قومی نقائص اور کمزوریوں کو دور کرنے کی ضرورت

خطبہ جمعہ 13؍ فروری 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ قومی نقائص اور کمزوریوں کے بارے میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا تھا جس میں ان کمزوریوں کی وجوہات اور جماعت کو ان سے بچنے کی طرف توجہ دلائی تھی۔ اس مضمون کی آج بھی ضرورت ہے اس لئے میں نے اس سے استفادہ کرتے ہوئے آج اس مضمون کو لیا ہے۔

نقائص اور کمزوریاں ہمیشہ دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک فردی کمزوریاں اور نقائص اور ایک قومی کمزوریاں اور نقائص۔ اسی طرح خوبیاں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک فردی خوبیاں اور دوسرے قومی خوبیاں۔ فردی نقائص وہ ہیں جو افراد میں تو ہوتے ہیں لیکن مِن حیث القوم، قوم میں نہیں ہوتے۔ اسی طرح خوبیاں ہیں۔ بعض خوبیاں افراد میں تو ہوتی ہیں لیکن مِن حیث القوم، قوم میں نہیں ہوتیں۔ افراد اپنے علم اور اپنی کوشش سے بعض خوبیاں اپنے اندر پیدا کر لیتے ہیں۔ اسی طرح نقائص کی وجوہات اور اسباب ہر شخص کے اپنے حالات اور ماحول کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ بدی اور نیکی کے بارے میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ نیکی اور بدی یا نقص اور خوبی اپنے ماحول کے اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کی مثال اسی طرح ہے جیسے کوئی بیج زمین کے بغیر نہیں اُگ سکتا یا آجکل نئے ذریعہ کاشت میں ایک خاص قسم کی مٹّی بنائی جاتی ہے جس میں پانی جذب کرنے اور بیج کو پروان چڑھانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ بڑے بڑے برتنوں میں اس کو رکھا جاتا ہے اور بڑے بڑے ہالوں کے اندر اس کی کاشت ہوتی ہے لیکن بہر حال اس کے بغیر بیج نہیں اُگ سکتا۔ کسی بھی بیج سے صحیح استفادہ کے لئے، اس سے اس کے اگانے کا مقصد حاصل کرنے کے لئے اس کو زمین یا زمین جیسے ماحول کے میسّر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بغیر بیج اگر اُگے گا بھی تو تھوڑے عرصے میں مر جائے گا، ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح بدی یا نیکی جو نقائص یا خوبی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے وہ ماحول کے اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔

پس برائیوں یا نیکیوں کے بڑھنے میں ماحول ایک لازمی جزو ہے۔ ارد گرد کے اثرات جب تک کسی نیکی یا بدی کے لئے خاص زمین تیار نہ کر دیں اس وقت تک وہ بدی یا نیکی نشوونما نہیں پا سکتی۔ لیکن ماحول بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ایک قسم کا ماحول ہر ایک پر ایک جیسا اثر انداز ہو جائے۔ ایک قسم کا ماحول صرف افراد پر اثر ڈالتا ہے اور مِن حیث القوم وہ ہر ایک کو متاثر نہیں کرتا۔ اس کی مثال ایسی زمین کی ہے جس میں خاص فصلیں اُگ سکیں۔ مثلاً حضرت مصلح موعودؓ نے مثال دی ہے کہ زعفران ہے، ہندوستان میں پیدا ہوتا ہے تویہ تمام ہندوستان میں نہیں ہوتا ہے بلکہ خطہ کشمیر میں ہوتا ہے اور وہاں بھی ایک خاص علاقہ ہے جس میں خاص قسم کا زعفران پیدا ہوتا ہے جو اعلیٰ قسم کا ہے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد13 صفحہ74-75)

پاکستانی زمیندار بھی جانتے ہیں بلکہ چاول کا کاروبار کرنے والے بہت سارے لوگ جانتے ہیں کہ خوشبودار باسمتی جیسا کہ کالر کے علاقے میں ہوتا ہے وہاں پاکستان کے اور کسی علاقے میں نہیں ہوتا۔ زراعت کے ماہرین نے بڑی کوشش بھی کی ہے لیکن اس جیسی خوشبو پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ بہرحال خاص حالات خاص بیجوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے قانون قدرت میں مہیا کر دئیے ہیں یا مقرر کر دیئے ہیں اس کے بغیر وہ خاصیت اور وہ صفت پیدا نہیں ہوتی۔ پھر زمین ہے یا دوسرے موسمی اثرات ہیں یہ سارے اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے پر بعض فصلیں ایسی ہیں مثلاً گندم ہے یا خاص قسم کے باغات ہیں وہ ایک ملک میں تمام جگہ ہو جاتے ہیں۔ پیداوار میں کمی و بیشی کا فرق ہو تو ہو لیکن ہو جاتے ہیں۔ پس اسی طرح نیکیاں اور بدیاں بھی بعض اثرات کے تحت قومی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں اور پوری قوم کی ترقی یا زوال کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ افراد کی بدیاں تو افراد کی کوشش سے ٹھیک ہو سکتی ہیں اور اگر کوشش کریں تو نہ صرف بدیاں دُور ہو جائیں گی بلکہ افراد میں اگر وہ کوشش کریں تو فردی خوبیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ لیکن جو قومی اثرات کے تحت بدیاں یا نیکیاں ہوں ان کے لئے کسی ایک فرد کی کوشش کارآمد ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ فرد جزو ہے۔ کُل کا حصّہ ہے اور جو خرابی کُل میں ہو وہ جزو کی اصلاح سے ٹھیک نہیں ہو سکتی بلکہ کُل کی خرابی اگر ہو تو اس سے فرد بھی متاثر ہوتا ہے۔ اگر ایک علاقے میں ماحول ہی خراب ہے تو اس ماحول کی وجہ سے وہاں رہنے والے تمام لوگ متاثر ہوں گے۔ مثلاً اگر کوئی شخص زہر کھا لے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ زہر ہاتھ پاؤں اور دماغ یا دوسرے اعضاء پر اثر نہ کرے۔ یہ تمام جسم پر اثر کرے گا۔ اسی طرح ہمارا کھانا ہے۔ گوشت پھل وغیرہ ہم کھاتے ہیں اور مختلف چیزیں ہم کھاتے ہیں ان سے جسم کا ہر حصہ فائدہ اٹھائے گا کیونکہ یہ تمام اعضاء کُل کے یعنی جسم کے افراد ہیں۔ اس لئے وہ زہر میں بھی حصہ لیتے ہیں اور اچھی خوراک میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ اسی طرح جو نیکی یا بدی قومی طور پر پیدا ہو وہ تمام قوم پر اثر ڈالتی ہے۔ پس جو قومی بدیاں یا نیکیاں ہوں ان کا مقابلہ کوئی خاص حصہ جسم یا فردنہیں کر سکتا یا کسی خاص فرد کی اصلاح سے قومی اصلاح نہیں ہو سکتی، نہ بدیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح نہ ہی نیکیوں کو پھیلایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کُل کا اثر جزو پر ضرور پڑتا ہے۔ بہر حال یہی قاعدہ ہے کہ اگر کل کو فائدہ ہو تو جزو کو بھی فائدہ ہو گا اور اگر کل کو نقصان پہنچے تو جزو کو بھی نقصان پہنچے گا۔

پس افراد کی بدیاں تو ان کی تشخیص کر کے پھر ان کا علاج کر کے دُور کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے اور کسی کو اگر خود احساس ہو جائے تو وہ خود بھی کوشش کر کے اپنی بدیاں دُور کر سکتا ہے لیکن قومی بدیوں کو دور کرنے کے لئے تمام قوم کو غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بحیثیت قوم وہ بدیوں کو دور کرنے کے لئے کھڑی نہ ہو، کوشش نہ کرے یا بحیثیت قوم علاج کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو بحیثیت قوم وہ بدیاں اور نقائص اس قوم میں پیدا ہو جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے جب وہ قوم کو ہلاک کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ پس جہاں یہ ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے نفس کی کمزوریوں کو دیکھے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی کمزوریوں کو دیکھیں اور ان کی نشاندہی کریں اور پھر بحیثیت قوم ان کا علاج اور تدارک کریں اور اس علاج میں ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ بغیر مشترکہ کوشش کے اور مشترکہ طور پر علاج کے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیاوی قانون کو بھی اگر دیکھیں مثلاً قدرتی آفات ہیں، سیلاب ہے تو کوئی زمیندار اپنی زمین کو بند باندھ کر سیلاب سے نہیں بچا سکتا۔ بند باندھنا، اس کی منصوبہ بندی کرنا یہ حکومت کا کام ہے۔ مشترکہ کوشش حکومت کی طرف سے ہوتی ہے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد13 صفحہ75-76)

حکومت نام ہے لوگوں کے جمع ہونے کا اور جہاں حکومتیں ہی نکمی ہوں وہاں پوری قوم کو نقصان ہوتا ہے۔ جیسا کہ پاکستان میں گزشتہ دنوں جب گرمیوں میں سیلاب آیا تو اس میں ہم نے د یکھا اور ہمیشہ دیکھتے ہیں۔ بعض قدرتی آفات سے بچا جا سکتا ہے بیشک قدرتی آفات ایسی ہیں کہ جب آئیں تو ان سے بچنا مشکل ہے لیکن ایسی بھی ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے۔ بعض آفات کے آنے سے پہلے ان سے ہوشیار کرنے کے سامان ہو جاتے ہیں لیکن انسان اپنی لاپرواہی کی وجہ سے توجہ نہیں دیتا اور نقصان اٹھاتا ہے۔ بہر حال اگر قوم کو یا حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ رہے تو نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور یہ عموماً دنیا میں ہم دیکھتے ہیں۔ پس قومی احساس اصلاح کے لئے ضروری ہے۔ اس بارے میں جماعت احمدیہ کے حوالے سے حضرت مصلح موعودنے توجہ دلاتے ہوئے کہ ہمیں ان قومی بدیوں کو کس طرح دیکھنا چاہئے اور ان پر کس طرح غور کرنا چاہئے یہ فرمایا کہ اگر جماعت بعض پہلوؤں سے اس پر غور کرے اور اس کا علاج کرے تو فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس کے مختلف ذرائع ہیں، کیونکہ یہ ذرائع جو ہیں وہ قومی امراض کی تشخیص کر سکتے ہیں اور جب تشخیص ہو جائے تو پھر یہ علاج بھی ہو سکتا ہے۔ پہلا ذریعہ وہ تعلیمات ہیں جو کسی قوم میں جاری ہوں اور جن پر عمل کرنا ہر شخص اپنا فرض سمجھتا ہو۔ اگر وہ بری باتیں ہیں یا اس تعلیم کے بدنتائج ہیں یا اس تعلیم سے بدنتائج نکل سکتے ہوں جیسا کہ بعض مذاہب میں ہیں تو اس کی وجہ سے پھر اس میں برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یا بدعات پیدا ہوتی ہیں اور ان کی وجہ سے پھر برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اگر کسی مذہب میں غلط عقائد اور باتیں ہیں تو اس سے ہر وہ شخص متاثر ہوگا جو بھی اس مذہب کو ماننے والا ہے اور تمدّنی اور معاشرتی زندگی میں بھی اس سے برے نتائج پیدا ہوں گے۔ صرف مذہبی طور پر نہیں بلکہ معاشرتی زندگی میں بھی، تمدّنی زندگی میں بھی برے نتائج پیدا ہوں گے۔ لیکن ہم جو مسلمان ہیں قرآن کریم کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس تعلیم میں کوئی نقص نہیں اور اس کے برے نتائج کبھی نہیں نکل سکتے یا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس سے کوئی بدی پیدا ہو کیونکہ تعلیم بے عیب ہے اس لئے ظاہر ہے برا نتیجہ نکل نہیں سکتا۔ پس مسلمانوں نے یہ سوچ لیا کہ برائی آ ہی نہیں سکتی لیکن کیا سب مسلمان برائیوں سے پاک ہیں؟ جب ہم اپنے ماحول کا جائزہ لیتے ہیں۔ مسلمانوں کی عمومی حالت دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اکثریت تو برائیوں میں مبتلا ہے۔

پس اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ قرآن میں تو کوئی نقص نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ نے خود اس میں یہ اعلان فرما دیا کہ اس میں کوئی نقص نہیں ہے۔ کامل اور مکمل شریعت ہے۔ اگر قرآن کریم کی بیشمار پیشگوئیاں اور باتیں پوری ہوئی ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ پوری ہو رہی ہیں تو اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان بھی یقینا سچا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ہر عیب سے پاک ہے اور کامل اور مکمل تعلیم ہے۔ پس اس بات کو ہم یقینا سچا سمجھتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ پھر کمی کہاں ہے۔ اس کا جواب یہی ہونا چاہئے کہ پھر اس کے سمجھنے میں غلطی ہے۔ اس پر عمل میں غلطی ہے۔ پس اگر قرآن کریم میں کوئی نقص نہیں ہے تو یقینا ہمارے سمجھنے اور عمل کرنے میں غلطی ہے اور یقینا قرآن کریم میں نقص نہیں ہے تو پھر اس کے معنٰی سمجھنے میں غلطی کی وجہ سے قوم متاثر ہوئی ہے۔ یہ غلطیاں قوم کے پہلے علماء کے قرآن کریم کو غلط سمجھنے کی وجہ سے ہو سکتی ہیں اور موجودہ علماء کے غلط سمجھنے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں۔ بہر حال نتیجہ ظاہر ہے جو ہمیں نظر آرہا ہے۔ اب علماء یا مفسرین بیشک اپنے نظریات رکھتے تھے یا رکھتے ہیں اور یہ انفرادی نظریات ہیں لیکن قوم یہ نہیں کہتی کہ علماء کے ذاتی نظریات ہیں قوم ان علماء کی طرف دیکھتی ہے۔ اس لئے ان کے پیچھے چلنے والے غلط نظریات کی وجہ سے یا تفسیروں کے نہ سمجھنے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے باوجود فائدہ اٹھانے والے نہیں بن سکے بلکہ نقصان اٹھا رہے ہیں اور اس وجہ سے قوم میں برائیاں پیدا ہو گئیں۔ بعض غلط نظریات رواج پا گئے جن کا اسلام کی تعلیم سے واسطہ ہی نہیں ہے۔ ماحول کا اثر ہو گیا۔ دوسرے مذاہب کا اثر ہو گیا۔ تمدن کا اثر ہو گیا جس کو غلط رنگ میں مذہب کا حصہ سمجھ لیا گیا۔ تو بہر حال نقائص پیدا ہوئے۔

اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہیں اور ان پرانی روایات یا حکمت سے عاری روایات یا تفاسیر کا ہم پر اثر نہیں ہو سکتا اور نہیں ہونا چاہئے لیکن پھر بھی ہم پورے طور پر محفوظ اس لئے نہیں کہ اپنے نظریات کو رکھنے والے لوگ جماعت میں شامل ہوتے ہیں جو بعض مواقع پر بعض معاملات میں شکوک و شبہات میں پڑ جاتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ اس بات کی اس طرح بھی تشریح کرنے میں کوئی حرج نہیں اور بعض دفعہ بعض نئے آنے والے علماء ہی اپنی سوچ کے مطابق تفسیر کردیتے ہیں گو کہ منع نہیں ہے، ہونی چاہئے لیکن اس کے لئے کچھ اصول ہیں۔ بہرحال اس غلطی کی وجہ سے پھر ایک غلط نظریہ پیدا ہوسکتا ہے، اس لئے اس برائی سے بچنے کے لئے علماء کو بھی خلافت اور جماعتی نظام کے تحت ہی اپنے نظریات کا اظہار کرنا چاہئے۔ بیشک ہم غلط نظریات سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے عمومی طور پر پاک ہیں لیکن اپنے آپ کو غلطیوں سے پاک رکھنے کی ضرورت مستقل طور پر ہے اور اس کا طریقہ یہی ہے کہ ہم غیر احمدیوں کی غلطیوں پر ہمیشہ نظر رکھیں کیونکہ نظر رکھ کر ہی ہم اپنے اندر ان غلطیوں کو داخل ہونے سے روک سکتے ہیں اور قومی نقائص سے بچ سکتے ہیں۔ پھر اس چیز پر بھی ہمیں غور کرنا چاہئے کہ ہمارے ارد گرد جو دوسرے مذاہب یا کسی بھی طرح کے لوگ بستے ہیں چاہے کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے، کسی مذہب پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے، خدا کو مانتے ہیں یا نہیں مانتے اُن میں کون کون سے قومی نقائص ہیں۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد13 صفحہ76-77)

اس دائرے کو ساتھ کے ملکوں کے قومی نقائص تک بھی وسعت دینی چاہئے بلکہ اب تو دنیا اس قدر قریب ہو گئی ہے کہ تمام دنیا کے رہنے والے ایک دوسرے کی ہمسائیگی کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ یعنی وہ فاصلوں کی دُوری رہی نہیں اور پھر اس کے علاوہ میڈیا نے بھی دُوریاں ختم کر دی ہیں۔ ان کی خوبیاں اور خامیاں سب ہمیں نظر آجاتی ہیں اور ہمسایہ ملکوں کے اثر ایک دوسرے پر پڑتے رہتے ہیں۔ بچے جس ماحول میں رہتے ہیں اس ماحول کے ہمسایوں کا اثر بھی ان بچوں پر ہو رہا ہوتا ہے۔ ماں باپ چاہے بچوں کو سکھاتے رہیں لیکن جہاں بھی کمزوری ہوتی ہے اس سکھانے کے باوجود بھی ماحول کا اثر ہو جاتا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ بچوں نے زیادہ وقت سکول میں اور اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ کھیلنے میں گزارنا ہے یا گھروں میں خود ہی اس زمانے میں ایسے دوست مل جاتے ہیں جو ٹی وی کے ذریعے سے داخل ہو گئے ہیں جو بچوں اور بڑوں سب پر یکساں اثر انداز ہو رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بچے ماں باپ کی بات سننا نہیں چاہتے اور ماں باپ اپنی مصروفیات کی وجہ سے یا اور وجوہات کی وجہ سے خود بھی بچوں سے فاصلے پیدا کرتے چلے جا رہے ہیں اور پھر ایسے بھی ہیں جو گھروں میں ان ذریعوں سے ٹی وی وغیرہ کے ذریعہ سے خود ہی اپنے ماحول کو خراب کر رہے ہیں اور پھر بہرحال نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے اور نکل رہا ہے کہ ماں باپ بچوں پر ظلم کرنے لگ جاتے ہیں اور بچے ماں باپ کی عزت و احترام نہیں کرتے۔ کہہ دیتے ہیں کہ اس ماحول میں ایسے ہی رہنا ہے اگر یہاں آئے ہو تو اس طرح گزارا کرنا پڑے گا۔ اور یہ پھر فردی برائیاں نہیں رہتیں۔ یہ قومی برائیاں بنتی چلی جا رہی ہیں۔ گھر برباد ہو رہے ہیں۔ ماں باپ بچوں کا روحانی قتل بھی کر رہے ہیں اور جسمانی قتل بھی کر رہے ہیں۔ مغربی معاشرہ تو آزادی کے نام پر ایک تباہی کی طرف جا ہی رہا ہے اور یہ قومی بدی ہے لیکن اس کی لپیٹ میں بعض احمدی بھی آ رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ یہ قومی برائی بنے اور وسیع طور پر پھیل جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد ہم پھر جہالت میں واپس چلے جائیں ہمیں قوم کی حیثیت سے ان باتوں سے بچنے کے لئے کوشش کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔

پس جماعت احمدیہ کے نظام کے تمام حصے اس بات پر غور کرنے کے لئے سر جوڑیں۔ منصوبہ بندی کریں۔ اور اگر کوئی بھی برائی ہے تو اس سے پہلے کہ خدا نہ کرے ہم میں بحیثیت قوم مغربی ملکوں کی بیماریاں داخل ہو جائیں اس کا ابھی سے خاتمہ کرنے کی کوشش کریں۔ ہم نے دنیا کے علاج کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ہم نے یہ وعدہ کیا ہے، یہ اعلان کیا ہے کہ ہم دنیا کا علاج کریں گے۔ اگر علاج کرنے والے ہی مریض بن گئے تو دنیا سے فردی اور قومی برائیاں اور بدیاں کون دور کرے گا؟

پھر اس بات کو بھی سامنے رکھ کر غور کرنا چاہئے کہ کسی قوم میں اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے بعض نیکیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں اور بعض کمزوریاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کی مثال حضرت مصلح موعودنے یہ دی ہے کہ ہماری جماعت اللہ کے فضل سے ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ دُور دُور کے لوگوں کے دلوں کو فتح کر رہا ہے۔ اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی وسعت مل چکی ہے۔ اور ساتھ ہی ہماری جماعت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ کبھی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ غیر احمدی امام نے اُس امام کو نہیں مانا جس کو خدا تعالیٰ نے زمانے کا امام بنا کر بھیجا ہے اور نہ صرف مانا ہی نہیں بلکہ انتہائی غلیظ زبان بھی استعمال کرتے ہیں۔ پس ہم خدا کے مقرر کردہ امام پر بندوں کے مقرر کردہ امام کو ترجیح نہیں دے سکتے۔ اس لئے ہم ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ اب عموماً تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے سینٹر بھی ہیں اور مساجد بھی ہیں جہاں احمدی باجماعت نماز پڑھ سکتے ہیں یا پڑھتے ہیں لیکن ابھی بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں ایک ایک دو دو گھر احمدیوں کے ہیں۔ اس لئے وہ گھروں میں نماز پڑھ لیتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھیں، ہر ایک اپنی اپنی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس طرف میں نے پہلے بھی توجہ دلائی تھی کہ گھروں میں بھی باجماعت نماز ادا کر لیا کریں تو کوئی حرج نہیں۔ یا بعض اس بات پر کہ مصروفیت ہے اپنی نماز علیحدہ پڑھ لیتے ہیں۔ بعض کام کی مصروفیت کی وجہ سے نمازیں جمع کر لیتے ہیں تو یہ ساری وجوہات اس لئے ہیں کہ مسجد جانے کی طرف توجہ نہیں یا بعض علاقوں میں مسجد قریب نہیں اور قریب کی جو غیر احمدیوں کی مسجد ہے اس میں ہمیں جانے کی اجازت نہیں یا بعض اور دوسری وجوہات ہیں۔ اس کی وجہ سے نماز تو بہر حال پڑھ ہی لیتے ہیں لیکن گھر میں پڑھتے ہیں اور نماز باجماعت کی طرف عموماً توجہ نہیں ہے یا یہ بھی ہے کہ نمازیں جمع کرنے کی طرف بلا وجہ زیادہ توجہ ہو گئی ہے۔ باوجود توجہ دلانے کے، بار بار کی تلقین کے باجماعت نماز کے لئے ایک بڑی تعداد کو ذوق و شوق نہیں ہے گویا یہ ایک قومی بیماری بن رہی ہے۔ اس لئے اس کے علاج کی بہت زیادہ شدت سے ضرورت ہے۔ یہ فردی نقص نہیں ہے کہ فلاں شخص مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے نہیں آیا۔ جس طرح عدم توجہی کا اظہار ہو رہا ہے یہ چیز قومی بیماری اور نقص کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ حالات کی وجہ سے سہولت نے نماز باجماعت کی اہمیت کو کم کر دیا ہے۔ بیشک احمدی نمازیں گھروں میں پڑھتے ہیں اور ان میں ایسے بھی ہیں، بہت سے ایسے ہیں جو بڑے گریہ و زاری سے گڑگڑا کر نمازیں پڑھتے ہیں جبکہ دوسرے مسلمانوں کی اکثریت ایسی توجہ سے شایدنماز نہ پڑھتے ہوں لیکن پھر بھی وہ جو نمازیں پڑھنے والے ہیں چاہے ظاہر داری کے لئے سہی مسجد میں جا کر نماز ضرور پڑھتے ہیں۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد13 صفحہ78-79)

اور اب تو پاکستان سے بھی یہی خبریں آتی ہیں کہ غیراحمدیوں میں مسجد جانے کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ جہاں یہ تو نہیں پتا کہ نمازیں توجہ سے پڑھتے ہیں کہ نہیں لیکن جاتے ضرور ہیں اور پھر وہاں جماعت کے خلاف غلط اور بیہودہ باتیں بھی سنتے ہیں۔ ان کی وجہ سے ان میں نفرتیں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ تو برائیاں تو بہر حال ان میں پیدا ہو رہی ہیں لیکن ایک چیز ہے کہ مسجد میں جاتے ہیں۔ ہم نے مسجد میں اگر جانا ہے تو برائیوں کو دور کرنے کے لئے جانا ہے۔ اس لئے ہمارے جانے میں اور ان کے جانے میں بہت فرق ہے۔ لیکن ان کو اس طرف توجہ ہو چکی ہے اور ہماری اس طرف توجہ میں بہت کمی ہے۔

پس ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ مسجدوں کو آباد تو حقیقی مومنوں نے کرنا ہے اور حقیقی مومن وہی ہیں جنہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے، نہ کہ عبادت کے نام پر فتنہ و فساد کرنے والوں نے۔ من حیث القوم مسجد میں جا کر نماز نہ پڑھنے یا نمازیں جمع کرنے کا نقص مزید بڑھنے کا خطرہ اور امکان اس وقت بڑھ جاتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بچوں کے ذہنوں میں اس کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے اور بعض بچے اپنے ماں باپ کی حالت دیکھ کر یہ کہنے بھی لگ گئے ہیں کہ دن میں تین نمازیں ہوتی ہیں۔ جب کہو کہ پانچ ہوتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے ماں باپ کو تین نمازیں ہی پڑھتے دیکھا ہے۔ پس اس بارے میں ہر جگہ غور اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ نہیں تو اگلی نسل میں یہ قومی بدی بن جائے گی۔ اپنے ماحول پر نظر ڈال کر جیسا کہ مَیں نے کہا ہمیں وسیع تر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ آج دنیا کی جو حالت ہے کہ خدا سے اور دین سے دُور ہٹ رہے ہیں اگر ہم نے شدت کے ساتھ کوشش نہ کی تو مختلف قسم کی بدیاں ہمارے اندر داخل ہونا شروع ہو جائیں گی۔ ایک بدی کے بعد پھر دوسری بدی بھی آتی ہے۔ نام کا دین رہ جائے گا۔ روح نہیں رہے گی۔ اگر کسی علاقے میں کوئی وبا پھوٹے، کوئی بیماری کی صورت ہو تو ہم فوراً فکر مند ہو جاتے ہیں اور اس کے حفظ ماتقدّم کے طور پر احتیاطی تدابیر شروع کر دیتے ہیں تو اس معاشرے میں رہتے ہوئے روحانی بیماریوں کے خطرے کو دُور کرنے کے لئے ہمیں کس قدر کوشش کرنی چاہئے۔ بلکہ جیسا کہ مَیں نے کہا اب تو دنیا ایک ہو گئی ہے اور بدیوں اور برائیوں کی متعدی مرض کے دور کرنے کے لئے تو پھر اور بھی زیادہ کوشش کی ضرورت ہے۔ جو حفظ ماتقدّم کرتے ہیں، علاج کراتے ہیں، بچاؤ کے ٹیکے لگواتے ہیں وہ ظاہری بیماریوں سے دوسروں کی نسبت زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔ پس اپنے آپ کو روحانی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے جیسا کہ میں نے کہا ہر سطح پر قومی سوچ کے ساتھ حفظ ما تقدم کی ضرورت ہے۔ ان غلط عقائد اور عملوں کی تبدیلی کی وجہ سے جو علماء نے امّت میں پیدا کر دئیے مسلمانوں کا ایک بہت بڑا حصہ باوجود کامل تعلیم کے گمراہ ہو گیا ہے۔ اب ہمیں اپنی اصلاح کے بعد مستقل طور پر گمراہی سے بچنے کے لئے بہت زیادہ کوشش کی ضرورت ہے۔ چند مثالیں میں نے دی ہیں۔ ہمیں غور کرتے رہنا چاہئے کہ کہاں کہاں دوسرے مسلمانوں میں نقائص پیدا ہوئے اور وہ گمراہ ہوئے اور ہم نے کس طرح ان سے بچنا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر پھر آپ کی تعلیم کو جاننا اور اس پر عمل کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ حالات کے ساتھ اپنے آپ کو اس دھارے میں بہانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ حالات کو اپنی تعلیم کے مطابق ڈھالنا ہمارا کام ہے۔

خلافت کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس زمانے میں ایم ٹی اے اور جماعت کی ویب سائٹ بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں مہیا فرمائی ہیں ان سے منسلک رہنا بھی بہت ضروری ہے بجائے اس کے کہ اُوٹ پٹانگ چیزیں دیکھیں کہ اس ذریعہ سے حقیقی قرآنی تعلیم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم و عرفان کا ہمیں پتا چلتا ہے۔ ان ذریعوں سے یہ حقیقی اسلامی تعلیم ہمیں ملتی ہے۔ پس اس کے ساتھ ہمیں جڑے رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہئے کہ مسلمانوں کو قرآن کریم جیسی کتاب ملی جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے لیکن پھر بھی ان میں ایسی غلطیاں پیدا ہو گئیں جن کی وجہ سے ان میں مخصوص امراض کا پیدا ہو جانا لازمی تھا۔ چنانچہ جو سب سے بڑی بات ان میں قومی بدی پیدا کرنے کا باعث بنی وہ مسلمانوں کا یہ یقین تھا کہ قرآن کریم نہایت مکمل کتاب ہے اور اس میں تمام باتوں کا ذکر موجود ہے اور اوّل سے آخر تک انسانوں کی ہدایت کا موجب ہے۔ پس ان باتوں سے بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ قرآن کریم کی خوبی کو عیب بتایا جا رہا ہے۔ کیونکہ اس کے باوجود مسلمانوں میں غلط اثر قائم ہوا۔ مگر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ دراصل یہ ہے تو خوبی مگر اس کو غلط طور پر سمجھنے کی وجہ سے مسلمانوں میں بہت بڑا عیب پیدا ہو گیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم مکمل کتاب ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ قیامت تک کے لئے ہدایات نامہ ہے جس میں تمام اعلیٰ تعلیمیں جمع کر دی گئی ہیں مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ جو انسانی دماغ کا خالق ہے وہ یہ بھی جانتا تھا کہ دماغ کی یہ خاصیت ہے کہ اگر اسے سوچنے کی عادت نہ ڈالی جائے تو یہ مردہ ہو جاتا ہے اور اس میں ترقی کرنے والی کیفیت باقی نہیں رہتی۔ اس لئے گو قرآن کو اس نے کامل بنایا مگر ہر حکم جو اس نے دیا اس کا ایک حصہ انسان کے دماغ کے لئے چھوڑ دیا۔ کچھ اصول بنائے جو واضح اور ظاہری ہیں اور کچھ ایسی باتیں ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے تا کہ انسان خود تلاش کرے تا کہ انسان کا دماغ ناکارہ نہ ہو جائے۔ اس لئے قرآن کریم ایسے الفاظ اور عبارت میں نازل کیا گیا ہے کہ ان پر غور کر کے معارف پر اطلاع ہوتی ہے، اس کی گہرائی کا پتا چلتا ہے ورنہ اگر سب کو یکساں فائدہ پہنچانا مدّنظر ہوتا تو قرآن کریم میں یہ مضمون ایسا کھلا کھلا ہوتا کہ ہر شخص خواہ غور کرتا یا نہ کرتا ان مضامین سے آگاہ ہو جاتا۔ اس سے الٰہی منشاء یہی ہے کہ انسانی دماغ معطّل اور بیکار نہ ہو اور اس کے نہ سوچنے کی وجہ سے نشوونما رُک نہ جائے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد13 صفحہ80)

لیکن یہ بھی واضح ہو کہ اس کے کچھ اصول و ضوابط ہیں جیسا کہ پہلے بھی مَیں نے کہا ہے اور اس زمانے میں ان کی رہنمائی کے لئے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بہت سے اصول بتا دئیے ہیں، خود واضح تفسیر کر کے بتا دی ہے جن کو ہمیں سامنے رکھنا چاہئے اور اس کے مطابق قرآن کریم میں سے نئے نئے نکات تلاش کرنے چاہئیں۔ دوسرے مسلمانوں کی طرح اگر صرف پرانی تفسیروں سے ہم چمٹے رہیں تو وہ معارف اور راستے بھی نہیں کھلیں گے جن کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رہنمائی فرمائی ہے۔ آجکل تو غیر احمدیوں میں بھی جو مفسّر بنتے ہیں، بڑے ڈاکٹر ہیں، علماء ہیں وہ بھی جماعتی لٹریچر اور تفسیریں پڑھ کر اپنے درس دیتے ہیں بلکہ بعض ایسے بھی علماء ہیں جو تفسیر کبیر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ بہرحال قرآن کریم ایک کامل اور مکمل کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں اس میں سب کچھ ہے۔ لیکن اس کو پڑھ کر غور کرنے والے اور اس کی تعلیم کے مطابق عمل کرنے والے کو ہی ہدایت نصیب ہوتی ہے۔ صرف ایک بات کو لے کر کہہ دینا کہ ہدایت مل گئی یہ کافی نہیں ہے بلکہ ہر بات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس سے قومی اور فردی برائیوں اور خوبیوں کا پتا چلتا ہے۔ اس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے آخرین کی تعلیم کے لئے اور ان کی سوچوں کو وسیع کرنے اور روشنی دکھانے اور قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے اپنا ایک فرستادہ بھیجنے کا بھی اعلان فرمایا۔ لیکن جو غور کرنے والے نہیں، علماء کہلا کر بھی جاہل ہیں اور خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے انکاری ہیں۔ وہ اس وجہ سے قرآن کریم کے علوم کی وسعت سے محروم ہیں اور جہالت میں ڈوب کر اسلام کی غلط تشریح کر کے اسلام کی خوبیاں دکھانے کی بجائے اسے بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پس ان مسلمانوں کے یہ عمل ہمیں مزید اس طرف غور کرنے والے اور متوجہ کرنے والے ہونے چاہئیں کہ ہم صرف ظاہر پر ہی اکتفا نہ کریں بلکہ اسلام کی تعلیم کی روح کو سمجھتے ہوئے ہر برائی کو قومی برائی بننے سے پہلے دور کرنے والے ہوں اور ہر نیکی کو قومی نیکی بنا کر پوری جماعت میں اس کو رائج اور لاگو کرنے والے ہوں۔ ہمیشہ ایسا ماحول میسر رکھنے والے ہوں اور اس کو آگے اپنی نسلوں میں منتقل کرنے والے ہوں جس سے بدیاں نہ پھیلیں بلکہ خوبیاں اور نیکیاں پیدا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

آج نماز کے بعد میں دو حاضر جنازے پڑھاؤں گا اور دو جنازہ غائب ہوں گے۔

حاضر جنازوں میں سے مکرمہ رضیہ مسرت خان صاحبہ اہلیہ مکرم عبداللطیف خان صاحب (ہونسلو) کا جنازہ ہے۔ لطیف خان صاحب سیکرٹری رشتہ ناطہ ہیں۔ 11؍فروری 2015ء کو اُناسی سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ آپ حضرت محمد ظہور خان صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہو اور صوبیدار کرم بخش صاحب کی بیٹی تھیں۔ 1962ء میں انگلستان آئیں۔ 1975ء میں دو سال صدر لجنہ ہونسلو اور پھر لمبا عرصہ ہونسلو میں لجنہ کی سیکرٹری ضیافت کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مہمانوں کے علاوہ جماعتی پروگرام کے مواقع پر اپنی ٹیم کے ہمراہ نہایت خوشدلی سے مہمان نوازی کیا کرتی تھیں۔ ہونسلو میں احمدی بچے بچیوں کے علاوہ غیر از جماعت احباب کے بچوں کو بھی قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کی توفیق پائی۔ آپ انتہائی خوش اخلاق، ملنسار، مہمان نواز، نیک، مخلص خاتون تھیں۔ خلافت سے اخلاص و وفا کا تعلق تھا۔ بچوں کی اچھی تربیت کی۔ کسی نہ کسی رنگ میں آپ کے بچے دین کی خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ آپ کے شوہر کے علاوہ دو بیٹیاں اور چار بیٹے آپ کی یادگار ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے ظہیر خان صاحب صدر جماعت ہونسلو ہیں اور نائب افسر جلسہ گاہ کی حیثیت سے بھی کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔

دوسرا جنازہ عزیزم عامر شیراز صاحب ابن مکرم شاہد محمود صاحب (مورڈن ساؤتھ) کا ہے۔ 12؍فروری 2015ء کو بعارضہ کینسر 29سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مستری حسن دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرحوم ان کے پڑدادا اور حکیم جلال الدین صاحب رضی اللہ عنہ ان کے والد کے پڑنانا تھے۔ اپنے حلقے میں خدمت کے علاوہ جلسہ سالانہ پر خدمت خلق کی اور سکیورٹی کی ڈیوٹی بڑے شوق سے دیا کرتے تھے۔ بڑے خوش اخلاق، ملنسار اور مخلص نوجوان تھے۔ پسماندگان میں والدین کے علاوہ اہلیہ اور اڑھائی سالہ بچی یادگار چھوڑی ہیں۔ عزیز مرحوم کو کینسر تھا اور بڑا لمبا عرصہ بڑی تکلیف دِہ بیماری کو انہوں نے بڑے ہنستے ہوئے گزارا ہے۔ میرے پاس بھی انتہائی بیماری کی حالت میں آئے۔ جب بھی آتے تھے تو مسکرا رہے ہوتے تھے۔ بہت پیارے بچے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور پیار کا سلوک فرمائے۔ اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لے۔ ان کی بیوی اور بیٹی کو بھی اپنی حفظ و امان میں رکھے اور صبر عطا فرمائے۔ ان کے والدین کو بھی صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔

جنازہ غائب میں پہلے مکرم الحاج رشید احمد صاحب کا جنازہ ہے جن کی وفات ملواکیؔ امریکہ میں 7؍فروری 2015ء کو ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ ان کی عمر وفات کے وقت 91سال تھی۔ مرحوم امریکہ کے شہر سینٹ لوئس میں 1923ء میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں بیعت کر کے اسلام احمدیت میں داخل ہوئے۔ بیعت کرنے کے دو سال بعد 1949ء میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ربوہ چلے گئے جہاں خود حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا ریلوے سٹیشن جا کر استقبال کیا۔ انہوں نے جامعہ احمدیہ میں پانچ سال تعلیم حاصل کی پھر باقاعدہ مبلغ بنے۔ پاکستان میں قیام کے دوران اردو اور پنجابی زبان پر عبور حاصل کیا۔ امریکہ سے سب سے پہلے جامعہ احمدیہ میں بطور طالبعلم داخل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اسی طرح ربوہ میں پانچ سال قیام کے دوران آپ کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خاص رفاقت بھی نصیب ہوئی۔ حضور رضی اللہ عنہ نے آپ کا رشتہ مبلغ احمدیت حاجی ابراہیم خلیل صاحب کی صاحبزادی مکرمہ سارہ قدسیہ صاحبہ سے کروا دیا جن کے بطن سے آپ کے ہاں تین بچے ہوئے۔ ایک بیٹے کی وفات ہو چکی ہے۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی آپ کی اس پہلی شادی سے حیات ہیں۔ امریکہ میں رہتے ہیں۔ 1955ء میں جامعہ احمدیہ سے فارغ ہونے کے بعد آپ کو امریکہ میں بطور مبلغ بھجوایا گیا۔ حضرت مصلح موعودنے آپ کی ربوہ سے روانگی کے وقت اپنے دست مبارک سے آپ کو ایک نصیحت فرمائی اور ایک پگڑی کا کُلاہ جس میں حضرت مسیح موعودؑ کے کپڑے کا ایک ٹکڑا سلا ہوا تھا آپ کو بطور تحفہ عطا فرمایا جو ابھی تک آپ کے پاس موجود تھا۔ اب آپ کے بچوں کے پاس ہے۔ جماعت احمدیہ امریکہ کے سب سے پہلے مقامی امریکن مشنری تھے۔ آپ نے امریکہ میں شکاگو، سینٹ لوئس اور دوسرے شہروں میں بطور مشنری کے علاوہ امیر جماعت امریکہ کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔ اس کے علاوہ آپ ایک لمبا عرصہ صدر ملواکی جماعت اور مختلف مرکزی عُہدوں پر خدمت کی توفیق پاتے رہے۔ دوسری شادی آپ کی سینٹ لوئس کے سابق صدر جماعت مکرم خالد عثمان صاحب کی بیٹی عزیزہ احمد سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ آپ کو تبلیغ کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ آپ کے دور صدارت میں جماعت ملواکی کی امریکن احمدیوں پر مشتمل ایک بڑی جماعت کی بنیاد پڑی جو امریکہ کی دوسری جماعتوں کے مقابل پر اکثریت میں ہے۔ 1998ء میں انہیں حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ ملواکی میں جماعت کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں میں بھی مقبول تھے۔ 20 سال سے ٹی وی کے ایک پروگرام، اسلام لائیو، پر باقاعدہ آ رہے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک جماعت کے ہفتہ وار تبلیغی سٹال پر باقاعدگی سے جانا اختیار کئے رکھا۔ وفات سے قبل جب تک ہوش میں تھے آپ نرسوں کو بھی تبلیغ احمدیت کرتے رہے۔ 1985-86ء میں انہوں نے شہر کی مشہور یونیورسٹی ’’یونیورسٹی آف وسکانسن (University of Wisconsin) میں عام مسلمانوں کے لئے ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا۔ موصوف نے یونیورسٹی آف وسکانسن کے نوجوانوں کے ساتھ بھی رابطہ رکھا ہوا تھا۔ باقاعدگی سے کیمپس میں تقاریر کیا کرتے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں طلباء کو اسلام کی پُرامن تعلیم سے آگاہ کیا۔ مرحوم باقاعدگی سے متعدد لوکل اور سٹیٹ لیڈرز کے ساتھ بھی رابطہ رکھتے تھے۔ اتوار کے روز عام لوگوں کے لئے میٹنگ رکھتے جن میں احمدی احباب کے علاوہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے دوسرے احباب بھی آتے اور ان کی باتوں سے مستفیض ہوتے۔ دوستوں کے اظہار پر اور مرکز کی اجازت سے آپ نے اپنی یادداشتوں کو جن میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رفاقت خاص میں پاکستان کے مختلف مقامات کے سفروں پر جانے اور سوال و جواب کی مجالس میں بیٹھنے اور باقاعدہ طور پر نوٹ بک میں نوٹس کو درج کرنا شامل تھا اس کو کتابی صورت میں طبع کروانا تھا۔ اس غرض کے لئے کئی سالوں کی محنت کے بعد یہ کتاب تیار ہوئی اور اب مرکز کی منظوری سے شائع ہونے والی ہے۔

مربی سلسلہ ملک فاران ربّانی لکھتے ہیں کہ نو ماہ قبل بطور مبلغ یہاں میری آپ سے پہلی ملاقات ہوئی۔ میری عمر کم ہونے کے باوجود آپ نہایت محبت سے ملے۔ پھر جب میں نے آپ سے جماعت ملواکی میں بعض پروگراموں کے متعلق مشورہ کرنا چاہا تو اردو میں مجھے مخاطب ہو کر کہا ’’مولانا صاحب! آپ خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں آپ جو کہیں گے ہم نے صرف اطاعت کرنی ہے‘‘ اور بڑا اطاعت کا جذبہ ان میں تھا۔ شمشاد صاحب بھی لکھتے ہیں کہ امریکہ آیا تو ہمیشہ میں نے انہیں حضرت مصلح موعود کی باتیں سناتے ہوئے پایا۔ اپنی زندگی کو بھی انہوں نے حضرت مصلح موعود کے ارشادات کے مطابق ڈھالا ہوا تھا۔ گزشتہ جلسہ سالانہ پر ان کی تقریر بھی حضرت مصلح موعود کی یادوں کے بارے میں تھی اور یہ کہ آئندہ اور موجودہ نسلوں کو ان یادوں کے ذریعہ کیا پیغام دیں گے۔ اسلام احمدیت اور خلافت کے دفاع میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آپ ہمیشہ احمدیت کی تبلیغ، دفاع اور خلافت کے لئے ایک ننگی تلوار تھے۔ آپ ہمیشہ احمدیت کی تبلیغ میں سرگرم رہتے تھے۔ بڑھاپے کی عمر میں بھی جبکہ جسم ناتواں اور نحیف تھا آپ اکیلے ہی تبلیغ کیا کرتے تھے اور مسٹر تبلیغ کے نام سے مشہور تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں کافی لوگ ان کے جنازے میں شامل ہوئے۔

اور یہ جنازہ غائب حسن عبداللہ صاحب آف ڈیٹرائٹ کا ہے۔ یہ بھی امریکن ہیں۔ 30؍جنوری 2015ء کو ان کی وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ 26؍ستمبر 1929ء کو ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائش کا نام ولیم ہنری تھا۔ 1970ء کی دہائی میں ایک احمدی برادرم مکرم وہاب صاحب جو کہ ان کے کلاس فیلو تھے ان کے ذریعے انہوں نے اسلام احمدیت قبول کرنے کی سعادت پائی۔ قبول اسلام کے بعد ان کا نام حسن عبداللہ رکھا گیا۔ مرحوم بہت خوبیوں کے مالک ایک فدائی احمدی تھے۔ قرآن کریم سے بہت محبت تھی۔ روزانہ تلاوت کرنا ان کا معمول تھا۔ بتایا کرتے تھے کہ وہ سورۃ کہف کی پہلی اور آخری دس آیات مستقل تلاوت کیا کرتے ہیں۔ نماز جمعہ باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔ سب سے پہلے مسجد آ کر اپنی خوبصورت آواز میں اذان دیتے۔ نماز جمعہ کے لئے بہت پہلے آ کر نوافل اور تلاوت قرآن کریم کرتے۔ بہت صاف ستھرا لباس زیب تن کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ بیمار ہو گئے تو گھر جانے کی بجائے ہسپتال سے ہی سیدھے جمعہ کے لئے یہ مسجد میں آ گئے۔ ڈیٹرائٹ میں مسجد کو آگ لگ گئی تھی اور دوبارہ تعمیر کی گئی تو اس دوران انہوں نے نہایت اخلاص سے افراد جماعت کے لئے اپنا گھر پیش کئے رکھا تا کہ وہ نماز جمعہ ان کے گھر میں ادا کرتے رہیں۔ سلسلہ کی کتب و رسائل بہت شوق سے پڑھتے۔ آپ ان خاص لوگوں میں سے تھے جن کی روحوں میں سچائی کے لئے ایک تڑپ تھی اور اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو قبول کرنے کی توفیق پائی اور آخری لمحے تک اپنے عہد بیعت کو نبھایا۔ ان کی اہلیہ وفات پا چکی ہیں۔ بچے تو ان کے احمدی نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب مرحومین سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 13؍ فروری 2015ء شہ سرخیاں

    نقائص اور کمزوریاں ہمیشہ دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک فردی کمزوریاں اور نقائص اور ایک قومی کمزوریاں اور نقائص۔ اسی طرح خوبیاں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک فردی خوبیاں اور دوسرے قومی خوبیاں۔

    افراد کی بدیاں تو ان کی تشخیص کر کے پھر ان کا علاج کر کے دُور کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے اور کسی کو اگر خود احساس ہو جائے تو وہ خود بھی کوشش کر کے اپنی بدیاں دُور کر سکتا ہے لیکن قومی بدیوں کو دور کرنے کے لئے تمام قوم کو غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بحیثیت قوم وہ بدیوں کو دور کرنے کے لئے کھڑی نہ ہو، کوشش نہ کرے یا بحیثیت قوم علاج کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو بحیثیت قوم وہ بدیاں اور نقائص اس قوم میں پیدا ہو جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے جب وہ قوم کو ہلاک کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ جہاں یہ ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے نفس کی کمزوریوں کو دیکھے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی کمزوریوں کو دیکھیں اور ان کی نشاندہی کریں اور پھر بحیثیت قوم ان کا علاج اور تدارک کریں اور اس علاج میں ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ بغیر مشترکہ کوشش کے اور مشترکہ طور پر علاج کے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔

    مغربی معاشرہ تو آزادی کے نام پر ایک تباہی کی طرف جا ہی رہا ہے اور یہ قومی بدی ہے لیکن اس کی لپیٹ میں بعض احمدی بھی آ رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ یہ قومی برائی بنے اور وسیع طور پر پھیل جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کے بعد ہم پھر جہالت میں واپس چلے جائیں ہمیں قوم کی حیثیت سے ان باتوں سے بچنے کے لئے کوشش کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔ پس جماعت احمدیہ کے نظام کے تمام حصے اس بات پر غور کرنے کے لئے سر جوڑیں۔ منصوبہ بندی کریں۔ اس کا ابھی سے خاتمہ کرنے کی کوشش کریں۔ باوجود توجہ دلانے کے، بار بار کی تلقین کے باجماعت نماز کے لئے ایک بڑی تعداد کو ذوق و شوق نہیں ہے گویا یہ ایک قومی بیماری بن رہی ہے۔ اس لئے اس کے علاج کی بہت زیادہ شدت سے ضرورت ہے۔ یہ فردی نقص نہیں ہے کہ فلاں شخص مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے نہیں آیا۔ جس طرح عدم توجہی کا اظہار ہو رہا ہے یہ چیز قومی بیماری اور نقص کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ پس ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ مسجدوں کو آباد تو حقیقی مومنوں نے کرنا ہے اور حقیقی مومن وہی ہیں جنہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے۔

    ہمیں اپنی اصلاح کے بعد مستقل طور پر گمراہی سے بچنے کے لئے بہت زیادہ کوشش کی ضرورت ہے۔ ہمیں غور کرتے رہنا چاہئے کہ کہاں کہاں دوسرے مسلمانوں میں نقائص پیدا ہوئے اور وہ گمراہ ہوئے اور ہم نے کس طرح ان سے بچنا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر پھر آپ کی تعلیم کو جاننا اور اس پر عمل کرنا بھی بہت ضروری ہے۔

    خلافت کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس زمانے میں ایم ٹی اے اور جماعت کی ویب سائٹ بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں مہیا فرمائی ہیں ان سے منسلک رہنا بھی بہت ضروری ہے۔

    مکرمہ رضیہ مسرت خان صاحبہ اہلیہ مکرم عبداللطیف خان صاحب (ہونسلو) اور عزیزم عامر شیراز صاحب ابن مکرم شاہد محمود صاحب(مورڈن ساؤتھ) کی نماز جنازہ حاضر۔ مکرم الحاج رشید احمد صاحب(ملواکی۔ امریکہ) اور مکرم حسن عبداللہ صاحب (ڈیٹرائٹ۔ امریکہ) کی نماز جنازہ غائب۔ اور مرحومین کا ذکر خیر۔

    فرمودہ مورخہ 13؍فروری 2015ء بمطابق13تبلیغ 1394 ہجری شمسی، بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور