سیرت حضرت مسیح موعودؑ: حضرت مصلح موعودؓ کی بیان فرمودہ بعض روایات

خطبہ جمعہ 18؍ ستمبر 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اِس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں تجدید دین کے لئے بھیجا ہے۔ آپ نے ہمیں دین کی اصل کو، اس کی بنیاد کو، اس کی حقیقی تعلیم کو خوبصورت کر کے دکھایا ہے اور بدعات اور غلط روایات کو دُور کرنے کی نصیحت فرمائی۔ پس اس زمانے میں آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور اُسوۂ حسنہ کا حقیقی نمونہ ہیں اور اس لحاظ سے ہمارے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمونہ بھی مشعل راہ ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ہمارے بزرگ آباء اور صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں روایات پہنچائیں۔ پرانے احمدیوں میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جنہوں نے اپنے بزرگوں سے بعض واقعات اور روایات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں براہ راست سنی ہوں گی۔ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا اور آپ علیہ السلام کی صحبت سے فیضیاب ہوئے۔ تو بہرحال ان روایات کی اہمیت ایک جگہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کی ہے اور اپنے انداز کے مطابق ان باتوں سے جو بظاہر چھوٹی چھوٹی ہیں بہت سی نصیحت کی اور اسلام کی بنیادی تعلیم کی باتیں اخذ کی ہیں وہ اس وقت مَیں پیش کروں گا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت میں بہت سے صحابہ موجود تھے اس لئے آپ نے صحابہ کو ان دنوں میں توجہ بھی دلائی، نصیحت بھی کی یا ان کے رشتہ داروں کو توجہ دلائی کہ یہ روایات جمع کریں کیونکہ یہی چیزیں آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے نصیحت اور حقیقی تعلیم اور بعض مسائل کا حل پیش کرنے والی ہوں گی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی حضرت مصلح موعودؓ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

ایک بات جس کی طرف مَیں نے اس سال جماعت کو خصوصیت سے توجہ دلائی ہے۔ (جب یہ بات آپ فرما رہے ہیں) اور وہ اتنی اہم ہے (اس کی ساری بیک گراؤنڈ یہ ہے کہ ایک زمانے میں جماعت میں فتنہ اٹھا اس فتنے کو آپ بیان فرما رہے ہیں کہ کس طرح ہمیں روکنا چاہئے اور ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہمیں پہنچتی ہے وہ ہمارے لئے مددگار ہوتی ہے ہمیں بہت سارے فتنوں سے بچانے والی ہوتی ہے اور بہت سی برائیوں سے روکنے والی ہوتی ہے۔ تو بہرحال آپ فرماتے ہیں) کہ جتنی بار اس کی اہمیت کی طرف جماعت کو متوجہ کیا جائے کم ہے اور وہ بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات اور آپ کے کلمات صحابہ سے جمع کرائے جائیں۔ فرماتے ہیں کہ ہر شخص جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک چھوٹی سے چھوٹی بات بھی یاد ہو اس کا اس بات کو چھپا کر رکھنا اور دوسرے کو نہ بتانا یہ ایک قومی خیانت ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض باتیں چھوٹی ہوتی ہیں مگر کئی چھوٹی باتیں نتائج کے لحاظ سے بہت اہم ہوتی ہیں۔ آپ فرماتے ہیں اب یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے جو حدیثوں میں آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک دفعہ کدّو پکا۔ (ترکاری جو کدّو کی ہے۔) تو آپ نے بہت شوق سے اس سالن میں سے کدّو کے ٹکڑے نکال نکال کے کھانے شروع کئے یہاں تک کہ شوربے میں کدّو کا کوئی ٹکڑا نہ رہا اور آپؐ نے فرمایا کہ کدّو بڑی اعلیٰ چیز ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات ہے۔ ممکن ہے کئی احمدی بھی سن کر یہ کہہ دیں کہ کدّو کے ذکر کی کیا ضرورت تھی (اور آجکل بعض پڑھے لکھے بھی زیادہ بنتے ہیں ان کو ان باتوں کی طرف توجہ نہیں ہوتی یا وہ سمجھتے ہیں کہ معمولی بات ہے) مگر اس چھوٹی سی بات سے اسلام کو کتنا بڑا فائدہ پہنچا۔

ہم آج اپنے زمانے میں ان خرابیوں کا اندازہ نہیں کر سکتے جو مسلمانوں میں رائج ہوئیں مگر ایک زمانہ اسلام پر ایسا آیا ہے جب ہندوستان میں ہندو تمدن نے مسلمانوں پر اثر ڈالا اور اس اثر کی وجہ سے وہ اس خیال میں مبتلا ہو گئے کہ نیک لوگ وہ ہوتے ہیں جو گندی چیزیں کھائیں۔ (جو اچھی چیز نہ کھائیں، جو اعلیٰ قسم کی غذا نہ کھائیں، نیکی کا معیار یہ ہے۔ کیونکہ یہی فقیروں اور جوگیوں کا شیوہ ہے۔ ) اور جب بھی وہ کسی کو عمدہ کھانا کھاتے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ بزرگ کس طرح کہلا سکتا ہے۔ (یعنی کہ تصور ہی نہیں کہ کوئی بزرگ کہلائے اور پھر اچھا کھانا بھی کھا سکے۔)

آپ ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ مسجد اقصیٰ میں درس دے کر واپس اپنے گھر تشریف لے جا رہے تھے کہ جب آپ وہاں پہنچے (اُس زمانے میں جو اُس وقت کا قادیان ہے) جہاں نظارتوں کے دفاتر ہوتے تھے تو کہتے ہیں وہاں حضرت خلیفہ اول کو وہاں کے رہنے والے ایک ڈپٹی صاحب ملے جو ریٹائرڈ تھے اور ہندو تھے۔ انہوں نے کسی سے سن لیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پلاؤ کھاتے ہیں اور بادام روغن استعمال کرتے ہیں۔ یعنی مستقل نہیں جب بھی مل جائے، میسّر ہو، جب پکا ہو تو کھاتے ہیں اور بادام روغن استعمال کرتے ہیں۔ وہ ہندو اس وقت اپنے مکان کے باہر بیٹھا تھا۔ حضرت خلیفہ اول کو دیکھ کر کہنے لگا کہ مولوی صاحب! ایک بات پوچھنی ہے۔ مولوی صاحب نے(حضرت خلیفہ اول نے) فرمایا کہ فرماؤ کیا ہے؟ وہ کہنے لگا جی بادام روغن اور پلاؤ کھانا جائز ہے؟ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ ہمارے مذہب میں یہ چیزیں کھانی جائز ہیں۔ (ہمیں تو کوئی روک نہیں۔) وہ پنجابی میں کہنے لگا کہ میرا مطلب یہ ہے کہ یہ فقراں نوں بھی کھانی جائز اے۔ یعنی فقرے جو ہیں، فقیر لوگ جو ہیں، اللہ کی طرف لَو لگانے والے لوگ ہیں ان کے لئے بھی کھانی جائز ہے؟ جو بزرگ ہوتے ہیں کیا ان کے لئے بھی یا جن کو بزرگ کہا جاتا ہے ان کے لئے بھی کھانی جائز ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہمارے مذہب میں تو فقیروں کے لئے ان سب کے لئے جائز ہے جو بھی بزرگ کہلانے والے ہیں۔ کہنے لگا اچھا جی۔ اور یہ کہہ کر خاموش ہو گیا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں دیکھو اس شخص کو بڑا اعتراض یہی سوجھا کہ حضرت مرزا صاحب مسیح اور مہدی کس طرح ہو سکتے ہیں جب وہ پلاؤ کھاتے ہیں اور بادام روغن استعمال کرتے ہیں۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ اگر صحابہ کا بھی ویسا ہی علمی مذاق ہوتا جیسے آجکل احمدیوں کا ہے اور وہ کدّو کا ذکر حدیثوں میں نہ کرتے تو کتنی اہم بات ہاتھ سے جاتی رہتی۔

حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جمعہ کے دن اچھا سا جُبّہ پہن کر مسجد میں آئے۔ اب اگر کوئی شخص ایسا پیدا ہو جو یہ کہے کہ اچھے کپڑے نہ پہننا فقروں کی علامت ہے، (بزرگوں کی علامت ہے، نیکوں کی علامت ہے) تو ہم اسے اس حدیث کا حوالہ دے کر بتا سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نہایت تعہّد سے صفائی کرتے اور اعلیٰ اور عمدہ لباس زیب تن فرماتے تھے بلکہ آپ صفائی کا اتنا تعہّد رکھتے، (اتنی پابندی فرماتے) کہ بعض صوفیاء نے جیسے شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی گزرے ہیں یہ طریق اختیار کیا ہؤا تھا کہ وہ ہر روز نیا جوڑا کپڑوں کا پہنتے تھے خواہ وہ دُھلا ہوا ہوتا اور خواہ بالکل نیا ہوتا۔

اب آپ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا یہ واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی طبیعت میں بہت سادگی تھی، (بہت ساری باتوں کا ان کو خیال نہیں رہتا تھا) اور کام کی کثرت بھی رہتی تھی۔ اس لئے بعض دفعہ جمعہ کے دن آپ کپڑے بدلنا اور غسل کرنا بھول جاتے تھے اور انہی کپڑوں میں جو آپ نے پہنے ہوئے ہوتے تھے جمعہ پڑھنے چلے جاتے تھے۔ (اب یہ سادگی تھی۔ یہ کوئی اظہار نہیں تھا کہ ضرور فقیروں کا لباس ہونا چاہئے یا بزرگ کہلانے کے لئے ضروری ہے کہ لباس نہ بدلا جائے بلکہ کام کی زیادتی کی وجہ سے خیال نہیں رہتا تھا تو حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ) میں نے جب آپ سے بخاری پڑھنی شروع کی تو ایک دن جبکہ میں بخاری پڑھنے کے لئے آپ کی طرف جا رہا تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھ لیا اور فرمایا کہاں جاتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ مولوی صاحب سے بخاری پڑھنے جا رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ ایک سوال میری طرف سے بھی مولوی صاحب سے کر دینا اور پوچھنا کہ کہیں بخاری میں یہ بھی آیا ہے کہ جمعہ کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتے اور نئے کپڑے پہنتے تھے۔ لیکن اب ہمارے زمانے میں صوفیت کے یہ معنی کر لئے گئے ہیں کہ انسان پراگندہ رہے۔ (حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ) اس بات کا اگر وزن بنایا جائے تو یوں بنے گا کہ جتنا گندہ اتنا ہی خدا کا بندہ۔ حالانکہ انسان جتنا پراگندہ ہو اتنا ہی خدا تعالیٰ سے دُور ہوتا ہے۔ اسی لئے ہماری شریعت نے بہت سے مواقع پر غسل واجب کیا ہے اور خوشبو لگانے کی ہدایت کی ہے اور بدبو دار چیزیں کھا کر مجالس میں آنے کی ممانعت کی ہے۔ (مسجد میں آنے کی ممانعت ہے۔) غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی سے دنیا فائدہ اٹھاتی چلی آئی اور اٹھاتی چلی جائے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات سے بھی دنیا فائدہ اٹھائے گی اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو جمع کر دیں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک نوجوان نے مجھے بتایا کہ مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صحابی ہوں مگر مجھے سوائے اس کے اور کوئی بات یادنہیں کہ ایک دن جبکہ میں چھوٹا سا تھا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ لیا اور آپ سے مصافحہ کیا اور تھوڑی دیر تک مَیں آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے برابر کھڑا رہا۔ کچھ دیر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہاتھ چھڑا کر کسی اور کام میں مشغول ہو گئے۔ اب بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات ہے مگر بعد میں انہی چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے بڑے اہم نتائج اخذ کئے جائیں گے۔ مثلاً یہی واقعہ لے لو۔ اس سے ایک بات یہ ثابت ہو گی کہ چھوٹے بچوں کو بھی بزرگوں کی مجالس میں لانا چاہئے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں لوگ اپنے بچوں کو بھی آپ کی مجالس میں لاتے تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ آئندہ کسی زمانے میں ایسے لوگ بھی پیدا ہو جائیں جو کہیں کہ بچوں کو بزرگوں کی مجالس میں لانے کا کیا فائدہ ہے۔ ان مجالس میں صرف بڑوں کو شامل ہونا چاہئے۔ کیونکہ جب فلسفہ آتا ہے تو ایسی بہت سی باتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور یہ کہنا شروع کر دیا جاتا ہے کہ بچوں نے کیا کرنا ہے۔ پس جب بھی ایسا خیال پیدا ہو گا یہ روایت ان کے خیال کو باطل کر دے گی۔ اور پھر اس کی مزید تائید اس طرح ہو جائے گی کہ حدیثوں میں لکھا ہؤا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں بھی صحابہ اپنے بچوں کو لاتے تھے۔ اسی طرح اس روایت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جب کوئی کام ہو تو اپنا ہاتھ چھڑا کر کام میں مشغول ہو جانا چاہئے کیونکہ اس میں یہ ذکر ہے کہ جب اس بچے نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور تھوڑی دیر تک پکڑے رکھا تو آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ کر الگ کر لیا۔ آج یہ بات معمولی دکھائی دیتی ہے لیکن ممکن ہے کسی زمانے میں لوگ سمجھنے لگ جائیں کہ بزرگ وہ ہوتا ہے جس کا ہاتھ اگر کوئی پکڑے تو پھر وہ چھڑائے نہیں بلکہ جب تک دوسرا اپنے ہاتھ میں اس کا ہاتھ لئے رکھے وہ خاموش کھڑا رہے۔ ایسے زمانے میں یہ روایت لوگوں کے خیال کی تردید کر سکتی ہے اور بتا سکتی ہے کہ یہ لغو کام ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی کام کرنا ہو تو اگر کسی نے پکڑا ہوا ہے چاہے وہ بچہ ہی ہو تو محبت سے دوسرے کا ہاتھ الگ کر دینا چاہئے۔ اس قسم کے کئی مسائل ہیں جو ان روایات سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ آج ہم ان باتوں کی اہمیت نہیں سمجھتے (یہ اس زمانے کی بات ہے جب صحابہ زندہ تھے اس وقت آپ ان کو فرما رہے ہیں ) مگر جب احمدی فقہ، احمدی تصوّف اور احمدی فلسفہ بنے گا تو اس وقت یہ معمولی نظر آنے والی باتیں اہم حوالے قرار پائیں گی اور آج بھی ان کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ اور بڑے بڑے فلسفی جب ان واقعات کو پڑھیں گے تو کود پڑیں گے (یعنی حیرانی اور خوشی سے اچھل پڑیں گے) اور کہیں گے کہ خدا اس روایت کو بیان کرنے والے کو جزائے خیر دے کہ اس نے ہماری ایک پیچیدہ گتھی سلجھا دی۔ (جب ایسے مسائل سامنے آئیں گے، ایسے واقعات سامنے آئیں گے جن سے مسائل حل ہوتے ہوں تو وہ فلسفی جن کو دین سے تعلق ہے، وہ بجائے اِدھر اُدھر دیکھنے کے اس روایت بیان کرنے والے کو دعا دیں گے۔ پھر آپ فرماتے ہیں۔ ) یہ ایسا ہی واقعہ ہے جیسے اب ہم حدیثوں میں پڑھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ سجدے میں گئے تو حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اس وقت چھوٹے بچے تھے آپ کی گردن پر لاتیں لٹکا کر بیٹھ گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک سر نہ اٹھایا جب تک کہ وہ خود بخود الگ نہ ہو گئے۔ اب اگر کوئی اس قسم کی حرکت کرے تو ممکن ہے بعض لوگ اسے بے دین قرار دے دیں اور کہیں کہ اسے خدا کی عبادت کا خیال نہیں، اپنے بچے کے احساسات کا خیال ہے۔ مگر ایسا شخص جب بھی یہ واقعہ پڑھے گا اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کا خیال غلط ہے اور وہ چُپ کر جائے گا (کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال سامنے ہے۔ ) گو ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو پھر بھی خاموش نہ رہ سکیں۔ چنانچہ ایک پٹھان کا قصہ ہے۔ کہتے ہیں کہ اس نے قدوری میں یہ پڑھا (یہ واقعات کی ایک کتاب ہے) کہ حرکت صغیرہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے (یہ جو اس قسم کی حرکتیں ہوتی ہیں۔ کوئی چھوٹی حرکت بھی ہو تو نماز ٹوٹ جاتی ہے) اس کے بعد وہ حدیث پڑھنے لگا۔ (یہ واقعہ پڑھنے کے بعد پھر اس نے حدیث پڑھی اور اس میں یہ حدیث آ گئی) کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ جب نماز پڑھی تو اپنے ایک بچے کو اٹھا لیا۔ جب رکوع اور سجدہ میں جاتے تو اسے اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو پھر اٹھا لیتے۔ وہ یہ حدیث پڑھتے ہی کہنے لگا۔ اس طرح تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ٹوٹ گئی۔ کیونکہ قدوری میں لکھا ہے کہ حرکت صغیرہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ گویا ان کے نزدیک شریعت بنانے والا کنز (مراد کنزالعمال) یا قدوری کا مصنف تھا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں تھے۔ تو ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں کہ باوجود واضح مسئلے کے اسے ماننے سے انکار کر دیں مگر ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ پس اس بات کی ہرگز پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ (نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں) کہ تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جس بات کا علم ہے وہ چھوٹی سی ہے بلکہ خواہ کس قدر چھوٹی بات ہو بتا دینی چاہئے۔ خواہ اتنی ہی بات ہو کہ میں نے دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام چلتے چلتے گھاس پر بیٹھ گئے کیونکہ ان باتوں سے بھی بعد میں اہم نتائج اخذ کئے جائیں گے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ بعض دوستوں سمیت باغ میں گئے اور آپ نے فرمایا آؤ بے دانہ کھائیں (جو شہتوت کی ایک قسم ہے) چنانچہ بعض دوستوں نے چادر بچھائی اور آپ نے درخت جھڑوائے اور پھر سب ایک جگہ بیٹھ گئے اور انہوں نے بے دانہ کھایا۔ اب کئی لوگ بعد میں ایسے آئیں گے جو کہیں گے کہ نیکی اور تصوّف یہی ہے کہ طیّب چیزیں نہ کھائی جائیں۔ ایسے آدمیوں کو ہم بتا سکتے ہیں کہ تمہاری یہ بات بالکل غلط ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو بے دانہ جھڑوا کر کھایا تھا۔ یا بعد میں جب بڑے بڑے متکبر حاکم آئیں گے اور وہ دوسروں کے ساتھ اکٹھے بیٹھ کر کچھ کھانے میں ہتک محسوس کریں گے تو ان کے سامنے ہم یہ پیش کر سکیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو بے تکلّفی کے ساتھ اپنے دوستوں سے مل کر کھایا پیا کرتے تھے۔ تم کون ہو جو اس میں اپنی ہتک محسوس کرتے ہو۔ تو بعض باتیں گو چھوٹی ہوتی ہیں مگر ان سے آئندہ زمانوں میں بڑے اہم مذہبی، سیاسی اور تمدّنی مسائل حل ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ پس جن دوستوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شکل دیکھنے یا آپ کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا ہو انہیں چاہئے کہ وہ ہر بات خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی لکھ کر (خوب) محفوظ کر دیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص ایسا ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لباس کی طرز یاد ہے تو وہ بھی لکھ کر بھیج دے۔ (ماخوذ از مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر، انوار العلوم جلد 14 صفحہ 552 تا 556)

آپ نے اس زمانے میں فرمایا اور اس کے بعد پھر صحابہ نے اپنی روایات جمع بھی کرنی شروع کیں، لکھوانی شروع کیں اور صحابہ کی روایات، واقعات کے بہت سارے رجسٹر بن چکے ہیں۔ ان کو ایک دفعہ مَیں بیان بھی کر چکا ہوں۔ پہلے تو یہ ہاتھ سے لکھے گئے تھے اب نئے سرے سے کمپوز کئے جا رہے ہیں تا کہ اگر کتابی صورت میں شائع کرنے ہوں تو شائع بھی ہو جائیں۔ اور بہت سارے ایسے ہیں کہ اگر تضادنہیں تو دوسرے حوالوں سے بعض دفعہ پوری طرح ملتے نہیں۔ یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض اور روایات ان کی روایات کی نسبت زیادہ واضح ہیں تو ان کو نئے کمپوز کرتے وقت چھوڑا بھی گیا ہے۔ لیکن چھوٹی چھوٹی باتیں بہت ساری سامنے آ جاتی ہیں۔ بعض کمپوز کرنے والے ہمارے علماء بھی ایسے ہیں جو بعض باتوں کی سفارش کر کے بھجوا دیتے ہیں کہ ان کو رکھنے کی ضرورت نہیں، اس سے تو یہ اثر پڑ سکتا ہے اور وہ اثر پڑ سکتا ہے۔ جب مَیں خود ان کو پڑھتا ہوں تو کئی روایات میں نے دیکھی ہیں کہ ان علماء کی بلا وجہ کی احتیاط ہے۔ ان روایات کو آنا چاہئے۔ بہرحال یہ روایات جمع ہو رہی ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے سامنے کسی وقت میں پیش بھی ہو جائیں گی۔

حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ان روایات سے ایک فائدہ یہ ہو گا کہ اگر آئندہ کسی زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جو کہیں (مثلاً ایک اور چھوٹی سی بات ہے) کہ ننگے سر رہنا چاہئے تو ان کے خیالات کا ازالہ ہوسکے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں موجود ہیں۔ (اب ننگے سر رہنا بھی ایک چھوٹی سی بات ہے۔ عام لوگ بعض دفعہ نمازیں وغیرہ ننگے سر پڑھ لیتے ہیں تو ان روایات سے اس طرف بھی توجہ ہوجاتی ہے کیونکہ بہت سارے واقعات ایسے بھی ہیں جس میں مسجد کے آداب، نماز کے آداب، بڑی مجالس میں بیٹھنے کے آداب کا ذکر ہوتا ہے۔ تو آپ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں موجود ہیں ) اور آپ ہی شارع نبی ہیں۔ (یعنی شریعت جاری کرنے والے آپؐ ہی ہیں۔ ) مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ قریب کے مامور کی باتیں شارع نبی کی باتوں کی مصدّق سمجھی جاتی ہیں۔ (ان کی تصدیق کرنے والی ہوتی ہیں۔ ) آجکل یہ کہا جاتا ہے کہ جن فقہ کی باتوں پر امام ابوحنیفہ نے عمل کیا ہے وہ زیادہ صحیح ہیں۔ اسی طرح آئندہ زمانے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جن حدیثوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عمل سے سچا قرار دیا ہے انہی کو لوگ سچی حدیثیں سمجھیں گے اور جن حدیثوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضعی قرار دیا ہے (یعنی خود بنائی گئی ہیں یا ان کی صحت نہیں ہے) ان حدیثوں کو لوگ بھی جھوٹا سمجھیں گے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ باتیں بھی ایسی ہی اہم ہیں جیسی حدیثیں کیونکہ یہ باتیں حدیثوں کا صدق یا کذب معلوم کرنے کا ایک معیار ہوں گی۔

پھر آپ نے فرمایا کہ ان روایات میں بیشک بعض ایسی باتیں بھی ہو سکتی ہیں جنہیں اس زمانے میں (یعنی ان کا جو دور تھا حضرت مصلح موعود کے وقت میں یا اس وقت) شائع کرنا مناسب نہ ہو مگر انہیں بہرحال محفوظ کر لیا جائے یا بعض ایسی روایات ہیں جنہیں آج بھی شاید پرنٹ نہ کیا جائے، شائع نہ کیا جائے لیکن جو روایات صحابہ سے ہمیں مل رہی ہیں محفوظ بہرحال ہونی چاہئیں اور بعد میں جب مناسب موقع ہو انہیں شائع کر دیا جائے۔ مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا تھا کہ ’’سلطنت برطانیہ تا ہشت سال۔ بعد ازاں ایّام ضعف و اختلال‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ مگر یہ الہام اس وقت شائع نہ کیا گیا بلکہ ایک عرصے کے بعد شائع کیا گیا۔ اب بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ اس میں ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد کا ذکر ہے۔ اس کے بعض اور پہلو بھی لئے جا سکتے ہیں۔ دنیا میں سلطنت برطانیہ جس طرح پھیلی ہوئی تھی وہ پھر آہستہ آہستہ کمزور بھی ہوتی چلی گئی اور یہ نہیں کہ ایک دم ہو گئی بلکہ اس کمزوری کو ایک وقت اور عرصہ لگتا ہے تو اس کے آثار شروع ہو گئے۔ بہرحال جو بھی تھا یہ ایک الہام تھا اس کی مختلف توجیہیں کی جا سکتی ہیں۔ تو آپ فرماتے ہیں کہ ایسے واقعات کو ریکارڈ میں لے آیا جائے مگر شائع اس وقت کیا جائے جب خطرے کا وقت گزر جائے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے کہ اس کام کو مکمل کر لیا جائے۔ اور اللہ کے فضل سے جیسا کہ میں نے کہا ان روایات کو صحیح رنگ میں مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اسی ضمن میں آپ فرماتے ہیں کہ امام بخاری کی آج دنیا میں کتنی بڑی عزت ہے مگر یہ عزت اس لئے ہے کہ انہوں نے دوسروں سے روایات جمع کی ہیں۔ (اس لئے جو صحابہ کی اولاد ہے اگر ان کے پاس روایات ہوں تو انہیں ان کو بھی آگے دینا چاہئے۔ اگر ان کی صحت باقی روایات سے ثابت ہو گئی تو ان کو بھی اس میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض روایات رجسٹر میں مکمل نہ آئی ہوں اور صحابہ کے خاندانوں میں یہ روایات چل رہی ہوں تو وہ لکھ کے بھجوا سکتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے یہ بھی فرمایا اور یہ صحیح بھی ہے، حقیقت ہے کہ یہ روایات بیان کرنے والوں کے لئے ایک زمانے میں دعائیں کی جائیں گی کہ اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے کیونکہ انہوں نے بہت سارے مسائل حل کر دئیے۔) آپ فرماتے ہیں کہ مَیں نے دیکھا ہے کہ قدرتی طور پر ایسے مواقع پر از خود دعا کے لئے جوش پیدا ہو جاتا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ میں کل ہی کلید قرآن سے ایک حوالہ نکالنے لگا۔ (آیت نکالنی تھی) تو مجھے خیال پیدا ہوا کہ آیت دیر سے ملے گی۔ مگر اس کلید قرآن سے مجھے فوراً آیت مل گئی۔ کہتے ہیں جس پر میں نے دیکھا کہ لاشعوری طور پر میں دو تین منٹ نہایت خلوص سے اس کے مرتب کرنے والے کے لئے دعا کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ اس کے مدارج بلند کرے کہ اس کی محنت کی وجہ سے آج مجھے یہ آیت اتنی جلدی مل گئی ہے۔ (ماخوذ از مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر، انوار العلوم جلد 14 صفحہ 556 تا 558)

اب یہ چیزیں بڑی آسان ہو گئی ہیں۔ اب تو لٹریچر کمپیوٹر میں مل جاتا ہے۔ آجکل تو اور بھی زیادہ آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ تو جنہوں نے ان پروگراموں کو بنا کر کمپیوٹر میں ڈالا ہے ان کے لئے بھی دعائیں ہوتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تو ہر بات ہی علمی پہلو لئے ہوئے ہے جو ہمارے لئے ضروری ہے اور عملی تربیت کے لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس میں تربیت کے بہت سارے پہلو نکل آتے ہیں۔ قرآن کریم کی آیات کی وضاحت ہو جاتی ہے، احادیث کی وضاحت ہو جاتی ہے اور اس سے ہمیں پھر فائدہ پہنچتا ہے۔ جو بھی احمدی اسے سنے گا، کسی کے ذریعہ سنے گا وہ فائدہ اٹھائے گا اور پھر یقینا ان کو جمع کرنے والوں کے لئے دعائیں بھی کرے گا۔ پس یہ ایک بڑی اہم چیز ہے لیکن بعض دفعہ انسان اس پر پوری توجہ نہیں دیتا۔

مجھے یاد ہے جب میں نے صحابہ کا ذکر شروع کیا تھا تو کچھ لوگوں نے جو صحابہ کی اولاد میں سے ہیں خاندانی طور پہ ان کے خاندانوں میں جو روایات چل رہی ہیں وہ بھجوائی تھیں۔ ان کو چاہئے کہ یہ روایات باقاعدہ لکھ کر دفتر ایڈیشنل وکالت تصنیف میں بھجوا دیں۔ پھر اگر انہوں نے بھیجنی ہوں گی تو روایات کی جو متعلقہ کمیٹی بنی ہوئی ہے وہ ان کو بھجوا دیں گے۔

ایک اور واقعہ میں اس وقت بیان کرتا ہوں جو آج بھی بعض سوال اٹھانے والوں کا جواب ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابتدا سے ہی اسلام کی ترقی کی ایک تڑپ تھی اور چاہتے تھے کہ مسلمان اپنی عملی حالت درست کریں اور عملی حالت درست کرنے کے لئے سب سے ضروری چیز جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دینا ہے، نمازیں پڑھنا ہے۔ اس لئے آپ نے قادیان کے رہنے والے جو مسلمان تھے ان کے لئے ایک انتظام فرمایا کہ وہ مسجد میں آ کر نماز پڑھا کریں۔ اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ غیراحمدیوں کو جواب دیتے ہوئے جو یہ کہا کرتے تھے، اُس وقت بھی الزام لگاتے تھے اور آج بھی الزام لگاتے ہیں کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں۔ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نئی شریعت لے آئے تو ان کو حضرت مصلح موعودؓ جواب دے رہے ہیں کہ ’’حضرت مرزا صاحب یعنی مسیح موعود علیہ السلام نے سلسلہ احمدیہ کے قیام سے پہلے یہاں کے لوگوں کی یہ حالت دیکھ کر کہ وہ نماز کی طرف توجہ نہیں کرتے خود آدمی بھیج بھیج کر ان کو مسجد میں بلوانا شروع کیا۔ (اب مسلمانوں میں اعتراض کرنے والے تو ہیں لیکن آج بھی اور ہمیشہ سے یہ اکثریت کی حالت ہے کہ نماز کی طرف توجہ کم ہے تو آدمی بھیج کر لوگوں کو بلوانا شروع کیا۔) تو لوگوں نے یہ عذر کرنا شروع کر دیا (کیونکہ زیادہ تر زمیندار پیشہ تھے، غریب لوگ تھے) کہ نمازیں پڑھنا امراء کا کام ہے۔ (امیروں کا کام ہے، ہمارا نہیں۔) ہم غریب لوگ کمائیں یا نمازیں پڑھیں۔ (مزدوری کریں یا پانچ وقت کی نمازیں پڑھتے رہیں گے۔) کہتے ہیں کہ اگر نہ کریں گے تو بھوکے رہیں گے۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ انتظام کیا کہ ٹھیک ہے تم نماز پڑھنے آیا کرو ایک وقت کا کھانا تمہیں مل جایا کرے گا۔ چنانچہ اس اعلان کے بعد چند دن کھانے کی خاطر پچیس تیس آدمی مسجد میں نماز کے لئے آ جایا کرتے تھے مگر آخر میں سست ہو گئے اور صرف مغرب کے وقت جس وقت کھانا تقسیم ہوتا تھا، اس وقت آ جاتے تھے۔ آخر پھر یہ سلسلہ بند کرنا پڑا۔

آپ فرماتے ہیں کہ اب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ شوق تھا۔ کس لئے؟ کہ تا کہ اسلام کی حقیقی تصویر نظر آئے اور آپ کے اس شوق کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ نے آپ کی مراد پوری کر دی اور اِس وقت (جب آپ یہ ذکر کر رہے ہیں فرماتے ہیں کہ) قادیان میں اب چار مسجدیں ہیں اور دو تو بہت عالیشان مساجد ہیں اور پانچوں وقت یہاں نماز ہوتی ہے اور نماز سے پُر رہتی ہیں۔‘‘ (ماخوذ از قادیان کے غیر از جماعت احباب کے نام پیغام، انوار العلوم جلد 4 صفحہ76)

پس اس بات کو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تڑپ تھی کہ اپنے دعویٰ سے پہلے بھی اور بعد میں بھی بار بار اس طرف توجہ دلائی کہ نمازوں کی طرف آؤ۔ باجماعت نمازیں پڑھو۔ مسجدیں آباد کرو۔ مسجدیں تو اب ہماری اللہ کے فضل سے دنیا میں ہر جگہ بن رہی ہیں لیکن ان کی آبادی کی طرف جس طرح توجہ ہونی چاہئے وہ نہیں ہے۔ بعض جگہ سے شکایات آتی ہیں۔ بلکہ ربوہ میں، قادیان میں، پاکستان کی مختلف مساجد میں وہاں کے رہنے والے جو احمدی ہیں ان کو چاہئے کہ اپنی مساجد کو آباد کریں۔ اسی طرح دنیا کے دوسرے ممالک میں جو احمدی ہیں اپنی مساجد کو آباد کرنے کی کوشش کریں۔ دوسرے اس اعتراض کا بھی جواب یہاں مل جاتا ہے، بعض لوگ کہہ دیتے ہیں، مجھے بھی لکھتے ہیں کہ مساجد میں نوجوانوں کو لانے کے لئے وہاں انہوں نے کھیلوں کا انتظام کر دیا ہے کہ لڑکے شام کو آئیں اور کھیلیں اور گویا کہ کھیل کا لالچ دے کر نماز پڑھائی جاتی ہے۔ تو یہ تو کوئی ایسی بات نہیں۔ اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ بعض فنکشنز پر کھانے کے انتظامات ہوتے ہیں تو لوگ اس لئے فنکشنز پہ آتے ہیں یا نمازیں پڑھنے کے لئے آتے ہیں کہ کھانا کھاتے ہیں۔ یہ تو ایک بدظنی ہے جو بعض لوگ کرتے ہیں۔ لیکن بہرحال مساجد کے ساتھ جہاں ہال بنائے گئے یا بعض مربیان، مبلغین جو خودنوجوان ہیں اور کھیلنے والے ہیں انہوں نے گراؤنڈز میں کھیلنا شروع کیا، نوجوانوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا۔ تو اس سے ایک فائدہ بہرحال ہو رہا ہے کہ اس وقت سے مساجد کم از کم ایک دو نمازوں کے لئے مساجد آباد ہوتی ہیں۔ اور اس سے نوجوانوں کی توجہ بھی پیدا ہوتی ہے اس لئے یہ کہنا کہ یہ کوئی جرم ہے کہ مساجد کے ساتھ کھیلوں کے ہال کیوں بنا لئے گئے یا مساجد میں لانے کے لئے اور بعض فنکشنوں پہ لانے کے لئے کھانے کے انتظام کیوں کئے گئے یہ غلط اعتراض ہے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عمل سے ثابت ہے کہ اس طرح ہو سکتا ہے اور ہونے میں کوئی حرج نہیں۔

اب نمازوں کے بعد میں دو جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو ایک الحاج یعقوب باؤبنگ صاحب آف غانا کا ہے جو 30؍اگست 2015ء کو انتقال کر گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ایک اندازے کے مطابق ان کی عمر سو سال سے زیادہ تھی۔ ان کا تعلق گھانا کے وسطی ریجن سے تھا اور آپ کے دادا جو تھے یہ عیسائی تھے لیکن انہوں نے دوسری شادی کر لی۔ جب دوسری شادی کر لی تو پرسبیٹیریئن چرچ (Presbyterian Church) نے ان کو چرچ سے نکال دیا۔ اس بات پہ پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور موحّد بن کے اللہ تعالیٰ کی عبادت شروع کردی۔ بعد میں یہ احمدی بھی ہو گئے۔ پھر الحاج یعقوب صاحب کے دادا نے، ان کا نام ابراہیم اودوپو تھا، حج پر جانے کے لئے پیسے جمع کئے۔ اس زمانے میں جب پیسے جمع کئے تو یہ احمدی تھے۔ جب وہ سالٹ پانڈ (Saltpond) پہنچے تو وہاں مشنری انچارج نے انہیں تحریک کی کہ آجکل ہیڈ کوارٹر کی تعمیر ہو رہی ہے اس کے لئے ہم چندہ جمع کر رہے ہیں تو انہوں نے وہ رقم جو جمع کی تھی وہ مسجد کی تعمیر اور ہیڈ کوارٹر کی تعمیر کے لئے دے دی۔ اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنی زندگی دی کہ لمبے عرصے کے بعد پھر انہوں نے اپنے پوتے کو اپنے خرچ پر حج کروایا۔ الحاج یعقوب صاحب بھی بہت مخلص اور محنتی اور قربانی کی روح رکھنے والے تھے۔ جب مولوی عبدالوہاب آدم صاحب گھانا کے امیر منتخب ہوئے ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے ان کو وہاں بھجوایا تو آپ نے گھانا مشن کی تبلیغ کو تیز کرنے کی ہدایت بھی فرمائی تھی۔ الحاج یعقوب صاحب نے اس وقت داعیان الی اللہ کے لئے ایک گاڑی پیش کی جس کے اوپر لکھا ہوا ہوتا تھا۔ Ahmadiyya Muslim Preacher Association۔ اور پھر انہوں نے اس کے ذریعہ سے بہت سارے تبلیغی پروگرام کئے۔ پھر ان کی یہ بھی خوبی تھی کہ جہاں ایک جماعت بنتی، نومبایعین جمع ہوجاتے تو آپ وہاں اپنے خرچ پر مسجد بنواتے۔ اور واقفین اور مبلغین کی بہبود کا بڑا خیال رکھنے والے تھے۔ آپ کے دو بیٹے بھی وقف زندگی ہیں۔ ایک مرکزی مبلغ ہیں ابراہیم بن یعقوب صاحب جو ٹرینیڈاڈ میں ہمارے مشنری انچارج اور امیر ہیں اور دوسرے وہاں کے لوکل مشنری ہیں نورالدین باؤبنگ صاحب جو اس وقت شمالی علاقے میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ الحاج باؤبنگ صاحب ربوہ بھی گئے تھے۔ موصی بھی تھے۔ اور اللہ کے فضل سے تمام جائداد اور آمد کا حساب ان کا صاف تھا۔ جب میں گھانا میں تھا اس وقت مَیں نے دیکھا ہے بڑے پرجوش داعی الی اللہ تھے اور ہر وقت تیار رہتے تھے اور خوش مزاجی بھی ان میں تھی اور اس کے ساتھ ہی عاجزی بھی بے انتہا تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولادوں کو بھی اور ان کی نسلوں کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دوسرا جنازہ مکرم مولانا فضل الٰہی بشیر صاحب کا ہوگا۔ یہ ہمارے دیرینہ خادم سلسلہ ہیں۔ دفتری غلط فہمی کی وجہ سے ان کا جنازہ پہلے نہیں پڑھا جا سکا تھا۔ 3؍ستمبر کو 97 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی تھی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ 1918ء میں یہ مکرم چوہدری کرم الٰہی صاحب چیمہ کے گھر میں پیدا ہوئے۔ مولوی صاحب نے 24؍ نومبر 1944ء کو زندگی وقف کی۔ 3؍جون 1946ء میں قادیان پہنچے اور ان کی باقاعدہ ریٹائرمنٹ 1978ء میں ہوئی لیکن 1993ء تک آپ ری ایمپلائی(reemploy) ہوتے رہے۔ جماعتی خدمات باقاعدہ کارکن کی حیثیت سے انجام دیتے رہے. لیکن اس کے بعد بھی تادم آخرانہوں نے رضاکارانہ طور پر جماعت کا بہت سارا کام خاص طور پر پروف ریڈنگ وغیرہ کا کام کیا۔ لکھتے ہیں کہ ان کے والد کرم الٰہی صاحب نے1898ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی اور پھر ایک سال کے بعد ان کے دادا چوہدری جلال دین صاحب نے بیعت کی۔ ان کے والد کا جماعت سے، خلافت سے بڑا مضبوط تعلق تھا اور اللہ تعالیٰ بھی ان کی رہنمائی فرماتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت خلیفہ اول کی فوری طور پر انہوں نے بیعت کی اور حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد فوری طور پر انہوں نے خلافت ثانیہ کی بیعت کی بلکہ ان کو خواب میں دکھایا گیا تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی آئندہ خلیفہ ہیں۔ ان کی وصیت تھی اور انہوں نے 1/8کی وصیت کی ہوئی تھی۔

مولوی صاحب خود ہی اپنے وقف ہونے کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ صاحبہ نے بیان کیا ہے کہ میں ابھی گود میں تھا۔ غالباً جلسہ سالانہ قادیان 1919ء یا 1920ء کا تھا کہ زنانہ جلسہ گاہ میں حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے مستورات میں تقریر کی کہ بیبیو! ہم تو بوڑھے ہو رہے ہیں، اب دین کی خدمت کے لئے قائمقاموں کی ضرورت ہے۔ تم اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کرو۔ ان کو قادیان دینی تعلیم کے لئے بھیجو۔ اس تقریر کے دوران والدہ صاحبہ نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا اور دعا کی کہ یہ بچہ ’فضل الٰہی‘ خدا کی راہ میں وقف کروں گی۔ چنانچہ 1931ء میں جب آپ مڈل میں داخل ہوئے تو آپ کے والد صاحب نے آپ کو والدہ کے اس عہد کے متعلق بتایا اور کہا کہ اگر تم دنیاوی تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہو تو میں تمہیں بعد میں جب تعلیم حاصل کر لو تو اتنی میری پوزیشن ہے کہ تحصیلدار لگوا سکتا ہوں جو اس زمانے میں بڑا اعزاز تھا۔ لیکن آپ نے فوراً کہا کہ میں وقف کر کے قادیان دارالامان جاؤں گا۔ 23؍فروری 1947ء کو آپ دیگر مربیان کے ہمراہ مشرقی افریقہ میں ممباسہ کی بندرگاہ پر پہنچے۔ ان مربیان میں میر ضیاء اللہ صاحب، مولوی جلال الدین صاحب قمر، سید ولی اللہ شاہ صاحب، حکیم محمد ابراہیم صاحب اور مولوی عنایت اللہ صاحب شامل تھے اور مشرقی افریقہ میں رئیس التبلیغ شیخ مبارک احمد صاحب تھے۔ ایک لمبا عرصہ ان کو کینیا میں، سورینام میں، گیانا میں، ایران میں، مبلغ کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔ پھر اس کے بعد مرکزی دفاتر میں انجمن میں اور تحریک جدید میں خدمات انجام دیتے رہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے جب قواعد وصیت پر غور کے لئے کمیٹی بنائی تو حضرت مولوی صاحب بھی اس کے ممبر تھے۔ آپ نے عربی، انگریزی اور فرنچ میں تقریباً گیارہ کتابیں لکھیں۔ ان کی دو شادیاں تھیں۔ پہلی تو چوہدری محمد دین صاحب کی بیٹی کے ساتھ تھی جو سیالکوٹ کے ساہی تھے۔ دوسری شادی ان کی ماریشس میں ہوئی۔ قبولیت دعا کا اپنا بچپن کا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ ایک دفعہ جب آپ کی عمر دس بارہ سال تھی آپ کی والدہ شدید بیمار ہو گئیں اور بچنے کی امیدنہیں رہی تو آپ کہتے ہیں اس تصور سے کہ والدہ فوت ہو جائیں گی میرا دل بیٹھ گیا۔ میں نے دعا کی کہ اے میرے خدا! کیا اِسی عمر میں مجھے ماں کے سائے سے محروم کر دے گا۔ کہتے ہیں ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ والد صاحب گھر سے نکل کر میری طرف آتے دکھائی دئیے اور آتے ہی کہا کہ فضل الٰہی! تیری والدہ ٹھیک ہو گئی۔

کبابیر، فلسطین میں بھی یہ رہے ہیں۔ شریف عودہ صاحب لکھتے ہیں کہ آپ فلسطین میں 1966ء تا 68ء اور 77ء تا 81ء رہے۔ کبابیر میں قیام کے دوران تبلیغ اور تربیت کے کام بہت محنت اور لگن سے کیا کرتے تھے۔ لوگوں کے گھروں میں جا کر دین کے درس اور تفسیر القرآن کے درس دیتے تھے۔ احمدیہ سکول کبابیر کے انتظامی معاملات کو بہت بہتر کیا۔ اسی طرح کثرت سے تبلیغی دورے کیا کرتے تھے اور مختلف جگہوں پر جا کر جماعتی لیف لیٹس تقسیم کیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں میں چھوٹا تھا لیکن ان کے ساتھ تبلیغی دوروں پر جایا کرتا تھا اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔ مرحوم بہت محنت کرنے والے اور دین کی خدمت کرنے کی ایک مثال تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام أَنْتَ الشَّیْخُ الْمَسِیْحُ الَّذِیْ لَا یُضَاعُ وَقْتُہٗ کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے تھے اور کبھی اپنا وقت ضائع نہیں کرتے تھے۔ وہاں ایک مجلہ بھی آپ نے ’’البشریٰ‘‘ شائع کیا اور خود ہی اس پر کام کرتے تھے۔ خود ہی اس کی کمپوزنگ کرنا اور لکھنا چھاپنا یہ سارا کچھ آپ کے سپرد تھا اور کبابیر کی جو مسجد ہے اس کی ابتدا بھی آپ نے ہی کی تھی اور بنیادی اینٹ بھی آپ نے رکھی تھی۔

ایک دفعہ آپ نے بتایا کہ 1940ء میں آپ کے والد حضرت کرم الٰہی صاحبؓ جب ریٹائر ہو گئے تو گھر میں بہت تنگی کا سامنا ہوا۔ یہاں تک کہ جب قادیان میں پڑھتے تھے۔ تو وہاں مدرسہ احمدیہ کو فیس بھی نہ ادا کر سکتے تھے۔ ایک دن پرنسپل صاحب (ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ) کی طرف سے نوٹس ملا کہ سات یوم کے اندر فیس ادا کرو ورنہ مدرسے سے نکال دئیے جاؤ گے۔ اس پر آپ نے مدرسہ جانا چھوڑ دیا۔ کچھ دن کے بعد حضرت مرزا ناصر احمد صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث) نے بلایا کہ مدرسہ کیوں نہیں آ رہے؟ تو انہوں نے کہا کہ فیس نہ تھی اور شرمندگی کی وجہ سے آنا چھوڑ دیا ہے۔ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے کہا کہ فیس کا انتظام مَیں کر دیتا ہوں۔ آپ نے کہا کہ صدقہ مَیں نے نہیں لینا۔ قرضہ حسنہ دے دیں۔ اس طرح آپ نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ مگر 1940ء سے 1942ء تک حالات نہایت غربت کے تھے۔ فاقہ کشی کی کیفیت رہی۔ کہتے ہیں ایک دفعہ تو یہ حالت تھی کہ چھپن گھنٹے تک کچھ کھانے کو نہ ملا مگر کسی سے ذکر تک نہ کیا اور چھپن گھنٹے کے بعد ایک دوست نے کہا کہ آج آپ میرے ساتھ کھانا کھائیں۔ اس طرح چھپن گھنٹے کے بعد ایک روٹی خدا تعالیٰ نے آپ کو کھلائی اور اس ایک روٹی کے بعد پھر 48 گھنٹے فاقہ رہا۔ کہتے ہیں کہ یہ فاقہ کشی جو تھی یہ شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے برداشت کی ٹریننگ تھی۔ تبلیغ کی مشکلات میں یہ ہمیشہ میرے کام آیا۔ تبلیغ کی مشکلات کا کئی دفعہ ذکر کیا۔ افریقی دوستوں کے ساتھ تبلیغی دورے پر جاتے تھے تو فاقے کرنے پڑتے تھے۔ کبھی اچھا کھانا مل جاتا تھا اور جو کچھ میسر ہوتا کھا لیتے اور کبھی یہ دل میں خیال نہیں آیا کہ ہم دین کی بڑی خدمت کر رہے ہیں۔ پس یہ بات آج کے واقفین زندگی کو سامنے رکھنی چاہئے۔ آجکل اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جگہ ہی حالات تو بہت بہتر ہیں اور کبھی ایسی نوبت نہیں آتی کہ کسی کو فاقہ کرنا پڑے۔

آپ نے ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کی۔ میٹرک کے بعد وقف کیا اور اپنی آخری سانس تک اس عہد کو پورا کیا کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ ان کی پوتی نے یہ لکھا ہے کہ دادا جی بہت کم اپنے حالات کا ذکر کرتے تھے جو ان کو تبلیغ کے راستے میں پیش آئے ہیں۔ لیکن ایک بات انہوں نے بتائی کہ جب تبلیغ کے لئے جاتے تو صبح دو روٹیاں بنا لیتے۔ ایک صبح کھا لیتے اور دوسری ساتھ باندھ لیتے۔ راستے میں کہیں بھی پانی یا چائے کے ساتھ کھا لیتے اور اس کی تصدیق جب افریقہ میں رہے ہیں تو وہاں کے لوگوں نے بھی کی کہ اس طرح دو روٹیاں بناتے تھے اور تبلیغ کے سفر پہ نکل پڑتے تھے۔ سورینام کے مبلغ لکھتے ہیں کہ 1970ء تا 72ء میں ان کو مبلغ سلسلہ گیانا کی حیثیت سے خدمت کی توفیق ملی اور آپ نے سورینام کے مختلف جگہوں کے متعدد دورے کئے۔ 25؍اپریل 1971ء کو جماعت کی پہلی مسجد کے افتتاح کی تاریخی سعادت حاصل کی۔ موصوف نے انتہائی نامساعد حالات میں بڑے صبر اور حوصلے کے ساتھ یہاں وقت گزارا۔ غیر مبائعین کی مخالفت کے علاوہ (وہاں غیر مبائعین بھی بہت زیادہ ہیں ) اُس وقت جماعت کے اندر خواجہ اسماعیل کا ایک گروہ پیدا ہو چکا تھا جنہوں نے آپ کے لئے بہت مشکلات پیدا کیں اور ہر ممکن کوشش کی کہ مسجد کی زمین جماعت کے نام نہ ہو مگر آپ نے بڑے حوصلے کے ساتھ ان مشکلات کا سامنا کیا اور پوری تندہی کے ساتھ خدمات سلسلہ میں مصروف رہے۔ پیغام حق پہنچانے کے ساتھ مرکز کو بھی تفصیلی طور پر جماعتی حالات سے آگاہ رکھا اور پھر انہوں نے 1972ء میں خلیفۃ المسیح الثالث کو لکھا کہ سرینام میں مسجد اور مشن ہاؤس سے جماعت کو ایک مرکز میسر آ گیا ہے مگر گیانا میں اب تک کسی قسم کا مرکز نہیں ہے۔ وہ مرکز سے محروم ہے اور بارہ سال سے وہاں مبلغ سلسلہ ہے جس کی وجہ سے میرے دل میں بڑی تڑپ ہوتی ہے کہ وہاں بھی مسجد بنے۔ ماریشس میں جب رہے ہیں تو وہاں کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ بڑے خاص حالات میں ان کی وہاں تقرری ہوئی تھی۔ 1954ء میں جب مکرم بشیر الدین عبیداللہ صاحب کی بعض لوگوں نے بات ماننے سے انکار کر دیا اور جماعت وہاں دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک حصہ اطاعت سے باہر جانے لگا اور انہوں نے اپنی علیحدہ ایسوسی ایشن بنا لی۔ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ان کو جو (اس وقت) فلسطین میں تھے پیغام دیا کہ فوری طور پر ماریشس پہنچیں۔ آپ ماریشس پہنچے تو آپ کے خلاف امیگریشن میں شکایت کر دی گئی۔ لیکن ان کے پاس کیونکہ برٹش نیشنیلٹی تھی اس لئے حکومت کو بہرحال ان کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینی پڑی۔ انہوں نے بڑی حکمت سے حالات کا جائزہ لیا اور پھر مسجد پہ جو منافقین نے قبضہ کیا ہوا تھا یا مرتدین نے قبضہ کیا ہوا تھا اس کو بڑی حکمت سے بڑے طریقے سے (ختم کرایا)۔ آپ مسجد میں گئے اور وہاں نمازیں پڑھانی شروع کیں اور آہستہ آہستہ جو مبائع جماعت تھی اس کو دوبارہ مسجد میں جمع کرنا شروع کیا اور یہیں اس دوران میں ماریشس میں ان کی دوسری شادی بھی ہوئی تھی۔ یہاں انہوں نے فرنچ میں بعض کتابیں بھی لکھیں جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے اور انہوں نے اللہ کے فضل سے جماعت کو وہاں اس فتنے سے بچایا اور نئے سرے سے جماعت کو جمع کر دیا۔ ایک ہاتھ پہ اکٹھا کر دیا۔

مسجد مبارک میں جمعہ پڑھنے کی بڑی خواہش ہوتی تھی اور جس شخص سے انہوں نے جمعہ پر جانے کے لئے کہا ہؤا تھا کہ مجھے اپنی کار پہ لے جایا کرو، بڑھاپے میں بھی اس کا انتظار کرتے تھے اور اس لئے کہ اس کو تکلیف نہ ہو اور انتظار نہ کرنا پڑے اپنے گھر کے دروازے کے باہر ہی کرسی بچھا کر بیٹھ جاتے تھے تا کہ جب بھی وہ آئیں فوری طور پر ان کے ساتھ جا سکیں۔ غریبوں کی مدد کرتے تھے جو بھی ان کی توفیق تھی۔ ایک دفعہ ایک غریب نے لکھا کہ آپ میرے بچے کا تعلیمی خرچ بھجواتے ہیں اس دفعہ اس کو کچھ زیادہ رقم کی ضرورت ہے تو زیادہ پیسے کا

منی آرڈر بھجوا دیں۔ کبھی گھر میں کسی سے ذکر نہیں کیا۔ اتفاق سے ان کی بہو کے ہاتھ ایک خط لگا تو اس سے پتا لگا کہ یہ چھپ کے خاموشی سے غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ ان کی بہو کہتی ہیں ایک دفعہ میں نے ان سے کہا باہر تبلیغ کا کوئی واقعہ سنائیں۔ تو کہتے ہیں ایک واقعہ میں تمہیں آج سنا دیتا ہوں۔ کہنے لگے کہ میرا یہ معمول تھا کہ ہر روز نماز فجر کے بعد تھوڑا تھوڑا اندھیرا ہوتا تھا کہ میں تبلیغ کے لئے نکل جاتا تھا اور شام کو واپس آتا تھا۔ ایک دن جب میں شام کو گھر واپس آیا تو دیکھا کہ بہت سے لوگ میرے گھر کے باہر جمع ہیں۔ میں پریشان ہوا کہ اللہ خیر کرے یہ لوگ میرے انتظار میں کیوں کھڑے ہیں۔ اتنے میں دُور سے ہی انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ مولانا صاحب مبارک ہو، مبارک ہو۔ میں نے پوچھا کس بات کی مبارک۔ لوگوں نے بتایا کہ آج صبح جب آپ گئے ہیں تو ایک شیر اور آپ اکٹھے پیدل چل رہے تھے۔ یا تو شیر آپ کے آگے آگے چلتا تھا اور آپ شیر کے پیچھے ہوتے تھے یا پھر آپ آگے آگے چل رہے ہوتے تھے اور شیر آپ کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوتا تھا لیکن خدا نے آپ کو سلامت رکھا۔ اس بات کی ہم مبارکباد دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں بہت سارے لوگوں نے جنگل میں اپنے کام کرتے ہوئے اس طرح دیکھا۔

بڑے تہجدگزار تھے۔ بڑی رقّت سے نمازیں پڑھنے والے۔ بہت سارے مبلغین نے، دوسروں نے ان کے بارے میں حالات لکھے ہیں۔ اور حقیقت میں یہ بڑے متوکّل انسان، بڑے باہمت، صابر اور دین کا درد رکھنے والے، دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے تھے۔ جو بھی چند ایک واقعات بیان ہوئے ان میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ خلافت سے بھی ان کا بے انتہا تعلق تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی اولاد کو بھی نیکیوں پر قائم رکھے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 18؍ ستمبر 2015ء شہ سرخیاں

    اِس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں تجدید دین کے لئے بھیجا ہے۔ آپ نے ہمیں دین کی اصل کو، اس کی بنیاد کو، اس کی حقیقی تعلیم کو خوبصورت کر کے دکھایا ہے اور بدعات اور غلط روایات کو دُور کرنے کی نصیحت فرمائی۔ پس اس زمانے میں آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور اُسوۂ حسنہ کا حقیقی نمونہ ہیں اور اس لحاظ سے ہمارے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمونہ بھی مشعل راہ ہے۔

    ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ہمارے بزرگ آباء اور صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں روایات پہنچائیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت میں بہت سے صحابہ موجود تھے اس لئے آپ نے صحابہ کو ان دنوں میں توجہ بھی دلائی، نصیحت بھی کی یا ان کے رشتہ داروں کو توجہ دلائی کہ یہ روایات جمع کریں کیونکہ یہی چیزیں آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے نصیحت اور حقیقی تعلیم اور بعض مسائل کا حل پیش کرنے والی ہوں گی۔

    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی سیرت سے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیان فرمودہ بعض روایات اور ان سے لطیف استنباط کا تذکرہ اور اس حوالہ سے احباب جماعت کو نصائح۔

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تو ہر بات ہی علمی پہلو لئے ہوئے ہے جو ہمارے لئے ضروری ہے اور عملی تربیت کے لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس میں تربیت کے بہت سارے پہلو نکل آتے ہیں۔ قرآن کریم کی آیات کی وضاحت ہو جاتی ہے، احادیث کی وضاحت ہو جاتی ہے اور اس سے ہمیں پھر فائدہ پہنچتا ہے۔ جو بھی احمدی اسے سنے گا، کسی کے ذریعہ سنے گا وہ فائدہ اٹھائے گا اور پھر یقینا ان کو جمع کرنے والوں کے لئے دعائیں بھی کرے گا۔

    جب میں نے صحابہ کا ذکر شروع کیا تھا تو کچھ لوگوں نے جو صحابہ کی اولاد میں سے ہیں خاندانی طور پہ ان کے خاندانوں میں جوروایات چل رہی ہیں وہ بھجوائی تھیں تو ان کو چاہئے کہ یہ روایات باقاعدہ لکھ کر دفتر ایڈیشنل وکالت تصنیف میں بھجوا دیں۔

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابتدا سے ہی اسلام کی ترقی کی ایک تڑپ تھی اور چاہتے تھے کہ مسلمان اپنی عملی حالت درست کریں اور عملی حالت درست کرنے کے لئے سب سے ضروری چیز جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دینا ہے، نمازیں پڑھنا ہے۔ اس لئے آپ نے قادیان کے رہنے والے جو مسلمان تھے ان کے لئے ایک انتظام فرمایا کہ وہ مسجد میں آ کر نماز پڑھا کریں۔

    مسجدیں تو اب ہماری اللہ کے فضل سے دنیا میں ہر جگہ بن رہی ہیں لیکن ان کی آبادی کی طرف جس طرح توجہ ہونی چاہئے وہ نہیں ہے۔ بعض جگہ سے شکایات آتی ہیں۔

    مکرم الحاج یعقوب باؤبنگ صاحب آف گھانا اور مکرم مولانا فضل الٰہی بشیر صاحب کی وفات۔ مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 18؍ستمبر 2015ء بمطابق 18تبوک 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور