دین کے کاموں میں خود بھی چُست ہوں اور اپنے بھائیوں کی بھی مدد کریں

خطبہ جمعہ 30؍ جنوری 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا (البقرۃ: 287) یعنی اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں ڈالتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ وہ کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جو انسانی طاقت سے باہر ہو، اس کی استعدادوں سے باہر ہو، اس کی قابلیت سے باہر ہو۔ پس جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے احکام آتے ہیں جن پر عمل انسانی طاقت سے باہر نہیں تو پھر ان پر عمل کی ذمہ داری انسان پر عائد ہوتی ہے۔ ایک حقیقی مومن یہ عذر نہیں کر سکتا کہ فلاں حکم میری طاقت سے باہر ہے۔ اگر خدا تعالیٰ پر ایمان ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی اس بات پر بھی ایمان لازمی ہے کہ اس کے تمام احکام ہماری استعدادوں کے مطابق ہیں اور ہمیں ان پر اپنی تمام تر استعدادوں کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ حکم ہے تم اس پر عمل کر کے اس کے اعلیٰ ترین معیاروں کو ضرور حاصل کرنا ورنہ اس پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے تم سزا کے مستحق ٹھہرو گے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ ہر حکم پر عمل تمہاری استعدادوں کے مطابق ضروری ہے۔ اور جب ہم انسانی فطرت کا، انسان کی حالت کا جائزہ لیتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ہر انسان کی حالت مختلف ہے۔ اس کی دماغی حالت، اس کی جسمانی ساخت، اس کا علم، ذہانت وغیرہ مختلف ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی کمزوریوں، اس کی حالت اور اس کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے احکامات میں ایسی لچک رکھ دی ہے جس کے کم سے کم معیار بھی ہیں اور زیادہ سے زیادہ معیار بھی مقرر ہیں۔ جب ایسی لچک ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم میرے احکامات پر دیانتداری سے عمل کرو۔ پس یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے جو انسانی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے دی گئی ہے۔ کسی کو اس اعتراض کی گنجائش نہیں رہنے دی کہ اے اللہ! تُو نے میری فطرت تو ایسی بنائی ہے، میری حالت تو ایسی بنائی ہے اور احکامات اس سے مطابقت نہ رکھنے والے دئیے ہیں۔ حکم تو تُو مجھے یہ دے رہا ہے کہ اعلیٰ ترین معیار تیرے احکامات پر عمل کر کے قائم کروں اور میری جسمانی حالت یہ ہے کہ میں اس پر عمل اس معیار کے مطابق کر ہی نہیں سکتا یا میری ذہنی حالت نہیں یا میری اور کمزوریاں ہیں جو ان معیاروں کو حاصل کرنے میں روک ہیں، مَیں کس طرح اس پر عمل کر سکتا ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا کہہ کر تمام عذر ختم کر دئیے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بیشک اپنے احکامات، اپنی تعلیم پر عمل کا مکلف ٹھہرایا ہے۔ اس کو کہا ہے کہ تم ضرور کرو مگر اس کا چھوٹے سے چھوٹا معیار رکھ کر اس پر عمل نہ کر کے مؤاخذہ سے بچنے والوں کا عذر نہیں رہنے دیا۔ فرما دیا کہ یہ معیار تمہاری حالت کے مطابق ہیں ان پر تو بہرحال چلنا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’کوئی آدمی بھی خلاف عقل باتوں کے ماننے پر مجبور نہیں ہو سکتا۔ قویٰ کی برداشت اور حوصلے سے بڑھ کر کسی قسم کی شرعی تکلیف نہیں اٹھوائی گئی۔ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا۔ اس آیت سے صاف طور پر پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام ایسے نہیں جن کی بجا آوری کوئی کر ہی نہ سکے۔ اور نہ شرائع و احکام خدائے تعالیٰ نے دنیا میں اس لئے نازل کئے کہ اپنی بڑی فصاحت و بلاغت اور ایجادی قانونی طاقت اور چیستاں طرازی کا فخر انسان پر ظاہر کرے۔‘‘ (پہیلیاں بوجھوانی شروع کر دے۔ مشکل باتیں بیان کر کے انسان پر یہ فخر ظاہر کرے۔) فرمایا: ’’… فخر انسان پر ظاہر کرے اور یوں پہلے ہی سے اپنی جگہ ٹھان رکھا تھا کہ کہاں بیہودہ ضعیف انسان اور کہاں کا ان حکموں پر عمل درآمد؟ خدا تعالیٰ اس سے بر تر اور پاک ہے کہ ایسا لغو فعل کرے۔‘‘ (ملفوظات جلد1 صفحہ61-62۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو جو اعضاء دئیے ہوئے ہیں، جو طاقتیں دی ہوئی ہیں اس کے قویٰ کی برداشت اور طاقت کے مطابق اپنے احکامات پر عمل کرنے کی انسان سے توقع کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کوئی ہماری طرح نہیں ہے کہ اپنا رعب قائم کرنے کے لئے حکم دے دئیے۔ ان افسروں کی طرح جو اپنے ماتحتوں کو تنگ کرنے کے لئے بعض حکم دیتے ہیں اور نہ عمل کرنے کی وجہ سے ان کو ذلیل و رسوا کرتے رہتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی رحمت تو اپنے بندوں پر بیشمار ہے۔ انسان عمل کرے جن باتوں کے عمل کرنے کا حکم دیا ہے تو کئی گنا اجر دیتا ہے اور ہر ایک کی صلاحیت کے مطابق اس سے عمل کی توقع رکھتا ہے اور بیشمار اجر دیتا ہے۔ پس کیا ایسا خدا جو اپنے بندوں پر اس قدر مہربان ہو اس کی باتوں پر عمل کرنے کی انسان کو اپنی استعدادوں کے مطابق کوشش نہیں کرنی چاہئے؟ یقینا ایک حقیقی مومن اس کے لئے کوشش کرے گا اور کرنی چاہئے۔

پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’شریعت کا مدار نرمی پر ہے۔ سختی پر نہیں‘‘۔ (ملفوظات جلد3 صفحہ404۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) یعنی ہر ایک سے اس کی استعدادوں کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔ شریعت نرمی اور آسانی دیتی ہے۔

پس اللہ تعالیٰ نے استعدادوں کے مطابق عمل کا کہہ کر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی کی حد مقرر کر دی۔ یہ حد بندی کر دی۔ ہر ایک کی اپنی ذہنی اور علمی حالت کے مطابق انسانی عقلوں کی بھی حد بندی کر دی۔ کاموں کی بھی حد بندی کر دی سوائے اس کے کہ انسان ذہنی بیمار ہو یا پاگل ہو۔ چھوٹی سے چھوٹی عقل رکھنے والے کے لئے بھی اس کے مطابق عمل کا کہا ہے جو اس کی صلاحیتیں ہیں، جو اس کی استعدادیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ہر انسان ایمان حاصل کرے۔ اس لئے اس نے چھوٹی سے چھوٹی عقل کا بھی معیار قائم کیا کہ جو جس کی صلاحیت ہے اس کے مطابق اس کو ایمان تو بہرحال حاصل کرنا چاہئے۔ اگر وہ چھوٹی سے چھوٹی عقل کا بھی معیار مقرر نہ کرتا پھر سب لوگ ایمان لانے کے مکلف نہ ہوتے۔ ان پر لازمی نہ ہوتا کہ ضرور ایمان لائیں۔ صرف وہی اس کے مکلف ہوتے جو عقل کے اونچے معیار کے ہیں جن کی صلاحیتیں اور استعدادیں بہت زیادہ ہیں۔ اگر کسی شخص کو کوئی بات سمجھ نہ آئے تو پھر اس پر عمل نہ کرنے کا الزام عائدنہیں ہوتا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ادنیٰ عقل سے لے کر اعلیٰ عقل تک مختلف درجوں کے لحاظ سے معیار رکھے ہیں۔ کوئی بڑا عقلمند ہے۔ کوئی کم عقلمند ہے۔ کسی میں زیادہ صلاحیتیں استعدادیں ہیں۔ کسی میں کم ہیں۔ دنیا داری کے معاملات میں بھی ہم دیکھتے ہیں۔ اسی دماغی رجحان اور حالت کے مطابق کوئی اعلیٰ کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ صلاحیت رکھتے ہوئے بہت آگے نکل جاتا ہے۔ کوئی درمیان میں رہتا ہے۔ کوئی بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ پھر پیشوں کے لحاظ سے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی کسی پیشے میں آگے نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے کوئی کسی پیشے میں۔ تعلیم کے لحاظ سے کسی کا رجحان کسی مضمون کی طرف ہوتا ہے، کسی کا کسی طرف۔ تو یہ ایک فطری چیز ہے کہ رجحان مختلف کاموں کے کرنے اور ان میں کامیابی حاصل کرنے کی طرف لے جاتے ہیں۔ بہرحال کوئی انسان برابر نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے برابر پیدا ہی نہیں کیا، نہ حالات اس کو برابر رکھ سکتے ہیں۔ انسانوں کی صلاحیتوں میں فرق ہوتا ہے۔ برابر مواقع بھی دئیے جائیں تو تب بھی کوئی آگے نکل جاتا ہے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ عقل کے علاوہ بھی بعض عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ یہی حالت ایمان کی بھی ہے۔ جس طرح ظاہری طور پر ہوتا ہے اس طرح ایمان میں بھی یہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کی بھی یہی حالت ہے۔ اپنی اپنی صلاحیتوں اور استعدادوں کے مطابق کوئی آگے نکل جاتا ہے، کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ ہم یہ امید تو سب سے کرسکتے ہیں کہ سب ایمان لے آئیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا ہے نہ یہ کیا جا سکتا ہے کہ سب کا ایمان اور عمل کا معیار ایک جیسا ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ یہ تو فرماتا ہے کہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ قرآن کریم میں بھی ذکر ہے۔ کیوں اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں۔ لیکن یہ مطالبہ قرآن کریم میں نہیں ہے کہ ہر ایک حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے مومن کیوں نہیں بنتے۔

ایک روایت میں آتا ہے ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام کے متعلق پوچھا۔ آپ نے فرمایا دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا فرض ہے۔ اس نے پوچھا اس کے علاوہ بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ اگر نفل پڑھنا چاہو تو پڑھ سکتے ہو۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ماہ کے روزے رکھنا فرض ہے۔ اس نے پوچھا اس کے علاوہ بھی کوئی روزے فرض ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ ہاں نفلی روزے رکھنا چاہو تو رکھ سکتے ہو۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کا بھی ذکر فرمایا۔ اس پر اس نے پوچھا۔ اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی زکوۃ ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ ہاں ثواب کی خاطر تم نفلی صدقہ دینا چاہو تو دے سکتے ہو۔ یہ باتیں سن کر وہ شخص یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا کہ خدا کی قَسم! نہ اس سے زیادہ کروں گا نہ کم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ سچ کہتا ہے تو اس کو کامیاب سمجھو۔ (صحیح البخاری کتاب الایمان باب الزکاۃ من الاسلام حدیث نمبر46)

آپ نے اس کو فلاح پانے والا کہا اور یہ کہہ کر جنّت کی بشارت دی۔ پس اس بات سے پتا چلتا ہے کہ اسلام نے ہر ایک سے حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکرؓ جیسے ایمان کا مطالبہ نہیں کیا۔ ہر ایک کے مختلف درجے ہیں۔ ہر ایک کی طاقتیں ہیں۔ ہر ایک کے ایمان کے معیار ہیں۔ حضرت ابوبکر زکوٰۃ کے علاوہ بھی گھر کا اپنا سارا مال اٹھا کے لے آتے ہیں۔ حضرت عمرؓ سمجھتے ہیں آج مَیں آگے نکل جاؤں گا اور آدھا مال گھر کا لے آتے ہیں۔ لیکن جب دیکھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام لے کر آئے ہوئے تھے۔ (سنن الترمذی ابواب المناقب باب نمبر 43 حدیث نمبر3675)

تو یہاں بھی ہر ایک کے معیار ہیں۔ ہاں یہ بیشک ہے کہ ایسے اعلیٰ معیار کا مطالبہ ہر ایک سے نہیں ہو سکتا۔ لیکن تحریص دلائی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ نوافل کا ثواب ہے۔ بلکہ یہ بھی کہا کہ نوافل فرائض کی کمی کو بھی پورا کرتے ہیں۔ ایمان و یقین میں اضافہ کرتے ہیں۔ لیکن یہ حکم نہیں دیا گیا کہ ضرور ہر ایک کے لئے فرض ہے چاہے اس کی حالت ہے کہ نہیں کہ نفل ادا کرے۔ یعنی جو بھی فرائض میں داخل ہے صرف نفل نمازوں کے (معاملہ میں) نہیں بلکہ مالی قربانی کے لئے بھی، وقت کے لئے بھی۔ کیونکہ اعلیٰ درجوں پر عمل جو ہے اسلام میں قابلیتوں کی بنا پر ہے۔ اس لئے ہر ایک کے لئے فرض نہیں ہے اور چونکہ قابلیتیں مختلف ہوتی ہیں اس لئے کم سے کم قابلیت اور عقل جو سب میں ہوتی ہے اس کے مطابق مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایمان کے اعلیٰ مدارج کا ہر ایک سے مطالبہ نہیں کیا گیا۔ جو (مدارج) کسی بھی اعلیٰ سے اعلیٰ ایمان رکھنے والے کے اپنے اعلیٰ معیار کے مطابق ہوں، کم سے کم ایمان رکھنے والے کا جو اعلیٰ ترین معیار ہے اس کو وہاں تک پہنچنے کے لئے نہیں کہا گیا۔ پس یہ فرق ہے جو صلاحیتوں اور قابلیتوں کے مطابق رکھا گیا ہے اور کسی کو تکلیف میں نہیں ڈالا گیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ: ’’خدا تعالیٰ انسانی نفوس کو ان کی وسعت علمی سے زیادہ کسی بات کو قبول کرنے کے لئے تکلیف نہیں دیتا اور وہی عقیدے پیش کرتا ہے جن کا سمجھنا انسان کی حد استعداد میں داخل ہے تا اس کے حکم تکلیف ما لا یطاق میں داخل نہ ہوں۔‘‘ (اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد10 صفحہ432)

پس ہر ایک کے عمل اور سمجھ کی جو استعداد کی حد ہے وہی اس کی نیکی کا معیار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ طاقت سے بڑھ کر کسی کو تکلیف میں نہیں ڈالتا۔

یہاں یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر ہمارے دل کی پاتال تک ہے، گہرائی تک ہے۔ کسی بھی قسم کا بہانہ اپنی کم علمی یا کم عقلی یا استعدادوں کی کمی کا اللہ تعالیٰ کے حضور نہیں چل سکتا۔ اس لئے اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے پھر اپنی استعدادوں کے جائزہ لے کر اپنے ایمان اور عمل کو پرکھنا چاہئے۔ یہی نہیں کہ تھوڑے سے تھوڑا معیار ہے تو بس ہمیں چھٹی مل گئی۔ کم از کم معیار بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا وہ یہ تھا کہ پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اور ایک مرد کے لئے پانچ نمازیں باجماعت فرض ہیں۔ روزے فرض ہیں اور اگر مال پر قربانی یا زکوٰۃ لگتی ہے تو وہ بھی فرض ہے۔ پس یہ کم از کم معیار ہیں۔ پس ان معیاروں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے جائزے لے کر ہر ایک کو پرکھنا چاہئے۔

جیسا کہ میں نے کہا اس حدیث میں اس شخص نے کہا تھا کہ نہ اس سے زیادہ کروں گا نہ کم تو وہ کم از کم معیار تھا جس کا اس نے اعلان کیا تھا۔ ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو نماز بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ادا نہیں کرتے جو فرض ہے جیسا کہ مَیں نے کہا مردوں کو باجماعت نماز فرض ہے۔

پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ جس طرح دنیا کے کاموں کے لئے کوشش ہوتی ہے اس سے بڑھ کر دین کے کام کے لئے کوشش ہونی چاہئے اور استعدادوں کو بڑھانے کی بھی کوشش ہونی چاہئے۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کمزور لوگ ہمیشہ اپنے لئے سہارے کی تلاش کرتے ہیں لیکن کیونکہ صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں اس لئے بعض لوگ جن میں کچھ قابلیت ہو آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن بعض مزید سہارے کو چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ وہ تھک کر اس لئے بیٹھ جائیں کہ ان کی صلاحیت ہی اتنی تھی۔ دنیاوی قانون میں تو ممکن ہوسکتا ہے کہ صلاحیت سے زیادہ کا وزن کسی پر ڈالا جا رہا ہو لیکن دین کے معاملات میں یہ نہیں ہے۔ جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے کہ کم از کم معیار کے بعد یہ سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا کہ صلاحیت سے زیادہ کا بوجھ کسی پر لادا جا رہا ہو۔ ہاں بعض باتوں کو سمجھنے کے لئے بعض سہاروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جیسا کہ دنیاوی معاملات میں پڑتی ہے۔ ان سہاروں کی طرف کمزور مومنوں کو رجوع کرنا چاہئے اُسی طرح جس طرح ایک کمزور طالب علم استاد سے بار بار کوئی سبق سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور استاد کی کوشش سے ان کے معیار بہتر ہو جاتے ہیں لیکن استاد مددنہ کرے تو بالکل پیچھے رہ جاتے ہیں لیکن ایسے استاد جو مددنہ کریں ان کے رویے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ استاد صحیح طور پر اپنے فرائض اور اپنا حق ادا نہیں کر رہے بلکہ اپنے کام سے خیانت کرنے والے استاد ہیں۔ یہاں مَیں دین کے لئے جو استاد مقرر ہیں ان کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں یعنی ہمارے مربّیان و مبلغین اور صاحب علم لوگ کہ اللہ تعالیٰ نے جو اُن کی استعدادوں کو بڑھایا ہوا ہے تو وہ ان کا صحیح استعمال بھی کریں اور اپنی استعدادوں سے کمزوروں کی استعدادوں کو علمی لحاظ سے بڑھانے کی کوشش کریں کیونکہ یہ آپ کی طرف سے خدا تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کا شکرانہ ہو گا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی حقیقی رنگ میں شکر گزاری نہ ہو تو انسان گنہگار بن جاتا ہے۔

پس مربّیان اور مبلغین اور دوسرے واقفین زندگی جن کو دین کا علم ہے خاص طور پر اس بات کی طرف توجہ کریں کہ لوگوں کی استعدادوں کو سہارے دے کر اوپر لائیں۔ کم از کم درجے سے اوپر کے درجوں کی طرف استعدادوں کو بڑھانے میں مدد دیں یا جن درجوں پر ہیں ان کے بھی جو مختلف معیار ہیں ان کو بھی بڑھانے کی کوشش کریں۔ یہ بات جہاں ترقی کرنے والے افراد کے ایمان و یقین میں اضافہ کرنے والی ہو گی وہاں جماعتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

مبلغین اور مربیان کو تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ تمہارے علم کی وجہ سے تمہاری استعدادیں بڑھائی گئی ہیں ان کو اپنے بھائیوں کی استعدادیں بڑھانے کے لئے استعمال کرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ (آل عمران: 105) اور تم میں سے ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے جس کا کام صرف یہ ہو کہ لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے۔ آجکل اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا بھر میں جماعت احمدیہ کے کئی جامعات چل رہے ہیں جہاں سے دینی تعلیم حاصل کر کے مربّیان اور مبلغین نکل رہے ہیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ جماعت کی تربیت کی طرف بھی پوری توجہ دیں۔ دینی علم انہوں نے صرف خاص موقعوں اور تقریروں یا مناظروں یا صرف چند افراد کو تبلیغ کرنے کے لئے نہیں سیکھا بلکہ مسلسل اپنے آپ کو اس کام میں مصروف رکھنا ہے۔ یہ ان کے فرائض میں داخل ہے۔ اپنوں کی تربیت بھی کرنی ہے۔ ان کے ایمان و ایقان میں اضافے کے طریق بھی انہیں سکھانے ہیں۔ ان کی استعدادوں کو بڑھانے کی بھی کوشش کرنی ہے اور دنیا کو خیر کی طرف بلانے کے نئے سے نئے راستے اور طریق بھی ایجاد کرنے ہیں۔ بعض زیادہ تجربہ کار ہو جاتے ہیں۔ یہ کہہ دیتے ہیں کہ کام نہیں ہے۔ جو کام دیا جاتا ہے ہم اسے فوری طور پر بجا لاتے ہیں۔ لیکن یہ چیز غلط ہے۔ صرف یہ بہانے ہوتے ہیں۔ بعض اپنے کام کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنی گھریلو ذمہ داریوں کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہوتے ہیں۔ بعض اپنی ذات پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینے والے ہوتے ہیں چاہے وہ چند ایک ہی ہوں۔ لیکن اگر ایسے نظر آتے ہیں تو چھوٹی سی جماعت میں بہت ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔ ہفتہ میں تین دن سٹوروں میں پھرتے رہتے ہیں۔ مَیں صرف نئے آنے والوں کی بات نہیں کر رہا۔ ان میں سے بہت سے اللہ کے فضل سے ایسے ہیں جو قربانی کے جذبے سے سرشار ہیں اور ابھی تک وہ ایک جذبے سے کام کر رہے ہیں اور اللہ کرے کہ وہ کام کرتے رہیں۔ اکثریت اپنے وقت کا احساس بھی رکھتے ہیں۔ جو پہلے جیسا کہ مَیں نے کہا تجربہ کار ہیں ان کو اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دینی علم کی جو استعدادیں بڑھائی ہیں ان کے فرائض جو اُن پر عائد کئے ہیں ان کا اپنے طور پر بھی صحیح استعمال کریں اور افراد جماعت کی استعدادیں بڑھانے میں ایک اچھے استاد کی طرح ان کا استعمال کریں۔ دنیا میں کوئی بھی نظام ہو، اللہ تعالیٰ کو تو پتا تھا کہ نظام کو چلانے کے لئے مختلف قسم کے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں جو اپنے ایمان اور دینی علم کی استعدادیں بڑھا کر پھر دنیا کی بھلائی کے لئے اسے استعمال کریں اور واقفین زندگی نے اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبّیک کہتے ہوئے اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کیا ہے۔ پس یہ علم اور یہ پیشکش اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اس کا حق ادا کریں۔ یہ صحیح ہے کہ اس علم کے سیکھنے اور سکھانے میں بھی سب برابر نہیں ہو سکتے۔ ہر ایک کی اپنی اپنی صلاحیتیں ہیں۔ جیسا کہ ہر ایک ایک جیسا نفع دوسروں کو نہیں پہنچا سکتا۔ دوسروں کی صلاحیتوں کو اجاگر نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کی اپنی انفرادی صلاحیت دین کا علم سیکھنے اور سکھانے میں مختلف ہوتی ہے۔ لیکن جتنی صلاحیت ہے، جتنی استعداد ہے اس کے استعمال کے تو اعلیٰ ترین معیار حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور جب ہر ایک اس طرح سنجیدگی سے کوشش کرے گا تو وہ جہاں اپنے کمزور بھائیوں کے لئے فائدہ مند ہوں گے وہاں جماعت کے معیار بھی بلند کرنے و الے ہوں گے۔

پس واقفین زندگی اور خاص طور پر مربّیان کی بہت بڑی ذمہ داری ہے اور افراد جماعت کی استعدادوں کے معیار بلند کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح عہدیدار ہیں۔ افراد جماعت انہیں اس لئے عہدیدار بناتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جن افراد کو ہم کوئی عہدہ دینا چاہتے ہیں ان کی استعدادیں، ان کا علم، ان کی عقل ہم سے بہتر ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ منتخب کرنے والوں کی یہ سوچ ہونی چاہئے اور یہ سوچ رکھنا فرض کی ادائیگی کا کم از کم معیار ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنی امانت کا حق ادا نہیں کرتے۔ اگر یہ کم از کم معیار عہدیدار منتخب کرتے وقت سامنے ہو تو کبھی کوئی ایسا عہدیدار منتخب نہ ہو جو صرف عہدے کے لئے منتخب کیا گیا ہو۔ بہرحال عہدیداروں کا بھی یہ فرض ہے کہ جماعت کی علمی اور دینی ترقی کے معیاروں کو اونچا کرنے کی کوشش کریں ان کی استعدادوں کو بڑھانے کی کوشش کریں تا کہ اپنے اپنے لحاظ سے ہر ایک شخص کی استعدادوں میں اضافہ ہوتا رہے۔ تربیت کا معاملہ ہے تو سیکرٹری تربیت اور صدر جماعت کے ساتھ باقی عاملہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے نمونے کے ساتھ دوسروں کی تربیت کی طرف بھی توجہ دیں۔ مثلاً خطبات سننا ہے، درس سننا ہے، جماعتی پروگراموں میں شامل ہونا ہے تا کہ دینی اور علمی اور روحانی ترقی ہو۔ ان فنکشنز (functions) پر لانا اور پھر ان خطبات وغیرہ اور جلسوں وغیرہ سے فائدہ اٹھا کر مستقل افراد جماعت کو یاددہانی کرواتے رہنا یہ عہدیداروں کا کام ہے۔ جہاں یہ مربیان کا فرض ہے وہاں عہدیداروں کا بھی کام ہے۔ عاملہ کے تمام ممبران کا فرض ہے۔ بعض مربّیان جو ہیں بڑے اعلیٰ رنگ میں اس کام کو سرانجام دیتے ہیں۔ میرے خطبے کے نوٹس بھی لیتے ہیں۔ پھر اپنے درسوں میں، اپنی مجلسوں میں سارا ہفتہ کسی نہ کسی بات کو لے کر تلقین کرتے ہیں جس کا افراد جماعت پر بھی نیک اثر پڑتا ہے۔ کئی لوگ مجھے اس کا اظہار بھی کر دیتے ہیں کہ درس سن کے ہمارے دینی علم میں اضافہ ہوا۔ فلاں عمل کو ہمیں صحیح طور پر کرنے کا طریق پتا چلا۔ ہماری سستیاں دُور ہوئیں۔ لیکن اگر اس بات کو لے کر عہدیدار بھی اور جو بھی دوسرے ذمہ دار ہیں بیٹھے رہیں کہ ہم نے اپنے درس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس سنا دیا۔ یا لوگ خلیفۂ وقت کا خطبہ سن لیتے ہیں اس لئے بار بار ذاتی طور پر بھی اور مختلف مجالس میں بھی ان باتوں کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، یاددہانی کرانے کی ضرورت نہیں ہے تو وہ غلط ہیں۔ چاہے اس نیت سے بھی نصیحت سے رکیں کہ اگر خلیفہ وقت کی نصیحت کا اثر نہیں ہوا تو ہماری نصیحت کا کیا اثر ہو گا تب بھی غلط ہے۔ یاددہانی بہرحال ضروری ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ بعض باتیں بعض لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آتیں۔ میں خود بھی کوشش کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات کے الفاظ کو اپنے الفاظ میں بھی آسان رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کروں۔ لیکن پھر بھی میں نے جائزہ لیاہے بعض لوگ کہتے ہیں ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ یا جو وہ سمجھے وہ صحیح نہیں تھا۔ اس لئے اگر وقتاً فوقتاً آسان انداز میں ہلکے پھلکے طور پر مجالس میں سمجھایا جاتا رہے تو کم استعداد والوں کو بھی سمجھ آ جاتی ہے۔

پس سہاروں کی بہرحال ضرورت پڑتی ہے اور ذمّہ دار لوگوں کا یہ کام ہے کہ کمزوروں کا سہارا بنیں۔ بعض لوگ تو خود بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ ہم نے خطبہ دو مرتبہ یا تین مرتبہ سنا تو ہمیں مضمون سمجھ آیا۔ لیکن ہر ایک خود توجہ نہیں دیتا۔ اس لئے وہ لوگ جنہوں نے دین کی خدمت کے لئے وقف کیا ہے اور وہ لوگ جن پر یہ ذمہ داری ہے کہ کمزوروں کا سہارا بننے کی کوشش کریں ان کو بہرحال اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ ابھی نماز باجماعت کی بات ہوئی ہے کہ مَردوں پر فرض ہے۔ اکثر مَیں اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں۔ اس میں بھی اگر باقاعدہ آنے والے سہارا بننے کی کوشش کریں تو بہتری آسکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ عہدیدار ہی ہوں، عام آدمی بھی سہارا بن سکتا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ایک دفعہ فرمایا کہ ایک دن میں عشاء کی نماز پر مسجد میں آیا تو مَیں نے دیکھا کہ صرف دو صفیں تھیں۔ قادیان کی بات ہے۔ تو میں نے کہا کہ لوگ نماز پر آتے ہوئے ہمسایوں کو بھی ساتھ لے آیا کریں۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اگلے دن تعداد بڑھنی شروع ہو گئی۔ اب جو نئے آنے والے تھے ان کو پتا ہے کہ نماز ضروری ہے۔ یہ تو ہر ایک کو پتا ہے فرائض میں داخل ہے۔ لیکن اس استعداد کی کمی تھی کہ اس اہمیت کو یاد رکھ سکیں یا سستی نے استعدادوں کو کم کر دیا تھا۔ تو یاددہانیاں بھی استعدادوں کو چمکا دیتی ہیں یا ان کو بہتر کرنے کا موجب بنتی ہیں۔ نمازوں میں حاضری بڑھنا بتاتا ہے کہ طاقت سے بڑھ کر تکلیف کی وجہ سے مسجد میں آنا روک نہیں تھا بلکہ سستی نے استعداد یا اہمیت کا اندازہ نہ ہونے دیا اور اس وجہ سے پھر استعداد کو زنگ لگ گیا اور آہستہ آہستہ وہ مسجد میں آنے میں سست ہو گئے۔ پس ذرا سی کوشش سے سست لوگ اپنی غفلت دُور کر سکتے ہیں۔ اس لئے گزشتہ دنوں جب مَیں نے خاص طور پر بعض تربیتی کاموں کی طرف امام صاحب، عطاء المجیب راشد صاحب کو توجہ دلائی تو یہ بھی کہا تھا کہ یہ بھی افراد جماعت کو کہیں کہ ایک دوسرے کو مسجد میں لانے میں مدد کریں۔ یہاں اگر فاصلے زیادہ ہیں تو ہمسائے اپنی سواری بدل بدل کر استعمال کر سکتے ہیں تا کہ کسی پر پٹرول کے خرچ کا بوجھ بھی نہ پڑے۔ بعض لوگ پہلے بھی اس طرح کرتے ہیں۔ جلنگھم کے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ صبح فجر کی نماز پر ان کے دوست دس منٹ پہلے فون کر دیتے ہیں کہ مَیں اتنے منٹ بعد پہنچ رہا ہوں۔ فجر کی نماز کے لئے تیار رہیں۔ اگر اس طرح آپس میں ایک دوسرے کو کہہ دیں تو مسجد کی حاضری کافی بہتر ہو سکتی ہے۔ پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر بات سے ہر ایک یکساں فائدہ نہیں اٹھاتا۔ یاددہانی کی ضرورت رہتی ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے مطابق بات جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض خود کوشش کرتے ہیں۔ بعض سہارے تلاش کر کے بہتر ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض کے لئے خود سہارا بننا پڑتا ہے تا کہ جو افراد کی استعدادوں کی ترقی ہے وہ بھی حاصل ہو اور جماعتی معیاروں کی ترقی بھی حاصل ہو۔ اس لئے بہرحال نظام جماعت کو بھی اور افراد کو بھی جو بہتر ہیں، اپنا حق ادا کرنا چاہئے۔

توجہ کی بات ہو رہی ہے تو پھر خطبات میں بھی توجہ قائم رکھنی چاہئے۔ خطبوں کے دوران بعض دفعہ میں نے بھی دیکھا ہے، بعض خود بھی محسوس کرتے ہوں گے کہ بعض دفعہ لوگ اونگھ جاتے ہیں اور صرف اونگھ نہیں جاتے بلکہ اتنی گہری نیند میں چلے جاتے ہیں کہ جھٹکا کھا کر ساتھ والے پہ گرتے ہیں۔ اس بیچارے کو پھر ٹھوکر لگانی پڑتی ہے۔ تو ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ پھر بعض ایسے بھی ہیں جن کی شنوائی کم ہوتی ہے۔ صحیح طرح سن نہیں سکتے۔ مطلب نہیں اخذ کر سکتے۔ بعض اپنی سوچوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ تو ایسے مختلف قسموں کے لوگ جو ہیں ان کے لئے صرف فرض کر لینا کہ انہوں نے خطبہ سن لیا یا تقریر سن لی اس میں کیا اثر ہو سکتا ہے۔ بہرحال ان کے لئے یاددہانی اور توجہ کی ضرورت ہے جیسا کہ مَیں نے کہا جو بعد میں کرائی جاتی رہنی چاہئے۔ جلسوں کے دوران تو شاید بعض لوگ اس لئے بھی نعرہ لگا دیتے ہیں کہ ارد گرد بیٹھے ہوؤں کو اونگھتا ہوا دیکھتے ہیں یا اپنی نیند مٹانی چاہتے ہیں تو بہرحال تقریر سننا، خطبہ سننا، توجہ سے سننا، اسے جذب کرنا، اس پر عمل کرنا یہ سب باتیں ہر ایک کی اپنی اپنی استعدادوں پر منحصر ہیں اور اگر یاددہانیاں ہوتی رہیں تو استعدادیں بہتر ہوتی جاتی ہیں۔ پھر اسلام ہر مومن کے لئے یہ بھی ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کرے۔ صرف مربّیان یا عہدیداروں کا کام ہی نہیں ہے جیسا کہ پہلے بھی مَیں نے کہا۔ نماز کے لئے لانے کی طرف یہ توجہ ضروری نہیں کہ دُور سے ہی لانا ہے۔ ہماری مسجدوں کے ارد گرد جو قریب قریب ہمسائے رہتے ہیں وہ قریب رہنے والے بھی کوشش کریں۔ مسجد فضل کے نزدیک یا اس بیت الفتوح کے نزدیک جو لوگ ہیں وہ اگر ہمسایوں کو توجہ دلاتے رہیں تو حاضریاں بڑھ سکتی ہیں۔ اسی طرح باقی مساجد میں۔ اور یہ حقیقی اسلامی مؤاخات بھی ہے۔ ایک دوسرے سے بھائی چارہ اور محبت بھی ہے کہ ان کا خیال رکھا جائے۔ ان کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی مومنوں پر فرض کیا ہے کہ وہ جب آگے بڑھیں تو اپنے بھائیوں کو بھی بلائیں کہ آؤ اسے حاصل کرو۔ جو کمزور ہیں انہیں کھینچ کر اوپر لائیں۔ یہ کام کہ دوسروں کو کھینچ کا اوپر لانا یہ خود بھی انسان کو اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وارث بنائے گا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خیر کی طرف لے جانے والا ثواب کا ویسا ہی مستحق ہوتا ہے جیسا کہ نیکی کرنے والا۔ (سنن الترمذی ابواب العلم باب ما جاء الدال علی الخیر کفاعلہ حدیث نمبر2670)

پس باجماعت نماز پڑھنے والے کو جہاں اپنی باجماعت نماز پڑھنے کا ستائیس گنا ثواب ملے گا وہاں وہ اپنے ساتھ لانے والے جتنے افراد ہوں گے ان کا بھی ثواب کما رہا ہو گا۔ مثلاً اگر ایک شخص اپنے ساتھ تین اشخاص کو لے کر آتا ہے تو اس نماز میں اس کا ثواب ستائیس گنا کی بجائے ایک سو آٹھ گنا ہو جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے بھی دیکھیں اپنے بندوں کو نوازنے کے کیا کیا انداز ہیں۔ پس ہم میں سے ہر ایک جہاں خود دین کے کام میں چست ہو وہاں دوسروں کو بھی چست کرنے کی کوشش کرے۔ اگر ہر ایک اس سوچ کے ساتھ کام کرے تو ہم نہ صرف دوسروں کی استعدادیں بڑھانے میں حصہ دار بن رہے ہوں گے بلکہ اپنی استعدادیں بھی اس سوچ کے ساتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ میں نے بھی ایک جگہ کھڑے نہیں رہنا، ترقی کرنی ہے۔ اور پھر دوسروں کو خیر مہیا کر کے اللہ تعالیٰ کے کئی گنا فضلوں کے بھی مستحق بن رہے ہوں گے جیسا کہ میں نے حدیث سے بتایا۔ اور یہ سوچ جماعت کی عمومی ترقی میں بھی ایک تغیر پیدا کرنے والی بن جائے گی۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی استعدادوں کو بڑھاتے چلے جانے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتے چلے جانے والے ہوں۔ آج بھی میں نمازوں کے بعد دو جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔ ایک محترمہ جنان العنانی صاحبہ کا ہے جو شام کی رہنے والی ہیں اور آجکل ترکی میں تھیں۔ 23؍جنوری 2015ء کو 57سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ 11؍جنوری1958ء کو پیدا ہوئیں۔ احمدیت سے قبل یہ سوچ کر کہ دنیا تو فانی ہے اس لئے خدا کی قربتیں تلاش کرنی چاہئیں انہوں نے بہت سے فرقوں کا مطالعہ کیا لیکن کہیں سکون نہ پایا۔ ہمیشہ بڑے درد سے خدا سے ہدایت کی دعا کرتی رہیں۔ آخر 1994ء میں ایم ٹی اے سے تعارف ہوا تو پروگرام لقاء مع العرب میں ان کا دل اٹک گیا۔ ان پروگرامز کو دیکھنے کے بعد پہلی مرتبہ انہیں سکون نصیب ہوا۔ پھر انہوں نے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں سوالات بھیجے جن کے جوابات لقاء مع العرب میں دئیے گئے۔ لقاء مع العرب میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے جوابات سے یہ بہت متاثر ہوئیں اور 1995ء میں اپنے خاوند کے سامنے احمدی ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلہ میں ان کی بیٹی بھی ان کے ساتھ تھیں۔ گو انہیں اپنے والد کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تا ہم ان کی نیکی، تقویٰ، حسن اخلاق، حسن اعمال کو دیکھ کر ان کے خاوند اور دیگر بچے بھی احمدیت کی آغوش میں آگئے۔

مرحومہ بڑی سادہ طبیعت کی خوش اخلاق، مخلص، نماز و تہجد کی پابند، رقیق القلب انسان تھیں۔ سب کی مدد کرتیں اور چھوٹوں بڑوں سے شفقت اور محبت سے پیش آتیں۔ مرحومہ نے شام اور ترکی میں لجنہ اماء اللہ اور بچوں کی تربیت کی اور انہیں نظام جماعت سکھانے اور خلافت کی محبت اور اس سے جڑے رہنے کی اہمیت ان کے دلوں میں راسخ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ ایک لمبے عرصے تک وہاں کے ایک شہر کی صدر لجنہ اماء اللہ رہی ہیں پھر جب ترکی میں آئیں تو وہاں بھی انہیں صدر لجنہ سکندرون مقرر کیا گیا اور تا دم آخر یہ اس فرض کو باحسن نبھاتی رہیں۔ اپنے پیچھے خاوند کے علاوہ دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔ سب کے سب بفضلہ تعالیٰ مخلص احمدی ہیں۔ مرحومہ موصیہ بھی تھیں۔ وصیت انہوں نے کی تھی لیکن شام کے حالات کی وجہ سے ان کا ریکارڈ گم گیا۔ بہرحال وصیت ان کی زیر کارروائی ہے۔ کارپرداز اس کی کارروائی کر لے اور وصیت منظور کر دے۔ مرحومہ کے بیٹے علی جبر صاحب کہتے ہیں کہ والدہ صاحبہ خود بھی نماز تہجد کا باقاعدگی سے التزام کرتیں اور تمام اہل خانہ کو بھی اس کی تلقین کرتیں۔ ہمیشہ کہتی تھیں کہ نیند کی لذت کو تہجد کے لئے جاگنے کے شوق سے بدل دو تا تم ثابت کر سکو کہ تمہاری زندگی کی سب سے بڑی اور اہم لذت خدا کی عبادت ہے۔ نیز فرماتیں کہ خدا سے محبت کے اظہار کا یہ طریق بھی اختیار کرو کہ وضو کر کے تیار ہو کر اذان کے انتظار میں بیٹھو جیسے تم کسی بہت ہی پیارے سے ملاقات کے لئے بے چینی سے انتظار کرتے ہو۔

محمد شریف صاحب ترکی سے لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود اور خلیفہ اور خلافت سے محبت کی پُرخلوص باتوں کا ضرور اثر ہوتا۔ ان کے پاس اگر کوئی بیٹھتا تو ہر وقت یہی باتیں کرتیں۔ بہت خواہشمند تھیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی توقعات پر پورا اتریں۔ دوران گفتگو ان کی بات کی تان ہمیشہ قرآنی آیت یا حدیث نبوی یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام پر ٹوٹتی تھی۔

فاطمہ جمعہ صاحبہ لکھتی ہیں کہ جب سے مَیں نے بیعت کی ہے مرحومہ نے ہمیشہ میرا خیال رکھا اور مجھے کبھی نہیں چھوڑا۔ جب کسی بچے کو قرآن کریم کی تلاوت کرتے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قصیدہ پڑھتے سنتیں تو تحفہ دے کر اس کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ فاطمہ صاحبہ لکھتی ہیں کہ آخری بار جب ہم ملنے گئے تو مجھے کہا: میں تم لوگوں کو وصیت کرتی ہوں کہ تم ہر حال میں ہمیشہ خلیفۂ وقت کی بات ماننا۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد اور نسل کو بھی ہمیشہ جماعت سے وابستہ رکھے۔ اسلام کی حقیقی خدمت کرنے والے بنائے جیسا کہ ان کی خواہش تھی کہ ان کی نسل میں ہمیشہ حقیقی اسلام قائم رہے۔

دوسرا جنازہ مکرمہ حبیبہ صاحبہ میکسیکو کا ہے جو 19؍جنوری 2015ء کو سو سال سے زائد عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ آپ نے جون 2014ء میں احمدیت قبول کی تھی۔ مرحومہ نے ضعیف العمری میں اسلام قبول کیا مگر اس عمر میں بھی انہوں نے نماز سیکھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے نمازوں کی پابند تھیں۔ دعاگو، عبادت گزار، بکثرت ذکرِ الٰہی کرنے والی، خوش مزاج اور نیک خاتون تھیں۔ وفات سے قبل نماز ظہر ادا کی۔ زبان پر ذکر الٰہی جاری تھا تو اس دوران ہی ان کی وفات ہو گئی۔ آپ کی ولادت میکسیکو کی چیاپہ (Chiapa) سٹیٹ کے ایک گاؤں زکزو (Zaktzu) میں کیتھولک مذہبی گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد اپنے علاقے کے معروف پادری تھے جنہوں نے کیتھولک چرچ سے علیحدگی اختیار کر کے پروٹسٹنٹ فرقہ اختیار کیا۔ 1981ء میں مذہبی مخالفت کی بنا پر قتل کر دئیے گئے۔ مرحومہ کے خاوند ان کی جگہ اس فرقہ کے پادری مقرر ہوئے۔ 1996ء میں مرحومہ کے پوتے امام ابراہیم صاحب نے اسلام قبول کیا اور ان کی تبلیغ سے مرحومہ کے خاوند اور خاندان کے اکثر افرادنے احمدیت کو قبول کر لیا اور اب ان کے سب پوتے اور پوتیاں اور بچگان احمدی مسلمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نسلوں کو ہمیشہ جماعت احمدیہ مسلمہ سے منسلک رکھے اور مرحومہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 30؍ جنوری 2015ء شہ سرخیاں

    اگر خدا تعالیٰ پر ایمان ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی اس بات پر بھی ایمان لازمی ہے کہ اس کے تمام احکام ہماری استعدادوں کے مطابق ہیں اور ہمیں ان پر اپنی تمام تر استعدادوں کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

    ہر ایک کے عمل اور سمجھ کی جو استعداد کی حد ہے وہی اس کی نیکی کا معیار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ طاقت سے بڑھ کر کسی کو تکلیف میں نہیں ڈالتا۔

    ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو نماز بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ادا نہیں کرتے جو فرض ہے۔

    جس طرح دنیا کے کاموں کے لئے کوشش ہوتی ہے اس سے بڑھ کر دین کے کام کے لئے کوشش ہونی چاہئے اور استعدادوں کو بڑھانے کی بھی کوشش ہونی چاہئے۔

    ہمارے مربّیان و مبلغین اور صاحبِ علم لوگ کہ اللہ تعالیٰ نے جو اُن کی استعدادوں کو بڑھایا ہوا ہے تو وہ ان کا صحیح استعمال بھی کریں اور اپنی استعدادوں سے کمزوروں کی استعدادوں کو علمی لحاظ سے بڑھانے کی کوشش کریں۔ مربّیان اور مبلغین اور دوسرے واقفین زندگی جن کو دین کا علم ہے خاص طور پر اس بات کی طرف توجّہ کریں کہ لوگوں کی استعدادوں کو سہارے دے کر اوپر لائیں۔ کم از کم درجے سے اوپر کے درجوں کی طرف استعدادوں کو بڑھانے میں مدد دیں یا جن درجوں پر ہیں ان کے بھی جو مختلف معیار ہیں ان کو بھی بڑھانے کی کوشش کریں۔ یہ بات جہاں ترقی کرنے والے افراد کے ایمان و یقین میں اضافہ کرنے والی ہو گی وہاں جماعتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

    عہدیداروں کا بھی یہ فرض ہے کہ جماعت کی علمی اور دینی ترقی کے معیاروں کو اونچا کرنے کی کوشش کریں۔ ان کی استعدادوں کو بڑھانے کی کوشش کریں تا کہ اپنے اپنے لحاظ سے ہر ایک شخص کی استعدادوں میں اضافہ ہوتا رہے۔

    اگر اس بات کو لے کر عہدیدار بھی اور جو بھی دوسرے ذمہ دار ہیں بیٹھے رہیں کہ ہم نے اپنے درس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس سنا دیا۔ یا لوگ خلیفۂ وقت کا خطبہ سن لیتے ہیں اس لئے بار بار ذاتی طور پر بھی اور مختلف مجالس میں بھی ان باتوں کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، یاددہانی کرانے کی ضرورت نہیں ہے تو وہ غلط ہیں۔ چاہے اس نیّت سے بھی نصیحت سے رُکیں کہ اگر خلیفۂ وقت کی نصیحت کا اثر نہیں ہوا تو ہماری نصیحت کا کیا اثر ہو گا تب بھی غلط ہے۔ یاددہانی بہرحال ضروری ہے۔

    ہم میں سے ہر ایک جہاں خود دین کے کام میں چُست ہو وہاں دوسروں کو بھی چُست کرنے کی کوشش کرے۔

    اگر ہر ایک اس سوچ کے ساتھ کام کرے تو ہم نہ صرف دوسروں کی استعدادیں بڑھانے میں حصہ دار بن رہے ہوں گے بلکہ اپنی استعدادیں بھی اس سوچ کے ساتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ مَیں نے بھی ایک جگہ کھڑے نہیں رہنا، ترقی کرنی ہے اور دوسروں کو خیر مہیا کر کے پھر وہ اللہ تعالیٰ کے کئی گنا فضلوں کے بھی مستحق بن رہے ہوں گے اور یہ سوچ جماعت کی عمومی ترقی میں بھی ایک تغیّر پیدا کرنے والی بن جائے گی۔

    محترمہ جنان العنانی صاحبہ آف شام حال ترکی اور مکرمہ حبیبہ صاحبہ آف میکسیکو کی وفات۔ مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 30؍جنوری 2015ء بمطابق30صلح 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور