امانتوں کی ادائیگی، خیانت سے بچنا، غصّہ کو دبانا اور اعلیٰ اخلاق

خطبہ جمعہ 3؍ جولائی 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں جو احکامات دئیے ہیں ان کو یاد رکھنا، ان کو دہراتے رہنا، انہیں دوسرے جن لوگوں کی یاد دلانے کی ذمہ داری ہے کو بھی یاد دلانا، مومنین کی جماعت کا کام ہے۔ یہ جو میں نے کہا کہ ان احکامات کو دوسروں کو یاد دلانا، یا دلاتے رہنا جن کی یاد دلانے کی ذمہ داری ہے اس میں ہم میں سے وہ سب شامل ہیں جو یا مربّیان ہیں یا عہدیداران۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتی نظام میں ایک مرکزی نظام کے علاوہ ذیلی تنظیموں کا بھی نظام ہے اور پھر جماعتی مرکزی نظام میں بھی اور ذیلی تنظیموں کے نظام میں بھی ملکی سطح سے لے کر مقامی محلے کی سطح تک عہدیدار مقرر ہیں اور ہر عہدیدار سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ خلافت کا دست و بازو بن کر ان فرائض کو ادا کرنے کی کوشش کرے جو وسیع تر پھیلاؤ کے ساتھ خلافت کی ذمہ داری ہے۔ پس اگر اس بات کو تمام مربیان اور عہدیدار سمجھ لیں تو ایک انقلابی تبدیلی جماعت میں پیدا ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو دوسروں کو یاد دلانا یا یہ احساس پیدا ہونا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے طوعی طور پر یا مکمل طورپر وقف زندگی کر کے جو جماعتی خدمت کی توفیق دی ہے تو میں سب سے پہلے اپنے جائزے لوں کہ کس حد تک مَیں خود اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کر کے وہ نمونہ بننے کی کوشش کر رہا ہوں جو ایک خدمت کرنے والے کی ذمہ داری ہے تا کہ میں دوسروں کو ان احکامات کی یاد دلا سکوں۔ اگر میں صرف دوسروں کو یاد دلا رہا ہوں اور میرا اپنا عمل اس کے خلاف ہے یا اس سے دُور ہے تو پھر بڑے خوف کا مقام ہے اور استغفار کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی استغفار کرنا چاہئے لیکن اس حوالے سے بہت زیادہ استغفار کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔

یہاں ہم میں سے ہر ایک پر یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ کسی بھی عہدیدار کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ نصیحت کرنا میرا کام نہیں۔ یہ تو صرف امیر جماعت یا صدر جماعت یا سیکرٹری یا مربی یا ایک دو دوسرے سیکرٹریان کا کام ہے یا اسی طرح صدر انصار اللہ یا ان کے تربیتی شعبہ کا کام ہے یا صدر خدام الاحمدیہ یا ان کے تربیتی شعبہ کا کام ہے یا لجنہ کی صدر اور ان کے تربیتی شعبہ کا کام ہے۔ نہیں، بلکہ ہر سیکرٹری چاہے وہ سیکرٹری ضیافت ہے یا ذیلی تنظیموں میں خدمت خلق یا کھیلوں کا نگران ہے، کوئی بھی ہے اگر وہ کسی بھی صورت میں خدمت انجام دے رہا ہے تو اس کا کام ہے کہ اپنے نمونے قائم کرے۔ اور اگر یہ ہو جائے تو پہلے بھی میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ پچاس فیصد سے زیادہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والی بن سکتی ہے۔ چاہے وہ مسجدوں میں نمازوں کی حاضری ہو یا دوسری قربانیوں اور حقوق العباد کا معاملہ ہو۔ پس ہر سطح پر جماعت کی خدمت کرنے والا پہلے تو اپنے اندر دیکھے کہ ان احکامات کی کس حد تک میں پابندی کر رہا ہوں۔ ان کی جگالی کر کے اپنی حالت بہتر بنائے اور پھر دوسرے کو بتائے۔ اس طرح ہر احمدی کا بھی فرض ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو دیکھے اور دہرائے اور بار بار سامنے لائے۔ اگر ہم اس طرح کرنا شروع کر دیں تو ایک عظیم انقلاب ہے جو ہم لا سکتے ہیں اور نہ صرف اپنی اصلاح کرنے والے ہو سکتے بلکہ دنیا کو حقیقی اخلاق کے معیاروں کا پتا دے سکتے ہیں۔ پس اس طرف ہمیں خاص طور پر توجہ دینی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات تلاش کر کر کے ان پر عمل کرنا چاہئے۔

گزشتہ خطبہ میں مَیں نے بعض باتوں کا ذکر کیا تھا جو ایک مومن کا خاصہ ہونی چاہئیں۔ آج بھی میں بعض باتیں پیش کروں گا۔ رمضان کا مہینہ بندے کی اصلاح کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ مہینہ جہاں ہمیں ہماری عبادتوں کی طرف توجہ دلانے کا مہینہ ہے وہاں ہماری کمزوریوں کی طرف توجہ دلانے اور ان کی اصلاح کا بھی مہینہ ہے۔ پس اس مہینے میں ہمیں اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکموں کی جگالی کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔ اگر ہم بھرپور طور پر اس کے لئے کوشش نہیں کر رہے تو رمضان کی سحریوں اور افطاریوں سے ہی استفادہ کر رہے ہوں گے، کوئی عملی اثر ہم پر نہیں ہو رہا ہو گا جو ہمارے روحانی اور تربیتی معیاروں کو بلند کر رہا ہو۔ اسی طرح ہوں گے جس طرح بعض لوگوں کے بارے میں لطیفے مشہور ہیں کہ روزے رکھنے کا پوچھو تو عذر ہو جاتا ہے۔ نفل اور تراویح کا پوچھو تو عذر پیش کرتے ہیں۔ نمازیں پڑھنے کے بارے میں کہا جائے باجماعت پڑھوتو عذر ہوتا ہے۔ اور جب افطاری کے بارے میں کہو تو پھر کہیں گے ہاں ہاں ضرور ہم نے کرنی ہے۔ ہم بالکل ہی کافر تو نہیں ہو گئے۔ تو ہمیں ایسے مومن نہیں بننا چاہئے۔ پھر یہی لوگ ہیں جو دین کو مذاق بناتے ہیں اور یہ لطیفے سے زیادہ مسلمانوں کی حالت زار کا نقشہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے والوں کے معیار بہت بلند اور بہت اونچے ہونے چاہئیں۔ بغیر کسی جائز عذر کے روزے بھی نہیں چھوٹنے چاہئیں اور اسی طرح رمضان کا جو عبادت کا مقصد ہے وہ بہترین رنگ میں پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اسی طرح رمضان کے ساتھ قرآن کریم کا زیادہ پڑھنا بھی مسنون ہے اور جبرئیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص طور پر رمضان میں قرآن کریم کا دَور کرواتے تھے۔ (صحیح بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہﷺ …حدیث6) پس خاص طور پر قرآن کریم کی تلاوت کی طرف ہمیں ہر ایک کو توجہ دینی چاہئے اور اس میں سے پھر احکامات کی تلاش کر کے ان کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

تراویح کی جو نماز ہوتی ہے، یہ بیشک فرض نہیں ہے۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اس لئے شروع ہوئی تھی کہ جو لوگ تہجدنہیں پڑھ سکتے ان کی نفلی عبادت بھی ہو جائے۔ نفل نماز بھی ادا ہو جائے اور قاری کے ذریعہ سے وہ قرآن کریم بھی سن لیں۔ لیکن جو تہجد پر اٹھ سکتے ہیں ان کو تہجد بھی پڑھنی چاہئے۔ آجکل کیونکہ وقت تھوڑا ہوتا ہے اس لئے چاہے تھوڑی ہی پڑھیں لیکن پڑھنی چاہئے۔ جو بھی روزہ رکھنے کے لئے جاگے گا یا اس وقت جاگتا ہے تو ادھر ادھر کی باتیں کرنے کی بجائے پہلے نفل پڑھنے چاہئیں۔ تراویح روزے کے ساتھ کوئی لازمی شر ط نہیں ہے اور تہجد بھی گو لازمی شرط نہیں ہے لیکن نوافل بہر حال ادا کرنے چاہئیں۔ مومنین کو تہجد پڑھنے کا عام حالات میں بھی حکم ہے یا تلقین کی گئی ہے۔ یہ وضاحت میں نے اس لئے کر دی ہے کہ کسی نے مجھے کہا تھا کہ شاید روزہ رکھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم آٹھ رکعت یا تراویح پڑھے یا تہجد پڑھے۔ تو یہ واضح کر دوں کہ تہجد یا تراویح روزے کے لئے کوئی شرط نہیں ہے۔ ہاں عبادتیں ضروری ہیں۔ نوافل پڑھنے چاہئیں جب وقت ملے۔ اور روزے کے ساتھ جو اصل چیز ہے وہ قرآن کریم پڑھنا ہے جو مسنون ہے۔ پس زیادہ سے زیادہ قرآن کریم پڑھنے کی طرف ہر ایک کی توجہ ہونی چاہئے اور جیسا کہ مَیں نے کہا نمازیں اور عبادت تو ہر مومن کا ویسے بھی ایک فرض ہے۔ ہاں رمضان میں ہمیں ان عبادتوں میں، نمازوں میں مزید خوبصورتی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اسی طرح زیادہ سے زیادہ اپنی زبانوں کو ذکر الٰہی سے بھی تر رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

پس اس ماحول میں جو رمضان کا مہینہ ہے یہ کوشش کرنی چاہئے کہ اگر ہمارے اندر نمازوں اور عبادت میں پہلے کوئی کمزوری تھی تو ہم اسے دور کر کے اس طرف اس نیت سے توجہ کریں کہ اس اہم حکم کو ہم نے باقاعدہ اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ صرف رمضان میں ہی اس حکم کو اپنے اوپر لاگو نہیں کرنا یا رمضان کے لئے ہی خاص مخصوص حکم نہیں ہے بلکہ ایک مومن کو تو ہمیشہ ہی یہی حکم ہے۔ پس اس بات کو ہم میں سے ہر ایک کو سمجھنا چاہئے کہ نماز اور عبادت اللہ تعالیٰ کے بنیادی حکموں میں سے حکم ہے۔ جس طرح آجکل ہم میں سے اکثر کو عبادتوں کی طرف اس لئے توجہ پیدا ہوئی ہے کہ رمضان کا مہینہ برکتوں کا مہینہ ہے اور دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے، اس لئے ہم بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے بنیں اور اس رمضان کے مہینے سے فائدہ اٹھا لیں۔ اس بارے میں ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر ہمارے دل کی گہرائیوں تک ہے۔ وہ ہماری نیّتوں کو جانتا ہے اور ہمارے اعمال کو ہماری نیتوں کے مطابق دیکھتا ہے تو پھر ہمیں اس نیّت سے مسجدوں کی آبادی اور عبادت کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کریں اور اس مہینے کی عبادتوں کو پھر زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کریں۔ اگر تہجد کی عادت پڑ گئی یا دن کے نوافل ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو گئی تو پھر اس عادت کو مستقل اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرۃ: 22) اے لوگو! تم اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور ان کو بھی جو تم سے پہلے تھے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ضمن میں ایک جگہ فرمایا کہ: ’’اے لوگو اس خدا کی پرستش کرو جس نے تم کو پیدا کیا‘‘۔ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22صفحہ 340)

فرمایا کہ: ’’عبادت کے لائق وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ یعنی زندہ رہنے والا وہی ہے اس سے دل لگاؤ۔ پس ایمانداری تو یہی ہے کہ خدا سے خاص تعلق رکھا جائے اور دوسری سب چیزوں کو اس کے مقابلہ میں ہیچ سمجھا جائے۔‘‘ (ملفوظات جلد 10صفحہ 331۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

جہاں تک علمی اور اعتقادی سوچ کا تعلق ہے ہم سب جانتے ہیں کہ خدا ہی ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ خدا ہی ہے جو ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور زندہ خدا ہے۔ دعاؤں کو سنتا ہے اور اس سے دل لگانا چاہئے۔ لیکن اس کے باوجود ہم میں سے اکثر لوگ جو ہیں وہ خدا تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے جو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ تعلق جو دوسرے ہر تعلق کو ہماری نظر میں ہیچ بنا دے۔ رمضان میں ایک ماحول کے زیر اثر اس طرف قدم بڑھنے شروع ہوتے ہیں اور پھر رمضان کے بعد اکثر کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے یہ قدم پھر بالکل رک جاتے ہیں۔ پس اپنے عمل سے ہمیں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز ہیچ ہے اور اس بات کو سمجھنے کے لئے دلوں کا تقویٰ پیدا کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تا کہ تمہارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ پیدا ہو۔ عبادت کا مقصد صرف خدا کو پہچاننا نہیں بلکہ تقویٰ پیدا کر کے اپنی روحانی بلندیوں کو حاصل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کا اِدراک حاصل کرنا ہے۔ اور جب صفات کا اِدراک پیدا ہو تبھی ہر چیز اس کے مقابل پر ہیچ بن سکتی ہے یا ہو سکتی ہے۔ اب مثلاً اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ اپنے ربّ کی عبادت کرو۔ ربّ اللہ تعالیٰ کی وہ صفت ہے جو پرورش کرتی ہے جو پیدا کرتی ہے۔ اور پھر اس کو آہستہ آہستہ بڑھاتی ہے۔ اسے ترقی دیتی ہے۔ پس یہاں جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنے ربّ کی عبادت کرو تو فرمایا کہ تمہاری ہر قسم کی مستقبل کی ترقیات تمہارے ربّ کے ساتھ منسلک ہیں۔ اسی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اور جب تم خاص ہو کر صرف اپنے ربّ کی عبادت کر رہے ہو گے تو جہاں صفت ربوبیت کے عمومی فیض سے دنیاوی اور مادی پرورش ہو رہی ہو گی وہاں تمہاری روحانی صلاحیتوں کی ترقی اور پرورش بھی ہو رہی ہو گی۔ پس اس میں یہ بھی ہمیں نصیحت ہے کہ اگر ہماری روحانی حالت میں ترقی نہیں ہے یا نہیں ہو رہی تو ہم اپنی عبادتوں کا حق ادا نہیں کر رہے اور نتیجۃً اپنے رب کی روحانی پرورش کے فیض سے فیضیاب نہیں ہو رہے۔ جب ہم اپنے رب کی عبادت کا حق ادا کر کے اس کی اس صفت سے روحانی لحاظ سے فیض پائیں گے تو تقویٰ میں بڑھیں گے اور جب تقویٰ میں بڑھیں گے تو پھر ہماری عبادتیں صرف رمضان تک محدودنہیں رہیں گی بلکہ سارے سال اور ساری عمر پر محیط ہوں گی۔ پس اس سوچ کے ساتھ ہمیں اپنی عبادتوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ’’اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علّت غائی یہی عبادت ہے‘‘۔ یعنی پیدائش کا مقصد یہی ہے۔ فرمایا ’’جیسے دوسری جگہ فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات: 57) عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت، کجی کو دُور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنا دے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 2صفحہ 65-64۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر فرمایا: ’’پس کس قدر ضرورت ہے کہ تم اس بات کو سمجھ لو کہ تمہارے پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے لئے بن جاؤ۔ دنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو۔‘‘ فرمایا کہ ’’مَیں اس لئے بار بار اس ایک امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے اور یہی بات ہے جس سے وہ دُور پڑا ہوا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 1صفحہ 184-183) پس اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔

مجھے جب بعض کارکنان اور عہدیداروں کے بارے میں یہ شکایت ملتی ہے کہ وہ نمازوں میں سست ہیں۔ مسجد میں نہیں آتے یا بعض ایسے ہیں کہ گھروں میں بھی نہیں پڑھتے اور ان کی بیویاں شکایت کر رہی ہوتی ہیں تو اس بات پر بڑی شرمندگی ہوتی ہے۔ پس ہمیں اپنی عبادتوں کے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور جب تقویٰ نہ ہو تو پھر انسان نہ خدا تعالیٰ کے حق ادا کر سکتا ہے، نہ ہی اس کی مخلوق کے حق ادا کر سکتا ہے، نہ ہی جماعت کے لئے کوئی کارآمد وجود بن سکتا ہے، نہ ہی اس کے کام میں برکت پڑ سکتی ہے۔ پس ہمیں ہر وقت ہوشیار رہ کر اپنی عبادتوں کی نگرانی اور حفاظت کی ضرورت ہے تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے چلے جائیں اور روحانی ترقیات بھی حاصل کرنے والے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ہمیں ایک حکم ہے فرمایا کہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْا اَمٰنٰتِکُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (الانفال: 28) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو ورنہ تم اس کے نتیجہ میں خود اپنی امانتوں سے خیانت کرنے لگو گے جبکہ تم اس خیانت کو جانتے ہو گے۔

پس یہ بہت توجہ طلب اور اہم حکم ہے۔ خیانت صرف بڑی باتوں یا بڑے کاموں میں ہی نہیں ہوتی بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں اور کاموں سے لے کر بڑی بڑی باتوں اور کاموں سب پر حاوی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو ایک پاک جماعت کے قیام کے لئے آئے تھے آپ نے اپنی شرائط بیعت میں دوسری شرط میں خاص طور پر خیانت نہ کرنے اور اس سے بچنے کا ہم سے عہد لیا ہے۔ (ماخوذ ازالہ ٔ اوہام روحانی خزائن جلد 3صفحہ 564-563)

ہر برائی چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی وہ برائی ہے لیکن بعض برائیاں ایسی ہیں جو دوسری برائیوں کو بھی جنم دیتی چلی جاتی ہیں اور خیانت بھی ان میں سے ایک ایسی برائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خیانت کی عادت پھر اپنی امانتوں اور فرائض کی ادائیگی سے بھی خیانت کرواتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خائن نہ ہی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حقوق ادا کرنے والا ہو سکتا ہے، نہ ہی بندوں کے حقوق ادا کرنے والا۔ ایک خائن شخص لاکھ کہتا پھرے کہ میں نمازیں پڑھنے والا ہوں عبادت کرنے والا ہوں لیکن جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ عبادت کا مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے اور تقویٰ کا مطلب ہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور خوف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنا۔ حقوق کی ادائیگی میں خیانت جو ہے وہ تقویٰ سے دور لے جاتی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آدمی خائن بھی ہو اور تقویٰ پر چلنے والا بھی ہو اور حقوق ادا کرنے والا بھی ہو۔ نتیجۃً ایسے شخص کی عبادتیں بھی اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔ عابد بننا تو بہت بڑی بات ہے، ایک خائن تو ایمان لانے والا بھی نہیں کہلا سکتا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ کسی شخص کے دل میں ایمان اور کفر نیز صدق اور کذب اکٹھے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی امانت اور خیانت اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل جلد3صفحہ 320مسند ابی ھریرۃ حدیث نمبر 8577مطبوعہ بیروت 1998ء)

پس ایمان کی نشانی سچائی ہے اور امانت کی ادائیگی ہے۔ اس لئے ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن میں جھوٹ اور خیانت کے علاوہ بری عادتیں ہو سکتی ہیں لیکن ایک مومن میں یہ دو عادتیں نہیں ہو سکتیں۔ جو جھوٹ بولنے والا اور خیانت کرنے والا ہے وہ مومن ہے ہی نہیں۔ (مسند احمد بن حنبل جلد7صفحہ 397مسندابو امامۃ الباھلی حدیث نمبر 22523مطبوعہ بیروت 1998ء)

امانتوں کا حق ادا کرنے اور خیانت سے بچنے کا مضمون بڑا وسیع مضمون ہے اور ایک مومن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس کی اہمیت اور وسعت کو سمجھے۔ اور اس کو سمجھنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بڑی وضاحت سے روشنی ڈالتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین باتوں کے بارے میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کر سکتا۔ نمبر ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی خاطر کام میں خلوص نیت۔ دوسرا یہ کہ ہر مسلمان کے لئے خیر خواہی۔ تیسرے یہ کہ جماعت کے ساتھ مل کر رہنا۔ (سنن الدارمی المقدمہ باب الاقتداء بالعلماء حدیث نمبر 236مطبوعہ بیروت لبنان 2000ء)

پس اس میں اللہ تعالیٰ کا حق بھی ہے۔ بندوں کے حق بھی ہیں اور جماعت سے وفا کا حق بھی ہے۔ یہ تینوں چیزیں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے میں عبادت کے علاوہ وہ تمام ذمہ داریاں بھی ہیں جو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کرنے والوں پر ڈالی جاتی ہیں۔ عہدیداروں کے سپرد ان کی جو امانتیں کی گئی ہیں اپنی ان امانتوں کا حق ادا کرنے کا جائزہ اگر ہر انسان خود لے، ہر خدمت کرنے والا خود لے اور خدا تعالیٰ کا تقویٰ سامنے رکھتے ہوئے یہ جائزہ لے تو پھر خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ کس حد تک اس امانت کا وہ حق ادا کر رہا ہے جو اس کے سپرد کی گئی ہے۔ پھر یہ بھی اللہ تعالیٰ کے رسول نے فرمایا کہ اگر تم اپنے بھائیوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے تو یہ بھی خیانت ہے۔ تمہاری زبان اور ہاتھ سے دوسروں کو تکلیف پہنچ رہی ہے تو ایک مسلمان ہونے کی وجہ سے جو تمہاری ذمہ داری ہے تم اس کا حق ادا نہیں کر رہے اور حق ادا نہ کر کے خیانت کے مرتکب ہو رہے ہو۔ (سنن الترمذی کتاب البر والصلۃ باب ما جاء فی شفقۃ المسلم حدیث1927) بلکہ ایک روایت میں یہاں تک ہے کہ ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے انسان بھی محفوظ رہیں۔ (سنن الترمذی کتاب الایمان باب ما جاء فی ان المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ حدیث نمبر 2627) پس ہر انسان کے حقوق کی ادائیگی ایک مسلمان پر فرض ہے اور اس حق کی ادائیگی نہ کرنا اسے خائن بنا دیتا ہے۔

پھر ایک احمدی کے لئے جماعتی نظام کی پابندی اور اپنے عہدِ بیعت کو نبھانا ضروری ہے۔ جماعت کا ہر فرد اپنے اپنے اجتماعوں میں یہ عہد دہراتا ہے کہ وہ نظام جماعت کا پابند رہے گا۔ پس یہ عہد بھی ایک امانت ہے اور اس کا ادا کرنا ضروری ہے۔ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اسے پورا کرنا ضروری ہے۔ خلافت سے وابستگی اور اطاعت بھی ضروری ہے۔ یہ عہد میں دہرائی جاتی ہے۔

امانتوں کے حق ادا کرنے میں گھریلو باتوں میں سے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ لڑکا لڑکی جب شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو ایک دوسرے کے لئے ان کے کچھ حقوق ہیں اور ان حقوق کی ادائیگی ایک امانت ہے۔ اور ان میں خاوند کے ذمہ جو امانت ہے اس میں مثلاً عورت کا حق مہر ہے جو اسے ادا کرنا چاہئے۔ بہت سارے معاملات آتے ہیں کہ جب جھگڑے پڑ جائیں تو کوشش یہی ہوتی ہے کہ حق مہر ادا نہ کئے جائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں یہاں تک فرمایا ہے کہ جس نے کسی عورت سے شادی کے لئے مہر مقرر کیا اور نیت یہ کی کہ وہ اسے نہیں دے گا تو وہ زانی ہے اور جس نے کسی سے اس نیت سے قرض لیا کہ وہ اسے ادا نہیں کرے گا تو وہ چور ہے۔ (کنز العمال جلد8جزء 16صفحہ 137 کتاب النکاح الفصل الثالث فی الصداق حدیث نمبر 44719مطبوعہ بیروت 2004ء)

پھر دیکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے امانت کے معیار کو کہاں تک لے جانے کی توقع رکھی ہے اور تاکید فرمائی ہے۔ فرمایا کہ جس سے اس کے مسلمان بھائی نے کوئی مشورہ طلب کیا اور اس نے بغیر رشد کے مشورہ دیا تو اس نے اس سے خیانت کی۔ (مسند احمد بن حنبل جلد3صفحہ 244مسندابی ھریرۃحدیث نمبر 8249مطبوعہ بیروت 1998ء) یعنی اگر تمام چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے صحیح رنگ میں مشورہ نہیں دیا تو یہ خیانت ہے۔ پس بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب دوسرے ان پر اعتبار کرتے ہیں، ان سے مشورہ طلب کرتے ہیں تو ان کو صحیح مشورے نہیں دیتے۔ امانت کا حق تو یہ ہے کہ اگر واضح طور پر کسی بات کا علم نہیں تو معذرت کر لیں اور اگر کسی بہتر مشورہ دینے والے کا پتا ہو تو اس کا پتہ بتا دیا جائے، اس طرف رہنمائی کر دی جائے۔

بعض وکلاء میں نے دیکھے ہیں یہاں اسائلم پر آنے والے لوگوں کو غلط مشورے دیتے ہیں یا پوری دلچسپی سے مشورے نہیں دیتے جبکہ اپنی فیس پوری لے رہے ہوتے ہیں تو وہ ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اسی طرح دوسرے معاملات بھی ہیں۔ پس ایسے لوگوں کو خیال رکھنا چاہئے کہ ایک شخص جب اعتبار کر کے آپ کے پاس آتا ہے تو اس کی صحیح رہنمائی کریں ورنہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے فیصلہ کے مطابق وہ خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ پس ان معاملات میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں امانت کی ادائیگی اور خیانت سے بچنے کے کیا معیار دیکھنا چاہتے ہیں؟ آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ:

’’جو شخص… بدنظری سے اور خیانت سے، رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرف سے توبہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے‘‘۔ فرمایا: ’’ہر ایک مرد جو بیوی سے یا بیوی خاوند سے خیانت سے پیش آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے‘‘۔ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19صفحہ 19-18)

پھر آپ نے فرمایا کہ: ’’خدا کے واحد ماننے کے ساتھ یہ لازم ہے کہ اس کی مخلوق کی حق تلفی نہ کی جاوے۔ جو شخص اپنے بھائی کا حق تلف کرتا ہے اور اس کی خیانت کرتا ہے وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا قائل نہیں‘‘۔ (ملفوظات جلد 9صفحہ 106حاشیہ۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر آپ نے فرمایا کہ: ’’خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے۔ چنانچہ ’لباس التقویٰ‘ قرآن شریف کا لفظ ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عَہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے۔ یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تابمقدور کاربند ہو جائے‘‘۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21صفحہ 210)

پس امانتوں کے دقیق اور باریک پہلو تلاش کر کے ان پر عمل کرنا ہمیں امانت کی ادائیگی کرنے والا بناتا ہے جس کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔ تمام حقوق جو ہمارے ذمہ ہیں یہ ایک امانت ہیں۔ تمام فرائض جو ہمارے ذمہ لگائے گئے ہیں یہ ایک امانت ہیں اور ان کی ادائیگی ہم پر فرض ہے۔ اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں تو یہ فرض ادا کرنا ضروری ہے۔ پس ہم میں سے ہر ایک کو اس پر بہت غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ کا ایک اور حکم میں نے آج بیان کرنے کے لئے لیا ہے جو معاشرے کے حسن اور خوبصورتی کو نکھارنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ۔ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (آل عمران: 135) یعنی وہ لوگ جو آسائش میں بھی خرچ کرتے ہیں اور تنگی میں بھی اور غصہ دبا جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ حقوق کی ادائیگی ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حقوق کی ادائیگی کے معیار کیا ہونے چاہئیں؟ بلکہ اس سے بھی آگے جا کر ہمیں یہ نصیحت فرمائی کہ معاشرے کی خوبصورتی حقوق کی ادائیگی سے بھی آگے جا کر قربانی کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ صرف حق نہیں ادا کرنے بلکہ حق ادا کرنے کے لئے بعض دفعہ قربانی بھی کرنی پڑتی ہے۔ جس معاشرے میں ہر انسان نہ صرف ایک دوسرے کے حق ادا کر رہا ہو بلکہ قربانی کر کے حق ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہو وہ معاشرہ حقیقی طور پر اس معیار تک پہنچتا ہے جسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جنت نظیر معاشرہ ہے۔ اس کا نظارہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں نظر آتا ہے جس کے بارے میں خدا تعالیٰ نے بھی فرمایا کہ وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ (الحشر: 10) اور باوجود غریب ہونے کے دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے۔ پس جب ایسی سوچ اور ایسے عمل ہوتے ہیں تو پھر قربانیوں کی روح پیدا ہوتی ہے۔ اپنے نفس کے جذبات کو بھی انسان دباتا ہے۔ دوسروں کے لئے بھلائی چاہتا ہے اور احسان کا سلوک بھی کرتا ہے۔ اس کردار کی عظمت کی اعلیٰ ترین مثال تو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ میں نظر آتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے اپنی بیٹی کے قاتل کو بھی معاف فرما دیا۔ (السیرۃ الحلبیۃ جزء 3باب ذکر مغازیہﷺ صفحہ 132-131مطبوعہ بیروت 2002ء) اور بے شمار اور مثالیں ہیں۔ پھر آپ نے اپنے صحابہ کو غصہ دبانے اور اعلیٰ اخلاق دکھانے کی کس طرح تلقین فرمائی اور تربیت کی۔ اس بارہ میں مشہور روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش رہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیٹھے ہوئے تھے اس شخص کی باتیں سن کر مسکراتے رہے۔ جب اس شخص کی زیادتی کی انتہا ہو گئی تو حضرت ابوبکر نے اس کی کچھ باتوں کا کچھ سختی سے جواب دیا۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار آئے اور آپ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور بعد میں حضرت ابوبکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ وہ شخص آپ کی موجودگی میں برا بھلا کہہ رہا تھا اور آپ بیٹھے رہے اور جب میں نے اس کی کچھ باتوں کا جواب دیا تو آپ غصّے میں وہاں سے تشریف لے گئے۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ گالی دے رہا تھا اور تم خاموش تھے تو خدا تعالیٰ کا ایک فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا۔ لیکن جب تم نے الٹ کر جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آ گیا (مسند احمد بن حنبل جلد3صفحہ547-546 مسندابی ھریرۃحدیث نمبر 9622مطبوعہ بیروت 1998ء) اور ظاہر ہے کہ اس کے بعد پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح صحابہ کی تربیت فرمائی کہ ان کے جائز غصوں کو بھی عفو میں بدل دیا بلکہ ان کو احسان کرنے کے اسلوب سکھائے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی حالت کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنی ذات کی خاطر اپنے اوپر ہونے والی کسی زیادتی کا انتقام نہیں لیا۔ (صحیح بخاری کتاب المناقب باب صفۃ النبیﷺ حدیث3560)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں۔ بہت بُری طرح ستایا گیا مگر ان کو اَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ(الاعراف: 200) کا ہی خطاب ہوا۔ خود اس انسان کامل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بری تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں، بدزبانی اور شوخیاں کی گئیں مگر اس خُلقِ مجسّم ذات نے اس کے مقابلے میں کیا کیا۔ ان کے لئے دعا کی اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گا تو تیری عزت اور جان کو ہم سلامت رکھیں گے اور یہ بازاری آدمی اس پر حملہ نہ کر سکیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف آپ کی عزت پر حرف نہ لا سکے اور خود ہی ذلیل و خوار ہو کر آپ کے قدموں پر گرے یا سامنے تباہ ہو گئے۔ (ملفوظات جلد 1صفحہ 103)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس غلام صادق کا اپنا نمونہ کیا ہے۔ اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے اقدام قتل والے مقدمے میں مولوی محمد حسین بٹالوی عیسائیوں کی طرف سے گواہ کے طور پر پیش ہوئے۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وکیل مولوی فضل دین صاحب جو ایک غیر احمدی لیکن شریف الطبع انسان تھے، وہ مولوی محمد حسین کی شہادت کو کمزور کرنے کے لئے عدالت میں ان سے یعنی مولوی صاحب سے بعض ایسے سوال کرنے لگے جو ان کے حسب نسب کے بارے میں طعن آمیز تھے۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے وکیل کو فوری روک دیا کہ میں مولوی صاحب پر ایسے سوال کرنے کی آپ کو اجازت نہیں دیتا اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا ہاتھ فوری طور پر مولوی فضل دین صاحب وکیل کے منہ پر رکھ دیا۔ (ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 1صفحہ 543حاشیہ) تو یہ ہے وہ اعلیٰ خُلق کہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر آپ نے اپنے جانی دشمن کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمائی۔

مولوی فضل دین صاحب ہمیشہ اس واقعہ کا تذکرہ کیا کرتے تھے کہ مرزا صاحب عجیب اخلاق کے انسان ہیں کہ ایک شخص ان کی عزت بلکہ جان پر حملہ کرتا ہے اور اس پر اس کی شہادت کو کمزور کرنے کے لئے بعض سوال کئے جاتے ہیں تو آپ فوراً روک دیتے ہیں کہ مَیں ایسے سوال کی اجازت نہیں دیتا۔ (ماخوذ ازسیرت المہدی حصہ اول صفحہ 229-228روایت نمبر 248) تو یہ ہے وہ مقام جو غیظ کو گھٹانے اور عفو بلکہ احسان کی بھی مثال ہے جو اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی سیرت میں ہمیں نظر آتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ۔ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(آل عمران: 135) یعنی مومن وہی ہیں جو غصہ کو کھا جاتے ہیں اور یاوہ گو ظالم لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں اور بیہودگی کا بیہودگی سے جواب نہیں دیتے‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد 1صفحہ 460اشتہار نمبر 129بعنوان ’لایق توجہ گورنمنٹ…‘حاشیہ)

آپ نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو سے تقویٰ سرایت کر جاوے۔ تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو۔ اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو اور بے جا غصّہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو‘‘۔ فرمایا کہ ’’میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصّے کا نقص اب تک موجود ہے۔ تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا اور مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا دقّت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو دوسرا چپ کر رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ ہر ایک جماعت کی اصلاح اوّل اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔ چاہئے کہ ابتدا میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بدگوئی کرے اس کے لئے درد دل سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے اور دل میں کینے کو ہرگز نہ بڑھاوے۔ جیسے دنیا کے قانون ہیں ویسے خدا کا بھی قانون ہے۔ جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔ پس جب تک تبدیلی نہیں ہو گی تب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں۔ خدا تعالیٰ ہرگز پسندنہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔ اگر تم ان صفات حسنہ میں ترقی کرو گے تو بہت جلدی خدا تک پہنچ جاؤ گے‘‘۔ (ملفوظات جلد 7صفحہ 128-127)

اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان میں جہاں اپنی عبادتوں کے معیار بڑھانے اور انہیں مستقل رکھنے کی توفیق عطا فرمائے وہاں ہمیں دوسرے اخلاق اور حقوق کی ادائیگی کے معیار بھی قائم کرنے اور انہیں مستقل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جیسا کہ مَیں نے کہا ہمارے کسی بھی رنگ میں جو جماعت کا کام کرنے والے ہیں ان کو گھروں میں بھی اور باہر بھی سب سے پہلے اپنے نمونے پیش کرنے چاہئیں۔ دعاؤں کی طرف مَیں دوبارہ توجہ دلاتا ہوں۔ رمضان کا جو پہلا خطبہ تھا اس میں بھی کہا تھا۔ مختصراً دوبارہ کہہ دوں کہ آجکل جماعت کی ترقی اور دشمنوں کے خطرناک منصوبوں سے بچنے کے لئے بہت دعائیں کریں اور آپ جہاں اپنے لئے دعا کر رہے ہوں گے غلبۂ اسلام کے لئے بھی بہت دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 3؍ جولائی 2015ء شہ سرخیاں

    اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتی نظام میں ایک مرکزی نظام کے علاوہ ذیلی تنظیموں کا بھی نظام ہے اور پھر جماعتی مرکزی نظام میں بھی اور ذیلی تنظیموں کے نظام میں بھی ملکی سطح سے لے کر مقامی محلے کی سطح تک عہدیدار مقرر ہیں اور ہر عہدیدار سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ خلافت کا دست و بازو بن کر ان فرائض کو ادا کرنے کی کوشش کرے جو وسیع تر پھیلاؤ کے ساتھ خلافت کی ذمہ داری ہے۔ پس اگر اس بات کو تمام مربیان اور عہدیدار سمجھ لیں تو ایک انقلابی تبدیلی جماعت میں پیدا ہو سکتی ہے۔

    کسی بھی عہدیدار کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ نصیحت کرنا میرا کام نہیں۔ یہ تو صرف امیر جماعت یا صدر جماعت یا سیکرٹری یا مربی یا ایک دو دوسرے سیکرٹریان کا کام ہے یا اسی طرح صدر انصار اللہ یا ان کے تربیتی شعبہ کا کام ہے یا صدر خدام الاحمدیہ یا ان کے تربیتی شعبہ کا کام ہے یا لجنہ کی صدر اور ان کے تربیتی شعبہ کا کام ہے۔ نہیں، بلکہ ہر سیکرٹری چاہے وہ سیکرٹری ضیافت ہے یا ذیلی تنظیموں میں خدمت خلق یا کھیلوں کا نگران ہے، کوئی بھی ہے اگر وہ کسی بھی صورت میں خدمت انجام دے رہا ہے تو اس کا کام ہے کہ اپنے نمونے قائم کرے۔

    رمضان کا مہینہ بندے کی اصلاح کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ مہینہ جہاں ہمیں ہماری عبادتوں کی طرف توجہ دلانے کا مہینہ ہے وہاں ہماری کمزوریوں کی طرف توجہ دلانے اور ان کی اصلاح کا بھی مہینہ ہے۔ پس اس مہینے میں ہمیں اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکموں کی جگالی کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔

    نمازیں اور عبادت تو ہر مومن کا ویسے بھی ایک فرض ہے۔ ہاں رمضان میں ہمیں ان عبادتوں میں، نمازوں میں مزید خوبصورتی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اسی طرح زیادہ سے زیادہ اپنی زبانوں کو ذکر الٰہی سے بھی تر رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

    ہمیں اس نیّت سے مسجدوں کی آبادی اور عبادت کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کریں اور اس مہینے کی عبادتوں کو پھر زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کریں۔ عبادت کا مقصد صرف خدا کو پہچاننا نہیں بلکہ تقویٰ پیدا کر کے اپنی روحانی بلندیوں کو حاصل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کا اِدراک حاصل کرنا ہے۔

    مجھے جب بعض کارکنان اور عہدیداروں کے بارے میں یہ شکایت ملتی ہے کہ وہ نمازوں میں سست ہیں۔ مسجد میں نہیں آتے یا بعض ایسے ہیں کہ گھروں میں بھی نہیں پڑھتے اور ان کی بیویاں شکایت کر رہی ہوتی ہیں تو اس بات پر بڑی شرمندگی ہوتی ہے۔ پس ہمیں اپنی عبادتوں کے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور جب تقویٰ نہ ہو تو پھر انسان نہ خدا تعالیٰ کے حق ادا کر سکتا ہے، نہ ہی اس کی مخلوق کے حق ادا کر سکتا ہے، نہ ہی جماعت کے لئے کوئی کارآمد وجود بن سکتا ہے، نہ ہی اس کے کام میں برکت پڑ سکتی ہے۔

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو ایک پاک جماعت کے قیام کے لئے آئے تھے آپ نے اپنی شرائط بیعت میں دوسری شرط میں خاص طور پر خیانت نہ کرنے اور اس سے بچنے کا ہم سے عہد لیا ہے۔

    خائن نہ ہی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حقوق ادا کرنے والا ہو سکتا ہے، نہ ہی بندوں کے حقوق ادا کرنے والا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آدمی خائن بھی ہو اور تقویٰ پر چلنے والا بھی ہو اور حقوق ادا کرنے والا بھی ہو۔ نتیجۃً ایسے شخص کی عبادتیں بھی اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔ عابد بننا تو بہت بڑی بات ہے، ایک خائن تو ایمان لانے والا بھی نہیں کہلا سکتا۔

    جماعت کا ہر فرد اپنے اپنے اجتماعوں میں یہ عہد دہراتا ہے کہ وہ نظام جماعت کا پابند رہے گا۔ پس یہ عہد بھی ایک امانت ہے اور اس کا ادا کرنا ضروری ہے۔ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اسے پورا کرنا ضروری ہے۔

    خلافت سے وابستگی اور اطاعت یہ بھی ضروری ہے۔

    قرآن مجید، احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے امانتوں کی ادائیگی اور خیانت سے بچنے اور غصّہ کو دبانے اور اعلیٰ اخلاق دکھانے سے متعلق تاکیدی نصائح۔

    جماعت کی ترقی اور دشمنوں کے خطرناک منصوبوں سے بچنے اور غلبۂ اسلام کے لئے بہت دعائیں کرنے کی نصیحت۔

    فرمودہ مورخہ 03؍جولائی 2015ء بمطابق 03وفا 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور