جلسہ سالانہ: مہمان نوازی اور ہماری ذمہ داریاں

خطبہ جمعہ 14؍ اگست 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگلے جمعہ سے جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے انشاء اللہ۔ جلسے کی تیاری کے لئے چند ہفتوں سے رضا کار کارکنان حدیقۃ المہدی جا رہے ہیں اور گزشتہ ہفتے عشرے سے تو خدام الاحمدیہ اور باقی کارکنان بھرپور طور پر کام کر رہے ہیں۔ جنگل میں جلسے کے انعقاد کے لئے تمام انتظامات کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ لیکن ہمارے ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے، برطانیہ کے مختلف حصوں سے آنے والے خدام اور رضاکار ایسی مہارت سے یہ کام کرتے ہیں کہ جس کی مثال دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آتی اور کسی بھی تنظیم میں ہم یہ نہیں دیکھ سکتے۔ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ جذبہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نوجوانوں اور کام کرنے والوں میں پیدا کیا ہے۔ بارش ہو یا دھوپ ہو یہ نوجوان ان باتوں سے بے پرواہ ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جاری کردہ اس جلسے کے لئے ہر وقت بے نفس ہو کر کام کر رہے ہیں اور تیاری کر رہے ہیں اور پھر جلسے کے دنوں میں مزید ہزاروں کارکنان مہمانوں کی خدمت اور جلسے کے نظام کو احسن رنگ میں چلانے کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے آ جائیں گے اور پھر اس کے بعد اس کام کو سمیٹنے کے لئے اور سارے سامان کو محفوظ کرنے کے لئے بھی کافی عرصہ کام کرنا پڑتا ہے۔ ان کام کرنے والوں میں انشاء اللہ مرد بھی ہیں، عورتیں بھی ہیں، لڑکے بھی ہیں، لڑکیاں بھی ہیں۔ بچے اور بوڑھے بھی ہیں جو آئیں گے یا کر رہے ہیں۔ پس یہ غیر معمولی جذبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کا ہے جو ہمیں آج سوائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ جماعت کے اور کہیں نظر نہیں آتا۔ ان مغربی ممالک میں جہاں دنیا کمانا اور دنیاوی باتوں میں پڑنا ہر ایک کی عموماً اِلَّا مَاشَائَ اللہ اوّلین ترجیح ہے وہاں احمدی نوجوان عاجزی سے رضاکارانہ خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔ پس ہمارا فرض ہے کہ ہم مسلسل ان کارکنان کے لئے دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جہاں احسن رنگ میں خدمت کی توفیق دیتا رہے وہاں ان کو ہمیشہ ہر شر اور پریشانی اور تکلیف سے محفوظ رکھے۔

اب میں حسب روایت اور یہ ضروری بھی ہے مہمان نوازی کے حوالے سے کارکنان کے لئے کچھ باتیں کہوں گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام کارکنان جیسا کہ میں نے کہا اپنی تمام تر کوشش اور توجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں لیکن بعض نئے شامل ہونے والے اور وہ بچے جو پہلی دفعہ اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں نیز پرانے کارکنان جو ہیں ان کو یاددہانی کے طور پر بھی ضروری ہے کہ مہمان نوازی سے متعلق اسلامی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور آپ کے غلام صادق کے اپنے عمل اور آپ کی نصائح کو بھی ہم سامنے رکھیں اور دہراتے رہیں تا کہ مہمان نوازی کے بہتر سے بہتر معیار ہم قائم کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مہمان نوازی کی اہمیت بتاتے ہوئے قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا ذکر فرماتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس مہمان آئے تو پہلا اور فوری ردّ عمل خوش آمدید کہنے اور سلامتی کی دعاؤں کے بعد جو انہوں نے دکھایا وہ یہ تھا کہ ان کے لئے فوری طور پر کھانا تیار کروایا۔ اور پھر حضرت لوط کے مہمانوں کے لئے جو اُن کی فکر تھی اس کا ذکر ہے کہ میری قوم کے لوگ انہیں تکلیف نہ دیں اور مہمانوں کی حفاظت کی فکر آپ کو دامنگیر ہوئی۔ پس مہمان کی تکلیف کی فکر رہنی چاہئے اور مہمان کی تکلیف میزبان کی رسوائی کا باعث بھی بنتی ہے۔ یہ بھی اس سے سبق ملتا ہے۔

پس یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ مہمان کی تکلیف کوئی ایسی معمولی چیز نہیں جس سے صرفِ نظر کیا جائے۔ جس سے بلکہ کسی بھی رنگ میں مہمان کو کوئی تکلیف پہنچے تو یہ میزبان کے لئے شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہے۔ اسلام نے اس لئے اکرام ضیف کی بہت تلقین کی ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو غیر معمولی خوبیاں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نظر آئیں اور جن کا ذکر حضرت خدیجہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی وحی کے بعد آپ کی گھبراہٹ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور عرض کیا کہ ان خوبیوں کے حامل کو خدا تعالیٰ ضائع نہیں کر سکتا۔ ان میں سے ایک خوبی یہ بھی بیان کی کہ خدا تعالیٰ کس طرح آپ کو ضائع کر سکتا ہے (جبکہ) آپ میں تو مہمان نوازی کا وصف بھی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حدیث نمبر3) اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک دو، پانچ دس، نہیں سینکڑوں بلکہ اس سے بھی زیادہ مثالیں ہیں ایسے واقعات ہیں جو آپ کے اکرام ضیف اور مہمان نوازی کے اعلیٰ ترین معیاروں کو چھو رہے ہیں اور پھر اپنے صحابہ اور اپنی امت کوبھی آپ نے یہ اسلوب سکھائے۔ صحابہ کے بھی ایسے واقعات ہیں جن کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح غیر معمولی قربانی کر کے وہ مہمان نوازی کرتے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ بھی ان کی مہمان نوازی میں کس طرح برکت ڈالتا تھا اور سراہتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ جب زیادہ مہمان آتے تو ہر ایک کو کچھ مہمان تقسیم کر دیتے اور اپنے حصے کے مہمان بھی رکھتے اور پھر خود ان کی مہمان نوازی بھی فرماتے۔ ایسے ہی ایک موقع پر جب آپ نے مہمانوں کو تقسیم کر دیا تو جب زیادہ مہمان آ گئے تو اپنے حصے کے مہمان بھی رکھے۔ ایک صحابی عبداللہ بن طُھفہ کہتے ہیں کہ ایک موقع پر میں ان مہمانوں میں سے تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئے۔ آپ ہمیں اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ گھر میں کچھ کھانے کو ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ کچھ تھوڑا سا حریر ہے جو میں نے آپ کے لئے رکھا ہوا تھا۔ اس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے بھی تھے۔ یہ تھوڑا سا کھانا آپ کی افطاری کے لئے تھا۔ بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر حضرت عائشہؓ وہ برتن میں ڈال کر لائیں۔ آپ نے اس میں سے تھوڑا سا لیا شاید ایک آدھ گھونٹ لیا یا لقمہ کھایا اور مہمانوں کو کہا کہ بسم اللہ پڑھ کر کھائیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اسے اس طرح کھا رہے تھے کہ اسے دیکھ نہیں رہے تھے اور سب سیر ہو گئے۔ پھر آپ نے پوچھا پینے کو کچھ ہے تو وہ پینے کے لئے کچھ مشروب لائیں۔ آپ نے اس میں سے تھوڑا سا پیا اور پھر فرمایا کہ بسم اللہ کر کے پئیں۔ پھر ہم نے اسے پیا اور اسی طرح پیا کہ اسے دیکھ نہیں رہے تھے اور پھر ہم اچھی طرح سیر ہو گئے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد7 صفحہ795-794 حدیث طُھفہ الغفاری حدیث نمبر24015عالم الکتب بیروت 1998ء)

تو یہ تھی آپ کی مہمان نوازی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے پہلے اس لئے کھایا تھا یا چکھا تھا بلکہ کھایا نہیں کہنا چاہئے، دعا کے لئے ہی منہ سے لگایا ہو گا کہ آپ کی دعا کی برکت سے وہ سب کو پورا ہو جائے اور وہ پورا ہو گیا۔ اسی طرح دعا سے کھانے میں برکت پڑنے کے اَور بھی درجنوں واقعات ہیں جس سے پتا لگتا ہے کہ کس طرح آپ کے باقی کھانے پے، تھوڑے سے کھانے پے اَور لوگ سیر ہوئے۔

پھر بعض دفعہ مہمان بعض تکلیف دہ صورتحال بھی پیدا کر دیتے ہیں اور میزبان کا صبر کا جو دامن ہے وہ چھوٹ جاتا ہے۔ ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایسی صورت میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا عظیم اور عجیب نمونہ تھا کہ ایک شخص رات مہمان رہتا ہے، پھر پیٹ کی خرابی کی وجہ سے یا دشمنی کی وجہ سے جان بوجھ کر بستر گندا کر دیتا ہے اور صبح صبح اٹھ کر چلا جاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی بجائے اسے کچھ کہنے کے، کچھ اعتراض کے فوری طور پر خود ہی اس کے بستر کو دھونے لگ جاتے ہیں۔ غرض کہ جس حد تک جا کر مہمان کا حق ادا کرنا ہو سکتا ہے وہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں نظر آتا ہے، آپؐ کی سیرت میں نظر آتا ہے۔ جب آپ نے اپنا یہ اسوہ دکھایا تو اسی کا نتیجہ ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم کی زندگی میں بھی ہمیں مہمانوں کی خاطر قربانیوں کے نمونے نظر آتے ہیں۔ وہ واقعہ بھی اپنی مثال آپ ہے جس کو جب بھی پڑھو ایک نیا لطف آتا ہے کہ جب ایک صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کے لئے اپنے بچوں کو تو بہلا پھسلا کر بھوکا سلا دیتے ہیں اور خود بھی بھوکے رہتے ہیں لیکن مہمان کو کسی قسم کا احساس نہیں ہونے دیتے۔ ایک انصاری کہتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہمان میرے سپرد کیا تو میں نے گھر آ کر بیوی سے پوچھا کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا بس تھوڑا سا کھانا ہے جو بچوں کے لئے رکھا ہوا ہے۔ دونوں نے مشورہ کیا کہ بچوں کو تو کسی طرح سلا دیا جائے۔ پھر مہمان کے سامنے کھانا لاؤ اور کسی بہانے سے چراغ بجھا دو۔ چنانچہ مہمان کے سامنے کھانا لایا گیا اور اسی طرح اپنی چادر ہلا کر گھر والی نے اس چراغ کو بجھا دیا اور پھر یہ بھی فیصلہ ہوا کہ ہم اس طرح ظاہر کریں گے کہ ہم بھی اِس اندھیرے میں کھانا کھا رہے ہیں کیونکہ اگر اس طرح نہ کیا تو ہو سکتا ہے مہمان کا ہاتھ بھی رک جائے اور وہ صحیح طرح نہ کھا سکے۔ کھانا تھوڑا سا تھا۔ بہرحال اس تدبیر سے انہوں نے مہمان کو کھانا کھلایا۔ مہمان نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ اگلے دن جب یہ انصاری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہنس کر فرمایا کہ تمہارا اس تدبیر سے مہمان کو کھانا کھلانا ایسا تھا کہ خدا تعالیٰ بھی اس پر ہنسا۔ (صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار باب قول اللّٰہ و یؤثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ حدیث نمبر3798)

پس یہ مہمان نوازی اللہ تعالیٰ کو ایسی پسند آئی کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی اطلاع دی۔ یہ صحابہ اپنی ذات پر بلکہ اپنے بچوں پر بھی مہمانوں کو ترجیح دینے والے تھے۔ یقینا ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے دونوں جہان کی نعمتوں کے وارث بنتے ہیں۔ یہ جذبہ صحابہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے اسوہ کو دیکھ کر پیدا ہوا اور آپ کی تعلیم سے پیدا ہوا۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا احترام کرے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی جلد 5 صفحہ233باب الزای عبد الرحمن بن ابی عمرۃ، عن زید بن خالد حدیث نمبر5187دار احیاء التراث العربی2002ء)

پس یہ معیار ہیں ایک مومن ہونے کے لئے۔ جب ایمان کامل ہونے کی طرف قدم بڑھیں گے تو خدا تعالیٰ کی رضا بھی شامل حال ہو گی اور جب اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے تبھی دونوں جہاں کی نعمتوں سے انسان فیضیاب ہو سکتا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مہمان سپرد کرتے تھے تو پھر مہمانوں سے دریافت بھی فرمایا کرتے تھے کہ کیسی مہمان نوازی ہوئی۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ قبیلہ عبدالقیس کے مہمانوں کا وفد حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو ان کی مہمان نوازی کا ارشاد فرمایا۔ چنانچہ انصار ان کو اپنے ساتھ لے گئے۔ صبح جب وہ لوگ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ رات تمہارے میزبانوں نے تمہاری کیسی خدمت کی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ بڑے اچھے لوگ ہیں۔ انہوں نے ہمارے لئے نرم بستر بچھائے۔ ہمارے آرام کا خیال رکھا۔ ہمیں عمدہ کھانے کھلائے اور پھر کتاب و سنّت کی تعلیم بھی دیتے رہے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد6 صفحہ119-118 حدیث وفد عبد القیس حدیث نمبر17985عالم الکتب بیروت 1998ء)

ان کی مجلسیں بھی لگیں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی مجلسیں لگیں۔ پس یہ ہیں میزبانوں کے فرائض۔ جن کے گھروں میں مہمان آ رہے ہیں انہیں بھی چاہئے کہ رات کو فضول باتوں میں وقت گزارنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ وقت ان دنوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ذکر میں گزارا جائے۔ نیکی کی باتیں کی جائیں اور نیکی کی باتیں سکھائی جائیں۔ ان میں بچے بھی ہوتے ہیں نوجوان بھی ہوتے ہیں۔ ہمارے جلسوں پر علاوہ احمدیوں کے اب غیر از جماعت مہمان بھی کافی تعداد میں آتے ہیں۔ مختلف جگہوں پر وہ ٹھہرتے ہیں اور ہر جگہ مہمان نوازی کی ٹیم ہے۔ ان ٹیم ممبران کو یا کارکنان کو جو بھی خدمت کرنے والے ہیں ان کو چاہئے کہ ہر قیامگاہ میں اپنے نمونے بھی ایسے دکھائیں کہ آنے والوں کو احساس ہو کہ وہ کسی دینی جلسے میں شرکت کے لئے آئے ہیں نہ کہ دنیاوی میلے میں اور اپنے رویّے، اپنے اخلاق کو اعلیٰ معیاروں پر پہنچائیں، رات کو یا دن کے کسی حصے میں بھی جب فارغ ہوں تو فارغ بیٹھے ہوئے اِدھر اُدھر کی گپّیں لگانے کی بجائے دین کی باتیں کریں۔ اس کا اثر بھی مہمانوں پر ہو گا۔ ان پر واضح ہو گا کہ یہ لوگ ان دنوں میں دنیا سے مکمل طور پر کنارہ کش ہو کر خالصۃً للہ جمع ہوئے ہیں اور اس جذبے سے خدمت بھی کر رہے ہیں اور اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے مہمانوں کو بھی اپنے دین کی باتیں سکھا رہے ہیں۔ پس کارکنان کی طرف سے یہ تبلیغ بھی ہوتی ہے اور بچوں اور نوجوانوں کی تربیت بھی ہو رہی ہوتی ہے۔ ہم نے، جماعت احمدیہ نے ابھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی دُور کا سفر طے کرنا ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے اس بات کو سمجھا تو جہاں انہوں نے مہمان نوازی کا حق آئے ہوئے وفد کو جس کی مثال میں نے دی ہے بہترین رہائش مہیا کرکے، اس کا بندوبست کر کے انہیں بہترین کھانا کھلا کر مہیا کیا وہاں ان کی روحانی دینی اور علمی ضرورت کا حق ادا کرنے کی بھی کوشش کی تا کہ جب وہ اپنے گھروں میں جائیں تو بہترین رنگ میں اپنوں کی تربیت بھی کر سکیں اور احسن رنگ میں اسلام کا پیغام بھی اپنے علاقے کے لوگوں کو پہنچا سکیں۔ ہمارے نظام میں بھی تربیت اور تبلیغ کے شعبے ہیں۔ جلسے کے دنوں میں اس کی ٹیمیں بھی بنتی ہیں۔ رات کو مختلف قوموں کے ساتھ، طبقوں کے ساتھ بعض اجلاسات بھی ہوتے ہیں۔ پس اپنوں اور غیروں کو یہ روحانی مائدہ کھلانا بھی ڈیوٹی دینے والوں کی ذمہ داری ہے۔ اس کے انتظام بھی احسن رنگ میں کئے جائیں۔ پس ڈیوٹی والوں کو اس بات کو بھی اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ وہ یہ بات یاد رکھیں کہ ان کے اپنے عملی نمونے بھی اور ان کی باتیں بھی مہمان نوازی کا حصہ ہیں۔ صرف خدمت کرنا ہی نہیں۔ اس کی طرف بھی ان دنوں میں توجہ دینی چاہئے۔

اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں مہمان نوازی کے کس طرح کے نمونے دکھائے اور کس طرح تربیت فرمائی اس کی بھی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔ مہمان کی عزت اور احترام کا ایک واقعہ ہے۔ ایک دفعہ قادیان میں آئے ہوئے ایک مہمان جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں بھی تھے۔ ایک مریدی کا رشتہ بھی تھا اور اس مریدی کے جذبے کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں دبانے لگ گئے۔ اسی دوران میں کمرے کی کھڑکی یا دروازے پر ایک ہندو دوست نے آ کر دستک دی۔ یہ صحابی کہتے ہیں مَیں اٹھ کر کھڑکی کھولنے لگا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی تیزی سے اٹھے اور جا کر دروازہ کھول دیا اور فرمایا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئے۔ (مأخوذ از سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ66-65 روایت نمبر89بیان فرمودہ میاں عبد اللہ صاحب سنوریؓ)

اب دیکھیں یہاں دو صورتیں ہیں ایک مرید کی جس کے تحت اس کی خواہش پر دبانے کی اجازت دے دی اور دوسری مہمان کی تو مہمان کے حق کی ادائیگی کے لئے فوراً اپنے آقا و مطاع کے ارشاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے آئے ہوئے مہمان کی بھی عزت کی اور آنے والے کا احترام کرتے ہوئے خود اس کے لئے دروازہ بھی کھولا۔

ایک واقعہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک بہت شریف اور غریب مزاج احمدی سیٹھی غلام نبی صاحب جو پنڈی میں دکان کیا کرتے تھے۔ حضرت میاں صاحب کہتے ہیں انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کے لئے قادیان آیا۔ سردی کا موسم تھا اور کچھ بارش بھی ہو رہی تھی۔ میں شام کے وقت قادیان پہنچا۔ رات کو جب مَیں کھانا کھا کر لیٹ گیا اور کافی رات گزر گئی تو کسی نے میرے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سامنے کھڑے دیکھا۔ آپ کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا گلاس تھا اور دوسرے ہاتھ میں لالٹین تھی۔ میں حضور کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ مگر حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا۔ کہیں سے دودھ آ گیا تھا میں نے کہا آپ کو دے آؤں۔ آپ یہ دودھ پی لیں۔ آپ کو شاید دودھ کی عادت ہو گی۔ سیٹھی صاحب کہا کرتے تھے کہ میری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ سبحان اللہ! کیا اخلاق ہیں۔ خدا کا برگزیدہ مسیح اپنے خادموں تک کی خدمت میں کتنی لذت پا رہا ہے اور تکلیف اٹھا رہا ہے۔ (مأخوذ از سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ صفحہ70-69)

بعض خاص علاقے کے لوگوں کے لئے آپ ان کے مزاج کے مطابق کھانا بھی تیار کروایا کرتے تھے۔ گو جلسے کے دنوں میں انتظامی وجوہ کی بناء پر آپ ایک کھانا تیار کرواتے تھے تا کہ زیادہ دقّتیں پیدا نہ ہوں۔ لیکن آجکل تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی جماعت انتظامی لحاظ سے بھی بہت تربیت یافتہ ہو چکی ہے اور والنٹیئر میسر ہیں۔ وسائل بھی ہیں اور بڑے بڑے انتظامات بھی آسانی سے کر سکتی ہے۔ اس لئے جلسے کے انتظامات کے تحت بھی ایک تو عمومی لنگر کا انتظام ہوتا ہے اور دوسرے غیر از جماعت اور خاص علاقے کے لوگوں یا مریضوں کے لئے بھی کھانا بنتا ہے اور اس میں کوئی دقّت بھی نہیں ہے اور حرج بھی نہیں، نہ حرج ہونا چاہئے۔ بعض لوگ بلا وجہ اس قسم کے سوال اٹھا دیتے ہیں کہ کیوں علیحدہ کھانا پک رہا ہے۔ فلاں کے لئے علیحدہ کیوں ہے؟ ان لوگوں کو بھی حوصلہ دکھانا چاہئے۔ ہاں ان خاص غیر(ملکی) مہمانوں کے لئے جو عموماً تبشیر کے مہمان کہلاتے ہیں ان کو بھی یہ بتانے کے لئے کہ عمومی طور پر جلسے میں شامل ہونے والے کیا کھاتے ہیں، لنگر کا کھانا بھی ان کے سامنے رکھنا چاہئے اور بعض لوگ شوق سے یہ کھانا کھاتے بھی ہیں۔ بہرحال اصل چیز یہ ہے کہ تکلّف نہ ہو۔ پہلے انتظام نہیں ہوسکتا تھا تو علیحدہ انتظام نہیں کیا جاتا تھا۔ اب ہو سکتا ہے تو اکرام ضیف کا تقاضا ہے کہ غیر(ملکی) مہمانوں کے لئے انتظام کیا جائے۔ ربوہ میں بھی جب جلسے ہوتے تھے تو ایک پرہیزی لنگر بھی ہوتا تھا اور غیرملکیوں کے لئے بھی علیحدہ کھانا پکتا تھا۔ پس یہاں بھی اگر ایسا انتظام ہوتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن عموماً احمدیوں کو عمومی انتظام کے تحت جو کچھ پکا ہو اسے ہی کھانا چاہئے اور اسی طرح عہدیداروں کو بھی عام لنگر کا کھانا کھانا چاہئے۔ جو بھی کارکن ہیں، ڈیوٹی والے ہیں، عہدیدار ہیں سوائے اس کے کہ کسی کو کوئی خاص تکلیف ہو یا کسی وقت وہ کسی خاص مہمان کے ساتھ ڈیوٹی پر ہو تو اس وقت ان کے ساتھ کھانا کھا لیا۔ لیکن عمومی طور پر ہر ایک کو اپنا نمونہ یہی دکھانا چاہئے کہ جو عام کھانا ہے وہی عہدیدار بھی کھائیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کو بھی بڑا پسند فرمایا ہے اور انتظامیہ کے تکلف کا اظہار بالکل نہیں ہونا چاہئے یہ آپ نے پسند فرمایا۔ اور یہ بھی آپ نے پسند فرمایا کہ بغیر تکلف کے خاص مہمانوں کو اگر غیر معمولی طور پر treat کرنا پڑے تو کیا جانا چاہئے۔

پھر ایک دفعہ آپ کے زمانے میں بعض مہمانوں کو صحیح طرح کھانا نہیں ملا اور انتظامیہ کی غلطی کی وجہ سے ان کا خیال نہیں رکھا گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس واقعے کی اطلاع دی کہ بعض مہمانوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ رات مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ لنگر خانے میں رات کو ریاء کیا گیا ہے۔ دکھاوا کیا گیا ہے۔ اس بناء پر یا صحیح طرح خیال نہیں رکھا گیا بعضوں کو کھانا دے دیا جو اپنے تھے اور بعضوں کو نہیں دیا گیا۔ صحیح طرح خدمت نہیں کی گئی۔ اس بناء پر آپ نے لنگر خانے میں کام کرنے والوں کو چھ ماہ کے لئے نکالنے کا بھی ارشاد فرمایا۔ باوجود آپ کی طبیعت کی نرمی کے سزا بھی دی۔ آپ کو مہمانوں کی مہمان نوازی میں ریاء اور کمی برداشت نہیں ہوئی اور آپ نے ان کام کرنے والوں کو سزا دی اور پھر لنگر خانے میں کھانے کا انتظام اپنے سامنے کروایا۔ (تذکرۃ صفحہ689 ایڈیشن چہارم 2004ء) پس شعبہ مہمان نوازی کو بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ کہیں بھی، کسی کو بھی، کسی بھی رنگ میں تکلیف نہ ہو۔

شعبہ مہمان نوازی جلسے کے انتظامات کا ایک بہت اہم شعبہ ہے۔ اس شعبے کے صحیح رنگ میں اور وقت پر کام باقی پروگراموں کو بھی صحیح رنگ میں چلاتے ہیں۔ مہمان نوازی صرف کھانا کھلانا یا لنگر کا انتظام کرنا ہی نہیں ہے۔ اس میں لنگر کا انتظام بھی ہے۔ کھانا کھلانے کا انتظام بھی ہے۔ سٹوریج اور سپلائی کا انتظام بھی ہے۔ اگر سپلائی وغیرہ میں ذرا سا بھی فرق پڑ جائے تو کھانا پکانے کا انتظام بھی درہم برہم ہو جاتا ہے۔ کھانا وقت پر نہیں بنایا جا سکتااور پھر اس وجہ سے جلسے کے پروگرام بھی بعض دفعہ وقت پر شروع نہیں ہوتے۔ پھر مہمان نوازی میں رہائش کا انتظام بھی ہے۔ بستر مہیا کرنا بھی ذمہ داری ہے۔ جو جماعتی قیام گاہوں میں ٹھہرے ہوئے ہیں انہیں صحیح طرح مہیا کیا جائے۔ پھر صفائی کا انتظام بھی ہے۔ اس میں عمومی صفائی بھی ہے اور غسل خانوں کی صفائی بھی ہے۔ پھر پارکنگ کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کا انتظام بھی ہے۔ یہ بھی مہمان نوازی میں آتا ہے۔ پارکنگ میں اگر مشکل ہو اور افراتفری ہو پھر جہاں مہمانوں کو دقت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہاں جلسے کے پروگرام بھی ڈسٹرب ہوتے ہیں۔ پھر بارشوں کی وجہ سے راستوں کی تکلیف دور کرنے کا انتظام ہے یہ بھی مہمان نوازی ہے کہ راستوں کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ پھر بوڑھوں معذوروں کے لئے بگھیوں کا انتظام ہے۔ پھر جو دُور دس پندرہ بیس منٹ کی ڈرائیو پر پارکنگ کی جگہیں لی گئی ہیں وہاں سے جلسہ گاہ تک لانے کے لئے شٹل سروس کا انتظام ہے۔ یہ بھی مہمان نوازی ہے۔ اس کا بھی صحیح انتظام ہونا چاہئے۔

غرضیکہ بہت سے انتظامات ہیں جو مہمان نوازی کے تحت ہی ہیں اور اگر مہمان نوازی کے انتظامات ٹھیک ہوں تو باقی انتظامات تو معمولی ہیں خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ مہمانوں کو طبّی امداد مہیا کرنا یہ بھی مہمان نوازی ہے۔ پس اسّی فیصد مَیں سمجھتا ہوں بلکہ اس سے بھی زیادہ تر جلسے کے کام تو براہ راست مہمان نوازی میں آ جاتے ہیں۔ پس ہر کارکن کو یاد رکھنا چاہئے کہ صرف شعبہ مہمان نوازی کا کام انہی کا نہیں جن کے مہمان نوازی کے بَیج لگے ہوئے ہیں بلکہ تقریباً ہر شعبہ ہی مہمان نوازی کا شعبہ ہے اور مہمان کے لئے سہولت مہیا کرنا اور اس کی عزت اور احترام کرنا اور اسے ہر تکلیف سے بچانا ہر کارکن کا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام کارکنان کو احسن رنگ میں یہ ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جلسہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر لحاظ سے بابرکت ہو۔

آج 14؍اگست بھی ہے جو پاکستان کا یوم آزادی ہے۔ اس لحاظ سے بھی دعا کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو حقیقی آزادی نصیب کرے اور خود غرض لیڈروں اور مفاد پرست مذہبی رہنماؤں کے عملوں سے ملک کو محفوظ رکھے۔ اللہ تعالیٰ عوام الناس کو عقل اور سمجھ بھی عطا کرے کہ وہ ایسے رہنما منتخب کریں جو ایماندار ہوں۔ اپنی امانت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ ان سب کو اس بات کی حقیقت سمجھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے کہ اس ملک کی بقا اور سالمیت کی ضمانت انصاف اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں ہے۔ ظلموں سے بچنے میں اس ملک کی بقا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے میں ہی اس ملک کی بقا ہے۔ کہنے کو تو یہ خدا تعالیٰ کا نام لیتے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ ہم خدا کی خاطر کر رہے ہیں لیکن رب العالمین اور رحمان اور رحیم خدا کے نام پر ہر طرف ظلم کے بازار گرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمت للعالمین ہیں ان کے نام پر ظلم کئے جا رہے ہیں۔ احمدی جنہوں نے ملک کے بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، قربانیاں دی ہیں ان پر ظلم کئے جا رہے ہیں لیکن بہرحال پاکستانی احمدیوں نے جہاں بھی وہ ہوں ملک سے وفا کا اظہار ہی کرنا ہے اور اسی لئے دعا بھی کرنی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کو سلامت رکھے اور ظالموں اور مفادپرستوں سے اس ملک کو نجات دے۔ ملک کی بقاء اور سالمیت کو خطرہ باہر سے زیادہ اندر کے دشمنوں سے ہے۔ خودغرض اور مفاد پرست لیڈروں اور علماء سے ہے۔ اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے ملک کو چلائیں تو کوئی بیرونی طاقت ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ بہرحال پاکستانی احمدیوں کو اپنے ملک کے لئے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستانی احمدیوں کو بھی حقیقی آزادی نصیب فرمائے اور یہ ملک قائم رہے۔

نماز کے بعد میں کچھ جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جن میں سے ایک جنازہ مکرم کمال آفتاب صاحب ابن مکرم رفیق آفتاب صاحب ہڈرز فیلڈ یوکے کا ہے جو 7؍اگست 2015ء کو لیڈز ہسپتال میں لیکومیا کے مرض کی وجہ سے 33 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کو مختلف رنگ میں جماعتی خدمت کی توفیق ملی۔ وفات کے وقت بھی ریجنل قائد خدام الاحمدیہ یارک شائر اور سیکرٹری تربیت جماعت ہڈرز فیلڈ ساؤتھ کے طور پر خدمت کر رہے تھے۔ بیماری کے آخری ایام میں ہسپتال میں اپنے کمرے سے ہی لیکومیا ریسرچ کے لئے پچاس ہزار پاؤنڈ اکٹھے کرنے کی مہم چلا رہے تھے۔ زندگی کے آخری سانس تک بے نفس ہو کر مختلف پراجیکٹس میں انسانیت کی خدمت اور تبلیغ میں مصروف رہے۔ خلافت سے نہایت اخلاص اور وفا کا تعلق تھا۔ بیماری اور کمزوری کے باوجود خدام الاحمدیہ کا جب اجتماع ہوا ہے تو اس موقع پر ہسپتال میں ہی اہتمام کر کے انہوں نے ٹی وی لگوایا اور وہاں سے میرا جو Live ایڈریس تھا اس کو سنا۔

ملکی اخبار جو گارڈیئن (Guardian) ہے اس نے انہیں 2014ء کے Volunteer of the Year کا اعزاز دیا۔ وفات سے چند دن پہلے مجھے ملنے بھی آئے تھے اور باوجود بیماری کی شدت کے بڑے حوصلے سے اور خوش مزاجی سے وقت گزار رہے تھے۔ یہ کوئی نہیں تھا کہ تکلیف میں ہیں حالانکہ اس وقت بھی ان کی تکلیف کافی تھی۔ ان کا ہمیشہ خلافت سے بڑا وفا کا اظہار اور تعلق تھا۔ ان کے بھائی فاروق صاحب لکھتے ہیں کہ آپ حضرت سیٹھ اللہ دتہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑپوتے تھے۔ 1953ء اور 74ء کے حالات میں کمال آفتاب صاحب کے دادا مکرم جمال الدین صاحب کے گھر پر حملہ کی ناکام کوشش کی گئی۔ ان کے دادا جمال الدین صاحب چھ ماہ تک اسیر راہِ مولیٰ بھی رہے۔ کمال صاحب بہت ملنسار، خوش اخلاق، بلندحوصلہ، دوسروں کی مدد کرنے والے ہر دلعزیز انسان تھے۔ احمدیوں کے ساتھ غیر احمدی بھی ان کے معترف تھے اور ان کے بارہ میں کبھی کسی سے تعریف کے علاوہ اور کچھ نہیں سنا گیا۔ بڑوں اور چھوٹوں سب میں یہ یکساں مقبول تھے۔ سب سے دوستی کا تعلق تھا۔ والدین کی خدمت کرنے والے اور بہن بھائیوں کا خیال رکھنے والے۔ نمازوں کا باقاعدہ التزام کرنے والے۔ خدمت خلق کے کاموں میں پیش پیش۔ ہیومینٹی فرسٹ کے پروگرام گفٹ آف سائٹ (gift of sight) کے پروجیکٹ لیڈر تھے۔ ایسٹ افریقہ میں آنکھوں کا کلینک بنانے کے منصوبے پر کام کرتے رہے۔ بڑے فعال داعی الی اللہ تھے۔ تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ ہسپتال میں اپنے علاج کے دوران بھی ڈاکٹروں اور دیکھ بھال کرنے والوں کا جماعت سے تعارف کروایا بلکہ مجھے خود انہوں نے بتایا تھا کہ میں نے اپنے ہاں ٹی وی لگا لیا ہے۔ ایم ٹی اے کو لگایا ہوا ہے اور پروگرام دکھاتا ہوں۔ ان پروگراموں کے حوالے سے پھر تبلیغ کے رستے بھی کھلتے ہیں۔ مجلس انصار سلطان القلم کے بھی متحرک ممبر تھے۔ ٹی وی، ریڈیو اور اخباروں کو سو سے زائد انٹرویوز کے ذریعہ لاکھوں لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔

ایک بھائی ان کے یوسف صاحب ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ جماعت سے کمزور تعلق رکھنے والے خدام و اطفال کو ہمیشہ ذاتی کوششوں اور تعلق کے ذریعہ جماعت کے قریب کرنے کی کوشش کرتے اور ان کے دلوں میں خلافت کے لئے محبت پیدا کرتے۔ بسا اوقات خدام کو لے کر لندن آتے تا کہ مسجد فضل میں نماز پڑھیں اور خلیفۂ وقت کے ساتھ تعلق پیدا ہو۔ خدام کو عمومی طور پر اور عاملہ اور ممبران کو خصوصاً نمازوں کی طرف نہ صرف توجہ دلاتے بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات بھی کرتے بلکہ نماز فجر کے لئے بعض خدام کو گھروں سے لے کر آتے۔

بیماری کے متعلق ڈاکٹر حفیظ صاحب کہتے ہیں کہ جب ان کو بیماری کا پتا لگا تو کمال آفتاب نے مجھے بتایا کہ جو خدا کو منظور ہے ٹھیک ہے۔ مجھے کوئی پریشانی نہیں۔ سو بیماری کی تشخیص کے بعد جو ان کو سب سے زیادہ فکر تھی وہ یہ تھی کہ انہوں نے مجھے کہا کہ نیپال کے زلزلے کے بعد ہیومینٹی فرسٹ کے لئے جو کچھ انٹرویوز تیار کئے جا رہے تھے وہ انٹرویو ضرور آن لائن ہونے چاہئیں تا کہ دنیا کو جماعت کی خدمت انسانیت کا علم ہو۔ یہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میڈیکل نقطہ نظر سے بھی یہ تکلیف دہ صورتحال ہے لیکن ہمیشہ بیماری میں مسکراتے رہے ہسپتال میں بھی قیام کے دوران مجھے کہا کہ ہمیں تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ اگر آپ کو انگریزی زبان آتی تو آپ کس قدر تبلیغ کے سامان کرتے۔

عابد وحید ہمارے پریس کے انچارج ہیں وہ کہتے ہیں کہ کمال صاحب نے دیگر جماعتی خدمات کے علاوہ ہمارے دفتر کے لئے بھی میڈیا میں بہت سے نئے رابطے پیدا کئے۔ بیماری کے باوجود ہسپتال سے فون اور ای میلز کے ذریعہ صحافیوں کو جلسے میں شرکت پر آمادہ کر رہے تھے۔ مرکزی میڈیا ٹیم کے قیام کے بعد اکثر فون کر کے ہمارے ایک احمدی آدم واکر ہیں جو ٹیم کے ممبر ہیں ان کی کوششوں کے متعلق دریافت کرتے اور اگر کبھی دیکھتے کہ کمی ہو رہی ہے تو بڑے جذباتی ہو کر کہتے کہ ہمیں کام کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔ یہ کہتے ہیں کہ جلسے کی ڈیوٹیوں کے دوران نیند پوری نہ ہونے کے باوجود جب بھی وہ دفتر میں آتے تو ہم سب لوگوں سے زیادہ تازہ دم نظر آ رہے ہوتے تھے اور ان کی مثبت سوچ اور اس طبیعت کا سب پر اچھا اثر پڑتا۔ رابطے بنانے میں بے تکلف تھے۔ بلاجھجک بغیر کسی خوف کے رابطے کر لیتے تھے۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ اپنی وفات سے بھی احمدیت کا پیغام میڈیا تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ بی بی سی، آئی ٹی وی اور بلفاسٹ ٹیلیگراف وغیرہ نے ان کی وفات پر آرٹیکل شائع کئے۔ معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پر کمال صاحب کو خراج تحسین پیش کیا۔ جماعت کے کاموں کو سراہا۔ مثلاً آئی ٹی وی کی جرنلسٹ Heather کلارک کہتی ہیں کہ بطور صحافی مجھے الفاظ کی کمی نہیں ہونی چاہئے لیکن کمال صاحب کی وفات پر دلی افسوس ہے کہ اچھے لوگ دنیا سے اتنی جلدی رخصت ہو جاتے ہیں۔ اب ہمیں ان کے نام اور کام کو زندہ رکھنا چاہئے۔

اسی طرح آئی ٹی وی نیوز یارک شائر کی ہیڈ مارگریٹ کہتی ہیں کہ بہت اچھے مہربان انسان تھے۔ ان کو دیکھ کر لگتا تھا کہ انہوں نے خوشی سے بھرپور زندگی گزاری۔ ہم ان کو اپنے ٹی وی پر Tribute دیں گے۔

صدر جماعت ہڈرز فیلڈ کہتے ہیں انتہائی اطاعت گزار تھے۔ جماعت اور خلافت کے ساتھ جنون کی حد تک عشق تھا جس کو دیکھ کر آپ پر رشک آتا تھا۔ نمازوں میں اور خصوصاً فجر کے بے حد پابند تھے۔ خدمت خلق کا بیحد جذبہ تھا، شوق تھا اور کبھی رپورٹ میں دیر بھی ہو جاتی اور میں پوچھتا تو فوری طور پہ معافی مانگتے۔ ان کے چیریٹی ورک کی بھی غیر از جماعت بڑی تعریف کرتے ہیں۔ یہ تو سارے ہی لکھ رہے ہیں کہ تبلیغ کا بڑا شوق تھا اور جب بھی موقع ملتا تبلیغ کرتے۔

ہارٹلے پول سے محمد علی صاحب کہتے ہیں کہ گزشتہ سال دسمبر میں ہمیں وقف عارضی پر آئرلینڈ جانے کی توفیق ملی۔ آپ ریجنل قائد تھے اور میں قائد مجلس تھا لیکن آپ نے امیر قافلہ مجھے مقرر کر دیا اور پورے سفر کے دوران میں نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ کمال صاحب نے خاکسار کی عزت اور احترام اور اطاعت کرنے میں کوئی کمی دکھائی ہو۔ نماز تہجد کا خاص اہتمام کرتے اور جوش اور جذبے سے تبلیغ کرتے۔

آئرلینڈ کے ہمارے مبلغ ابراہیم نونن صاحب ہیں۔ ان سے پوچھتے کہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو کس طرح تبلیغ کرنی چاہئے اور کہتے ہیں دوران سفر ایک خادم جو ہمارے ساتھ تھے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھنے کی طرف توجہ دلائی اور بعد میں امتحان بھی لیا۔ اسی طرح خدام الاحمدیہ کے جو باقی خدمت کرنے والے ہیں وہ سب بھی ان کی تعریف کر رہے ہیں۔ ہڈرز فیلڈ کے ایک سابق صدر ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ میں ان کو بچپن سے جانتا تھا۔ دوسرے بچوں سے مختلف طبیعت تھی۔ نہ لڑتے جھگڑتے تھے اور نہ ہی شوخ مزاج تھے۔ بڑوں کا احترام بچپن سے ہی کرتے تھے۔ جماعتی خدمت کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہو گا کہ آپ حقیقی طور پر اپنے عہد کا پاس کرنے والے تھے۔ بطور داعی الی اللہ کامیاب مبلغ تھے۔ جہاں بھی موقع ملتا تبلیغ شروع کر دیتے۔ اپنے کام آنے والے لوگوں کو کثرت سے جماعتی لٹریچر دیتے اور جماعتی فنکشنوں پر آنے کی دعوت دیتے۔ ان کا بڑا وسیع حلقہ تھا اور ہر جگہ ان کا پیغام پہنچتا۔

ایک خادم لکھتے ہیں کہ دھیمے مزاج کے مالک تھے اور ہر وقت خدمت دین کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھتے تھے اور یہ نہیں کہ آگے آگے آئیں بلکہ پیچھے رہ کر کام کرنے کا انہیں زیادہ لطف آتا تھا۔ کبھی اس نیت سے کام نہیں کرتے تھے کہ کوئی آپ کی تعریف کرے۔ خدا تعالیٰ سے تعلق کے متعلق دوسروں کو نصیحت کرتے رہتے۔ قرآن و حدیث سے گہرا لگاؤ تھا۔ مطالعہ کا بہت شوق تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ ذوق شوق سے کرتے۔ جب بھی کوئی کتاب انگریزی میں ملتی فوراً دوسروں کو اس کے متعلق آگاہ کرتے کہ فلاں کتاب کا ترجمہ اب انگریزی میں میسر ہے اسے پڑھو۔ غرض کہ بیشمار خوبیوں کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بوڑھے والدین کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ ان کی تسکین اور تسلی کے سامان پیدا فرمائے۔ ان کے جو باقی بھائی وغیرہ ہیں، عزیز ہیں، قریبی ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ صبر و حوصلہ دے۔

دوسرا جنازہ مکرم محمدنعیم اعوان صاحب کا ہے جو مشتاق اعوان صاحب جرمنی کے بیٹے تھے۔ 36سال کی عمر میں وہاں جرمنی میں دریائے رائن میں ڈوب کر ان کی وفات ہوئی۔ ساتھ ہی ان کا بارہ سال کا ایک بیٹا تھا وہ بھی ڈوب گیا۔ دونوں باپ بیٹا کی وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ نعیم اعوان صاحب 31؍جولائی کو جرمنی گئے تھے۔ آجکل یہاں رہتے تھے۔ اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ساتھ والدین کو ملنے گئے اور وہیں تفریح کرتے ہوئے رائن کے ریتلے کنارے کے قریب ہلکے پانی میں بچوں کے ساتھ نہا رہے تھے کہ دو بڑی کشتیاں فیری (ferry) وہاں سے گزریں تو اچانک پانی کی اونچی لہریں آئیں اور اونچی لہروں کا جو ریلا تھا اس کی وجہ سے ان کی فیملی کے پانچ افراد اس ریلے کی زد میں آ گئے اور پانی نے اپنے اندر کھینچ لیا۔ لیکن موقع پر موجود ایک جرمن شخص نے تین افراد کو تو کوشش کر کے نکال لیا تاہم جب نعیم صاحب نے اپنے بیٹے کو ڈوبتے ہوئے دیکھا تو اس کی جان بچانے کے لئے آپ نے چھلانگ لگائی یا آگے بڑھے، میرا خیال ہے شاید پانی میں پہلے ہی تھے لیکن دونوں باپ بیٹا پانی کی تیز لہروں میں بہہ گئے۔ اگلے دن ان کے بیٹے کی نعش ملی۔ ان کی نعش تو اس دن رات کو مل گئی تھی۔ لیکن بیٹے کی اگلے دن ملی۔

مرحوم مولوی محمد اسحاق صاحب آف قصور صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑنواسے اور مکرم مبارک علی اعوان شہید لاہور کے بھتیجے تھے۔ جرمنی کی جماعت اُوز (Usingen) میں بطور قائد مجلس کے خدمت کی توفیق ملی۔ بیت الہدیٰ اُوز (Usingen) کی تعمیر کے دوران وقار عمل میں غیر معمولی وقت دیا۔ جنوری 2005ء میں اپنی فیملی سمیت یوکے آ گئے۔ یہاں بھی آپ مجلس خدام الاحمدیہ کے فعال رکن تھے۔ باقاعدگی سے مسجد میں نمازوں کے لئے آنا، سکیورٹی کی ڈیوٹی دینا اور اس کے علاوہ وقار عمل میں بھرپور حصہ لینا۔ ان کو عمرہ کی سعادت بھی 2012ء میں ملی۔ بڑے خوش اخلاق، ملنسار انسان تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں عزیزۃ راضیہ اعوان دس سال اور عزیزۃ نتاشہ اعوان چودہ سال اور والدین اور تین چھوٹے بھائی اور بہن چھوڑے ہیں۔ فاروق آفتاب جو خدام الاحمدیہ کے معتمد ہیں میں نے جو پہلے کمال آفتاب کے جنازے کا بتایا تھا ان کے بھائی ہیں۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ نعیم اعوان صاحب کو میں کئی سالوں سے جانتا تھا۔ بہت خوش اخلاق، نیک اور دوسروں کی مدد کرنے والے انسان تھے۔ کچھ عرصہ پہلے تک انہیں کافی مسائل کا سامنا تھا لیکن انہوں نے کسی سے اس کا ذکر نہیں کیا اور نہ کبھی کوئی مدد لی۔ اس لحاظ سے بھی ایک نمونہ تھے۔ مسجد فضل لندن کے قائد حلقہ جو ہیں وہ کہتے ہیں کہ دوسروں کی مدد بہت آگے بڑھ کر کرتے لیکن خود کسی پر بوجھ بننا پسندنہیں کرتے تھے۔ کسی کو اپنی مشکلات نہیں بتاتے تھے۔ اسی طرح باد ہمبرگ (Bad Homburg) جرمنی کے ایک صدر جماعت ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت میں 3؍اگست سوموار کو جرمن احباب کے ساتھ ایک تبلیغی نشست ہونا تھی۔ کہتے ہیں میں نماز سینٹر میں کام کا جائزہ لینے پہنچا تو وہاں نعیم اعوان صاحب جو اپنے بہن بھائیوں کو ملنے، والدین کو ملنے گئے ہوئے تھے ان کو بھی دیکھا کام کر رہے ہیں۔ مجھے انہیں دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ اِنہوں نے پوچھا کہ آپ یہاں کس طرح آ گئے تو انہوں نے کہا اپنے بھائی کے ساتھ آ گیا ہوں تا کہ میں بھی اس خدمت میں حصہ لے سکوں اور اس تبلیغی نشست میں میرا بھی کچھ حصہ ہو جائے۔

یوکے میں ہر جلسے میں خدمت دین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ ان کے ایک دوست عاصم صاحب لکھتے ہیں جلسے سے تقریباً ایک ماہ قبل چھٹی لے کر پورا مہینہ روزانہ صبح سے لے کر شام تک حدیقۃ المہدی میں وقارعمل میں حصہ لیتے۔ بہت محنت اور ایمانداری سے فرائض انجام دیتے۔ بڑے سخت جان قسم کے تھے اور بڑی محنت سے کام کیا کرتے تھے۔ ہر قسم کے بھاری کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ ان کی بچیوں کا بھی خود کفیل ہو۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 14؍ اگست 2015ء شہ سرخیاں

    اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگلے جمعہ سے جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے انشاء اللہ۔ جلسے کی تیاری کے لئے چند ہفتوں سے رضا کار کارکنان حدیقۃ المہدی جا رہے ہیں اور گزشتہ ہفتے عشرے سے تو خدام الاحمدیہ اور باقی کارکنان بھرپور طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان مغربی ممالک میں جہاں دنیا کمانا اور دنیاوی باتوں میں پڑنا ہر ایک کی عموماً اِلَّا مَاشَائَ اللہ اوّلین ترجیح ہے وہاں احمدی نوجوان عاجزی سے رضاکارانہ خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔ پس ہمارا فرض ہے کہ ہم مسلسل ان کارکنان کے لئے دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جہاں احسن رنگ میں خدمت کی توفیق دیتا رہے وہاں ان کو ہمیشہ ہر شر اور پریشانی اور تکلیف سے محفوظ رکھے۔

    مہمان نوازی سے متعلق اسلامی تعلیم، آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اسوۂ حسنہ اور آپؐ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عمل کے حوالہ سے جلسہ سالانہ کے کارکنان اور میزبانوں کے لئے اہم نصائح۔

    آج 14؍اگست بھی ہے جو پاکستان کا یوم آزادی ہے۔ اس لحاظ سے بھی دعا کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو حقیقی آزادی نصیب کرے۔

    اس ملک کی بقا اور سالمیت کی ضمانت انصاف اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں ہے۔ ظلموں سے بچنے میں اس ملک کی بقا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے میں ہی اس ملک کی بقا ہے۔ ملک کی بقا اور سالمیت کو باہر سے زیادہ اندر کے دشمنوں سے خطرہ ہے، خودغرض اور مفاد پرست لیڈروں اور علماء سے ہے۔ پاکستانی احمدیوں کو اپنے ملک کے لئے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستانی احمدیوں کو بھی حقیقی آزادی نصیب فرمائے اور یہ ملک قائم رہے۔

    مکرم کمال آفتاب صاحب (ہڈرزفیلڈ۔ یوکے) اور مکرم محمدنعیم اعوان صاحب (لندن) اور ان کے بیٹے کی وفات۔ مرحومین کا ذکرِ خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 14؍اگست 2015ء بمطابق 14ظہور 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور