قبولیت دعا کے بعض واقعات اور نشانات

خطبہ جمعہ 21؍ نومبر 2014ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اس وقت مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض ارشادات اور تحریرات پیش کروں گا جن میں آپ نے قبولیت دعا کے واقعات بیان کئے ہیں۔ یہ چند واقعات ہیں۔ ان میں نشانات کا بھی ذکر فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات کا بھی ذکر فرمایا ہے اور نصیحت فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں مجھے بھیجا ہے، اپنے فرستادہ کو بھیجا ہے۔ اس کی باتوں کو سنو کہ اسی میں برکت ہے اور اس سلسلے کی ترقی خدا تعالیٰ کی تقدیروں میں سے ایک تقدیر ہے اور اس کے ماننے سے ہی انسانیت کی بقا ہے۔

ایک جگہ نواب علی محمد خان صاحب رئیس لدھیانہ کے ایک خط کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نواب علی محمد خان صاحب مرحوم رئیس لدھیانہ نے میری طرف خط لکھا کہ میرے بعض امور معاش بندہو گئے ہیں آپ دعا کریں کہ تا وہ کھل جاویں۔ (کچھ کاروباری پریشانیاں تھیں۔ فرماتے ہیں) جب میں نے دعا کی تو مجھے الہام ہوا کہ کھل جائیں گے۔ میں نے بذریعہ خط ان کو اطلاع دے دی۔ پھر صرف دو چار دن کے بعد وہ وجوہ معاش کھل گئے (ان کے کاروبار میں یا ان کے کام میں کمی کی جو وجہ بنی تھی وہ دور ہو گئی۔ فرمایا کہ میں نے بذریعہ خط ان کو اطلاع دی۔ وہ دو چار دن میں کھل گئے) اور ان کو بشدت اعتقاد ہو گیا۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہ ان کا جو اعتقاد تھا مزید پختہ ہو گیا) پھر ایک دفعہ انہوں نے بعض اپنے پوشیدہ مطالب کے متعلق میری طرف ایک خط روانہ کیا اور جس گھڑی انہوں نے خط ڈاک میں ڈالا اسی گھڑی مجھے الہام ہوا کہ اس مضمون کا خط ان کی طرف سے آنے والا ہے۔ تب مَیں نے بلا توقّف ان کی طرف یہ خط لکھا کہ اس مضمون کا خط آپ روانہ کریں گے۔ دوسرے دن وہ خط آ گیا اور جب میرا خط ان کو ملا تو وہ دریائے حیرت میں ڈوب گئے کہ یہ غیب کی خبر کس طرح مل گئی کیونکہ میرے اس راز کی خبر (انہوں نے یہ سوچا کہ ان کے اس راز کی خبر) کسی کو نہ تھی۔ اور ان کا اعتقاد اس قدر بڑھاکہ محبت اور ارادت میں فنا ہو گئے اور انہوں نے ایک چھوٹی سی یاد داشت کی کتاب میں وہ دونوں نشان متذکرہ بالا درج کر دیئے اور ہمیشہ ان کو پاس رکھتے تھے۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ) جب مَیں پٹیالہ میں گیا اور جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے۔ جب وزیر سید محمد حسن صاحب کی ملاقات ہوئی تو اتفاقاً سلسلہ گفتگو میں وزیر صاحب اور نواب صاحب کا میرے خوارق اور نشانوں کے بارہ میں کچھ تذکرہ ہوا۔ تب نواب صاحب مرحوم نے ایک چھوٹی سی کتاب اپنی جیب میں سے نکال کر وزیر صاحب کے سامنے پیش کر دی اور کہا کہ میرے ایمان اور ارادت کا باعث تو یہ دو پیشگوئیاں ہیں جو اس کتاب میں درج ہیں۔ اور جب کچھ مدت کے بعد ان کی موت سے ایک دن پہلے میں ان کی عیادت کے لئے لدھیانہ میں ان کے مکان پر گیا تو وہ بواسیر کے مرض سے بہت کمزور ہو رہے تھے۔ اور بہت خون آرہا تھا۔ اس حالت میں وہ اٹھ بیٹھے اور اپنے اندر کے کمرہ میں چلے گئے اور وہی چھوٹی کتاب لے آئے اور کہا کہ یہ مَیں نے بطور حرز جان رکھی ہے اور اس کے دیکھنے سے میں تسلی پاتا ہوں اور وہ مقام دکھلائے جہاں دونوں پیشگوئیاں لکھی ہوئی تھیں۔ پھر جب قریب نصف کے یا زیادہ رات گزری تو وہ فوت ہو گئے‘‘۔ یہ نشان اب بھی ہیں حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ ’’میں یقین رکھتا ہوں کہ اب تک (یہ باتیں جو انہوں نے اپنی ڈائری میں لکھی تھیں ) ان کے کتب خانہ میں وہ کتاب ہوگی‘‘۔ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد22 صفحہ257-258)

پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: چند سال ہوئے ہیں کہ سیٹھ عبد الرحمن صاحب تاجر مدراس جو اول درجہ کے مخلص جماعت میں سے ہیں قادیان میں آئے تھے اور ان کی تجارت کے امور میں کوئی تفرقہ اور پریشانی واقع ہو گئی تھی۔ انہوں نے دعا کے لئے درخواست کی۔ تب یہ الہام ہوا جو ذیل میں درج ہے۔ قادر ہے وہ بارگہ ٹوٹا کام بناوے۔ بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھیدنہ پاوے۔ اس الہامی عبارت کا یہ مطلب تھا کہ خدا تعالیٰ ٹوٹاہوا کام بنا دے گا۔ مگر پھر کچھ عرصہ کے بعد بنا بنایا توڑ دے گا۔ (فرماتے ہیں کہ) چنانچہ یہ الہام قادیان میں ہی سیٹھ صاحب کو سنایا گیا اور تھوڑے دن ہی گزرے تھے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے تجارتی امور میں رونق پیدا کر دی۔ (کام ان کے بحال ہو گئے اور بڑی ہی کشائش پیدا ہو گئی۔ فرمایا کہ) اور ایسے اسباب غیب سے پیدا ہوئے کہ فتوحات مالی شروع ہو گئیں (بے انتہا مالی کشائش پیدا ہوئی) اور پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ بنا بنایا کام ٹوٹ گیا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22صفحہ 259-260)

الہام کے مطابق پہلے تو کاروبار میں ترقی ہوئی اور پھر کچھ عرصے کے بعد آہستہ آہستہ اس میں خرابی پیدا ہونی شروع ہوئی اور پھر کاروبار خراب ہو گیا۔

پھر آپ ایک جگہ اپنے بارے میں ہی فرماتے ہیں کہ: ’’مجھے دو بیماریاں مدّت دراز سے تھیں۔ ایک شدید درد سر جس سے میں نہایت بیتاب ہو جاتا تھا اور ہولناک عوارض پیدا ہو جاتے تھے (بڑی شدید سر درد ہوتی تھی۔ فرمایا) اور یہ مرض قریباً پچیس برس تک دامنگیر رہی اور اس کے ساتھ دوران سر بھی لاحق ہو گیا (یعنی چکروں کی تکلیف بھی ہو گئی)اور طبیبوں نے لکھا کہ ان عوارض کا آخری نتیجہ مرگی ہوتی ہے۔ (دورے پڑتے ہیں مرگی کے۔ فرماتے ہیں کہ) چنانچہ میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر قریباً دو ماہ تک اسی مرض میں مبتلا ہو کر آخر مرض صرع میں مبتلا ہو گئے (یعنی مرگی کے دورے ان کو پڑنے لگ گئے)اور اسی سے ان کا انتقال ہو گیا۔ لہٰذا میں دعا کرتا رہا کہ خداتعالیٰ ان امراض سے مجھے محفوظ رکھے۔ ایک دفعہ عالم کشف میں مجھے دکھائی دیا کہ ایک بلا سیاہ رنگ چارپائے کی شکل پر جو بھیڑ کے قد کی مانند اس کا قد تھا (سیاہ رنگ کی بلا تھی۔ جانور کی شکل کی طرح تھی اور بھیڑ کے مطابق قد تھا۔ ) اور بڑے بڑے بال تھے اور بڑے بڑے پنجے تھے میرے پر حملہ کرنے لگی اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی صرع ہے۔ (یعنی مرگی کی بیماری ہے)۔ تب مَیں نے اپنا داہنا ہاتھ زور سے اس کے سینہ پر مارا اور کہا کہ دُور ہو تیرا مجھ میں حصہ نہیں۔ تب خداتعالیٰ جانتا ہے کہ بعد اس کے وہ خطرناک عوارض جاتے رہے اور وہ درد شدید بالکل جاتی رہی۔ صرف دوران سر کبھی کبھی ہوتا ہے (یعنی کبھی کبھی چکروں کی تکلیف ہوتی ہے) تا دو زرد چادروں کی پیشگوئی میں خلل نہ آوے۔ (مسیح موعودؑ کے بارے میں یہ بھی پیشگوئی ہے کہ وہ دو زرد چادروں میں ہو گا اور دو زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں۔ پہلی تو یہی فرمائی۔ چکروں کی تکلیف۔ فرمایا) ’’دوسری مرض ذیابیطس تخمینًا بیس برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے۔ جیسا کہ اس نشان کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے اور ابھی تک بیس دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے اور امتحان سے (یعنی ٹیسٹ کرنے سے) بول میں شکر پائی گئی۔ ایک دن مجھے خیال آیا کہ ڈاکٹروں کے تجربہ کے رو سے انجام ذیابیطس کا یا تو نزول الماء ہوتا ہے (آنکھوں کی بیماری ہوجاتی ہے) اور یا کاربنکل یعنی سرطان کا پھوڑا نکلتا ہے جو مہلک ہوتا ہے۔ سو اسی وقت نزول الماء کی نسبت مجھے الہام ہوا۔ (یعنی آنکھوں کی بیماری کے متعلق الہام ہوا کہ) نَزَلَتِ الرَّحْمَۃُ عَلٰی ثَلٰثٍ۔ اَلْعَیْن وَعَلَی الْاُخْرَیَیْنِ۔ یعنی تین عضو پر رحمت نازل کی گئی آنکھ اور دو اور عضو پر۔ اور پھر جب کاربنکل کا خیال میرے دل میں آیا تو الہام ہوا۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔ سو ایک عمر گزری کہ مَیں ان بلاؤں سے محفوظ ہوں‘‘۔ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22صفحہ 376-377)

یہاں ذیابیطس یعنی شوگر کی بیماری کا ذکر ہوا۔ گزشتہ دنوں ایک عرب احمدی نے خط لکھ کر پوچھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شوگر تھی تو پھر اتنے زیادہ روزے کیوں رکھے۔ یہ جو حضرت مسیح موعود اپنی بیماری کا ذکر فرما رہے ہیں یہ 1907ء میں فرمایا اور جہاں روزوں کا ذکر ہے وہاں دعوے سے بہت پہلے جوانی میں روزوں کا ذکر ہے۔ بلکہ آپ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ میں نے جو لگاتار روزے رکھے تھے وہ جوانی میں رکھے تھے اور چالیس سال کے بعد تو ویسے بھی انسان کمزور ہو جاتا ہے۔ اتنے میں رکھ نہیں سکتا تھا۔ اور اس وقت جو میری حالت تھی اس میں مجھ میں اتنی طاقت تھی کہ اگر میں چاہتا تو چار سال تک بھی روزے رکھ سکتا تھا۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 257۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

تو بہرحال یہ جو شوگر ہے، یہ شوگر بعد میں شروع ہوئی۔ اور یہ جوانی کی بات ہے جب آپ نے لگاتار چھ مہینے روزے رکھے۔

حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی بیماری کے بارے میں ایک (جگہ) بیان فرماتے ہیں۔ ان کا ذکر گزشتہ خطبے میں حضرت مصلح موعودؓ کے حوالے سے ہوا تھا کہ جب ان کی وفات ہوئی ہے تو حضرت مصلح موعودؓ کو بڑا صدمہ پہنچا تھا۔ بہرحال ان کا ایک بڑا مقام تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کی بیماری کے دوران ان کے لئے دعا بھی کرتے رہے اور اسی بارے میں ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:

’’سال گزشتہ میں یعنی 11؍ اکتوبر 1905ء کو (بروز چار شنبہ) ہمارے ایک مخلص دوست یعنی مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اسی بیماری کاربنکل یعنی سرطان سے فوت ہو گئے تھے۔ ان کے لئے بھی میں نے بہت دعا کی تھی مگر ایک بھی الہام ان کے لئے تسلی بخش نہ تھا بلکہ بار بار یہ الہام ہوتے رہے کہ 1۔ کفن میں لپیٹا گیا۔ 2۔ 47 برس کی عمر۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ 3۔ ’اِنَّ الْمَنَایَا لَا تَطِیْشُ سِھَامُھَا۔ یعنی موتوں کے تیر خطانہیں جاتے۔ جب اس پر بھی دعا کی گئی تب الہام ہوا۔ 4۔ یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ۔ 5۔ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ یعنی اے لوگو! تم اس خد اکی پرستش کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے یعنی اسی کو اپنے کاموں کا کارساز سمجھو اور اس پر توکّل رکھو۔ کیا تم دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو۔ اس میں یہ اشارہ تھا کہ کسی کے وجود کو ایسا ضروری سمجھنا کہ اس کے مرنے سے نہایت درجہ حرج ہو گا ایک شرک ہے اور اس کی زندگی پر نہایت درجہ زور لگا دینا ایک قسم کی پرستش ہے۔ اس کے بعد مَیں خاموش ہو گیا اور سمجھ لیا کہ اس کی موت قطعی ہے۔ چنانچہ وہ گیارہ اکتوبر 1905ء کو بروز چار شنبہ بوقت عصر اس فانی دنیا سے گزر گئے۔ وہ درد جو اُن کے لئے دعا کرنے میں میرے دل پر وارد ہواتھا خد انے اس کو فراموش نہ کیا اور چاہا کہ اس ناکامی کا ایک اور کامیابی کے ساتھ تدارک کرے۔ اس لئے اس نشان کے لئے سیٹھ عبد الرحمٰن کو منتخب کر لیا۔ اگرچہ خدا نے عبدالکریم کو ہم سے لے لیا تو عبدالرحمن کو دوبارہ ہمیں دے دیا۔ وہی مرض ان کے دامنگیر ہو گئی آخر وہ اسی بندہ کی دعاؤں سے شفا یاب ہوگئے۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک۔ (فرماتے ہیں کہ) میرا صدہا مرتبہ کا تجربہ ہے (سینکڑوں مرتبہ تجربہ کیا ہے) کہ خدا ایسا کریم و رحیم ہے کہ جب اپنی مصلحت سے ایک دعا کو منظور نہیں کرتا تو اس کے عوض میں کوئی اور دعا منظور کر لیتا ہے (یہاں دعا کی جو روح ہے، جو فلاسفی ہے اس کا بھی پتا لگ گیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں جی ہماری دعائیں قبول نہیں ہوئیں۔ تو نبیوں کی بھی دعائیں بعض دفعہ اگر اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے تو قبول نہیں ہوتیں لیکن اس کے مقابلے میں دوسری دعا قبول ہو جاتی ہے۔ تو فرمایا کہ) ایک دعا کو منظور نہیں کرتا تو اس کے عوض میں کوئی اور دعا منظور کر لیتا ہے جو اس کے مثل ہوتی ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِھَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَا اَوْ مِثْلِھَا۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (البقرۃ: 107)‘‘۔ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22صفحہ 339-340)

یعنی جس کسی نشان کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں تو اس سے بہتر یا اس جیسا نشان ہم اس دنیا میں لے آتے ہیں۔ کیا تُو جانتا نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر امر پر جس کا وہ ارادہ کرے پورا قادر ہے۔

اب یہ آیت غیر احمدی تو اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ اس سے قرآن کریم کی بعض آیات منسوخ کی گئی ہیں حالانکہ اس کے بڑے وسیع معنی ہیں، مختلف معنی ہیں۔ آپ یہاں بھی اس کو چسپاں کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب کوئی نشان بھلا دیتے ہیں تو کوئی اور نشان اس کے مقابلے میں آ جاتا ہے۔ اگر ایک نشان ختم ہوتا ہے تو دوسرا نشان آ جاتا ہے۔ یا پھر یہ بھی اس کی تشریح ہے کہ پرانی شریعتوں کو منسوخ کیا تو اس کے بدلے میں، مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے نئی شریعت قرآن کریم دے دی جو دائمی رہنے والی ہے۔

پھر اپنی صداقت کے ثبوت کے طور پر قرآن کریم کی جو پیشگوئیاں ہیں ان میں سے ایک پیشگوئی جو سواری کے متعلق ہے۔ اس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ: ایک نئی سواری کانکلناہے جو مسیح موعود کے ظہور کی خاص نشانی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں لکھا ہے وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ (التکویر: 05)۔ یعنی آخری زمانہ وہ ہے جب اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی۔ اور ایسا ہی حدیث مسلم میں ہے وَلَیُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْھَا۔ یعنی اس زمانہ میں اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی اور کوئی ان پر سفر نہیں کرے گا۔ ایّام حج میں مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف اونٹنیوں پر سفر ہوتا ہے۔ اب وہ دن بہت قریب ہے کہ اس سفر کے لئے ریل تیار ہو جائے گی تب اس سفر پر یہ صادق آئے گاکہ لَیُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعیٰ عَلَیْھَا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22صفحہ 205-206)

ابھی تک لوگ یہی کہتے ہیں کہ جی وہاں تو ریلوے نہیں ہے۔ لیکن وہاں ایک پراجیکٹ ہے جو اَب شروع ہوا ہوا اور ان کا خیال ہے کہ 2015ء کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔ مکّہ اور مدینہ کے درمیان میں ریلوے لائن بن رہی ہے اور یہ بڑی فاسٹ ٹرین ہو گی۔ تو نبی کے منہ سے جو باتیں نکلی ہوتی ہیں وہ پوری تو اللہ تعالیٰ کرتا ہے چاہے بعض دفعہ وہ کچھ وقت کے بعد وہ پوری ہوں لیکن بہرحال سواریاں تو بیکار وہاں ہوئیں کیونکہ اس کی جگہ بسیں اور کاریں استعمال ہو رہی تھیں۔ لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ ریلوے لائن بھی اب بچھ رہی ہے۔ کام ہو رہا ہے اور وہ بھی شروع ہو جائے گی۔

پھر اسلام کے ایک دشمن جس کی بدزبانیوں کی وجہ سے آپ نے دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس کو پکڑے۔ اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر آپ نے اس کے انجام کا اعلان کیا۔ اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ:

ڈپٹی عبداللہ آتھم کی نسبت پیشگوئی ہے جو بہت صفائی سے پوری ہو گئی ہے اور یہ دراصل دو پیشگوئیاں تھیں۔ اوّل یہ کہ وہ پندرہ مہینے کے اندر مر جائے گا۔ دوسری یہ کہ اگر وہ اپنے کلام سے باز آ جائے گا جو اس نے شائع کیا کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دجّال تھے تو پندرہ مہینے کے اندر نہیں مرے گا۔ اور جیسا کہ مَیں لکھ چکا ہوں۔ موت کی پیشگوئی اس بنا پر تھی کہ آتھم نے اپنی ایک کتاب ’اندرونہ بائبل‘ نام میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دجّال کہا تھا (نعوذ باللہ) اور یہ سچ ہے کہ پیشگوئی میں آتھم کے مرنے کے لئے پندرہ مہینے کی میعاد تھی۔ مگر ساتھ ہی یہ شرط تھی جس کے یہ الفاظ تھے کہ ’’بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔‘‘ مگر آتھم نے اسی مجلس میں رجوع کر لیا اور نہایت عاجزی سے زبان نکال کر اور دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر دجّال کہنے سے ندامت ظاہر کی۔ اس بات کے گواہ نہ ایک نہ دو بلکہ ساٹھ یا ستّر آدمی ہیں۔ جن میں سے نصف کے قریب عیسائی ہیں اور نصف کے قریب مسلمان۔ اور میں خیال کرتاہوں کہ پچاس کے قریب اب تک ان میں سے زندہ ہوں گے جن کے رُوبرو آتھم نے دجّال کہنے سے رجوع کیا اور پھر مرتے وقت تک ایسا لفظ منہ پر نہیں لایا۔ اب سوچنا چاہئے کہ کیسی بدذاتی اور بدمعاشی اور بے ایمانی ہے کہ باوجود اس کھلے کھلے رجوع کے جو آتھم نے ساٹھ یا ستّر آدمیوں کے رُوبرو کیا پھر بھی کہا جائے کہ اس نے رجوع نہیں کیا۔ تمام مدارغضب الٰہی کا تو دجّال کے لفظ پر تھا (یعنی بنیاد تو اس کی ساری یہ تھی کہ دجّال کہااور اللہ تعالیٰ کا غضب اسی وجہ سے اس پہ نازل ہونا تھا) اور اسی بناء پر پیشگوئی تھی۔ اور اسی لفظ سے رجوع کرنا شرط تھا۔ مسلمان ہونے کا پیشگوئی میں کوئی ذکر نہیں۔ (یہ تو کہیں پیشگوئی میں نہیں لکھا تھا کہ وہ مسلمان ہو جائے گا۔ مقصد یہ تھا کہ اس لفظ سے وہ انکاری ہو جائے گا اور توبہ کر لے گا۔ فرماتے ہیں کہ مسلمان ہونے کا پیشگوئی میں کوئی ذکرنہیں) پس جب اس نے نہایت انکساری سے رجوع کیا تو خدا نے بھی رحمت کے ساتھ رجوع کیا۔ الہام الٰہی کا تو یہ مدعا نہیں تھا کہ جبتک آتھم اسلام نہ لاوے ہلاکت سے نہیں بچے گا۔ (یہ تو الہام میں نہیں کہا گیا تھا کہ جب تک اسلام نہیں لائے گا ہلاکت سے نہیں بچے گا۔ فرمایا) ’’کیونکہ اسلام کے انکار میں تو سارے عیسائی شریک ہیں۔ خدا اسلام کے لئے کسی پر جبر نہیں کرتا اور ایسی پیشگوئی بالکل غیرمعقول ہے کہ فلاں شخص اگر اسلام نہ لاوے تو فلاں مدّت تک مر جاوے گا۔ (کیونکہ اسلام لانا تو پھر جبر ہو گیا۔ یہ تو بہت ساری دنیا ہے جو اسلام نہیں لاتی۔ اسلام کو قبول نہیں کرے گی یا نہیں کرتی اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مر جائے گی۔ نہ اسلام میں کوئی جبر ہے اور نہ یہ پیشگوئی کا مقصد تھا۔ فرماتے ہیں کہ) دنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جو منکر اسلام ہیں اور جیسا کہ میں بار بار لکھ چکا ہوں محض انکار اسلام سے کوئی عذاب کسی پر دنیا میں نہیں آ سکتا بلکہ اس گناہ کی باز پرس صرف قیامت کو ہوگی۔ پھر آتھم کی اس میں کونسی خصوصیت تھی کہ بوجہ انکار اسلام اس کی موت کی پیشگوئی کی گئی اور دوسروں کے لئے نہیں کی گئی۔ بلکہ پیشگوئی کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مقدّس کی نسبت دجّال کا لفظ استعمال کیا تھا۔ جس قول سے اس نے ساٹھ یا ستّر انسانوں کے روبرو رجوع کیا، (توبہ کی) جن میں سے بہت سے شریف اور معزز تھے جو اس مجلس میں موجود تھے۔ پھر جبکہ اس نے اس لفظ سے رجوع کر لیا بلکہ بعد اس کے روتا رہا تو خدا تعالیٰ کی جناب میں رحم کے قابل ہو گیا مگر صرف اسی قدر کہ اس کی موت میں چند ماہ کی تاخیر ہو گئی اور میری زندگی میں ہی مر گیا اور وہ بحث جو ایک مباہلہ کے رنگ میں تھی اس کی رُو سے وہ بوجہ اپنی موت کے جھوٹا ثابت ہوا توکیا ابتک وہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ بیشک پوری ہو گئی اور نہایت صفائی سے پوری ہوئی۔ ایسے دلوں پر خدا کی لعنت ہے کہ ایسے صریح نشانوں پر اعتراض کرنے سے بازنہیں آتے۔ (جب یہ سارا کچھ پورا ہو گیا تو پھر بھی باز نہیں آتے۔) اگر وہ چاہیں تو آتھم کے رجوع پر مَیں چالیس آدمی کے قریب گواہ پیش کر سکتا ہوں اور اسی وجہ سے اس نے قسم بھی نہ کھائی حالانکہ تمام عیسائی قسم کھاتے آئے ہیں اور حضرت مسیح نے خود قسم کھائی اور ہمیں اس بحث کو طُول دینے کی ضرورت نہیں۔ آتھم اب زندہ موجودنہیں۔ گیارہ برس سے زیادہ عرصہ گذرا کہ وہ مر چکا ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22صفحہ 221تا 223)

یہ آپ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں فرما رہے ہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ بیان فرماتے ہوئے کہ قرآن کریم کی برکات انسانوں کی طاقت سے بہت برتر ہیں اور ماننے والوں کو نشان دکھا کر وہ یقینی معرفت عطا فرماتا ہے۔ اور پھر اس برکت سے معجزات ظہور میں آتے ہیں۔ بڑے عجیب عجیب نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔ (ماخوذ از چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23صفحہ 402)

آپ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں ان قرآنی برکات کو قصے کے طور پر بیان نہیں کرتا۔ (قرآن کریم کی جو برکتیں ہیں وہ صرف قصہ کہانیاں نہیں ہیں) بلکہ مَیں وہ معجزات پیش کرتا ہوں جو مجھ کو خود دکھائے گئے ہیں۔ وہ تمام معجزات ایک لاکھ کے قریب ہیں بلکہ غالباً وہ ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔ خدا نے قرآن شریف میں فرمایا تھا کہ جو شخص میرے اس کلام کی پیروی کرے وہ نہ صرف اس کتاب کے معجزات پر ایمان لائے گا بلکہ اس کو بھی معجزات دئیے جائیں گے۔ سو میں نے بذات خود وہ معجزات خدا کے کلام کی تاثیر سے پائے جو انسانوں کی طاقت سے بلند اور محض خدا کا فعل ہیں۔ وہ زلزلے جو زمین پر آئے۔ اور وہ طاعون جو دنیا کو کھا رہی ہے۔ (اس زمانے میں بہت شدید طاعون تھی) وہ انہیں معجزات میں سے ہیں جو مجھ کو دیئے گئے۔ مَیں نے ان آفات کے نام و نشان سے پچیس برس پہلے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں ان حوادث کی خبروں کو بطور پیشگوئی شائع کر دیا تھا کہ یہ آفتیں آنے والی ہیں سو وہ تمام آفات آ گئیں اور ابھی بس نہیں بلکہ آنے والی آفات ان آفات سے بہت زیادہ ہیں۔ (ابھی تو بہت ساری آفتیں آنی ہیں) اور بعض نئی وبائیں بھی ہیں جو پہلے اس سے کبھی اس ملک میں ظاہر نہیں ہوئیں اور وہ ڈرانے والی اور دہشتناک ہیں اور ایک سخت اور خوفناک قسم کی طاعون بھی ظاہر ہونے والی ہے جو اس ملک اور دوسرے ملکوں میں ظاہر ہوگی اور نہایت پریشان کرے گی۔‘‘ (پس بڑے خوف کا مقام ہے۔ یہ نشانات بندنہیں ہوئے۔ فرمایا) ’’ایک سخت اور خوفناک قسم کی طاعون بھی ظاہر ہونے والی ہے جو اس ملک اور دوسرے ملکوں میں ظاہر ہو گی اور نہایت پریشان کرے گی۔ شاید اب کے سال یا دوسرے سال میں اور ایک زلزلہ بھی آنے والا ہے جو ناگہانی طور پر آئے گا اور سخت آئے گا‘‘۔ (اور اب دنیا کے جو عمل ہیں اور جس طرح خدا سے دُور ہٹ رہے ہیں اور نہ صرف دُور ہٹ رہے ہیں بلکہ ظلم بھی کر رہے ہیں۔ ان آفات کو پھر بلانے کے لئے خود ان کے عمل جلدی کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور احمدیوں کو دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے عملوں کو درست رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ فرماتے ہیں کہ) ’’معلوم نہیں کہ کسی حصہ ملک میں یا عام ہو گا۔ اگر دنیا کے لوگ خدا سے ڈریں تو یہ آفات ٹل بھی سکتی ہیں کیونکہ خدا زمین و آسمان کا بادشاہ ہے۔ وہ اپنے حکموں کو جاری بھی کر سکتا ہے اور ٹال بھی سکتا ہے مگر بظاہر کچھ امیدنہیں کہ لوگ خدا سے ڈریں کیونکہ دل حد سے زیادہ سخت ہو گئے ہیں اور مجھے ان پیشگوئیوں کے پیش از وقت سنانے کی وجہ سے ان کے متنبہ ہونے کی کچھ توقع نہیں۔ اور بجز اس کے کوئی امیدنہیں کہ ٹھٹھا کیا جائے گا اور یا گالیاں دی جائیں گی اور یا ہم اس بات سے متہم کئے جائیں گے (ہمیں الزام دیا جائے گا) کہ لوگوں میں تشویش پھیلاتا ہے‘‘۔ (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23صفحہ 403)

یہ نہیں کہ جو غیر دنیا ہے بلکہ مسلمانوں کا اپنا حال بھی یہی ہے کہ مسلمان ملکوں میں بعض خاص طور پہ خدا سے دُور ہو رہے ہیں اور جس طرح آپ نے فرمایا کہ جو کہہ رہا ہے صحیح رستے پر چلو اس سے ہنسی ہو گی، ٹھٹھا ہو گا اور اس پر یہ کہا جائے گا کہ یہ فساد پھیلانے کی یا تشویش پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بلکہ اب تو گزشتہ دنوں یہ خبر تھی کہ ایک بڑے مولوی صاحب نے (مولوی کا نام نہیں مجھے یاد رہا) پاکستان میں کہا کہ یہ جو ہے ناں کہ امام مہدی نے آنا ہے۔ کوئی کسی نے نہیں آنا اور نہ وہ پیدا ہوا ہے، نہ پیدا ہوگا۔ بلکہ استہزائیہ رنگ میں پھر کہا کہ اگر پیدا ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کرے وہ جلدی ختم ہو جائے کیونکہ ہم مزید فساد فتنے برداشت نہیں کر سکتے۔ تو یہ تو بہر حال اب ان کی سوچیں ہیں۔ پھر مسلمانوں کو جہالت سے بچنے، اللہ تعالیٰ کی آواز کو سننے، اپنی حالتوں کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق بنانے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’اس وقت اسلام جس چیز کا نام ہے اس میں فرق آ گیا ہے۔ تمام اخلاق ذمیمہ بھر گئے ہیں۔ (یعنی برے اخلاق بھر گئے ہیں ) اور وہ اخلاص جس کا ذکر مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْن میں ہوا ہے آسمان پر اٹھ گیا ہے۔ (کوئی اخلاص نہیں رہا۔ ) خدا تعالیٰ کے ساتھ صدق، وفا داری، اخلاص، محبت اور خدا پر توکل کالعدم ہو گئے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ پھر نئے سرے سے ان قوتوں کو زندہ کرے۔ وہ خدا جو ہمیشہ  یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا کرتا رہا ہے اس نے ارادہ کیا ہے اور اس کے لئے کئی راہیں اختیار کی گئی ہیں۔ ایک طرف مامور کو بھیج دیا گیا جو نرم الفاظ میں دعوت کرے اور لوگوں کو ہدایت کرے۔ (یعنی اپنے آنے کے بارے میں فرما رہے ہیں ) دوسری طرف علوم و فنون کی ترقی ہے اور عقل آتی جاتی ہے…۔ (یعنی ذہن مزید کھل رہے ہیں۔ علوم و فنون کی ترقی ہو رہی ہے۔ فرمایا) …اتمام حجت کے لئے آسمان نشان ظاہر کر رہا ہے۔ (بہت سارے نشانات جو آپ کے زمانے میں بھی، طوفانوں کے بھی، چاند سورج گرہن کے بھی، زلزلوں کے بھی ظاہر ہوئے۔ پھر فرمایا: ) … اور پھر قہری نشانات کا سلسلہ بھی رکھا گیا ہے جن میں سے طاعون کا بھی ایک نشان ہے اور اب جو اس شدت سے پھیل رہی ہے۔ (اس زمانے میں جو تھی کبھی گزشتہ نسلوں نے نہ دیکھی ہو گی) اور بہت سے لوگ ہیں جو ان نشانات اور آیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ لوگ بذریعہ خطوط یا خود حاضر ہو کر داخل بیعت نہیں ہوتے۔ اگرچہ دنیا میں فسق و فجور اور شوخی و آزادی اور خود رَوی بہت بڑھ گئی ہے تاہم یہ لوگ جو ہمارے سلسلے میں آتے ہیں یہ بھی اسی جماعت میں سے نکل نکل کر آتے ہیں۔ (انہی لوگوں میں سے آ رہے ہیں۔ ) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعید بھی انہی میں ملے ہوئے ہیں۔ (یعنی نیک فطرت لوگ بھی ان میں موجود ہیں۔ یہی نہیں کہ سارے بگڑے ہوئے ہیں۔ ) خدا تعالیٰ ان لوگوں کو نکال لے گااور ان کو سمجھ دے گا اور کچھ طاعون کا نشانہ ہوجائیں گے۔ اسی طرح پر دنیا کا انجام ہو گا اور اتمام حجت ہو گی۔‘‘ (ملفوظات جلد 6صفحہ352تا354۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس آپ نے فرمایا کہ پڑھے لکھے لوگ، سعید فطرت لوگ آ رہے ہیں اور اس کا تعلیم کی وجہ سے اثر ہے، دماغوں کے ذہنوں کے کھلنے کا اثر ہے جس کی وجہ سے وہ اس تعلیم کو سمجھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کو سمجھتے ہیں اور پھر اس کو قبول کرتے ہیں۔ اور ہر علاقے میں اور ہر طبقے میں ہر ملک میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سینکڑوں ہزاروں بلکہ اب تو لاکھوں کی تعداد میں جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔ پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں۔ ’’یادر کھو کہ ان معجزات اور پیشگوئیوں کی نظیر جو میرے ہاتھ پر ظاہر ہوئے اور ظاہر ہو رہے ہیں کمیت اور کیفیت اور ثبوت کے لحاظ سے ہرگز پیش نہ کر سکو گے خواہ تلاش کرتے کرتے مر بھی جاؤ۔‘‘ (نزول المسیح روحانی خزائن جلد 18صفحہ462) (بلکہ اب تو خدا تعالیٰ کی فعلی شہادتیں بھی ایک ایسے نشانات بن چکے ہیں جن میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور ہر روز ہم دیکھتے ہیں۔)

ایک نو مسلم نے آ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بڑی دلیری سے نشان مانگا کہ کیا نشان ہے مجھے دکھائیں، اپنی ماموریت کا بتائیں۔ آپ نے فرمایا کہ ’’ہر ایک مامور کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ دل میں ڈالا جاتا ہے وہ اس کی مخالفت نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تا ہے اور یہی بالکل سچ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو دنیا میں مامور کر کے بھیجتا ہے تو اس کی تائید میں خارق عادت نشان بھی ظاہر کرتا ہے۔ چنانچہ اس جگہ بھی اس نے میری تائید کے لئے بہت سے نشان ظاہر کئے ہیں جن کو لاکھوں انسانوں نے دیکھا ہے اور وہ اس پر گواہ ہیں تا ہم مَیں اپنے خدا پر کامل یقین رکھتا ہوں کہ اس نے انہیں نشانوں پر حصر نہیں کیا۔ (یہی کافی نہیں ہو گئے) اور آئندہ اس سلسلے کو بندنہیں کیا۔ وقتاً فوقتاً وہ اپنے ارادے سے جب چاہتا ہے نشان ظاہر کرتا ہے۔ ایک طالب حق کے لئے وہ نشان تھوڑے نہیں ہیں مگر اس پر بھی اگر دل شہادت نہ دے۔ (یعنی جو نشانات ہو چکے ہیں فرمایا کہ وہ تھوڑے نہیں ہیں لیکن اگر اس پر بھی دل شہادت نہیں دیتا، مانتا نہیں ہے کہ ایک شخص واقعی طالب حق ہے اور صدق نیت سے اگر دل سے اس پر بھی شہادت نہ دے) کہ ایک شخص واقعی طالب حق ہے اور صدق نیت سے وہ نشان کا خواہشمند ہے تو ہم اس کے لئے توجہ کر سکتے ہیں۔ (اور تم صدق دل سے یہ سمجھتے ہو کہ حق کو تم نے ماننا ہے تو پھر بتاؤ۔ فرمایا کہ ہم توجہ کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے دعا کریں گے) اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں کہ کوئی امر ظاہر کر دے گا۔ لیکن اگر یہ بات نہ ہو اور خدا تعالیٰ کے پہلے نشانوں کی بے قدری کی جاوے اور انہیں ناکافی سمجھا جاوے تو توجہ کے لئے جوش پیدا نہیں ہوتا اور ظہورِ نشان کے لئے ضروری ہے کہ اس میں توجہ کی جاوے اور اقبال الی اللہ کے لئے جوش ڈالا جاوے۔ (مطلب اگر ان نشانوں کی بے قدری کر رہے ہو۔ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہے تو پھر نہ تمہارے لئے نشان ظاہر ہوگا، نہ تمہارے لئے نشان ظاہر ہونے کے لئے کوئی دعا ہو گی۔ تمہارا انجام پھر بد ہی ہوگا۔ فرمایا کہ اگر ناکافی سمجھا جاوے تو توجہ کے لئے جوش پیدا نہیں ہوتا اور ظہورِ نشان کے لئے ضروری ہے کہ اس میں توجہ کی جاوے اور اقبال الی اللہ کے لئے جوش ڈالا جاوے۔ ) اور یہ تحریک اس وقت ہوتی ہے جب ایک صادق اور مخلص طلبگار ہو۔ (اگر طلب میں سچائی ہے۔ ماننے کی نیت ہے تب تو نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ صرف آزمانے کے لئے نہیں۔ پھر فرمایا کہ) یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ نشان عقلمندوں کے لئے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے واسطے نشان نہیں ہوتے جو عقل سے کوئی حصہ نہیں رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے نشانات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ ہدایت محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال نہ ہو اور وہ فضل نہ کرے تو خواہ کوئی ہزاروں ہزار نشان دیکھے ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور کچھ نہیں کر سکتا۔ پس جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ نشانات گزشتہ سے اس نے کیا فائدہ اٹھایا ہے، ہم آئندہ کے لئے کیا امید رکھیں۔ (فرمایا کہ) نشانات کا ظاہر ہونا یہ ہمارے اختیار میں تو نہیں ہے اور نشانات کوئی شعبدہ باز کی چابک دستی کا نتیجہ تو نہیں ہوتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور مرضی پر موقوف ہے۔ اور وہ جب چاہتا ہے نشان ظاہر کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے۔ اس وقت جو سوال نشان نمائی کا کیا جاتا ہے۔ اس کے متعلق میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہی ڈالا ہے کہ یہ اقتراح اسی قسم کا ہے جیسا ابو جہل اور اس کے امثال کیا کرتے تھے۔ (یعنی یہ سوال اور مطالبہ جو ہے یہ اسی قسم کا ہے جیسے ابوجہل اور اس کی طرح کے دوسرے لوگ کرتے تھے) انہوں نے کیا فائدہ اٹھایا۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر نشان صادر نہیں ہوئے تھے۔ اگر کوئی ایسا اعتقاد کرے تو وہ کافر ہے۔ آپ کے ہاتھ پر لا انتہا نشان ظاہر ہوئے مگر ابوجہل وغیرہ نے ان سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔ اسی طرح پر یہاں نشان ظاہر ہو رہے ہیں جو طالب حق کے لئے ہر طرح کافی ہیں لیکن اگر کوئی فائدہ نہ اٹھانا چاہے اور ان کو ردّی میں ڈالا جائے اور آئندہ خواہش کرے اس سے کیا امید ہو سکتی ہے؟ (یعنی کہ وہ پہلے نشانات تو نہ دیکھے اور مزید کی خواہش کرتا رہے تو اس سے کیا امید ہو سکتی ہے) وہ خدا تعالیٰ کے نشانات کی بے حرمتی کرتا ہے اور خود اللہ تعالیٰ سے ہنسی کرتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 6صفحہ444-445۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

آپ نے تو بے شمار جگہ پر یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ قادیان میں آتے ہیں۔ غیر جو آتے ہیں غیر مذہب کے لوگ آتے ہیں ان کا آنا بھی نشان ہے کہ کس کس طرح آتے ہیں۔ (ماخوذازملفوظات جلد10 صفحہ 218-219۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اور پھر آپ نے فرمایا کہ بے شمار زمینی اور آسمانی نشان جن کا ذکر ہو چکا ہے ہوتے ہیں۔ اب آجکل دنیا کی جو توجہ پیدا ہو رہی ہے اور جماعت کا پیغام بھی سن رہے ہیں یہ بھی نشانوں میں سے ایک نشان ہے کہ میڈیا کی طرف کسی بھی بہانے سے کسی بھی وجہ سے توجہ پیدا ہو رہی ہے۔ بہرحال نشانات تو ہر عقلمند کے لئے ہر روز ظاہر ہوتے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ’’یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے اس سلسلہ کو بے ثبوت نہیں چھوڑے گا۔ وہ خود فرماتا ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ جن لوگوں نے انکار کیا اور جو انکار کے لئے مستعد ہیں ان کے لئے ذلت اور خواری مقدر ہے۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر یہ انسان کا افتراء ہوتا تو کب کا ضائع ہو جاتا کیونکہ خدا تعالیٰ مفتری کا ایسا دشمن ہے کہ دنیا میں ایسا کسی کا دشمن نہیں۔ وہ بیوقوف یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ کیا یہ استقامت اور جرأت کسی کذّاب میں ہو سکتی ہے- وہ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ جو شخص ایک غیبی پناہ سے بول رہا ہے وہی اس بات سے مخصوص ہے کہ اس کے کلام میں شوکت اور ہیبت ہو۔ اور یہ اسی کا جگر اور دل ہوتا ہے کہ ایک فرد تمام جہان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔ یقینامنتظر رہو کہ وہ دن آتے ہیں بلکہ نزدیک ہیں کہ دشمن روسیاہ ہوگا اور دوست نہایت ہی بشّاش ہوں گے۔ کون ہے دوست؟ وہی جس نے نشان دیکھنے سے پہلے مجھے قبول کیا اور جس نے اپنی جان اور مال اور عزت کو ایسا فدا کر دیا ہے کہ گویا اس نے ہزار ہا نشان دیکھ لئے ہیں۔ سو یہی میری جماعت ہے اور میرے ہیں جنہوں نے مجھے اکیلا پایا اور میری مدد کی اور مجھے غمگین دیکھا اور میرے غمخوار ہوئے۔ اور ناشناسا ہو کر پھر آشناؤں کا سا ادب بجا لائے۔ خدا تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو۔ اگر نشانوں کے دیکھنے کے بعد کوئی کھلی صداقت کو مان لے گا تو مجھے کیا اور اس کو اجر کیا (نشان دیکھ لیا تو پھر اجر کیسا) اور حضرت عزت میں اس کی عزت کیا۔ (اگر تو اللہ تعالیٰ پر یقین ہے اور سب کچھ پتا ہے کہ حالات ایسے ہیں اور پھر ماننا ہے تو تبھی اللہ تعالیٰ پر یقین ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حالات کے مطابق زمانے میں اپنے وعدے کے موافق اپنا فرستادہ بھیجا ہے۔ فرمایا) مجھے درحقیقت انہوں نے ہی قبول کیا ہے جنہوں نے دقیق نظر سے مجھ کو دیکھا اور فراست سے میری باتوں کو وزن کیا اور میرے حالات کو جانچا اور میرے کلام کو سنا اور اس میں غور کی۔ تب اسی قدر قرائن سے خدا تعالیٰ نے ان کے سینوں کو کھول دیا اور میرے ساتھ ہوگئے۔ میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کے لئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے (میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کے لئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے) اور اپنے نفس کے ترک اور اخذ کے لئے مجھے حَکَم بناتا ہے (یعنی اپنے ذاتی خواہشات یا نفسانی خواہشات جو ہیں ان کو چھوڑنے اور لینے کے لئے مجھ سے فیصلہ لیتا ہے کہ میں کیا کہتا ہوں) اور میری راہ پر چلتا ہے اور اطاعت میں فانی ہے اور انانیت کی جلد سے باہر آگیا ہے۔ (انانیت اس میں کوئی نہیں) مجھے آہ کھینچ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ کھلے نشانوں کے طالب وہ تحسین کے لائق خطاب اور عزت کے لائق مرتبے میرے خداوند کی جناب میں نہیں پا سکتے جو ان راستبازوں کو ملیں گے جنہوں نے چھپے ہوئے بھید کو پہچان لیا (جو نشانوں کے طالب ہیں وہ اعلیٰ قسم کے خطابات جو ہیں اور جو عزت والے مرتبے ہیں وہ نہیں پا سکتے۔ صرف وہی مرتبے پائیں گے جو ان راستبازوں کو ملیں گے جنہوں نے چھپے ہوئے بھید کو پا لیا، پہچان لیا) اور جو اللہ جلشانہٗ کی چادر کے تحت میں ایک چھپا ہوا بندہ تھا اس کی خوشبو ان کو آگئی۔ (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابتدائی دور میں پہچانا) انسان کا اس میں کیا کمال ہے کہ مثلاً ایک شہزادہ کو اپنی فوج اور جاہ و جلال میں دیکھ کر پھر اس کو سلام کرے۔ باکمال وہ آدمی ہے جو گداؤں کے پیرائے میں اس کو پاوے اور شناخت کرلیوے۔ (شہزادے کو فقیروں کے لباس میں دیکھے اور پھر پہچان لے) مگر میرے اختیار میں نہیں کہ یہ زِیر کی کسی کو دوں۔ (یہ عقل کسی کو دوں )۔ ایک ہی ہے جو دیتا ہے۔ وہ جس کو عزیز رکھتا ہے ایمانی فراست اس کو عطا کرتا ہے۔ انہیں باتوں سے ہدایت پانے والے ہدایت پاتے ہیں اور یہی باتیں ان کے لئے جن کے دلوں میں کجی ہے زیادہ تر کجی کا موجب ہو جاتی ہیں۔ (یہی باتیں ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دینی ہے وہ ہدایت پا جاتے ہیں اور جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے، کجی ہے وہ اس میں اور بھی زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ فرمایا کہ) اب میں جانتا ہوں کہ نشانوں کے بارے میں مَیں بہت کچھ لکھ چکا ہوں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ بات صحیح راست ہے کہ اب تک تین ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ وہ امور میرے لئے خدا تعالیٰ سے صادر ہوئے ہیں جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہیں اور آئندہ ان کا دروازہ بندنہیں۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5صفحہ 349-350)

اللہ تعالیٰ دنیا کو عقل دے کہ وہ نشانوں کو سمجھنے والے بھی ہوں اور صرف نشانوں کا مطالبہ اپنی عقل اور خواہش کے مطابق کرنے والے نہ ہوں بلکہ وقت کی ضرورت اور زمانے کی آواز اور حالت جو خدا تعالیٰ کے فرستادہ کی ضرورت کا اظہار کر رہی ہے، اس کو سنیں اور اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو تلاش کر کے ماننے والے بھی ہوں تا کہ اس دنیا میں فسادوں کا خاتمہ ہو سکے۔

آج ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم غلام قادر صاحب درویش قادیان ابن مکرم عبدالغفار صاحب مرحوم کا ہے۔ یہ 12؍نومبر 2014ء کو نوّے سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ تین سو تیرہ درویشوں میں شامل تھے۔ تاریخ احمدیت میں ان کا درویشوں میں 189 نمبر ہے۔ اپریل 1925ء میں بمقام شادیوال گجرات میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔ فوج میں بھرتی ہو گئے۔ ملازمت کو چار سال ہوئے تھے کہ حفاظت مرکز کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک پر کہ نوجوان اپنی زندگیاں وقف کریں قادیان آئے۔ 1947ء میں یہاں حاضر ہو گئے۔ تبلیغ کا بھی بڑا شوق تھا۔ سکھوں کو خاص طور پر تبلیغ کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں آپ نے بہت نادر اور نایاب کتب اور حوالہ جات بھی جمع کئے ہوئے تھے۔ آپ نے ایک خواب دیکھی تھی کہ ان کی عمر تقریباً نوّے سال ہو گی۔ مرحوم موصی بھی تھے۔ ان کے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ ایک بیٹی جو ہے وہ مکرم ظفر اللہ پونتو صاحب جو انڈونیشیا کے مربی سلسلہ ہیں ان سے بیاہی ہوئی ہیں۔ ان کے بیٹے نے لکھا کہ درویشی کے دوران معمولی وظیفہ تھا پھر بھی محنت مزدوری کر کے اپنی بیوہ والدہ اور تین بہنوں کو گزارے کی رقم بھجوایا کرتے تھے کیونکہ یہ بھائی بہنوں میں بڑے تھے۔ ہمارے مربی کلیم طاہر صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ مَیں ایک دفعہ 1997ء کے رمضان میں قادیان گیا۔ اعتکاف بیٹھنے کا موقع ملا تو یہ وہاں میرے ساتھ تھے۔ کہتے ہیں دورانِ گفتگو کشمیری چائے کا ذکر ہو گیا کہ مجھے پسند ہے۔ اس کے بعد روزانہ ان کے گھر سے جو چائے آتی تھی اس کی تھرمس کہتے ہیں مجھے دے دیا کرتے تھے۔ پھر ان مربی صاحب کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تو یہ اس عرصے میں قادیان سے ربوہ گئے۔ وہاں جا کے کہتے ہیں کہ بڑے جذباتی رنگ میں میرے پاس آ کے طبیعت بھی پوچھی اور روتے بھی رہے۔ دعائیں بھی کرتے رہے۔ باوجود بیماری کے اور کمزوری کے نظر بھی کم آتا تھا، نظر خراب ہو گئی تھی آخری وقت تک مسجد مبارک میں جا کر نماز ادا کیا کرتے تھے کہ مجھے یہیں سکون ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔

ان کے علاوہ دو اور درویش بھی ہیں جو چند ماہ پہلے فوت ہوئے تھے۔ ان کا جنازہ غائب تو پہلے پڑھا گیا تھا لیکن ذکر خیر نہیں ہوا تھا۔ ان کا بھی آج ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ احباب ان کو اور ان کی اولادوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ ان درویشوں نے بڑی بڑی قربانیاں دی ہوئی ہیں۔ ایک لمبا عرصہ بڑی غربت میں، بڑے معمولی حالات میں، بڑے معمولی گزارے پر قادیان میں گزارا ہے اور شعائر اللہ کی حفاظت کا حق ادا کیا ہے۔ ان میں سے ایک تو مرزا محمد اقبال صاحب ہیں جو مرزا آدم بیگ صاحب کے بیٹے تھے۔ یہ 11جون 2014ء میں فوت ہوئے تھے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کے دادا حضرت مرزا رسول بیگ صاحب صحابی تھے۔ نانا حضرت مرزا نیاز بیگ صاحب بھی صحابی تھے۔ یہ ابتدائی تین سو تیرہ(313) درویشان میں سے تھے۔ شفاخانہ قادیان میں لمبا عرصہ ڈینٹسٹ کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔ پھر دفاتر میں کارکن کے طور پر خدمت بجا لاتے رہے۔ نیک، عبادت گزار، ملنسار، مخلص انسان تھے۔ مالی قربانی میں پیش پیش رہتے تھے۔ انتہائی بہادر، نڈر اور اچھے تیراک تھے۔ موصی تھے۔ اہلیہ کے علاوہ چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔

پھر چوہدری منظور احمد صاحب چیمہ ہیں۔ یہ 26؍جولائی کو 94 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ چوہدری نور علی صاحب چیمہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے بیٹے تھے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حفاظت مرکز کے لئے احباب جماعت کو تحریک فرمائی تو چونکہ آپ برطانوی فوج میں رہ چکے تھے اس لئے آپ نے اپنی خدمات پیش کیں اور درویشی کی سعادت پائی۔ باوجود پیرانہ سالی کے لمبا عرصہ بیساکھی کے سہارے مسجد میں نماز کے لئے حاضر ہوتے رہے۔ مخلص، خوش مزاج، زندہ دل، شفیق اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ موصی تھے۔ پسماندگان میں ضعیف العمر اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں۔ ایک بیٹے ان کے چوہدری منصور احمد چیمہ صاحب واقف زندگی ہیں اور قادیان میں ناظم جائیداد کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ اب نماز کے بعدنماز جنازہ پڑھاؤں گا۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 21؍ نومبر 2014ء شہ سرخیاں

    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی تحریرات و ارشادات کے حوالہ سے آپ کی قبولیت دعا کے بعض واقعات اور نشانات کا ایمان افروز تذکرہ۔

    اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں اپنے فرستادہ کو بھیجا ہے۔ اس کی باتوں کو سنو کہ اسی میں برکت ہے اور اس سلسلے کی ترقی خدا تعالیٰ کی تقدیروں میں سے ایک تقدیر ہے اور اس کے ماننے سے ہی انسانیت کی بقا ہے۔

    اللہ تعالیٰ دنیا کو عقل دے کہ وہ نشانوں کو سمجھنے والے بھی ہوں اور صرف نشانوں کا مطالبہ اپنی عقل اور خواہش کے مطابق کرنے والے نہ ہوں بلکہ وقت کی ضرورت اور زمانے کی آواز اور حالت جو خدا تعالیٰ کے فرستادے کی ضرورت کا اظہار کر رہی ہے اس کو سنیں اور اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو تلاش کر کے ماننے والے بھی ہوں تا کہ اس دنیا میں فسادوں کا خاتمہ ہو سکے۔

    مکرم غلام قادر صاحب (مرحوم) درویش قادیان کی وفات۔ مرحوم کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    اسی طرح مکرم مرزا محمد اقبال صاحب (مرحوم) درویش قادیان اور مکرم چوہدری منظور احمد صاحب چیمہ (مرحوم) درویش قادیان کا ذکر خیر۔

    فرمودہ مورخہ 21؍نومبر 2014ء بمطابق21نبوت 1393 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور