‘ (تمام صفات اس میں کامل طور پر جمع ہیں) ’’…اور مظہر ہے تمام پاک قدرتوں کا…‘‘ (ہر پاک قدرت کے اظہار اس سے ہو رہے ہوتے ہیں۔) ’’…اور مبدأ ہے تمام مخلوق کا۔ …‘‘ (ہر چیز جو ہے وہی پیدا کرنے والا ہے۔ ’’…اور سرچشمہ ہے تمام فیضوں کا۔ …‘‘ (تمام فیض اسی سے ملتے ہیں۔) ’’…اور مالک ہے تمام جزا سزا کا۔ اور مرجع ہے تمام امور کا۔‘‘ (تمام کام جو ہیں، تمام اعمال جو ہیں اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں) ’’…اور نزدیک ہے باوجود دُوری کے اور دُور ہے باوجودنزدیکی کے۔ وہ سب سے اُوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور بھی ہے۔ …‘‘ (یعنی کہ اتنا وہ قریب ہے) ’’…اور وہ سب چیزوں سے زیادہ پوشیدہ ہے مگرنہیں کہہ سکتے کہ اس سے کوئی زیادہ ظاہر ہے۔ وہ زندہ ہے اپنی ذات سے اور ہرایک چیز اس کے ساتھ زندہ ہے۔ …‘‘ (حیّ کا مطلب یہی ہے کہ زندہ بھی ہے اور زندہ رکھنے والا بھی ہے) ’’…وہ قائم ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ قائم ہے۔ اُس نے ہریک چیز کو اٹھا رکھا ہے اور کوئی چیز نہیں جس نے اس کو اٹھا رکھا ہو۔ …‘‘ (یعنی ہر چیز کا انحصار اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی ہے) ’’…کوئی چیز نہیں جو اس کے بغیر خود بخود پیداہوئی ہے یا اس کے بغیر خود بخود جی سکتی ہے۔ وہ ہریک چیز پر محیط ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ کیسا احاطہ ہے۔ وہ آسمان اور زمین کی ہریک چیز کا نور ہے اور ہریک نُور اسی کے ہاتھ سے چمکا۔ اور اُسی کی ذات کا پَر تَوہ ہے۔ وہ تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ کوئی روح نہیں جو اس سے پرورش نہ پاتی ہو اور خود بخود ہو۔ کسی روح کی کوئی قوت نہیں جو اس سے نہ ملی ہو اور خود بخود ہو۔ اور اس کی رحمتیں دو قسم کی ہیں (۱) ایک وہ جو بغیر سبقت عمل کسی عامل کے قدیم سے ظہور پذیر ہیں جیسا کہ زمین اور آسمان اور سورج اور چاند اور ستارے اور پانی اور آگ اور ہوا اور تمام ذرّات اس عالم کے جو ہمارے آرام کے لئے بنائے گئے۔ ایسا ہی جن جن چیزوں کی ہمیں ضرورت تھی وہ تمام چیزیں ہماری پیدائش سے پہلے ہی ہمارے لئے مہیّا کی گئیں اور یہ سب اُس وقت کیا گیا جبکہ ہم خود موجودنہ تھے۔ نہ ہمارا کوئی عمل تھا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ سورج میرے عمل کی وجہ سے پیدا کیا گیا یا زمین میرے کسی شدھ کرم کے سبب سے بنائی گئی۔ غرض یہ وہ رحمت ہے جو انسان اور اس کے عملوں سے پہلے ظاہر ہو چکی ہے جو کسی کے عمل کا نتیجہ نہیں (۲) دوسری رحمت وہ ہے جو اعمال پر مترتب ہوتی ہے‘‘۔ (لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 152۔ 153)

کہ جب عمل کرو نیک عمل کرو تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی جزا دیتا ہے۔

پھر آپ نے یہ بیان فرمایا کہ اب اس زمانے میں خدا تک پہنچنے کے لئے ایک ہی راستہ ہے اور وہ راستہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

’’اُس قادر اور سچے اور کامل خدا کو ہماری روح اور ہمارا ذرہ ذرہ وجود کا سجدہ کرتا ہے جس کے ہاتھ سے ہر ایک روح اور ہر ایک ذرہ مخلوقات کا مع اپنی تمام قویٰ کے ظہورپذیر ہوا اور جس کے وجود سے ہر ایک وجود قائم ہے اور کوئی چیز نہ اس کے علم سے باہر ہے اور نہ اس کے تصرف سے نہ اُس کے خَلْق سے۔ اور ہزاروں درود اور سلام اور رحمتیں اور برکتیں اُس پاک نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوں جس کے ذریعہ سے ہم نے وہ زندہ خدا پایا جو آپ کلام کر کے اپنی ہستی کا آپ ہمیں نشان دیتا ہے اور آپ فوق العادت نشان دکھلا کر اپنی قدیم اور کامل طاقتوں اور قوتوں کا ہم کو چمکنے والا چہرہ دکھاتا ہے۔ سو ہم نے ایسے رسول کو پایا جس نے خدا کو ہمیں دکھلایا۔ اور ایسے خدا کوپایا جس نے اپنی کامل طاقت سے ہر ایک چیز کو بنایا۔ اس کی قدرت کیا ہی عظمت اپنے اندر رکھتی ہے جس کے بغیر کسی چیز نے نقش وجودنہیں پکڑا اور جس کے سہارے کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی۔ وہ ہمارا سچا خدا بیشمار برکتوں والا ہے اور بیشمار قدرتوں والا اور بیشمار حسن والا اور بے شمار احسان والا۔ اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں۔‘‘ (نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 363)

پھر ایسے لوگوں کے بارے میں جو خدا تعالیٰ کو نہیں مانتے آپ فرماتے ہیں۔ کہ

’’خدا کی ذات غیب الغیب اور ورا ء الوراء اور نہایت مخفی واقع ہوئی ہے جس کو عقول انسانیہ محض اپنی طاقت سے دریافت نہیں کر سکتیں …‘‘ (وہ چھپی ہوئی ہستی ہے اور اس کو صرف عقلوں سے محفوظ نہیں کیا جا سکتا۔ دھریہ لوگ کہتے ہیں کہ جی ہم عقل سے خدا تعالیٰ کو کس طرح سمجھیں یا صرف عقل سے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ فرمایا) ’’…عقول انسانیہ محض اپنی طاقت سے دریافت نہیں کر سکتیں اور کوئی برہان عقلی اس کے وجود پر قطعی دلیل نہیں ہوسکتی…‘‘ (کوئی عقلی دلیل اس کے وجود پر قطعی دلیل نہیں ہو سکتی) ’’…کیونکہ عقل کی دوڑ اور سعی صرف اِس حد تک ہے کہ اس عالم کی صنعتوں پر نظر کرکے صانع کی ضرورت محسوس کرے…‘‘ (عقل زیادہ سے زیادہ یہیں تک پہنچ سکتی ہے کہ کسی چیز کو دیکھ کر بتائے کہ اس کو کس نے بنایا ہے) ’’…مگر ضرورت کا محسوس کرنا اور شئے ہے اور اس درجہ عین الیقین تک پہنچناکہ جس خدا کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے وہ درحقیقت موجود بھی ہے یہ اور بات ہے۔ …‘‘ (ایک خدا کی ضرورت ہے وہ موجود بھی ہے کہ نہیں یہ بالکل اور بات ہے) ’’…اور چونکہ عقل کا طریق ناقص اور ناتمام اور مشتبہ ہے اسلئے ہر ایک فلسفی محض عقل کے ذریعہ سے خدا کوشناخت نہیں کر سکتا بلکہ اکثر ایسے لوگ جو محض عقل کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا پتہ لگانا چاہتے ہیں آخر کار دہریہ بن جاتے ہیں۔ اور مصنوعات زمین و آسمان پر غور کرنا کچھ بھی ان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ …‘‘ (بڑے غور و فکر کرنیو الے ہیں، بڑے کائنات پر بھی غور کرتے ہیں، زمین پر بھی غور کرتے ہیں، سائنس پر بھی غور کرنے والے ہیں لیکن ان میں سے بہت سارے لوگ دھریہ بھی ہیں جیسا کہ اس زمانے میں نظر آتا ہے کیونکہ صرف عقل کے استعمال کرنے سے ان کو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا۔)

’’…اور خدا تعالیٰ کے کاملوں پر ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں …‘‘ (نتیجۃً کیا ہوتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق ہے ان سے مذاق اور ٹھٹھہ کر رہے ہوتے ہیں فرمایا) ’’…اور اُن کی یہ حجت ہے کہ دنیا میں ہزارہا ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جن کے وجود کا ہم کوئی فائدہ نہیں دیکھتے اور جن میں ہماری عقلی تحقیق سے کوئی ایسی صنعت ثابت نہیں ہوتی جو صانع پر دلالت کرے بلکہ محض لغو اور باطل طور پر اُن چیزوں کا وجود پایا جاتا ہے۔ …‘‘

عقل کیونکہ اس تک پہنچ نہیں سکی، اس لئے ضرورت ہی نہیں کہ کوئی اس کا بنانے والا بھی ہو گا۔

فرماتے ہیں کہ ’’…افسوس وہ نادان نہیں جانتے کہ عدم علم سے عدم شیٔ لازم نہیں آتا۔ …‘‘ (یعنی کسی چیز کا علم نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چیز موجودنہیں ہے) ’’…اِس قسم کے لوگ کئی لاکھ اِس زمانہ میں پائے جاتے ہیں جو اپنے تئیں اول درجہ کے عقلمند اور فلسفی سمجھتے ہیں …‘‘ (اب تو یہ کروڑوں میں ہو گئے ہیں۔ بلکہ دنیا میں بہت سارے لوگ ہیں کہ انہی باتوں کی وجہ سے انہوں نے خدا تعالیٰ پر یقین کرنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ روحانیت کا جو خانہ تھا وہ بالکل خالی ہوتا چلا جا رہا ہے۔)

فرمایا ’’…اور خدا تعالیٰ کے وجود سے سخت منکر ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی عقلی دلیل زبر دست اُن کو ملتی تو وہ خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار نہ کرتے۔ اور اگر وجود باری جلّ شانہٗ پر کوئی برہان یقینی عقلی انکو ملزم کرتی تو وہ سخت بے حیائی اور ٹھٹھے اور ہنسی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر نہ ہو جاتے۔ …‘‘ (یعنی اگر ایسا کوئی یقینی اور عقلی ثبوت مل جاتا جو ان کا منہ بند کرانے کے لئے کافی ہوتا تو پھر وہ خدا تعالیٰ کی ذات پر ٹھٹھہ اور ہنسی نہ کرتے، اس کا انکار نہ کرتے جس طرح آجکل دنیا کی اکثریت کر رہی ہے۔ فرمایا ’’… پس کوئی شخص فلسفیوں کی کشتی پر بیٹھ کر طوفان شبہات سے نجات نہیں پا سکتا…‘‘ (پھر فلسفیوں کی بھی باتیں سننی ہیں یا ظاہری طور پرسائنس کو دیکھنا ہے یا روحانیت سے دور ہٹ کے دیکھنا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی ہستی کے بارے میں جو شبہات دل میں پیدا ہوتے ہیں ان سے تم نجات نہیں پا سکتے وہ تمہارے دل سے کبھی نہیں دور ہو سکتے) ’’…بلکہ ضرور غرق ہوگا…‘‘ (مزید دھریت میں ڈوبتا چلا جائے گا۔ ) ’’…اور ہر گز ہرگز شربت توحیدِ خالص اس کو میسر نہیں آئے گا۔ اب سوچو کہ یہ خیال کس قدر باطل اور بدبودار ہے کہ بغیر وسیلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توحید میسر آ سکتی ہے…‘‘ (توحید میسر نہیں آ سکتی جب تک ایک روحانی وسیلہ نہ ہو اور روحانی وسیلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔) ’’…اور اس سے انسان نجات پا سکتا ہے۔ اے نادانو!جب تک خدا کی ہستی پر یقین کامل نہ ہو اُس کی توحید پر کیونکر یقین ہو سکے۔ پس یقیناسمجھو کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے دہریوں اور بد مذہبوں کو ہزار ہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجودکا قائل کر دیا اور اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل پیروی کرنے والے ان نشانوں کو دہریوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بات یہی سچ ہے کہ جب تک زندہ خدا کی زندہ طاقتیں انسان مشاہدہ نہیں کرتا شیطان اس کے دل میں سے نہیں نکلتا اور نہ سچی توحید اس کے دل میں داخل ہوتی ہے اور نہ یقینی طور پر خداکی ہستی کا قائل ہو سکتا ہے۔ اور یہ پاک اور کامل توحید صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ سے ملتی ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22صفحہ 120۔ 121)

پھر خدا کے وجود پر یقین، ایسا یقین دلوانے کے لئے جو انسان کی توجہ ہر معاملے میں صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی طرف رکھے آپ فرماتے ہیں اور بڑے درد سے فرماتے ہیں کہ

’’ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق اور وفا سے اس کے ہو گئے ہیں۔ وہ غیروں پر جو اس کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے صادق وفادارنہیں ہیں وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا۔ کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں۔ کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے۔ اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔ کس دَفْ سے میں باز اروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سُننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 21۔ 22)

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس زندہ خدا کا پیغام اس زمانے کے امام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کی اتباع میں دنیا کو پہنچانے والے ہوں اور دنیا کو یہ احساس دلانے والے ہوں کہ زندہ خدا ہے، موجود ہے، اب بھی سنتا ہے، نشان بھی دکھاتا ہے۔ اس کی طرف لَوٹو۔ اس کی طرف آؤ۔ اور ہم خود بھی اس خدا سے زندہ تعلق پیدا کرنے والے ہوں اور اس تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں۔ اس کی عبادت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ اس کی صفات کا صحیح ادراک حاصل کرنے والے ہوں۔ اس کے انعامات کے وارث ہوں۔ ہماری نسلیں بھی اور ہم بھی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے شرک سے ہر طرح محفوظ رہیں۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 18؍ اپریل 2014ء شہ سرخیاں

    خدا سے تعلق جوڑو تا کہ اپنی دنیا و آخرت سنوارنے والے بن سکو اس کائنات کے خدا تک پہنچنے کا ذریعہ اب صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔

    جس کا حسن و احسان میں کوئی ثانی نہیں ہر قسم کی چیزیں جو ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فیض عام کی وجہ سے ہیں اور اس کے فیض سے کوئی خالی نہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔

    خدا تو وہ ہے کہ سب قوتوں والوں سے زیادہ قوت والا اور سب پر غالب آنے والا ہے۔ نہ اُس کو کوئی پکڑ سکے اور نہ مار سکے۔

    سچے خدا کا ماننے والا کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہو سکتا اور نہ خدا کے سامنے شرمندہ ہوگا کیونکہ اس کے پاس زبردست دلائل ہوتے ہیں۔ لیکن بناوٹی خدا کا ماننے والا بڑی مصیبت میں ہوتا ہے۔

    پاک اور کامل توحید صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ سے ملتی ہے۔

    مذہب اسلام کے تمام احکام کی اصل غرض یہی ہے کہ وہ حقیقت جو لفظ اسلام میں مخفی ہے اُس تک پہنچایا جائے۔

    کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں۔ کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔

    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے الفاظ میں ہی مذہبِ اسلام کی پیش کردہ تعلیمات میں اللہ تعالیٰ کی ذاتِ بابرکات کی صفاتِ حسنہ، اس کی حقیقت اور اس کے مرتبہ کا بیان

    فرمودہ مورخہ 18؍اپریل 2014ء بمطابق 18شہادت 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح۔ لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور