قادیان کی ترقی سے متعلق حضرت مصلح موعودؓ کی بیان فرمودہ روایات

خطبہ جمعہ 8؍ مئی 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

گزشتہ جمعہ کو میں نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے واقعات میں قادیان کے ابتدائی واقعات کا ذکر کیا تھا۔ کس طرح اس وقت قادیان کے ارد گرد علاقے کی حالت تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ سیر کے وقت بھی ایک آدھ آدمی ساتھ ہوتا تھا اور راستہ بھی جھاڑیوں کے پیچ میں سے گزرتا ہوا چھوٹا سا راستہ تھا اور اب قادیان کس طرح ترقی کر رہا ہے اور یہ ترقی عام آبادیوں کی ترقی کی طرح نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتا دیا تھا کہ یہ ترقی ہو گی۔ بڑی شاہراہوں اور سڑکوں کے قریب جو آبادیاں ہوتی ہیں وہ تو ترقی کرتی ہیں لیکن قادیان تو ایک کونے میں تھا، سڑک بھی نہیں تھی پھر بھی ترقی کی خبر اللہ تعالیٰ نے دی اور پھر ترقی ہوئی اور آجکل کے قادیان کو دیکھنے کے لئے دور دور سے لوگ آتے ہیں بلکہ قادیان کا وہ حصہ جو جماعت کے زیر تصرف ہے اس میں تو اب عمارتوں کی وسعت اور خوبصورتی کی وجہ سے سرکاری اداروں کی طرف سے بھی بعض فنکشن پر انہیں استعمال کرنے کے لئے درخواست کی جاتی ہے۔

بہر حال اس ترقی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودنے ترقی کے اس نشان کی بعض جگہ اور تفصیل بیان کی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’دیکھو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات میں کتنا عظیم الشان نشان دکھایا ہے۔ گو تم نے اس زمانے کو نہیں پایا مگر ہم نے اسے پایا اور دیکھا ہے۔ پس اس قدر قریب زمانے کے نشانات کو اپنے خیال کی آنکھوں سے دیکھنا تمہارے لئے کوئی زیادہ مشکل نہیں۔ اَور نشانات جانے دو۔ مسجد مبارک کو ہی دیکھو۔ مسجد مبارک میں ایک ستون مغرب سے مشرق کی طرف کھڑا ہے اس کے شمال میں جو حصہ مسجد کا ہے یہ اس زمانے کی مسجد تھی اور اس میں نماز کے وقت کبھی ایک اور کبھی دو سطریں ہوتی تھیں۔ (یعنی صفیں ہوتی تھیں۔ ) اس ٹکڑے میں تین دیواریں ہوتی تھیں۔ ایک تو دو کھڑکیوں والی جگہ اور اس حصے میں امام کھڑا ہوا کرتا تھا۔ پھر جہاں (آپ اس وقت بیان کر رہے تھے۔ وہاں پرانا حصہ بھی محفوظ ہے) اب ستون ہے وہاں ایک اور دیوار تھی اور ایک دروازہ تھا۔ اس حصے میں صرف دو قطاریں نماز کی کھڑی ہو سکتی تھیں اور فی قطار (یعنی فی صف) غالباً پانچ سات آدمی کھڑے ہو سکتے تھے۔ اس حصے میں کبھی ایک قطار نمازیوں کی ہوتی اور کبھی دو ہوتی تھیں۔ (آپ فرماتے ہیں کہ) مجھے یاد ہے جب اس حصہ مسجد سے نمازی بڑھے اور آخری یعنی تیسرے حصے میں نمازی کھڑے ہوئے تو ہماری حیرت کی کوئی حدنہ رہی۔ گویا جب پندرہواں یا سولہواں نمازی آیا تو ہم حیران ہو کر کہنے لگے کہ اب تو بہت لوگ نماز میں آتے ہیں۔ (آپ فرماتے ہیں کہ) تم نے غالباً غور کر کے وہ جگہ نہیں دیکھی ہو گی (بلکہ اب، آجکل بھی قادیان کے رہنے والوں نے غور نہیں کیا ہو گا) مگر وہ ابھی تک موجود ہے۔ جاؤ اور دیکھو۔‘‘ (وہاں کے رہنے والے بھی اس بات پر غور کریں اور جو جلسہ پر جاتے ہیں یا ویسے سال کے دوران جاتے ہیں۔ اب تو جاتے رہتے ہیں، وہ بھی وہاں جا کر کھڑے ہوں اور تصور میں وہ پرانا زمانہ لے کر آئیں تو ایمان میں یقینا تازگی پیدا ہوتی ہے۔)

حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں ’’صحابہ کا طریق تھا کہ وہ پرانی باتوں کو کبھی کبھی عملی رنگ میں قائم کر کے بھی دیکھا کرتے تھے اس لئے تم بھی جا کر دیکھو۔ اس حصے کو الگ کر دو جہاں امام کھڑا ہوتا تھا اور پھر وہاں فرضی دیواریں قائم کرو اور پھر جو باقی جگہ بچے اس میں جو سطریں ہوں گی ان کا تصور کرو اور اس میں تیسری سطر قائم ہونے پر ہمیں جو حیرت ہوئی کہ کتنی بڑی کامیابی ہے اس کا قیاس کرو اور پھر سوچو کہ خدا تعالیٰ کے فضل جب نازل ہوں تو کیا سے کیا کر دیتے ہیں۔‘‘

پھر اس تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے جو اپنوں میں بھی ہوئی۔ یعنی کہ جو عزیز رشتے دار تھے ان میں بھی پھر بعد میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔ پہلے مخالف تھے اور پھر وہ جماعت میں بھی شامل ہوئے۔ آپ فرماتے ہیں۔ ’’مجھے یاد ہے کہ ہمارا ایک کچا کوٹھا ہوتا تھا اور بچپن میں کبھی کبھی کھیلنے کے لئے بھی ہم اس پر چڑھ جایا کرتے تھے۔ اس پر چڑھنے کے لئے جن سیڑھیوں پر ہمیں چڑھنا پڑتا تھا وہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کے پاس سے چڑھتی تھیں۔ اس وقت ہماری تائی صاحبہ جو بعد میں آ کر احمدی بھی ہو گئیں مجھے دیکھ کر کہا کرتی تھیں کہ ’’جیو جیا کاں اوہو جئی کوکو‘‘۔ میں بوجہ اس کے کہ میری والدہ ہندوستانی ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ بچپن میں زیادہ علم نہیں ہوتا اس پنجابی فقرے کے معنی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ میں نے اپنی والدہ صاحبہ سے اس کے متعلق پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ جیسا کوّا ہوتا ہے ویسے ہی اس کے بچے ہوتے ہیں۔ کوّے سے مراد(نعوذ باللہ) تمہارے ابّا ہیں اور کوکو سے مراد تم ہو۔ (آپ فرماتے ہیں کہ دیکھو) مگر پھر مَیں نے وہ زمانہ بھی دیکھا کہ وہی تائی صاحبہ (جو یہ سب کچھ کہا کرتی تھیں ) اگر کبھی مَیں ان کے ہاں جاتا تو بہت عزت سے پیش آتیں۔ میرے لئے گدا بچھاتیں اور احترام سے بٹھاتیں اور ادب سے متوجہ ہوتیں اور اگر میں کہتا کہ آپ کمزور ہیں، ضعیف ہیں، ہلیں نہیں یا کوئی تکلیف نہ کریں تو وہ کہتیں کہ آپ میرے پِیر ہیں۔ گویا وہ زمانہ بھی دیکھا جب میں ’کوکو‘ تھا اور وہ بھی جب میں پِیر بنا۔ اور ان ساری چیزوں کو دیکھ کر تم سمجھ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ جب دنیا کو بدلنا چاہتا ہے تو کس طرح بدل دیتا ہے۔ پس ان انسانوں کو دیکھو اور ان سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے اندر وہ تبدیلی پیدا کرو کہ جو تمہیں خدا تعالیٰ کا محبوب بنا دے اور تم حزب اللہ میں داخل ہو جاؤ۔‘‘ (ماخوذ از الفضل13 اپریل1938ء صفحہ9 جلد26 نمبر85)

پس جیسا کہ میں نے کہا یہ واقعات جو ایمان میں تازگی اور ترقی پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے قریب کرنے والے ہونے چاہئیں۔ یہ ہمیں بتانے والے ہونے چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہیں ہم نے بھی ان سے حصہ لینا ہے۔ اور قادیان کے رہنے والے احمدیوں کو بھی خاص طور پر اس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔

ہم میں سے بہت سے اس بات کو جانتے ہیں اور اس بات کا ذکر بھی ہوتا رہتا ہے۔ گزشتہ کچھ خطبوں میں مَیں نے واقعات بھی بیان کئے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ قادیان ترقی کرے گا۔ اور اس کا پھیلاؤ دریائے بیاس تک ہو جائے گا۔ یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ایک رؤیا کی بنیاد پر کی تھی۔ اب مسجد مبارک کی حالت کا اور نمازیوں کی تعداد کا یہ نقشہ جو حضرت مصلح موعودنے کھینچا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسجد ایک عام کمرے کے سائز سے زیادہ کی نہیں ہو گی اور پھر جماعت کی تعداد کا بڑھنا مسجدوں میں وسعت پیدا ہونا اور یہی نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قادیان کی ترقی اور پھیلاؤ کے بارے میں پیشگوئی کرنا آپ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔ گو ابھی قادیان کا پھیلاؤ اس حد تک نہیں ہوا لیکن جب ہم بہت سے نشانوں کو پورا ہوتے دیکھتے ہیں تو یقینا ایک وقت آئے گا جب یہ نشان بھی پورا ہوتا ہؤا دنیا دیکھے گی۔ اور جیسا کہ میں نے بتایا آج کا قادیان اس زمانے کے قادیان سے بہت زیادہ وسعت اختیار کر چکا ہے۔ بہر حال حضرت مصلح موعودنے اس پیشگوئی کو کہ قادیان کی آبادی بڑھتے بڑھتے بیاس تک پہنچ جائے گی، اس کو مختلف زاویوں سے بیان فرماتے ہوئے جماعت کے افراد کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور یہ ذمہ داری صرف قادیان کے رہنے والوں کی ہی نہیں بلکہ ہر فردِ جماعت کو اس کو سامنے رکھنا چاہئے۔ ایک تو آپ نے اس حوالے سے ہمیں نمازوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ یہ عجیب بات لگتی ہے کہ آبادی کے بڑھنے کا نمازوں سے کیا تعلق ہے۔ لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باتوں میں یہی خوبصورتی ہے کہ ایک بات کے مختلف پہلو بیان فرما کر اس کی اہمیت کو مزید اُجاگر فرما دیتے ہیں۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے جو میں نے بیاس تک پہنچنے کا کہا آپ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ قادیان کی آبادی بیاس تک پھیل گئی ہے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’میں اس رؤیا سے یہ سمجھتا ہوں کہ قادیان کی آبادی دس بارہ لاکھ ضرور ہو گی‘‘۔ (اور اس وقت آبادی کے بڑھنے کے یہی اندازے لگائے جاتے تھے۔ ہو سکتا ہے اس سے بھی بڑھ جائے۔ ) ’’اور اگر دس بارہ لاکھ کی آبادی ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ چار لاکھ لوگ جمعہ پڑھنے کے لئے آیا کریں گے‘‘۔ (پس آپ فرماتے ہیں کہ) ’’میرے نزدیک یہ مسجد (یعنی مسجد اقصیٰ) بہت بڑھے گی بلکہ ہمیں اس قدر بڑھانی پڑے گی کہ چار لاکھ نمازی اس میں آ سکیں‘‘۔ (اب ایک مسجد میں چار لاکھ نمازی آنا تو بہت مشکل ہے۔ مسجد اقصیٰ کی توسیع بھی ہو گئی، اگر اور بھی زیادہ توسیع کی جائے اور ارد گرد کے مکانوں کو بھی گرایا جائے تب بھی اتنی تعداد تو وہاں نماز نہیں پڑھ سکتی۔ جتنی حد تک توسیع ہو سکتی تھی وہ کی گئی۔ دارالمسیح کا جو علاقہ تھا یا جو گھر تھے ان کو محفوظ رکھنا بھی اس لئے ضروری تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کی بعض تاریخی عمارتیں ہیں۔ اس لئے یہ بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ تمام گھر گرا دئیے جائیں۔ اور سب اگر مسجد میں شامل کر بھی لئے جائیں تو جیسا کہ میں نے کہا پھر بھی تین چار لاکھ نمازی نماز نہیں پڑھ سکتے۔ ہاں یہ عین ممکن ہے کہ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ایک وقت ایسا آئے کہ قادیان میں ایک وسیع مسجد بنائی جائے جس میں تین چار لاکھ نمازی نماز پڑھ سکیں۔ بہرحال اُس وقت آپ کے سامنے یہ مسجد اقصیٰ ہی تھی اس کے مطابق بیان فرمایا۔ پھر آپ اسی مسجد اقصیٰ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہمیں اس قدر بڑھانی پڑے گی کہ چار لاکھ نمازی اس میں آ سکیں۔ ) اس غرض کے لئے اسے چاروں طرف بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس وقت بھی جس جگہ کھڑے ہو کر(آپ فرما رہے ہیں ) مَیں خطبہ پڑھ رہا ہوں یہ اس حصے سے باہر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں تھا۔ وہ مسجد اس موجودہ مسجد کا غالباً دسواں حصہ ہو گی۔ تو دیکھو اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا فضل ہے کہ لوگوں کی مسجدیں خالی پڑی رہتی ہیں اور ہم اپنی مساجد کو بڑھاتے ہیں تو وہ اور تنگ ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ لوگوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جگہ نہیں ملتی۔

پھر آپ نے اپنا وہ واقعہ سنایا۔ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ ایک دفعہ ایک فعل مجھ سے ایسا ہوا جس سے میں سخت ڈرا اور اس میں میری ہی غلطی تھی۔ (آپ فرماتے ہیں ) مَیں فوری طور پر پکڑا بھی گیا۔ لیکن(اس پر یہ بھی فرمایا کہ) میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جلد ہی میری بریّت ہو گئی (اور وہ واقعہ ہے جب آپ جمعہ کے لئے تشریف لے جا رہے تھے۔ کہتے ہیں ) میری عمر پندرہ سولہ سال تھی۔ جب گھر سے نکلا تو ایک شخص مسجد سے واپس آ رہا تھا تو اس نے کہا کہ مسجد میں تو نماز پڑھنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس لئے اس کی یہ بات سنی اور میں بھی واپس آ گیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے ظہر کی نماز پڑھ لی۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری شامت کہ مجھے تحقیق کر لینی چاہئے تھی کہ مسجد بھری ہوئی ہے بھی یا نہیں۔ یا وہاں بیٹھنے یا کھڑے ہونے کی جگہ ہے بھی یا نہیں۔ تو بہرحال آپ فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ میں چھوٹی عمر سے ہی نمازوں کا پابند ہوں اور میں نے آج تک ایک نماز بھی کبھی ضائع نہیں کی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجھ سے کبھی یہ دریافت نہیں فرماتے تھے کہ تم نے نماز پڑھی ہے یا نہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ جب میں گیارھویں سال میں تھا تو ایک دن میں نے ضحی یا اشراق کی نماز کے وقت وضو کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوٹ پہنا اور خدا تعالیٰ کے حضور میں خوب رویا اور میں نے عہد کیا کہ میں آئندہ نماز کبھی نہیں چھوڑوں گا اور خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس عہد اور اقرار کے بعد میں نے کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑی لیکن پھر بھی چونکہ میں بچہ تھا اور بچپن میں کھیل کود کی وجہ سے بعض دفعہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں سستی ہو جاتی ہے۔ اس لئے ایک دفعہ کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس میری شکایت کی کہ آپ اسے سمجھائیں۔ یہ نماز باجماعت پوری پابندی سے ادا کیا کرے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میر محمد اسحق صاحب مجھ سے دو سال چھوٹے ہیں اور بچپن میں چونکہ ہم اکٹھے کھیلا کرتے تھے اور ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب کی طبیعت بہت تیز تھی۔ اس لئے وہ میر محمد اسحق صاحب کو ناراض ہؤا کرتے تھے اور سختی سے ان کو نماز پڑھنے کے لئے کہا کرتے تھے اور اس بات کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی علم تھا۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس کسی نے میرے متعلق یہ شکایت کی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک تو میر صاحب کی نماز پڑھتا ہے۔ (یعنی حضرت میر اسحق صاحب کے بارے میں فرمایا کہ وہ تو اپنے ابا کی نماز پڑھتا ہے) اب میں نہیں چاہتا کہ دوسرا میری نماز پڑھے۔ میں یہی چاہتا ہوں کہ وہ خدا کی نماز پڑھے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے کبھی نماز کے متعلق نہیں کہا۔ میں خود ہی تمام نمازیں پڑھ لیا کرتا تھا۔

اس سے بچے یہ مطلب بھی نہ لیں کہ ماں باپ ہمیں نماز کے لئے نہ کہیں یا ماں باپ یہ سمجھ لیں کہ بچوں کو نماز کی طرف توجہ دلانا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ حضرت مصلح موعود کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت کچھ حسن ظن تھا۔ نیز حضرت مسیح موعود کو یہ بھی پتا تھا کہ یہی مصلح موعود کا مصداق ہونے والا ہے۔ اس لئے یہ بھی یقین تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ہی نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود ہی اس کی اصلاح بھی فرماتا رہے گا۔ پھر حضرت مصلح موعود کا اپنا یہ فعل کہ گیارہ سال کی عمر میں نماز کے لئے بڑی رقّت سے دعا کرنا اس بات کا گواہ ہے کہ آپ کو نمازوں کی طرف توجہ تھی۔ بہر حال اس کے بعد آپ فرماتے ہیں کہ ’’لیکن اس دن شاید میری غفلت کو اللہ تعالیٰ دُور کرنا چاہتا تھا کہ جو تھوڑی بہت سستی ہے بھی، بعض دفعہ نماز باجماعت رہ جاتی ہے اس کو دور کرنا چاہتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے دیکھ کر کہا (جب میں واپس آ گیا اور جمعہ نہیں پڑھا) کہ محمود ادھر آؤ۔ میں گیا تو آپ نے فرمایا تم جمعہ پڑھنے نہیں گئے۔ میں نے کہا کہ میں گیا تو تھا لیکن معلوم ہؤا کہ مسجد بھری ہوئی ہے وہاں نماز پڑھنے کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ میں نے کہنے کو تو یہ کہہ دیا۔ آپ فرماتے ہیں دل میں سخت ڈرا کہ دوسرے کی بات پر اعتبار کیوں کیا۔ معلوم نہیں اس نے جھوٹ کہا تھا یا سچ کہا تھا۔ اگر سچ بولا تب تو خیر لیکن اگر اس نے جھوٹ بولا ہے تو چونکہ اسی کی بات مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے بیان کر دی ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھ سے ناراض ہوں گے کہ تم نے جھوٹ کیوں بولاہے۔ بہر حال کہتے ہیں میں اپنے دل میں سخت خائف ہوا کہ آج نامعلوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا فرماتے ہیں۔ اتنے میں نماز پڑھ کر مولوی عبدالکریم صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عیادت کے لئے آئے۔ آپ کو اُس وقت گردہ کی درد تھی۔ اس لئے جمعہ پر نہیں گئے تھے۔ تو میں قریب ہی اِدھر اُدھر منڈلا رہا تھا کہ دیکھوں آج کیا بنتا ہے۔ ان کے آتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے سوال کیا کہ آج جمعہ میں لوگ زیادہ آئے تھے اور مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے گنجائش نہیں رہی تھی۔ آپ کہتے ہیں کہ میرا تو یہ بات سنتے ہی دل بیٹھنے لگا کہ خبر نہیں کہ اس شخص نے مجھ سے سچ کہا تھا یا جھوٹ کہا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے میری عزت رکھ لی۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم میں خدا تعالیٰ کے احسانات پر شکر کرنے کا مادہ بہت تھا۔ انہوں نے یہ سنا تو کہا کہ حضور اللہ کا بڑا احسان تھا مسجد خوب لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس میں بیٹھنے کے لئے ذرا بھی گنجائش نہیں تھی۔ تب میں نے سمجھا کہ اس احمدی نے جو کچھ کہا سچ کہا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ہماری ترقی کا یہی ذریعہ رکھا ہے کہ ہماری مسجدیں بڑھتی جائیں اور لوگوں سے ہر وقت آباد رہیں۔ جب تک تم مسجدوں کو آباد رکھو گے اس وقت تک تم بھی آباد رہو گے اور جب تم مسجدوں کو چھوڑ دو گے اس وقت خدا تعالیٰ تمہیں بھی چھوڑ دے گا۔‘‘ (ماخوذ از الفضل 14 مارچ 1944ء صفحہ10 جلد33 نمبر61)

پس قادیان کی وسعت، جماعت احمدیہ کی ترقی اور وسعت صرف رقبہ کے لحاظ سے اور تعداد کے لحاظ سے ہی نہیں ہے بلکہ اس وسعت کا اظہار ہمارے گھروں کی آبادی کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کے گھر کی آبادی پر بھی ہے۔ پس ہر احمدی چاہے وہ قادیان کا رہنے والا ہے جس نے قادیان کی ترقی دیکھنی ہے یا ربوہ کا رہنے والا ہے جس نے ربوہ کی ترقی دیکھنی ہے یا کسی بھی ملک کا رہنے والا ہے جس نے جماعت کی ترقی کا حصہ بننا ہے اور جماعت کی ترقی دیکھنی ہے تو اپنی آبادیوں کے ساتھ مسجدوں کو آباد رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ یہ ترقیاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہیں اور خدا تعالیٰ کا فضل اس کے گھر کی آبادی کا حق ادا کرنے سے بڑھتا ہے۔

پس آج ہم جب مسجدوں کی تعمیر کی باتیں کرتے ہیں تو ہر جگہ مسجد کے چھوٹے ہونے کی بھی ہمیں کوشش کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خالص تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کبھی ہمیں نہ چھوڑے اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہر پیشگوئی کو خود بھی بڑی شان سے پورا ہوتا ہؤا دیکھیں۔ پھر حضرت مصلح موعودنے اس پیشگوئی کے حوالے سے جب یہ پیشگوئی کی گئی قادیان کی حالت کا مزیدنقشہ کھینچا کہ قادیان کے حالات کیا تھے۔ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں اس پیشگوئی کا ذکر کرتا ہوں جو قادیان کی ترقی کے متعلق ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ یہ ہے کہ حضرت اقدس کو بتایا گیا کہ قادیان کا گاؤں ترقی کرتے کرتے ایک بہت بڑا شہر ہو جائے گا جیسا کہ بمبئی اور کلکتہ کا شہر ہے۔ گویا نو دس لاکھ کی آبادی تک پہنچ جائے گا (جیسا کہ میں نے کہا یہ اس وقت کے اندازے کے مطابق آپ نے بات کی) اور اس کی آبادی شمالاً اور شرقاً پھیلتے ہوئے بیاس تک پہنچ جائے گی جو قادیان سے نو میل کے فاصلے پر بہنے والے ایک دریا کا نام ہے۔ یہ پیشگوئی جب شائع ہوئی اس وقت قادیان کی حالت یہ تھی کہ اس کی آبادی دو ہزار کے قریب تھی۔ سوائے چند ایک پختہ مکانات کے باقی سب مکانات کچے تھے۔ مکانوں کا کرایہ اتنا گرا ہوا تھا کہ چار پانچ آنے ماہوار پر مکان کرائے پر مل جاتا تھا۔ مکانوں کی زمین اس قدر ارزاں تھی کہ دس بارہ روپیہ کو قابل سکونت مکان بنانے کے لئے زمین مل جایا کرتی تھی۔ بازار کا یہ حال تھا کہ دو تین روپے کا آٹا ایک وقت میں نہیں مل سکتا تھا کیونکہ لوگ زمیندار طبقے کے تھے اور خود ہی بجائے اس کے کہ آٹا رکھیں، گندم رکھا کرتے تھے اور دانے پِیس کر روٹی پکاتے تھے۔ چکّیاں تھیں۔ تعلیم کے لئے ایک مدرسہ سرکاری تھا جو پرائمری تک تھا۔ اس کا مدرّس کچھ الاؤنس لے کر ڈاکخانے کا کام بھی کر دیا کرتا تھا۔ ڈاک ہفتے میں ایک دفعہ آتی تھی۔ تمام عمارتیں فصیل قصبہ کے اندر تھیں اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے ظاہری کوئی سامان نہ تھے کیونکہ قادیان ریل سے گیارہ میل کے فاصلے پر تھا۔ (یعنی ریلوے لائن گیارہ میل پر تھی) اور اس کی سڑک بالکل کچی ہے۔ اور جن ملکوں میں ریل ہو ان میں اس کے کناروں پر جو شہر واقعہ ہوں انہی کی آبادی بڑھتی ہے (یا سڑکیں ہوں یا ریل ہو۔ ) کوئی کارخانہ قادیان میں نہ تھا کہ اس کی وجہ سے مزدوروں کی آبادی کے ساتھ شہر کی ترقی ہو جائے۔ کوئی سرکاری محکمہ قادیان میں نہ تھا کہ اس کی وجہ سے قادیان کی ترقی ہو۔ نہ ضلع کا مقام تھا، نہ تحصیل کا حتّی کہ پولیس کی چوکی بھی نہ تھی۔ قادیان میں کوئی منڈی بھی نہ تھی جس کی وجہ سے یہاں کی آبادی ترقی کرتی۔ جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مرید بھی چند سو سے زیادہ نہ تھے کہ ان کو حکماً لا کر یہاں بسا دیا جاتا تو شہر بڑھ جاتا‘‘۔ (ماخوذ از دعوت الامیر، انوار العلوم جلد7 صفحہ560-561)

اب اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ایک عقلمند شخص جو اس پیشگوئی پر غور کرے اور آج کے قادیان کو بھی دیکھے جو ابھی گو بیاس تک تو نہیں پھیلا لیکن اللہ کے فضل سے ترقی کر رہا ہے تو پھر بھی آج کے قادیان کو دیکھ کر ہی اس بات کو نشان قرار دے گا بشرطیکہ عقل بھی اور انصاف کی نظر بھی ہو۔ پس جیسا کہ میں نے کہا ایک احمدی کے لئے تو یہ باتیں یقینا ایمان کا باعث بنتی ہیں لیکن غیروں کی بھی اس طرف توجہ پیدا کرتی ہیں اور کئی ریسرچ کرنے والے یہاں سے جاتے ہیں۔ اسلام کے مضمون پہ ایک بڑے ماہر سمجھے جاتے ہیں، پروفیسر ہیں وہ احمدیت پر بھی ریسرچ کرنے کے لئے اور دیکھنے کے لئے کہ احمدیت جو حقیقی اسلام پیش کرتی ہے وہ کیا ہے، یہاں سے قادیان گئے اور اس کے بعد انہوں نے اپنے تأثرات لکھے اور وہ تأثرات ایسے ہیں کہ آدمی حیران ہوتا ہے کس طرح غیر بھی بعض باریکیوں میں جا کر نکات نکالتے ہیں۔ بہر حال ان کا جو مضمون ہے وہ شائع ہو جائے گا۔

پھر ایک موقع پر حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ’’یہ نظارہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان کی ترقی کے متعلق دیکھا اس کے متعلق یہ ضروری نہیں کہ قادیان کی ترقی کا سارا نظارہ آپ کو دکھا دیا گیا ہو۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ اس سے کم قادیان کی ترقی نہ ہو۔ اگر زیادہ ہو جائے تو وہ اس پیشگوئی میں کوئی حارج نہیں ہو گی بلکہ اس کی شان اور عظمت کو بڑھانے والی ہو گی۔ پس یہ خواب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا اس کے یہ معنی نہیں کہ اس سے آگے قادیان نہیں بڑھے گا۔ ممکن ہے کہ کسی وقت قادیان اتنا ترقی کر جائے کہ دریائے بیاس قادیان کے اندر بہنے والا ایک نالہ بن جائے اور قادیان کی آبادی دریائے بیاس سے آگے ہوشیار پور کے ضلع کی طرف نکل جائے۔‘‘ (خطبات محمود جلد28 صفحہ35۔ الفضل 11 فروری 1947ء صفحہ 2)

قادیان میں اب جہاں جماعتی عمارات میں اضافہ ہو رہا ہے، دفاتر کے علاوہ کارکنان کے رہائشی کوارٹرز اور فلیٹس بھی بن رہے ہیں۔ دوسری عمارتیں بن رہی ہیں۔ وہاں قادیان کے اپنے رہائشیوں کو بھی اللہ تعالیٰ ان کے حالات بہتر کر کے توفیق دے رہا ہے کہ وہ اپنے بڑے اور وسیع گھر بنائیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے صاحب حیثیت احمدی بھی اپنی عمارتیں اور گھر بنا رہے ہیں۔ پھر دنیا میں بسنے والے احمدیوں کی بھی اس طرف توجہ ہے۔ لیکن بنیادی چیز وہی ہے جسے ہر احمدی کو سامنے رکھنا چاہئے کہ سب ترقیوں کا راز یا ترقی کا حصہ بننے کا راز خدا تعالیٰ کے گھروں کو آباد کرنے اور اس سے تعلق جوڑنے سے ہے۔ جہاں کسی نے خدا تعالیٰ کو چھوڑا وہاں خدا تعالیٰ بھی چھوڑ دیتا ہے۔ اور یہ اب صرف قادیان کی ترقی سے وابستہ نہیں بلکہ جماعت کی مجموعی ترقی بھی اس سے وابستہ ہے کہ اپنی مسجدوں کو چھوٹا کرتے چلے جائیں اور خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت کی امید رکھیں۔ ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ صرف قادیان کی ترقی ہی نہیں بلکہ جماعت کی ہر طرح کی ترقی کا خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ جب ایک نشان ہم پورا ہوتا دیکھتے ہیں تو دوسرے نشان کے پورے ہونے کے بارے میں بھی یقین بڑھتا ہے۔ بعض دفعہ بعض حالات میں بعض لوگوں کے دل میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ خود ہی بعض اندازے لگا کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ یہ کام فلاں پیشگوئی کے مطابق اب ہو جائے گا۔ بعض تنگ حالات اور مشکلات کو دیکھ کر پریشان بھی ہوتے ہیں۔ پاکستان میں تو پریشانی ہے آج ہی پاکستان سے خبر آئی کہ پنجاب حکومت نے اپنے خیال میں فرقہ واریت کے خاتمہ کے نام پر مختلف طبقۂ فکر کی اور مختلف گروپوں کی، گروہوں کی بعض کتب بَین (Ban) کی ہیں جس میں بعض جماعتی کتب بھی ہیں جن کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ الفضل ہے، روحانی خزائن ہے، حکومت نے ان پر اَن پڑھ مولویوں کے کہنے پر بَین لگا دیا ہے۔ مولوی جو کہتے ہیں وہ حکومت مان لیتی ہے۔ کبھی پڑھ کر یہ غور نہیں کریں گے کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں اسلام کی حقیقی تعلیم کا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے اور ہمیشہ اسلام کا دفاع کیا ہے اور مولویوں کو، مسلمانوں کو اور دوسرے مذاہب کو صحیح راستہ دیکھنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ بہر حال جیسے بھی حالات ہوں ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے اور نہ اس کی ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ ’’اِنِّيْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتیْکَ بَغْتَۃً‘‘ کہ خدا تعالیٰ کی مدد اچانک آئے گی۔ حضرت مصلح موعود اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ تم آج قیاس نہیں کر سکتے کہ وہ مدد کب آئے گی۔ تم کل قیاس نہیں کر سکتے کہ وہ مدد کب آئے گی۔ تم تہجد کے لئے اٹھو گے تو تم خیال کر رہے ہو گے کہ ابھی منزل باقی ہے پتا نہیں کتنی دور اَور جانا ہے۔ صبح کی نماز پڑھ رہے ہو گے تو مصائب پر مصائب نظر آ رہے ہوں گے مگر جونہی سورج نظر آیا خدا تعالیٰ کی نصرت تمہارے پاس پہنچ جائے گی اور تمہارے دشمن کے لئے ہر طرف مصائب ہی مصائب ہوں گے۔ (ماخوذ از الفضل30 جنوری 1949 صفحہ6 جلد3 نمبر23)

پس اپنے ایمان کو مضبوط رکھیں۔ خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑے رکھیں اور اپنے ایمانوں کی مضبوطی کے لئے دعا بھی کرتے رہیں۔ سورج طلوع ہو گا اور ضرور ہو گا انشاء اللہ تعالیٰ اور خدا تعالیٰ کی مدد آئے گی اور ضرور آئے گی۔

اب بعض متفرق حوالے بھی پیش کرتا ہوں۔ وقف نَو کی کلاس میں ایک بچی نے سوال کیا کہ قبر پر پھولوں کی چادر چڑھانے یا پھول رکھنے میں کیا حرج ہے؟ یہ جائز ہے کہ نہیں؟ بہرحال اس کو میں نے جواب دے دیا تھا کہ یہ فضولیات ہیں، بدعات ہیں۔ ان سے بچنا چاہئے اور ان کا فائدہ بھی کوئی نہیں۔ لوگ قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر بھی بعض دفعہ ایسی حرکات کرتے تھے۔ پہلے بھی کرتے تھے، بعد میں بھی کرنے لگے۔ اس لئے اب وہاں جنگلہ لگا کر اس علاقے کو بند بھی کر دیا گیا ہے تا کہ یہ بدعات نہ پھیلیں۔ اس پر ایسا ہی واقعہ جب حضرت مصلح موعود کے علم میں آیا تو آپ نے ایک مرتبہ فرمایا۔ کہ ’’مجھے بتایا گیا ہے کہ بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار سے تبرک کے طور پر مٹی لے جاتے ہیں۔ بعض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر پھول چڑھا جاتے ہیں۔ یہ سب لغو باتیں ہیں۔ ان سے فائدہ کچھ نہیں ہوتا اور ایمان ضائع چلا جاتا ہے۔ بھلا قبر پر پھول چڑھانے سے مُردے کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ ان کی روحیں تو اس قبر میں نہیں ہوتیں وہ تو اَور مقام پر ہوتی ہیں۔ ہاں اس میں شبہ نہیں کہ روح کو اس ظاہری قبر کے ساتھ ایک لگاؤ اور تعلق ضرور ہوتا ہے۔ (یہ مسئلہ بھی سمجھنا چاہئے) اور گو مرنے والے کی روحیں کسی بھی جہان میں ہوں اللہ تعالیٰ ان ظاہری قبروں سے بھی ان کی ایک رنگ میں وابستگی پیدا کر دیتا ہے۔ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ ایک بزرگ کی قبر پر دعا کرنے کے لئے تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا جب میں دعا کر رہا تھا تو صاحب قبر اپنی قبر سے نکل کر میرے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ مگر اس سے مراد یہ بھی نہیں کہ ان کی روح اس مٹی سے باہر نکلی بلکہ ظاہری تعلق کی وجہ سے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مٹی کی قبر پر کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ کو اپنی اصلی قبر سے آپ تک آنے کی اجازت دے دی۔ وہی قبر جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ یعنی پھر اسے مار دیا، پھر اسے قبر میں رکھا۔ اس قبر میں مرنے کے بعد انسان کی روح رکھی جاتی ہے‘‘ (مزار حضرت مسیح موعودؑ پر دعا اور اس کی حکمت، انوار العلوم جلد17 صفحہ188-189)

یعنی اس قبر سے اس کا تعلق ہوتا ہے اور اس تعلق کے حوالے سے اس کے لئے دعا ہوتی ہے۔ جو ظاہری قبر ہے اس سے بھی اس روح کا تعلق رہتا ہے اور اس حوالے سے اس کے لئے دعا ہوتی ہے ورنہ پھول وغیرہ چڑھانا کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ ان بزرگ کے لئے بھی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دل میں دعا کا ایک جوش پیدا ہوا ہو گا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ کو اس کی روح کی اصل جگہ سے اس قبر تک بھیجا اور وہ اس قبر کے اوپر آ گیا جس کو آپ نے کشفی حالت میں دیکھا۔ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہاں کے پرانے لوگوں سے اس بزرگ کا حلیہ پوچھا جو روایتاً چلتا آ رہا تھا تو وہ آنکھوں وغیرہ کے نقش اور چہرے کے نقش وغیرہ بالکل وہی تھا جو آپ نے دیکھا تھا۔

بہر حال پھول وغیرہ قبروں کو یا روح کو کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ہاں دعائیں فائدہ دیتی ہیں جو کرنی چاہئیں۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ دفن ہوتے ہیں تو مٹی بن جاتے ہیں۔ یہ قانون قدرت ہے اور جب ایسی حالت ہو تو ظاہری پھولوں کی خوشبوؤں نے کسی کو کیا دینا ہے۔ روحوں کی جزا سزا کے لئے بھی تو روحیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئیں اور ہوتی ہیں اور اس روح کے ثواب کے لئے اب دعا کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ ان سے رحمت کا سلوک کرے۔ کسی قسم کا مشرکانہ فعل قبروں پر جا کر نہیں کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی نہیں کرتے۔ لیکن بعض دفعہ ایسی باتیں آتی ہیں کہ یہاں بھی بعض لوگ پھول وغیرہ چڑھاتے ہیں اور یہ بے مقصد فعل ہیں۔ ہماری قبروں پہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔

ایک اور واقعہ جس کا حضرت مصلح موعودنے ذکر فرمایا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے لکھے جانے اور پڑھے جانے سے متعلق ہے وہ بھی عجیب واقعہ ہے اور اس سے بعض ٹیڑھے لوگوں کی فطرت کا پتا لگتا ہے۔ یہ نہیں کہ بعد میں ٹیڑھے ہوتے ہیں شروع سے ہی ٹیڑھے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے انجام بھی پھر صحیح نہیں رکھتا۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’1897ء میں جب لاہور میں جلسہ اعظم کی بنیاد پڑی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اس میں مضمون لکھنے کے لئے کہا گیا تو خواجہ صاحب ہی یہ پیغام لے کر آئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان دنوں میں اسہال کی تکلیف تھی۔ باوجود اس تکلیف کے آپ نے مضمون لکھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ختم کیا۔ مضمون جب خواجہ صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا تو انہوں نے اس پر بہت کچھ ناامیدی کا اظہار کیا اور خیال ظاہر کیا کہ یہ مضمون قدر کی نگاہوں سے نہ دیکھا جاوے گا اور خوامخواہ ہنسی کا موجب ہو گا۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے بتایا تھا کہ’’مضمون بالا رہا‘‘۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قبل از وقت اس الہام کے متعلق اشتہار لکھ کر لاہور میں شائع کرنا مناسب سمجھا اور اشتہار لکھ کر خواجہ صاحب کو دیا کہ اسے تمام لاہور میں شائع اور چسپاں کیا جائے اور خواجہ صاحب کو بہت کچھ تسلی اور تشفی بھی دلائی۔ مگر خواجہ صاحب چونکہ فیصلہ کر بیٹھے تھے کہ مضمون نعوذ باللہ لغو اور بیہودہ ہے انہوں نے نہ خود اشتہار شائع کیا نہ لوگوں کو شائع کرنے دیا۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم بتا کر جب بعض لوگوں نے خاص زور دیا تو رات کے وقت لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو کر چند اشتہار دیواروں پر اونچے کر کے لگا دئیے تا کہ لوگ ان کو پڑھ نہ سکیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی کہا جا سکے کہ ان کے حکم کی تعمیل کر دی گئی ہے کیونکہ خواجہ صاحب کے خیال میں وہ مضمون جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ’بالا رہا‘ اس قابل نہ تھا کہ اسے ایسے بڑے محققین کی مجلس میں پیش کیا جائے۔ آخر وہ دن آیا جس دن اس مضمون کو سنایا جانا تھا۔ مضمون جب سنایا جانا شروع ہوا تو ابھی چند منٹ نہ گزرے تھے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جس طرح تاریخ میں ذکر آتا ہے لوگ بت بن گئے اور ایسا ہوا گویا ان پر سحر کیا ہوا ہے۔ وقت مقررہ گزر گیا۔ لوگوں کی دلچسپی میں کچھ کمی نہ آئی اور وقت بڑھایا گیا مگر وہ بھی کافی نہ ہوا۔ آخر لوگوں کے اصرار سے جلسے کا ایک دن اور بڑھایا گیا اور اس دن بقیہ لیکچر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ختم کیا گیا۔ مخالف اور موافق سب نے بالاتفاق کہا کہ حضرت مسیح موعود کا لیکچر سب سے بالا رہا اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات پوری ہوئی۔ مگر اس زبردست پیشگوئی کو خواجہ صاحب کی کمزوریٔ ایمان نے پوشیدہ کر دیا۔ اب ہم ان واقعات کو سناتے ہیں مگر کجا ہمارے سنانے کا اثر اور کجا وہ اثر جو اس اشتہار کے قبل از وقت شائع کر دینے سے ہوتا۔ اس صورت میں اس پیشگوئی کو جو اہمیت حاصل ہوتی ہر ایک شخص بخوبی ذہن میں لا سکتا ہے‘‘۔ (آئینہ صداقت، انوار العلوم جلد6 صفحہ181-182)

کہتے ہیں خواجہ صاحب بڑے پڑھے لکھے تھے، وکیل تھے لیکن جب تکبر پیدا ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی بات کے آگے انسان اپنی عقل کو کچھ سمجھنے لگے تو انسان کی عقل پہ ایسا پردہ پڑتا ہے جو انسان کو بالکل بے عقل کر دیتا ہے اور کسی کام کا نہیں رہنے دیتا۔ یہ مضمون تو ایسا ہے کہ آج بھی جب ہم پڑھے لکھے غیروں کو یہ دیتے ہیں تو اس کو پڑھ کے وہ اس کی علمی حیثیت اور اسلام کی تعلیم سے متاثر ہو جاتے ہیں بلکہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں کہ جب ان سے پوچھتا ہوں کس طرح احمدیت قبول کی؟ تو وہ بتاتے ہیں کہ ہم نے اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھ کے احمدیت قبول کی۔ لیکن خواجہ صاحب کے نزدیک یہ استہزاء کا موجب بن سکتا تھا اور پھر ڈھٹائی اتنی کہ ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں ہونے کا دعویٰ لیکن ساتھ ہی آپ کے حکم پر عمل بھی نہیں ہو رہا لیکن بعد میں لوگوں نے جو اس کی تعریف کی تو اللہ تعالیٰ کے فعل نے خود ہی ان کے منہ پر ایک طمانچہ لگا دیا۔

پھر اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ احمدیوں میں کس قسم کی دینی غیرت ہونی چاہئے؟ حضرت مصلح موعودنے ایک واقعہ بیان کیا۔ آپ کو کوئی رپورٹ پہنچی تھی کہ بعض لوگ ایسی جگہ گئے ہیں جہاں جماعت کو، بزرگوں کو غیر علماء گالیاں دے رہے تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اوّل تو یہ سوال کہ جہاں گالیاں دی جاتی ہیں وہاں انسان جائے ہی کیوں۔ جہاں مخالف لوگ تقریریں کرتے ہیں اور بعض احمدی سننے چلے جاتے ہیں۔ ان کا وہاں جانا ہی بتاتا ہے کہ وہ حقیقی غیرت کے مقام پر نہیں ہیں کیونکہ کبھی کسی شخص کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ فلاں مقام پر میرے باپ کو گالیاں دی جا رہی ہیں میں جا کر سن آؤں؟ یاکوئی کسی کو اطلاع دے کہ فلاں جگہ تمہاری ماں کو گالیاں دی جا رہی ہیں اور وہ جھٹ جوتا ہاتھ میں پکڑ کر بھاگ اٹھے کہ سنوں، کیسی چٹخارے دار گالیاں دی جاتی ہیں؟ اگر تمہارے اندر حقیقی غیرت ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا اپنے امام اور دوسرے بزرگوں کے متعلق گالیاں سننے کے لئے جاتے ہی کیوں ہو۔ تمہارا وہاں جانا بتاتا ہے کہ تمہارے اندر غیرت نہیں یا ادنیٰ درجہ کی غیرت ہے۔ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں آریوں نے لاہور میں ایک جلسہ کیا اور آپ سے خواہش کی کہ آپ بھی مضمون لکھیں جو وہاں پڑھا جائے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم ان لوگوں کی عادت کو جانتے ہیں یہ ضرور گالیاں دیں گے۔ اس لئے ہم ان کے کسی جلسہ میں حصہ نہیں لیتے۔ مگر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور لاہور کے بعض دوسرے لوگ جن کی خوشامد وغیرہ کر کے آریوں نے انہیں آمادہ کر لیا ہوا تھا کہنے لگے کہ اب چونکہ ملک میں سیاسی تحریک شروع ہوئی ہے اس لئے آریوں کا رنگ بدل گیا ہے۔ آپ ضرور مضمون لکھیں اس سے اسلام کو بہت فائدہ ہو گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کراہت کے باوجود ان کی بات مان لی اور مضمون رقم فرمایا اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کو پڑھنے کے لئے لاہور بھیجا۔ آپ فرماتے ہیں میں بھی ساتھ گیا اَور بھی بعض دوست گئے۔ وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مضمون پڑھا گیا جس میں سب باتیں محبت اور پیار کی تھیں۔ اس کے بعد ایک آریہ نے مضمون پڑھا جس میں شدید گالیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تھیں اور وہ تمام گندے اعتراضات کئے گئے تھے جو عیسائی اور آریہ کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے آج تک اپنی اس غفلت پر افسوس ہے۔ میرے ساتھ ایک اور صاحب بیٹھے تھے ٹھیک یادنہیں کون تھے۔ جب آریہ لیکچرر نے سخت کلامی شروع کی تو میں اٹھا اور میں نے کہا میں یہ نہیں سن سکتا اور جاتا ہوں۔ مگر اس شخص نے جو میرے پاس بیٹھا تھا کہا کہ حضرت مولوی صاحب اور دیگر علمائے سلسلہ بیٹھے ہیں۔ اگر اٹھنا مناسب ہوتا تو وہ نہ اٹھتے۔ میں نے کہا ان کے دل میں جو ہو گا وہ جانتے ہوں گے مگر میں نہیں بیٹھ سکتا۔ مگر اس نے کہا راستے سب بند ہیں۔ دروازوں میں لوگ کھڑے ہیں۔ آپ درمیان سے اٹھ کر گئے تو شور ہو گا اور فساد پیدا ہوگا۔ چپکے سے بیٹھے رہو۔ میں ان کی باتوں میں آ گیا اور بیٹھا رہا۔ مگر مجھے آج تک افسوس ہے کہ جب ایک نیک تحریک میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی تھی تو مَیں کیوں نہ اٹھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ سنا کہ جلسے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی گئی ہیں تو آپ سخت ناراض ہوئے اور حضرت خلیفہ اول پر بھی بڑے ناراض ہوئے کہ کیوں نہ آپ لوگ پروٹسٹ کرتے ہوئے، احتجاج کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر آ گئے۔ کسی طرح آپ کو یہ گوارا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ تو بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام بار بار ناراضگی کا اظہار فرما رہے تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ مولوی محمد احسن صاحب جلسے میں نہیں گئے تھے مجھے یاد ہے کہ چلتے چلتے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتوں کی تصدیق بھی کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے تھے کہ ذہول ہو گیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’ذہول‘ کا لفظ میں نے ان سے اسی وقت پہلی دفعہ سنا تھا اور وہ یہ بات بار بار اس طرح کہتے کہ جس سے ہنسی آتی۔ (ذہول کا مطلب ہوتا ہے غلطی ہو گئی یا غفلت ہو گئی۔ افسوس کا اظہار بھی کرتے چلے جاتے تھے اور پھر ساتھ کہتے بھی جاتے تھے کہ ذہول ہو گیا۔ ) بہرحال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تھوڑی دیر بعد معاف کر دیا۔ تو آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فیصلہ موجود ہے۔ پس ہمیشہ اس بات کی احتیاط کرنی چاہئے لیکن بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ ان گالیوں کو بعد میں ہم کتاب کی صورت میں شائع کر دیں کیونکہ یہ گالیاں پڑنا بھی سلسلہ کی تائید کا ایک حصہ ہیں۔ یہ ہر ایک کا کام نہیں کہ وہاں جائے اور لوگ جو کرتے ہیں یا جو وہ سنتے ہیں اسے اپنے ریکارڈ میں محفوظ کر لیں لیکن اس وقت اس مجلس میں جانا یا بیٹھنا اس مجلس کے اعزاز کو بڑھانا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ جو مخالفین ہمارے بارے میں لکھتے ہیں ہم یہ لکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو ان باتوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے مگر مجلس میں جا کر بیٹھنے سے نہ آئندہ نسلوں کو کوئی فائدہ ہے اور نہ موجودہ زمانے کے لوگوں کو۔ اور جو ایسی مجلس میں جاتے ہیں وہ غیرت کو پامال کرتے ہیں۔ پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس سے احتیاط کریں، ایسی مجالس میں کوئی نہ جائے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد16 صفحہ298تا300)

پس یہ بات ہمارے بڑوں کو بھی اور نوجوانوں کو بھی آج بھی یاد رکھنی چاہئے اور ایسی مجالس سے قرآنی حکم کے مطابق بھی اٹھ کر آ جانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں صحیح فیصلے کرنے اور صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ضمناً مَیں پچھلے خطبہ کے حوالے سے ایک بات اور بھی کہہ دوں۔ گزشتہ خطبہ میں مَیں نے کھانسی دور ہونے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک واقعہ بیان کیا تھا۔ اس کے بعد ایک صاحب نے لکھا کہ میں نے خطبہ میں یہ پڑھا ہے کہ وہاں کیلے کا ذکر نہیں سیب کا ذکر ہے۔ بہر حال الہام پورا ہونا تھا وہ ہو گیا لیکن یہ دونوں ذکر آتے ہیں اور اس سیب کے ذکر میں بھی آپ نے یہ فرمایا کہ پہلے آپ نے کیلا کھایا۔ کھا رہے تھے کہ میں نے روکا تو رک گئے لیکن تھوڑی دیر کے بعد سیب کھانا شروع کر دیا جو حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب لے کر آئے تھے اور اتنا کھٹا سیب تھا کہ اچھے بھلے انسان کو اس سے کھانسی ہو سکتی ہے۔ لیکن آپ نے مسکرا کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ کھانسی دور ہو گئی۔ اس لئے میں نے باوجودنہ چاہتے ہوئے اس کھٹے سیب کو کھا لیا۔ (ماخوذ از تقدیر الٰہی، انوار العلوم جلد4 صفحہ579)

تو بہر حال اصل چیز یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دعا سے اس کا علاج ہو چکا ہے اب کوئی چیز اثر نہیں کرے گی اور اس نے نہیں کیا۔ یہ میں آپ کو اس لئے بتا رہا ہوں کہ ایک خط تو مجھے آ چکا ہے اور لوگ کہیں اور واقعہ پڑھیں تو مزید بھی شاید آ جائیں۔ یہ واقعہ گزشتہ ہفتے بھی میرے پاس تھا لیکن میں نے پڑھا نہیں تھا۔ تو بہرحال کیلا اور سیب دونوں کا ذکر آتا ہے اور دونوں میں نے بیان کر دئیے۔

اب نماز جمعہ کے بعد ایک نماز جنازہ غائب بھی مَیں پڑھاؤں گا جو ہمارے ایک درویش حاجی منظور احمد صاحب کا ہے۔ ان کی یکم مئی کو 85 سال کی عمر میں قادیان میں وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ چانگریاں ضلع سیالکوٹ میں 1929میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حضرت نظام الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور والدہ بھی آپ کی صحابی تھیں۔ ابتدائی تعلیم کے بعد اپنے بھائیوں کے ساتھ آپ نے فرنیچر بنانے کا کام سیکھا۔ 1947ء میں جب تحریک ہوئی کہ حالات کی سنگینی کی وجہ سے قادیان میں خدّام کو بلایا گیا ہے تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحریک پر آپ حفاظت مرکز کے لئے پچیس میل سے زائد پیدل سفر کر کے گہرے پانیوں میں سے گزر کر رتن باغ لاہور میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے پاس پہنچے۔ وہاں سے بڑے مشکل حالات میں ستمبر یا اکتوبر 1947ء کو قادیان پہنچے۔ ابتدائی درویشان میں شامل ہو کر مخالف حالات میں بڑی بہادری اور جانفشانی سے خدمت کی۔ ابتدائی دنوں میں جبکہ بارشوں کی وجہ سے بعض چھتیں اور دیواریں گر گئیں تو آپ کو کیونکہ یہ ہنر آتا تھا آپ ان کی مرمت کر کے ٹھیک کیا کرتے تھے۔ اس طرح آپ کو بعض اہم خدمات بھی سپرد کی جاتی رہیں۔ جو کام بھی آپ کے سپرد ہؤا آپ نے انتہائی خوش اسلوبی اور محنت کے ساتھ انجام دیا جس میں بہشتی مقبرہ کی دیوار بنانا، لائبریریوں کی کتب کی حفاظت کا سامان کرنا وغیرہ شامل تھا۔ قادیان کے ماحول کو سازگار کرنے میں آپ نے غیر مسلموں سے رابطے کئے اور اپنے حسن سلوک سے ان کو اپنا گرویدہ کر لیا۔ آپ ایک نہایت اچھے کاریگر تھے۔ صدر انجمن احمدیہ کی تعمیرات کے لئے راج مستری کے علاوہ لکڑی کا ہر قسم کا کام کر لیا کرتے تھے۔ ضرورت کے مطابق اپنی ذہنی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے کام کے لئے اچھا ڈھنگ نکال لیتے۔ آپ کو منارۃ المسیح پر ماربل لگانے کی سعادت بھی ملی۔ ماربل کی بڑی بھاری سلیں اوپر چڑھانے کے لئے آپ نے لکڑی کا سٹینڈ اور دیسی قسم کی مشین بنائی کیونکہ اوپر چڑھانے کا اور کوئی طریقہ نہ تھا۔ اس کے ذریعہ پورے منارے پر سلیں لگائیں۔ اوپر کا گنبد بنانا بہت مشکل تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ کام کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائی۔ اسی طرح سرینگر، جمّوں، مسکر اور ساندھن کی مساجد اور دہلی کی مسجد اور مشن ہاؤس میں غیر معمولی تعمیراتی کام بڑی حکمت سے کرنے کی سعادت پائی۔ سالہا سال تک جلسہ سالانہ کے موقع پر پنڈال لگانے کا کام بھی کرتے رہے۔ جماعتی اموال کا بہت درد تھا اور ہمیشہ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے کم خرچ میں تعمیراتی کام کیا کرتے تھے۔ 1992ء میں حج بیت اللہ کی سعادت پائی۔ آخری وقت تک جماعت کے ہر پروگرام میں شامل ہوتے رہے۔ آپ کی شادی بڑی سادگی سے بڑے معجزانہ رنگ میں ہوئی۔ اہلیہ نے بھی بڑی تنگدستی کے حالات میں صبر و شکر سے ان کے ساتھ گزارا کیا اور آپ کا ساتھ دیا۔ آپ کے چھ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ سب شادی شدہ ہیں اور صاحب اولاد ہیں۔ دو بیٹے جواں سالی کی عمر میں وفات پا گئے جن کا صدمہ نہایت صبر سے برداشت کیا۔ آپ کی اہلیہ وفات پا چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نسلوں کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جیسا کہ میں نے کہا نماز کے بعد جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 8؍ مئی 2015ء شہ سرخیاں

    قادیان کی وسعت، جماعت احمدیہ کی ترقی اور وسعت صرف رقبہ کے لحاظ سے اور تعداد کے لحاظ سے ہی نہیں ہے بلکہ اس وسعت کا اظہار ہمارے گھروں کی آبادی کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کے گھر کی آبادی پر بھی ہے۔ پس ہر احمدی چاہے وہ قادیان کا رہنے والا ہے جس نے قادیان کی ترقی دیکھنی ہے یا ربوہ کا رہنے والا ہے جس نے ربوہ کی ترقی دیکھنی ہے یا کسی بھی ملک کا رہنے والا ہے جس نے جماعت کی ترقی کا حصہ بننا ہے اور جماعت کی ترقی دیکھنی ہے تو اپنی آبادیوں کے ساتھ مسجدوں کو آباد رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ یہ ترقیاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہیں اور خدا تعالیٰ کا فضل اس کے گھر کی آبادی کا حق ادا کرنے سے بڑھتا ہے۔

    آج ہم جب مسجدوں کی تعمیر کی باتیں کرتے ہیں تو ہر جگہ مسجد کے چھوٹے ہونے کی بھی ہمیں کوشش کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خالص تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کبھی ہمیں نہ چھوڑے اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہر پیشگوئی کو خود بھی بڑی شان سے پورا ہوتا ہؤا دیکھیں۔ قادیان میں اب جہاں جماعتی عمارات میں اضافہ ہو رہا ہے، دفاتر کے علاوہ کارکنان کے رہائشی کوارٹرز اور فلیٹس بھی بن رہے ہیں۔ دوسری عمارتیں بن رہی ہیں۔ وہاں قادیان کے اپنے رہائشیوں کو بھی اللہ تعالیٰ ان کے حالات بہتر کر کے توفیق دے رہا ہے کہ وہ اپنے بڑے اور وسیع گھر بنائیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے صاحب حیثیت احمدی بھی اپنی عمارتیں اور گھر بنا رہے ہیں۔ پھر دنیا میں بسنے والے احمدیوں کی بھی اس طرف توجہ ہے۔ لیکن بنیادی چیز وہی ہے جسے ہر احمدی کو سامنے رکھنا چاہئے کہ سب ترقیوں کا راز یا ترقی کا حصہ بننے کا راز خدا تعالیٰ کے گھروں کو آباد کرنے اور اس سے تعلق جوڑنے سے ہے۔ جہاں کسی نے خدا تعالیٰ کو چھوڑا وہاں خدا تعالیٰ بھی چھوڑ دیتا ہے۔ اور یہ اب صرف قادیان کی ترقی سے وابستہ نہیں بلکہ جماعت کی مجموعی ترقی بھی اس سے وابستہ ہے کہ اپنی مسجدوں کو چھوٹا کرتے چلے جائیں اور خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت کی امید رکھیں۔ قادیان کی ترقی سے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیان فرمودہ روایات کا ایمان افروز تذکرہ اور احباب کو ضروری نصائح۔

    قبروں پر پھولوں کی چادر چڑھانا یا پھول رکھنا یہ سب لغو باتیں ہیں۔ کسی قسم کا مشرکانہ فعل قبروں پر جا کر نہیں کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی نہیں کرتے۔

    مکرم حاجی منظور احمد صاحب درویش قادیان کی وفات۔ مرحوم کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 08؍مئی 2015ء بمطابق 08ہجرت 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور