صحابہ حضرت مسیح موعودؑ کی زندگیوں سے حضرت مصلح موعودؓکے بیان فرمودہ بعض واقعات

خطبہ جمعہ 4؍ دسمبر 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو بھیج کر اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا آغاز فرمایا۔ وہ لوگ یقینا بڑے خوش قسمت تھے جنہوں نے چودہ سو سال بعد پھر تازہ بہ تازہ وحی و الہام کے نازل ہونے کا زمانہ پایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آ کر اس سے براہ راست فیض پایا۔ جب انسان تصور کی آنکھ سے دیکھے کہ کس طرح وہ صحابہ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرد پا کر اپنی قسمت پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر کرتے ہوں گے تو دل کی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کیسے اپنے وعدوں کا سچا ہے کہ اس نے جب فرمایا کہ میں آخرین میں بھی ایسے لوگ پیدا کروں گا جو پہلوں سے ملنے والے ہوں گے تو وحی و الہام کے تازہ بتازہ نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ذریعہ دکھا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے والوں کے ایمانوں کو مضبوط تر کر دیا۔ وہ ہر روز اس تلاش سے صبح کا آغاز کرتے تھے کہ پتا کریں کہ آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کیا تازہ وحی و الہام ہوا ہے۔ صحابہ کی اس کیفیت کا ذکر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یوں فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وحی کے متعلق یہ کیفیت تھی کہ احمدی دن چڑھتے ہی عاشقوں کی طرح ادھر ادھر دوڑنے لگتے تھے کہ معلوم کریں کہ حضور کو رات کیا وحی ہوئی ہے۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ ادھر میں گھر سے نکلا اور مجھ سے پوچھنے لگے یا کوئی اور بچہ نکلا تو اس سے دریافت کرنے لگے کہ آج کی تازہ وحی کیا ہے؟ آپ کو کیا الہام ہوا ہے؟ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ اور ہماری یہ حالت تھی کہ ادھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز کے لئے تشریف لے گئے اور ہم نے جھٹ جا کر کاپی اٹھا کر دیکھی کہ دیکھیں کیا تازہ الہام ہوا ہے۔ یا پھر خود مسجد میں پہنچ کر آپ کے دہن مبارک سے سنا، آپ کے منہ سے سنا۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد اول صفحہ 313-314)

پس یہ ذوق و شوق اس لئے تھا کہ اپنے ایمانوں کو مزید صیقل کریں، مضبوط کریں۔ اس کی برکات حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر اور حمد کریں کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔

پھر بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ کسی صحابی کی موجودگی میں الہام ہوتا اور وہ خوش قسمت بھی اللہ تعالیٰ کی وحی کو سن رہا ہوتا۔ بعض دفعہ ایسی کیفیت بھی ہوتی کہ ساتھ بیٹھے ہوئے سن رہا ہوتا۔ ایسے ہی ایک بزرگ کا ذکر کرتے ہوئے جن کی موجودگی میں الہام ہوا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر سید عنایت اللہ شاہ صاحب ایک نہایت ہی پرانے احمدی خاندان میں سے ہیں۔ ان کے والد سید فضل شاہ صاحب حضرت صاحب کے نہایت ہی مقرب صحابی تھے اور عام طور پر حضرت صاحب کی خدمت کیا کرتے تھے اور اکثر قادیان میں آتے جاتے تھے۔ سیدناصر شاہ صاحب اوورسیئر جو بعد میں شاید ایس ڈی او ہو گئے تھے یہ سید فضل شاہ صاحب ان کے بھائی تھے۔ ان میں بھی بڑا اخلاص تھا اور وہ بھی حضرت صاحب کو بہت پیارے تھے۔ اور وہ بھی اپنے اخلاص کی وجہ سے اپنے بھائی یعنی سید فضل شاہ صاحب کو کہا کرتے تھے کہ کام کچھ نہ کرو قادیان جا کر بیٹھے رہو۔ حضرت صاحب سے ملاقات کیا کرو۔ مجھے کچھ ڈائریاں بھیج دیا کرو۔ کچھ دعاؤں کے لئے کہتے رہا کرو۔ جو تمہارے اخراجات ہیں، خرچے ہیں وہ مَیں بھیجا کروں گا۔ چنانچہ وہ اپنے بھائی کی مدد کرتے رہتے تھے محض اس وجہ سے کہ وہ قادیان میں حضرت صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک وحی جس کے شروع میں اَلرُّحیٰ آتا ہے اور جو خاص ایک رکوع کے برابر ہے وہ ایسی حالت میں نازل ہوئی جبکہ حضرت صاحب کو درد گردہ کی شکایت تھی اور وہ یعنی سید فضل شاہ صاحب آپ کو دبا رہے تھے۔ گویا ان کو یہ خاص فضیلت حاصل تھی کہ ان کی موجودگی میں دباتے ہوئے حضرت صاحب پر وحی نازل ہوئی اور وحی بھی اس طرز کی تھی کہ کلام بعض دفعہ اونچی آواز سے آپ کی زبان پر جاری ہو جاتا تھا۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ ہم چھوٹے بچے ہوتے تھے کہ ہم بے احتیاطی سے اس کمرے میں چلے گئے جس میں حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے اوپر چادر ڈالی ہوئی تھی اور سید فضل شاہ صاحب مرحوم آپ کو دبا رہے تھے ان کو محسوس ہوتا تھا کہ وحی ہو رہی ہے (بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو لکھا ہوا ہے کہ آپ ان سے خود لکھواتے بھی رہے تھے۔ ) انہوں نے یعنی فضل شاہ صاحب نے اشارہ کر کے مجھے کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ۔ چنانچہ ہم باہر آ گئے۔ بعد میں پتا لگا کہ بڑی لمبی وحی تھی جو نازل ہوئی ہے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 3 صفحہ 673)

یہ الہام جس کا حضرت مصلح موعود ذکر فرما رہے ہیں یہ اس واقعہ اور مقدمے کے بارے میں ہے جب مرزا امام الدین صاحب وغیرہ نے دیوار کھینچ کر راستے بند کر دئیے تھے۔ عدالت میں جو کاغذات پیش ہوئے ان کی رُو سے فیصلہ مخالفین کے حق میں ہوتا نظر آتا تھا بلکہ انہوں نے مشہور کر دیا تھا کہ جلد مقدمہ خارج ہو جائے گا۔ لیکن جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی تھی اسی طرح ہوا اور آخر وقت میں ایک ایسا ثبوت کاغذات میں مل گیا جس سے اس زمین پر مرزا امام دین صاحب کے ساتھ حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد بھی قابض حصہ دار تھے۔ چنانچہ عدالت نے آپ علیہ السلام کے حق میں فیصلہ دیا اور دیوار گرانے کا حکم دیا۔ یہ وحی بھی بڑی شان اپنے اندر رکھتی ہے اس لئے مَیں اس کا ترجمہ بھی پڑھ دیتا ہوں۔ تذکرہ میں اور حقیقۃ الوحی میں اس کا ذکر ہے۔ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود فرماتے ہیں کہ:

’’مجھے یاد ہے کہ اس وقت سید فضل شاہ صاحب لاہوری برادر سیدناصر شاہ صاحب اوور سیر متعین بارہ مولہ کشمیر میرے پیر دبا رہا تھا اور دوپہر کا وقت تھا کہ یہ سلسلہ الہام دیوار کے مقدمہ کی نسبت شروع ہوا۔ میں نے سید صاحب کو کہا کہ یہ دیوار کے مقدمہ کی نسبت الہام ہے۔ آپ جیسا جیسا یہ الہام ہوتا جائے لکھتے جائیں۔ چنانچہ انہوں نے قلم دوات اور کاغذ لے لیا۔ پس ایسا ہوا کہ ہر ایک دفعہ غنودگی کی حالت طاری ہو کر ایک ایک فقرہ وحی الٰہی کا جیسا کہ سنت اللہ ہے زبان پر نازل ہوتا تھا۔ اور جب ایک فقرہ ختم ہو جاتا تھا اور لکھا جاتا تھا تو پھر غنودگی آتی تھی اور دوسرا فقرہ وحی الٰہی کا زبان پر جار ی ہوتا تھا یہاں تک کہ کُل وحی الٰہی نازل ہو کر سید فضل شاہ صاحب لاہوری کی قلم سے لکھی گئی اور اس میں تفہیم ہوئی کہ یہ اس دیوار کے متعلق ہے جو امام الدین نے کھینچی ہے جس کا مقدمہ عدالت میں دائر ہے اور یہ تفہیم ہوئی کہ انجام کار اس مقدمہ میں فتح ہوگی۔ چنانچہ میں نے اپنی ایک کثیر جماعت کو یہ وحی الٰہی سنا دی اور اس کے معنی اور شانِ نزول سے اطلاع دے دی اور اخبار الحکم میں چھپوا دیا اور سب کو کہہ دیا کہ اگرچہ مقدمہ اب خطرناک اور صورت نومیدی کی ہے مگر آخر خدا تعالیٰ کچھ ایسے اسباب پیدا کر دے گا جس میں ہماری فتح ہوگی کیونکہ وحی الٰہی کا خلاصہ مضمون یہی تھا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 279-280)

یہ عربی میں وحی ہوئی۔ لمبی ہے۔ مَیں اس کا ترجمہ پڑھتا ہوں۔ یہ ترجمہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود ہی کیا ہوا ہے۔ ترجمہ یہ ہے کہ:

’’چکی پھرے گی اور قضاو قدر نازل ہو گی یعنی مقدمہ کی صورت بدل جائے گی جیسا کہ چکی جب گردش کرتی ہے تو وہ حصہ چکی کا جو سامنے ہوتا ہے بباعث گردش کے پردہ میں آجاتا ہے اور وہ حصہ جو پردہ میں ہوتا ہے وہ سامنے آ جاتا ہے۔ … یہ خدا کا فضل ہے جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔ یہ ضرور آئے گا اور کسی کی مجال نہیں جو اس کو ردّ کرسکے …۔ کہہ مجھے میرے خدا کی قسم ہے کہ یہی بات سچ ہے اِس امر میں نہ کچھ فرق آئے گا اور نہ یہ امر پوشیدہ رہے گا اور ایک بات پیدا ہو جائے گی جو تجھے تعجب میں ڈالے گی۔ یہ اس خدا کی وحی ہے جو بلند آسمانوں کا خدا ہے۔ میرا رب اس صراط مستقیم کو نہیں چھوڑتا جو اپنے برگزیدہ بندوں سے عادت رکھتا ہے اور وہ اپنے ان بندوں کو بھولتا نہیں جو مدد کرنے کے لائق ہیں۔ سو تمہیں اس مقدمہ میں کھلی کھلی فتح ہوگی مگر اس فیصلہ میں اس وقت تک تاخیر ہے جو خدا نے مقررکر رکھا ہے۔ تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ تُو کہہ ہر ایک امر میرے خدا کے اختیار میں ہے پھر اس مخالف کو اس کی گمراہی اور ناز اور تکبر چھوڑ دے…۔ وہ قادر تیرے ساتھ ہے۔ اس کو پوشیدہ باتوں کا علم ہے بلکہ جو نہایت پوشیدہ باتیں ہیں جو انسان کے فہم سے بھی بر تر ہیں وہ بھی اس کو معلوم ہیں۔ … وہی خدا حقیقی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبودنہیں۔ انسان کو نہیں چاہئے کہ کسی دوسرے پر توکّل کرے کہ گویا وہ اس کا معبود ہے۔ ایک خدا ہی ہے جو یہ صفت اپنے اندر رکھتا ہے۔ وہی ہے جس کو ہر ایک چیز کا علم ہے اور جو ہر ایک چیز کو دیکھ رہا ہے اور وہ خدا ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور جب کوئی نیکی کرتے ہیں تو نیکی کے تمام باریک لوازم کو ادا کرتے ہیں سطحی طور پر نیکی نہیں کرتے اور نہ ناقص طور پر بلکہ اس کی عمیق در عمیق شاخوں کو بجا لاتے ہیں اور کمال خوبی سے اس کا انجام دیتے ہیں سو انہیں کی خدا مدد کرتا ہے کیونکہ وہ اس کی پسندیدہ راہوں کے خادم ہوتے ہیں اور ان پر چلتے ہیں اور چلاتے ہیں۔ ہم نے احمد کو (حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ) یعنی اس عاجز کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ پس قوم اس سے رُو گردان ہو گئی اور انہوں نے کہا کہ یہ تو کذّاب ہے۔ دنیا کے لالچ میں پڑا ہوا ہے۔ یعنی ایسے ایسے حیلوں سے دنیا کمانا چاہتا ہے اور انہوں نے عدالتوں میں اس پر گواہیاں دیں تا اس کو گرفتار کرا دیں اور وہ ایک تُندسیلاب کی طرح جو اوپر سے نیچے کی طرف آتا ہے اس پر اپنے حملوں کے ساتھ گر رہے ہیں۔ مگر وہ کہتا ہے کہ میرا پیارا مجھ سے بہت قریب ہے۔ وہ قریب تو ہے مگر مخالفوں کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے‘‘۔ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 281 تا 283)

پس یہ وحی بڑی شان سے پوری ہوئی اور مختلف جگہوں پہ آپ نے اس کا ذکر فرمایا ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے ایک سے زیادہ دفعہ بھی ہوئی ہو۔ پوشیدہ ظاہر ہوا اور آخری وقت میں فیصلہ ہوا اور جب بھی آپ پر مقدمات قائم کئے گئے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب مخالفین کی خواہشیں ان کے اوپر الٹائی گئیں اور ان کے خلاف فیصلے ہوئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجالس کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ہمارے کانوں میں ابھی تک وہ آوازیں گونج رہی ہیں جو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے براہ راست سنیں۔ فرماتے ہیں مَیں چھوٹا تھا مگر میرا مشغلہ یہی تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں بیٹھا رہتا اور آپ کی باتیں سنتا۔ فرماتے ہیں ہم نے ان مجالس میں اس قدر مسائل سنے ہیں کہ جب آپ کی کتابوں کو پڑھا جاتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام باتیں ہم نے پہلے سنی ہوئی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ آپ دن کو جو کچھ لکھتے وہ شام کو مجلس میں آ کر بیان کر دیتے اس لئے آپ کی تمام باتیں ہم کو حفظ ہیں اور ہم ان مطالب کو خوب سمجھتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی منشاء اور آپ کی تعلیم کے مطابق ہیں۔ (ماخوذ از سوانح فضل عمر جلد اول صفحہ 113)

پھر حقیقی ایمان کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ ایک ماں کو اس کے بچے کی خدمت کے لئے اگر صرف دلائل دئیے جائیں اور کہا جائے کہ اگر تم خدمت نہیں کرو گی تو گھر کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور یہ ہو گا اور وہ ہو گا تو یہ دلائل اس پر ایک منٹ کے لئے بھی اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ ماں کو دلیلوں سے بچے کی خدمت پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ وہ اگر خدمت کرتی ہے تو صرف اس جذبہ محبت کے ماتحت جو اس کے دل میں کام کر رہا ہوتا ہے۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایمان العجائز ہی انسان کو ٹھوکروں سے بچاتا ہے ورنہ وہ لوگ جو حیل و حجت سے کام لیتے ہیں اور قدم قدم پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں حکم کیوں دیا گیا ہے اور فلاں کام کرنے کو کیوں کہا گیا ہے وہ بسا اوقات ٹھوکر کھا جاتے ہیں اور ان کا رہا سہا ایمان بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ لیکن کامل الایمان شخص اپنے ایمان کی بنیاد مشاہدے پر رکھتا ہے۔ وہ دوسروں کے دلائل کو سن تو لیتا ہے مگر ان کے اعتراضات کا اثر قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کو اپنی روحانی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوتا ہے۔ پھر آپ نے منشی اروڑے خان صاحبؓ کی مثال دی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ان کا ایک لطیفہ مجھے یاد ہے (پہلے بھی ایک دفعہ مَیں اس کا ذکر کر چکا ہوں۔ دوبارہ کر دیتا ہوں۔) فرماتے ہیں کہ وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے بعض لوگوں نے کہا کہ اگر تم مولوی ثناء اللہ صاحب کی ایک دفعہ تقریر سن لو تب تمہیں پتا لگے کہ مرزا صاحب سچے ہیں یا نہیں۔ وہ کہنے لگے میں نے ایک دفعہ ان کی تقریر سن لی (مولوی ثناء اللہ صاحب کی)۔ بعد میں لوگ مجھ سے پوچھنے لگے اب بتاؤ کیا اتنے دلائل کے بعد بھی مرزا صاحب کو سچا سمجھا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں مَیں نے کہا مَیں نے تو مرزا صاحب کا منہ دیکھا ہوا ہے۔ ان کا منہ دیکھنے کے بعد اگر مولوی ثناء اللہ صاحب دو سال بھی میرے سامنے تقریر کرتے رہیں تب بھی ان کی تقریر کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا اور میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ جھوٹے کا منہ ہے۔ بیشک مجھے ان کے اعتراضات کے جواب میں کوئی بات نہ آئے میں تو یہی کہوں گا کہ حضرت مرزا صاحب سچے ہیں۔ غرض حکمت کا معلوم ہونا ایک کامل مومن کے لئے ضروری نہیں ہوتا کیونکہ اس کا ایمان عقل کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ مشاہدے کی بنا پر ہوتا ہے۔ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 279-280)

منشی اروڑے خان صاحب کا یہ واقعہ ہے۔ اس حوالے سے بھی یہ سامنے لانا ضروری تھا کہ ہمیں خدا تعالیٰ کو اپنی روحانی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ خدا تعالیٰ سے تعلق بڑھانے سے ہی ہو سکتا ہے اور اسی طرح پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یقین بھی اس وقت حقیقی ہو گا جب اس بات پر قائم ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس زمانے میں دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور یہ وقت کی ضرورت ہے۔ وقت تقاضا کر رہا ہے۔ اس زمانے میں ایک مصلح آنا چاہئے تھا۔ مسیح موعود کو آنا چاہئے تھا۔ دنیا کی حالت ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ثبوت ہے اس کے علاوہ کوئی دلیلوں کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ اس بگڑے ہوئے زمانے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو تو پھر خوف کردگار بھی ہوتا ہے اور پھر کثرتِ اعجاز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دلیلوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ معجزے مانگنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ زمانے کی ضرورت اور آپ کی زندگی کا ہر لمحہ آپ کی صداقت کا ثبوت ہے۔

پس ہمیں اس کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے اور اس حوالے سے اپنے ایمانوں کو مضبوط کرتے رہنا چاہئے اور خدا کرے کہ زمانے کی ضرورت کا احساس دوسرے مسلمانوں کو بھی ہو جائے اور وہ بھی زمانے کے امام کو مانیں۔ حضرت منشی اروڑے خان صاحبؓ کے اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت میں بعض نام ایسے ہیں جو عجیب سے لگتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مخلص صحابی کا نام اروڑا تھا۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔ اس زمانے میں رواج تھا کہ بعض لوگ جن کے بچے عام طور پر فوت ہو جاتے ہیں وہ بچے کو میلے کے ڈھیر پر گھسیٹتے تھے۔ گندی جگہ پر گھسیٹتے کہ شاید وہ اس طرح بچ جائے۔ ایک رسم یا ایک طریقہ رائج تھا یا خیال کیا جاتا تھا اور پھر اس کانام اروڑا رکھ دیا جاتا تھا۔ ان منشی صاحب کا نام اسی طرح ان کے والدین نے اروڑا رکھا تھا مگر وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اروڑا نہ تھے۔ مَیلی جگہ پر رہنے والے نہیں تھے۔ ماں باپ نے ان کا یہ نام اس لئے رکھا تھا کہ شاید میلے کے ڈھیر پر پڑ کر ہی یہ بچہ زندہ رہے مگر اللہ تعالیٰ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں ڈال کر نہ صرف جسمانی موت سے بلکہ روحانی موت سے بھی بچانا چاہتا تھا۔ ماں باپ نے اسے گندگی کی نظر کرنا چاہا مگر خدا تعالیٰ نے اس کے پاک دل کو دیکھا اور اسے اپنے لئے قبول کیا۔ چنانچہ اس نے انہیں ایمان نصیب کیا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابی بنے اور ایسے مخلص کہ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایسے اخلاص کے بغیر نجات کی امید رکھنا فضول بات ہے۔ اس قسم کے مخلص تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ان کے اخلاص پر تعریف فرما رہے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے اخلاص کا ثبوت ایسے رنگ میں پیش کیا کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ یہ لوگ محبت اور پیار کے خیمے تھے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 19 صفحہ 886)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ منشی صاحب مرحوم شاید مجسٹریٹ یا سیشن جج کی پیشی میں تھے۔ اس کے ساتھ کام کرتے تھے۔ مہینہ میں ایک بار ضرور قادیان آ جاتے تھے اور چونکہ ایک چھٹی سے فائدہ نہ اٹھا سکتے تھے جب تک ساتھ ہفتے کا کچھ وقت نہ ملے اس لئے جس دن ان کے قادیان آنے کا موقع ہوتا تو ان کا افسر دفتر والوں سے کہہ دیتا کہ آج جلدی کام ختم ہونا چاہئے کیونکہ منشی جی نے قادیان جانا ہے اگر وہ نہ جا سکے تو ان کے دل سے ایسی آہ نکلے گی کہ میں برباد ہو جاؤں گا اور اس طرح ہمیشہ ان کو ٹھیک وقت پر فارغ کر دیتا۔ افسر گو ہندو تھا مگر آپ کی نیکی، تقویٰ اور قبولیت دعا کا اس پر ایسا اثر تھا کہ وہ آپ ہی آپ ان کے لئے قادیان آنے کا وقت نکال دیتا اور کہتا کہ اگر یہ قادیان نہ جا سکے تو ان کے دل سے ایسی آہ نکلے گی کہ میں نہیں بچ سکوں گا۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 19 صفحہ 887)

تو یہ ان بزرگوں کا غیروں پر بھی اثر تھا جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ کو دیکھا ہوا تھا اور پھر اخلاص میں بڑھے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ سے ان کا ایک تعلق تھا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ انسان جیسا اللہ تعالیٰ سے معاملہ کرتا ہے ویسا ہی وہ اس سے کرتا ہے۔ پس جس رنگ میں انسان اپنے دل کو اس کے لئے پگھلاتا ہے اسی رنگ میں اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ سلوک کرتا ہے۔ دنیا اسے مارتی ہے، اسے گالیاں دیتی ہے، اسے دبانے کی کوشش کرتی ہے مگر وہ ہر دفعہ دبائے جانے کے بعد گیند کی طرح پھر ابھرتا ہے۔ ایسے مومنوں کو ہر طرح کی روکوں کے باوجود اللہ تعالیٰ بڑھاتا ہے اور یہی حقیقی جماعت ہوتی ہے جو ترقی کرتی ہے اور ایسا ایمان پیدا کرنا چاہئے۔ پس اپنے دلوں کو ایسا ہی بناؤ اور ایسی محبت سلسلے کے لئے پیدا کرو پھر دیکھو تمہیں اللہ تعالیٰ کس طرح بڑھاتا ہے۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کو تو مانگنا بھی نہیں پڑتا۔ بعض وقت وہ ناز کے انداز میں کہتے ہیں کہ ہم نہیں مانگیں گے اور اللہ تعالیٰ خود بخود ان کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہی میں نے یہ واقعہ بھی سنا ہے۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ تھے ایک دفعہ ان پر ایسی حالت آئی کہ وہ سخت مصیبت میں تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ آپ دعا کیوں نہیں کرتے۔ تو انہوں نے کہا کہ اگر میرا رب مجھے نہیں دینا چاہتا تو میرا دعا کرنا گستاخی ہے۔ جب اس کی مرضی نہیں تو میں کیوں مانگوں۔ یہ ان کا مقام تھا۔ اس صورت میں مَیں تو یہی کہوں گا مجھے نہ ملے۔ اور اگر وہ دینا چاہتا ہے تو میرا مانگنا بے صبری ہے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یہ مطلب نہیں کہ دعا کرتے ہی نہیں بلکہ کبھی کبھی کامل مومنوں پر ایسی کیفیات آتی ہیں۔ کبھی کبھی ایسی کیفیات آتی ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اچھا ہم مانگیں گے نہیں۔ دعا کرنے کا تو خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوا ہے کہ مانگو لیکن بعض دفعہ ایسی کیفیت ہوتی ہے، بعض اس تعلق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے ناز و نخرے کر رہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ہماری ضرورت کو پورا کرے گا۔ مگر یہ مقام یونہی حاصل نہیں ہوتا۔ یہ مت خیال کرو کہ تم یونہی بیٹھے رہو، اپنے قلوب میں محبت نہ پیدا کرو۔ نمازوں میں خشوع و خضوع پیدا نہ کرو۔ صدقہ و خیرات اور چندوں میں غفلت کرو۔ جھوٹ اور فریب سے کام لیتے رہو اور پھر بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کے وارث ہو جاؤ، یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 19 صفحہ 887-888)

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں میں نے کئی دفعہ پہلے بھی سنایا ہے کہ قاضی امیر حسین صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابی تھے۔ احمدی ہونے سے قبل وہ کٹر وہابی تھے اور اسی طرح سے کئی باتیں ظاہری آداب کی وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ وہابی بہت کٹر ہوتے ہیں بعض چیزوں کو وہ برداشت نہیں کر سکتے جو ظاہر کی چیزیں ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جب حضور باہر تشریف لاتے تو دوست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھ کے کھڑے ہو جاتے تھے۔ قاضی صاحب مرحوم احمدی تو ہو گئے تھے لیکن ان کا یہ خیال تھا کہ یہ کھڑے ہونا جائز نہیں ہے بلکہ شرک ہے اور اس بارے میں ہمیشہ بحث کیا کرتے تھے کہ آج ہم میں ایسی باتیں موجود ہیں تو آئندہ کیا ہو گا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں وہ میرے استاد بھی تھے۔ کہتے ہیں جب میری خلافت کا زمانہ آیا تو ایک دفعہ میں باہر آیا تو معاً کھڑے ہو گئے۔ (حضرت مصلح موعود کو دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے۔ ) تو میں نے انہیں کہا قاضی صاحب یہ تو آپ کے نزدیک شرک ہے۔ اس پر وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ خیال تو میرا یہی ہے مگر کیا کروں رُکا نہیں جاتا۔ اس وقت بغیر خیال کے کھڑا ہو جاتا ہوں۔ میں نے کہا بس یہی جواب ہے آپ کے تمام اعتراضات کا۔ جہاں بناوٹ سے کوئی کھڑا ہو تو یہ بیشک شرک ہے مگر جب آدمی بیتاب ہو کر کھڑا ہو جائے تو یہ شرک نہیں ہے۔ یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بعض امور ایسے ہیں جنہیں تکلف اور بناوٹ شرک بنا دیتے ہیں۔ پس اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔ فرماتے تھے اپنے ایک بھائی کی وفات پر حضرت عائشہ نے بے اختیار چیخ مار دی اور منہ پر ہاتھ مار لیا۔ کسی نے ان سے دریافت کیا کہ کیا یہ جائز ہے؟ آپ نے فرمایا بے اختیاری میں ایسا ہو گیا۔ میں نے جان کر نہیں کیا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں قاضی صاحب کی یہ بات مجھے ہمیشہ یاد رہتی ہے کہ بے اختیاری میں ہو گیا۔ بہرحال ان صحابہ کا بھی اپنا رنگ تھا۔ ہر ایک کا اخلاص اور محبت تھا۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 19 صفحہ 889)

اللہ تعالیٰ سے تعلق کیسے کیسے نشان دکھاتا ہے۔ اس بارے میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہوا ہے کہ ایک دفعہ غالباً ہارون الرشید کے زمانے میں ایک بزرگ جو اہل بیت میں سے تھے اور جن کا نام موسیٰ رضا تھا اس بہانے سے قید کر دئیے گئے کہ ان کی وجہ سے فتنے کے پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ ایک دفعہ آدھی رات کے وقت ایک سپاہی ان کے پاس قید خانے میں رہائی کا حکم لے کر پہنچا۔ وہ بہت حیران ہوئے کہ اس طرح میری رہائی کا فوری حکم کس طرح ہو گیا۔ وہ بادشاہ سے ملے تو اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے کہ آپ نے مجھے اس طرح یکا یک رہا کر دیا۔ اس نے کہا کہ وجہ یہ ہوئی کہ میں سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کسی نے آ کر مجھے جگایا ہے۔ خواب میں ہی میری آنکھ کھل گئی تو پوچھا آپ کون ہیں تو معلوم ہوا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہارون الرشید یہ کیا بات ہے کہ تم آرام سے سو رہے ہو اور ہمارا بیٹا قید خانے میں ہے۔ یہ سن کر مجھ پر ایسا رعب طاری ہوا کہ اسی وقت رہائی کے احکام بھجوائے۔ ان بزرگ نے کہا کہ اس روز مجھے بھی قید خانے میں بڑا کرب تھا۔ اس سے پہلے مجھے بھی کبھی رہائی کی خواہش پیدا نہ ہوئی تھی لیکن اس دن بڑی بے چینی تھی کہ رہائی ہو جائے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 19 صفحہ 890-891)

حضرت مصلح موعود اس کے بعد پھر دوبارہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق کا، منشی اروڑا صاحب مرحوم کا، حوالہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عشاق میں سے تھے ان کی یہ عادت تھی کہ وہ کوشش کرتے کہ ہر جمعہ یا اتوار کو وہ قادیان پہنچ جایا کریں۔ چنانچہ جب انہیں چھٹی ملتی یہاں آجایا کرتے تھے اور مہینے میں ایک دفعہ آنے کا تو پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ اور پھر جب آتے تھے تو اپنے سفر کا ایک حصہ پیدل طے کرتے تھے تا کہ کچھ رقم بچ جائے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر سکیں۔ ان کی تنخواہ اس وقت بہت تھوڑی تھی۔ غالباً پندرہ بیس روپے تھی اور اس میں سے وہ نہ صرف گزارہ کرتے بلکہ سفر خرچ بھی نکالتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھی نذرانہ پیش کرتے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں میں نے ان کو ہمیشہ ایک ہی کوٹ میں دیکھا ہے، دوسرا کوٹ پہنتے ہوئے مَیں نے ان کو ساری عمر نہیں دیکھا۔ انہوں نے تہہ بند باندھا ہوا ہوتا تھا اور معمولی سا کرتہ ہوتا تھا۔ ان کی بڑی خواہش یہ ہوتی تھی کہ وہ آہستہ آہستہ کچھ رقم جمع کرتے رہیں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں نذرانہ عقیدت کے طور پر پیش کردیں۔ رفتہ رفتہ وہ اپنی دیانت کی وجہ سے ترقی کرتے گئے اور تحصیلدار بھی ہو گئے۔

پھر ان کا جو مشہور واقعہ ہے حضرت مصلح موعودؓ نے بیان کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ایک دن آئے۔ مجھے باہر بلایا اور بڑی شدت سے رونا شروع کر دیا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے کہا مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیا وجہ ہے۔ پھر انہوں نے تین یا چار سونے کے اشرفیاں نکال کر دیں کہ یہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دینا چاہتا تھا لیکن توفیق نہیں ملی اور اب جبکہ مجھے توفیق ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دنیا میں نہیں اور اس پر پھر بڑی شدت سے رونا شروع کر دیا۔ تو حضرت مصلح موعود اس واقعہ کا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ ہوتا ہے عشق۔ اگر دنیا کی یہ نعمتیں کوئی نعمتیں ہیں اور اگر واقعہ میں ہمیں ان سے کوئی حقیقی آرام پہنچ سکتا ہے تو ایک مومن کا دل ان کو استعمال کرتے وقت ضرور دکھتا ہے کہ اگر یہ نعمتیں ہیں تو اس قابل تھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتیں۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 24صفحہ 167-168)

حضرت عائشہؓ کا ایک واقعہ بھی آتا ہے کہ جب آپ کو نرم آٹے کی روٹی ملی تو آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نہیں ملتا تھا اور آپ موٹے پِسے ہوئے آٹے کی روٹی کھایا کرتے تھے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 24صفحہ 165-166)

حضرت مصلح موعود اسی ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اپنے عشق کا ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ لکھتے ہیں۔ یہ فرمانے کے بعد کہ اگر یہ نعمتیں کسی قابل تھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتیں اور پھر آپ کے بعد آپ کے ظل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملتیں۔ فرماتے ہیں کہ میں چھوٹا ہی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں مجھے شکار کرنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ ایک ہوائی بندوق (airgun) میرے پاس تھی جس سے مَیں شکار مار کر گھر لایا کرتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام چونکہ کھانا کم کھایا کرتے تھے اور آپ کو دماغی کام زیادہ کرنا پڑتا تھا اور میں نے خود آپ سے یا کسی اور طبیب سے سنا ہوا تھا کہ شکار کا گوشت دماغی کام کرنے والوں کے لئے مفید ہوتا ہے اس لئے میں ہمیشہ شکار آپ کی خدمت میں پیش کر دیا کرتا تھا۔ مجھے یادنہیں کہ اس زمانے میں مَیں نے خود کبھی شکار کا گوشت اپنے لئے پکوایا ہو۔ ہمیشہ یہ شکار مار کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے دیا کرتا تھا۔ تو جب انسان کو اپنے محبوب سے محبت کامل ہوتی ہے تو پھر یا تو وہ کسی چیز کو راحت ہی نہیں سمجھتا اور یا اگر راحت سمجھتا ہے تو کہتا ہے یہ اس محبوب کا حق ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قرآنی علوم کے بڑے بڑے معارف اپنے فضل سے کھولے ہیں مگر بیسیوں مواقع مجھ پر ایسے آئے جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نکتہ مجھ پر کھولا گیا تو میرے دل میں اس وقت بڑی تمنا اور آرزو پیدا ہوئی کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا حضرت خلیفہ اول کے زمانے میں یہ نکتہ مجھ پر کھلتا تو میں ان کے سامنے پیش کرتا اور مجھے ان کی خوشنودی حاصل ہوتی۔ فرماتے ہیں اصل مقام تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی ہے حضرت خلیفہ اول کا خیال مجھے اس لئے آیا کرتا ہے کہ انہوں نے مجھے قرآن شریف پڑھایا اور انہیں مجھ سے بے حد محبت تھی اور ان کی یہ خواہش ہوا کرتی تھی کہ میں قرآن پر غور کروں اور اس کے مطالب نکالوں۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ دنیاوی چیزیں نہیں بلکہ یہ چیزیں ہیں جو ہمارے لئے حقیقی راحت کا سامان بہم پہنچا سکتی ہیں۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 24صفحہ 168-169)

یہ تو قصہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق کا۔ ایسے لوگوں کا جو قادیان جاتے تھے اور ہر وقت یہی خواہش ہوتی تھی کہ وہیں بیٹھے رہیں جیسا کہ فضل شاہ صاحب کا بھی قصہ سنایا اور منشی اروڑے خان صاحب کا بھی۔ ایک طرف تو وہ لوگ تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ کو دیکھتے تھے اور اس کوشش میں ہوتے تھے قادیان پہنچیں۔ قادیان آنے کے لئے بے چین ہوتے تھے اور آپ کے لئے پھر قربانیاں بھی دیتے تھے۔ لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں بیچارے جن پر قادیان کا نیک ماحول مصیبت بن جاتا تھا۔ دنیاوی لذات ان پر اتنی غالب ہوتی تھیں کہ وہ نیک ماحول سے جان چھڑا کر بھاگتے تھے۔ ایسے ہی ایک شخص کا واقعہ بھی حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے۔

فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک دفعہ قادیان ایک شخص آیا اور ایک دن ٹھہر کر چلا گیا۔ جنہوں نے اسے قادیان بھیجا تھا انہوں نے اس خیال سے بھیجا تھا کہ یہ قادیان جائے گا اور وہاں کچھ دن ٹھہر کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتیں سنے گا وہاں کے حالات دیکھے گا تو اس پر احمدیت کا کچھ اثر ہو گا۔ مگر جب وہ صرف ایک دن ہی ٹھہر کر واپس چلا گیا تو ان بھیجنے والوں نے اس سے پوچھا کہ تم اتنی جلدی کیوں آ گئے۔ تو وہ کہنے لگا توبہ کرو جی وہ بھی کوئی شریفوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ انہوں نے خیال کیا کہ شاید کسی احمدی کے نمونے کا اچھا اثر نہیں ہوا جس سے اس کو ٹھوکر لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ آخر بات کیا ہوئی ہے جو تم اتنی جلدی چلے آئے۔ فرماتے ہیں کہ ان دنوں قادیان اور بٹالہ کے درمیان یکّے چلا کرتے تھے۔ (ٹانگے چلا کرتے تھے۔ ) اس نے کہا میں صبح کے وقت قادیان پہنچا۔ مہمان خانے میں مجھے ٹھہرایا گیا۔ میری تواضع اور آؤبھگت کی گئی۔ ہم نے کہا سندھ سے آئے ہیں راستہ میں تو کہیں حقہ پینے کا موقع نہیں ملا اب اطمینان سے بیٹھ کر حقہ پئیں گے اور آرام کریں گے۔ ابھی ذرا حقہ آنے میں دیر تھی کہ ایک شخص نے کہا کہ بڑے مولوی صاحب یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الاول(ان کو بڑے مولوی صاحب کہا جاتا تھا) اب حدیث کا درس دینے لگے ہیں پہلے درس سن لیں بعد میں حقہ پئیں۔ ہم نے کہا چلو اب قادیان آئے ہیں تو حدیث شریف کا درس بھی سن لیں۔ حدیث کا درس سن کر آئے تو ایک شخص نے کہا کھانا بالکل تیار ہے پہلے کھانا کھا لیں۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ ٹھیک بات ہے کھانے سے فارغ ہو کر پھر اطمینان سے حقہ پئیں گے۔ ابھی کھانا کھا کر بیٹھے ہی تھے کہ کسی نے کہا کہ ظہر کی اذان ہو چکی ہے۔ ہم نے کہا اب آئے ہیں تو چلو قادیان میں نماز ہی پڑھ لیتے ہیں۔ ظہر کی نماز پڑھ چکے تو مرزا صاحب بیٹھ گئے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھ گئے اور باتیں ہونا شروع ہو گئیں۔ ہم نے کہا کہ چلو مرزا صاحب کی گفتگو بھی سن لیں کہ کیا فرماتے ہیں پھر چل کر حقہ پئیں گے۔ (حقہ دماغ سے نہیں نکلا) وہاں سے باتیں سن کر آئے اور آ کر پیشاب پاخانے سے فارغ ہو کر بیٹھے اور حقہ سلگایا کہ اب تو سب طرف سے فارغ ہیں اب تسلی سے حقہ پیتے ہیں لیکن ابھی دو کَش بھی حقہ کے نہ لگائے تھے کہ کسی نے کہا کہ عصر کی اذان ہو چکی ہے نماز پڑھ لو۔ حقہ کو اس طرح چھوڑ کر ہم عصر کی نماز پر چلے گئے۔ عصر کی نماز پڑھی تو خیال تھا کہ اب تو شام تک حقہ کے لئے آزادی ہو گی۔ کسی نے کہا کہ بڑے مولوی صاحب مسجد اقصیٰ میں چلے گئے ہیں اور وہاں قرآن کریم کا درس ہو گا۔ ہم نے سمجھا تھا کہ اب شام تک حقہ پینے کا موقع ملے گا پر خیر اب آئے ہیں تو قرآن کریم کا درس بھی سن لیتے ہیں۔ بڑی مسجد میں گئے درس سنا اور سن کر واپس آئے تو مغرب کی اذان ہو گئی اور حقہ اسی طرح دھرا رہا۔ پھر ہم مغرب کی نماز کے لئے چلے گئے۔ نماز پڑھ کر پھر مرزا صاحب بیٹھ گئے اور ہم پھر مجبوراً بیٹھ گئے۔ ہم نے کہا چلیں مرزا صاحب کی باتیں سن لیں۔ آخر وہاں سے آئے سوچا کہ اب شاید حقہ پینے کا موقع ملے لیکن کھانا آ گیا اور کہنے لگے کھانا کھا لو پھر حقہ پینا۔ شام کا کھانا بھی کھا لیا اور خیال کیا کہ اب تسلی سے حقہ کے لئے بیٹھیں گے کہ عشاء کی اذان ہو گئی۔ لوگ کہنے لگے نماز پڑھ لو۔ خیر عشاء کی نماز کے لئے بھی چلے گئے۔ نماز پڑھ کر خدا تعالیٰ کا شکر کیا کہ اب تو اور کوئی کام نہیں رہا اب پوری فرصت ہے اور حقہ پیتے ہیں۔ لیکن ابھی حقہ سلگایا ہی تھا کہ پتا لگا کہ باہر سے آنے والے مہمانوں کو عشاء کے بعد بڑے مولوی صاحب کچھ وعظ و نصیحت بھی کیا کرتے ہیں۔ اب بڑے مولوی صاحب وعظ کرنے لگ گئے۔ وہ ابھی وعظ و نصیحت کر ہی رہے تھے کہ سفر کی کوفت اور تکان کی وجہ سے ہم کو بیٹھے بیٹھے نیند آگئی پھر پتا ہی نہیں تھا کہ ہم کہاں ہیں اور ہمارا حقہ کہاں ہے۔ صبح جب اٹھا تو میں اپنا بستر اٹھا کر وہاں سے بھاگا کہ قادیان میں شریف انسان کے ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 3 صفحہ 497-498)

تو یہ حال تھا شرفاء کا۔ اب اسی وجہ سے کہ ایک نشے کی عادت تھی دین کا علم سیکھنے سے محروم رہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے فیض پانے سے محروم رہے۔ سب نشہ کرنے والوں کے لئے بھی اس میں ایک سبق ہے۔

اب میں دنیا کے جو حالات ہو رہے ہیں اس کے بارے میں مختصر بتانا چاہتا ہوں کہ جس تباہی کی طرف دنیا تیزی سے جا رہی ہے اس کے لئے احباب جماعت کو بہت زیادہ دعا کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ نام نہاد اسلامی حکومت جو عراق اور شام میں قائم ہے اس کے خلاف اب مغربی حکومتوں نے فرانس کے ظالمانہ واقعہ کے بعد جو سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہوائی حملے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے بلکہ شروع کر دئیے ہیں، اگر ان حکومتوں نے یہ حملے کرنے ہیں تو پھر ان پر کریں جو ظلم کر رہے ہیں۔ ان حملوں سے اللہ تعالیٰ معصوموں اور عوام الناس کو محفوظ رکھے۔ وہاں شام وغیرہ میں رہنے والے اکثر تو ایک چکی میں پس رہے ہیں۔ نہ اِدھر کا راستہ ہے نہ اُدھر کا راستہ ہے۔ پھر ہمسایہ مسلمان ممالک بھی اس فتنہ کو ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ خود ہمسایہ ممالک مل کر وہاں کی حکومتوں کی مدد کر کے اس فتنے کو ختم کرتے۔ اس کو بڑھنے دیا گیا یہاں تک کہ یہ شر تمام دنیا میں پھیل گیا۔ اور ابھی بھی یہ کہا جاتا ہے کہ بعض ممالک جو ہمسایہ اسلامی ممالک ہیں اس نام نہاد اسلامی حکومت سے تجارت بھی کر رہے ہیں اور ان کا تیل وغیرہ بھی خرید رہے ہیں۔ روس ترکی پر اس کا الزام لگا رہاہے گو ترکی اس کو ردّ کرتا ہے اور روس پر الٹا الزام لگاتا ہے۔ لیکن بہرحال کچھ نہ کچھ ہو تو رہا ہے۔ یہ تجارت چل رہی ہے۔ اس کے بارے میں مَیں کئی سال سے کہہ رہا ہوں۔ ان ہوائی حملوں میں مغربی دنیا کے ساتھ روس بھی شامل ہے۔ گو کہ مغربی دنیا سے اختلاف ہے۔ روس جو ہے وہ سیریا میں جو بشّار الاسد کی حکومت ہے ان کی طرفداری کر رہا ہے۔ باقی دنیا اس کے خلاف ہے۔ لیکن اس وقت بہرحال داعش کے ٹارگٹ جو ہیں وہ دونوں کے مشترکہ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ان کے اختلافات بھی موجود ہیں۔ اگر سنجیدہ حالات ہوتے ہیں تو چین روس کی حمایت کا اعلان کرتا ہے۔ سیریا کی حکومت کہتی ہے کہ یورپ کے ہوائی حملوں کا اس وقت تک فائدہ نہیں جب تک ہم سے مل کر نہیں کرتے۔ پھر روس کا جو جہاز ترکی نے گرایا اس کے بعد کے اثرات سے دشمنیوں کے اظہار اور اعلانات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر یہ بھی سنا ہے کہ اس نام نہاد اسلامی حکومت نے اپنا یہ بھی ایک پلان بنایا ہے کہ اگر عراق، شام کے علاقے کو چھوڑنا پڑا تو لیبیا میں پھر اپنے اڈے قائم کریں گے، وہاں حکومت قائم کریں گے۔ اور پھر اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ لوگ اس کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو یہ بھی بعیدنہیں کہ ہوائی حملے بعد میں پھر وہاں لیبیا میں شروع ہو جائیں۔ پھر عوام مریں گے۔ مغربی ممالک پہلے انہی حکومتوں کی مدد کرتے رہتے ہیں پھر ان کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ لیبیا، شام، عراق وغیرہ کی حکومتوں کے خلاف ہو کر یا انہیں الٹا دیا یا الٹانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اور یہ سب ایک لمبے عرصے سے انصاف سے کام نہ لینے کا نتیجہ ہے کہ دنیا میں فساد پھیلا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان ممالک کی حکومتیں بھی اپنے اپنے ممالک میں بے انصافی اور ظلم سے کام لے رہی ہیں۔ گویا کہ ایسے پیچ دار حالات ہو چکے ہیں کہ جنگ عظیم کی صورت ہے۔ بلکہ ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ چھوٹے پیمانے پہ جنگ عظیم شروع ہو چکی ہے۔ اب یہاں کے بہت سے تجزیہ نگار اس بات کو تسلیم کرنے لگ گئے ہیں، لکھنے بھی لگ گئے ہیں کہ جنگ عظیم شروع ہے۔ اس بات کی طرف مَیں تو گزشتہ کئی سال سے توجہ دلا رہا ہوں گو اب یہ لوگ خود بھی ایسی باتیں کرنے لگ گئے ہیں۔ لیکن اب بھی یہی لگ رہا ہے کہ انصاف سے کام لینے کی طرف توجہ نہیں ہو گی۔ نہ بڑی طاقتوں کو نہ مسلمان حکومتوں کو اس طرف توجہ ہو گی۔ بظاہر لگتا ہے کہ نام نہاد اسلامی حکومت کے خلاف سب مل کے کارروائی کر رہے ہیں۔ اس لئے اگر اس کو ختم کر دیں یا ختم کر سکتے ہوں تو امن کے حالات پیدا ہو جائیں گے۔ لیکن بعض حالات اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ فتنہ ختم ہو بھی گیا تو حالات نہیں سدھریں گے بلکہ اس کے بعد بڑی طاقتوں کی آپس میں کھینچا تانی شروع ہو جائے گی۔ اور بعیدنہیں کہ جنگ شروع ہو جائے کیونکہ روس اور دوسری مغربی طاقتوں کی آپس میں رنجشیں بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور پھر عوام ہی زیادہ تر مریں گے۔ گزشتہ جنگوں میں بھی ہم نے یہی دیکھا۔ عوام ہی مرتے ہیں۔ معصوم لوگ مرتے ہیں۔ اس لئے بہت زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا کو تباہی سے بچائے۔ اس کے علاوہ احتیاطی تدابیر کے لئے بھی مَیں نے گزشتہ سالوں میں جماعت کو توجہ دلائی تھی اس طرف بھی توجہ دیں۔ بعض باتوں کی طرف میں نے مختصراً اشارہ کر دیا ہے۔ پھر مَیں توجہ دلاتا ہوں کہ دعاؤں کی طرف بہت توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ حکومتوں اور طاقتوں کو عقل دے کہ دنیا کو تباہی کی طرف اور بربادی کی طرف نہ لے کر جائیں۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 4؍ دسمبر 2015ء شہ سرخیاں

    اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو بھیج کر اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا آغاز فرمایا۔ وہ لوگ یقینا بڑے خوش قسمت تھے جنہوں نے چودہ سو سال بعد پھر تازہ بہ تازہ وحی و الہام کے نازل ہونے کا زمانہ پایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آ کر اس سے براہ راست فیض پایا۔ جب انسان تصور کی آنکھ سے دیکھے کہ کس طرح وہ صحابہ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرد پا کر اپنی قسمت پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر کرتے ہوں گے تو دل کی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔

    صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگیوں سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بیان فرمودہ بعض ایمان افروز واقعات کا تذکرہ۔

    ہمیں خدا تعالیٰ کو اپنی روحانی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ خدا تعالیٰ سے تعلق بڑھانے سے ہی ہو سکتا ہے اور اسی طرح پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یقین بھی اس وقت حقیقی ہو گا جب اس بات پر قائم ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس زمانے میں دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور یہ وقت کی ضرورت ہے۔

    اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو تو پھر خوف کردگار بھی ہوتا ہے اور پھر کثرتِ اعجاز کی ضرورت نہیں ہوتی۔

    دلیلوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ معجزے مانگنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ زمانے کی ضرورت اور آپ کی زندگی کا ہر لمحہ آپ کی صداقت کا ثبوت ہے۔ پس ہمیں اس کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے اور اس حوالے سے اپنے ایمانوں کو مضبوط کرتے رہنا چاہئے۔

    جس تباہی کی طرف دنیا تیزی سے جا رہی ہے اس کے لئے احباب جماعت کو بہت زیادہ دعا کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ نام نہاد اسلامی حکومت جو عراق اور شام میں قائم ہے اس کے خلاف اب مغربی حکومتوں نے فرانس کے ظالمانہ واقعہ کے بعد جو سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہوائی حملے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے بلکہ شروع کر دئیے ہیں، اگر ان حکومتوں نے یہ حملے کرنے ہیں تو پھر ان پر کریں جو ظلم کر رہے ہیں۔ مغربی ممالک پہلے انہی حکومتوں کی مدد کرتے رہتے ہیں پھر ان کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ لیبیا، شام، عراق وغیرہ کی حکومتوں کے خلاف ہو کر یا انہیں الٹا دیا یا الٹانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اور یہ سب ایک لمبے عرصے سے انصاف سے کام نہ لینے کا نتیجہ ہے کہ دنیا میں فساد پھیلا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان ممالک کی حکومتیں بھی اپنے اپنے ممالک میں بے انصافی اور ظلم سے کام لے رہی ہیں۔ گویا کہ ایسے پیچ دار حالات ہو چکے ہیں کہ جنگ عظیم کی صورت ہے۔ اب بھی یہی لگ رہا ہے کہ انصاف سے کام لینے کی طرف توجہ نہیں ہو گی۔ نہ بڑی طاقتوں کو نہ مسلمان حکومتوں کو اس طرف توجہ ہو گی۔ بظاہر لگتا ہے کہ نام نہاد اسلامی حکومت کے خلاف سب مل کے کارروائی کر رہے ہیں۔ اس لئے اگر اس کو ختم کر دیں یا ختم کر سکتے ہوں تو امن کے حالات پیدا ہو جائیں گے۔ لیکن بعض حالات اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ فتنہ ختم ہو بھی گیا تو حالات نہیں سدھریں گے بلکہ اس کے بعد بڑی طاقتوں کی آپس میں کھینچا تانی شروع ہو جائے گی۔ اور بعیدنہیں کہ جنگ شروع ہو جائے۔ اس لئے بہت زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا کو تباہی سے بچائے۔ اس کے علاوہ احتیاطی تدابیر کے لئے بھی مَیں نے گزشتہ سالوں میں جماعت کو توجہ دلائی تھی اس طرف بھی توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ حکومتوں اور طاقتوں کو عقل دے کہ دنیا کو تباہی کی طرف اور بربادی کی طرف نہ لے کر جائیں۔

    فرمودہ مورخہ 04؍دسمبر 2015ء بمطابق 04؍فتح 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور