اللہ، رسول اور حُکّام کی اطاعت

خطبہ جمعہ 5؍ دسمبر 2014ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰ مَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہ َ واَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ۔ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْ ئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ۔ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلاً(النساء: 60)

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو!اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حُکّام کی بھی۔ اور اگر تم کسی معاملہ میں اولوالامر سے اختلاف کرو تو ایسے معاملے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دیا کرو اگر فی الحقیقت تم اللہ پر اور یومِ آخر پر ایمان لانے والے ہو۔ یہ بہت بہتر طریق ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔

پس اس آیت میں ایک حقیقی مومن کے بارے میں ایک اصولی بات بیان فرما دی کہ اس نے اپنے اطاعت کے وصف کو نمایاں کرناہے، نکھار کر دکھانا ہے، چاہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہو، اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت ہو یا حکام کی اطاعت ہو۔ ہاں اگر حکومت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے واضح حکم کے خلاف کوئی حکم دے تو پھر بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم مقدّم ہے۔ لیکن اگر مذہبی معاملات میں دخل اندازی نہیں ہے تو پھر حُکّام چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم ان کی اطاعت ضروری ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’قرآن میں حکم ہے اَطِیْعُوا اللّٰہ َ واَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ۔ اب اولی الامر کی اطاعت کا صاف حکم ہے۔ اور اگر کوئی کہے کہ گورنمنٹ مِنْکُمْ میں داخل نہیں۔ تو یہ اُس کی صریح غلطی ہے۔ گورنمنٹ جو بات شریعت کے موافق کرتی ہے۔ وہمِنْکُمْ میں داخل ہے۔ جو ہماری مخالفت نہیں کرتا۔ وہ ہم میں داخل ہے۔‘‘

فرمایا: ’’اشارۃ النص کے طور پر قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہئے۔‘‘ یعنی صاف طور پر ظاہر ہے۔ اس آیت میں قرآن کریم سے بڑا واضح ہے اشارہ ہے ’’کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہئے۔‘‘ (رسالہ الانذار صفحہ69 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد2 صفحہ246)

پس اس زمانے کے حَکَم اور عدل نے واضح فرما دیا کہ سوائے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں کی نفی کرنے والے احکامات کے عموماً دنیاوی احکامات میں ایک مومن کا کام ہے کہ وہ مکمل طور پر ملکی قوانین کی پابندی کرے۔ اگر یہ سنہری اصول اس وقت کے مسلمان بھی اپنا لیں کہ حکومت وقت سے لڑنا نہیں ہے تو بہت سے ملکوں میں جو فساد کی صورتحال ہے اس میں بہت حد تک سکون آ سکتا ہے۔ بہرحال اس وقت میں اس بحث میں پڑے بغیر کہ حکمرانوں کا کتنا قصور ہے اور فساد پیدا کرنے والے گروہوں کا کتنا قصور ہے اور اس وجہ سے مُسلم اُمّہ کس حد تک متاثر ہو رہی ہے، مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس آپ کے سامنے رکھوں گا۔ کافی لمبا اقتباس ہے جو اطاعت کے معیار، اطاعت کی اہمیت، اطاعت نہ کرنے کے نقصانات اور اسلام کے پھیلنے میں اطاعت کے کردار وغیرہ پہلوؤں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اس زمانے میں احمدی ہی اس بات کا صحیح اظہار کر سکتے ہیں یا اطاعت کا صحیح اظہار کر سکتے ہیں اور دنیا کو دکھا سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے وقار کو کس طرح قائم کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال اپنے عملی نمونے پہلے ہیں۔ پہلے اپنے اطاعت کے معیاروں کو بلند کرنا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

’’یعنی اللہ اور اس کے رسول اور ملوک کی اطاعت اختیار کرو۔ اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔ مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے۔ مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔ اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے۔ بدُوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی۔ اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحّدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیسا فضل تھا اور وہ کس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں فنا شدہ قوم تھی۔ یہ سچی بات ہے کہ کوئی قوم قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملّیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرماں برداری کے اصول کو اختیار نہ کرے۔ اور اگر اختلاف رائے اور پھوٹ رہے تو پھر سمجھ لو کہ یہ ادبار اور تنزل کے نشانات ہیں۔‘‘ (پھر زوال ہی زوال ہے۔ فرمایا)’’مسلمانوں کے ضعف اور تنزل کے منجملہ دیگر اسباب کے باہم اختلاف اور اندرونی تنازعات بھی ہیں۔ پس اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے پھرجس کام کو چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔ اس میں یہی تو سرّ ہے۔ اللہ تعالیٰ توحید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ بڑے بڑے اہل الرائے تھے خدا نے ان کی بناوٹ ایسی ہی رکھی تھی وہ اصول سیاست سے بھی خوب واقف تھے کیونکہ آخر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ کرام خلیفہ ہوئے اور ان میں سلطنت آئی تو انہوں نے جس خوبی اور انتظام کے ساتھ سلطنت کے بار گراں کو سنبھالا ہے اس سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ ان میں اہل الرائے ہونے کی کیسی قابلیت تھی۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور ان کا یہ حال تھا کہ جہاں آپ نے کچھ فرمایا اپنی تمام راؤں اور دانشوں کو اس کے سامنے حقیر سمجھا۔ اور جو کچھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی کو واجب العمل قرار دیا۔ ان کی اطاعت میں گمشدگی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے وضو کے بقیہ پانی میں برکت ڈھونڈھتے تھے اور آپ کے لب مبارک کو متبرّک سمجھتے تھے۔ اگر ان میں یہ اطاعت، یہ تسلیم کا مادہ نہ ہوتا بلکہ ہر ایک اپنی ہی رائے کو مقدم سمجھتا اور پھوٹ پڑ جاتی تو وہ اس قدر مراتب عالیہ کو نہ پاتے۔ میرے نزدیک شیعہ سنّیوں کے جھگڑوں کو چکا دینے کے لئے یہی ایک دلیل کافی ہے کہ صحابہ کرام میں باہم پھوٹ، ہاں باہم کسی قسم کی پھوٹ اور عداوت نہ تھی کیونکہ ان کی ترقیاں اور کامیابیاں اس امر پر دلالت کر رہی ہیں کہ وہ باہم ایک تھے اور کچھ بھی کسی سے عداوت نہ تھی۔ ناسمجھ مخالفوں نے کہا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا۔ مگر میں کہتا ہوں یہ صحیح نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہو کر بَہ نکلی تھیں یہ اس اطاعت اور اتحاد کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے دوسرے دلوں کو تسخیر کر لیا۔ میرا تو یہ مذہب ہے کہ وہ تلوار جو اُن کو اٹھانی پڑی وہ صرف اپنی حفاظت کے لئے تھی ورنہ اگر وہ تلوار نہ بھی اٹھاتے تو یقینا وہ زبان ہی سے دنیا کو فتح کر لیتے۔‘‘ فرماتے ہیں: ’’سخن کز دل بروں آیدنشیند لا جرم بر دل‘‘۔ یعنی وہ بات جو دل سے نکلتی ہے۔ نشیند لا جرم بر دل۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دل پر ضرور اثر کرتی ہے۔ جو بات دل سے نکلے وہ دل پر ضرور اثر کرتی ہے۔

فرماتے ہیں: ’’انہوں نے ایک صداقت اور حق کو قبول کیا تھا اور پھر سچے دل سے قبول کیا تھا۔ اس میں کوئی تکلف اور نمائش نہ تھی۔ ان کا صدق ہی ان کی کامیابیوں کا ذریعہ ٹھہرا۔ یہ سچی بات ہے کہ صادق اپنے صدق کی تلوار ہی سے کام لیتا ہے۔ آپ (پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم) کی شکل و صورت جس پر خدا پر بھروسہ کرنے کا نور چڑھا ہوا تھا اور جو جلالی اور جمالی رنگ کو لئے ہوئے تھی۔ اس میں ہی ایک کشش اور قوت تھی کہ وہ بے اختیار دلوں کو کھینچے لیتے تھے۔ اور پھر آپ کی جماعت نے اطاعت الرسول کا وہ نمونہ دکھایا اور اس کی استقامت ایسی فوق الکرامت ثابت ہوئی کہ جو اُن کو دیکھتا تھا وہ بے اختیار ہو کر اُن کی طرف چلا آتا تھا۔ (اس نمونے کی جو انہوں نے دکھایا اور پھر مستقل مزاجی سے دکھاتے چلے گئے اس کی ہی کرامت تھی کہ جس نے اس کو دیکھا وہ بے اختیار ان کی طرف کھِنچا چلا آیا) غرض صحابہ کی سی حالت اور وحدت کی ضرورت اب بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ہاتھ سے تیار ہو رہی ہے اسی جماعت کے ساتھ شامل کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی۔ اور چونکہ جماعت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے نمونوں سے ہوتی ہے اس لئے تم جو مسیح موعود کی جماعت کہلاکر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزو رکھتے ہو اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرو۔ اطاعت ہو تو ویسی ہو۔ باہم محبت اور اخوّت ہو تو ویسی ہو۔ غرض ہر رنگ میں ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کرو جو صحابہ کی تھی۔‘‘ (الحکم جلد 5نمبر5مورخہ 10فروری 1901ء صفحہ1-2 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد 2صفحہ246تا248)

اس ایک اقتباس میں آپ علیہ السلام نے بہت سی باتوں کی وضاحت فرما دی۔ پہلی بات تو یہ کہ جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرو اور پھر اولوا الامر یعنی اپنے سرداروں، حکومت وغیرہ کی اطاعت کرو۔ اس میں حکومتی نظام بھی آ جاتا ہے اور نظامِ جماعت بھی آ جاتا ہے۔ اور خلافت کی اطاعت تو ان دونوں سے اوپر ہے کیونکہ خلافت اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو ہی قائم کرتی ہے۔ اور نظام جماعت خلافت کے تابع ہے۔ اور یہ خلافت کی خوبصورتی ہے کہ بعض دفعہ اگر نظام جماعت کو چلانے کے لئے مقرر کردہ کارکنوں اور افراد جماعت کے تعلق میں کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے، کوئی تنازعہ پیدا جائے تو خلیفہ وقت اسے دُور کرتا ہے۔ یہ اس کے فرائض میں شامل ہے۔ یہاں یہ بھی واضح ہو کہ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ خلافت کی اطاعت حکومت سے بھی اوپر ہے تو کسی قسم کی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔ خلیفۂ وقت ملکی قوانین کی سب سے زیادہ پابندی کرتا ہے، کرنے والا ہے اور کروانے والا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’اولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے۔‘‘ (ضرورۃ الامام، روحانی خزائن جلد 13صفحہ493)

پس حکومت کے دنیاوی نظام کے اندر ایک روحانی نظام بھی چل سکتا ہے اور چلتا ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اس روحانی نظام کا حصہ ہیں اور امام الزمان کے نظام کو جاری کرنے کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے خلافت کا نظام بھی جاری فرمایا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی حکومت دلوں میں قائم کرنے کے لئے کوشش کرتا ہے۔ اور تنازعہ کی صورت میں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔

یہ بھی ہم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ خلافت کا نظام ہم میں جاری ہے ورنہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانے کے بارے میں مختلف فرقوں اور فقہاء کی اپنی اپنی تشریح ہے، تفسیریں ہیں اور بعض ایسی ہیں جو معاملوں کو سلجھانے کے بجائے الجھانے والی ہیں اور الجھا سکتی ہیں۔ اسی طرح حکومت وقت کے ساتھ معاملات میں بھی مختلف نظریات مختلف مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ پس ایک اجتہاد اور فیصلہ خلافت کے تابع رہ کر ہی ہو سکتا ہے اور اس بات پر احمدی جتنا بھی شکر کریں وہ کم ہے۔ اور اس شکر کا اظہار خلافت کی مکمل اطاعت سے ہی ہو سکتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پھر یہ بھی فرمایا اور یہ بڑی اہم بات ہے کہ اطاعت اگر سچے دل سے کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت و روشنی آتی ہے اور یقینا اس سے مراد روحانی نظام کی اطاعت ہے اور ہر ایک کے لئے اپنی اطاعت کے ماپنے کا یہ معیار ہے کہ کیا دل میں نور پیدا ہو رہا ہے۔ اطاعت سے روح میں لذت روشنی آ رہی ہے؟ اگر ہر ایک خود اس پر غور کرے تو وہ خود ہی اپنے معیار اطاعت کو پرکھ لے گا کہ کتنی ہے۔ کس قدر وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہا ہے۔ کس قدر وہ رسول کی اطاعت کر رہا ہے۔ اور کس قدر مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ قائم کردہ نظام خلافت کی اطاعت کر رہا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد کوئی نور حاصل نہیں ہوتا تو آپ نے فرمایا اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ حکومت وقت کی اطاعت سے امن اور سکون تو پیدا ہو گا لیکن روحانی روشنی اور لذّت روحانی نظام کی اطاعت میں ہی ہے۔

پھر اپنے روحانی معیار کو بلند کرنے کے لئے ایک نکتہ آپ نے یہ بیان فرمایا کہ

’’مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں جتنی اطاعت کی ہے‘‘۔ انسان جتنے چاہے مجاہدات کرتا رہے لیکن اگر اطاعت نہیں تو نہ ہی انسان کو روحانی لذّت اور روشنی مل سکتی ہے، نہ زندگی کا سکون مل سکتا ہے۔ پس جو لوگ اپنی نمازوں اور عبادتوں پر بہت مان کر رہے ہوتے ہیں اور اطاعت سے باہر نکلتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں بن سکتے۔

پھر اطاعت کا معیار حاصل کرنے کے لئے ایک اہم بات آپ نے بیان فرمائی کہ اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کرنا ضروری ہے۔ اپنے تکبّر کو مارنا ہو گا۔ اپنی انانیت پر چھری پھیرنی ہو گی۔ اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے موافق کرنا ہو گا تب ہی اطاعت کا معیار حاصل ہو گا۔ ورنہ آپ فرماتے ہیں اس کے بغیر اطاعت ممکن ہی نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ بڑے بڑے موحّدوں کے دلوں میں بھی بُت بن سکتے ہیں۔ ایسے لوگ جو خدائے واحد کی عبادت کرنے والے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد بقول اُن کے ان کے دل میں ہے۔ فرمایا کہ ان کے دلوں میں بھی بُت بن سکتے ہیں۔ بیشک ایک خدا کی عبادت کا دعویٰ ہو لیکن خود پسندی اور فخر کے بت دلوں میں بیٹھے ہوں گے جو ایک وقت میں پھر انسان کو ادنیٰ اطاعت سے بھی باہر نکال دیتے ہیں۔ بڑی بڑی باتیں تو ایک طرف رہیں۔ آپ نے واضح فرمایا کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے سچی اطاعت کے بعد ہی اپنی عبادتوں کے وہ اعلیٰ ترین نتائج حاصل کئے جو ہمارے لئے آج نمونہ ہیں۔ اطاعت کس طرح ہونی چاہئے؟ ایک حدیث میں آتا ہے آپؐ نے یہ فرمایا کہ تمہارے اوپر اگر حبشی غلام بھی امیر مقرر کیا جائے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ منقّہ کے سر والا بھی اگر امیر مقرر کیا جائے یعنی اگر اس میں عقلی لحاظ سے کچھ کمیاں بھی ہوں تو اس کی بھی اطاعت کرو۔ (صحیح البخاری کتاب الاحکام باب السمع و الطاعۃ… حدیث نمبر7142)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قومی ترقی کو بھی اطاعت سے باندھ کر واضح فرمایا کہ کوئی قوم قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملّیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہیں کریں گے۔ پس اس اصول کو اپنانا ہی ترقی کا راز ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا ہے کہ ترقی جماعت کے ساتھ رہنے، امام وقت کی باتیں سننے اور اطاعت سے ہی ملنی ہے۔ اس کے بغیر ترقی نہیں مل سکتی۔ آج اس اصل کو اگر مسلمان بھی سمجھ لیں تو ایک ایسی عظیم طاقت بن جائیں جس کا دنیا کی کوئی طاقت مقابلہ نہیں کر سکتی۔ لیکن ہم جو احمدی کہلاتے ہیں ہمیں کامل فرمانبرداری کے معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اطاعت کو روحانی جماعتوں کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے انجام کے لحاظ سے بہترین کہا ہی ہوا ہے۔ اور یہ تو ہے ہی کہ جب اطاعت کریں گے تو انجام بہتر ہو گا جس سے انقلاب پیدا ہو گا۔ لیکن دنیاوی نظاموں میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ فرمانبرداری کی روح کیسے کیسے انوکھے کام دکھاتی ہے۔

نپولین کے بارے میں ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے فرانس کو ایسے وقت میں سنبھالا جب وہ اپنے عروج سے زوال کی طرف جا رہا تھا۔ نیچے نیچے گر رہا تھا۔ ملک کی حالت خراب سے خراب تر ہو رہی تھی۔ نپولین نے لوگوں سے کہا کہ جب تک تم میں تفرقہ اور پھاڑ ہے تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اگر تم اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ اپنے اندر پیدا کرو تو تم جیت جاؤ گے، ترقیاں حاصل کرو گے، اپنا مقام حاصل کر لو گے۔ چنانچہ ایسی روح اس نے پیدا کی کہ جو اس کے ارد گرد تھے، ہر بات ماننے والے تھے، جو ملک کے خیرخواہ لوگ تھے انہوں نے اس کی بات مان لی اور اس کے ارد گرد جمع ہونے شروع ہو گئے۔ اسی کو اپنا لیڈر بنا لیا اور اطاعت اور فرمانبرداری کا بہترین نمونہ دکھایا۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ ایسا نمونہ دکھایا کہ اس نے نپولین کی اپنی زندگی کو بھی بدل دیا۔ باوجود اس کے کہ خود اس کو اطاعت کے لئے کہا جاتا تھا جب عملی طور پر اس کے سامنے اطاعت آئی تب اس نے اپنے آپ میں مزید انقلاب پیدا کیا۔

بہرحال ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ایک بڑی جنگ کے بعدنپولین ہار گیا اور اٹلی کے ایک جزیرے میں قید کر دیا گیا۔ وہاں کچھ وقت کے بعد کچھ لوگوں کی مدد سے آزاد ہوا۔ دوبارہ فرانس کے ساحل پر آیا۔ اس وقت تک فرانس میں نئی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ نیا نظام تھا۔ بادشاہ نے پادریوں کو بلا کر ان کے ذریعہ جرنیلوں اور سپاہیوں سے بائبل پر ہاتھ رکھوا کر قسمیں لی تھیں۔ یہ عہد لیا تھا کہ وہ نئی حکومت کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے۔ بادشاہ نے بائبل پر ہاتھ رکھوا کر قسمیں اس لئے لی تھیں کہ اس کو پتا تھا کہ نپولین نے لوگوں میں اطاعت اور فرمانبرداری کی ایسی روح پیدا کر دی ہے کہ اگر وہ واپس آ گیا تو لوگ پھر اس کے ساتھ مل جائیں گے۔ نپولین جب کسی طریقے سے قید سے رہا ہو گیا اور کچھ ساتھیوں نے اس کی مدد کی تو قید سے رہا ہو کر وہ واپس فرانس آیا۔ وہاں اس نے اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو، زمینداروں کو، عام لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ عوام میں سے جو اس کے وفادار تھے ان کو جمع کرنا شروع کر دیا۔ وہ تجربہ کار فوجی نہیں تھے۔ اسلحہ بھی ان کے پاس اتنا نہیں تھا۔ بہرحال جب بادشاہ کو پتا لگا تو اس نے ایک جنرل کو فوج دے کر بھیجا کہ اس کو ختم کریں۔ اتفاقاً ان کا آمنا سامنا ایک ایسی جگہ ہوگیا جہاں ایک تنگ درّہ تھا۔ جہاں سے صرف آدمی کندھا ملاکر گزر سکتے تھے۔ نپولین نے اپنے فوجیوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ وہ آگے بڑھے لیکن حکومتی فوجیوں نے انہیں گولیوں کی بارش کر کے ختم کر دیا۔ پھر اس نے اور آدمی بھیجے۔ وہ بھی مارے گئے۔ ان کا بھی وہی انجام ہوا۔ آخر سپاہیوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ دشمن سامنے ہے اور جگہ تنگ ہے۔ ادھر ادھر ہم ہو نہیں سکتے۔ اور پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے بائبل پر قسمیں کھائی ہیں کہ حکومت کا ساتھ دینا ہے اور نپولین کے سپاہیوں کو ختم بھی کرنا ہے۔ بہرحال ہم حملہ پوری طرح کر نہیں سکتے۔ درّہ چھوٹا ہے اور مارے جاتے ہیں۔ کیونکہ نپولین نے خود ہی ان حکومتی سپاہیوں میں بھی تربیت کر کے اطاعت اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا کیا تھا۔ اس نے اپنے سپاہیوں سے جو اَب اس کے ساتھ تھے کہا کہ ان سے جا کے درّہ میں کھڑے ہو کے کہو کہ نپولین کہتا ہے کہ راستہ چھوڑ دو۔ لیکن اس پر بھی حکومتی سپاہی گولیوں کی بوچھاڑ کرتے رہے کہ ہم نے بائبل پر قسمیں کھائی ہیں۔ اس لئے اب نپولین کا حکم نہیں مان سکتے۔ نپولین کو اس پر یقین نہ آیا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ میری ایسی تربیت ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ میری بات نہ مانیں کیونکہ میں نے ہی ان میں فرمانبرداری کا مادہ پیدا کیا ہے، اطاعت کا مادہ پیدا کیا ہے۔ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میرے سپاہیوں پر گولیاں چلائیں۔ پھر اس نے بھیجا اور مزید آدمی مارے گئے۔ یہی انجام ہوا۔ آخر نپولین خود گیا کہ مَیں دیکھوں گا وہ کس طرح میری بات نہیں مانتے۔ چنانچہ وہ گیا اور اس نے کہا مَیں نپولین ہوں اور تم سے کہتا ہوں کہ راستہ چھوڑ دو۔ حکومتی فوج کے افسر نے کہا کہ اب وہ دن گئے۔ ہم نے نئی حکومت سے وفاداری کی قسم کھائی ہے۔ مگر نپولین کو یہ یقین تھا کہ فرمانبرداری کا سبق تو اس نے لوگوں کو دیا ہے اور یہ سبق اتنی جلدی یہ لوگ بھول نہیں سکتے۔ نپولین نے انہی حکومتی فوجیوں کو کہا کہ میری فوجوں نے تو بہرحال آگے جانا ہے۔ اگر تم میرا سکھایا ہوا سبق بھول گئے ہو تو لو مَیں سامنے کھڑا ہوں جس سپاہی کا دل چاہتا ہے وہ اپنے بادشاہ کے سینے میں گولی مار دے۔ میں ہی اب تک تم پر حکومت کرتا رہا ہوں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ اپنے بادشاہ کو مارنا ہے تو لو میں کھڑا ہوں تم میرے سینے میں گولی مارو۔ جب نپولین نے یہ کہا تو ان سپاہیوں کا جو پرانا وفا داری اور فرمانبرداری کا جذبہ تھا وہ واپس آ گیا۔ انہوں نے نپولین زندہ باد کا نعرہ لگایا اور دوڑ کر اس میں شامل ہو گئے بلکہ کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض بچوں کی طرح رو رہے تھے۔ جب یہ خبر جنرل کو ملی جو فوج کے بڑے حصے کے ساتھ پیچھے تھا تو وہ آگے بڑھا کہ حملہ کرے۔ لیکن جب اس کے کان میں نپولین کی آواز پہنچی کہ تمہارا بادشاہ نپولین تمہیں بلاتا ہے تو وہ فوج اور جنرل بھی اپنا جو بعد کا اقرار تھا وہ بھول کر اس کے ساتھ شامل ہو گئے اور فرمانبرداری کا جو پہلا اقرار تھا اس پر قائم ہو گئے۔ بہرحال یہ نپولین کی کوششیں تھیں کہ فرانس کے شدید تفرقے کو دور کر کے اس نے فرمانبرداری کا جذبہ پیدا کر دیا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ یہ مثال بیان کر کے فرماتے ہیں کہ نپولین یا اس جیسے دوسرے لیڈروں کے پاس تو خدا تعالیٰ کی وہ تائیدنہیں تھی جو سچے مذہب کے پاس ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے انقلاب پیدا کیا۔ لیکن بیعت کرنے والوں کی تو مختلف صورت ہوتی ہے۔ بیعت کا تو مفہوم ہی اطاعت میں اپنے آپ کو فنا کرنا ہے۔ اور یہ مفہوم اتنا بلند ہے کہ دنیوی امور میں فرمانبرداری اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔ آپ نے فرمایا کہ یہ گُر اَطِیْعُوا اللّٰہ َ واَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ایسا ہے کہ جب تک کوئی قوم اس پر عمل نہیں کرتی خواہ وہ سچے مذہب کی پابند ہو یا اس سے ناواقف، کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد17 صفحہ509تا512)

پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کو ہر وقت سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ قوم بننے کے لئے یگانگت اور فرمانبرداری انتہائی ضروری ہے اور اس کے بغیر گراوٹ اور تنزل ہی ہو گا۔ اس بارے میں قرآن کریم نے بھی ہمیں واضح فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۔ وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا۔ وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقََذَکُمْ مِّنْھَا۔ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ  (آل عمران: 104) یعنی اللہ کی رسّی کو سب مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں کو آپس میں باندھ دیا اور پھر اس کی نعمت سے تم بھائی بھائی ہو گئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پرکھڑے تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ شاید تم ہدایت پا جاؤ۔

پس یہ اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے۔ لیکن مسلمانوں کی بدقسمتی کہ اس واضح ارشاد کے باوجود تفرقہ کی انتہا تک پہنچے ہوئے ہیں اور اپنے اوپر جو انعامات ہوئے تھے ان کو بھلا بیٹھے ہیں اور ادبار اور تنزّل کی انتہاؤں کو اس وجہ سے چھو رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سے اس وقت مسلمانوں کی یہ حالت تھی جیسا کہ آپ نے فرمایا اور اب تو اس کی انتہا ہوئی ہوئی ہے۔ اس زمانے کی نسبت اب تو یہ انتہا کو پہنچی ہوئی ہے لیکن سمجھتے نہیں ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر اختلاف رائے چھوڑ دو اور ایک کی اطاعت کرو یعنی زمانے کے امام کی اطاعت کیونکہ اس زمانے میں وہ ایک جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے طور پر بھیجا ہے وہ مسیح موعود ہی ہیں تو فرمایا کہ پھر دیکھو کہ کس طرح ہر کام میں برکت پڑے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اور یہی بات ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بھی ملتی ہے۔ اور جب تک یہ وحدت قائم نہیں ہو گی نہ خدا تعالیٰ ملے گا نہ دوسری کامیابیاں مل سکیں گی۔ خدا تعالیٰ بھی انہی کو ملتا ہے، توحید کا صحیح ادراک بھی انہیں ہی ہوتا ہے جن میں وحدت ہوتی ہے۔

پس ہمیں بھی صرف اس بات پر راضی نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم نے بیعت کر لی۔ بیعت کے معیار کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور وہ ہے جیسا کہ بیعت کے لفظ سے پتا لگتا ہے بک جانا۔ اور تبھی خدا تعالیٰ کے فضلوں کے بھی ہم وارث بنیں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال دے کر اور دوسرے صحابہ کا عمومی ذکر کر کے یہ بتایا کہ یہ لوگ صائب الرائے اور دنیاوی اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے تھے اور وقت آنے پر ان کی یہ خوبیاں ان پر ظاہر ہوئیں اور بڑے شاندار طریق پر انہوں نے حکومت چلائی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لگتا تھا کہ انہیں کچھ پتا نہیں۔ مکمل اطاعت اور فرمانبرداری اور حکموں پر چلنا ان کا کام تھا۔ اپنی تمام راؤں اور دانشوں اور عقلمندیوں کو وہ لوگ انتہائی حقیر سمجھتے تھے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ایک دن صحابہ نے کس طرح دنیا کی رہنمائی کی۔ یہی تربیت تھی جس نے خلافت راشدہ میں بھی اتحاد کے اعلیٰ ترین نمونے دکھائے۔

تاریخ میں جو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ کی دانشمندی، بے نفسی اور قومی مفاد کو پیش نظر رکھنے کا ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک جنگ کے دوران حضرت ابوعبیدہ کو حضرت عمر کا خط ملا جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا ذکر تھا اور حضرت عمر نے حضرت خالد بن ولید کو معزول کرتے ہوئے حضرت ابوعبیدہ کو امیر لشکر مقرر فرمایا تھا۔ حضرت ابوعبیدہ نے حضرت خالد کو وسیع تر قومی مفاد کے پیش نظر اس وقت تک اس کی اطلاع نہیں کی جب تک اہل دمشق کے ساتھ صلح نہیں ہو گئی۔ اور جو معاہدہ صلح تھا اس پر آپ نے حضرت خالد بن ولید سے دستخط کروائے۔ حضرت خالد بن ولید کو بعد میں پتا چلا کہ مجھے تو معزول کر دیا گیا تھا اور ان کو سپہ سالار بنایا گیا تھا تو انہوں نے شکوہ کیا مگر آپ ٹال گئے اور ان کے کارناموں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں مطمئن کر دیا۔ اسلامی جرنیل حضرت خالد بن ولیدنے اس موقع پر اطاعتِ خلافت کا انتہائی شاندار نمونہ دکھاتے ہوئے کہا کہ لوگو! تم پر اس اُمّت کے امین امیر مقرر ہوئے ہیں۔ (حضرت ابوعبیدہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امین کے لقب کا خطاب دیا تھا۔ ) حضرت ابوعبیدہ نے جواب میں کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خالد خدا کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے اور قبیلے کا بہترین نوجوان ہے۔ (تاریخ الطبری جزء4 صفحہ82 ثم دخلت سنۃ ثلاث عشر…، صفحہ242ثم دخلت سنۃ سبع عشرۃ… دارالفکربیروت لبنان 2002ء) (مسند احمد بن حنبل جلد 5صفحہ 751 مسند خالد بن ولید حدیث نمبر 16947، 16948 عالم الکتب بیروت 1998ء)

پس یہ تھا خوشدلی سے خلیفہ وقت کے فیصلے کو ماننا۔ آج بھی بعض دفعہ ایسے واقعات ہو جاتے ہیں۔ عموماً تو نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں اطاعت کا جذبہ ہے لیکن بعض ایسے بھی ہیں۔ جب کسی عہدہ سے ہٹایا جائے تو سوال ہوتا ہے کیوں ہٹایا گیا ہے؟ کس لئے ہٹایا گیا ہے؟ کیا کمی تھی ہم میں؟ اگر یہ نمونے اپنے سامنے رکھیں جو تاریخ ہمیں دکھاتی ہے تو کبھی اس قسم کے سوال نہ اٹھیں۔ بہرحال ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ آج بھی وہی قرآن ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں۔ اسی رسول کی ہم پیروی کرتے ہیں جس نے ہماری رہنمائی کی ہے اور احادیث کی کتب میں ہمیں وہ رہنمائی مل بھی جاتی ہے۔ لیکن مسلمانوں کی حالت کیا ہے؟ یا آپس کا فتنہ و فساد ہے یا دنیا کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آج جو یہ پھوٹ ہے اور شیعہ سنّی کے جھگڑے ہیں، (بلکہ اب تو اور بھی مزید تقسیمیں ہو گئی ہیں)، یہ اطاعت سے باہر نکلنے کی وجہ سے ہی ہیں۔ یہ زوال ہے اگر آج آپس میں ایک ہو جائیں تو یہ اعتراض بھی مخالفین کے ختم ہو جائیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا تھا۔ صحابہ کی یگانگت اور اطاعت ایسی تھی کہ اس نے دلوں کو فتح کر لیا تھا۔ پس اس اتحاد کی ضرورت ہے اور خاص طور پر مسیح موعود کی جماعت کو، آپ نے اپنی جماعت کو توجہ دلائی کہ تم صحابہ کا نمونہ پیدا کرو تا کہ تمہاری سچائی کی تلوار دشمنوں کو کاٹتی چلی جائے۔ اور یہ اس وقت ہو گا جب کامل اطاعت اور فرمانبرداری ہم میں سے ہر ایک میں پیدا ہو گی۔ ہر ایک اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت ہو گی تو اس نور سے بھی حصہ ملے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا تھا۔

پس یہ ایک احمدی کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آ کر اَطِیْعُوا اللّٰہ َ واَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ کا ایسا نمونہ بنیں جو دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچنے والا ہو۔ اور یہی وہ حربہ ہے جس سے ہم دنیا کے دل جیت سکتے ہیں، جس سے ہم دنیا کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا کے ڈال سکتے ہیں، جس سے ہم دنیا کی رہنمائی کر سکتے ہیں، جس سے ہم دنیا کے فسادوں کو ختم کر سکتے ہیں۔ کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کے احکام قرآن کریم کی صورت میں موجود ہیں جو ہمارے لئے قابل اطاعت ہیں اور قابل عمل ہیں۔ ہمارے پاس اُسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے جس کی اطاعت کرنا ہم پر فرض کیا گیا ہے۔ ہمارے اندر اولی الامر کا روحانی نظام بھی موجود ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہے۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے میں اور دوسروں میں ایک نمایاں امتیاز پیدا نہ کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور جو توقعات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم سے رکھی ہیں ہم ہمیشہ ان کو پورا کرنے والے ہوں۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 5؍ دسمبر 2014ء شہ سرخیاں

    اس زمانے کے حَکَم اور عدل نے واضح فرما دیا کہ سوائے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں کی نفی کرنے والے احکامات کے عموماً دنیاوی احکامات میں ایک مومن کا کام ہے کہ وہ مکمل طور پر ملکی قوانین کی پابندی کرے۔ اگر یہ سنہری اصول اس وقت کے مسلمان بھی اپنا لیں کہ حکومت وقت سے لڑنا نہیں ہے تو بہت سے ملکوں میں جو فساد کی صورتحال ہے اس میں بہت حد تک سکون آ سکتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرو اور پھر اولوا الامر یعنی اپنے سرداروں، حکومت وغیرہ کی اطاعت کرو۔ اس میں حکومتی نظام بھی آ جاتا ہے اور نظامِ جماعت بھی آ جاتا ہے۔ اور خلافت کی اطاعت تو ان دونوں سے اوپر ہے کیونکہ خلافت اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو ہی قائم کرتی ہے۔ اور نظام جماعت خلافت کے تابع ہے۔ مَیں نے کہا کہ خلافت کی اطاعت حکومت سے بھی اوپر ہے تو کسی قسم کی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔ خلیفۂ وقت ملکی قوانین کی سب سے زیادہ پابندی کرتا ہے، کرنے والا ہے اور کروانے والا ہے۔

    ہم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ خلافت کا نظام ہم میں جاری ہے ورنہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانے کے بارے میں مختلف فرقوں اور فقہاء کی اپنی اپنی تشریح ہے، تفسیریں ہیں اور بعض ایسی ہیں جو معاملوں کو سلجھانے کے بجائے الجھانے والی ہیں اور الجھا سکتی ہیں۔ اسی طرح حکومت وقت کے ساتھ معاملات میں بھی مختلف نظریات مختلف مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ پس ایک اجتہاد اور فیصلہ خلافت کے تابع رہ کر ہی ہو سکتا ہے اور اس بات پر احمدی جتنا بھی شکر کریں وہ کم ہے۔ اور اس شکر کا اظہار خلافت کی مکمل اطاعت سے ہی ہو سکتا ہے۔

    حکومت وقت کی اطاعت سے امن اور سکون تو پیدا ہو گا لیکن روحانی روشنی اور لذّت روحانی نظام کی اطاعت میں ہی ہے۔

    بیعت کا تو مفہوم ہی اطاعت میں اپنے آپ کو فنا کرنا ہے۔ اور یہ مفہوم اتنا بلند ہے کہ دنیوی امور میں فرمانبرداری اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کو ہر وقت سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ قوم بننے کے لئے یگانگت اور فرمانبرداری انتہائی ضروری ہے اور اس کے بغیر گراوٹ اور تنزل ہی ہوگا۔

    بیعت کے معیار کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

    اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں اطاعت کا جذبہ ہے لیکن بعض ایسے بھی ہیں جب کسی عہدہ سے ہٹایا جائے تو سوال ہوتا ہے کیوں ہٹایا گیا ہے؟ کس لئے ہٹایا گیا ہے؟ کیا کمی تھی ہم میں؟

    یہ ایک احمدی کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آ کر اَطِیْعُوا اللّٰہ َ واَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ کا ایسا نمونہ بنیں جو دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچنے والا ہو۔ اور یہی وہ حربہ ہے جس سے ہم دنیا کے دل جیت سکتے ہیں۔

    فرمودہ مورخہ 05؍دسمبر 2014ء بمطابق 05فتح 1393 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور